پوسٹ تلاش کریں

مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی کو جواب نمبر1

مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی کو جواب نمبر1 اخبار: نوشتہ دیوار

الرٰکتاب احکمت آیاتہ

کتاب جس کی آیات کو فیصلہ کن استحکام دیاپھر

ثم فصلت من لدن حکیمٍٍ خبیرٍ

انکی تفصیل ہے حکیم خبیر کی طرف سے

عورت کو اذیت سے تحفظ دینے کا قرآن میں نصاب: جو یہود کی پیروی میں مذہبی طبقات نے سبوتاژ کردیا

البقرہ:222،223(عورت کی اذیت سے توبہ)
ویسالونک عن المحیض قل ھو اذًی فاعتزلوا النساء فی المحیض و لا تقربوھن حتی یطھرن……

ترجمہ:” اور آپ سے حیض کا پوچھتے ہیں کہہ دو کہ وہ اذیت ہے پس حیض میں عورتوں سے علیحدہ رہواور ان سے مقاربت نہ کرو یہاں کہ وہ پاک ہوں پھر جب وہ پاک ہوں تو انکے پاس آؤ جیسے اللہ نے تمہیں حکم دیا بیشک اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور پاکبازوںکو پسند کرتا ہے”۔

Oنساء کم حرث لکم…تمہاری عورتیں تمہارا اثاثہ ہیں…

یہ طلاق کے مسائل کا رکوع ہے۔ نکتہ آغاز عورت کو اذیت سے نجات اوراذیت سے توبہ ہے۔اذی کا معنی عربی لغت میں گند نہیں مگرغلط ترجمہ کیا گیا۔حرث کا معنی اثاثہ بھی ہے۔ کھیتی سے زیادہ حقوق تو جانور کے ہیں اور بحث ہے کہ عورت کی پچھاڑی میں جماع جائز یا حرام ہے اور اذیت بھلادی۔ ایرانی نژاد امریکی خاتوں نے پچھاڑی میں جماع کی وجہ سے حق مہر سے زیادہ رقم دیکر خلع لینے کاقصہ لکھ دیا۔

البقرہ:224،225(صلح میں رکاوٹ کا خاتمہ)
ولا تجعلوا اللہ عرضة لایمانکم ان تبروا و تتقوا و تصلحوا بین الناس…

” اور اللہ کو نہ بناؤ اپنے یمین کیلئے ڈھال کہ تم نیکی کرو اور تقویٰ کرو اور لوگوں میںصلح کراؤ…”۔

لا یؤاخکم بالغو فی ایمانکم و لکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکم…O

اللہ تمہیں نہیں پکڑتا ہے لغو یمینوں سے مگر وہ پکڑتا ہے جو تمہارے دلوں نے کمایا ہے اور اللہ مغفرت والا رحم والا ہے۔

یہ آیات طلاق کا مقدمہ ہیں ۔یہ واضح ہے کہ اللہ صلح میں رکاوٹ نہیں۔ یہود نے طلاق رجعی، بتہ مغلظ، بائن، صریح اور کنایہ کی بہت اقسام گھڑیں اور ان پر اختلافات بنائے۔ یہ واضح کیا کہ لغویات پر اللہ نہیں پکڑتا مگر دل کے گناہ پر پکڑتا ہے یہ البقرہ228میں بھی واضح ہے۔ ابلیس دو باتوں پر سب سے زیادہ خوش ہوتاہے ایک میاں بیوی کی طلاق اور دوسرے علم سے دوری پر۔ طلاق سے فحاشی اور علم سے دوری پر گمراہی پھیلتی ہے۔ اللہ نے ان آیات میں شیطان کے منہ پر بڑا طمانچہ مارا ہے۔

البقرہ:226،227(ناراضگی کی عدت4مہینے)

o للذین یؤلون من نسائہم تربص اربعة اشھرٍ فان فآء وا فان اللہ غفور رحیم

Oو ان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیم

” اپنی عورتوں سے ناراض لوگوں کیلئے4ماہ ہیں اگر آپس میں مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے اور اگر طلاق کا عزم تھا توبیشک اللہ سننے جاننے والا ہے”۔

