پوسٹ تلاش کریں

قرآن اورخلق خداکی تبدیلی

قرآن اورخلق خداکی تبدیلی اخبار: نوشتہ دیوار

ومن یشاق الرسول من بعد ما تبین لہ الھدٰی و یتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولیٰ و نصلہ جھنم و ساء ت مصییرًاOان یدعون من دونہ الا اناثًا وان یدعون الا شیطانًا مریدًاOلعنة اللہ و قال لاتخذن من عبادک نصیبًا مفروضًاOولاضلنھم و لاٰمرنھم فلیبتکن اٰذان الانعام و لاٰمرنھم نیننھم فلیغیرن خلق اللہ ومن یخذ الشیطان ولیًا من دون اللہ فقد خسرخسران مبینًاOیعدھم و یمنیھم و مایعدھم الشیطان الا غرورًاOاُولئک مأواھم جھنم و لا یجدون عنھا محیصًاOوالذین اٰمنوا و عملوا الصالحات سندخلھم جنات تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ابدًاوعداللہ حقًا ومن اصدق من اللہ قیلًاOلیس بانیکم ولا امانی اھل الکتاب من یعمل سوئً ا یجزبہ و لایجد لہ من دون اللہ ولیًا و لانصیرًاO

” اور جو رسول سے الگ ہو ہدایت واضح ہونے کے بعد اور اتباع کی مؤمنوں کی راہ سے ہٹ کر تو پھر ہم اس کو اسی طرف گھما دیں گے جدھر وہ گھوما ۔ اور جہنم میں پہنچادیں گے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے بیشک اللہ نہیں بخشتا کہ کسی کو شریک بنایا جائے۔ اسکے علاوہ بخشتا ہے جس کیلئے چاہے اور جس نے اللہ کیساتھ شریک ٹھہرایا تو تحقیق بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ یہ لوگ اللہ کو نہیں پکارتے مگر زنانہ کو۔ نہیں پکارتے مگر شیطان سرکش کو۔ اللہ کی لعنت اور اس نے کہا کہ تیرے بندوں سے میں ضرور پکڑوں گا اپنا فرضی حصہ اور ضرور انہیں گمراہ کروں گااور انہیں اُمیدیں دلاؤں گا اور انہیں ضرور حکم دوں گا پس وہ ضرور جانوروں کے کان بتہ کریںگے اور انہیں ضرور حکم دوں گا پس وہ ضرور خلق خدا کو بدل دیںگے اور جس نے شیطان کو اللہ کے سوا اپنا حاکم بنایا تو کھلے خسارہ میں پڑا۔ وہ ان سے وعدہ کرتا ہے اور تمنائیں دلاتا ہے اور ان سے شیطان وعدہ نہیں کرتا ہے مگر دھوکہ بازی کا۔ ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ نہیں پائیں گے کوئی محفوظ جگہ اور جنہوں ایمان لایا اور درست اعمال کئے عنقریب ان کو داخل کروں گا باغات میں جنکے نیچے نہریں بہتی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے ابد الآباد تک۔اللہ کا وعدہ حق ہے اور اللہ سے زیادہ بات میں سچا کون ہے۔ نہ تمہاری تمناؤں پر اور نہ اہل کتاب کی تمناؤں پر جو برا عمل کرے گا تو اس سے ا س کا بدلہ دیا جائے گا۔ اور وہ اللہ کے سوا کوکسی کو حاکم و مددگار نہ پائے گا”۔
(سورہ النسائ:115سے124)

مقدمہ ابن خلدوں میں لکھاہے: ”امام ابوحنیفہ صرف17احادیث مانتے تھے”۔ حنفی مسلک میں نماز کے14فرائض میں سے آخری فرض یہ ہے کہ سلام واجب ہے اور نماز سے اپنے ارداے کیساتھ نکلنا فرض ہے بھلے ریح خارج کردے۔ یہ حدیث ہے کہ جس نے آخری نماز کے آخری قاعدے میں دھماکہ کردیا تو اس کی نماز مکمل ہوگی۔ مسلک سازی بعد میں ہوئی ہے، حدیث میں احدث کا لفظ ہے۔ ریخ خارج کرنا اور ریح کا خارج ہونا ایک بات تھی جیسے انتقال کرگیااور انتقال ہوگیا۔ عربی میں شیشہ ٹوٹ گیا ، کسرالزجاج میں فاعل شیشہ ہے لیکن اس کو حقیقی نہیں مجازی الفاظ کا گورکھ دھندہ کہتے ہیں۔

امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب ہے کہ بغیر ولی کی اجازت کے حوالے سے احادیث صحیحہ کو نہیں مانتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے5سو احادیث جمع کئے اور پھر جلائے کہ کہیں سمجھنے اور سمجھانے میں مجھ سے غلطی نہ ہوجائے۔80ھ میں امام ابوحنیفہ کی پیدائش اور150ھ میں انتقال ہوا۔40سال تک کسی سے نہیں سنا کہ حضرت اماںعائشہکا6سال میں نکاح اور9سال میں رخصتی اور دخول ہوا تھا مگر پھر بہت لوگوں کو احادیث بدلتے ہوئے دیکھاتھا۔1982ء سے مفتی تقی عثمانی کی ذات، الائنس موٹرز بینکاری ،فتوے،بدلتے دانت اور جن کو ورغلایا سبھی کو دیکھا۔ انسانی شیطان وصولی کے چکر میں گمراہ کرتا ہے لیکن قرآن کا آئینہ ہدایت کیلئے کافی ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

سورہ قریش میں سردی گرمی کا سفر الفت ۔ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے بھوک میں کھلایا اور خوف سے امن دیا
قرآن اورخلق خداکی تبدیلی
قرآن کیخلاف کیا سازش کون کررہاہے؟