پوسٹ تلاش کریں

عورتوں کے وہی حقوق ہیں جو شوہروں کے ان پر ہیں معروف کیساتھ اور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے۔البقرہ

عورتوں کے وہی حقوق ہیں جو شوہروں کے ان پر ہیں معروف کیساتھ اور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے۔البقرہ اخبار: نوشتہ دیوار

الرجال قوامون علی النساء
”مرد عورتوں پر توازن کی برابری کیلئے ذمہ دار ٹھہرائے گئے ہیں”۔ النساء:34

کونوا قوّٰمین للّٰہ شھداء بالقسط (المائدہ:8)وکان بین ذٰلک قوامًا”اسراف وبخل کابیچ”۔فرقان
ــــــــــ

مردطاقتور مگرفائدہ نہیں اٹھاسکتاہے
درباری علماء آمریتوں کی ناجائزپیدوارہیں ۔
خلق الانسان من عجلٍ ساوریکم اٰیٰتی فلا تستعجلونO(سورہ الانبیاء آیت:37)
”انسان کو جلد سے پیدا کیا گیا ،عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں بتاؤں گاپس تم مجھ سے جلدی مت کرو”۔

جراثیم کی طرح تیزی سے انسان ماحول میں ڈھلتا ہے۔ بعض چیزپر زنگ جلدلگتا ہے، بعض پر اثر نہیںکرتا ۔ رسول اللہۖ نے فرمایا: ”تم لوگوں کو معدنیات کی طرح پاؤگے تمہارااچھا جاہل طبقہ اسلام میں بھی اچھا جب وہ سمجھ لیں۔ تم بہتر اس کو پاؤگے جو اسلام سے زیادہ نفرت رکھتا تھااور سب سے زیادہ برا دو چہروں والا پاؤگے جو ایک طرف کے لوگوں کے پاس ایک منہ سے آئے اور دوسرے لوگوں کے پاس دوسرے منہ سے”۔ (صحیح مسلم)

بعض لوگ کس طرح سے ماحول میں اپنے چہرے کو اچھے اور برے قماش میں بدلتے ہیں؟۔

قرآن کی واضح آیات کی غلط تفسیریں آمریت کے دور میں درباری ملاؤں نے بالکل غلط کی ہیں۔ قرآن کی مختلف آیات میں قوام کے معانی کو سیاق وسباق سے سمجھا جائے تو حقائق سامنے آتے ہیں۔ سورہ فرقان میں مؤمنوں کی صفات بیان کی ہیں کہ ”خرچ کرنے میں نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل اسکے درمیان قوام کی تلاش میں رہتے ہیں”۔

”اللہ کیلئے توازن کو قائم رکھو انصاف کیساتھ۔ کسی قوم کا انتقام تمہیں اس حد تک نہیںلے جائے کہ عدل وانصاف نہیں کرسکو”۔ (المائدہ:8)

یٰایھا الذین اٰمنوا کونوا قوٰمین بالقسط شہداء للہ و لو علی انفسکم او الوالدین والاقربین(سورہ النساء آیت135)
”اے ایمان والو! ہوجاؤ توازن برقرار رکھنے والے انصاف کیساتھ اللہ کیلئے گواہی دینے والے اگرچہ تمہاری جانوں کیخلاف ہو یا تمہارے والدین کیخلاف ہو یا تمہارے اقارب کیخلاف ہو”۔

عورت کمزور اور مرد طاقتور ہے اور اللہ نے کسی جگہ بھی کمزور عورت پر طاقتور شوہر کو فوقیت دینے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا ہے بلکہ قانون کے اندر ہر معاملے میں عورت کو تحفظ دیا ہے اور مرد کو مجبور کردیا ہے کہ عورت کو زیادہ قانونی حقوق کا تحفظ دیدے۔

سورہ النساء آیت19میں عورت کو خلع کا حق مالی و اخلاقی تحفظ کے حکم کیساتھ دیا۔ آیت20میں شوہر کو طلاق کا حق اور عورتوں کو زیادہ مالی تحفظ دیا۔