شوہر ناراض ہو تو عدت4ماہ ہے۔ اگر طلاق کا عز م تھا تو یہ دل کا گناہ ہے جس پر اللہ کی پکڑ ہے۔ اظہارطلاق پر عدت3ماہ ہے ۔ایک ماہ اضافی عدت دل کا گناہ ہے۔ نبی ۖ ازواج سے ناراض ہوئے۔ ایک ماہ بعد رجوع فرمایا۔ اللہ نے فرمایا کہ ازواج کو علیحدگی کا اختیار دو۔ وہ راضی تو رجوع ہوگا۔ قرآنی آیات واضح ہیں اور سنت ان کا عملی نمونہ ہے۔ طلاق بیوی سے علیحدگی کو بھی کہتے ہیں اور یمین کا بھی علیحدگی وطلاق پر اطلاق ہوتاہے۔عدت عورت کی اذیت کو ختم کرنے کیلئے رکھی گئی ہے۔ اللہ نے عورت کی اذیت کا خاتمہ کیا۔ فقہاء نے عورت کی اذیت کو نظر انداز کیا تو تفسیر غلط کردی ہے۔

البقرہ:228کافیصلہ کن حکم:(عدت میں شوہر صلح کی شرط پر رجوع کا زیادہ حقدار)

والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثة قروئ…
وبولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا و لھن مثل الذی علیھن بالمعروف…

ترجمہ:” اور طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو 3ادوار تک انتظار میں رکھیں اور ان کیلئے حلال نہیں ہے کہ وہ چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں رکھا ہے اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں اور ان کے شوہر اس میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اصلاح کی شرط پر اور ان کیلئے وہی حقوق ہیں جو ان پر معروف طریقے سے شوہروں کے ہیںاور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے”۔(البقرہ:آیت:228)

اگر24گھنٹے میںصلح کی بنیاد پر رجوع کی اجازت ہوتی تو کتنے مسائل حل ہوتے؟۔جبکہ پوری عدت میں صلح کی شرط پر رجوع کا شوہر زیادہ حقدار ہے۔

البقرہ:229(1:معروف کی شرط پر رجوع ،2:طے ہوکہ عورت رجوع نہیں چاہتی )

الطلاق مرتٰن…
خفتم الا یقیما حدوداللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ تلک حدوداللہ فلا تعتدوھا

ترجمہ:” طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ نا ہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ ان سے لو جو کچھ تم نے انکو دیا اس میں سے کوئی بھی چیز۔ مگر یہ کہ جب دونوں کو خوف ہو کہ اسکے بغیر دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے اور جو تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے تو پھر دونوں پر کوئی حرج نہیں عورت کی طرف اس چیز کو فدیہ کرنے میں۔ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو۔ جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں”۔

رجوع معروف یعنی صلح کی شرط پر یا تیسری طلاق پھر اجتماعی فیصلہ کہ عورت فدیہ دے۔ یہ حلالہ سے بچنے کیلئے کتنی زبردست حدود کی پیش بندی ہے؟۔
ــــــــــ

228گزشتہ6آیات سے پیوستہ اور

222میںحیض و طہر کا ذکر ہے اورعورت کی عدت کے3ادوار کا تعلق انتظار سے ہے اور انتظار طہر میں ہوتا ہے نہ کہ حیض میں۔
223عورتیں اثاثہ ہیں ایک دوسرے پر برابر کے حقوق ہیں۔ مردوں کا عورت پر ایک درجہ ہے ظاہر ہے عورت کو حیض آتا ہے۔
224اللہ کی طرف سے طلاق کے بعد صلح پر کوئی پابندی نہیں۔ عورت صلح پر راضی ہو تو عدت میں شوہر ہی رجوع کا زیادہ حقدار۔
225اللہ الفاظ پر نہیں پکڑتا۔طلاق مغلظ، رجعی اور بائن کے جاہل یہودیانہ تصور کا مکمل خاتمہ مگر عدت بڑھانا دل کا گناہ ہے۔
226ایلاء کی عدت4ماہ اور طلاق کے اظہار کی3ماہ ہے۔
227اگر ناراضگی میں نیت طلاق کی تھی تو ایک ماہ کی عدت پر خدا کی پکڑ ہوگی۔ یمین اور ایلاء طلاق کے معنی میں یہاں ہیں۔

بعد کی4آیات:10تلک عشرة کاملہ

تذکیر:آیت228البقرہ میںہے کہ عدت میں صلح کی شرط پر عورت کا شوہررجوع کا زیادہ حقدار ہے ۔یہ ٹھوس اٹل قانون ہے:
229میں معطل نہیں بلکہ مزید واضح ہے۔حمل نہیں عدت کے3ادوار میں2مرتبہ طلاق کے بعد آخری میں بھی معروف کی شرط پر رجوع کیا تو ٹھیک اور تیسری طلاق دی تو پھر مزیدتفصیل ہے اور فدیہ کی حدتک پہنچنے سے معلوم ہو کہ عورت رجوع نہیں چاہتی توپھر
230کی طلاق کے بعد حلال نہیں تاکہ آزادانہ نکاح میں پہلا شوہر عورت کے دوسرے شوہر سے نکاح میں رکاوٹ نہ بن سکے۔
231 معروف رجوع تکمیل عدت پر جائز مگر ضررکیلئے نہیں۔
232میاں بیوی آپس میں راضی ہوتو مدتیںگزریںمگر رکاوٹ بننا جائز نہیں، اسی میں معاشرے کازیادہ تزکیہ اورطہارت ہے۔
ــــــــــ

