نزّل علیک الکتاب بالحق مصدقًا لما بین یدیہ وانزل التوراة والانجیل
اکتوبر 28, 2026
نزّل علیک الکتاب بالحق مصدقًا لما بین یدیہ وانزل التوراة والانجیل
اس نے آپ پر کتاب حق کیساتھ نازل کی تصدیق کرتی ہے جو ہاتھ میں ہے اور اس نے توراة و انجیل کو نازل کیا۔ (سورہ آل عمران آیت3) بہت بڑانیا انکشاف
قرآن تصدیق کرتا ہے ہر اس چیز کی جو دور حاضر میں لوگوں کے ہاں موجودہے۔
ابوجہل نے نبیۖ سے کہا :میرے ہاتھ میں کیا ہے؟ پتھروں نے کلمہ پڑھ لیا
جاوید احمد غامدی ٹرٹر کرکے مسئلہ طلاق کے حقائق پر پرد ہ ڈالتا ہے تو اس کو اور اس کے داماد حسن الیاس کو بالکل پتہ ہے کہ حق کیا ہے اور وہ بالکل باطل پر کھڑے ہیں لیکن اقرار نہیں کرتے۔
شیعہ اور اہل حدیث بھی جان چکے ہیں کہ مسئلہ طلاق پر ان کا مؤقف قرآن وسنت اور فطرت کے بالکل برعکس ہے لیکن مسلکی انا اور مفادپرستی نے ان کو اپنی بدترین لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔
امام ابوحنیفہ کے پیروکار بریلوی دیوبندی بھی جان چکے ہیں کہ مسئلہ طلاق میں مسلک حنفی اصول فقہ میں بالکل درست ہے لیکن انہوں نے اپنے مسلک سے انحراف کرکے حلالہ جاری کیا
سورہ آل عمران واضح حقائق
المOاللہ لا الٰہ الا ھو الحی القیومOنزل علیک الکتاب بالحق مصدقًا لما بین یدیہ وانزل التوراة والانجیلO
ال مOاللہ نہیں اس کے سوا معبود مگر وہ زندہ تھامنے والا۔ اس نے تجھ پر کتاب کو نازل کیا تصدیق کرتی ہے جو ہاتھ میں ہے اور اس نے نازل کیا ہے تورات اور انجیل کو ”۔ (سورہ آل عمران:1،2،3)
1987ء میں جا معہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نیو کراچی کے اندر درس نظامی کی آخری تفسیر بیضاوی مولانا شبیر احمد صاحب رحیم یار خان والے سے پڑھی۔ الم کی متضاد تفسیر پر سوا ل اٹھایا تو فرمایا کہ عتیق ٹھیک کہتاہے، بیضاوی نے تفسیر غلط نقل کی ہے۔ درس نظامی دیوبندی بریلوی اور اہل حدیث بھی یہی پڑھاتے ہیں۔ شیعہ نے آل محمد مراد لیا ۔ کوئی علامہ صاحب یہ کہہ دے کہ
نحن نقص علیک احسن القصص بما او حینا الیک ھٰذا القراٰن وان کنت من قبلہِ لمن الغافلینO
” ہم تمہارے پاس سب سے اچھا قصہ بیان کرتے ہیں جو ہم نے تیری طرف اس قرآن کو وحی کیا اور اس سے قبل آپ کو اس کی خبر نہیں تھی”۔ (سورہ یوسف آیت3)
عربی میں نحن ” ہم ” اللہ جبرئیل تو تیسرا کون ہے ؟۔ یہ بقول علامہ طالب جوہری کے امام مہدی غائب یا حضرت علی۔ ممکن ہے کہ شیعہ کتابوں میں یہ روایت یا تفسیر بھی موجود ہو۔
جب شیعہ تفسیر بیضاوی کا تضاد بیان کرے گا تو اہلحدیث مولانا طلحہ اور مفتی فضل ہمدرد جیسے لوگ حامی بنتے جائیں گے۔
البقرہ:30میںملائکہ نے خلافت ارضی پر سوال کیا کہ اس کو پیدا کرو گے جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے؟۔