البقرہ آیت229میں عورت کو مالی تحفظ دیا مگر اصلی نسلی علماء حق نے غلط فہمی کی بنیاد پر خلع سمجھ لیااور چوڑوں چماروں اور دلوں دلالوں نے عورت کے تحفظ اور اس کو طلاق کے حقوق کی جگہ عورت کے استحصال کیلئے خلع بنادیا۔ جس دن طاقت کا توازن بدلے گا تو مفتی تقی عثمانی اور جاویداحمد غامدی سب سے پہلے دوسرے چہرے کیساتھ دکھائی دیں گے۔

سورہ نور میں لعان کا حکم واضح ہے۔ شوہر سچا اور عورت جھوٹی ہو اور شوہر اپنے گھر میں اپنی بیوی کو رنگے ہاتھ پکڑلے تو تب بھی اللہ کی متعین سزا بھی اس کونہیں دی جاسکتی ہے۔14سوسال پہلے بیوی کا تحفظ سورہ نور میں جبر کا خاتمہ ہے۔

ثم لا یجاورونک فیھا الا قلیلًاOملعونین اینما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتیلًا
”پھر وہ تمہارے پاس نہ رہیں گے مگر تھوڑے دن، یہ ملعون لوگ ہیں،جہاں تہذیب وتمدن سکھادی تو جہاںپائے جائیں قتل کیا جائے ”۔احزاب:60،61)

عورتوں کو تنگ کرنے والے اور غلط افواہوں کو پھیلانے والے معلون قرار دئیے گئے۔ جس میں ملوث عناصر کو سدھرنے کا موقع دینے کے بعد قتل کی سزا دینے کی سخت ترین خبر سنائی گئی ہے۔
ــــــــــ

شوہر اور بیوی کے حقوق میں برابری
صحافی سجاد انور نے کہا کہ” مولانا فضل الرحمن نےPDMکیلئے قربانی دی لیکن اقتدار کا وقت آیا تو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے چھوڑ دیا۔ وہ تحریک انصاف کیلئے قربانی دے گا لیکن عمران خان جب اسٹبلشمنٹ کے ساتھ صلح کرے گا تو مولانا پھر اس طرح سے اپنی پوزیشن نہیں منواسکے گا”۔

مولانا نےMRD،پرویز مشرف ، پیپلز پارٹی مسلم لیگ اورPDMمیں ہردور میں قربانی دی مگر جس طرح ڈلیوری بچہ ہر دور میں عورت جنتی ہے اور

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

جب بھی شوہر طلاق دیتا ہے تو بچوں سے بھی محروم کردیتا ہے یا پھر بچوں کو اس پر پھینک مارتاہے اور قربانیاں کمزور عورت دیتی ہے لیکن فوائد طاقتور مرد اٹھاتا ہے۔ کیا یہ اللہ تعالیٰ نے قانون بنایا؟۔

درباری مولوی کو مراعات ملتی ہیں تو ردھم کے اندر قرآن وسنت اور اپنی اوقات سب بھول جاتا ہے اور طاقتوروں کیلئے قابل قبول بیانیہ بناتا ہے۔

جنرل ضیاء الحق کا ریفرنڈم کہ اسلام چاہتے ہو یا نہیں؟ چلو وہ توفراڈیا تھالیکن تم بتاؤ کہ تم کیا ہو؟۔

وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف
” اور انکے شوہر اس(عدت) میں انکو لوٹانے کے زیادہ حقدار ہیں بشرط یہ کہ وہ اصلاح چاہتے ہوں اور بیویوں کیلئے بھی وہی حقوق ہیں جو شوہروں کے ان پر ہیں”۔ (البقرہ:آیت228)

