پوسٹ تلاش کریں

شیعہ لڑکی مریم ایرانی انقلاب کے گرنے کی منتظر

شیعہ لڑکی مریم ایرانی انقلاب کے گرنے کی منتظر اخبار: نوشتہ دیوار

حسن الہیاری: السلام علیکم سسٹر کیا حال ہے ،ٹھیک ہیں؟
مریم: الحمدللہ سر جو ٹاپک چل رہا ہے اس کے لحاظ سے میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ اب یہ کیا کہتے ہیں آپ کہ یہ اب ان کا فراڈ سامنے آ جائے گا کہ ان کے بعد کن کی تقلید ہو گی؟۔
الہیاری: وہ یہ تو ان کا رہبر تو ہے ، مجتبی صاحب رہبر ہیں۔
مریم: نہیں تو مجتبی صاحب کیسے رہبر بن سکتے ہیں؟ مطلب یہ کیا اتنے ان کا وہ لیول ہے کہ جس حد تک وہ تھے۔
الہیاری : خامنہ کا بھی کوئی لیول نہیں تھا۔
مریم : فراڈ سامنے آئیگا کون خمس دے گا اور بغیر خمس کے؟۔
الہیاری:فراڈ سامنے تھے ۔ یہ جھوٹ کے ماہر فراڈ سامنے آتا ہے تو کہتے ہیں یہ امریکہ کی سازش ہے پروپیگینڈا ہے ۔
مریم: بس تھوڑا کلیئر کرنا ہے جیسے میرے پیرنٹس اور بہت سے لوگ ہم آپ کو سنتے ہیں نا تو بہت سی چیزیں پتہ چل رہی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ آپ ٹریک سے اتر گئے ۔ جس طرح خامنہ ای کے بعد اللہ معاف کرے کہ مولا علی علیہ السلام کے جلوس میں انکے شبیہ، تابوت نکالے لوگوں نے اور ان فیکٹ ان کی تصویریں ہیں۔ یہ سب مطلب آگے کتنا زیادہ ہو گا ؟۔
الہیاری:دیکھیں ایرانی حکومت سر وائیو کرتی ہے یا نہیں۔ یہ نظام سروائیو کرنے والا نہیں۔ امریکہ کے پاس سٹریٹیجک پیشنز ہیں۔ یہ اپنے منصوبے طویل عرصے تک فالو کرتے ہیں پھر اس کو اپلائی کرتے ہیں۔ مثلا جیسے شام میں10،15سال جنگ تھی۔ آخر میں بشارالاسد کو نکالا گیا۔ تو ایران شام بننے کی طرف جا رہا ہے۔ اسی راؤنڈ یا نیکسٹ راؤنڈ میں چلا جائے گا لیکن ایک ولایت فقہیہ اور ایک نظام مرجیعت ہے۔ ایرانی حکومت سے نظام ولایت فقیہ بنی ہے۔ حکومت کیساتھ ولایت فقیہ بھی جائے گا ۔مرجیعت تو پہلے تھی جس کوخمینی نے کمزور کیا۔ مراجع کوکتے کی حیثیت سے دیکھتا، بڑا ذلیل کیا ،یہ لمبی داستان ہے کہ خمینی کا مراجع جیسے وحید خراسانی، صادق شیرازی، سید صادق روحانی ، آیت اللہ علی سیستانی سے رویہ کیسا تھا۔ کنٹرول تھا۔ غلام اور نوکر کی حیثیت سے تھی جو وہ کہے یہ وہی فتوی دیں گے۔ اپنا کام نکلواتا تھا اور اب بھی نکلواتا ہے۔ شاہ کے زمانے میں ایسا نہ تھا۔ مراجع کی بڑی بڑی پاور تھی۔ ایران سقوط کر جاتا ہے تو ایرانی شیعوں کی دین داری کو بڑا نقصان پہنچے گاکیونکہ ایرانی عوام کاعلماء سے بہت کینہ دل میں ہے ۔ وہاں ملحداور دین دشمن افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے اس کی وجہ خامنائی کی پالیسی ہے۔ بہت سارے لوگ دین سے پھر گئے۔ اگر یہ نظام ٹوٹا تو ان کو کھلی چھٹی ملے گی کہ دین سے دشمنی ظاہر کریں۔ دین داری ایران میں پریکٹیکلی بہت کم ہے پاکستان کے مقابلے میں لیکن لانگ ٹرم میں دین کیلئے بہت بہتر ہے۔ یہ لوگ دین کو بدنام کر رہے تھے ۔اہلبیت علیہ السلام کے نام پر لوگوں پر ظلم، نوجوانوں کو یہ پھانسی دیتے تھے، یہ سلسلہ رکے تو دین کی بدنامی کا ٹرینڈ رکے گا تو لوگ دین کی طرف واپس آئیں گے۔ یہ حکومت گر جائے تو مراجع اور مذہب تشیع مزید کمزور ہو گا۔ لیکن ایران سے باہر پاکستان، ہند،عراق، دیگر ملکوں میں مرجیعت کو تقویت ملے گی۔ کیونکہ فی الحال مرجیعت بالکل ایرانی انٹیلیجنس کے قبضے میں ہے۔ اگر حکومت گر جائے تو مرجیعت کس کا کس سے شادی کر لے گی یعنی کس کی بیوی بنے گی مجھے نہیں معلوم کیونکہ مرجیعت کو ہمیشہ سرپرست کی ضرورت پڑتی ہے۔ اب کس کی سرپرستی قبول کریں گے مجھے نہیں معلوم۔ جو علما کہتے ہیں کہ مراجع ہمیشہ انڈیپنڈنٹ رہے ایسا بھی نہیں ۔
مریم: یہ ثواب کی مجالس جگہ جگہ۔ سارا ثواب پہنچتا ہے ؟۔
الہیاری: بدعتی انسان ، چاہے زندہ ہو یامردہ ۔ اس کی تعظیم، تعریف کرنا یہ شدت کیساتھ حرام ہے اور جو بدعتی کیلئے دعا یا تعریف کرتا ہے تووہ اسلام کو جڑ سے اکھاڑتاہے۔ معاویہ اور یزید کیلئے ایصال ثواب لوگوں نے کیا، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ یہ اپنی بدبختی ہے جو منافق، ظالم اور بدعتیوں کیلئے کرے جنہوں نے دین کے عقائد کو فاسد کر کے اپنے آپ کو امام بنایا۔ ان کیلئے ایصال ثواب پر اللہ تعالی پوچھ گچھ کرے گا۔ فی الحال یہ فری ہیں جو مرضی کریں لیکن قیامت بھی حق ہے مرنا ہے۔
ــــــــــ