شکرہے کہ مولانا اللہ وسایا اورمفتی عبدالواحد قریشی نے پھر خون خرابہ اختیار نہیں کیاہے۔ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے خبر دی ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ٹیم مدارس اور مذہبی طبقات سے ملی ہے۔
آدم نے جب انکے ناموں کی خبر دی تو فرمایا
الم اقل لکم انی اعلم غیب السمٰوٰت والارضO
”کیا میں نے نہیں کہا کہ میں آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا ہوں؟”۔
الم نشرح لک صدرک ، الم ترکیف فعل ربک باصحاب الفیل
اورقرآن میں ”الم” بہت جگہ ہے۔
جاویداحمد غامدی اللہ کو قیوم نہیں سمجھتاامریکہ کو معبود سمجھتا ہے۔ جیسے اپنے بارے میں پیر کی پیشگوئی اور خانقاہ میں عورت کو بٹھا کر ذکر کرتا ہے ویسے قرآن سے بس رسمی تعلق ہے لیکن علماء دیوبند پر تہمت لگائی ہے کہ ختم نبوت کے منکر ہیں کیونکہ مقام انبیاء تک پہنچنے اور وحی کے نزول تک نعوذباللہ قائل ہیں۔
غامدی جاہل کو پتہ نہیں کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور علماء دیوبند کفریات کے قائل نہیں۔ الہام شیطانی و رحمانی ہوسکتا ہے اور خواب کی غیبی خبر کوئی وحی نہیں اور کشف بھی خواب کی طرح ہے جو سچا اور جھوٹا ہوسکتا ہے لیکن وحی علم قطعی ہے اور حنفی مسلک کی ٹریننگ قرآن سے متصادم احادیث صحیحہ تک کی تردید ہے۔
آل عمران کی تیسری آیت میں بین یدیہ کی واضح خبر ہے۔ جس کا تعلق ہر زمانے کا حال ہے۔ ہمارا ترانہ ”ترجمان ماضی شان حال جان استقبال” لیکن سمجھتے نہیں۔ قائد اعظم نے اس کی بنیاد اسلام، مسلم قومیت اور لاالہ الا اللہ کے نام پر رکھی۔
اللہ کہتا ہے کہ” ہم نے یہ کتاب اے نبی پاک تجھ پر نازل کی جو تصدیق کرتی ہے ہاتھ کے درمیان کی اور توراة اور انجیل کو اس نے نازل کیا”۔ جس حاضر چیز کی تصدیق قرآن کرتا ہے وہ الگ ہے اور توراة وانجیل کا نزول اسکے علاوہ ہے۔
ابوجہل کا قصہ مولانا رومی نے نقل کیا جو سینہ بہ سینہ چل رہا تھا کہ کنکریوں نے ہاتھ میں کلمہ پڑھا لیکن محدثین نے اس کی تصدیق نہیں کی البتہ ابوذرغفاری سے علامہ ابن حجر عسقلانی نے بخاری کی شرح میں نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ۖ کے ہاتھ میں کنکریوں نے تسبیحات پڑھیں جو گنگنا رہی تھیں۔ ”بین یدیہ ”دورحاضر کے ہاتھ میں سائنسی عروج کی تصدیق مراد ہے۔
من قبل ھدًی للناس و انزل الفرقان ان الذین کفروا باٰیات اللہ لھم عذاب شدید واللہ عزیز ذوانتقامٍٍO
اس سے پہلے ہدایت کیلئے اور فرقان کو نازل کیا ،بیشک جو لوگ اللہ کی آیات کے منکر ہیں ان کیلئے سخت عذاب ہے اور اللہ زبردست غالب انتقام لینے والا ہے”۔ (سورہ آل عمران آیت:4)