اللہ نے ایک طرف عدت میں شوہر کو اس آیت میں طلاق کے بعد اپنی بیوی کو لوٹانے کا زیادہ حقدار قرار دیا تو دوسری طرف اصلاح کی شرط بھی رکھ دی اور پھر معروف طریقے سے دونوں کو برابر حقوق بھی دیدئیے۔ یعنی یہ رجوع معروف طریقے سے باہمی رضامندی کی بنیاد پر ہی ہوسکتا ہے۔ یہی صورتحال سورہ النساء آیت35میں واضح ہے کہ ” اگر تم ڈرو کہ دونوں میں جدائی ہوسکتی ہے تو ایک حکم شوہر کے خاندان سے اور ایک بیوی کے خاندان سے تشکیل دو اور اگر دونوں اصلاح چاہتے ہوں تو اللہ ان میں موافقت پیدا کرے گا”۔
سورہ الطلاق آیت1میں عدت میں ساتھ رہنے کا حکم دینے کے بعد فرمایاکہ
لعل اللہ یحدث بعد ذٰلک امرًا
”ہوسکتا ہے کہ اللہ موافقت کی کوئی راہ پیداکردے ”۔

یعنی باہمی رضامندی سے ہی رجوع ہوسکتا ہے لیکن مولوی درباری نے قرآن کی بوٹی بوٹی کرکے طلاق رجعی کی جعلی شریعت سے عورت کے اختیار کو غصب کردیا۔ جب اللہ نے آیت228میں تین ادوار کی عدت کا حتمی تعین کردیا تو عرش کا استواکوئی پاگل خانہ ہے کہ طلاق رجعی سے شوہر کو مرضی کے مطابق بڑھانے کا عورت کی رضامندی کے بغیر ہی ایک دوسرا متضاد حکم جاری کردے؟۔

پھر اللہ نے
الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان
میں واضح کردیا کہ عدت کے3مراحل میں3مرتبہ طلاق کا فعل الگ الگ ہے اور الگ بھی طلاق دی تو بھی حلالہ نہیں ہے جو آیت228البقرہ میں واضح ہے اور سورہ طلاق میں بھی واضح ہے۔ پھر رسول اللہۖ نے سمجھایا کہ تین طہر و حیض میں روزوں کی طرح عدت اور طلاق ایک دوسرے کیساتھ لازم وملزوم ہیں ۔ اگر مولانا انور شاہ کشمیری لکھ دیتے کہ بخاری کودرست عنوان کے تحت درست حدیث درج کرنا چاہیے تھی تو یہ نہ کہتے کہ میں نے اپنی ساری زندگی ضائع کردی ۔مفتی تقی عثمانی نے سود کو جواز بخش دیا تو ”کٹاکٹ میں ہڈی تلاش کرلی” مگر مسلمانوں کو اس کا کیا فائدہ ہے؟۔ علماء خود کواب بدل ڈالیں۔
ــــــــــ

عورت کمزور مگراللہ نے مکمل تحفظ دیا

دنیا حیران ،پریشان اور سرگردان ہے کہ شوہر کو غصہ آگیا اور3طلاق کا لفظ منہ سے نکال دیا لیکن پھرسزا حلالہ کی لعنت سے عورت کیوں کھائے؟۔

اگر عورت کو پتہ چل گیا کہ خدا نے14سو سال پہلے نہ صرف حلالہ کی لعنت سے آزادی دلائی بلکہ وہ حقوق دئیے ہیں جس کا جدید ترقی یافتہ دنیا میں بھی کوئی تصور نہیں ہوسکتا ہے تو اسلام قبول کرے یا نہیں کرے لیکن اسلامی نظام خلافت کو دنیا کی تمام عورتیں جمہوری بنیاد پر ووٹ ڈالیں گی جس ملک، مذہب اور براعظم سے بھی اس کا تعلق کیوں نہ ہو۔

مولوی دلا ٹغ نے قرآن میں عورت کے حقوق کو دیکھا ہی نہیں بس حلالہ کی لعنت پر چڑھ دوڑنے کیلئے اس شیطانی لشکر کا کارندہ بن گیا جس کا اللہ نے فرمایا کہ وہ تمہیں دیکھتا ہے اس طرح کہ تم اسے نہیں دیکھتے ۔ (سورہ اعراف آیت27،28)

