انگریز کے پیدا کردہ مسائل کا حل نکالیں! ولی خان
جون 4, 2026
انگریز کے پیدا کردہ مسائل کا حل نکالیں! ولی خان
اور ہندوستان میں بنگالی رکن پارلیمنٹ کی مودی کو چماٹیں
انگریز کے پیدا کردہ مسائل کا حل نکالیں! ولی خان
آئین کی بات کرینگے تو آئینی راستہ اختیار کرینگے۔ قانون کی بات کرینگے تو قانونی راستہ اختیار کرینگے۔ جمہوریت کی تو جمہوریت کا راستہ اختیار کرینگے۔ شرافت کی تو شرافت کا راستہ اختیار کریں گے۔ ہاں! اگر وہ اس ملک میں بدمعاشی کرینگے، تو ہم نے انگریز کی بدمعاشی نہیں مانی، تیرے باپ کی بدمعاشی نہیں تو تو کون ہوتا ہے کہ ہمارے ساتھ بدمعاشی کرے۔ بات بالکل ختم ہے جی۔ جو حکومت ملک میں امن قائم نہیں کر سکتی، اس کو کیا حق پہنچتا ہے کہ یہاں پر آ کے حکمرانی کرے گی؟ یہ کوئی ہمارے جاگیردار ہیں؟ ہم انکے ہاری ہیں ۔اس ملک کے حاکم ہیں اور جو حکومت آپ کو قوم کو تحفظ نہیں دے سکتی اسے کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اس ملک پہ حکمرانی کرے۔ اور اب تو بالکل بات کھل کے سامنے آئی ہے۔ باہر والے ہم سے پوچھتے ہیں کہ کراچی کے مسئلے کا کیا حل ہوگا؟ بھائی کراچی کا مسئلہ سیاسی ہے اور سیاسی مسئلے کا حل سیاسی ہونا چاہیے۔
اگر سیاسی مسئلے کو فوجی طریقے سے حل کریں گے، تو ایک تجربہ اس کے باپ (بھٹو) نے کیا تھا جی۔ہم نے مشرقی پاکستان کے سیاسی مسئلے کو فوجی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی، نتیجہ ظاہر ہے کہ اپنا ملک ہم نے توڑا اور اپنے فوج کو ذلیل کروایا۔ ایک لاکھ فوجی ہم نے ہندوستان کے قید میں دیے ۔ اب بھی ہم یہ کہتے ہیں ڈھائی سال تک سندھ فوج کے تحویل میں رہا ہے ۔ ہم یہی کہتے رہے کہ یہ فوج پیپلز پارٹی کی نہیں پاکستان کی فوج ہے ۔ ڈھائی سال سے ہم کہتے رہے کہ سیاسی حل ڈھونڈو ، فوجی حل سے مسئلہ نہیں حل ہوگا۔ فوج کو تنخواہ بینظیر بی بی نہیں دے رہی، یہ کوئی شخصی ذاتی نوکر زرداری صاحب کے نہیں ہے ۔ ان کو پیپلز پارٹی کو کہنا چاہیے کہ تم اپنا سیاسی جنگ خود لڑو، پاکستان کے فوج کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ ان کے جا کے سیاسی پالیسیوں کو جا کے وہ دفاع کرے اور اس کے لیے لڑے۔
اب بھی ہم کہتے ہیں کہ اس مسئلے کا سیاسی حل ڈھونڈنا ہوگا۔ فوج سے، رینجرز ، پولیس، تشدد ، گولی سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ کراچی کے عوام کی نمائندگی کون کرتا ہے ؟ پیپلز پارٹی کرتی ہے؟ نہیں!مسلم لیگ کرتی ہے؟ نہیں!اے این پی کرتی ہے؟ نہیں! تو کراچی کے عوام کی نمائندہ جماعت ایم کیو ایم ہے ۔ کچھ بھی ہوں ان کی اپنی پالیسی مگر جب تک ایم کیو ایم کو نہیں بٹھائیں گے، ان سے سمجھوتہ نہیں ہوگا، سیاسی عمل میں شریک نہیں کریں گے، یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا، بات بالکل واضح ہے ۔