توراة وانجیل لوگوں کیلئے ہدایت لیکن قرآن حق و باطل کے درمیان فرق ہے جس کا پیمانہ عالمی سطح سے لیکر ہرعاقل بالغ انسان کے دل و دماغ اور نفسانیت کی تہہ تک میں موجود ہے۔
ان اللہ لایخفٰی علیہ شی ء فی الارض ولا فی السماء O
” بیشک اللہ پر کوئی چیز مخفی نہیں ہے زمین میں اور نہ آسمان میں ”۔ (آل عمران:5) قرآن اسلئے نازل نہیں ہوا کہ مذہبی طبقات اللے تللے کی دکانیں سہولت کیلئے سجالیں بلکہ اپنی اور عالمی اصلاح کیلئے اللہ نے نازل کی ہے۔
ھوالذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء لا الہ الا ھو العزیز الحکیم O
”وہ اللہ جو تمہیں شکلیں دیتا ہے ماؤں کے پیٹوں میں جیسا چاہتا ہے ، نہیں ہے کوئی معبود مگر وہ زبردست حکمت والا ”۔ (سورہ آل عمران آیت:6)
جس علاقہ ، جس قوم ، جس قبیلہ اور جس طرح بھی اللہ نے ماؤں کے پیٹ میں شکل دی تو انسان کا اپنا عمل دخل نہیں ہے۔
جاویداحمد غامدی کے دادا استاذ حمیدالدین فراہی کا نام اور نسبت ایک فراڈ تھے۔ عربوں کو دھوکہ دینے کیلئے حمیدالدین کی جگہ عبدالحمید اور اپنے ساتھ فراہی کی نسبت لگائی جو رفاعی سے ملتی جلتی ہے۔ ہندوستان اور دنیا میں اس کا وجود نہیں ہے لیکن جاویداحمد غامدی نے اپنے ساتھ ”غامدی ” کی نسبت لگائی اور یہ ایک باصلاحیت زیاد بن ابیہ سے کافی جوڑ بھی کھاتا ہے۔
اللہ نے قرآن میں اونٹ کی تخلیق کو انوکھا قرار دیا ہے اور اونٹ اور اونٹنی کے جنسی ملاپ میں انسانی ہاتھ کام آتاہے۔
قرآن نے بے عمل اور احمق یہودی علماء کوگدھے سے تشبیہ دی اور گدھے کی ایک خاصیت بے شرمی ہے جو عضو تناسل کو چھپاسکتا ہے مگر دکھاتا ہے۔قرآن نے دنیا پرست عالم کی مثال کتے سے دی اور کتا بڑی گالی اسلئے ہے کہ اس کی ماں پر ریلہ چڑھتا ہے۔ تاکہ علماء دین فروشی سے خود کو ہر ممکن اور ہر قیمت پر بچائیں اور حلالہ کی لعنت اور بے غیرتی کو رواج نہیں دیں۔
جاوید غامدی کہتا ہے کہ اس کے باپ کے پیر نے خوشخبری دی تھی کہ” اس بچے کے پاس دنیا کے بادشاہ آئینگے”۔ میری پیدائش سے پہلے بھی کسی رشتہ دار خاتون نے دیکھا تھا جو بایزید انصاری کے خاندان سے تھیں کہ سورج آسمان سے اترتا ہے ۔ ساری عورتوں نے دوپٹہ پھیلایا اور میری ماں کی گود میں آیا۔
اپنی مرضی سے دنیا میں کوئی آتا ہے اور نہ لنگوٹ باندھ کے جاتا ہے۔ زندگی میں دین و دنیا کی خدمت کا موقع ملتا ہے۔
ھو الذی انزل علیک الکتٰب منہ اٰیٰت محکمات ھن ام الکتب و اُخر متشابھات فاما الذین فی قلوبھم زیغ فیتبعون ما تشابہ منہ ابتغاء الفتنة وابتغاء تاویلہ و ما یعلم تأویلہ الا اللہ والراسخون فی العلم یقولون اٰمنا بہ کل من عند ربنا و مایذّکّر الا اولو الالبابO
