پوسٹ تلاش کریں

سورہ قریش میں سردی گرمی کا سفر الفت ۔ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے بھوک میں کھلایا اور خوف سے امن دیا

سورہ قریش میں سردی گرمی کا سفر الفت ۔ اس گھر  کے رب کی عبادت کریں جس نے بھوک میں کھلایا اور خوف سے امن دیا اخبار: نوشتہ دیوار

بسم اللہ الرحمن الرحیم
لایلاف قریشOایلافھم رحلة الشتآء و الصیفOفلیغبدوا رب ھذا البیتOالذی اطعمھم من جوعٍ و اٰمنھم من خوفO

”قریش کی الفت کیلئے۔ان کی الفت سردی اور گرمی کے سفر سے ۔پس وہ عبادت کریں اس گھر کی جس نے بھوک میں ان کو کھلایا اور خوف سے امن دیا”۔ (سورہ قریش)

ٹانک شہر میںپیر صابر شاہ کا عرس میلہ جون کے ابتداء میں ہوتا تھا۔ چڑیا گھر ، سرکس اور چیزیں خرید وفروخت کیلئے آتی تھیں انتہائی گرمی مگرعوام کی اس سے الفت تھی، بھوک سے کھانا اور خوف سے امن کا سماں، ٹریفک کو سواری اور غریب امیر کی کمائی بنتی ۔ جس سے سورہ قریش بھی سمجھ میں آسکتی تھی۔ امام رازی کی تفسیر کبیر میں سب کچھ ہے مگر تفسیر نہیں:مولانا بنوری

پہلے مختلف علاقوں میں بڑے میلے لگتے تھے۔ مقامی سطح سے دور دراز سے آنے والوں کی آمد تک اپنا اپنا سامان ، پھل ، مصنوعات، جانور اور لونڈی وغلام کی خرید وفروخت ہوتی تھی۔ قریش کیلئے اضافی چیز حج اور عمرے کیلئے آنے والوں کی آمد بھی تھی۔ حج کا مہینہ سردی میں ہوتا توعمرہ گرمی اور حج گرمی میں آتا تو عمرہ سر دی میں کرتے ۔ اس لالچ میں قریش مکہ اپنے مفاد کی خاطرمہینوں کوکبھی بدل دیتے اور حج و عمرہ کا اکٹھا احرام ناجائز قرار دیا تھا تاکہ سردی اور گرمی دونوں موسم میں عوام کی آمد ہو۔

اسلام میںحج و عمرہ کااکٹھا احرام باندھناجائزتھا ۔ عمر نے الگ الگ احرام کی ترغیب دی۔ عثمان نے پابندی لگائی تو علی نے اعلانیہ احرام اکٹھے باندھے (بخاری) گورنر دمشق ضحاک نے کہا کہ اکٹھا احرام جاہل باندھے گا۔ سعد بن ابی وقاصنے فرمایا کہ ”یہ مت کہو، میں نے خود نبیۖ کو اکٹھے دونوں احرام باندھتے ہوئے دیکھا ہے”۔ حضرت لبیدنے شعار کہے تھے:

ذھب الذین یعاش فی اکنافہم
و بقیت فی خلف کجلد الاجرب

” وہ لوگ چلے گئے جن کے پاس زندگی گزرتی تھی اور ان میںپیچھے رہ گیا ہوں جو خارش زدہ کھال کی مانند ہیں ”۔

اماں عائشہ58ھ نے فرمایا ” اگر لبید ہمارا زمانہ دیکھ لیتے تو کیا کہتے؟”۔…..
ابوداؤد، بخاری ، مسلم تینوں احمد بن حنبل کے شاگردتھے جو شافعی کا شاگرد تھا۔ شافعی امام ابوحنیفہ کے شاگرد حسن شیبانی کا شاگرد تھا۔ یزید ثالث بن ولید اور بنوعباس کے حکمران معتزلی تھے۔ا بن حنبل پرتشددکیا۔10ویں عباسی خلیفہ جعفر متوکل نے شافعی مذہب اختیار کیا اور معتزلہ کا صفایا کیا۔ عمر بن عبدالعزیز نے احادیث کی اجازت دی مگر پھر سختی شروع کی تھی۔ حسن بصری کی روایات مثال ہیں۔ مقدمہ ابن خلدوں میںہے کہ” ابوحنیفہ17احادیث مانتے تھے” ۔ امام ابوحنیفہ نے قیدمیں شہادت پائی ۔ درباری شاگردوں نے دین کیساتھ بدترین کھلواڑ کیا۔اصول فقہ اور فقہی مسائل سے واضح ہے کہ مستند احادیث کو مسترد اور ضعیف کو قبول کیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے شیر شاہ سوری نے صرف5سال حکومت کی۔ بنگال سے افغانستانGTروڈ بنایا۔زمینوں کی پیمائش کا پٹوار سٹم قائم کیا، نظام انصاف میں شاہ وگداکیلئے تفریق وامتیاز کو ختم کیالیکن پھر بارود سے اڑادیاگیا۔ مہدی7سے9سال تک حکوت کرے تو اس دور میں کیا سے کیا تبدیلیوں کے امکانات نہیںہوسکتے؟۔