البقرہ:230(طے ہو کہ عورت رجوع نہیں چاہتی)

فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتٰی تنکح زوجًا غیرہ…

”پھر اگر اسے طلاق دی تو اس کے بعد وہ اس کیلئے حلال نہیں ہوگی یہاں تک وہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے…”۔

عدی نے قرآن میں تیسری طلاق کا پوچھا۔نبی ۖ نے فرمایا: تسریح باحسان بقرہ229تیسری ہے۔ (شرح بخاری :مولانا سلیم اللہ خان اور علامہ غلام رسول سعیدی )۔نبی ۖ نے ابن عمر کے واقعہ میں غضبناک ہوکر فرمایا کہ3طلاق عدت کے3ادوار میں ہیں۔ کتاب التفسیر سورہ طلاق، کتاب الاحکام، کتاب الطلاق اور کتاب العدت (صحیح بخاری) لیکن

من اجاز الطلاق الثلاث کے عنوان سے بخاری نے الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان اور حلالہ کیلئے غلط روایت نقل کرکے قرآن و حدیث اور عزتوں کو نقصان پہنچانے میں بڑا کردار ادا کیا۔

البقرہ:230طلاقِ حلالہ کا تعلق آیت229کے فدیہ سے ہے ۔( نور الانوار : ملاجیون) عبداللہ ابن عباس نے یہی فرمایا(زادالمعاد: ابن قیم)۔ قرآن کو بوٹی بوٹی کرنا معنوی تحریف ہے۔ اعتراف علامہ انورشاہ کشمیری نے فیض الباری شرح بخاری میں کیا ہے مگر بے شرم بے غیرت باز نہیں آتے۔

البقرہ:231(اگرعورت رجوع پر راضی ہوتوپھر)

واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف ولا تمسکوھن ضرارًا لتعتدوا ومن یفعل ذٰلک فقد ظلم نسفہ ولا تتخذوا اٰیات اللہ ھزوًا واذکروا نعمت اللہ علیکم و اما انزل علیکم من الکتاب والحکمة یعظکم بہ واتقوا اللہ واعلموا ان اللہ بکل شی ئٍ علیم

”اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دی پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو معروف طریقے سے روک لو یا معروف طریقے سے چھوڑ دو۔اور ان کو ضرر پہنچانے کیلئے مت روکو۔ جو ایسا کرے گا تو اس نے خود پر ظلم کیا۔ اور اللہ کی آیات کو مذاق مت بناؤ۔ اور اس نعمت (بیوی)کو یاد کرو جو اللہ نے تم پر کی ہے۔اور جو اللہ نے تم پر کتاب میںسے(رجوع کی آیات) نازل کی ہیں اور حکمت کو جس کے ذریعے اللہ تمہیں وعظ کرتا ہے اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ وہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے”۔

اللہ کو پتہ تھا کہ فقہاء مسئلہ نکالیںگے کہ اگر آدھے سے زیادہ بچہ نکل گیا تو رجوع نہیں ہوسکتا اسلئے عدت کی تکمیل کے باوجوداللہ نے رجوع کو واضح کیا۔ اور عورت راضی ہو توبھی شوہر کو اسلئے رجوع نہیں کرنا چاہیے کہ اس کو اذیت دے یہ بھی واضح کردیا۔

البقرہ:232(اگر عورت رجوع پر راضی ہو توپھر)

واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازاجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف ذٰلک یوعظ بہ من کان منکم یؤمن باللہ والیوم الاٰخر ذٰلک ازکٰی لکم واطھر واللہ یعلم وانتم لا تعلمون

”اور جب تم عورتوں کو طلاق دو پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو اپنے خاندوں سے نکاح سے مت روکو جب وہ آپس میں معروف طریقے سے راضی ہوں ۔یہ نصیحت تم لوگوں میں سے اس کو کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔یہ تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ اور زیادہ طہارت ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ”۔