”وہ جس نے آپ پر کتاب نازل کی جس میں محکم آیات ہیں وہ کتاب کی جڑ ہیں اور دوسری متشابہات سو جن لوگوں کے دل میں کجی ہے تو وہ پیچھے پڑتے ہیں متشابہ کے فتنے کی غرض سے اور تفسیر کی غرض سے اور کوئی بھی متشابہ کی تفسیر کو نہیں سمجھتا مگر اللہ اور مضبوط علم والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے یہ سب اللہ کی طرف سے ہیں اور نصیحت وہی لیتے ہیں جو کارآمد عقل والے ہیں”۔ (آل عمران:7)
محکمات کو اللہ نے کتاب کی جڑ قرار دیا ۔ عورت کے حقوق اور طلاق کے مسائل ایک ہندو خاتون رکن پارلیمنٹ کو ایسے سمجھ میں آگئے کہ اس نے کہا کہ ہندو، یہود، عیسائی، سکھ ، پارسی، بدھ مت اور دنیا کے تمام مذاہب اور عالم انسانیت کیلئے بہت زبردست ہیں۔ واقعی اتنے عام فہم ہیںکہ طلاق کی عدت، اس میں باہمی رضامندی سے رجوع اور عورت رجوع کیلئے جب راضی نہ ہو تو جب تک کسی اور سے نکاح نہ کرلے پہلے پر حلال نہیں اور اس میں عورتوں کا زبردست تحفظ ہے لیکن ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بیگمات کی عزتوں کاکباڑخانہ بنادیا ہے ۔
دوسری آیات مشتبہ اور مشکوک نہیں ہیں بلکہ مشابہ ہیں اور مشابہ کا معنی یہ ہے کہ جب دنیا میں گاڑی ایجاد نہیں ہوئی تھی تو اس کا نام اور تصور قرآن میں موجود بھی ہو تو اسکے پیچھے پڑنا اور وہ بھی فتنہ اور لایعنی تفسیر کی غرض سے کجی پسند دلوں کا کام ہے۔
فرشتوں سے اللہ نے پوچھا کہ عربہ کیا ہے؟۔ نیٹ کیاہے ؟ اور جہاز کیا ہے ؟۔ لیکن حضرت آدم کی اولاد نے موجودہ دور میں یہ ثابت کردیا ہے کہ تسخیرکائنات کیلئے کتنا موزوں ہے؟۔
ڈبہ پیک چیزوں اور گاڑیوں کا ذکرہے ۔ جب انسان نے ترقی نہیں کی تھی تو ہرچیز کو” حور” بنادیا۔ حالانکہ حور سے نبی ۖ نے پناہ مانگی اور فرمایا … اعوذباللہ من الحو ر بعد الکور
انہ کان فی اھلہ مسرورًاOانہ ظن ان لن یحورO بلٰی ان ربہ کان بہ بصیرًاO
” بیشک وہ اپنے گھر والوں کیساتھ بڑا خوش تھا ۔ بیشک اس نے سمجھا تھا کہ وہ بدحال نہ ہوگا بلکہ اس کا رب اس کو دیکھتا تھا”۔(انشقاق:13تا15)
حور سے پہلے کور کیا ہے؟۔ ”اذا لشمس کورت ”
”جب سورج کو انسانیت کی طرف سے آلودگی کے دئیے ہوئے زخم بھر جائیں گے”۔ (سورہ تکویر آیت:1)
جنگی جنون سے انسان کو نکال کر پھٹے ہوئے اوزون کو دوبارہ کور کرنے کیلئے انسانی دماغ کو استعمال کیا جائے گااور عالمی اسلامی انقلاب کے سورج کو اپنے کردار کا موقع ملے گا۔
واذا النجوم انکدرتOو اذا الجبال سیرتOواذا العشار عطلتOواذا الوحوش حشرتOواذا لبحار سجرتOواذا النفوس زوجتOواذا لموء ودة سئلتOبای ذنبٍ قلتOواذا الصحف نشرتO