پرتگال کا واسکو ڈیگاما ہندوستان تک بحری راہ کیلئے امریکہ کو پا گیا۔ پاکستان یورپ سے تائیوان تک تیز رفتار ریلوے ٹریک و روڈ کا آئیڈیا دیکر دنیا کا امام بنے۔ برطانیہ نے منافرت کا بیچ بویااور ایشیا اور جرمنی وفرانس وروس میں رابطے کی شہہ رگ کاٹی گئی۔ عمران خان کی ماں، شریف برادران ،فیڈ مارشل اور سید مودودی وغیرہ کے اجداد کا وطن مالوف ہندوستان تھا۔

مفتی حسام اللہ شریفی مودودی کیساتھ اپنے استاذ سے ملنے گئے۔دیوبند، بریلوی سبھی کے سر ہندوستان اور دُمیں پاکستان میں ہلتی ہے اسلئے نفرتوں سے خود اور دوسروں کو تباہ نہ کریں

یہود اور نصاریٰ ایک دوسرے سے مذہبی بنیاد پر بڑی سخت نفرت رکھتے تھے۔یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کے خلاف غلیظ ترین گالی بکتے تھے۔ نصاریٰ ان کو خدا کا بیٹا اور خدا کی بیوی قرار دیتے تھے۔ اسلام نے بڑا اعتدال اور میانہ روی کا درس دیا۔ تقدس کی آڑ میں شرک اور انتہا پسندی کی آڑ میں توہین دونوں کے ارتکاب کو منع کردیا۔

وہ ایکدوسرے کیساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا جائز نہیں سمجھتے تھے مگر قرآن نے دونوں طرح کے اہل کتاب سے ازدواج کی اجازت دے دی۔ جب جاویداحمد غامدی یہ کہتا ہے کہ امت مسلمہ اپنی باری لے چکی ہے اور اب قیامت تک مسلمان محکوم رہیںگے اور امریکہ ، یورپ ، آسٹریلیا،وسط ایشیا اور ہندوستان میںبڑی حد تک آباد حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد قامت تک اقتدار میں رہے گی اور یہ میں فنون طبع کے طور پر نہیں کہتا ہوں بلکہ قرآن میں یہ واضح طور پر لکھ دیا گیا ہے۔ غامدی کے اس فلسفے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا معاملہ قصہ پارینہ بن چکاہے۔ اس نے قرآن کو سات ابواب میں تقسیم کرکے مسلمانوں پر اقتدارکے سب دروازے بند کرنے کیلئے منصوبہ بندی کررکھی ہے۔ اس کے شاگرد ڈاکٹر فرحان شہزاد کی کتاب ابھی چھپ نہیں سکی ہے مگر جب چھپ کر آئے گی تو قرآن سے حضرت علی ، حسن وحسین کی نااہلی کے علاوہ حضرت ابوبکر و عمر کی ناہلی بھی ثابت کرنے کی بھرپور کوشش ہوگی۔ وہ سب سے زیادہ مضبوط شرعی خلیفہ صرف اور صرف یزید اور اس کے بعد بنوامیہ کو مانتا ہے۔

مسجد مہابت خان کے خطیب مولانا طیب قریشی نے صحافی حسن خان سے کہا کہ” افغان طالبان دنیا کو بھی دیکھ لیں۔ رسول اللہۖ نے کچھ معاہدے صلح حدیبیہ مجبوری سے کیا”۔ ملاعمر کے پیچھے امریکہ، پاکستان، سعودیہ اور عرب امارات تھے۔صلح حدیبیہ اور میثاق مدینہ کسی کمزوری سے نہیں کیا تھا۔

