پوسٹ تلاش کریں

مسئلہ طلاق وحلالہ علت معلول

مسئلہ طلاق وحلالہ علت معلول اخبار: نوشتہ دیوار

فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًاغیرہ؟

ترجمہ :” پس اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔

سورہ بقرہ کی آیت230میں اُمت مسلمہ کے اندر انواع و اقسام کے اختلافات موجود ہیں۔ علت سبب کو کہتے ہیں جبکہ معلول اس سبب سے نکلنے والے نتیجے کو کہتے ہیں۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ امت مسلمہ نے اس آیت کی علت اور معلول پر بہت اختلافات کئے ہیں۔ علامہ تمنا عمادیایک حنفی عالم تھے اور ان کی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ اپنے ہم عصروں میں ان کا مقام تولہ اور باقی مشہور علماء انکے مقابلہ میں ماشا تھے اور انہوں نے ایک کتاب ”الطلاق مرتان” لکھی ہے ۔ جس کا دعویٰ تھا کہ قرآن میں طلاق صرف دو ہیں۔ایرانیوں نے ایک سازش کرکے احادیث میں تین طلاق کا تصور ڈال دیا ہے اور قرآن میں تیسری طلاق نہیں ہے۔ قرآن میں عورت کی طرف سے طلاق مانگی جائے تو یہ خلع ہے اور اس کے بعد شوہر طلاق دے تو اس کیلئے حلال نہیں ہے۔ اصول فقہ میں یہی حنفی مؤقف لکھا ہوا ہے کہ آیت230کا تعلق فدیہ سے ہے۔

حنفی اصول فقہ کی تعلیمات کے مطابق قرآن کے مقابلے میں احادیث کا انکار بالکل بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جب قرآن سے اس کی ٹکر ہو اور علامہ تمنا عمادینے حنفی اصول فقہ کو قرآن سے جوڑ کر اس کے مقابل احادیث کو ایرانی ساز ش قرار دیا ہے تو اس کے بعد سنی مکتبہ فکر کی صحاح ستہ کے خلاف لکھا جانے لگا اور غلام احمد پرویز جیسے لوگوں نے اپنے فن سے اس کو چمکادیا۔

علامہ تمنا عمادی نے کہا کہ جرم مرد کا ہو اور سزا عورت کو ملے تو یہ کہاں کا انصاف ہے لیکن اس کے پیچھے عربی، حنفی مسلک اور درس نظامی کی تعلیمات کا بہت بڑا ذخیرہ اور صلاحیت بھی تھی۔

کسی عالم کو جرأت نہیں ہوئی کہ علامہ تمنا عمادی کی کتاب کا جواب دیتا لیکن ان کی کتاب کو مقبولیت حاصل نہیں ہوئی۔اس کی وجہ بڑے بڑے مدارس اور مشہور علماء ومفتیان سے ٹکرانے کے علاوہ احادیث کی کتابوں کو ایرانی ساز ش قرار دینا بھی تھا۔ علماء نے اس بات کا عوامی جواب دیا کہ جرم مرد کرے اور اس کی سزا عورت کو ملے تو کیسے ہوسکتا ہے؟۔ تو کسی نے کہا کہ شوہر کی بیوی جب چدھ جاتی ہے تو یہ شوہر کیلئے بھی بڑی سزا ہے اور کسی نے کہا کہ ریح خارج ہوجائے تو فائرنگ کہاں سے ہوتی ہے اور سزا وضو میں کن اعضاء کو ملتی ہے۔ استنجا نہیں کرنا پڑتا ہے اور منہ ، ہاتھ ،پیر دھونے اور سر کا مسح کرنا پڑتا ہے۔

علامہ شاہ تراب الحق قادری اور دعوت اسلامی کے مفتی اس بات کی تشہیر کرتے رہے کہ ”روزہ میں لیٹرین کے بعدپھول نما آنت نکلتی ہے جس کو دھونا بھی ضروری ہے اور دھونے کے بعد اس کو کپڑے سے سکھانا بھی ضروری ہے اگر سکھائے بغیر آنت اندر چلی گئی تو روزہ ٹوٹ جائے گا”۔ اسکے ایک مرید سلیم طاہر نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ یہ بکواس ہے۔ ضرب حق کی خبر بنادی اور اس کی تردید بھی کردی۔ کچھ بریلوی علماء نے بھی میرے مؤقف کی کھل کر حمایت کردی ۔ شاہ تراب الحق قادری نے خاموشی اختیار کرلی۔ پھر جب ہمارا اخبار بند ہوگیا تو علامہ تراب الحق قادری نے کہا کہ میں نے ایک مسئلہ بیان کیا تھا جو ایک گوبر شاہی طرز کے آدمی نے اچھالا۔ اسکے مرید سلیم طاہر کو یہ فکر پڑی تھی کہ مقعد کو کپڑے سے سکھانے کے بعد اگر پھرکپڑا اس فلش میں ڈالا جائے تو فلش بند ہوگا اور جیب میں رکھا جائے تو جیب خراب ہوگی۔ پھر اس کے دماغ میں مسئلے کا یہ حل سوجھا کہ ”اس کپڑے سے سکھانے کے بعد اس جگہ رکھ دیا جائے”۔ اور جب علامہ تراب الحق قادری سے کہا کہ میری زندگی کے کتنے روزے خراب ہوں گے ؟۔ اور اسی جگہ کپڑا رکھنے کی بھی تجویز پیش کردی تو علامہ صاحب نے بھگادیا کہ میرا کام مسئلہ بتانا تھا اور معاملات یہاں میرے پاس ڈسکس مت کرو۔