” پھر حقیقی سٹار شاہینوں کی طرح جھپٹ پڑیں گے۔ اور پہاڑوں کی طرح مضبوط ریاستیں چلتا کردی جائیں گی۔ گھابن اونٹنیاں صحراؤں میں چھوڑ دی جائیں گی۔ جنگلی جانوروں کے شہروں میں جمگھٹے ہوں گے۔ سمندری آلودگیاں ختم کرنے کیلئے ابال دیا جائے گا۔ جب طلاق شدہ جوڑوں کو آپس میں ملایا جائے گا۔ جب انسانی حقوق سے محروم زندہ درگور عورتوں کو پوچھا جائے گا کہ تمہیں کس گناہ پر قتل کیا گیا ہے ۔ جب دنیا کے میڈیا پر انقلاب کی خوشخبریاں نشر کی جائیں گی”۔ (سورہ تکویر…آیات2سے10تک )
ہردور کا انقلاب اپنے اپنے زمانے کے مطابق ہوگا جب عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے تو اس وقت قرآن کے اس معجزے کا اظہار ہوگا کہ بنی اسرائیل کو مردے کے قتل کی تفتیش کیلئے گائے ذبح کرنی پڑی تھی لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس مردے کو خدا کے حکم سے زندہ کرے گا اور پھر حقائق پوچھ کر دوبارہ دفن کردے گا تاکہ قرآنی آیات کی تفسیر بھی ہو جائے۔
واللیل اذا عسعسOوالصبح اذا تنفسOانہ لقول رسولٍ کریمٍOذی قوةٍ عند ذی العرش مکینٍOمطاعٍ ثم امینٍOوما صاحبکم بمجنونOولقد راٰہ بالافق المبینO…وماھو بقول شیطانٍ رجیمٍOفاین تذھبونOان ھو الا ذکر للعالمینO لمن شاء منکم ان یستقیمOوما تشاء ون الا ان یشاء اللہ رب العالمینO
اس انقلاب کا تعلق آخرت سے نہیں ہے بلکہ اسی دنیا سے ہے جس میں دن اور رات اور سورج کا تصور ہے ۔ فرمایا:
” اور قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگے اور قسم ہے صبح کی جب وہ آنے لگے۔بیشک یہ انقلاب معزز رسول کا قول ہے۔ بڑی طاقت والا عرش والے کے ہاں رہائش پذیر۔ سردارپھر امین۔ اور تمہارا صاحب مجنون نہیں ہے۔ اور تحقیق اس نے اس کو کھلے افق پر دیکھا ہے اور غیب کی باتوں پر بخیل نہیں ہے اور وہ شیطان کا قول نہیں ہے ۔ پس تم کہاں جارہے ہو؟۔ یہ قرآن تو تمام جہان والوں کیلئے نصیحت ہے۔ تم میں سے ان کیلئے جو سیدھا چلنا چاہے اور تم تب چاہوگے جب اللہ تمام جہانوں کا رب تمہیں اس قابل سمجھے گاکہ تم ہدایت پاجاؤ”۔ (سورہ تکویرآیت17تا29)
تم انسان ہو ،کوئی اونٹنی تھوڑی ہو کہ گھابن ہونے کیلئے محتاج ہو ۔ حرکت میں برکت ہے۔ جاویدغامدی کے ترقی و عروج کی منزل اس کے پیر کو نظر آئی مگر نبیۖ معراج پر نہیں گئے؟۔
فرشتوں کو کیا پتہ تھا کہ تسخیرکائنات کا خلیفہ الارض کہاں تک ترقی کرے گا؟ ۔
وعندھم قاصرات الطرف عینOکانھن بیض مکنونOفاقبل بعضھم علی بعضٍ یتسا ئلونOقال قائل منھم انی کان لی قرینOیقول ائنک لمن المصدقینO
اور انکے پاس ڈبہ پیک چھوٹی اشیاء ہوں گی ۔جیسے پیک شدہ انڈے۔ایکدوسرے کے سامنے پیش کرکے پوچھیں گے ۔ان میں ایک کہنے والا کہے گا کہ میرا ایک ساتھی تھا جو کہتا تھا کہ کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو؟”۔( سورہ صافات:48تا52)
