پوسٹ تلاش کریں

تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 1

تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 1 اخبار: نوشتہ دیوار

و ما ارسلنا من قبلک من رسولٍ و لا نبی الا اذاتمنٰی القی الشیطان اور ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی مگر جب اس نے تمنا کی شیطان نے اس کی تمنا میں القا کردیا(الحج:52)
قرآن وسنت کی بھرپور وضاحتوں کے باوجود شیطانی مداخلت سے حلالہ کی لعنت کا گھناؤنا فعل آیت52الحج کی سچائی ہے !

البقرہ:226،227

”جولوگ اپنی عورتوں سے ایلاء کرتے ہیں ان کیلئے چار مہینے کا انتظار ہے۔پس اگروہ مل گئے تو اللہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم والا ہے اور اگروہ طلاق کا عزم رکھتے تھے تو اللہ سننے جاننے والا ہے”

رسول اللہ ۖ نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلاء کیا۔29دن بعد رجوع کیا تواللہ نے حکم دیا کہ ساری ازواج کو اختیار دیدیں اگر وہ رہنا چاہتی ہیں یا نہیں؟ ۔یہ انہی کی اپنی مرضی پر منحصر ہے۔

احزاب کی آیت تخییرکا صحیح بخاری میں واقعہ ہے اور ایلاء کی عدت چار ماہ ہے ۔ جاہلیت میں ایلاء کی کوئی عدت نہ تھی ۔ایلاء میں طلاق کا اظہار نہیں ہوتا ہے اور اگر طلاق کی نیت ہو تو یہ دل کا گناہ ہے جس پر اللہ کی پکڑہوگی اسلئے کہ ایک مہینے عدت بڑھ گئی۔ اور جو225،226،227البقرہ میں واضح ہے۔ طلاق صرف الفاظ کا نام نہیں بلکہ ایک باقاعدہ عمل ہے اور اللہ نے آیت225البقرہ میں واضح کردیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں لغو یمین سے نہیں پکڑتا بلکہ دل کے گناہ سے پکڑتا ہے۔ دل کا گناہ وہ ایلاء ہے جس میں طلاق کا عزم تھا مگر اظہار نہیں کیا اور لغو یمین وہ فضول بکواس ہیں جو یہود کی پیروی میں بنائے ۔ طلاق بائن، مغلظ، بتہ، رجعی وغیرہ۔ آیت224میں واضح کیا کہ اپنے یمین کو تقویٰ، نیکی اور صلح میں رکاوٹ مت بناؤاور آیت232تک واضح کیا کہ باہمی رضامندی سے صلح میں رکاوٹ مت بنو۔

سورةالبقرہ:228

”اورطلاق شدہ عورتیں خود کو انتظار میں رکھیں3ادوار تک اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو اللہ نے انکے پیٹوں میں پیدا کیا اگر وہ اللہ و یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہیں اور انکے شوہر اس میں انکو لوٹالینے کے زیادہ حقدار ہیں بشرط یہ کہ وہ اصلاح چاہیں اور ان عورتوں کیلئے اسی طرح کے حقوق ہیں جو ان پرہیں معروف کیساتھ اور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے”۔

طلاق رجعی میں کئی عدتوں کا اور مغلظ میں باہمی صلح سے بھی حلالہ کے بغیر رجوع کا حق نہیں تھا۔ یہ آیت اگلی پچھلی آیات سے متصادم نہیں۔ ایلاء کی4ماہ اور طلاق کی3ادواراور حمل میں بچے کی پیدائش تک اصلاح اور معروف کی شرط پر رجوع کا حق ہے اگر چہ اکٹھی تین طلاق دے یا الگ الگ تین مرتبہ طلاق دے ۔طلاق سے رجوع کا تعلق باہمی صلح کی بنیاد پر ہے نہ کہ طلاق کی تعدادپر۔1طلاق کے بعد بھی صلح کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا اور3طلاق کے بعد صلح سے رجوع ہوسکتا ہے۔ اگلی آیت229میں صرف اس عدت کے طلاق کا طریقہ کار ہے جس میں عورت کا حیض آتا ہو ،حمل کا نہیںاور اس طریقہ کار سے طلاق دی جائے تب بھی حلالہ کے بغیر بھی معروف طریقہ سے رجوع ہوسکتا ،نبیۖ کا غصہ صرف طریقہ کار کی مخالفت پر تھا اور شیطان اللہ کے واضح حکم میں مداخلت کے اندر کامیاب ہوگیاہے۔