ایک دفعہ میں پنڈی پریس کلب میں گیا تو ایک صحافی نے کہاکہ ایک بہت ہی ایک عجیب مسئلہ اٹھا…
ضیا الحق نے بلایا اور کہا کہ بھائی اسلام میں کوئی اپوزیشن کی پارٹی نہیں کوئی حزب اختلاف نہیں صرف حزب اللہ ہے۔ اپوزیشن غیر اسلامی حرکت ہے، تو میں نے ہنس کے کہا کہ جنرل صاحب سے آج کل ہمارے ذرا تعلقات کشیدہ ہیں وہ مل نہیں رہے اور نہ ہمیں کوئی ارادہ ہے ان کے پاس جانے کا مگر خالص اسلام کی بات کرتے ہیں تو ہم بھی خالص اسلامی بات کریں گے۔ ایک امیر المومنین کا لڑکا یزید۔ دوسرے امیر المومنین کے صاحبزادے کا نام تھا حضرت حسین رضی اللہ عنہ۔ تو جنرل صاحب سے پوچھیں کہ یزید نے خلافت کا دعوی کیا تو حسین نے بیعت کی کہ نہیں کی؟ ۔ ایک جوان نے کہا سر داد نہ داد دست در دست یزید۔ حسین نے تو اپنا سر دیا مگر اس کی بیعت نہیں کی۔ میں نے کہا جزاک اللہ تو جا ؤکہو ضیا الحق کو کہ ہمت ہے کہ کہے کہ حضرت حسین نے جو کردار ادا کیا وہ غیر اسلامی ہے جی؟ ۔ اور اگر وہ غیر اسلامی نہیں ہے تو اس کو کہو…یہ ہمارا سر کسی آمر کے سامنے نہیں جھکا۔ تم لگے رہو تم سنت یزیدیہ ادا کرو اور انشا اللہ ہم سنت حسینیہ ادا کر کے مقابلے میں لڑیں گے۔ تو یہ جو اس طریقے سے بات کرنی تھی، ہمیں کیا پتا، ہمیں نہ پرمٹ چاہیے نہ لائسنس چاہیے نہ وزارت چاہیے نہ صدارت چاہیے۔
ہمارے صوبے میں پیپلز پارٹی کی ایز اے پولیٹیکل پارٹی کچھ بھی حیثیت نہیں۔ ایک صحافی نے کہا کہ یہ ممبر بک رہے ہیں یہ جو آفتاب خان ممبر خرید رہے ہیں تو آپ صابر شاہ کو بھی کہیں کہ وہ بھی ممبر خریدے۔ میں نے کہا جی ممبر تو وہ خرید لے گا مگر اسے ایک تکلیف ہے، مسلمان ہے پیر ہے پیر زادہ ہے جی۔ اس نے کہا جی وہ کہتا ہے کہ اب تو خریدنے سے ذرا بات آگے نکل گئی ہے ۔ میں نے کہا وہ کہتا ہے میں وزیر بنا لوں گا، محکمہ دے دوں گا، گاڑی دے دوں گا، جھنڈا بھی دے دوں گا، بنگلہ بھی دے دوں گا، چلو تمہاری بات صحیح پیسہ بھی دے دوں گا۔ مگر میں کہتا ہوں اس ملک میں ایک خاتون ہے جو سچ بولتی ہے اور اس کا نام ہے نصرت بھٹو۔ اس نے کہا ہے کہ ہمارے جو پختونخواہ کے ممبر اغوا کر کے کراچی لائے تھے، میں نہیں کہہ رہا، اجمل صاحب نہیں کہہ رہے، حاجی صاحب نہیں کہہ رہے۔ نصرت بھٹو کہتی ہے کہ ان ممبروں کو انہوں نے شراب کا انتظام کیا تھا اور ان کو لڑکیاں سپلائی کی تھیں۔ تو میں نے اس کو کہا…
اس صحافی کو میں نے کہا جی وہ پیسہ بھی دے دے گا، محکمہ بھی دے گا، اگر تم ٹھیکہ لیتے ہو یہ لڑکیوں اور شراب کا تو میں ان سے بات کر لوں ۔
