پوسٹ تلاش کریں

عرب کو جاہلیت سے نکال کر قرآن نے سپر طاقت بنادیا۔عالمی سکینڈل ایپسٹین فائلزکے تناظر میںاب پاکستان کا نظام درست کرنا پڑے گا

عرب کو جاہلیت سے نکال کر قرآن نے سپر طاقت بنادیا۔عالمی سکینڈل ایپسٹین فائلزکے تناظر میںاب پاکستان کا نظام درست کرنا پڑے گا اخبار: نوشتہ دیوار

ٹانک اور وزیرستان کی اقوم نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ عورت کی قیمت5لاکھ سے زیادہ وصول نہیں کی جائے گی۔ پہلے45لاکھ تک بھی رقم لی گئی ہے تو اس میں زاید رقم کو دونوں خاندانوں میں مشترکہ تقسیم کیا جائے گا اور آئندہ کسی لڑکی پر یہ پابندی نہیں لگاسکتے ہیں کہ دوسرے خاندان میں شادی پر پابندی ہوگی۔

طالبان نے9سالہ کو عورت قرار دیا۔ بنوامیہ و بنو عباس نے معاملہ بگاڑا ۔ فتاویٰ عثمانی جلد دوم کا مواد بدنام زمانہ اپیسٹین فائلز کی بنیاد ہے اور مسلمان بچیاں استعمال ہوئی ہیں عربی چینلز پر اس کا تذکرہ ہے اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ ہے۔مفتی تقی عثمانی کے نزدیک9،10سال کی بچی نابالغ ہے اور اس کاوالد اور چچا اس کی مرضی کے بغیر نکاح کراسکتے ہیں۔والد نے کرایا تو بچی بالغ ہونے کے بعد نکاح کوفسخ کرنے کا حق نہیں رکھتی اور چچا نے کرایا تو پھر حیض آتے ہی نکاح فسخ کرسکتی ہے لیکن اگر نہیں کیا تو پھربعد میں نہیں کرسکتی ہے۔ ٹانک اور وزیرستان کی اقوام کے علماء کرام اور مشران عظام نے بڑا ہی انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ مولانا فضل الرحمن، مفتی تقی عثمانی،ڈاکٹراورنگزیب اور دے لندن ماسید ڈاکٹر کو بلالیں،بچوں کو معذور ی سے بچانے کی لسٹ لیں اور شرعی معاشرتی دہشت گردی سے انہیںبچائیں۔9سالہ بچی کے نکاح، جنسی عمل ،حد وتعزیزکے علاوہ حرمت مصاہرت کے دلچسپ مسائل مختلف ہیں۔ جس کو سمجھنے، سیکھنے اور عام کرنے کے بعدانقلاب کی زبردست توقعات بن سکتی ہیں۔ اسلام میں آزاد عورت، لونڈی، غلام اور بچیوں کے احکام الگ الگ ہیں۔ افغان طالبان نے وضاحت کی ہے کہ انہوں نے لونڈی و غلام بنانے کیلئے بلکہ فقہ کی اصطلاح میں مسائل کی وضاحت کیلئے دستور میں قوانین کی وضاحتیں کردی ہیں۔

حنفی مسلک کے نفاذ کو قانونی شکل دینے کا مطلب یہ ہے کہ فقہ حنفی کے مطابق عدالتیںفیصلہ کرنے کے پابند ہوںگی۔

مثلاً9سالہ بچی کا اسکے باپ یا چچا نے زبردستی سے نکاح کیا یا اپنی مرضی سے نکاح کیا یا نہیں کرنا چاہتی تو اس کی مرضی کو ہی جج قبول کرے گا۔ اور جنسی عمل پر حد نافذ ہوگی لیکن اس سے کم عمر کیلئے اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والوں کیلئے تعزیر کا قانون ہوگا جس کی چار کیٹیگریبیان کی گئی ہیں۔

مرثیہ لکھ دوں یا قصیدہ حیران ہے قلم
خوشی کا شادیانہ یا تازیانے کا ہے غم

ابراہم لنکن نے امریکہ میں غلامی پر پابندی کا آغاز کیا اور اقوام متحدہ نے1956ء میں ہر قسم کی غلامی پر پابندی لگادی ۔ ڈاکٹراسرار نے کہاکہ” اسلام میں لونڈی بنانے کا جواز ہے”۔

علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا کہ ” موجودہ دور میں غلام ولونڈی بنانا جائز نہیں پہلے ادوار میں و جزاء سیئة سیئة مثلھا فمن عفاو اصلح فاجرہ علی اللہ انہ لا یحب الظالمینO اور برائی کا بدلہ برائی ہے لیکن جس نے معاف کیا اور اصلاح کرلی تو اس کا اجر اللہ پر ہے وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ہے(سورہ شوریٰ آیت40)کی وجہ سے جائز تھا مگر اب بین الاقوامی معاہد ہ ہوگیا ہے اسلئے جائز نہیں”۔

مولانا ولی اللہ معروف نے بردہ فروشوں کے ہاتھ بکنے والیوں کو خاندانوں سے ملایا جو غلامی سے بدتر ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ اصل غلامی ہے کیا؟۔ اگر فوج ہماری دم اٹھاکر اسکے نیچے انگلی رکھ دے اور ہمیں وزیراعظم بنادے تو ٹھیک ورنہ پھر سبھی غلام ہیں؟ غلامی کا یہ سیاسی تصور خود غرضی پر مبنی ہے۔ہم اسی وجہ سے پاکستان کے اندر سیاست کی نحوست سے نکل نہیں سکتے۔

اگر پختون و عرب بیٹیوں کو حق مہر کے نام پر بیچیں اورمذہبی طبقہ فتویٰ دے کہ کم سن بچیوں کا بلوغت سے پہلے جبری نکاح کا شرعی جواز ہے تو یورپ کے بدنام زمانہ سکینڈل میں مسلمانوں کی بچیوں کا انکشاف بھی ہواہے۔ عرب بچیوں کی جنسی ویڈیوز میںArab babiasکے نام سے بہتات تھی۔