اسلام میں عورت کے حقوق پر خامنائی کی تقریر خواتین سے
سب سے اہم حق گھر کی خاتون بیوی کامحبت ہے۔ سب سے اہم ضرورت اور حق ان سے محبت کا ہے ۔ روایت ہے کہ مردوںکو بیویوں سے کہنا چاہئے: میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ واضح اظہار کریں ۔وہ جانتی ہے پہلا اور بڑا حق گھر میں خواتین کا عدم تشدد ہے۔ پسماندہ مغربی ثقافت میں مردوں کے ہاتھوں خواتین پر تشدد کے واقعات بہت ہیں۔ شوہروں کے ہاتھوں خواتین کا قتل ، بیویوں کی پٹائی مغرب میں ہے۔ یہ اہم ترین انحرافات میں سے ہے۔ اگرچہ یہ ایک کہانی ہے لیکن حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ مرد گھر آتا ہے اور اپنی بیوی کو خوب مارتا ہے۔ یہ ثقافت رائج ہوجائے تو ایسی ہی ہوتی ہے ، وہ ایسے کام کرتی ہے ایسی ضد کرتی ہے، ایسے چڑاتی ہے کہ شاید شوہر کو غصہ آجائے اور وہ مارے، لیکن وہ مارتا نہیں ۔ جب یہ ثقافت رائج ہوجاتی ہے تو یہ اس شکل میں سامنے آتی ہے ۔ گھر کی منیجراور سربراہ خواتین ہیں۔ شوہر کا بچوں کی پیدائش کے اثرات سے پیدا ہونے والی مشقتوں میں مدد کرنا ، گھر کے کام کا بوجھ عورت پر نہیں ڈالنا چاہئے، مسلط نہیں ہونا چاہیے۔ قدر دانی اس بات کی کہ ناکافی آمدنی کے باوجود، خواتین گھر کو چلاتی ہیں۔ اس نکتے پر غور کریں۔ کم لوگ اس پر توجہ دیتے ہیں کہ مرد کی آمدنی مثال کے طور پرایک مقررہ دفتری آمدنی ہے ۔ چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں مگر گھر چلتا رہتا ہے۔ دوپہر کا کھانا تیار ہوتا ہے ۔ یہ کون کرتا ہے؟ وہ کونسا ہنر ہے جو گھر کو چلاتا ہے؟۔

تبصرۂ نوشتہ دیوار
خامنائی کو حسن الہیاری بدعتی کہتا ہے تو طلاق بدعت وحلالہ پر کیا سمجھتا ہوگا؟۔ ایرانی شیعہ عورت کو سورہ النساء آیت19کے مطابق خلع کا حق نہیں۔ الجزائری حافظہ فاطمہ کو خلع کا اسلامی حق نہیں ملا تو مجاہدہ بن گئی۔ اخلاق کا مسئلہ الگ ہے حقوق کا الگ۔ شرعی حقوق سلب کئے گئے ہیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

شیعہ لڑکی مریم ایرانی انقلاب کے گرنے کی منتظر
نبی ۖ کی وصیت حضرت ابوہریرہ کو آخری دور کی قوم جس کی وجہ سے اللہ عذاب کو ٹال دے گا
ہمارا پہلا قومی ترانہ اور تصوف کیخلاف امریکہ کی سازش