مذہب پیشہ تھوڑا تھا کہ روٹی بند ہوجاتی؟۔ بھارت سے ہم کمزور نہیں مگر صلح حدیبیہ کریں ۔ جو منافق ہندو بننا چاہے شوق سے بن جائے اور بھارت ویزہ دے اور کوئی ہندو مسلمان بن جائے تو واپس کریں۔ عقیدہ منافقت اور زبردستی کا نہیں ہوتا بلکہ جبر والوں کیلئے مزید نقصان دہ ہے۔ منافق مسلمان بن کر کام کریں تو جہنم کے نچلے درجہ میں ہوںگے۔مسلمان کو جبری ہندو بنایا جائے تو فرق نہیں پڑتا۔

من کفر باللہ بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان و لکن من شرح بالکفر صدرًا فعلیھم غضب من اللہ و لھم عذاب عظیمO

” جو ایمان کے بعد اللہ کا منکر بنے مگر جس کو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو،لیکن جس کا کفر پر شرح صدر ہوا تو اس پر اللہ کی طرف سے غضب ہے۔ اور ان کیلئے بہت بڑا عذاب ہے ”۔ (سورہ النحل:106)

قرآن میں ماضی ، حال اور مستقبل کا پوراآئینہ ہے اور اس میں نہ صرف حال کے کردارمیں اپنی شکل دیکھ سکتے ہیں بلکہ یہ حالات کو بدلنے کیلئے ہدایت کی بہترین دستاویر بھی ہے۔ اللہ نے قرآن میں یہود ونصاریٰ کے بارے میں کہا کہ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ چند دنوں کے بعد ہماری سزا ختم ہوگی اور باقیوں کو اللہ نے جہنم کیلئے پیدا کیا ہے لیکن یہ ہم پر بھی فٹ ہے۔

واسالھم عن القریة التی کانت حاضرة البحر اذ یعدون فی السبت اذ تأتیھم حیتانھم یوم سبتھم شرعًا و یوم لا یسبتون لا تأتھیم کذٰلک نبلوھم بما کانوا یفسقونO ”اور ان سے سمندر کے پاس بستی کا حال پوچھو ، جب ہفتے میں زیادتی کی۔ جب انکی چھٹی کے دن انکے پاس مچھلیاں آکر راستہ بناگئیں اور ہفتہ نہ ہوتا تو نہ آتی تھیں اسی طرح ہم نے انکو آزمایا جس میں نافرمانی کرتے تھے ”۔

سورہ اعراف کی اس آیت163میں یہود کا ذکر ہے لیکن اگر کراچی، جہلم اورسوات کسی بھی شہر میں چھٹی کے دن لوگ تفریح کیلئے آتے ہوں اور مچھلیوں کا شکار ممنوع ہو تو لوگ خوراک ڈالیں گے، ان کی نسل بھی بڑھے گی ۔ پھر فرمایا کہ

واذقالت امة منھم لم تعظون قومًا اللہ مھلکم او معذبھم عذابًا شدیدًا قالوا معذرةً الی ربکم و لعلھم یتقونO ” اور پھر کچھ نے ان میں سے کہا کہ تم کیوں اس قوم کو نصیحت کرتے ہو ، جن کو اللہ نے ہلاک کرنا ہے یا عذاب دے گا سخت ترین عذاب؟۔ انہوں کہا کہ تمہارے رب سے معذرت کیلئے یا شاید کہ وہ پرہیزگار بن جائیں”۔

نافرمان اور اچھے لوگوں کا مکالمہ بتایا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اسلام نے نابالغ بچیوں کے نکاح کی کوئی تبلیغ نہیں کی لیکن اگر اجازت دیتا تو انسانی حقوق کی وہ پامالی تو نہ تھی جوسود کو جواز بخشنے والا مفتی تقی عثمانی اپنے فتاویٰ میںمسلط کرتا رہاہے؟۔ اگر مچھلیوں کا شکار ایک دن معاشرے کی بھلائی کیلئے ممنوع ہوگا تو کیا بچیوں کی شادی پر خاص عمر تک پابندی میں حرج ہے؟۔ بلوچ ان عورتوں کو جن کی عمر زیادہ ہوجاتی ہے کلماٹ کہتے ہیں اور جو مولوی اپنی کلماٹ بہن بیٹیوں کی شادی نہیں کراتے ہیں مگر دوسروں کی نوعمر بچیوں سے غصہ میں شادی کرتے ہیں؟۔