مفتی محمد تقی عثمانی کا ” فتاویٰ عثمانی جلددوم ”دیکھ لیجئے گا۔

سوال : والد نے لڑکی کا نکاح ایسی جگہ یا خاندان میں کرایا جہاں پردہ کا کوئی انتظام نہیں اور نہ لڑکی اور اسکے خاندان کے رہن سہن کے مطابق ہے۔ اس لڑکی کے والدنے اس کی شادی سے پہلے لڑکی کے ماموں کو کہہ دیا تھا کہ آپ اپنے لڑکے کی شادی اس لڑکی کا بٹہ دے کر کرلو، مگر اس میں ایک شرط یہ ہے کہ مہاجرین سے رشتہ نہ کرنا ، مگر لڑکی کے والد نے خود اس سے خلاف کیا اور لڑکی کا نکاح مہاجرین سے کردیا اور ان کا کاروبار کاشتکاری ہے ۔ ٢:لڑکی نے بلوغ پر خود ہی نکاح فسخ کرنا منظور کیا ۔ ٣: لڑکی بالغ ہونے پر ایک دن بھی اپنے شوہر کے ہاں آباد نہیں ہوئی ۔ تو کیا اس صورت میں نکاح باقی رہتا ہے؟۔

جواب :۔ باپ، دادا کے کئے ہوئے نکاح میں لڑکی کو خیارِ بلوغ صرف اس وقت حاصل ہوتا ہے جبکہ باپ فاسق و فاجرہو یا لالچی ہواور اس کا سوئِ اختیار معروف و مشہور ہو اور غیر کفو میں نکاح کیا ہو، اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ اس نے یہ نکاح محض لالچ کی بنا پر کیا تھا ، بٹہ پر نکاح کرنا بوجہ رواج عام کے کافی وجہ نہیں اسلئے مذکورہ صورت میں خیارِ بلوغ کی بناء پر نکاح فسخ کرنے کی گنجائش معلوم نہیں ہوتی، اگر دونوں میں نبھاؤ کی کوئی صورت ممکن نہیں ، تو سوائے اس کے کوئی صورت نہیں کہ شوہر سے معاوضہ وغیرہ کے ذریعے طلاق حاصل کی جائے۔ واللہ اعلم احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ الجواب صحیح بندہ محمد شفیع عفااللہ عنہ ٢٦|٥|١٣٩١ھ ( فتویٰ نمبر٦٩١|٢٢ب(

حق مہر نہیں لیکن نکاح ختم کرنے کیلئے منہ مانگے معاوضے کے بغیر چارہ نہیں، یہ لونڈوں کی لونڈہ گیری نہیںتواور کیاہے؟۔ پھر معاوضہ پر بھی عورت چھٹکارا نہیں پاسکتی تو اس سے بڑھ کر غلامی کیاہے؟۔ مفتیان لکھتے ہیں کہ ” شوہر تین طلاق دیکر مکر گیا تو بیوی اس پر حرام ہے اور اگر معاوضہ پربھی شوہر خلع نہیں دے تو بیوی حرام کاری پر مجبور ہے لیکن لذت نہیں اٹھائے”۔

اس سے زیادہ غلاظت اور غلامی کا تصور اسلام کے نام پر ہوسکتا ہے جو علماء ومفتیان نے عورتوں پر مسلط کررکھاہے؟۔

علماء ومفتیان کی غلاظت کا ایک اور تصور ملاحظہ کیجئے گا۔

فرض کریں کہ مفتی تقو نے مولانا فضو کی9سالہ نواسی سے شادی کرلی۔ پھر مفتی تقو نے اپنی26سالہ ساس کا جگر پکڑا۔ بڈھا داماد جوان ساس کیساتھ ننگا تڑنگا کھیل رہا تھا۔ جیسے شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن کی صابر شاہ کیساتھ ننگی ویڈیو بھی دنیا نے دیکھ لی تو اس کا عجیب وغریب فتویٰ ملاحظہ فرمالیجئے گا۔

جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کی ویب سائٹ سے اگر ڈیلیٹ کردیا ہو تو ہم نے اسےSaveکررکھا ہے۔ فکر نہیں ہے۔ اگر شہوت کیساتھ کھیلتے ہوئے مفتی تقو نے اپنی ساس سے اپنا بدن الگ کرنے سے پہلے اپنی منی خارج کردی تو پھر اس کی زبردست جیت ہے اور اس کی بیوی اس کیلئے حرام نہیں ہوئی۔ لیکن اگر اس نے اپنی منی خارج ہونے سے پہلے کہیں دروازہ کھلنے یا دستک دینے یا کسی بھی وجہ سے اپنا بدن الگ کرلیا تو پھر وہ اپنی بیوی بھی ہار گیا اور وہ اس کیلئے اب وہ بیٹی بن گئی ہے۔

یہ ہے علماء سوء کا مذہب ۔ علماء حق نے تو دلوں، بے غیرت اور بے ضمیر وں کو سمجھا نہیں ۔ جامعہ دارالعلوم کراچی فتویٰ سازی کی فیکٹری لگتی ہے یا لگتا ہے؟ جامعہ مؤنث ، دارالعلوم مذکر ہے اور مولانا فضل الرحمن نے کچھ علماء ومفتیان کو خواجہ سرا قرار دیا۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ٹرنس جینڈر خنسیٰ نہیں مغربی اصطلاح ہے کہ مرد کو مؤنث قرار دے یا مذکر۔ جامعہ دارالعوم کراچی اپنی مرضی سے تیسری جنس بن گئی ہے؟۔ ہاہاہا…..