2 رکوع کے بعد تیسرے رکوع کی یہ آیت فیصلہ کن خلاصہ ہے۔ سورہ طلاق میں یہی ہے۔ ابوداؤد کی روایت میں حضرت رکانہ کے والدین کی تین طلاق اور عدت کے بعد سورہ الطلاق کے مطابق رسول ۖ کی طرف سے رجوع کی وضاحت بہت بڑا انقلاب تھا لیکن حکمران طبقہ کو بخاری کی غلطی سوٹ کرتی تھی مگر درست حدیث بالکل نہیں۔یاد رہے کہ البقرہ228میں عدت کے اندر شوہر کو رجوع کا زیادہ حقدار قرار دیا اورپھر عدت کے بعد رجوع کا جواز دیا اسلئے یہ کوئی تضاد نہیں ہے۔
ــــــــــ

مسئلہ طلاق پر تاریخی دستاویز

محمود بن لبید (متوفی97ھ) نے کہا کہ کسی نے خبردی کہ فلاں نے بیوی کو3طلاق دی تو نبیۖ نے غضبناک ہوکر فرمایا: تمہارے درمیان میں ہوں، تم اللہ کی کتاب سے کھیلتے ہو۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟۔ ( نسائی)

طلاق عبداللہ بن عمر نے دی ، قتل کی پیشکش حضرت عمر نے کی لیکن شخصیات کے نام حدیث میں کیوں چھپائے گئے؟۔

حضرت عائشہ58ھ میںشعرکہتیں کہ لبید41ھ نے اپنے دور کی شکایت کی کہ اگر ہمارا دور دیکھتے تو کیا کہتے؟۔ مولانا یوسف لدھیانوی شہیدنے ہر راوی کی یہ شکایت لکھتے ہوئے آخر میں لکھا:”اللہ سب پر رحم فرمائے اگر وہ ہمارا دور دیکھتے تو کیا کہتے؟”۔ (عصر حاضر حدیث نبویۖ کے آئینہ میں)

مولانا فضل الرحمن بینک کی زکوٰة کو شراب کی بوتل پر زم زم کا لیبل کہتا تھا ۔بینک کو اسلامی کہنے کیخلاف متفقہ فتویٰ تھا۔ مولانا یوسف لدھیانوی نے عصر حاضر پرجن احادیث کو منطبق کیا مفتی تقی عثمانی نے”تقلید کی شرعی حیثیت میں” ائمہ مجتہدین کے بعد بخاری و مسلم کے دور پر فٹ کیا ہے۔

مولانا اشرف علی تھانوی کو انسان اور مولانا احمد علی لاہوری نے خود کوہرن کی شکل میں نظر آنے پر اللہ کا شکر ادا کیا ورنہ تو کتے، بندر، گدھے اور خنزر کی شکل والے بھی دیکھے گئے”۔

ولقد علمتم الذین اعتدوا منکم فی السبت فقلنا لھم کونو قردةًخاسئینO

اور تحقیق تمہیں وہ لوگ بھی معلوم ہیں جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دن میں زیادتی کی تھی اور پھر ہم نے ان سے کہا تھا کہ تم ذلیل بندر بن جاؤ”۔(البقرہ65)

ہفتہ کو مچھلی کا ممنوعہ شکار اور اضافی سود کیساتھ بینک کو اسلامی قرار دینے میں فرق ؟۔ مفتی محمد شفیع دیوبندی ،مفتی رفیع عثمانی اور مفتی تقی اور اسکے بیٹے

وقالت الیھود و النصاریٰ نخن ابناء اللہ واحباوہ تک پہنچ گئے؟۔

معاوضہ لیکر بینک کا نکاح اور حرام کو حلال کرنے کی فیکٹری لگادی۔ سب کہو سبحان اللہ!

گورنر دمشق ضحاک نے کہا کہ حج و عمرے کا ایک احرام والا جاہل ہے۔ سعد بن ابی وقاص نے کہا کہ یہ نہ کہو ، نبیۖ کو میں نے پہنتے دیکھا۔ سعد بن ابی وقاص عزلت نشینی میں55ھ کو وفات پاگئے ۔ عمران بن حصین کہتے کہ قرآن میں اللہ نے حکم نازل کیا اور اکٹھا احرام نبیۖ کو باندھتے دیکھا، نہ آیت منسوخ ہوئی اور نہ نبیۖ نے روکا۔ جس نے منع کیا، رائے سے منع کیا اور پہلے فرشتے گلیوں میں ہم سے مصافحہ کرتے اور میری زندگی میں مجھ سے روایت نہیں کرنا۔ (صحیح مسلم)52ھ کو بصرہ میں فوت ہو گئے۔ حضرت عثمان نے پابندی لگائی تو حضرت علینے اعلانیہ دونوںاحرام باندھے۔ (بخاری)

اس دور میں پرنٹ اور سوشل میڈیا بھی نہیں تھا اور مواصلاتی نظام بھی نہیں تھا۔ بصرہ، کوفہ اور مدینہ کی مسافت عیاں ہے۔