سلیم طاہر نے غازی عبدالقدس بلوچ سے علاج کے مسئلے پر ایک تھپڑ بھی کھایااور شاید پھر غائب ہوگیا۔ پھر دعوت اسلامی کے مفتیوں نے بعد میں مسئلہ اٹھایا اور مردوں اور عورتوں کو تلقین کی کہ استنجاء کرتے وقت سانس لینے میں بھی احتیاط کریں ورنہ تو پانی اندر گھس سکتا ہے جو معدہ میں پہنچ کر روزہ توڑ دے گا۔

مجھے معلوم تھا کہ مسئلہ کچھ ہوتا ہے اور غلو کرتے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے اسلئے لکھا کہ ”پچکاری سے قبض کو توڑا جاتا توسوال پیدا ہوا کہ پانی معدہ تک تو نہیں پہنچ جائے گا؟۔ اسلئے دو فقہی مسلک بن گئے۔ ایک نے کہا کہ روزہ ٹوٹ جائے گا تو دوسرے نے کہا کہ نہیں ٹوٹے گا۔ اور پھر غلو اس حدتک پہنچ گیا کہ آنت دھونے سکھانے اور سانس لینے تک بات پہنچ گئی”۔

کانیگرم شہر میں گھروں کیلئے پانی گدھوں کے ذریعے لاد کر لایا جاتا تھا یا صبح سویرے اور مغرب کے بعد عورتیں لاتی تھیں۔ اور ندی سے اوپر تک پانی سے لدا ہوا گدھا راستے میں لید کرتا تھا۔ علامہ شاہ تراب الحق قادری نے جس پھول نما آنت کی بات بتائی تھی تو گدھوں کی نکلتی ہوئی ہم نے دیکھی تھی اور اس کو فطری طور پر باہر نکلنے کے بعد اندر خود بخود جانا ہوتا ہے۔ علامہ شاہ تراب الحق قادری کے پاس ہوسکتا ہے کہ اس کو روکنے کی مشق بھی ہو لیکن میرا دعویٰ ہے کہ روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی ہے! اور یہ ممکن نہیں لگتا ہے۔ سلیم طاہر کو بھی میں نے یہی سمجھایا تھا مگر وہ اس کے پیچھے پڑا رہا کہ کپڑے کو فلش میں ڈالنے سے فلش بند ہوگا اور جیب میں ڈالنا بھی ٹھیک نہیں ہے لہٰذا وہی پر رکھ دو۔

بریلوی مکتب کے بہت بڑے عالم علامہ غلام رسول سعیدی نے حلالہ کیلئے فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد کے اندر علت بنایا حرف ”ف” کو جو تعقیب بلامہلت کیلئے آتا ہے اور لکھ دیا کہ ” اگر اس آیت میں ”ف” نہیں ہوتی تو پھر قرآن اور احادیث کے تقاضوں سے بالکل واضح ثابت ہوتا کہ تین مرتبہ الگ الگ طلاق دینے سے ہی حلالہ کی لعنت فرض ہوجائیگی مگر ”ف” کی وجہ سے اگر اکٹھی تین طلاق دی گئی تو پھر حلالہ کرنا لازم ہوجائے گا۔ اصول فقہ میں دو متضاد مؤقف ہیں اور اس تضاد کی وجہ سے علامہ غلام رسول سعیدی نے بہت یہ بڑا مغالطہ کھایا تھا۔ ایک حرف ”ف” پر الگ بحث ہے جس میںیہ بحث بالکل بکواس ہے کہ ف کے حرف کی وجہ سے امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف و غیرہ میں اختلافات ہیں کہ کس صورت میں پہلی اور تیسری طلاق واقع ہوگی اور دوسری نہیں ہوگی؟۔ جس طرح طلاق کوئی تین روٹی کی طرح جامد چیزہے کہ پہلی کھائی، دوسری چھوڑ دی اور پھر تیسری کھائی؟۔ جب فقہ کی حد تک بات یہاں تک پہنچ جائے کہ ” پہلی طلاق واقع ہوئی۔ دوسری طلاق جیب میں پڑی رہے گی اور تیسری طلاق بھی واقع ہوگی ۔ یا پھر پہلی طلاق بھی جیب میں پڑی رہے، دوسری طلاق بھی جیب کے اندر پڑی رہے لیکن تیسری طلاق واقع ہوجائے تو پھر”؟۔

پھر یہ ماننا ہی پڑے گا کہ اس کے نزدیک حلالہ کیلئے تیسری طلاق ہی علت ہے اور جب تیسری طلاق علت ہو تو پھر یہ بحث بھی بالکل فضول بن جاتی ہے کہ اکٹھی تین طلاق یا الگ الگ تین طلاق سے حلالہ کے نتیجے پر پہنچنے کی بات کی جائے؟۔

پھر شافعی اور حنفی مسلک میں یہ بحث ہے کہ تیسری طلاق کا تعلق آیت229البقرہ کے الطلاق مرتان سے ہے یا اس کے بعد فدیہ کی صورت سے ہے؟۔ نورالانوار میں جہاں حرف ف پر بحث میں پہلی، دوسری اور تیسری طلاق کو ایک جامد شکل میں الگ الگ کردیا گیا ہے وہاں تو معاملہ بالکل جدا ہے لیکن جہاں پر شافعی حنفی کا مقابلہ ہے تو شافعی کے مقابلے میں حنفی مسلک یہ ہے کہ ف عربی میں تعقیب بلا مہلت کیلئے آتا ہے۔تو تیسری طلاق کو اس کے ساتھ متصل آیت229میں فدیہ کی صورت سے جوڑ دیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہی ہوا کہ شافعی مسلک کا تقاضہ ہے کہ دو مرتبہ طلاق کے بعد ہی اس حلالہ والی طلاق کی تیسری مرتبہ ہے۔ اور حنفی کے نزدیک اس کا دو مرتبہ طلاق سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اس کی علت فدیہ کی صورت سے خاص ہے۔ پڑھانے والے اساتذہ کرام20سے40اور60سال تک پڑھاتے ہیں لیکن ان کا دماغ اس الجھن کا شکار رہتا ہے کہ معاملے کا مقصد کیا ہے اور بس عبارت کا مفہوم سمجھنا بھی بڑا کمال سمجھا جاتا ہے اور طلبہ کو بھی یہی سمجھادیتے ہیں۔