جامعہ دارالعلوم کراچی عوام سے کہتی کہتا کہ شادی بیاہ میں رقم کی لین دین سود ہے اور اس کا کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے اور عالمی سودی بینکاری میں سود کی شرح بڑھا کر اپنی ماؤں کیساتھ زنا کو جواز بخش دیا؟۔ سینیٹر مشاہداللہ خان نے بیان دیا کہ” اسلام میں کوئی حلالہ نہیں ۔ یہ قوالی سن کر مسلمان ہوئے ہیں”۔ کہیں انہیں زہر تو نہیں دیا ؟۔ مفتی منیب الرحمن کو کچھ کھلایا گیا تھا۔ مفتی محمود اور بقول مفتی تقی عثمانی کے علامہ شبیراحمد عثمانی کو بھی ۔ ارسطو سے امام ابوحنیفہشکار بنے تھے۔

مولانا سمیع الحق شہید نے نصاب کی تبدیلی کا بیان دیا اور علامہ یوسف بنوری نصاب کی تبدیلی کے خواہاں تھے ۔ مفتی محمد نعیم جامعہ بنوریہ عالمی سائٹ کراچی نے کہا کہ” نصاب کفریہ ہے اور طلاق و حلالہ کا معاملہ غلط رائج ہے مگر مفتی تقی عثمانی نے منع کیا ہے اور وہ وفاق المدارس سے نکال دیں گے”۔ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے کہا تھا کہ ”نیا نصاب مرتب کریں مدارس میں وہ پڑھائیںگے”۔ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے ماہنامہ ”البینات” میں سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے کی مخالفت میں لکھا تو جنگ کے صحافی نجم الحسن عطا اور ہمارے ایڈیٹرملک اجمل جب ملے تو ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے کہا کہ ”میرا مضمون مفتی تقی عثمانی کے خلاف نہیں۔ میرے شاگر سید عتیق الرحمن گیلانی نے سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے خلاف ہم سے فتویٰ لیا اور پھر مفتی تقی عثمانی کے خلاف اپنے اخبار میں چھاپا جس پر مفتی تقی عثمانی بہت سخت ناراض ہوگئے تھے”۔

ملک اجمل نے ائیرپورٹ پر مفتی تقی عثمانی کو اپنا تعارف کرایا کہ انٹریو دیں گے تو مفتی تقی نے کہا کہ ”تم لوگوں نے کم گالیاں کھلائی ہیں،ابھی بھی تمہارا دل ٹھنڈا نہیں ہوا ہے؟”۔ ملک اجمل نے کہا کہ بریلوی تمہارے پیچھے پڑے تو ہم نے ان کا چھاپ کر ان کو ٹھنڈا کیا اور تمہاری جان چھڑائی تھی۔ جس پر مفتی تقی عثمانی نے زبان کو حرکت دئیے بغیر اعتراف کرلیا تھا۔

انفارمیشن سیکرٹری سندھ مہتاب راشدی نے بلایا کہ……

سستی شہرت کیلئے سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کی خبر چھاپی؟ تو میں نے کہا کہ اگر لکھتا کہ حنفی مسلک پر اعتراض غلط ہے، اہلحدیث کے نزدیک شیر خوار بچے کا پیشاب پاک ہے جس پر سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھا جائے تو مجھے بہت عزت ملتی کہ زبردست کام کیا لیکن غلطی کو سدھارنے کیلئے ہائی لائٹ کیا تومجھے جان کے لالے پڑے ہیں۔ جس پر مہتاب راشدی نے کہا کہ وزارت داخلہ کو پولیس وین کیلئے لکھ دیتی ہوں کہ آپ کی حفاظت پر مأمور ہو۔ مگر میں نے کہا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ۔

اگر حکومت واپوزیشن قومی اسمبلی، سینیٹ، صوبائی اسمبلیوں معاشرتی گند کو نکالنے پر کام کریں تو متحارب سیاسی پارٹیوں پر بھی اس کے اچھے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

طلاق کے مسائل پر حنفی و شیعہ کا قرآن وسنت کے قوانین پر نہ صرف اتفاق ہوگا بلکہ مسخ شدہ اسلام کی بازیابی ہوگی اور اسرائیل کا شہر عسقلان اسلام کا مرکز بن جائے گااور یہودیوں کو بھی اسلام کی افادیت اور نظام کو تسلیم کرنے میں خوشی ہوگی۔

مفتی تقی عثمانی ”فتاوی عثمانی جلد دوم” میں لکھتے ہیں کہ

(کفار،اہل کتاب اور گمراہ فرقوں سے نکاح کا بیان)

عیسائی عورت سے نکاح کا حکم

سوال :۔ میرے ایک عزیز کی شادی ایک عیسائی لڑکی سے ہوئی ہے۔لڑکے کا باپ مسلمان اور ماں عیسائی، باپ چونکہ ہندوستانی فوج میں میجر تھااور مذہب کی بیگانگی اور شرافت سے بیگانگی کی وجہ سے لڑکی سے محبت ہوگئی۔ انہوں نے بزرگوں کی مرضی سے سول میرج کرلی، لڑکی کی ماں کہتی تھی کہ میں نکاح نہیں کرنے دوں گی، لڑکے کا باپ نکاح کرنے پر مُصر تھا، لڑکی کے باپ نے کہا کہ ابھی تو لڑکی کی ماں کا کہا مان لیں کیونکہ وہ بہت ضدی ہے ، آپ اپنے گھر لے جاکر نکاح پڑھوالیں، چنانچہ ایسا ہی ہوا، سب نے سمجھا کہ لڑکا مسلمان ہے تو لڑکی بھی مسلمان ہوگی۔جب دو بچے پیدا ہوگئے تو معلوم ہوا کہ لڑکی اپنی ماں کے مذہب پر عیسائی ہے اور لڑکی نے بھی اقرار کیا کہ میں عیسائی ہوں،اب شرعاً یہ شادی جائر ہے یانہیں؟۔

جواب : عیسائی عورت سے مسلمان کا نکاح شرعاً منعقد ہوجاتا ہے ،شرط یہ ہے کہ عورت واقعی عیسائی مذہب پر ہو۔ آج کل کے عیسائیوں کی طرح نہ ہو جو نام کے تو عیسائی ہوتے ہیںاور ان کے عقائد دہریوں کے عقائد ہوتے ہیںکہ خدا، رسول کسی کو نہیں مانتے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ نکاح شرعی طریقے سے دو گواہوں کے سامنے ہوا ہو،اگریہ دونوں شرائط موجود ہیں تو یہ نکاح درست ہوچکا۔ واللہ سبحانہ اعلم
٧| ٣|١٣٩٧ھ (1977) (فتویٰ نمبر ٣١١| ٢٨ب)