فرشتوں کو پتہ نہ تھا کہ نعمتوں کی بہتات ہوگی ۔
وفاکھةٍ کثیرةٍOلامقطوعةٍ ولا ممنوعةٍO وفرشٍ مرفوعةٍOانا انشانا ھن انشائًOفجعلناھن ابکارًاOعربا اترابا
”بہت سارے پھل ہوں گے۔ جن کانہ خاتمہ ہوگا اور نہ وہ منع ہوں گے ۔اونچے فرش ہوںگے۔ ہم ان کو جدید سے جدید تر کریںگے اور اس کو نیا کردیں گے۔ قد کے برابر سواریاں ہوں گی”۔ (سورہ واقعہ32تا37)
20ویں صدی میں دو جنگ عظیم میں لاکھوں لوگوں کا قتل ہوا اور بہت لوگوں کی عزتیں لٹ گئیں ۔ اقتصادیات پر قبضہ اور خود کوطاقتور اور نوازنے اور دوسرے کو کمزور اور بھوکا رکھنے کے چکر میںلیکن اسلامی انقلاب لوگوں کے خیالات کو بدلے گا۔
ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمةً انک انت الوہابO
”اے ہمارے رب ! ہمارے دلوں کو کجرو نہ بنا اسکے بعد جب توہدایت کرچکا اور اپنی طرف سے ہمیں رحمت عطا فرمادے ،بیشک تو بہت زیادہ دینے والا ہے”۔ (آل عمران:8)
ربنا انک جامع الناس لیوم لاریب فیہ ان اللہ لایخلف المیعاد O
”اے ہمارے رب ! بیشک تو سب لوگوں کو جمع کرنے والا ہے اس دن جس میں کوئی شک نہیں تو وعدہ خلافی نہیں کرتا”۔ (سورہ آل عمران آیت:9)
یہ قرآن اسلئے نہیں کہ اللہ نے نازل کیا اور یزید ، بنومروان، بنوعباس، خاندان غلاماں، سلطنت عثمانیہ اور مغل و ایران کے چنگیزیوں نے روند ڈالا اور قیامت آگئی اور قصہ ختم ہوگا بلکہ اس کی ایک ایک آیت نے اپنے اپنے دور کی رہنمائی کرنی ہے۔
ان الذین کفروا لن تغنی عنھم اموالھم ولا اولادھم من اللہ شیئًا واولئک ھم وقود النارO
” بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اموال اور اولاد ان کو اللہ سے نہیں بچاسکتے ہیں اور وہ لوگ آگ کا ایندھن ہیں”۔ آل عمران:10
اصل کافر وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اموال اور اولاد کی خاطر قرآن کی آیات کو عملی جامہ پہنانے سے انکار کردیا ہے۔ مفتی تقی عثمانی اور مولانا فضل الرحمن ان آیات پر غور کریں ۔
کدأب اٰل فرعون والذین من قبلھم کذّبوا باٰیٰتِنا فاخذھم اللہ بذنوبھم واللہ شدید العقابO
”آل فرعون کے طرز عمل پر ان سے پہلے ،ہماری آیات کو جھٹلایا تو اللہ نے انکے گناہوں پر پکڑ ا اور اللہ سخت انجام والا ہے” (آل عمران: 11)
یہ برزخ اور قیامت نہیں دنیا میں پکڑ کی بات ہے۔
قل للذین کفروا ستغلبون و تحشرون الی جھنم و بئس المھاد O
” کہہ دو ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا کہ عنقریب تم نے مغلوب ہونا ہے پھر جہنم کی طرف اکٹھے ہوگے جو بہت برا جھولا ہے”۔ (آل عمران:12)
قد کان لکم اٰیة فی فئتین التقتا فئة تقاتل فی سبیل اللہ و اخرٰی کافرة یرونھم مثلیھم رأی العین واللہ یؤید بنصرہ من یشاء ان فی ذٰلک لعبرةً لاولی الابصارO