حضرت عمر و عثمان دور میں فتوحات ہوئیں تو نئے مسلمانوں کو مسائل سکھانا ضروری تھا۔قاضی شریح جیسے پڑھے لکھے مبلغ، قاضی ، فقیہ ،تاریخ دان اور سیرت نگار بن گئے۔ یہود ی عبداللہ بن سبا کی طرح کئی افراد نے بھیس بدل کر اپنا کام دکھادیا۔

مروان بن حکم ، عبدالملک بن مروان اور اسکے بیٹے3طلاق سے رجوع کو اہل بیت کی حضرت عمر سے دشمنی قرار دیتے تھے۔ ابوہریرہ وفات59ھ نے کہا کہ اگر کچھ احادیث کو بتایا تویہ گلہ کاٹ دیا جائے گا۔ (صحیح بخاری) عمر بن عبدالعزیز نے99ھ سے101ھ تک ممنوعہ احادیث کی آزادی دی۔ پہلے انتہائی خطرناک حالات تھے۔ان کو زہر سے شہید کیاتو یزید ثانی اور ہشام بن عبدالملک نے پھر پرانی بدترین روش کو بحال کردیا۔

حضرت علی کے شاگرد حسن بصریپیدائش21ھ مدینہ اور وفات110ھ جبکہ68ھ میںا بن عباس ،74ھ میںا بن عمر کاانتقال ہوا۔ کتنے صحابہ سے ملاقات رہی؟۔ انس بن مالک نے93ھ بصرہ میں وفات پائی۔ حسن بصری نے کہا کہ ا بن عمر نے3طلاق دی۔ یہ حدیث بنی امیہ کا اقتدار غرق کردیتی اسلئے کہ انکے پاس اہل بیت کے خلاف یہی ہتھیار تھا جو جاہلوں کو بدظن، مذہبی طبقے کو حلالہ کی لعنت سے خوش اور قرآن وسنت کی افادیت کو ختم کرتا اور حلالہ کی لعنت سے عوام کوبے غیرت بناتا۔

جبری کلمہ کفر معاف ہے اگر ایمان پر دل مطمئن ہو۔ حسن بصری پر دباؤ پڑا ؟تو کہاکہ ”مجھے20سال پہلے ایک شخص نے کہا تھا کہ عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی تھی اور پھر کوئی دوسرا شخص20سالوں تک نہیں ملا جو اس کی تردید کرتا۔20سال بعد ایک اور زیادہ مستند شخص ملا جس نے کہا کہ عبداللہ نے ایک طلاق دی تھی ۔ (صحیح مسلم)پھر نہلے پہ دہلا کرتے ہوئے کہا کہ ”حرام کے لفظ سے جو نیت کی جائے۔ بعض علماء نے اجتہاد کیا ہے کہ اگر کوئی بیوی سے حرام کہے تو یہ تیسری طلاق ہے اور یہ کھانے پینے کی طرح نہیں کہ کفارہ سے ازالہ ہوبلکہ اس کیلئے حلالہ کرنا پڑے گا”۔ (صحیح بخاری)مقابلے پر بخاری نے عبداللہ بن عباس کے قول کو بھی نقل کیا کہ” حرام کے لفظ سے طلاق ، حلف اور کچھ نہیں اور نہ ہی اس کا کفارہ ہے”۔

قرآن کی سورہ تحریم سے امت کی نظریں پھر گئیں اوراقوال وروایات اور سچی جھوٹی احادیث بڑوں کے زیر بحث آگئیں۔

فقیہ کوفہ سعید بن جبیرنے کہا: ”قرآن میں حلالہ کیلئے جماع نہیں نکاح کا حکم ہے ” تو حجاج بن یوسف نے95ھ میں شہید کیا۔ فقیہ مدینہ سعید بن مسیب وفات94ھ نے کہا کہ چوتھی بیوی کی عدتِ طلاق میں نکاح جائز نہیں تو بدترین تشدد کردیا۔

