پوسٹ تلاش کریں

قرآن کیخلاف کیا سازش کون کررہاہے؟

قرآن کیخلاف کیا سازش کون کررہاہے؟ اخبار: نوشتہ دیوار

افلاطون2400سال پہلے سقراط کا شاگرد اورارسطو کا استاذ تھا۔ اس کی کتابیں محفوظ ہیں تو پھر قرآن پر کم عقل طبقہ روایات بناکر سازش کیوں پڑھاتا ہے ؟۔مدارس کی تعلیمات کو چیک کرلیں۔

ہندوؤں کے ویدوں،زرتشیوں کی اوستا،بدھسٹ کی تری پٹک، توراة، زبور، عہد نامہ عتیق، بائبل اور صحائف موجود تھے مگر قرآن کیلئے وسیلہ نہیں تھا۔ ہڈی ، پتے، پتھر وںپر لکھا جاتاتھا؟حیرت !

اللہ نے فرمایا:
شھررمضان الذی انزل فیہ القراٰن ھدًی للناس و بیناتٍ من الھدٰی و الفرقان ”رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں اللہ نے قرآن کو نازل کیا لوگوں کی ہدایت کیلئے ہے اور کھلے دلائل ہیں ہدایت والی اور امتیاز کرنے والی”۔

برصغیر کی آزادی27ویں رمضان لیلة القدرکی مبارک ساعت ہوئی۔ لاالٰہ الا اللہ نے تقسیم ہند کی بنیاد رکھ دی۔ بھارت نے ہندو جوگیندر ناتھ منڈل کو وزیرقانون بنانا چاہا مگر اس نے پاکستان کو ترجیح دی۔ پاکستان میں تعصبات کی گنجائش نہیں تھی۔

جنرل ایوب نے ہندوستان سے مراسم کی خاطر اردو رسم الخط کو ”ہندی” میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تو قدرت اللہ شہاب نے مطلع کیا۔نسیم حجازی نے دو گھنٹے میںجنرل ایوب کو سمجھایا تو فیصلہ واپس لیا فوج بھارت سے بہتر تعلقات کی خواہاں تھی۔ ریاست سیاسی قیادت پر بھروسہ کرتی۔ سیاستدان ریاست سے رہنمائی لینے کی بنیاد پر اپنا سبق بھی بھولتے ہیں اور پھر الزام تراشی کایہ سلسلہ چلتا ہی رہتا ہے۔

قرآن پر مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی بھروسہ کرتا تھا لیکن قرآن کی انتہائی گھٹیا قسم کی تحریفات پڑھائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے مولوی مرتد ہورہے ہیں۔

بدری کافر قیدی سے صحابہ لکھنا پڑھنا سیکھ گئے۔ قرآن میں ابراہیم و موسٰی کے صحائف کا ذکر ہے اور لکھنے کو کتابت اور لکھی ہوئی چیز کو مکتوب۔ یہ گہری سازش ہے کہ قرآن کوکتابی شکل بعدمیں دی گئی۔ یہ لکھاہے کہ قرآن المکتوب فی المصاحف ہے یعنی جو صحائف میں لکھا ہوا ہے ۔دوسری طرف پھر کہتے ہیں کہ مکتوب سے مراد لکھا ہوا نہیں کیونکہ وہ تو محض نقش ہے اور پھر یہاں تک بھی کم بخت گئے کہ علاج کیلئے سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔

قرآن کی تعریف کیلئے قرآن سے بہت زیادہ اور زبردست مواد مل جاتا کہ سطور میں لکھا ہوا مقدس قرآن قرطاس اللہ کا کلام ہے۔ مزید صفات ہیں: المنقول عنہ نقلًا متواترًا بلاشبہ ” جو نقل ہوا ہے رسول اللہ ۖ سے تواتر کیساتھ بلاشبہ”۔ بس یہی بات ٹھیک تھی لیکن کیا بکواس پڑھاتے ہیں کہ

امام شافعی کے نزدیک یہی تعریف ہے۔ حنفیوں کے نزدیک غیر متواتر آیات بھی قرآن ہیں اور بسم اللہ میں شبہ ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن ہے مگر شبہ قوی ہے اسلئے اس کا منکر کافر نہیں ہے ۔

