پوسٹ تلاش کریں

ٹرمپ کا نجومی انہیں بتاتا ہے کہ مہدی، امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں ظاہر ہوں گے

ٹرمپ کا نجومی انہیں بتاتا ہے کہ مہدی، امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں ظاہر ہوں گے اخبار: نوشتہ دیوار

”عنقا مغرب” آج کا عنوان : ”ٹرمپ کا نجومی انہیں بتاتا ہے کہ مہدی، امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں ظاہر ہوں گے”۔ دوستو! دوسری قسط میں منظر نامے کی گہرائیوں میں اتریں گے جس کا سامنا ہے۔ کمزوری، نفاق اور ٹیکسوں/ جزیہ وصولی پر بات کرنے کے بعد، عظیم اصلاح کار پر غور کرتے ہیں جن کی وہ صفات ابن عربی نے بیان کی ہیں کہ عقلیں حیران ہیں۔

مہدی اس طرح نہیں جیسا کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ تلوار اور جبر سے آئے گا، بلکہ مطلق عدل اور ایسے علم سے حکومت کرے گا جس کا ثانی نہ ہو۔
ابن عربی نے ”عصائے موسی کا حامل” قرار دیاہے۔ یہ وصف صرف قیادت کی علامت نہیں بلکہ یہ مضبوط حجت اور باطل کو بے نقاب کرنے کی صلاحیت کی علامت ہے۔

پہلی صفت ”عدل”سے مراد انتخابی یا متبادل عدل نہیں بلکہ وہ عدل جو چیزوں کو صحیح مقام پر رکھتا ہے، جیسے انبیاء کرتے تھے نہ وہ خواہشات کی طرف جھکتا ہے اور نہ ملامت سے ڈرتا ہے۔

ان کا علم جسے ”علمِ لدنی”یا ”علمِ کتاب”کہتے ہیں۔ جسکے پاس کائناتی قوانین کی چابیاں ہوں، وہ جادوگر نہیں وہ سمجھتا ہے کہ دنیا میں جو ہو رہا ہے کیوں ہو رہا ہے۔ وہ پردے کے پیچھے کا منظر دیکھتا اور بڑی طاقتوں کی چالوں کو سمجھتا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی وسائنسی منصوبے یا شیطانی سحر جسکے ذریعے تاریک قوتیں بڑے فتنوں کی تیاری کر رہی ہیں، انکے پیچھے کیا مقصد ہے؟۔

انکے پاس مکڑی کے جالوں کو دیکھنے کی بصیرت ہوگی جو دنیا کے گرد بنے گئے اور وہ خاموشی سے ان جالوں کو توڑ دیں گے۔

وہ” محمدِ عمل” ہیں، یعنی حقیقت کو بدلنے کیلئے آسمان سے معجزات کے نازل ہونے کا انتظار نہیں کریں گے، بلکہ ظاہری اسباب ، مشورہ، منصوبہ اور انتہائی ذہانت کے ساتھ معاملات کو چلائیں گے بالکل جیسے ہمارے نبی حضرت محمد ۖ کرتے تھے، جنہوں نے سکھایا کہ اسباب کو اختیار کرنا توکل کی روح ہے۔

لیکن ”محمدِ عمل”ہونے کیساتھ وہ ”عیسی روح”بھی ہیں۔ اس کا مطلب مکمل الٰہی تائید و نصرت کیساتھ جی رہا ہوگا، گویا وہ زمین پر چلتا پھرتا زندہ شہید ہے۔ وہ دنیا کی خواہشات یا ذاتی فکروں میں غرق نہ ہوگا، بلکہ اس کی روح الگ ہی ملکوت میں پرواز کر رہی ہوگی، جس کی وجہ سے ایسی ثابت قدمی حاصل ہوگی جو طاقتور ترین فوجوں کے سامنے بھی نہیں ڈگمگائے گی۔