امام ابوحنیفہ80ھ ،سفیان ثوری80، امام مالک93ھ کو پیدا ہوئے۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا:”صحیح حدیث میرا مذہب ہے ۔البقرہ230میں طلاق وحلالہ آیت229میں فدیہ سے ہے، عدت میں نکاح باقی اور محمود بن لبید کی حدیث صحیح ہے۔ رجوع کی گنجائش، عورت راضی نہ ہو تو طلاق ہے ۔ عمر، علی ،ا بن عباس سے یہی ثابت تھا۔ابن عباس اور انکے شاگردوں میں تضاد نہیں تھا۔ عورت راضی ہو تورجوع اور راضی نہ ہوتوپھر حرام قرار دیتے۔ سفیان ثوریپر تشدد نہیں ہوا۔غلط تفسیر، اقوال اور ابوحنیفہ کی مخالفت مشغلہ۔150ھ امام ابوحنیفہ زہر سے شہید اور امام شافعی پیدا ہوئے۔ حسن شیبانی ابوحنیفہ کے شاگرد اور شافعی کے استاذ تھے۔ احمد بن حنبل امام شافعی کے شاگرد تھے۔ ابن ابی شیبہ امام ابوحنیفہ کے شاگرد عبداللہ بن مبارک کے شاگرد تھے۔ابن ابی شیبہ نے ابوحنیفہ کیخلاف125احادیث کودرج کیا ۔بخاری، مسلم ، ابوداؤد اور نسائی ، ابن ماجہ ابن ابی شیبہ اور احمد بن حنبل کے شاگرد تھے۔ امام مالک پر تشدد ہواتھا ۔ ذو معنی موطا امام سے حکمرانوں کو خوش کیا۔ایک معنی پیروی اور دوسرا کچلنا اور وطی ہے۔ہشام نے مالکی فقہ کانفاذ چاہا لیکن امام مالک نے انکار کیا۔ امام ابوحنیفہ بنوامیہ کے آخر میں مکہ مکرمہ کے اندر گوشہ نشین ہوگئے۔133ھ میں بنوعباس نے بنوامیہ کا تختہ اُلٹ دیا۔حکمرانوں کی خوشنودی کیلئے غلط احادیث وفقہی مسائل گھڑے گئے۔ دنیا ایبسٹین جزیرہ سے نہیں اسلام سے خوف زدہ ہے۔حسن بصری نے نابالغ بچیوں سے نکاح کو جائز قرار دیا۔ امام اوزاعی نے نکاح سے پہلے شرمگاہ کے سوا عورت کا پورا جسم دیکھنا جائز قرار دیا ۔علامہ ابن حزم نے300سال بعد قرطبہ میں اسکے نقش پر عورت کی شرمگاہ تک کو بھی دیکھنا جائز قرار دیا۔ (کشف الباری شرح بخاری : مولانا سلیم اللہ خان)

ہشام بن عروہ حضرت عائشہ کے بعد پیداہوا۔ بنوعباس کا فیض حاصل کرنے عراق پہنچا تواپنا اعتمادکھودیا ۔اماں عائشہ کا6سال میں نکاح اور9سال میں دخول کی روایت140ھ کے بعد گھڑی۔ قاضی ابویوسف نے خلیفہ سے رقم لیکر والد کی لونڈی جائز کرنے کا حیلہ تراشا۔ امام ابوحنیفہ نے من گھڑت احادیث کی مخالفت کی ورنہ آج احادیث صحیحہ اور قرآن میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا۔ ابن خلدون نے مقدمہ میں لکھا: ”ابوحنیفہ17احادیث مانتے تھے”۔ عباسی خلفاء معتزلہ تھے ۔ دھوکہ دہی سے مالکی مسلک اور من گھڑت فقہ سے اقتدار کو ایبسٹین کا جزیرہ بنا دیا تھا۔حیلہ سازوں کی سرپرستی تھی مگر امام ابوحنیفہ اپنی اصل شکل میں قابل قبول نہیں تھے۔ مامون نے امام رضا کو داماد اور جانشین زبردستی بنایا اور ایک ہی مزارمیں ہیں۔مامون کے بعد المعتصم عباسی خلیفہ نے امام احمد بن حنبل پر بہت تشدد کیا۔پھر الواثق نے امام احمد بن حنبل پر کڑی نظررکھی۔ پھر متوکل عباسی نے معتزلہ کا خاتمہ کرکے اہل سنت کی ترویج کی اور امام شافعی کا مسلک سرکاری طور پر رائج کردیا تھا۔ بخاری نے عبداللہ بن عمر کاواقعہ اپنی مختلف کتب میں لکھنے کے باوجود من اجازالطلاق الثلاث باب میں جس دجل سے کام لیا تو انتہائی غلط کیا ہے۔ بگڑے ہوئے حنفی مسلک کے لوگوں نے سارے بخاری میں صرف حلالہ کی شہوت کیلئے اسی باب کو قبول کیا جو حنفی کے معیار سے میل نہیں کھاتا ہے مگر گل چھرے اڑانے اور اللے تللے میں زین للناس حب الشہوات من النساء کا مظہر ہے۔