اگر تفاسیر کی طرف دیکھ لیں تو علامہ جاراللہ زمحشری کو معتزلہ لیکن حنفی مسلک کا حامل سمجھاجاتا ہے۔ تفسیر میں امام کا درجہ ان کو حاصل ہے اور14سالوں تک بیت اللہ کی دیواروں کے سائے میںاپنی تفسیر ”الکشاف ” لکھی ہے۔ انہوں نے اپنی یہ تجویز رکھی ہے کہ ”دو الگ الگ مرتبہ کے بعد پھر تیسری مرتبہ طلاق دی جائے تو حلالہ کی سزا کا نفاذ ہونا چاہیے مگر اس پر کوئی فیصلہ بھی نہیں دیا ہے جس کی وجہ میں بتادیتا ہوں کہ کیا ہے؟۔

لبنان کے مشہور دانشور عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے عربی قوم کے مشہور لکھاری خلیل جبران نے لکھا ہے کہ ” ایک ملحد اور ایک عالم دین میں مناظرہ ہوا۔ جس کے نتیجے میں عالم دین ملحد بن گیا اور ملحد نے مذہب کو قبول کرلیا”۔ حنفی اور شافعی اس پر لڑتے ہیں کہ شافعی کے نزدیک اکٹھی تین طلاق سنت، مباح اور جائز ہیں اور حنفی کے نزدیک بدعت، گناہ اور ناجائز ہیں۔

آیت230البقرہ میں تیسری طلاق کو آیت229البقرہ کے اندر الطلاق مرتان دو مرتبہ طلاق سے جوڑ کر شافعی مسلک کی خلاف ورزی کرتے ہیں اسلئے کہ پھر تو الگ الگ تین مرتبہ کی طلاق قرآن کا تقاضہ ہوگی جو شافعی مسلک کیلئے قابل قبول اسلئے نہیں کہ علامہ غلام رسول سعیدی نے بھی اس حرف ”ف” کی بنیاد پر شافعی مسلک کی تائید کردی ہے۔ جبکہ دوسری طرف حنفی مسلک والے ف تعقیب بلامہلت کے ذریعے ”ف” سے جوڑ کر الگ الگ کی جگہ فدیہ سے اتصال کو تقویت بخشتے ہیں۔

یہ معاملہ اس قدر الجھاؤ کا شکار کردیا گیا کہ جب امام ابوبکر جصاص رازی حنفی اپنی کتاب ”احکام القرآن ”میں طلاق سنت پر بات کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ” الطلاق مرتان فعل ہے، کوئی جامد چیز نہیں ہے۔ جیسے دو روپیہ۔ دو روپیہ کو دو مرتبہ روپیہ نہیں کہہ سکتے ہیں البتہ دو مرتبہ کھانا کھایا یا ملاقات کی وغیرہ فعل ہے اور فعل کیلئے وقفہ اور الگ الگ ہونا ضروری ہے ”۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر3طلاق کہہ دیا تو اس پر تین مرتبہ طلاق کا اطلاق نہیں ہوسکتا ہے۔ پھر تو قرآن اور تین مرتبہ طلاق کا مسئلہ حل ہوا؟۔

لیکن یہی امام ابوبکر جصاص رازی جب حنفی مسلک پیش کرتا ہے کہ اکٹھی تین طلاق واقع ہوجاتی ہیں تو سرکے بل الوکا پٹھا لٹک جاتا ہے اور کہتا ہے کہ” جس طرح ایک طہر میں تین مرتبہ الگ الگ طلاقیں دیں جائیں تو واقع ہوجاتی ہیں اسی طرح سے اگر ایک مجلس میں تین طلاق دی جائے تب بھی واقع ہوگی اور یہ ایک باریک قسم کی بات ہے جس کو ہرکوئی نہیں سمجھتا ”۔

فقہاء اور محدثین میں یہ الجھاؤ بہت قدیم اور پرانا مسئلہ ہے اور امام حسن بصری جس کی پیدائش21ہجری اور وفات101ہجری میں ہوئی جو حضرت علی کے خاص شاگرد تھے۔ صحیح بخاری میں حسن بصری سے روایت ہے کہ ” بعض علماء کا اجتہاد ہے کہ حرام کے لفظ سے تیسری طلاق واقع ہوگی اور یہ کھانے پینے کی طرح نہیں کہ کفارہ سے پھر بیوی حلال ہوجائے اس کیلئے حلالہ کی لعنت سے گزرے بغیر پھر چارہ کار نہیں ہے”۔ حسن بصری کی اس بات کو قرآن کی سورہ تحریم کے آئینہ میں دیکھا جائے تو انتہائی غلط ہے۔بخاری نے ایک روایت چھوڑ کر عبداللہ بن عباس کے قول کو نقل کیا ہے کہ حرام کے لفظ سے طلاق ، کفارہ یا حلف کچھ بھی واقع نہیں ہوتا ہے اور یہی سیرت رسول ۖ کے تقاضہ سے مطابقت رکھتا ہے۔ لیکن سورہ تحریم کا حوالہ نہیں دیا۔

امام ابوبکر جصاص رازی بہت بڑے آدمی تھے لیکن مسلک پرستی سے انسان ہیرو سے زیرو بن جاتا ہے۔ سنت کیلئے طلاق کو فعل قرار دیا اور بہت زبردست دلیل دی لیکن یہ مسلک پرستی کا تقاضہ تھا اور جب مسلک کا معاملہ آیاتو پھر یہ بھی نہیں دیکھا کہ طلاق کا فعل کس طرح3کے عدد میں بدل گیا؟۔ امام ابوبکر جصاص رازی کی پیدائش918ء ، وفات981ء میں ہوئی۔