جب کسی لڑکی کو کچے کے ڈاکو زبردستی سے اغواء کرکے لے جائیں اور ایجاب و قبول کروالیں تو یہ مفتی تقی عثمانی کی شریعت میں نکاح ہے جب تک شوہر خود طلاق نہیں دے تو نکاح عدالت سے بھی ختم نہیں ہوسکتا اور اگر عدالت سے خلع لے اور کسی اور شوہر سے نکاح کرلے تب بھی اس ظالم مفتی کا یہی فتویٰ ہے کہ اسی ڈاکو کے نکاح میں ہے۔

دوسری طرف شک پر بھی کہ تین طلاق دی ہے یانہیں؟۔بہرصورت حلالے کا فتویٰ دیتا ہے اسلئے کہ سود خور کو حلال وحرام کی بہت زیادہ فکر ہے اور پھر فتوے میں شوہر اور بیوی کا نام بھی لکھ دیتا ہے جو معاشرے میں حلالہ پر مجبور کرنے کی غمازی ہے۔

بنومروان نے جبری حلالہ مسلط کیا اور بنوعباس نے جبری طلاق کی داغ بیل ڈال دی ۔ خاندان غلاماں کے دور میں اسلام بالکل اجنبی بنا۔ اسلام کو مشکل سے نکالنے میں پاکستان کا کردار اہم ہے۔

اللہ نے بار بار واضح کیا کہ” معروف کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے”۔ جو کسی بھی قسم کے جبر،دباؤ اور منکرات کی صاف صاف نفی ہے۔ پشتوزبان میں کہتے ہیں کہ” جس میں خو(اگر مگر) نہ ہو”۔

جیسے عناصر ایٹم اور جاندار کے جسم خلیے سے بنتے ہیں ،اسی طرح معاشرتی اکائی میں میاں بیوی کا ایک بنیادی یونٹ کی طرح کردار ہوتا ہے۔ ہمارا مقصد قرآن میں دئیے گئے عورت کے حقوق کی وہ بحالی ہے جس کی وجہ سے دنیا کے تمام انسانوں میں توازن قائم ہوگا۔ محمود خان اچکزئی کی جماعت کے نواب جوگیزئی نے باقاعدہ ایک چشم دید واقعہ بتایا کہ ایک خاندان کی بچی نہیں تھی تو طے ہوا کہ جب بچی پیدا ہوگی تو اس کی فلاں سے شادی ہوگی۔ پھر پیدا ہوئی اور جوان ہوگئی تو وہ آدمی بہت بوڑھا تھا ۔ شادی کے چند سال بعد مرگیا تو پھر دوسرے بھائی نے اور وہ مرا تو تیسرے بھائی نے شادی کی ۔

منگیتر منکوحہ ہوتی ہے اسلئے کہ ایجاب و قبول کا مفہوم دنیا جانتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی قوم کے اندر رسم تھی کہ منگنی کے بعد جنسی تعلق بھی قائم کیا جاتا تھا اورحمل کے بعد رخصتی ہوتی تھی۔ یہ حضرت آدم و حواء کے واقعہ کی ایک تصویر ہے لیکن وہاں اللہ نے منع کیا تھا اور یہاں ایک قوم کی رسم ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے ایک جگہ باپ کی منگیتر سے بیٹے کو شادی کا جواز فراہم کیا ہے اور ساتھ میں ایک بچی پر ایک مولوی اور ایک دوسرے شخص کے مشترکہ نکاح پر فتویٰ دیا ہے کہ مقبوضہ بیوی مولوی واپس کرے ۔

عمر چیمہ نے چمن کی3سالہ بچی سے60سالہ صلاح الدین کی25لاکھ کے عوض شادی کی خبر دی اور بتایا کہ اسکے بیٹے کامران نے اس کی15سالہ بہن سے15لاکھ میں شادی کی اور دھمکی دی کہ اگر وہ نہیں دیتاتو…اس کی ایک8سالہ بہن بھی ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

نوشتہ دیوار خصوصی شمارہ ستمبر 2026
اقیموا وجوھکم عند کل مسجد
بہالپورحلالہ سینٹر