یوم یرون الملائکة لا بشرٰی یومئذٍ للمجرمین و یقولون حجرًا محجورًاO

جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے ، اس دن مجرموں کیلئے خوشخبری نہ ہوگی اور کہیں گے کہ ہماری عقل پر پردہ تھا۔

وقدمنا الی ما عملوا من عملٍ فجعلناہ ھبائً منثورًاO

اور ہم ٹھوکر ماریں گے جو عمل انہوں کیا اس کو اڑتی ہوئی دھول بنادینگے۔

اصحاب الجنة یومئذٍ خیرمستقرًا واحسن مقیلًاO

جنت والے اس دن اچھے ٹھکانہ میں اور اچھے مقالے پیش کرینگے۔

و یوم تشقق السماء بالغمام و نزل الملائکة تنزیلًاO

اور اس دن آسمان بادل سے پھٹے گااور ملائکہ اترینگے۔

الملک یوم ن الحق للرحمن و کان یومًا علی الکافرین عسیرًاO

اس دن ملک حق کیلئے رحمن کا ہوگا اور وہ دن کافروں پر بڑا مشکل ہوگا۔

ویوم یعض الظالم علی یدیہ یقول یا لیتنی اتخذت مع الرسول سبیلًاO

اس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا کہے گا کہ اے کاش ! میں رسول کیساتھ راستہ پکڑتا۔

یا ویلتٰی لیتنی لم اتخذ فلانًا خلیلًاO

ہائے میری شامت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔

لقد اضلنی عن الذکر بعد اذجاء نی وکان الشیطان للانسان خذولًاO

بیشک اس نے مجھے قرآن سے گمراہ کیا اسکے میرے پاس آنے کے بعد بیشک شیطان انسان کو رسوا کرتا ہے۔

وقال الرسول یا رب ان قومی اتخذوا ھٰذا القراٰن مھجورًاO

اور رسول کہیں گے کہ اے میرے ربّ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔

وکذلک جعلنا لکل نبیٍ عدوًا من المجرمین وکفٰی بربک ھادیًا و نصیرًاO

اور ہم نے اسی طرح ہر نبی کیلئے مجرموں میں سے دشمن بنائے اور تیرارب ہدایت اور مدد کیلئے کافی ہے۔

وقال الذین کفروا لو لا نزل علیہ القرآن جملةً واحدةًو کذلک لنثبت بہ فوادک و رتلناہ ترتیلًاO

اور یہ آپ کے پاس مثال نہیں لاتے مگر ہم تیرے پاس حق لائیں اور بہترین تفسیر ۔

الذین یحشرون علی وجوھھم الی جہنم اولئک شر مکانًا و اضل سبیلًاO

جن لوگوںکو منہ کے بل جہنم کی طرف اکٹھا کیا جائے گا یہی لوگ برے درجے اور سب سے زیادہ گمراہ ہیں۔

ولقد اٰتینا موسی الکتاب و جعلنامعہ اخاہ ہارون وزیرًاO

اورہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اسکے ساتھ اسکا بھائی ہارون وزیر بنادیا۔

فقلنا اذھبا الی القوم الذین کذبوا باٰیاتنا فدمرنا ھم تدمیرًاO

پس ہم نے ان سے کہا کہ جاؤ اس قوم کی طرف جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا۔پھرہم نے ان کو پٹخ کر تباہ کردیا۔

وقوم نوحٍ لما کذبوا الرسل اغرقنا ھم و جعلناھم للناس اٰیةًو اعتدنا للظالمین عذابًا الیمًاO

اورنوح کی قوم کو بھی جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایاتو ہم نے انہیں غرق کردیااور ہم نے انہیں لوگوں کیلئے ایک نشانی بنادیا۔اور ہم تیار کررکھا ہے ظالموں کیلئے دردناک عذاب ۔

و عادًا و ثمود واصحاب الرس وقرونًا بین ذٰلک کثیرًاO

اورعاد اور کنویں والے ثمود اوردرمیان میں بہت ساری قومیں۔(سورة الفرقان:22تا33)
یہودنے کہا کہ قرآن اکٹھا نازل ہوتا۔تاکہ آیت کو آگے پیچھے سے کاٹ کر

الذین جعلوا القراٰن عضیں

قرآن کو بوٹی بوٹی کردیں اور حلالہ کی لذت، بے غیرتی اور شیطان کے کامیاب ترین ہتھکنڈے کو ہم پھر سے زندہ کردیں گے۔

وماارسلنا من قبلک من رسولٍ ولانبیٍ الا اذا تمنیٰ القی الشیطان فی امنیتہ فینسخ اللہ مایلقی الشیطان ثم یحکم اللہ اٰیاتہ واللہ علیم حکیمO