پھر ایک اور توپ چیز علامہ ابن تیمیہ پیدائش1263ء اور وفات1328ء میں آگئی۔ علامہ ابن تیمیہ نے مسلک کو فرقہ اور شرک قرار دیکر سختی کے ساتھ مسترد کردیا۔ تصوف اور اولیاء کی سخت مخالفت کیلئے زبردست اور بہت بڑی جدوجہد کے بڑے امام بن گئے۔ طلاق کے مسئلے کا حل یہ نکال دیا کہ نماز کے بعد تسبیحات میں33مرتبہ سبحان اللہ کہنے سے وظیفہ پورا نہیں ہوگا جب تک کہ سبحان اللہ ، سبحان اللہ ، سبحان اللہ……33مرتبہ نہیں پڑھا جائے۔ اس طرح3طلاق سے3مرتبہ طلاق نہیں ہوسکتی ہے۔ علامہ ابن تیمیہ کی اس بات کو سعودی عرب ، عرب امارات اور بہت سے عربوں نے قبول کرلیا اور اس کو اپنا کلکلی اوتار سمجھ لیا کہ یہ امت مسلمہ کا سب سے بڑا نجات دہندہ ہے۔

علامہ ابن تیمیہایک بہادر انسان بھی تھے لیکن عقل کا تعلق بہادری نہیں نور ہدایت سے ہے ۔ عربوں نے امام ابن تیمیہ کی یہ بات اپنے پلے باندھ لی لیکن میں نے ایک عربی سے سوال کیا کہ اگر تسبیح کی طرح کوئی کہے کہ طلاق ، طلاق ، طلاق تو پھر کیا ہوگا؟۔ تو اس نے کہا کہ طلاق تو تسبیح نہیں ہے کہ واقع ہوجائے ، تسبیح الگ چیز ہے اور طلاق الگ چیز ہے۔

عرب اہل زبان ہونے کے باوجود بھی عقلی صلاحیت گدھے کی طرح رکھتے ہیں۔ سعودی عرب نے شاید محسوس کیا کہ بہت الجھا ہوا معاملہ ہے اور اس سے اہل تشیع کو تقویت مل رہی ہے اسلئے حنفی علماء کو بلاکر سرکاری طور پر تین طلاق کو رائج کردیا اور اب بعض لوگ کہتے ہیں کہ سعودی والے امام احمد بن حنبل کے مسلک پر ہیں۔ ابن تیمیہ اور حنبلی مسلک کو ایک ساتھ کرنا ایسا ہے کہ جیسے چھپکلی اور مچھلی کو اکٹھا کرنے کی بات کی جائے۔

سعودی عرب سے ایک کتاب ”اجتہاد الخلفاء الراشدین الاربعہ: تالیف: محمود داؤد العبیری” شائع ہوئی ہے جس کے مفصل حوالہ جات میں نے اپنی کتاب ”ابررحمت ” میں دئیے ہیں ،یہاں مختصر خلاصہ پیش کرتاہوں۔

”المسئلة الثالثة : الطلاق بالفاظ الکنایة من المعلوم

تیسرا مسئلہ : کنایہ کے الفاظ سے طلاق: یہ بات معلوم ہے کہ طلاق واقع ہونے کا تعلق الفاظ صریح سے ہوگا یا کنایہ سے!

جمہور علماء کے نزدیک الفاظ صریح سے طلاق واقع ہونے کیلئے نیت کی ضرورت نہیں ہے۔ دلیل اس کی رسول اللہۖ کی حدیث ہے کہ تین چیز یں سنجیدگی اور مذاق میں واقع ہوتی ہیں۔ نکاح طلاق اور رجوع۔ (ترمذی ، ابن ماجہ)کنایہ طلاق کے مندرجہ ذیل الفاظ میں خلفا ء راشدین میں اختلاف ہے۔

1:انت الخروج: حضرت عمر کے نزدیک ایک طلاق ہے اور حضرت علی کے نزدیک اس لفظ سے تین طلاق واقع ہوتی ہے۔
2:طلاق الحرج: حضرت عمر ایک، حضرت علی تین طلاق ۔
3:طلاق الخلیة : حضرت عمر ایک طلاق اور حضرت علی تین۔
4:البریة: اس میں بھی دونوں میں ایک اور طلاق طلاق۔
5:انت علی حرام: جس نے بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو حضرت ابوبکر صدیق نے کہا کہ یہ قسم ہے اس کا کفارہ دے گا اور یہی بات امام ابوحنیفہ کی ہے اگر اس سے طلاق اور ظہار کی نیت کی نہیں کی جائے اور وہ اپنی بیوی سے قسم کھانے والا ہو۔ حضرت عائشہ، اوزاعی ، ابن عباس کا بھی یہ قول ہے۔حضر ت عمر کا بھی یہی قول ہے اور حضرت عمر سے یہ بھی منقول ہے کہ یہ ایک طلاق رجعی ہے۔ اور یہی الزہری، عبدالعزیز بن ابی سلمیٰ اور الماحثون کی رائے ہے۔ اور ابن قیم نے ابن مسعود سے نقل کیا ہے کہ یہ ایک طلاق ہے۔ حضرت عثمان نے اس کو ظہار قرار دیا اور امام احمد بن حنبل کی یہی رائے ہے۔ علی بن ابی طالب اور زید بن ثابت دونوں کے نزدیک یہ تین طلاق ہیںاور امام مالک کی بھی یہی رائے ہے۔

اجتہاد الخلفاء الراشدین الاربعة: تالیف:محمود داؤد العبیری صفحہ 143تا146

تیسرا مسئلہ بہت تفصیلات کیساتھ بیان کیا گیا ہے یہاں پر ایک مختصر خلاصہ پیش کردیا ہے۔اگر فٹ بال کے میچ میں ایک گول پر اختلاف ہو جائے اور ایک کے ہاں ایک اور دوسرے کے نزدیک تین گول ہوں تو فطری طور پر کوئی مانے گا؟۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ شریعت میں اتنا بڑا اختلاف ہو؟ َ۔