ابن عربی نے بتایا کہ وہ ”موسی الساحر”ہیںمطلب روایتی جادو نہیں، بلکہ وہ اس دور کے حقیقی جادوگروں کی چالوں کو فاش کرنے والے ہیں، اور وہ جانتے ہیں کہ اندھیرے کمروں میں طے پانے والے شیطانی منصوبوں کو کیسے ناکام بنانا ہے۔

وہ انبیا کی صفات کے جامع ہیں:حضرت سلیمان سے وہ مخفی قوتوں سے نمٹنے کی حکمت لیتے ہیں۔حضرت داؤد سے اپنے ہاتھ سے کام اور خود انحصاری اور حضرت یوسف سے خوابوں کی تعبیر اور معاملات کی گہرائی کو سمجھنے کی صلاحیت لیتے ہیں۔

یہ اصلاح کار ”صاحبِ مصر”انتہائی عاجزانہ و لطیف پرورش والے ہوں گے، وہ متکبر یا اقتدار کے بھوکے نہیں ہوں گے۔ وہ ہمارے درمیان موجود لیکن انہیں صرف چند نایاب لوگ ہی دیکھ پائیں گے وہ لوگ جنہیں اللہ نے خاص بصیرت عطا کی ہو۔ تصور کریں کہ روزانہ کتنے ہی لوگ اس شخص کے پاس سے گزرتے ہوں گے اور ان کی طرف توجہ بھی نہیں دیتے ہوں گے، کیونکہ اللہ نے انہیں عام نگاہوں سے چھپا رکھا ہے۔

جب تک دھماکے کا لمحہ نہیں آ جاتا وہ چھپے رہیں گے۔

اس مبارک زمین پر دشمنوں کے چڑھ آنے کا وقت۔ اور جب دنیا تنگ ہو جائے گی، فتنے شدید ہو جائیں گے اور تمام اقوام امڈ آئیں گی، تب یہ شخص ظاہر ہو کر تمام توازن کو پلٹ دے گا۔

یہ ظہور مصر کی عوام پر بڑے فتنے کے بعد ہوگا اور یہ فتنہ دلوں کو پرکھے گا، سچے کو جھوٹے سے الگ کر دے گا۔ اور تب صرف تبھی ان کا فضل و مقام ظاہر ہوگا۔آغاز میں لشکریا فوج کی ضرورت نہ ہوگی، بلکہ ایسا رعب ہوگاجو بغیر کسی محنت کے دلوں اور عقول کو اپنی طرف کھینچ لے ۔ کائنات ان کیلئے سمیٹ دی جائے گی، یعنی معاملات اتنے آسان ہو جائیں گے جو عقلوں کو دنگ کر دے ۔شدید ترین دشمن بھی ان کے عدل کے سامنے حیران رہ جائیں گے۔ابن عربی کی مسلمان اور عیسائی کی مثال کو یاد کریں جن میں تنازع تھا۔ اصلاح کار نے حق کے مطابق عیسائی کے حق میں فیصلہ سنایا، تو مسلمان دوست کے پاس یہ کہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا: ”خدا کی قسم!اس فیصلے کے بعد آپ میرے نزدیک پہلے سے بھی زیادہ محبوب ہو گئے ہیں”۔

اس عدل کی امت کو ضرورت ہے جو عدل جو مذہب، رنگ یا نسل نہیں پوچھتا، بلکہ صرف اور صرف محض حق پر مبنی ہوتا ہے۔

ابن عربی نے بتایا: وہ ”روم(مغربی طاقتوں)کو آسان و معمولی دشمن بنا دیں گے”۔ فوجی اڈے، طیارہ بردار جہاز، دور تک مار کرنے والے میزائل ،جدید ٹیکنالوجی جو بڑی طاقتیں چلا رہی ہیںاس شخص اور ساتھیوں کی نظر میں خوف کے قابل ہی نہیں رہیں گی۔ اس کا مطلب طاقت کو نظر انداز کرنا نہیں ہے، بلکہ ایسا علم اور تدبیر ہوگی جو ہتھیاروں کوبے اثر بنا دے گی۔ وہ جانتے ہیں کہ ظلم اور کمزوری پر قائم طاقتیں حق کا سامنا کریں گی تو سارا مصنوعی رعب و دبدبہ ڈھے جائے گا۔ یہ یقین گہرے ایمان سے پھوٹتا ہے، اسی سبق کی ضرورت ہے۔ہم خالی اور بے روح طاقت کی آوازوں سے نہ ڈریں، کیونکہ ٹیکنالوجی کی طاقت چاہے کتنی ہی بڑھ جائے، جب حق اپنے سچے حاملین کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے تو وہ اس کے سامنے ٹک نہیں سکتی۔