روس سے آزادی پانے والے تاجکستان،ازبکستان وغیرہ کے نکاحوں کا کیا حکم ہوگا؟۔ یہ100ملین ڈالر کا سوال ہے ، لونڈی کا جواز تھا تو مذہب کی شرط تھی یا عورت ہونا کافی تھا؟ پھر لونڈی سے نکاح جائز تھا یا نہیں؟۔ فقہاء کے ہاں فتح مکہ پر رسول اللہ ۖ نے فرمایا : انتم طلقاء تم آزاد ہو۔ اگر مسلمان چاہتے تو ہندہلونڈی اور ابوسفیان غلام بنتے۔ یزید چاہتا تو اہل بیت کو لونڈیاں بناسکتا تھا اور علی سے بھی مطالبہ کیا کہ جنگ جمل کی خواتین کو لونڈیاں بنائیں؟۔ حالانکہ جس طرح حق مہر کے عوض خریدی گئی کافرات کو واپس بھیج دیا تو اسی طرح نبیۖ پر واضح کیا کہ جو تمہیں مال غنیمت والیاں ملی ہیں تو وہ تمہارے لئے حلال کردی ہیں۔ معاملے کو غلط رنگ دیا گیا۔ ام المؤمنین جویریہ کا شوہر جنگ میں مارا گیا،وہ گرفتار ہوئی تو فدیہ سے رہا ہوتیں، خود نبیۖ سے رشتہ پسند کیا ، رشتہ دار مسلمان ہوگئے۔

ولی خان نے بینظیر بھٹو سے کہا تھا کہ تم عربوں کو مسلط کرنا چاہتی ہو جو ہماری پختون خواتین کو لونڈیاں بنائیںگے؟۔ اگر پاکستان اور افغانستان میں جنگ ہوگی توپھر کیا فتح وشکست میں لونڈیاں بنانے کا معاملہ ہوگا؟۔ سوات کے حالات پر نوائے وقت نے رپوٹ میں لونڈیاں بنانے کا تذکرہ کیا تھا۔

مفتی تقی عثمانی اپنی جہالت کا ازالہ کرے ۔ صلح حدیبیہ ہوا تو مکہ کی مسلمان عورتوں نے مدینہ ہجرت کی تو واپس نہیں کیا کہ ”یہ ان کیلئے حلال نہیں اور نہ شوہر ان کیلئے حلال ہیں”۔ پھرکافر عورتیں ولا تمسکوا بعصم الکوافر واپس کردیں مولانا علی نے استنباط کیا کہ ان کی مسلم بہن ام ہانی کیلئے مشرک شوہر جائز نہیں اور اس کو قتل کرنا چاہا مگر رسول اللہۖ نے اسے پناہ دی اورحرام کاری کا فتویٰ نہیں لگایا۔ یہ شکر ہے کہ سورہ احزاب میں اللہ تعالیٰ واضح فرمایا کہ ” وہ چچا کی بیٹیاں تمہارے لئے ہم نے حلال کی ہیں جنہوں آپ کیساتھ ہجرت کی” ۔ورنہ تو ام ہانی کے بارے خسیس قسم کے فقہاء کہتے کہ ا نتم طلقاء میں جمع کا صیغہ تھا اسلئے بیک وقت تین طلاقیں واقعی ہوگئی تھیں۔

فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی طاقت کا توازن جس دن بگڑ گیا تو شیعہ بیوی کی بنیاد پر بھی فتوؤں سے بچوں کیلئے مسئلہ پیدا ہوگا اور27ویں آئینی ترمیم سے علماء کا فتویٰ زیادہ خطرناک ہوگا۔

مفتی تقی عثمانی نے شیعہ کے حوالے سے دو متضاد فتوے لکھ دئیے ۔
پہلا سوال تھا کہ” ایک ایسی لڑکی جسکے والدین کا تعلق دیوبندی مسلک سے ہے۔ اس کی شادی ایک ایسے لڑکے سے جس کے والدین شیعہ ہیں اور ان کا لڑکا انکے ساتھ کسی تقریب میں شرکت نہیں کرتا اور نکاح دیوبندی سے پڑھایا جائے گا ۔ لڑکا کہتا ہے کہ میں نہ شیعہ ہوں اور سنی …….
جواب : .. حقیقت میں وہ شیعہ ہے یا پھر کوئی مذہب نہیں رکھتا دونوں صورتوں میں اس کا نکاح سنی القعیدہ سے جائز نہیں۔ واللہ سبحانہ اعلم ۔ ٢٠|١٠|١٤٠٨ھ۔(1986ئ)

سوال : رافضی شیعہ اور اثناعشری میں کوئی فرق ہے ؟ ۔ نیز ایسے کسی سنی العقیدہ عورت یا مرد کا نکاح جائز ہے یا نہیں؟،جبکہ خلفا ئے ثلاثہ پر تبرا پڑھتے ہیں ۔حالانکہ حضورۖ کی حدیث ہے کہ جس نے میرے صحابی کوتکلیف دی تو اس نے مجھے دی..
جواب : شیعوں کے بہت سارے فرقے ہیں وہ سب اپنے آپ کو شیعہ اور اثنا عشری کہتے ہیںاور اہل سنت ان کو رافضی کہتے ہیں۔ یہ تمام فرقے علی الاطلاق کا فر نہیں ہیںبلکہ ان میں جو حضرت علی کی خدائی کے قائل یا قرآن کو تحریف شدہ مانتے ہیںیا ام المؤمنین حضرت عائشہ پر تہمت لگاتے ہوں یا اس قسم کے کافرانہ عقیدے کے معتقد ہوں وہ کافر ہیں۔ ان سے نکاح نہیں ہوتا لیکن جو لوگ اس قسم کے کفریہ عقائد نہ رکھتے ہوں تو وہ کافر نہیں ہیں۔ان سے نکاح تو ہوجاتا ہے مگر مناسب نہیں۔ واللہ سبحانہ اعلم ٥|١٠|١٣٩٧ھ (1977)

اور ساتھ ہی فتاوی عثمانی جلد دو م صفحہ262پر” حاجی عثمان کے پیروکارسے نکاح کا حکم” کے عنوان سے یہ فتویٰ ہے۔