سورةالبقرہ :229

”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ رخصت کردینا ہے۔”
اور ابن عمر کی بیوی کی پریشانی ہوئی تو نبیۖ نے غضبناک ہوکر صرف یہ قرآنی طریقہ طلاق سمجھایا ۔

شیطان کی مداخلت

عبدااللہ بن عمر نے کہا اگر میںدوبار کے بعد طلاق دیتا تو نبیۖ رجوع کاحکم نہ دیتے”۔ ( بخاری)

اگر ان کی بیوی رجوع نہ چاہتی تو نبیۖ مذاق کی ایک طلاق پر بھی رجوع کا حکم نہیں دیتے۔حلالہ اور طلاق مغلظ کا یہاں کوئی تک نہیں بنتااسلئے کہ آئندہ کی آیت230سے پہلے ابھی مزید حدود بھی ہیں۔

تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں سے کچھ بھی واپس لو۔ مگر جب دونوں کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے اور اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو پھر دونوں پر کوئی حرج نہیں عورت کی طرف سے وہ چیز فدیہ کرنے میں،یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تووہ لوگ ظالم ہیں”۔(البقرہ:229)

جامعہ بنوری ٹاؤن کے استاذ مولانا محمد سے طلبہ پوچھتے جو بات آئندہ آرہی ہوتی تو کہتے: ”کیماڑی ابھی آئی نہیں اور تین ہٹی پر شلوار اتاردی”۔ شیطان نے حلالہ غلط جگہ فٹ کیا اور سبھی کو ننگا کیا۔

سورةالبقرہ:230

” پس اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں حتی کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے …”۔

مسلک حنفی میںیہ طلاق فدیہ کی صورت سے ہے۔ (نورالانوار: ملا جیون)” ابن عباس کے ہاں یہ طلاق الگ الگ طلاق اور فدیہ سے سیاق و سباق کے مطابق ہے ”۔ (زادالمعاد:علامہ ابن قیم )

قرآن کی ہر آیت میزان اور فطرت کا انمول نمونہ ہے۔ آیت230سے پہلے کی دوواضح آیات میں اور بعد کی دو واضح آیات میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف رجوع ہے لیکن جب امت نے قرآن کو چھوڑ کر قاضی شریح و قاضی ابویوسف سے لیکر مفتی تقی عثمانی وجاوید غامدی تک اپنی ناک کی نکیل مفاد پرست مردار خور مذہبی طبقے کے حوالہ کردی تو اللہ تعالیٰ نے غضبناک ہوکر حلالہ کی شیطانی لعنت سے ان کا معاشرتی نظام تباہ کیا۔

وہ معاشرہ جو14سوسال پہلے یورپ سے بھی زیادہ ایڈوانس ہوجاتا اور بیوی کیساتھ کسی کو رنگے ہاتھوں بھی دیکھ لیتا تو قتل کی جگہ لعان کرتا مگر اللہ کی نہیں مانی اور شیطان کی مان کر لعنت میں مبتلا ء ہوا۔

آیت230البقرہ کی طلاق سماجی مسئلہ تھا، سعد بن عبادہسردار کی طلاق شدہ بیویوں کو ابوبکر وعمر نے نکاح کی اجازت دی تو مدینہ چھوڑ کر شام دمشق کے قریب کسی گاؤں میں گئے۔ اہل مغرب تا قیامت حق پر قائم رہیں گے(ارشاد نبویۖ صحیح مسلم)

سورةالبقرہ:231

”اور جب تم عورتوں کو طلاق دو پھر وہ عدت کو پہنچ جائیںتو معروف طریقے سے روکو یا معروف طریقے سے چھوڑ دواور ان کو ضرر پہنچانے کیلئے مت روکو تاکہ تم زیادتی کرواور جو ایسا کرے تو تحقیق اس نے خود پر ظلم کیااور اللہ کی آیات کو مذاق مت بناؤ اور اس نعمت کو یاد کرو جو اللہ نے تم پر کی ہے اور جو اللہ نے تم کتاب میں سے نازل کیا اور حکمت جس کے ذریعے تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے”۔

خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی کو تین طلاق دی تھی ۔ تحریک انصاف علماء ونگ کے صدر مفتی عبدالقوی نے خاور مانیکا کو حلالہ کی پیش کردی تو بشری بی بی یہ بے غیرتی نہیں مانی۔ عدت گھر میں گزار ی اور پھر اپنے گھر گئی۔ خاور مانیکا مناتا رہامگر حلالہ کے بغیر نہیں آسکتی تھی۔ مفتی عبدالقوی سے حلالہ کی لعنت سے بہتر تھا کہ کسی اور سے نکاح کرتی۔ عمران خان سے نکاح بہتر لگا۔ قانونی طلاق کا مطالبہ کیا اور پھر بعد میں لگا کہ قانون کے مطابق عدت پوری نہیں۔ اسلئے دوبارہ نکاح کیا۔ حالانکہ وہ بھی خلع بنتا تھا اور خلع کی عدت ایک ماہ ہے ۔سعودی عرب میں صحیح حدیث کے مطابق اس پر عمل ہوتا ہے لیکن بگڑے ہوئے فقہاء نے قرآن و احادیث کے مقابلے میں اپنا مذہب ایجاد کیا۔اب سود کو اسلامی قرار دیا تو کیا معاشی نظام کا بھی حلالہ ہوگیا ہے؟۔واہ۔ ہاہاہا

سورةالبقرہ :232

”اور جب تم عورتوں کو طلاق دیدواور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیںتو ان کو مت روکو اپنے شوہروں کیساتھ نکاح سے جب آپس میں معروف طریقے سے راضی ہوں۔یہ ہے وہ جسکے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تم میں سے ان کو جن کا اللہ اور یوم آخرت پر ایمان ہے۔ اسی میں ہے تمہارا زیادہ تزکیہ اور پاکیزگی اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ”۔

اگر سورہ بقرہ کی ان آیات کا مفہوم عوام اور علماء سمجھ لیں تو مفتی سے فتویٰ لینے کی ضرورت نہیں ۔ بغیر جبر کے عورت معروف طریقے سے راضی ہو تو قرآن کا اٹل فیصلہ ہے کہ رجوع ہوسکتا ہے۔ صحیح بخاری نے غلط عنوان کے تحت فراڈ کیا جس کا بھانڈہ پھوڑا گیا تو کوئی حدیث صلح میں رکاوٹ نہیں ہے۔ حضرت عمر فاروق اعظم اور حضرت علی نے صلح میں رکاوٹ نہیں ڈالی بلکہ عورت صلح پر راضی نہ تھی تو قضاء یعنی ججمنٹ سے عورت کو تحفظ دیا، قاضی شریح و قاضی ابویوسف جیسوںنے طلاق مغلظ اور طلاق بائن کی یہودیت میں بدلا۔ امام ابوحنیفہ نے معروف رجوع کو منع نہیں کیا بلکہ حلالہ کی لعنت کو فدیہ سے جوڑا مگر ان کو جیل میںزہر دیکر شہید کیا۔ میں نے2007میں حلالہ کا مسئلہ کھولا تو کرایہ کے کچھ دہشتگردوں سے حملہ کرواکر مہمانوں سمیت13افرادکو شہید کیا۔ مفتی تقی عثمانی نے پھر فتاویٰ عثمانی میں میرے مرشد حاجی عثمان کوکفار کے زمرے میں شائع کردیا۔واہ
ــــــــــ

طلاق کے تیسرے دن بیوی کی مرضی کے بغیر شوہر تعلقات قائم کرلے تو کیا یہ زیادتی شمار ہوگا؟۔ اہلحدیث کے پیغام ٹی وی میں سوال