ابن عربی نے کہا کہ ”انکے خادم میں فرشتے ہوں گے”۔

دوستو!تعجب نہ کرو، جو اللہ کیساتھ ہو، اللہ تمام کائنات کو اسکے تابع کر دیتا ہے۔ یہ خادم صرف نمائش کیلئے نہیں ہوں گے بلکہ وہ اس نظام کا حصہ ہوں گے جو بڑے انقلاب کو چلا رہا ہوگا۔

وہ خاموشی سے کام کرتے ہیں، ظہور سے پہلے جدوجہد کے سال ہو سکتے ہیں، جہاں بلاؤں اور مصیبتوں کو ٹال رہے ہوں، امن قائم کر تے ہوں جن کا ہمیں کچھ علم نہیںاور یہ محسوس کیے بغیر ہو رہا ہوگا۔ ہم اس کردار کی وسعت اور تفصیلات صرف تب ہی جان پائیں گے جب وہ ظاہر ہوں گے اور پردہ اٹھے گا۔

”عصائے موسی کا حامل”جو ظالموں کاسر توڑے گاسحر نہیں بلکہ حق اور حکمت سے جس کو سمجھنے سے ان کی عقلیں قاصر ہیں۔ سب سے زیادہ خوبصورت ان کا ”عدل”ہے جو وہ قائم کرتے ہیں۔ وہ دوسروں پر حدنافذ کرنے سے پہلے خود اپنے آپ پر حد نافذ کرتے ہیں۔ وہ اپنے بنائے ہوئے قانون سے بالاتر نہیں ہوتے اور نہ ہی خود کو عام انسانوں سے برتر سمجھتے ہیں۔

ابن عربی نے کہا: تمام علم، ہیبت، طاقت کے باوجود ” اپنے گھر والوں کو اپنے اقتدار یا حکومت میں شریک نہیں کرتے”۔ یہ بنیادی اور اہم ترین نقطہ ہے طرفداری ہوگی نہ اقرباء پروری، اور نہ ہی رشتہ داروں اور منظورِ نظر لوگوں کو نوازنا ہوگا جیسا کہ ہم اکثر نظامِ حکومت میں دیکھتے ہیں۔ تمام تر معاملہ اللہ کیلئے ہوگا اور عدل سب کیلئے یکساں ہوگا۔یہ منصوبہ صرف ایک حکمران کا نہیں یہ فوجی طاقت سے پہلے الٰہی اخلاقیات پر قائم ہے۔ لہٰذا دلوں کو تیار رکھیں اوراہل بصیرت میں شامل ہو جائیں جو شور و غل کے پیچھے چھپی حقیقت کو دیکھتے ہیں، وقت قریب حق جلد ہی ظاہر ہوگاشاید اتنا دور نہیں جتنا کچھ لوگ سوچتے ہیں۔انشاء اللہ
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

دورحاضر اور گزشتہ ادوار کے علماء حق کے نام جنہوں حق کوببانگ دہل تسلیم کیا
وجعلواالقرآن عضین اور قرآن کو بوٹی بوٹی کیاانّ قومی اتخذوا ھٰذا قراٰن مھجورا بیشک میری قوم نے یہ قرآن کو چھوڑ رکھاہے۔ (القرآن)
ٹرمپ کا نجومی انہیں بتاتا ہے کہ مہدی، امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں ظاہر ہوں گے