1:ایسے گمراہ شخص کے مرید یا معتقد سے رشتہ کرنا جائز نہیں 2: کسی ناجائز کام کے بارے میں یہ دریافت کرنا کہ کرلیا جائے تو ہوجائے گا یا نہیں ؟۔سخت گناہ ہے بلکہ اس پر کفر کا خطرہ ہے اسلئے کہ نفس پرستی کیلئے ارتکاب حرام شریعت کی توہین وتخفیف ہے ۔ علاوہ ازیں حاجی عثمان جس ڈگر پر چل رہاہے … اسکے مریدین ومعتقدین کا کسی وقت بھی کفر تک پہنچ جانا کوئی بعید نہیںالعیاذ باللہ ایسی حالت میں اس نکاح کا انجام کیا ہوگا؟ عمر بھر کی حرام کاری اور اولاد الزنا ۔اللہ تعالیٰ اعلم مفتی عبدالرحیم الجواب صحیح مفتی رشیدا حمد الجواب صحیح مفتی ولی حسن

ہمیں اس سے اتفاق ہے کہ حاجی عثمان صاحب کے عقائد سے متعلق جو امور جواب میں بیان کئے گئے ہیں وہ گمراہانہ عقائد ہیں ایسے گمراہانہ عقائد کے حامل کسی شخص سے یا اس کے کسی پیروکار سے نکاح کرنا ناجائز ہے۔

2:اگر نکاح کر ہی لیا تو خواہ وہ منعقد ہوجائے مگر سخت گناہ کا کام ہے ۔ اللہ سبحان و تعالیٰ اعلم احقر محمد تقی عثمانی الجواب صحیح محمد رفیع عثمانی

حاجی عثمان کے مریدمولانا اشفاق احمد فاضل دیوبند کو کس لئے رکھا ؟۔…..
دوسروں کا حلالہ یا اپنی بیگمات کی تشفی کیلئے؟۔ حاجی عثمان کے معتقد جامعہ بنوری ٹاؤن ، جامعہ بنوریہ عالمیہ اور مولانا سلیم اللہ خان و مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید فتوؤں اور حاجی عثمان کی وفات کے بعد تشریف لائے اور علماء دیوبند، بریلوی ، اہلحدیث سبھی حاجی عثمان کے معتقد ہیں۔2006ء میں مجھ پر فائرنگ ہوئی تو تبلیغی جماعت کی شکل میں کراچی سے دہشتگردوں کی تشکیل کا شبہ تھا۔2007ء میں بھی13فراد دہشت گردوں نے شہید کردئیے تو اسکے پیچھے خطیر رقم کی باتیں زبان زدِ عام تھیں۔ پھراسکے بعدفتاوی عثمانی جلددوم میں یہ فتویٰ شائع ہوا۔ اخبار ضرب حق بند ہوا۔ جس میں حلالہ کے خلاف مضامین کھل کر شائع کئے گئے تھے۔

مفتی رفیع عثمانی نے پھر میڈیا میں پاکستان کے اندر خودکش اور دہشت گردی کے خلاف فتویٰ دینے سے بھی کھل کر انکار کیا اور بہت ساری ایسی باتیں ہیں جن کے ذریعے حقائق تک پہنچ سکتے ہیں لیکن ہمارا فوکس ذاتیات سے زیادہ مسائل پر ہے۔

مفتی تقی عثمانی لکھتے ہیں۔عجمیوں میں کفاء ت کا اعتبار نہیں:
سوال: ایک آدمی نے عاقلہ بالغہ لڑکی کا اغواء کیا اور اسے ڈرا دھماکر نکاح کرلیا،لڑکی کے والدین اس نکاح پر ناراض ہیں کیونکہ لڑکی آرائی قوم سے ہے اور لڑکی کا تعلق شیخ قوم سے ہے، (شیخ سے مراد کھوجہ قوم ہے) اور دونوں قوموں کی شرافت میں فرق ہے۔آرائیں معزز سمجھے جاتے ہیں اور شیخ ذلیل تو کیااس صورت میں نکاح ہوسکتا ہے؟۔

جواب: آرائیں اور کھوجہ دونوں عجمی نسلیں ہیں اور عجمیوں کے درمیان کفاء ت کا اعتبار نہیں ہے اور مذکورہ نکاح چونکہ لڑکی نے اپنی اجازت اور رضامندی سے کیا ہے اس لئے شرعاً نکاح منعقد ہوگیا،اب اگر لڑکی یا اس کے رشتہ دار ختم کرنا چاہتے ہیں تو سوائے اس کے اور کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ لڑکے سے طلاق حاصل کریں۔قال فی الدر المختار واما فی العجم فتعتبر حریة واسلاما۔ (شامی ج:2صفحہ319)
واللہ سبحانہ اعلم احقر محمد تقی عثمانی الجواب صحیح بندہ محمد شفیع
فتاوی نمبر٥٧|١٩ الف(فتاویٰ عثمانی جلددوم صفحہ280)

حاجی عثمان پر فتوے لگانے کے بعد شیخ الحدیث مفتی حبیب الرحمن درخواستی مدظلہ العالی نے حاجی عثمان کے حق میں فتوے دئیے تھے…..
اور چھوٹے بھائی میرے استاذ شیخ الحدیث حضرت مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید حاجی عثمان سے بیعت ہوگئے تھے۔ ان کا تعلق آرائیں قوم سے ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے دونوں گروپ فضل الرحمن اور درخواستی کے علماء نے حاجی عثمان کا ساتھ دیا تھا۔ مولانا محمد بنوری شہید خطیب العصر مولاناسید عبدالمجید ندیم وغیرہ کو بھی حاجی عثمان کے پاس لائے تھے۔اگر اس فتوے کو دیکھا جائے تو مولانا فضل الرحمن اور درخواستی کے خاندان کی خواتین کو اغواء کرکے زبردستی سے نکاح پر مجبور کردیا جائے تو مفتی تقی عثمانی نے اغواء کاروں کو راستہ دے دیا ہے۔ علماء اور عوام کو نسل اور عورتوں کے تحفظ کیلئے کچھ کرنا چاہیے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ علماء ومفتیان کو صلح کیلئے بیچ میں ڈال دیا تھا اور وکیل کے نوٹس پر بھی مفتی تقی عثمانی نے لکھا تھا کہ ہم نے نام سے فتویٰ نہیں دیا اور تاریخ نے ثابت کیا کہ موقع پرست ہیں۔