آپ خود اندازہ لگائیں اس ملک میں ایسے لوگ ہیں جو اپنے آپ کو علما ء کرام کہتے ہیں جی۔ وہ ایسے معاشرے میں ایسی حکومت کے ساتھ بیٹھے ہیں جی۔ کیا کیا بات کہیں۔ ایک صاحب اٹھے جلسے میں کہاکہ خارجہ پالیسی میں یہ کمی ہے یہ خرابی ہے ۔ میں نے کہا جی دیکھئے وہ پرانی باتیں چھوڑیں۔ اب انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ بڑا حیران ہوا۔ میں نے کہا دیکھئے نواز شریف وزیراعظم نے بینظیر صاحبہ کو خارجہ امور کی کمیٹی حوالہ کی کہ تعلیم یافتہ ہیں، دنیا میں شناخت ہے ، باہر سے تعلیم حاصل کر کے آئی ہیں، تجربہ رکھتی ہیں، جب بینظیر خود آئی، تو اس نے مولانا فضل الرحمن کو خارجہ پالیسی…تو اور کیا چاہیے تو انشا اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اب یہ مذاق ہے کہ نہیں ملک کیساتھ ؟…
ایسے آدمی کو وزارت خارجہ سونپ دو جوسکول بھی نہیں گئے اور جو اسلام کیساتھ ہو رہا ہے ۔
اقبال احمد خان اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ہو گئے، کچھ تو خدا کا خوف کریں کیا ہو رہا ہے اس ملک میں ۔ ملک کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، اسلام کا مذاق اڑایا جا رہا ہے اور ہمارے علما کرام جو اپنے آپ کو کہتے ہیں آرام سے بیٹھے کہتے ہیں حلوہ کھلا ؤجائے بھاڑ میں ملک بھی جائے اور اسلام بھی جائے۔ اس لیے اب یہ ذمہ داری آپ کی بنتی ہے ، قوم کی بنتی ہے ۔ کیونکہ ہم آپ کے پاس آتے ہیں تو ہم آپ کو اپنے کام کے لیے نہیں کہتے، خود سوچیں ان باتوں پہ۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہم آپ کو جو راستہ دکھائیں گے، وہ آبادی کا راستہ ہے، وہ امن کا راستہ ہے، اس ملک میں بھائی چارے کا راستہ ہے ۔
ایک دوسری ویڈیو سے مختصر اقتباسات ….ملاحظہ کریں۔
باچا خان نے انیسویں صدی کے آخری عشرے میں جنم لیا اور پیدا ہوئے۔ اس وقت کے حالات، اس علاقے کے سیاسی حالات یا سیاسی ماحول، قومی ماحول، عوامی ماحول اور مذہبی ماحول، اگر دیکھا جائے تو ہم اندازہ کر سکیں کہ باچا خان کے سامنے کونسی مشکلات تھیں۔ انگریز حاکم تھا ۔ درانی اور سکھوں کا دور ختم ہو چکا تھا ۔ افغانستان پہ انگریز اپنی حکمرانی قائم کرنے میں دو مرتبہ شکست کھا کے واپس آیا تھا اور امیر عبدالرحمن خان کو وہاں تخت پہ بٹھایا اور افغانستان کو اس نے ایک بفر اسٹیٹ کی حیثیت دی۔ اس سے پہلے سردار یعقوب خان سے اس نے جو معاہدہ ”گندمک”کے نام سے کیا تھا، جس کی تفصیل میں میں نہیں جانا چاہتا، جس کی طرف کافی اشارہ ہوا ہے مقالوں میںیہ علاقے ان سے چھین کے انگریز نے اپنے قبضے میں لے لیے۔دلچسپی یہ تھی کہ کس طرح پر وہ زارِ روس کی اس پالیسی کو روکے جس سے وہ وسطی ایشیا میں آیا تھا۔ اس کی وہ پیش بندی کرے۔ تو اس لیے یہ درے جو افغانستان کی طرف جاتے ہیں، جیسے میرے بھائی محمود خان نے ابھی کہا کہ پختونوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ کچھ حصہ افغانستان ، کچھ بلوچستان، کچھ ”یاغستان”اورکچھ ایجنسیوں کے نام اور قبائلی علاقے کے نام سے آئے، کچھ کو، کچھ حصوں کو انہوں نے ریاستوں میں تبدیل کیا اور کچھ باقی انہوں نے اپنے زیرِ اثر یہاں پر صوبہ سرحد کے نام سے ہندوستان کے ساتھ ملا لیے ۔
اس طرح سے انہوں نے اس پورے خطے کو…کیونکہ انگریز چلا تھا کلکتہ سے اور100سال کی حکمرانی کے بعد پہلی مرتبہ اس کو شکست اس سرزمین پہ ہوئی جس کو آج پختونوں کی سرزمین یا افغانستان کہا جاتا ہے ۔ اس لیے وہ چاہتا تھا کہ ان کی قوت کو وہ زائل کرے اور زائل کرنے کا کوئی طریقہ ان کے پاس تھا ہی نہیں ماسوائے اسکے کہ وہ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اور پھر ٹکڑے بھی کیسے ، پچھلی صدی اس وقت تک پوری پالیسی کا محور ایک ہی تھا کہ روس کا راستہ روکا جائے ۔ اس وقت زارِ روس کی بات تھی، وہاں انقلاب نہیں آیا تھا مگر اس کی پیش قدمی روکنے کیلئے یہ سارے درے جو جتنے بھی ہیں، ہمارے راستے جو افغانستان کی طرف سے جاتے ہیں، یہ انگریز نے اپنے قبضے میں لے لیے اور آپ کو سن کے حیرت ہوگی کہ آپس میں ان کا کوئی طریقہ، تسلسل نہیں اور رابطہ نہیں رہا۔ ایک ریل درگئی تک مالاکنڈ درے کی طرف، دوسری لنڈی کوتل کی طرف ، تیسری ٹل کوہاٹ کے راستے سے اور چوتھی ٹانک کے راستے سے، مگر آپس میں ان کا کوئی رابطہ نہیں۔ کوشش ان کی یہ تھی کہ ان کو بانٹا جائے تاکہ ان کا رابطہ ایک دوسرے کے ساتھ نہ رہے اور ایک ایجنسی کا دوسری ایجنسی کیساتھ۔یہ حکومتِ وقت کی اس وقت پالیسی تھی کہ کس طرح ہم ان پر ایڈمنسٹریشن ایسا چلائیں کہ ان کا دوسرے سے تعلق نہ ہو اور اکیلے اکیلے ان لوگوں سے ڈیل کریں مگر مقصد صرف ایک جو آج شاید زیادہ واضح ہمارے سامنے آ جاتا ہے کہ کیونکہ آج افغانستان کے مسئلے میں وہی پالیسی امریکہ کی ہے، وہ انگریز کی پالیسی جو آخر میں امریکہ کی جھولی میں ڈال دی کہ بھائی ہمارے بس کا کام اب نہیں رہا ۔
یہ تھا سیاسی ماحول اس وقت کا۔ پھر انہوں نے اس پورے خطے کو مختلف قومیتوں، قبیلوں میں تقسیم کیا اور ایک دوسرے کے ساتھ رابطے کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی۔ ہر ایک کہتا ہے، کوئی وزیر ہے، کوئی کوئی ہے۔تصور ہی پختون کا انہوں نے ختم کروایا کہ میں وزیر، میں شنواری، میں آفریدی ، میں مہمند زئی ، میں یوسف زئی، میں باجوڑ کا رہنے والا ہوں۔ اسی طرح سے اگر اس سطح پر بھی ان میں اتفاق اور اتحاد کی بات ہو سکتی تھی تو اس کو بھی انہوں نے توڑنے کی کوشش کی تھی۔