بریلوی مکتب فکر کے مشہور مناظر عالم علامہ اشرف جلالی نے کہا کہ ایک حدیث میری نظر سے ابھی گزری ہے کاش مجھے اس کا پتہ 25سال پہلے چل جاتا توآج معاملہ بالکل مختلف ہوتا۔ حدیث ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ” اسلام کی کڑیاں ایک ایک کرکے ٹوٹتی جائیں گی ۔پہلی کڑی جو ٹوٹے گی وہ حکم ہے”۔ نماز، روزہ اور حج وغیرہ کا نہیں فرمایا ۔ حکومت کا فرمایا۔

خلافت راشدہ، امارت ، بادشاہت اور جبری حکومتوںکے ادوار میں آج بھی حکومتیں تو قائم ہیں؟۔ حکم سے پھر کیا مراد ہے اور کس طرح کے حکم کیلئے نبیۖ نے یہ پیش گوئی فرمائی ؟۔

وان خفتم شقاق بینھما بابعثوا حکمًا من اہلہ و حکمًا من اہلھا ان یریدا اصلاحًا یوفق اللہ بیھما ان اللہ کان علیمًا خبیرًاO (سورہ النساء:آیت:35)

” اور اگر ان دونوں کے درمیان جدائی کا خطرہ پیدا ہو تو ایک حکم شوہر کے خاندان اور ایک حکم بیوی کے خاندان سے تشکیل دو۔اگر وہ دونوں اصلاح چاہتے ہوں تو اللہ ان کے درمیان موافقت پیدا کرے گا۔بیشک اللہ علم خبر رکھنے والا ہے”۔

قرآن میں حکم کا معنی واضح ہے۔ حضرت عمر کے دور میں یہ پہلا واقعہ ہوا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اور اس کی بیوی رجوع کیلئے راضی نہیں تھی۔ حضرت عمر کے دور میں یہ مسئلہ آنے سے پہلے اپنے ہاں دو حکم قرآن کے مطابق بلالیتے تو اسلام کی یہ پہلی کڑی نہیں ٹوٹتی۔ حضرت عمر نے تین طلاق کا جو فیصلہ کیا وہ قرآن کے بھی مطابق تھا اور دنیا کی ہر عدالت نے یہ فیصلہ انسانی فطرت کے مطابق عورت کے حق میں کرنا ہے۔

سورہ النساء آیت19میں عورت کو خلع کا حق بھی ہے اور اس کو شوہر کی طرف دئیے ہوئے منقولہ اشیاء سے بھی محروم نہیں کیا جاسکتا ہے اور طلاق میں سورہ النساء آیت20میں منقولہ و غیر منقولہ دی ہوئی جائیداد سے محروم نہیں کرسکتے۔ خلع کے مقابلہ میں طلاق کے حقوق زیادہ ہیں اسلئے طلاق کے بعد عورت اگر راضی نہیں تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ نہیں تو قرآن کی آیات و احادیث بالکل بے معنی ہوکر رہ جاتی ہیں۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ تین چیزوں میں مذاق معتبر ہے۔ نکاح، طلاق، رجوع ۔ نکاح میں ہاتھ لگانے سے پہلے بھی نصف حق مہر فرض ہے اور مہر کا تعلق غریب و امیر پر وسعت کے مطابق ہے۔ طلاق اور رجوع میں بھی عورت کے حقوق ہیں۔فقہاء نے اسلام کو بہت مسخ کرکے رکھ دیا ہے۔ مفتی تقی عثمانی کے بھتیجے نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر مریدنی سے شادی کی۔ اس سے بچے پالنے کا کام لینے کے بعد جب گھر گئی تو پیچھے سے پیغام بھیج دیا تھا کہ تمہیں طلاق دیدی ہے۔اس عورت پر کیا گزری؟۔ اور کس حال میں تھی؟۔ مفتی تقی عثمانی نے قرآن کی آیات کا ترجمہ بھی غلط کیا ہے کہ طلاق میں حق مہر کی بات ہے اور باقی دی گئی اشیاء واپس لے سکتے ہیں اور فتاویٰ عثمانی میں بھی لکھ دیا کہ ”ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ بیوی کو چیزیں تحفہ میں دی جاتی ہیں اور وہ شوہر کی ملکیت ہوتی ہیں جو طلاق کے بعد واپس لی جاتی ہیں”۔ اور پھر مزے کی بات یہ ہے کہ حق مہر کو اعزایہ تحفہ قرار دیا ہے۔

حضرت عمر فاروق اعظم ہوتے تو مفتی تقی عثمانی کے دانت اسلام اور قرآن میں تحریف اور بددیانتی پر نکالتے۔ اب تو اس نے اپنی بدنمائی دور کرنے کیلئے خود ہی اکھاڑ دئیے ہیں۔ ترجمہ قرآن کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ”قریب ہے کہ آسمان فرشتوں کی بڑی تعداد میں عبادت کی وجہ سے پھٹ جائے”۔ حالانکہ سورہ شوریٰ میں وضاحت ہے کہ دین میں تحریف کی وجہ سے فرشتوں کو بہت غصہ آتا ہے لیکن اللہ مقرر ہ وقت سے پہلے ان کو عذاب کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ آج کے دور میں اکابرین کی ڈھٹائی اور بے شرمی کی کوئی انتہا نہیں رہی ۔شیخ الحدیث نذیر احمد جامعہ امداد العلوم فیصل آباد کا بھی شیخ الحدیت مولانا مفتی عزیز الرحمن کا صابرشاہ جیسا معاملہ تھامگر ویڈیو نہ تھی اسلئے سامنے نہیں آیا۔

وللطلقات متاع بالمعروف حقًا علی المتقین ”