مفتی تقی عثمانی کیلئے اسکے والد مفتی شفیع نے دارالعلوم کراچی میں وقف شدہ زمین میں مکان لیا ۔ جسکے خلاف مفتی رشیداحمد لدھیانوی نے فتویٰ دیا کہ” وقف مال کی خرید اور فروخت جائز نہیں اور ایک ہی شخص باع و مشتری خریدنے اور فروخت کرنے والا نہیں ہوسکتا ہے”۔ تو اس کی مدرسہ میں پٹائی لگائی تھی۔ ہمارے استاذ مولانا شیرمحمدامیر جمعیت علماء اسلام کراچی نے بتایا کہ وہ اس وقت دارالعلوم کراچی میں پڑھتے تھے ۔ مفتی رشیداحمد لدھیانوی کے چہرے پر شدید زخموں کے نشان دیکھ کر پیشکش کی کہ بدلہ لیتے ہیں مگر استاذ نے اجازت نہیں دی تھی۔

مفتی تقی عثمانی کے مختلف اور متضاد فتوؤں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے فتوے بیچے ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔ اولیاء کی رضامندی کے بغیر لڑکی کا غیر کفو میں نکاح کرنا۔

سوال : خلاصہ سوال یہ ہے کہ باپ کی مرضی کے خلاف میری لڑکی نے ایک ایسے آدمی سے نکاح کیا ہے جو نیک سیرت نہیں ہے، مزید بر آں اس کے پہلے سے ایک بیوی اور چار بچے بھی موجود ہیں ،گھر میں جھگڑے وغیرہ کی بناء پر اب اس لڑکی کو میں عاق کرنا چاہتا ہوں، رہنمائی کیجئے۔

جواب: سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی نے جس سے شادی کی ،اس کا باپ اپنے لئے کفو نہیں سمجھتااور شرعاً لڑکی کو یہ اختیار نہیںکہ باپ کی اجازت ورضامندی کے بغیر غیر کفو میں نکاح کرے لہٰذا وہ شخص واقعتا کفو نہیں تو اس کا یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا، رشتہ داروں کو چاہیے کہ لڑکی کو نرمی سے سمجھائیں کہ یہ نکاح درست نہیں اس کیساتھ رہ کر وہ حرام کاری کی مرتکب ہوگی ، لما فی الدر المختار: فلاتحل مطلقة ثلاثانکحت غیر کفو بلا رضا ولی بعد معرفرفتہ ایاہ فلیحفظ (شامی: ج:٢ ص:٤٠٩) لیکن عاق کرنے کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ۔ باپ کو کسی حال میں یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنی اولاد کو اپنی میراث سے محروم کرے۔ واللہ سبحانہ اعلم احقرمحمد تقی عثمانی عفی عنہ الجواب صحیح بندہ محمد شفیع عفااللہ عنہ (فتویٰ نمبر ٢٦٣| ١٩ الف) فتاویٰ عثمانی جلد دوم :ص284

اس فتوے کا پس منظر بہت گہرا لگتا ہے اسلئے کہ جواب میں تین طلاق کے بعد کفاء ت کا حوالہ ہے اور یہ بھی کہ نسل کا نکاح کے بعد پتہ چل جائے۔ فتویٰ مفروضہ پر بھی دیا گیا ہے کہ اگر وہ شخص واقعی کفو نہیں ہے تو یہ نکاح منعقد نہیں ہوا۔ پھر تیسرے گیر میں نرمی سے سمجھانے کا مناسب لگا۔ پہلے فتوے میں جبر کا نکاح کرنے والا اغواء کار ٹھیک تھا؟ اور اس میں خلاصہ لکھ کر کہ والد اس کو اپنا کفو نہیں سمجھتا؟۔ یہ فتویٰ نہیں ڈرامہ ہے۔

جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مفتی عبدالسلام چاٹگامی نے تین طلاق کے بعد حلالہ کیلئے ایک فتویٰ جاری کرتے ہوئے لکھ دیا تھا کہ ”عورت طلاق کا اختیاراپنے پاس رکھے” مگرمفتی تقی عثمانی نے اس کو مستقل دھندہ بنارکھا تھا۔بعد میں بھی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔کبھی حلالہ کا مرتکب پیسہ مانگ کر معاوضہ سے طلاق دیتا اور کبھی عورت راضی نہیں ہوتی تو فتویٰ دیا جاتا۔

مفتی تقی نے لکھا:۔ تین طلاق کے بعد حلالہ کا شرعی طریقہ
سوال: اگست1960ء میں میری شادی ہوئی ۔1963میں ایک لڑکا تولد ہوا۔ جنوری1964ء کو میں نے اپنی زوجہ کو تحریری طور پر تین طلاق دے دی۔زوجہ ابھی تک لڑکے کیساتھ والدین کے ہاں ہے ،اب والدین بھی بہت ناراض ہیں۔میں خود بھی پریشان ہوں۔ یہ کام میں نے دوسروں کے ورغلانے سے کیاتھااب کوئی صورت ہوسکے تو تحریر فرمائی جائے۔

جواب: صورت مسئولہ میں بیوی پر طلاق مغلظہ واقع ہوگئی ہے ،اب حلالہ کے بغیر دوسرا نکاح نہیں ہوسکتا۔جسکی صورت یہ ہے کہ بیوی کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے اور اس کیساتھ وظائف زوجیت بھی پورے کرے، اسکے بعد اگر وہ شخص کسی وجہ سے اسے طلاق دیدے یا انتقال ہوجائے تو آپ بیوی کی عدت گزرنے کے بعد اس کی صریح مرضی سے دوبارہ نکاح کر سکیںگے۔ اس عمل کو”حلالہ” کہتے ہیں۔لیکن حلالہ کی شرط لگا کر دوسرا نکاح کروانا ناجائز ہے۔ واللہ اعلم بالصواب احقر محمد تقی عثمانی (فتویٰ نمبر١٤١٠|١٨الف) فتاویٰ عثمانی ص:420