قرآن نے مشرک اہل کتاب سے شادی کی اجازت دی اور مشرک قریش سے منع کردیا اسلئے کہ قریش نے مسلمان ہونا تھا اور وقت سے پہلے خلط ملط ہوتے تو بگاڑ درست نہیں ہوتا۔ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ عیسائی مشرک ہیں، نکاح جائز نہیں۔ حضرت عمر نے کہا کہ طلاق کو نہیں سمجھتا خلافت کیلئے نااہل ہے اور جاویدغامدی کہتا ہے کہ ”علماء عبداللہ بن عمر اور ابن عباس اور ابن مسعود عالم تھے”۔ تاکہ ان کی طرف منسوب بڑی غلطی سے امت کو گمراہ کرے؟۔ مصحف ابن مسعود سے سورہ فاتحہ اور آخری دو سورتیں موذتین پھٹ گئی تھیں تو کیا اس سے وہ منکر بن گئے؟۔ غامدی قرآن کیلئے بہت ادھارکھائے بیٹھاہے۔

فلما نسوا ماذکروا بہ انجینا الذین ینھون عن السوء و اخذنا الذین ظلموا بعذابٍ بئیسٍ بما کانوا یفسقونO ” جب انہوں نے بھلا دیا جو نصیحت کی گئی تو ہم نے ان کو نجات دی جو برائی سے روکتے تھے اور ظلم والوں کو مایوسی کے عذاب سے پکڑا ،بسبب نافرمانی کرتے تھے”۔

اگر انہوں نے سمندر یا دریا کاعلاقہ آپس میں بانٹ دیا ہو تو ایک کے ہاں خوشحالی اور دوسرے بدحالی میں ہوں گے۔

فلما عتو عن مانھو عنہ قلنا لھم قردةً خاسئینO ” پس جب وہ حد سے بڑھ گئے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا تو ہم نے انہیں کہا کہ بن جاؤ ذلیل بندر”۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے اسی طرح جب کچھ لوگ اپنی حد وں سے بڑھ کر ظلم میں ناکام ہوتے ہیں تو زندگی میں بندروں کی طرح ذلیل ہوکر گھومتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کو حقیقی بندر بنادیا ہو لیکن انسانی شکل میں بندروں کی طرح ذلیل ہونا کم نہیں۔

واذ تاذن ربک لیبعثن علیھم الی یوم الیقامیة من یسومھم سوء العذاب ان ربک لسریع العقاب وانہ لغفور رحیمO ”اور جب تیرے رب نے منصوبہ دیا ان پر قیامت تک جو ان کو نشانہ بنائے گا بدعذاب کا ، بیشک اللہ جلدی انجام کو پہنچانے والا ہے اور بیشک وہ غفور رحیم ہے”۔

اس سے لوگوں نے یہود مراد لئے لیکن یہود نہیں ہردور میں انقلابی مصلح کا مقابلہ کرنے والے مراد ہیں۔چنانچہ فرمایا کہ

وقطعناھم فی الارض اممًا منھم الصالحون و منھم دون ذٰلک و بلوناھم بالحسنات والسیئات لعھم یرجعونO ” اور ہم نے انہیں زمین کے مختلف جگہوں پر مختلف قوموں میں متفرق پیدا کیا۔ ان میں نیک بھی ہیں اور انکے علاوہ بھی ۔ہم نے انہیں اچھی نعمتوں سے آزمایا اور مصیبت میں بھی ڈالا کہ ہوسکتا کہ وہ رجوع کرلیں”۔

یہ یہود کی بات نہیں سبھی اچھے اور برے لوگ مراد ہیں۔ انقلاب سے اچھائی چھا جاتی ہے اور برے انجام کو پہنچتے ہیں یا سرنڈر بن جاتے ہیں۔ ام المؤمنین ام حبیبہ ابوسفیان و ہندہ کی بیٹی نے مسلمان شوہر کیساتھ حبشہ ہجرت کی۔ شوہر مرتد عیسائی ہوگیا، پردیس حبشہ میں چھوٹی بچیوں کی ماں پر کیا گزری تھی؟۔ ماں باپ دشمن ، سسرالی بھی نہ رہے ۔ پھرنبیۖ نے رشتہ لیا۔ بدر میں ماں ہندہ کا باپ اور چچا قتل ہوگئے اور احد میں ماں نے رسول اللہ ۖ کے محبوب چچا امیر حمزہ کے کلیجے کو چبا ڈالا۔ گستاخ دلے ذاکروں نے اسلام کے نام پر روٹیاں کھائی ہیں مگر قربانی نہیں دیکھی کہ کیا ہوتی ہے؟۔ یہی وجہ تھی کہ اللہ نے والدین اور بھائی معاویہ کو اسلام کیساتھ عزت بھی دیدی۔