اور طلاق شدہ عورتوں کیلئے خرچہ ہے معروف کیساتھ متقیوں پر لازم ہے”(البقرہ241)قرآن کی آیات میں طلاق کے بعد مختلف جگہوں پر عورتوں کے حقوق واضح ہیں لیکن جس نے سینہ زوری کرنی ہو تو مفتی تقی عثمانی کی طرح وقف زمین میں اپنا گھر بھی خرید لیتا ہے اور اسکے خلاف فتویٰ دینے پراپنے استاذ مفتی رشید احمد لدھیانوی کی تاریخی پٹائی بھی لگادیتا ہے۔ جبکہ عورت طلاق کے بعد بہت کمزور بن جاتی ہے اور بنوں میں تو ایک مولوی نے زبردستی حلالہ بھی کیا تھا جو پولیس نے پکڑا تھا۔

سورہ البقرہ آیت229میں تین مرتبہ طلاق کے بعدعورت کا حق مراد ہے جس سے خلع مراد لینا انتہائی حماقت ہے لیکن یہ حماقت سکہ رائج الوقت بن گیا اور علامہ تمنا عمادی نے بھی اس کی وجہ سے الطلاق مرتان کتاب میں اپنی حماقت کا اظہار کیا۔ اگر عورت کے حق کو نظر انداز نہیں کیا جاتا تو حماقتوں میں مبتلاء امت مسلمہ قرآن کی روح کو بوٹی بوٹی کرنے کا جرم نہیں کرتی۔

مولانا سلیم اللہ خان اور علامہ غلام رسول سعیدی نے بخاری کی شرح ”کشف الباری” اور ” نعم الباری” میں لکھا کہ عدی بن حاتم کے جواب میں رسول اللہۖ نے فرمایا کہ ” البقرہ کی آیت229میں الطلاق مرتان کے بعد تیسری مرتبہ تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے۔لیکن اس تیسری طلاق کے بعد تو حلالہ کا کوئی حکم نہیں ہے۔ پھر عورتوں کے حقوق کا معاملہ ہے اور اس میں استثناء کی صورت کا ذکر ہے جس میں حکموں (فیصلہ کرنیوالوں) کی بھی وضاحت ہے۔

وان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فیما افدت بہ

” اور اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے تو پھر عورت کی طرف سے وہ چیز فدیہ کرنے میں حرج نہیں ہے”۔

اس سے خلع مراد نہیں ہے ۔ حنفی مسلک کے اصول فقہ میں آیت230البقرہ کی طلاق کو اس فدیہ کی صورت سے جوڑ دیا گیا ہے اور اس میں حکم کے فیصلے کے بعد اس فدیہ کا ذکر ہے جو عورت کی عزت کے تحفظ کیلئے کیا جائے اور عورت فیصلہ کرلے کہ اس نے دوبارہ واپس نہیں آنا ہے۔ اس صورت میں حلالہ کی لعنت مراد ہوہی نہیں سکتی ہے بلکہ عورت کی آزادی مراد ہے اسلئے کہ اس سے پہلے اور بعد کی آیات میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد واضح الفاظ میں معروف اور باہمی رضا مندی کی شرط پر رجوع کی گنجائش بالکل واضح کی گئی ہے۔

مسئلہ قرآن کی فصاحت وبلاغت اور معاملہ واضح کرنے کا نہیں بلکہ ایک غلط ماحول سے پیدا ہونے والے نتائج کا ہے۔ ہمارا ایک دوست لطیفے سناتا ہے سلیم سوریا کراچی کا میمن ہے۔ ایک شخص حالات سے تنگ آیا اور پہاڑی پڑ چڑھ کر خودکشی کے ارادے سے چھلانگ لگانا چاہا لیکن نیچے ایک آدمی کو دیکھا جو بہت خوش خوش گھومتے ہوئے نظر آرہاتھا۔ اس نے سوچا کہ خود کشی سے پہلے اس کی خوشی کا راز پوچھ لیتا ہوں۔ جب قریب جاکر پوچھا کہ کس بات کی وجہ سے اتنے خوش ہو؟۔ اس نے کہا کہ خوشی کس بات کی؟۔ میرے دونوں ہاتھ کٹے ہوئے ہیں اور گانڈ میں خارش ہورہی ہے ، کھجا نہیں سکتا ہوں اسلئے مصیبت کو جھیل رہا ہوں۔ قرآن نے بھی کوئی کمی نہیں چھوڑی ہے ۔ میں نے بھی بہت اچھی طرح سے وضاحتیں کردی ہیں لیکن جب کسی کی غیرت مرجاتی ہے تو اس کو حلالہ کیلئے خارش ہوتی ہے۔ اس کی بیوی بھی لذت کے درپے ہوتی ہے اور شوہر نامرد بھی ایک طرح کا سہولت کار بن جاتا ہے۔ اسلام سے پہلے بھی ایسے ہی بے غیرت تھے ، اسلام نے غیرتوں کو جگایا اور فطرتوں کو سمجھایا ۔

عورتوں کیلئے فتاویٰ مفتی کیلئے نہیں چھوڑا بلکہ اللہ نے فرمایا:

ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیھن

”اور آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ اللہ انکے بارے میں خود ہی فتاویٰ دیتا ہے”۔ (البقرہ:127)

علماء ومفتیان کے مقابلے میں جاویداحمد غامدی ڈیڑھ ضمیر سے عاری ہے۔ بڑے مدارس کے بڑے علماء ومفتیان نے خود کو اندر ہی اندر سے بالکل بدل دیا ہے اور اگر ان پر دباؤ نہیں ہوتا تو تبدیلی کا اعلان بھی کردیتے۔ ہمارے دلائل کا بھی کوئی ردنہیں کیا بلکہ دعوت اسلامی کے مرکزفیضان مدینہ کے مفتی نے بھی ہمارے فتوے پر اپنے عقیدت مند سے کہا کہ اس میں دلائل بالکل مضبوط ہیں اور تم اپنی بیوی سے بغیر حلالہ کے رجوع کرلو لیکن ہم لکھ کر نہیں دے سکتے یہ ہماری مجبوری ہے۔