اگلے صفحہ پر جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کا فتویٰ رد کیا ہے اور لکھا ہے کہ ”ان (بیوی)پر شرعاً واجب ہے کہ وہ سردار محمود علی خان صاحب سے علیحدہ رہیںاور انہیں وظائف زوجیت کا موقع نہ دیںاور جب ان کیلئے یہ امر ناجائز ہے تو سردار محمود علی خان صاحب کو بھی چاہیے کہ وہ انہیں اپنے ساتھ رکھنے پر اصرار نہ کریں۔تاکہ وہ بیوی کو گناہ میں مبتلا کرنے کا سبب نہ بنیں۔دیانت کا حکم یہی ہے اور اب اسی میں فریقین کی عافیت ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم ۔ فتاوی عثمانی صفحہ422

بہشتی زیور مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب میں طلاق 3 مرتبہ کہنے میں نیت کا اعتبار واضح طور پر بیان کیا گیا ہے لیکن مفتی تقی عثمانی نے حضرت تھانوی کی بہشتی زیور کو منتہی کیلئے بھی قابل تقلید قرار دینے کے باوجود بار بار لکھ دیا ہے کہ تین مرتبہ طلاق صریح کو دہرانے کے بعد نیت کا کوئی اعتبار نہیں اور ایک فتوے میں حلالہ کے لفظ کو متعدد مرتبہ گھمایا ہے تو احقر تقی عثمانی کو حلالہ کی لعنت کا مزہ ملے اور جتنے بیکار اور باہمی متضادفتوے ہیں ان میں اس نے اپنے باپ کو الجواب صحیح لکھوایا ہے۔اسلئے

یا ایھا الذین اٰمنوا انّ من ازواجکم و اولادکم عدوًا لکم فاحذروا ھم وان تعفوا و تصفحوا و تغفروا فان اللہ غفور رحیمO

‘ اے ایمان والو! بیشک تمہاری ازواج میں سے اور تمہاری اولاد میں تمہارے لئے دشمن ہیں ۔پس ان سے بچ کے رہواور یہ کہ تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو بھی غفور رحیم ہے”۔ (التغابن:14)

مفتی شفیع کی بیوی اور بیٹے مفتی تقی عثمانی ورفیع عثمانی اور اس کی بیٹی زوجہ مفتی عبدالرؤف سکھروی نے مدرسہ کی وقف زمین اور زکوٰة خیرات میں حصہ دار بن کر جو گل چھرے اڑائے اور جس طرح کے اللے تللے کئے ہیں ان کم بختوں کی شکلوں ہی سے نحوست ٹپک رہی ہے۔ نیک اولاد کا ایصال ثواب والدین کو ملتا ہے لیکن ان کم بختوں کا عوام کو یہ کہنا کہ شادی بیاہ میں بھی لفافے کی لین دین سود اور70سے زیادہ گناہوں میں کم ازکم گناہ اپنی سگی اماں سے زنا کے برابر ہے اور دوسری طرف تمام علماء کی طرف سے مخالفت اور سمجھانے کے باوجود عالمی سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے کی بدبختی ان کے حصہ میں آئی۔

مفتی تقی عثمانی کا ذوق فتوی بمقابلہ مفتی فرید اکوڑہ خٹک
ایک گانا عموماً ریڈیو ،ٹیلی وژن پر گایا جاتا ہے ۔ یہ شعر:
دل کا لگانا ہائے ہائے
دل کا لگانا ہم نے چھوڑ دیا ،چھوڑ دیا

اب اگر کوئی شخص یہ گانا سنتے وقت خود بھی گانے لگے اور بیوی موجود ہو وہ بھی گانے لگے۔….جواب از مفتی فرید دارالعلوم حقانیہ اکوڑ ہ خٹک: واضح رہے کہ یہ لفظ”چھوڑ دیا” طلاق اور غیر طلاق دونوں میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے ،قرائن کی وجہ سے کسی ایک کا تعین کیا جاتا ہے، بس بظاہر بلفظ ”ترکتھا” کی طرح کنایات سے ہوگا جن میں نیت کے بغیر طلاق واقع نہیں ہوتی ، نیز یہ لفظ اگر طلاق میں متعارف ہو تو طلاق بائن میں متعارف ہوگااہل عرف کے نزدیک بینونت مراد لی جاتی ہے والصریح قد یقع بہ البائن کما فی ردالمختار محمد فرید عفی عنہ دارالافتاء دارالعلوم حقانیہ (فتاوی عثمانی: صفحہ365)

جواب از مفتی تقی عثمانی۔ جو مثالیں آپ نے لکھی ہیں ان میں تو کسی کے نزدیک بھی طلاق واقع نہیں ہوتی ہے کیونکہ وہاں غیر طلاق کے معنی میں صریح موجود ہے لیکن جب اس قسم کے قرائن موجود نہ ہوںاور کوئی شخض بیوی کہے کہ میں نے تجھے چھوڑ دیا تو راجح یہ ہے کہ ادو محاورے میں یہ صریح لفظ ہے تاہم مفتی شفیع نے امداد المفتین کے حاشیہ پر لکھا کہ غرض اس میں علماء کا اختلاف ہے سائل کو دیانةً جس پر زیادہ اعتماد ہو تو اسکے فتویٰ کو اختیار کرنا چاہے ۔ اور یہ ساری گفتگو اردو محاورے میں ہے پنجاب کے عرف سے احقر کو علی وجہ البصیرت واقفیت نہیں ہے اس میں پنجاب کے اہل فتویٰ سے رجوع کرنا چاہے۔ احقر

مفتی تقی عثمانی نے حلالہ میں بخشتا نہیں ، اسکے بیٹے کو ملازم نے کہا تھا کہ” اس بار نوشتہ دیوارنے تیرے ابے کو بخش دیا”۔