ایک طرف قرآن پر جھوٹی روایات سے شبہات کھڑے کر رہے ہیں اور دوسری طرف پھر روایات سے قرآن میں اضافے کا اعتقاد پڑھارہے ہیں۔

وفاق المدارس کے صدر مفتی تقی عثمانی کے استاذ مولانا سلیم اللہ خان نے اپنی ”کشف الباری شرح بخاری” میں لکھا ہے کہ ”ا بن عباسنے کہا: علی نے کہا کہ نبیۖ نے دو گتوں کے درمیان قرآن کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں چھوڑا ہے۔ بخاری نے اس روایت کو شیعہ کے خلاف نقل کیا کہ تمہارا عقیدہ تحریف قرآن کا غلط ہے اسلئے کہ تمہارے علی تحریف کے قائل نہیں تھے لیکن حقیقت میں قرآن کے اندر تحریف ہوئی ہے”۔( کشف الباری )

یہ بڑی منافقت ہے کہ عوام سے یہ کہتے ہیں کہ قرآن میں ایک حرف کی کمی بیشی بھی نہیں ہوئی لیکن مدارس کے نصاب میں غلطی کا نوٹس نہیں لیتے ہیں۔

عبدالمالک کاکڑ نے لکھا کہ… سورہ اعلیٰ کے ترجمہ میں آیات و الذی اخرج المرعٰیOفجعلہ غثاء احویٰO …..کا ترجمہ غلط کیا ہے۔ ”اور جس نے چارہ نکالا پھر اس کو سیاہ چورا بنادیا”۔

ہم شکرگزارہیں کہ جو ہماری غلطی پر مطلع فرمائے البتہ اسکے بعد سنقرئک فلا تنسٰیO
”عنقریب ہم آپکو پڑھائیں گے پھرآپ نہیں بھولو گے” سے استنباط کیا کہ کچرہ سے مراد عام کچرہ نہیں بلکہ مذہبی مسائل کا کچرہ ہے اور جب انسان اپنی طرف سے دین میں کچرہ مسائل نکالتے ہیںتو اسکی نسبت اللہ اپنی طرف بھی کرتا ہے۔

وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفرٍ ومن البقر… ذٰلک جزینا ھم ببغیھم وانا لصادقونO(الانعام:146)

یہاں اللہ نے یہود پر کھانے کی چیزیں حرام کرنیکی نسبت اپنی طرف کی مگر دوسری جگہ واضح کیا:

کل الطعام کان حلًا لنبی الا ما حرم اسرائیل علی نفسہ من قبل ان تنزل التوراة قل فأتوا بالتوراة فاتلوھا ان کنتم صادقینO(ال عمران:93) ”

بنی اسرائیل کیلئے تمام کھانے کی چیزیں حلال تھیں مگر جو اسرائیل نے اپنے اوپر حرام کیں توراة نازل ہونے سے پہلے کہہ دو کہ تورات لاؤ اگر تم سچے ہو”۔

بصیرت سے محرومی ہو توبندہ گمراہ ہو سکتا ہے۔ قرآن ہرچیز کیلئے آئینے کی طرح وضاحت ہے مگر دل نہیں سر کی آنکھیں بھی کمزور ہوں توپھر کیا دکھائی دے گا؟۔ فقیہ کو ان آیات میں مذہبی مسائل کے گند کا کچرہ نظر آئے گا ۔ ساتھی عمران مالک نے کچھ سمجھا تو30سال پہلے کہا تھا کہ” غلط کتابوں کو جلاکر راکھ سمندر میں ڈلا جائے گا”۔طلاق کی آیات کو سمجھ لیا تو لوگوں کے دل ودماغ روشن ،بہت سے نفسیاتی مریضوں کو شفاء اور کئی عزتوں کو بڑا تحفظ ملے گا۔

سورہ اعلیٰ کی ان آیات میں سائنسدان کو تیل و کوئلے کے ذخائز نظر آتے ہیں کہ قدیم جنگلات کی ارضیاتی تبدیلی میںOil Migrationجس طرح ہوئی ،ان میں سائنسی حقائق موجود ہیں۔