فخلف من بعدھم خلف ورثوالکتاب یأخذون عرض ھٰذا الادنٰی ویقولون سیغفرلنا وان یأتیھم عرض مثلہ یاخذوہ الم یؤخذ علیھم میثاق الکتاب ان لا یقولوا علی اللہ الا الحق و درسوا مافیہ و الدارالاخرة خیر للذین یتقون افلا تعقلونO
”پھر انکے بعد جانشین ہوئے جو کتاب کے وارث بنے اور دنیا سے معمولی حصہ لیا اور کہتے تھے کہ ہمیں بخش دیا جائے گا۔ ان کو اس طرح کااور معاملہ پیش آئے تو وہ بھی لے لیںگے۔ کیا ہم نے کتاب میں یہ عہد نہیں لیا ہے کہ تم اللہ پر نہیں بولو گے مگر حق بات اور جو اس میں اسی کو درس دیںاور آخرت کا گھر تقویٰ والوں کیلئے بہتر ہے ، کیا تم نہیں سمجھتے ہو”۔

آیت میں یزید، مروان بن حکم اور عبدالملک بن مروان کی تصویر دیکھو اور معاویہ بن یزید کی بھی تصویر دیکھو۔ عبدالملک کے بیٹوں کی تصویر دیکھو۔ قبضہ مافیا کو اگر ابو جہل یا فرعون کے عقائد اور آسائش مل جاتیں تو بھی ہڑپ کرلیتے۔ انہوں نے سوچا کہ ہند وابوسفیان کی طرح ان کو بھی معافی ملے جائے گی اور یہودو نصاریٰ کے اس اعتقاد کو قرآن سے کوئی تائید حاصل نہیں ہے۔ بلکہ مسلمان ہوکر یہ قرآن سے انحراف اور اللہ کی طرف ناحق چیز کی نسبت ہے۔ جاویداحمد غامدی ان کے عشق میں گرفتار ہونے کے بعد امریکہ ، یورپ ، روس اورہندوستان کی بڑی حدتک قوموں کو یافث کی اولاد قرار دیکر اشتراک اقتدار کا ادھار کھائے بیٹھا ہے۔ ہمارا کام ماضی ، حال اور مستقبل کا صحیح نقشہ عوام کو قرآن سے دکھانا ہے تاکہ لوگ رہنمائی لیں۔

والذین یمسکون بالکتاب واقاموا الصلاة انا لانضیع اجر المصلحینO ” اور جنہوں نے کتاب تھام لی اور نماز قائم کی تو ہم مصلح لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے”۔

آیت واضح ہے کہ انبیاء کے بعد قیامت تک مصلح لوگوں کو اللہ تعالیٰ کھڑا کرے گا جو غلو کرنے والوں کے فساد سے دین کو بچانے میں کردار ادا کرتے رہیں گے جیسے مجدد کا تصور ہے۔

سورہ اعراف163سے170تک دیکھیں۔ آگے عہد الست پھر بعلم بن باعوراء کاذکر ہے۔ مفتی تقی عثمانی اور جاوید غامدی قرآن کا درست ترجمہ سمجھنے کے بعد بتاتے تو عزت بھی پاسکتے ہیں۔ابوطالب کو کافر بنادیا۔ علی، حسن اور حسین کیخلاف بکواس لیکن اللہ کی کتاب میں تو تحریف نہ کرو۔ مسلم امہ کو سود خوری اور مایوسی پر نہ لگاؤ۔ میرے اجداد رسول اللہ ۖ اور علی کا خون مجھ میں دوڑ رہاہے ۔ یہ وقت بدل جائے گا۔ انشاء اللہ
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

سورہ قریش میں سردی گرمی کا سفر الفت ۔ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے بھوک میں کھلایا اور خوف سے امن دیا
قرآن اورخلق خداکی تبدیلی
قرآن کیخلاف کیا سازش کون کررہاہے؟