”تمہارے لئے نشانی ہے دو جماعتوں میں جن کا مقابلہ ہوا۔ ایک جماعت اللہ کی راہ میں لڑ ی اور دوسری کافرہ ہے۔وہ ان کے دوگنے کی طرح آنکھ کی نظر میںدکھا ئی دے رہے ہیں۔ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی مدد سے تائید کرتا ہے بیشک اس میں دیکھنے والوں کیلئے عبرت ہے”۔ اہل حق دوگنے نظرآتے ہیں۔ (آل عمران:13)
زین للناس حب الشھوات من النساء والبنین والقناطیر المقنطرة من الذھب والفضة والخیل المسومة والانعام و الحرث ذٰلک متاع الحیاة الدنیا واللہ عندہ حسن المابO
” لوگوں کیلئے مزین کردیا گیا ہے چاہتوں کی محبت عورتوں سے اور بیٹوں سے اور جمع کئے ہوئے خزانوں میں سے سونے، چاندی ، نشان لگے گھوڑے ، جانور اور کھیتوں میں سے یہ دنیا کی گزراوقات کی چیزیں ہیں اوراللہ کے پاس بہتر ٹھکانہ ہے”۔ (آل عمران:14 )
ان چیزوں سے محبت سب کی فطرت میں داخل ہے مگر اس میں غرق ہونے کی جگہ قربانی دینے والوں کا اچھا ٹھکانہ ہے۔
قل اؤنبئکم بخیرٍ من ذٰلکم للذین اتقوا عند ربھم جنات تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا و ازواج مطھرة و رضوان من اللہ واللہ بصیر بالعبادO
” کہہ دو کہ کیا میں تم کو اس سے بہتر نہ بتاؤں ان لوگوں کیلئے جو اپنے رب کے ہاں تقویٰ دار ہیں باغات جسکے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ ہمیشہ کیلئے اس میں ہوں گے اور پاکیزہ عورتیں اور اللہ کی طرف سے رضا اور اللہ اپنے بندوں کو دیکھتا ہے”۔ (آل عمران:15)
جب انقلاب آئے گا تو ایمان دار لوگوں کو پوری دنیا میں جنت نظیر وادیوں کے اندر بسایا جائے گا جو ہمیشہ کیلئے ان کی ملکیت میں ہوں گی اور نسل در نسل دین اور انسانیت کی خدمت کریں گے۔ ان لوگوں کی تصویر ان الفاظ میں بتائی گئی ہے۔
الذین یقولون ربنا اننا اٰمنا فاغفرلنا ذنوبنا وقنا عذاب النارOالصابرین والصادقین والقانتین والمنفقین والمستغفرین بالاسحارOشھد اللہ انہ لا الٰہ الا ھو والملائکة واولوالعلم قائمًا بالقسط لا الہ ھو العزیز الحکیمO
”وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے توہمارے گناہوں کوہمارے لئے معاف کردے اور ہمیں بچاؤ آگ کے عذاب سے ۔ صبر کرنے والے ، سچے ، فرمانبردار ہیں ، خرچ کرنے ہیں اور سحری کے وقت استغفار کرنے والے ہیں ۔اللہ نے گواہی دی کہ بیشک وہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں اور اہل علم نے جو انصاف کیساتھ کھڑے ہیں کوئی معبود نہیں مگر وہی غالب زبردست حکمت والا ”۔ ( آل عمران:16،17،18)
طوطا مینا انجینئر محمد علی مرزا اور جاوید غامدی دنیا کی طاقتوں پر ایمان رکھتے ہیں زبردست حکمت والے کا پتہ نہیں ہے۔