دارالعلوم کراچی میں تین قسم کے علماء ومفتیان ہیں۔ ایک وہ ہیں جنہوں نے ہمارے دلائل کی وجہ سے طلاق کے مسائل پر فتویٰ دینا چھوڑ دیا ہے ۔ دوسرے وہ ہیں جو ہمارے پاس فتویٰ کیلئے لوگوں کو بھیج دیتے ہیں اور تیسرے قسم کے وہ ہیں کہ جب ہم نے کہا کہ مفتی عصمت اللہ کے دستخط سے فتویٰ لو تو مغالطہ دیا گیا اور کسی تخصص کے طالب علم عصمت اللہ کے نام سے اس کو فتویٰ دیا گیا۔ وقت آئے گا تو جرائم پیشہ طبقہ بے نقاب ہوگا اور اچھے لوگوں کو مدارس سونپ دئیے جائیں گے۔ انشاء اللہ

دور جاہلیت میں انواع واقسام کے طلاق تھے۔ سخت ترین طلاق کی صورت ظہار کی تھی جس کا حل سورہ مجادلہ میں اللہ نے پیش کیا اور پھر سورہ احزاب میں بتایا کہ کفاراور منافقین کی اس حوالے سے کیا حالت ہے؟۔ کفار اور غیر مسلم میں بہت فرق ہے۔ کفار منکر اور ہٹ دھرم ہوتے ہیں۔ غیر مسلم کسی دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں نے یہود و نصاری کی خواتین سے بھی شادیاں کی تھیں لیکن مشرکین مکہ کی عورتوں کو جو مسلمانوں کے نکاح میں تھیں کفار کہا گیا ہے۔

یاایھا الذین اٰمنوا اذا جاء کم المؤمنات مہاجراتٍ فا متحنوھن اللہ اعلم بایمانھن فان علمتموھن مؤمناتٍ فلا ترجعوھن الی الکفار لاھن حل لھم ولاھم یحلون لھن واٰتوھم ما انفقوا ولا جناح علیکم ان تنکحوھن اذا اتیتموھن اجورھن و لاتمسکوا بعصم الکوافر واسالوا ماانفقتم ولیسالوا ما انفقوا ذٰلکم حکم اللہ یحکم بینکم واللہ علیم حکیم O

جب صلح حدیبیہ کے معاہدے میں یہ طے ہوا کہ جو لوگ بھی مکہ سے بھاگ کر آئیں گے تو ان کو واپس کیا جائے گا اور جو مسلمان مدینہ سے مکہ بھاگے گا تو اسکو واپس نہیں کیا جائے گا۔ تو پھر جب عورتیں آئیں تو نبی ۖ نے فرمایا کہ عورتوں کے حوالے سے یہ معاہدہ نہیں ہے۔

اس آیت کے اہم نکات:

1:عورتوں کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کی مخالفت۔
لیکن وہ بھی مسلمان ہیں جو عورتوں پر مظالم کو ختم کرنے کیلئے قومی روایات رکھتے ہیں؟۔ ان کو اس سے ختم کرنا چاہیے۔

2:اس آیت میں غیرت کے حوالہ سے بڑا اہم نکتہ ہے۔ یہ بہت بڑے اشتعال کا ذریعہ تھا کہ کافروں کی عورتیں بھاگ کر مسلمانوں کے پاس آگئی تھیں تو ان کو واپس نہ کرنے کا حکم تھا مگر پھر اللہ نے حکم دیا کہ مسلمان کافر ات بیویوں سے چمٹ کر نہیں رہ جائیں بلکہ ان کو بھی واپس ہی کردیں۔ کافروں کی بھی غیرت کا لحاظ رکھا گیا اور کفارعورتوں کو لوٹانے کا حکم دے دیا۔

3:جاہلیت میں عورت کے حق مہر کے اسلامی تصورات سے معاشرہ محروم تھا اسلئے اس آیت میں سابقہ جاہلیت کا قانون ہی برقرار رکھا گیا تھا۔ جس میں مسلمان اپنے حق مہر اور کفار اپنے حق مہر کو مانگنے کے مجاز تھے اور یہ خاص حکم جاری کردیا گیا۔

جب مکہ فتح ہوا تو حضرت علی نے سمجھا کہ کفار کو مسلمانوں کی طرف سے عورتیں لوٹائی گئیں اور ان کی بہن کو بھی لوٹانا چاہیے تھا اور ان کی بہن اس مشرک شوہر کیلئے حلال نہیں اور نہ مشرک اس کیلئے حلال ہے۔ اسلئے قتل کرنا چاہا مگر نبی ۖ نے ام ہانی کے مطالبے پر امان دیدی۔ جس کا مطلب وہ مشرک شوہر کے ساتھ اپنی مرضی سے رہ سکتی تھی۔ اگر مشرک عورت بھی رہنے کی بات کرتی تو اس کو بیوی کی حیثیت سے رہنے میں مسئلہ نہیں تھا۔ قرآن و سنت اعلیٰ ترین انسانی فطرتوں کا نمونہ ہیں لیکن نالائق لوگوں نے اس کو اپنے کاروبار کیلئے بہت بڑا ذریعہ بنالیا ہے۔