ایک شخص نے بیوی کو طلاق دی پھر 3 دن بعد زبردستی جماع کیا تو جج نے شوہر کا حق قرار دیا۔اہل حدیث نے پیغامTVمیں کہا کہ طلاق رجعی میںشوہر کو عورت کی مرضی کے بغیر حق ہے”۔حالانکہ قرآن وسنت نے طلاق رجعی، طلاق مغلظ اور طلاق بائن کاجاہلانہ تصور ختم کیا۔ عورت راضی نہیں تو منکر رجوع ہے، عورت راضی ہو تو قرآن کا معروف رجوع ہے ۔ سورہ مجادلہ میں ظہار کو منکر قول اور جھوٹ قراردیا۔ معروف و منکر کا فرق واضح ہے۔

معروف رجوع واضح ممدوح

لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذٰلک امرًاOفاذا بلغن اجلھن فامسکوھن بمعروفٍ ”آپ نہیں جانتے ہوسکتا ہے کہ اللہ عدت میں رجوع کی نئی صورت پیدا کرے۔ پس جب وہ عدت کو پہنچ جائیں تو معروف طریقے سے رجوع کرو”۔ (سورہ طلاق:1،2) ”
وبعولتھن احق بردھن فی ذلک ان ارادوا اصلاحًا ولھن مثل علیھن بالمعروف "اور انکے شوہر اس میں ان کواصلاح کی شرط پر لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اور عورتوں کیلئے بھی وہی حقوق ہیں جو ان پر شوہروں کے ہیں معروف کیساتھ ”۔
الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ”طلاق دو مرتبہ ہے۔ پھر معروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے”۔ (البقرہ:28،229)

واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروفٍ ”اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچیںتو ان کو معروف کیساتھ روکو”۔
واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف ”اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچیںتو ان کو مت روکو جب وہ اپنے شوہروں کیساتھ نکاح کریں جب وہ معروف کیساتھ راضی ہوں” (البقرہ:231،232)۔ جس سے واضح ہے کہ” عورت کی رضامندی کے بغیر منکر رجوع کی کوئی اجازت نہیں” ۔

منکر رجوع واضح ممنوع

آیت226البقرہ میں ایلاء کی عدت4ماہ ہے۔ اگر طلاق کی نیت تھی تو اللہ کی پکڑ ہوگی اسلئے کہ ایک ماہ عورت کے انتظار میں اضافہ کیا۔ اللہ نے عورت کی اذیت کا اتنا خیال رکھا ۔ اللہ کے نام پر عورت کے حقوق کی کتنی جاہلانہ پامالی ہے؟۔ جب رسول اللہ ۖ نے ایلاء کیا تو ایک ماہ بعد رجوع پر سب خوش ہوگئے مگر اللہ نے حکم دیا کہ ازواج کو علیحدگی کا اختیار دے دو تاکہ مسلمانوں پر یہ واضح ہو کہ ایلاء کے بعد عورت کی رضامندی کے بغیر رجوع نہیں۔

طلاق کے بعد عورت کی رضا کے بغیر منکر رجوع جائز نہیں۔ جو قرآن میں واضح ہے۔ نبیۖ کی نیت قرآن کے عین مطابق ہونے کے باوجود بھی شیطانی مداخلت نے مسلمانوں کے ذریعے معاملہ کردیا۔ایک طلاق ہو یا تین اورسنجیدگی میں ہو یا مذاق میں جب عورت راضی نہیں تو پھر منکر رجوع ہے اور اس پر فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ ”پس اگر اس نے طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ کسی اور سے نکاح کرے” (البقرہ:230) کا فتویٰ لگتاہے۔

یہی رسول اللہۖ، حضرت عمر ، حضرت علی، حضرت امام ابوحنیفہ کی قرآن کے عین مطابق تعلیمات ہیں لیکن مذہبی تجارت کے فرقہ پرستوں کو شیطانی القا نے گمراہ کیا۔

اسلام کی اجنبیت یہ ہے کہ منکر کو معروف اور معروف کو منکر بنادیا۔ یہود کے نقش قدم پر علماء ومفتیان کا مذہبی طبقہ بد فطرت بن گیا۔ جس طلاق رجعی اورحلالہ کی لعنت سے قرآن کے ذریعہ ہم یہود کو نکالتے لیکن آج ہم ان کی چلن پر چل پڑے ہیں۔ خدار ا بس کرو بس، بہت ہوچکا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 6
تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 5
تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 4