قرآن مؤمنوں کیلئے رحمت اور شفاء ہے اور ظالم نہیں بڑھتے مگر خسارے کی طرف۔ اللہ انسان پر نعمت کرتا ہے تو اعراض کرتا ہے اور سائیڈ پکڑتا ہے اور جب تکلیف پہنچتی ہے تو مایوس ہوتا ہے۔ قرآن میں دل کی کیفیات کے وزن کا بھی پتہ چلتا ہے۔

والمحصنات من النساء الا ماملکت ایمانکم ”

اور عورتوں میں سے بیگمات مگر جن سے ایگریمنٹ ہوجائے”۔ صحابہ کرام نے اس کی تفسیر پر خاموشی اختیار کی اور بولا ہے تو اتفاق نہ تھا۔

موجودہ دورمیں اس سے پینشن والی معزز ایسی خواتین مراد ہوسکتی ہیں جن کی مراعات بھی برقرار ہوں اور ایگریمنٹ سے جنسی تسکین بھی لے سکیں۔ اگر امریکہ ،اسرائیل ، یہود ،عیسائی، چین ، روس، یورپ و دیگر ممالک اور مذاہب میں یہ تصور ہوگا کہ انکی شادی شدہ خواتین کو بھی لونڈیاں بنائینگے تو کیا اسلام اور مسلمانوں کیلئے مانگیںگے؟ سورہ المائدہ میںمؤمنات اور اہل کتاب کی محصنات کو حلال قرار دینے کا ذکر ہے۔ اگر مسلمانوں کی طرح ان سے بھی کہا جائے گا کہ قرآن نے کتابی خواتین کے حق کی بھی اسی طرح سے حفاظت کی ہے کہ نکاح کی بنیاد پر قانونی مالی فوائد کے بجائے ایگریمنٹ والا معاملہ کرو تو قرآن کے آئینہ میں ان کو اپنے تحفظ کا احساس ہوگا۔ رسول اللہ ۖ نے ایسی خلافت کی پیش گوئی فرمائی ہے جس سے سب خوش ہونگے۔

یا ایھا الذین اٰمنوا لا تتخذوا الیھود و النصاریٰ اولیاء بعضھم اولیاء بعضٍ ومن یتولھم منکم فانہ منھم ان اللہ لایھدی القوم الظالمینOفتری الذین فی قلوبھم مرض یسارعون فیھم یقولون نخشٰی ان تصینبا دائرة فعسی اللہ ان یأتی بالفتح او امرٍ من عندہ فیصبحوا علی ما اسروا فی انفسھم نادمینO

” اے ایمان والو! یہوداور نصاریٰ کو اپنا حکمران مت بناؤ۔ یہ بعض بعض کے حکمران ہیں۔ جو ان کو حکمران بنائے تووہ انہی میں سے ہے۔ بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ پس تو ان لوگوں کو دیکھے گا جن کے دلوں میں مرض ہے کہ اس معاملے میں جلدی کریںگے۔کہتے ہیں کہ ہمیں ڈر ہے کہ ہم پرگردش کی باری پہنچے گی۔ پس قریب ہے کہ اللہ فتح کیساتھ آئے یا اس کی طرف سے کوئی امر پس یہ نادم ہوجائیں جو مرض چھپائے بیٹھے تھے”۔ (المائدہ51،52)عربی فتی الشرق چینل نے یہ آیات موجودہ دور کیساتھ خاص کرنے کی نشاندہی محی الدین ابن عربی کے حوالہ سے کی کہ یہود ونصاریٰ کی ہمیشہ آپس میں دشمنی رہی۔ ہٹلر سے مار کھانے کے بعد معاملہ بدل گیا۔ غامدی کے مرض کی بھی یہ تشخیص ہے ۔ابراہم اکارڈ کی بنیاد پر یہود ونصاریٰ نے اقتدار کی منصوبہ بندی کی ہے۔

مسلمانوں کے حکمران اور سیاستدان پٹاخوں کی جگہ درست کام کریں۔ منبر و محراب سے حق کی صدا بلند ہونے میں کوئی زیادہ دیر نہیں لے گی۔ انشاء اللہ
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

سورہ قریش میں سردی گرمی کا سفر الفت ۔ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے بھوک میں کھلایا اور خوف سے امن دیا
قرآن اورخلق خداکی تبدیلی
قرآن کیخلاف کیا سازش کون کررہاہے؟