اور ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس کی تمنا میں اپنا القا کیا۔ پس اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو مٹاتا ہے پھر اپنی آیات کو استحکام بخش دیتا ہے اور اللہ علیم حکیم ہے ( سورہ الحج آیت52)

عبداللہ بن عمرنے بیوی کو3 طلاق دی جو چیخی دھاڑی اور رجوع چاہتی تھی۔ حضرت عمر نے خبردی تو نبیۖ غضبناک ہوئے ۔قرآن کے مطابق عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کا طریقہ سمجھایالیکن عبداللہ کے دماغ میںشیطان نے یہ بڑا القا کردیاتھا کہ ” اگر میں دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری بار بھی طلاق دیتا تونبیۖ رجوع کا حکم نہیں دیتے۔(بخاری) جب حضرت عمر کے دور میں ایک عورت کو تین طلاق دی گئی تو عورت رجوع پر راضی نہیں تھی اسلئے حضرت عمر نے عورت کے حق میں فیصلہ کیا۔ حضرت علی نے حرام کے لفظ پر یہی فیصلہ کیا تھا لیکن ابن عمر کے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی کہ دو طلاق رجعی ہے۔ حضرت عمر نے اسلئے اپنے بعد ان کو خلافت کیلئے نااہل قرار دیا اور عبداللہ بن سبا وغیرہ یہود یوں نے بھیس بدل کر طلاق رجعی اور طلاق مغلظ اور طلاق بتہ اور طلاق بائن کا مذہب القا کردیا۔

اللہ نے ایسا کیوں کرنے دیا ؟۔ اسکے دو مقاصد تھے۔

لیجعل اللہ یا یلقی الشیطان فتنة للذین فی قلوبھم مرض و القاسیة قلوبھم وان الظالمین لفی شقاقٍ بعیدٍO

” تاکہ شیطانی القا ان لوگوں کیلئے آزمائش بنادے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور بیشک ظالم بہت دور کی بدبختی میں ہیں(۔سورہ الحج:53)

سنیوںاور شیعہ میں حلالہ والے ملعونین اور فرقہ پرست ۔ لیکن علماء حق کا تعلق جس فرقہ سے ہو اللہ کا دوسرا مقصد وہ ہیں۔

ولیعلم الذین اوتوا العلم انہ الحق من ربک فیومنوا بہ فتخبت لہ قلوبھم وان اللہ لھاد الذین اٰمنوا الیٰ صراط مستقیمO

اورتاکہ اہل علم جان لیں کہ بیشک حق تیرے رب کی طرف سے ہے تو اس پر ایمان لائیں اور اس کیلئے انکے دل جھک جائیںاور بیشک اللہ اہل ایمان کو ہدایت دیتا ہے سیدھی راہ کی طرف۔(سورہ الحج:54)

 ولا یزال الذین کفروا فی مریةٍ منہ حتی تأتیھم الساعة بغتةً او یأتیھم عذاب یومٍ عقیمٍ

الملک یومئذٍ للہ یحکم بینھم فالذین امنوا و عملوا الصحالحات فی جنات النعیمٍا

”اورکافر قرآن سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر اچانک انقلاب آئے یا بانجھ پن کے دن کا عذاب ۔ملک اس دن اللہ کیلئے ہوگا انکے درمیان فیصلہ کرے گا ،پس جو ایمان اور درست اعمال والے ہیں وہ نعمتوں والے باغات میں ہوںگے”۔ (سورہ الحج55،56)

بنوامیہ نے بنوعباس سے بڑا وحشانہ سلوک کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ عراق میںیزیدی مذہب نشان عبرت ہے۔ اسلام، عیسائی، مشرکین، مجوسی ، یہودی اور تمام مذہب کی عراق میںچٹنی ہے۔ بنوعباس نے لونڈی اور حلالہ کے شغل کو صحیح بخاری کے ذریعے ایسا رواج بخش دیا کہ دنیا بھر میں اصل حکمران ممالیک خاندانِ غلام بن گئے۔ شاہ ولی اللہ نے نہج البلاغہ میں دھیماء کی حدیث کو درج کیا مگر تشریح میں فاش غلطیاں کیں۔ خلافت علی منہاج النبوة قائم ہوگی تو زمین وآسمان والے سبھی خوش ہوں گے جس سے دنیا میں قرآن کی ہر آیت سے کمالات کے چشمے ابل پڑیں گے۔ قرآن کی بڑی بڑی وضاحتوں کو نہیں سمجھنے والے باریکی کو کیا سمجھتے؟۔ دنیا میں متوازن نظام کا قیام معاملے کا حل ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی کو جواب نمبر3
مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی کو جواب نمبر2
مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی کو جواب نمبر1