میں مختصراً بتاؤں گا انگریز خود کہتا ہے، دستاویزات اس بات کی گواہ ہیں کہ یہاں پر جو پہلے خاندان ہیں ، جو خان ہے، جو ملک ہے ، ان کو ہٹاؤ، اپنے خان بناؤ، اپنے ملک بناؤ، اپنے پودے لگا ؤتاکہ وہ پودے تمہارے رحم و کرم پہ ہوں اور جب تم ان کیساتھ ایسا نہیں کرو گے تو پودوں میں جان نہیں ہوگی، یہ پالیسی ان کو ملی تھی وراثت میں۔
پھر بھی معلوم نہیں یہاں پر آج پھر اسلام اور کفر کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں انگریز کی وراثت میں یہ زمین ملی ہے، جیسے انگریز ان کا باپ ہے، میں نہیں کہتا خود کہتے ہیں کہ ہم انگریز کے وارث ہیں ۔باپ کے بغیر کسی اور کی جائیداد کس کو ملتی ہے؟۔افغانستان کے ساتھ فرنگی نے جو معاہدہ کیا تھا، وہ بھی تمہیں وراثت میں ملا ہے۔ بہرکیف، وہ پالیسی وہی وہ چلتے رہے، ملا کو انہوں نے خریدا اور خان کو خریدا، خان اور ملک کے ذریعے سے پورے معاشرے، عوامی ماحول پہ قبضہ کر رکھا تھا ۔ آج100سال کے بعد بھی اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ جو ہے، وہی مذہبی ماحول کا مسئلہ ہے۔ آج بھی وہی مسئلہ ہے۔ آج بھی آپ دیکھ رہے ہیں ، آج بھی کس طرح سے یعنی اسلام کو کس طرح سے ان سامراجی اور نوآبادیاتی قوتوں کے حق میں استعمال کیا جا رہا ہے، جس طرح سے وہ اس وقت کیا کرتا تھا۔ تو وہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔
انگریز کو ہندو سے نہیں مسلمانوں سے خوف تھا اسلئے کہ اگر پورا ہندوستان، افغانستان، ایران، ترکی ،افریقہ ،عرب ممالک اور یورپ سے مل جاتا تو اسلام پوری دنیا کی بڑی طاقت تھی۔ ہندو نے کبھی بیرونی قوت کے آگے مزاحمت نہیں کی ۔ انگریز مسلمانوں کو تقسیم کرنا چاہتا تھا۔ مختلف ریاستوں میں بانٹ دیا۔ انگریز کے خلاف مزاحمت کرنے اور وطن کی خاطر قربانی دینے والے غدار بن گئے اور انگریز کے پروردہ ملک کے مالک بن گئے۔ انگریز نے ان کو ہم پر مسلط کردیا۔
قیوم خان کے وقت میں جب مجھے کچھ سال قید کی سزا ہوئی تو منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کی۔ بچے کو زمین پر پھینک دیا اور جھولا اٹھا کر لے گئے۔
ہم پاکستان کے مخالف نہیں انگریز کیخلاف تھے مگر مملکت خداداد پاکستان نے ہمارے کارکنوںکو ننگا کرکے سڑکوں پر گھمایا اور ننگا کرکے بہو، بیٹی اور خاندان کے سامنے گھروں میں بھیج دیا۔ کرک کے ایک کارکن عبدالغفار خان نے خط لکھا کہ ہم نے ہرقسم کی سختیاں برداشت کیں، جیل کی سزا کاٹی لیکن گھر کی بے حرمتی برداشت نہیں ہوتی ۔اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا ورنہ قیوم خان سے لیکر ایک ایک کو گولی مارتا۔ پولیس اور مسلم لیگ کے کارکن گھروں میں گھس عزت خراب کرتے ہیں اسلئے خود کشی پر مجبور ہوں۔ گاندھی نے کہا تھا کہ یہ معجزہ ہے کہ غفار خان نے پختون قوم کو عدم تشدد سکھائی جن کی طاقت ہے مزاحمت کرنے کی ۔ہم تو مجبور ہیں عدم تشدد پر ہم تو مزاحمت کرنہیں سکتے۔ جنرل ضیاء الحق کو میں نے کہا کہ آبائی وطن چھوڑ کر اس ملک کیساتھ تم تھوڑی وفادار ہوسکتے ہو؟۔ اگر فائدہ کمالیا تو باہر جائیداد بنالی اور ملک چھوڑ کر بھاگے۔ ہم نے یہاں رہنا ۔ہمارا یہ آبائی وطن ہے۔ آبائی وطن سے وفا نہیں کی تو اس وطن سے کیا وفا کروگے۔
تمہاری لڑائی سامراج کیلئے ہے روس سے دشمنی نہیں امریکہ سے دوستی ہے۔ چین بھی کمونسٹ ہے جس کیلئے دختران اسلام کو سڑکوں پر نچاتے ہو اور گل پاشی کرتے ہو۔
سوات سے آتے وقت راستے میں قاضی غازی کی چاکینگ دیکھی۔ جہاد افغانستان میں غازی ادھر بنا پھرتا ہے۔ یہ سب سامراج کیلئے ہے جہاد کیلئے نہیں۔ یہ گوریلا وار یہاں پر تباہی لائے گا ۔ امریکہ جینوا معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا لیکن پاکستان کرتا ہے اسلئے پاکستان استعمال ہورہاہے۔
ــــــــــ
بنگالی رکن پارلیمنٹ کی مودی کو چماٹیں
ہم لڑتے ہیں آپ سے، آئین ہاتھ میں لے کر لڑتے ہیں، ہمارے ہاتھ میں تلوار نہیں ہے سر۔ بھارت کس سے تیل خریدے گا، کتنے دنوں کے اندر خریدے گا، کس سے دوستی نبھائے گا، کس سے دشمنی برقرار رکھے گا، کسی اور دیش کا صدر ہمیں ٹویٹر پر آ کر لیکچر دیتا ہے، ہدایات دیتا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ ہم احتجاج نہ کریں اور ہم چپ بیٹھیں۔
تو لاکھ بے وفا ہے مگر سر اٹھا کر چل دل رو پڑے گا تجھے پشیمان دیکھ کر
صرف پارلیمنٹ چلانے میں ہر منٹ ڈھائی لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔2014سے لے کر2024کے سرمائی سیشن تک کل ملا کر3,300کروڑ روپے کا نقصان ہوا، کیوں؟ کیونکہ آپ نہیں چاہتے تھے کہ اہم موضوعات پر بحث ہو۔ یہ اپوزیشن کا کام ہے سوال اٹھانا، اور یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ ہر سوال کا جواب ہر اس انسان کو دے جس کے ٹیکس کے پیسے سے یہ ایوان چلتا ہے۔
یہ طاقت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے جس ڈال پر بیٹھے ہیں وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
اسلئے خواب ضرور دیکھئے، لیکن خوابوں میں گھر بنا کر رہنے کی غلطی مت کیجیے گا۔آپ صحیح کہتے ہیں سر کہ دیش دیکھ رہا ہے دیش سچ میں دیکھ رہا ہے کہ کیسے اپوزیشن آہ بھی کرتی ہے تو ہو جاتی ہے بدنام، اور وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔
آج303سے زیادہ ایم پیز،2,000سے اوپر ایم ایل ایزآپ کے،21ریاستیں آپ کی ہیں۔ ہر بحث، مکالمے اور ہر بل پر بولنے کیلئے70فیصد وقت آپ کو ملتا ہے۔ میڈیا آپ کا۔ اور آپ بولتے ہیں کہ ہم ایوان میں آواز نہ اٹھائیں، اس کی مخالفت نہ کریں۔ ہم اپنے لیڈر کا نام ایک سے زیادہ دو بار بولیں تو ہم پر روک لگائی جاتی ہے اور ٹریژری بینچ والے وہاں بیٹھ کر پارٹی کا نعرہ لگاتے ہیں اور اپنے رہنماؤں اور وزیروں کا نام جپتے ہیں، تو تب سب ٹھیک ہے سر، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
آپ اوور نائٹ رات کے12بجے،1بجے بلز لے کر آتے ہیں اور عام بلز نہیں سر، وہ بلز جو لوگوں کے حال اور ان کے مستقبل کے ساتھ براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ سر!ہم کریں بھی تو کریں کیا، جائیں بھی تو جائیں کہاں؟ آدھے سے زیادہ بل تو اس ایوان میں بغیر کسی بحث کے پاس ہو جاتے ہیں۔ سر! باہر احتجاج کرتے ہیں توFIRہو گی،EDCBIہو گی، کارروائی ہو گی، اور ایوان کے اندر احتجاج کریں تو معطل کر دیں گے۔ سر! باہر بھی بلڈوزر چلائیں گے اور ایوان کے اندر بھی بلڈوزر چلائیں گے، سر ایسا نہیں ہوتا۔الیکشن کمیشن کے بل بوتے پر لاکھوں کروڑوں ووٹرز کا نام کاٹ رہے ہیں آپ بولتے ہیں کہ ہم ایوان میں آواز نہ اٹھائیں، اس کی مخالفت نہ کریں۔100سال سے اس ملک کو اپنا گھر، اس دھرتی کو اپنی ماں سمجھنے والے ہر دھرم، ہر برادری کے لوگوں کے عزتِ نفس کو دن دہاڑے اپنے پیروں تلے کچلنے کا کام کیا ہے آپ نے، اور آپ کہتے ہیں کہ ہم احتجاج نہ کریں اور ہم چپ بیٹھیں۔
آپ صحیح کہتے ہیں سر کہ دیش دیکھ رہا ہے۔دیش سچ میں دیکھ رہا ہے کہ کیسے اپوزیشن آہ بھی کرتی ہے تو ہو جاتی ہے بدنام، اور وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔
ہم مانتے ہیں کہ ایل او پی کا صلاح کار کوئی نہیں ہے سر، لیکن وزیرِ اعظم جی کا صلاح کار بن کر ان کو ایوان میں آنے سے روک دیا یہ کہہ کر کہ خاتون ارکانِ پارلیمنٹ سے ان کو خطرہ ہے۔ سر! آپ نے تو ہمیں دیش واسیوں کے سامنے آتنگ وادی بنا دیا۔ جبکہ اصلی آتنگ وادی اس دیش میں سائیکل چلا کر گھس جاتے ہیں اور پیدل واپس چلے جاتے ہیں، آپ ان کو روک نہیں پاتے۔بھارت پر چین کی جارحیت آپ روک نہیں پاتے۔ بھارت کس سے تیل خریدے گا، کتنے دنوں کے اندر خریدے گا، کس سے دوستی نبھائے گا، کس سے دشمنی برقرار رکھے گا، کسی اور ملک کا صدر ہمیں ٹویٹر پر آ کر لیکچر دیتا ہے، ہدایات دیتا ہے، آپ اس کو روک نہیں سکتے اور ایوان میں ہم ارکانِ پارلیمنٹ کو روک کرآپ اپنی انا کی تسکین کرتے ہیں۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