جس طرح اللہ نے رسول اللہ ۖ کے ذریعے سے ہی سورہ مجادلہ کا معاملہ حل کرادیا ،اس طرح سے قرآن کی بنیاد پرجو غلط فہمی بن سکتی تھی تو حضرت علی کے ذریعہ امت کی رہنمائی ہوئی جن کو رسول اللہ ۖ کے بعد امت کا پہلا مولانا بننا تھا۔ جب سب سے اچھے قاضی حضرت علی تھے تو مفتی بھی بڑے تھے اور مولانا صاحبان نے بعد کے ادوار میں اسلام کو تباہ کرنا تھااسلئے سورہ مجادلہ میں رسول اللہ ۖ اور سورہ ممتحنہ میں حضرت علی کے فعل کو امت مسلمہ کیلئے نمونہ بنادیا ۔ جب ان سے یہ معاملہ ہوا تو پھر کون مفتی ، کون عالم ، کون قاضی اور کون مولانا ہے؟۔

جاہلیت میں حرام کے لفظ سے بھی عورت ہمیشہ کیلئے حرام ہی سمجھی جاتی تھی۔ یہ معاملہ بھی رسول اللہ ۖ کی سیرت اور سورہ تحریم کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بہت واضح طور پر حل کروادیا مگر اس پر بھی افسوس کیساتھ یزیدی ادوار کے بعد ابہام پیدا کیا گیا یزید بن معاویہ اوریزید بن عبدالملک جو عمر بن عبدالعزیز کے بعد بے غیرت کی اولاد نے امت مسلمہ کا بیڑہ غرق کردیا۔

صحابہ کرام کا ہمیں احترام ہے خوارج کے سردار ذوالخویصرہ اور حضرت علی کے قاتل ابن ملجم کے فوتے بھی صحابی کے نام پر کوئی چاٹے تو ہم اس کا شوق پورا کرنے میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے لیکن قرآن وسنت اور اسلام کا بگاڑ قبول نہیں ہے۔

سعودی عرب سے شائع ہونے والی کتاب میں درج ہے:

المسئلة الرابعة: قال الرجل لزوجتہ : انت علی حرام فللعلماء فی ذٰلک عدة آراء لکن سنقتصر علی ذکر الخفاء الاربعة ومن تابھم من الفقاء و ھی:

چوتھا مسئلہ:آدمی نے اپنی بیوی سے کہا : تو مجھ پر حرام ہے۔ پس علماء کی اس میں متعدد آراء ہیں لیکن ہم مختصر کریں گے چار خلفائ تک اور ان کے ماننے والوں تک اور وہ یہ ہیں:

پہلی رائے:یہ یمین ہے اور اس پر کفارہ واجب ہے۔ یہ امام اوزاعی ،ا بوحنیفہاور ان کے اصحاب کی رائے ہے بشرط یہ کہ اس سے طلاق کا ارادہ نہ کیا جائے اور بیوی سے قسم کھائی ہو۔

دلائل:سورہ التحریم کی آیات۔ ابن عباس کا قول کہ تمہارے لئے نبیۖ کی سیرت میں اسوہ حسنہ ہے۔ ابوبکر ، عمر اور ابن مسعود نے اسی پر فیصلہ کیا۔ بدایة المجتھد،اعلام الموقعین۔

دوسری رائے:یہ ایک طلاق رجعی ہے۔ یہ زہری اور سلمان بن حماد کی رائے ہے۔ تیسری رائے: یہ سعید بن جبیر،محمود بن مہران، البتی کی رائے ہے۔ چوتھی رائے: تین طلاقیں ہیں۔ یہ حسن بصری ، ابن ابی لیلیٰ ،امام مالک اور زیدیہ کی رائے ہے۔

شوکانی نے کہا:حاصل یہ ہے کہ طلاق ہوتی ہے ہر اس لفظ کیساتھ جو اس پر دلالت کرے مستقل طور پراگر اس سے طلاق کا ارادہ کیا جائے، پس الفاظ کی تعداد میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔

مندرجہ بالا تین طلاق پر استدلال کیا تین امور سے۔

1:علی، زید بن ثابت اور ابوہریرہ نے اس پر فیصلہ دیا تھا۔
2:امام مالک نے استدلال کیا حضرت علی کے فعل سے ۔

اجتہاد الخلفاء الاربعة : محمود داؤد العبیری

اسی کتاب کے مسئلہ3کے نمبر5میں حرام کا مسئلہ بیان کیا اور پھر مسئلہ4بھی یہ بنادیا اور انواع واقسام کے تضادات بھی ڈال دئیے لیکن اگر غور کیا جائے تو صحابہ کرام کے فیصلے اور فعل سے تین طلاق کا استدلال لیا گیا ہے اور فیصلہ تنازع میں ہوتا ہے اور تنازع کی صورت طلاق صریح، کنایہ وغیرہ تو چھوڑ دیں جب ایلاء میں نبیۖ نے طلاق بھی نہیںدی تھی تو پھر بھی اللہ نے ازواج مطہرات کے پاس ایک ماہ کے اندر جانے پر بھی حکم دیا کہ ان کو طلاق کا اختیار دیں تاکہ مسلمانوں پر یہ واضح ہوجائے کہ طلاق سے رجوع کیلئے علت عورت کی رضامندی ہے اور جب عورت راضی ہوتو پھر الفاظ کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور میاں بیوی کا معروف طریقے سے راضی ہونا شرط ہے ایک دفعہ شوہر نے قدم اٹھایا تو پھر عورت کو اختیار منتقل ہوجاتا ہے۔ تنازع کی صورت میں حضرت عمر اور حضرت علی کے فیصلے قرآن و سنت کے مطابق تھے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیراور وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ واسرائیل کی ایران و لبنان جس طرح جنگ بندی کرائی ہے اور صلح کی کوشش میں مگن ہیں ۔ اگر وہ پہلے پاکستان اور پھر عالم اسلام کی سطح پر طلاق اور رجوع اور صلح کے حوالے سے ایک اجلاس طلب کرلیں تو ہوسکتا ہے کہ اللہ ہم سب پر اپنے فضل وکرم کے عظیم دروازے کھول دے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

مسئلہ طلاق وحلالہ علت معلول
قابل غور دلائل ملاحظہ کریں :
دلچسپ اور عجیب غور کروتوسہی!