پوسٹ تلاش کریں

تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 6

تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 6 اخبار: نوشتہ دیوار

مسئلہ طلاق میں جتنی زبردست وضاحت قرآن نے کی ہے اس میں مزید وضاحت کی گنجائش نہیں لیکن فقہاء نے گھمبیر بنایا

یاایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لدتھن و احصوا العدة واتقوا اللہ ربکم لاتخرجوھن من بیتوتھن ولا یخرجن الا ان یأتین بفاحشةٍ مبیننةٍ وتلک حدوداللہ و من یتعدد حدوداللہ فقد ظلم نفسہ لاتدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرًا (سورة الطلاق آیت:1)

”اے نبی! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو عدت کیلئے دواور عدت کو گن کر پورا کرو۔ اور اللہ سے ڈرو تمہارارب ہے، نہیں نکالو ان کو انکے گھروں سے اور نہ خود نکلیں مگر جب کھلی فحاشی کا ارتکاب کریںاور یہ اللہ کی حدود ہیں اور جس نے اللہ کی حدودسے تجاوز کیا تو اس نے تحقیق اپنے اوپر ظلم کیا۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ نئی صورت پیدا کرے”۔ (دونوں معروف طریقہ سے صلح کریں)

فاذابلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او فارقوھن بمعروف و اشھدوا ذوی عدل منکم واقیموا الشھادة للہ ذلکم یوعظ بہ من کان یؤمن باللہ والیوم الاٰخر ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجًا
(سورةالطلاق:آیت:2)

”پس جب وہ اپنی عدت کو مکمل کریں تو معروف طریقے سے انہیں روکو یا معروف طریقے سے انہیں چھوڑ دو۔اور دو عادل گواہ بھی مقرر کرو اور اللہ کیلئے گواہی قائم کرو۔یہ تمہارے لئے نصیحت ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔اور جو اللہ سے ڈرا ،اللہ اس کیلئے نکلنے کا راستہ بنادے گا”۔

رکانہ کے ابو نے رکانہ کی ماں کواسی طرح عدت کے مراحل میں 3طلاق دی ۔عدت کے کافی عرصہ بعد نبیۖ نے رجوع کیلئے فرمایا اور یہی حوالہ دیا تھا ۔(ابودادشریف)

تفسیر:

ان آیات کا ترجمہ اور تفسیر مولانا احمد رضا خان بریلوی اور علامہ شبیر احمد عثمانی نے غلط کیا۔ جاوید احمد غامدی اور دیگرجاہلوں کی تو بات ہی بیکار ہے۔ عدت حمل کی بھی ہوسکتی ہے اور طہر وحیض کی بھی۔ جس میں باہمی رضامندی سے رجوع کا دروازہ کھلا ہے اور تکمیل عدت کے بعد بھی معروف رجوع ہوسکتاہے۔ مفتی تقی عثمانی ومفتی منیب الرحمن کو قومی اسمبلی میں پوچھ لیں کہ بچہ آدھے سے کم نکلا ہو تو رجوع نہیں ہوسکتا اور زیادہ نکلا تو ہوسکتا ہے کہ یہ کیا بکواس ہے؟۔ ابوداؤد بخاری ،مسلم تینوںامام احمد بن حنبل کے شاگرد۔کیا رکانہ کے والدین کی حدیث سورہ طلاق کی صحیح تفسیر ہے اسلئے ابوداؤد معتبر نہیں؟ اسکے شاگرد نسائی کو فضائل علی بن ابی طالب لکھنے پرخوارج وناصبی نے شہیدکیاتو بخاری حلالہ کیلئے کارآمد تھا؟۔
ــــــــــ

المطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثة قروئٍ ولا یحل لھن ان یکتمن ماخلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ والیوم الاٰخر وبعلولتھن احق بردھن فی ذلک ان ارادوا اصلاحًاولھن مثل علھین بالمعروف و للرجال علیھن درجة واللہ عزیز حکیم (سورةالبقرہ:آیت:228)

”طلاق و الی عورتیں عدت کے تین ادوار تک انتظار کریں اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو اللہ نے انکے پیٹ میں پیدا کیا ہے اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیںاور ان کے شوہر اس میںان کو اصلاح کی شرط پر لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔اور ان عورتوں کیلئے وہی حقوق ہیں جو ان پر ہیں معروف اور مردوں کا ان پرایک درجہ ہے اور اللہ عزیز حکیم ہے ”۔

الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ولا یحل لکم ان تأخذوا مما اتیتموھن شیئًا الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلا جنا ح علیھما فیما افتدت بہ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا ومن یتعد حدود اللہ فاولٰئک ھم الظالمونO فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ …(البقرہ:آیات:229اور230)

”طلاق دو مرتبہ ہے پھرمعروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے اور تمہارلئے حلال نہیں کہ ان کو جو دیا کہ اس میں کچھ لو مگر یہ کہ دونوں کو ڈر ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہ رہ سکیں گے، اگر تمہیں ڈر ہو کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو دونوں پر حرج نہیں عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں،یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرواور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ پھر اگر اس نے طلاق دیدی تو اس کیلئے وہ حلال نہیں ہے یہاں تک وہ کسی اور شوہرسے نکاح کرلے”۔

تفسیر:

ان آیات میں عورتوں کے حقوق کو واضح کیا گیا ہے کہ ان کی مرضی کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا۔ مگر کم عقل کہتا ہے کہ ایک نہیں دو مرتبہ بھی رجوع ہے۔ مگر آیت228میں اصلاح کی شرط اور میاں بیوی کے ایک دوسرے پر معروف حقوق ،آیت229میں معروف رجوع کو نہیں دیکھتا۔ یہ بھی نہیں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو ایک عدت کا پابند بنایا اور یہ بے غیرت دلا حلالہ کی لت میں پڑا ہے اور عورت کو ایک سے زیادہ عدتوں پر مجبور کرنے کا شوہر کو ناجائز حق دیتا ہے؟ لیکن اس سے بڑے کم بخت جاہل اور انتہائی خسیس قسم کے ہٹ دھرم جماعت اسلامی اور جاویدغامدی والے ہیں جن کے ترجمہ میں الٹی گنگا ہے۔ اللہ3 طلاق کے بعد عورت کومالی تحفظ دیتاہے ۔ یہ الٹا خلع کی بلیک میلنگ کا درس دیتے ہیں۔
ــــــــــ

واذا طلقتم النساء فبلغن اجھلن فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف ولا تمسکوھن ضرارًا لتعتدوا…Oو اذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن تراضوا بینھم بالمعروف (البقرہ:231،232)

”اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دی اور ان کی عدت مکمل ہوئی تو معروف طریقے سے ان کو روکو یامعروف طریقے سے چھوڑو اور ضرر کیلئے نہ روکو تاکہ تم زیادتی کرو”.. اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دی اور ان کی عدت مکمل ہوئی تو مت روکو ،اپنے شوہروں کیساتھ ان کو نکاح سے جب وہ معروف طریقے سے آپس میں راضی ہوں”۔

قرآن کی تمام آیات میں باہمی رضاسے معروف رجوع عدت میں اور تکمیل عدت کے بعد واضح ہے لیکن عورت راضی نہیں ہو تو ایک مرتبہ کی طلاق کے بعد بھی شوہر کیلئے پھر رجوع حلال نہیں ہے لیکن عورت کے حقوق پھر بھی روند ڈالے گئے۔ یہ اصل میں ایک شیطانی القا کی لعنت ہے جس کی قرآن نے زبردست وضاحت پہلے سے کررکھی ہے۔

تفسیر:

حلالہ کی لعنت صرف یہود اور مسلمانوں میں ہے۔ قرآن نے حلالہ کی لعنت کو جڑ سے ختم کیا لیکن فقہاء نے یہود ی گدھے علماء کے نقش قدم پر امت مسلمہ کی عزتوں کا ستیاناس کردیاہے۔

حلالہ کیش علماء ومفتیان کے پاس یہ ایک دلیل ہے کہ اگر اکٹھی3طلاق کے بعد رجوع کی گنجائش ہوتی تو نبیۖ اس پر غضبناک کیوں ہوتے؟۔

زبردست دلیل ہے لیکن صحیح بخاری کی کتاب تفسیر سورہ طلاق میںنبیۖ نے غضبناک ہونے کے باوجود بھی عبداللہ بن عمر سے رجوع کا حکم فرمایا۔ بخاری کی یہ روایت کتاب الاحکام، کتاب العدت اور کتاب الطلاق میں ہے لیکن ان میں غضبناک ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ شکر کہ ایک جگہ سے تو بھانڈہ پھوٹ گیا ہے اور حقیقت تو یہی ہے کہ محمود بن لبید نے بھی یہی واقعہ بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمۖ کی نیت میں دین فروشوں کے ذریعے شیطانی مداخلت کا ثبوت پیش کرنا تھا تاکہ مفتی تقی عثمانی اور جاویداحمد غامدی جیسے نام نہاد لوگوں کے چہروں سے نقاب اترے۔ مفتی حسام اللہ شریفی مدظلہ العالی اور مفتی خالد حسن مجددی جیسے اہل علم کے ایمان میں اضافہ ہو اور حق کیلئے وہ جھک جائیں تو پوری دنیا ایک خوش منظر دیکھے۔ دیوبندی اور بریلوی علماء حق اپنے اپنے مسلک اور مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے ۔ شیعہ اور اہل حدیث حضرات کے علماء بھی حق کی کھل کر تائید کررہے ہیں اور وہ بھی وقت آئے گا کہ پاکستان دنیا بھر کے علماء کو انشاء اللہ قرآن وسنت پر جمع کرے گا اور پاکستان سے ہی اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہوگا اور دنیا بھر کے امن میں اسلام اور پاکستان اہم کردار ادا کرے گا ۔
ــــــــــ

ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھائیں کسے گدھا قرآں کا قائل ہی نہیں

خلافِ فطرت بھی ہے حلالہ باطل ہی نہیں
ملوث ہیں علماء اور شرفا بھی جاہل ہی نہیں
عزتیں لٹتی ہیں مفتی اعظم کے کاشانے پر
دل کسی سانڈھ کا ابھی گھائل ہی نہیں
عزتوں کا بٹتا ہے فالودہ قرآں کے نام پر
گمراہی کے گڑھ قلعوں میں حائل ہی نہیں
فتویٰ سے پا بہ زنجیر لعنتوں کی جھنکار ہے
معروف رجوع کا قرآں میں پائل ہی نہیں
چھوٹا بڑا مرزا جاوید غامدی رہبر بن گئے
حنفی تو بہت ہیں کوئی جوہر قابل ہی نہیں
امام ابوحنیفہ پر ہوگا اب تمام امت کا اجماع
ضربِ حق کے بغیر حقائق کا حاصل ہی نہیں
بعد عمر کے فتنوں کا اٹھا جو بڑا طوفان
کون کہتا ہے اس سمندر کا ساحل ہی نہیں
شیطان ننگا کر گیا حضرت آدم کی اولاد کو
کتاب اللہ موجود ہے گویا نازل ہی نہیں
کشتی نوح اہل بیت ہے عزت کا وسیلہ
کم عقل کہتا ہے ناخدا عاقل ہی نہیں
ریپ ہو بنت حوا کا ریب کے فتوے سے
یقین سے قرآن کا مفتی ناقل ہی نہیں
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 6
تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 5
تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 4