باپ کا کیا ہوا نکاح فسخ نہیں کیا جاسکتا (خلاصہ)
سوال: رحیم بخش نے اپنی نابالغ لڑکی کا نکاح9،10سال کی عمر میں شیر محمد کیساتھ کردیا۔ پھر شیرمحمد بیرون ملک گیا۔ لڑکی کی عمر زیادہ ہوگئی تو خدشات نے گھیر لیا۔ مجبور ہوکر عدالت میں تنسیخ نکاح کا کیس دائر کیا۔ عدالت نے شیرمحمد کے وارثوں کو کہا کہ لڑکے کو 3ماہ میں حاضر کردیں ورنہ تنسیخ کا حکم دیں گے، جب عدالت نے تنسیخ کا حکم جاری کیا تو لڑکی نے عدت گزار دی اور اس کی محمد شفیع کے ساتھ شادی ہوگی۔ پھر دو تین ماہ بعد شیرمحمد آگیا اور اپنی بیوی واپس لینے کیلئے فتویٰ کی مدد طلب کی۔

جواب: لڑکی کا نکاح باپ نے کیا۔ لڑکی نے بلوغت کے آثار ظاہر ہونے پر نکاح کی منسوخی کیلئے اقدام نہیں اٹھایا۔

لہٰذا اول تو چونکہ باپ کا کیا ہوا ہے (اور سیئی الاختیار ہونے کا لڑکی دعویٰ نہیں کرتی ) اسلئے لڑکی کو خیار بلوغ سرے سے حاصل ہی نہیں ہے کماھو صرح فی سائر کتب الفقہ دوسرے اگر حاصل بھی ہوتاتب بھی لڑکی نے خیار بلوغ کا وقت گزار دیا لہٰذا شرعاً خیار بلوغ کی بنیاد پر عدالت کو نکاح فسخ کرنے کااختیار نہیں تھا۔ اور شریعت کی رو سے اس کا نکاح صحیح نہ ہوا ، لہٰذا محمد شفیع سے اس کا نکاح باطل وکالعدم ہے اور اصل خاوند شیر محمد بدستور لڑکی کا شوہر ہے۔ البتہ اگر محمد شفیع اس کے ساتھ صحبت کرچکا ہے تو جب تک اس کو تین حیض نہ آجائیں شیرمحمد کیلئے اس سے صحبت کرنا جائز نہیں۔ احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ (فتویٰ نمبر٢١٢|١٩الف) الجواب صحیح بندہ محمد شفیع عفااللہ عنہ فتاویٰ عثمانی جلد دوم (صفحہ:283) غلیظ مواد اور بھی ہے۔

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
ہو بچیوں کا حق تو فولاد ہے نکاح
حلالہ ہو تو مکڑی کا جالا ہے طلاق

نکاح بچی کا ہو تو ٹوٹنے کا نام نہیں لے؟۔ طلاق مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور جب حلالہ کیلئے بہانہ درکار ہوتا ہے؟۔

یہ چشم بصیرت ہے یا زیر ناف کی شہوت
بے غیرت جسارت ہے یا بگڑی ہوئی فطرت

جس طرح سودی بینکاری کو اسلامی بینکاری کے مخالف علماء اپنے اکابر علماء ومفتیان کے برعکس سرعام چت ہوگئے۔ اور صابرشاہ نے لالچ اور شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن نے خواہش کیلئے جو کچھ کیا وہ دنیا کے سامنے ہے۔ علماء میں بہتوں کا کوئی دین ایمان نہیںہوتاہے صحافیوں کی خبرشورش کاشمیری نے لی تھی اورمفتی تقی عثمانی پہاڑوں کی بلندی میں اقبال کو پڑھتا ہے۔

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

مفتی تقی عثمانی کی ویڈیوز دیکھو! پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی طواف میں دلے کو رمل نہیں آتا۔ الائنس موٹرز کے دو فیصد منافع پر بکا، سود خوراسلام فروش کا طاقتور ترین شخصیات میں نام ہے ، اسلئے کہ علماء حق بھی اسکے آگے بالکل ہی ناکام ہیں۔

ہم اہل قلم کیا ہیں؟ از شورش کاشمیری
الفاظ کا جھگڑا ہیں بے جوڑ سراپا ہیں
بجتا ہوا ڈنکا ہیں ہر دیگ کا چمچا ہیں
مشہور صحافی ہیں عنوان معانی ہیں
شاہانہ قصیدوں کے بے ربط قوافی ہیں
چلتے ہوئے لٹو ہیں بے زین کے ٹٹو ہیں
اُسلوب نگارش کے منہ زور نکھٹو ہیں
یہ شکل یہ صورت ہے سینوں میں کدورت ہے
آنکھوں میں حیا کیسی؟ پیسوں کی ضرورت ہے
اپنا ہی بھرم لے کر اپنا ہی قلم لے کر
کہتے ہیں کہ لکھتے ہیں انسان کا غم لے کر
تابع ہیں وزیروں کے خادم ہیں امیروں کے
قاتل ہیں اسیروں کے دشمن ہیں فقیروں کے
اوصاف سے عاری ہیں نوری ہیں نہ ناری ہیں
طاقت کے پجاری ہیں لفظوں کے مداری ہیں
تصویر زمانہ ہیں بے رنگ فسانہ ہیں
پیشہ ہی کچھ ایسا ہے ہر اک کا نشانہ ہیں
رہ رہ کے ابھرتے ہیں جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
کہنے کی جو باتیں ہیں کہتے ہوئے ڈرتے ہیں
بے تیغ و سناں جائیں باآہ و فغاں جائیں
اس سوچ میں غلطیاں ہیں جائیں تو کہاں جائیں
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

عرب کو جاہلیت سے نکال کر قرآن نے سپر طاقت بنادیا۔عالمی سکینڈل ایپسٹین فائلزکے تناظر میںاب پاکستان کا نظام درست کرنا پڑے گا
کیا جاوید غامدی ایک خناس ؟
میں13برس کی عمر میں حاملہ تھی لیکن اس شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ بی بی سی نیوز اردو 13 سال کی عمر میں وہ حاملہ ہو گئیں تو ان کی والدہ نے ان پر خاندان کی بے عزتی کا الزام عائد کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اتنی کم عمر میں بچیوں کی شادی صرف تیسری دنیا کے ممالک یا مخصوص مذاہب میں ہوتی ہے لیکن نہیں، یہ امریکہ میں بھی ہوتا ہے۔15جنوری2026