ان الدین عند اللہ الاسلام ومااختلف الذین اوتو الکتٰب الا من بعد ما جاء ھم العلم بغیًا بینھم و من یکفرباٰیٰت اللہ فان اللہ سریع الحسابO
” بیشک اللہ کے نزدیک دین تسلیم کرنے کا نام ہے اورجن کو کتاب دی گئی انہوں نے اختلاف نہیں کیا مگرعلم آنے کے بعد آپس کی سرکشی سے جس نے اللہ کی آیات کا انکار کیا تو بیشک اللہ بہت جلد ہی حساب لینے والا ہے”۔ (آل عمران :19 )
دنیا بھر کے بکواس اختلافات کے باوجود بھی سمجھتے ہیں کہ ہمارا دین اسلام ہے اور اللہ نے قرآن میں یہی واضح کیا ہے۔ قرآن ، احادیث، آیات محکمات اور کسی چیز پر اتفاق نہیں ہے اور یہ اسلام نہیں تسلیم کی ضد ہے۔ فرقہ ، مسلک، مکاتب فکر، رائے ظنی کے مرتکب اور ہر قسم کی بداعمالی میں ملوث شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن اور صابر شاہ پچھاڑی کا پونچھا اور سود کو جواز بخشنے والے شیوخ الاسلام ”دلے” یہ کونسا اسلام ہے؟۔
فان حاجوک فقل اسلمت وجھی للہ ومن اتبعن و قل للذین اوتوالکتاب والامیین ء اسلمتم فان اسلموا فقد اھتدوا وان تولوا فانما علیک البلاغ واللہ بصیر بالعبادO
پس اگر وہ آپ سے لڑیں تو کہہ دو کہ میں نے اپنا منہ اللہ ہی کیلئے سرتسلیم خم کیا ہے اور جو میری اتباع کرتا ہے اس نے بھی۔ اور کہہ دو اہل کتاب سے اور جن کے پاس کتاب نہیں کہ کیا تم نے سر تسلیم خم کیا پس اگر وہ سرتسلیم خم کریں تو تحقیق ہدایت پائی۔ اور انہوں نے منہ پھیر لیا تو بیشک آپ پر واضح طور سے پہنچانا ہے اور اللہ اپنے بندوں کوخوب دیکھتا ہے”۔ (ال عمران:20)
اسلام جتھہ بازیوں کا نام نہیں بلکہ اللہ کے احکام اور حق کو تسلیم کرنے کا نام ہے۔رسول اللہ ۖ کے ماننے والے جتھہ بند کیسے ہوسکتے ہیں؟۔قرآن تو پوری دنیا کے مذاہب کو فطری تعلیم دیتا ہے اور یہی تسلیم کرنا ہی اصل اسلام ہے۔
ان الذین یکفرون باٰیات اللہ و یقتلون النبیین بغیر حقٍ ویقتلون الذین یأمرون بالقسط من الناس فبشرھم بعذابٍ الیمٍO
”بیشک جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء کو بغیر حق کے قتل کرتے ہیں اور ان کو قتل کرتے ہیں جو انصاف کا امر کرتے ہیں ان کو خوشخبری دیدو دردناک عذاب کی ”۔ (ال عمران :21)
یہ آیات کے منکرین سود کے مجوزین حلالہ کے مرتکب افراد نے پہلے انبیاء کرام کو ناحق قتل کیا اور بعد میں انصاف پر چلنے کی تلقین کرنے والے ان کے ہاتھوں، فتوؤں، منصوبہ بندی سے قتل ہوتے رہے۔ حاجی عثمان کے خلاف کیا بکواس فتوے تھے اور جب بال بال بچ گئے تب بھی ہمیں قتل کروانے کے بعد مفتی تقی عثمانی نے فتاویٰ عثمانی میں بہت غلیظ شرمناک فتویٰ چھا پا۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹانک کے علماء کرام کی طرف سے تائیدات کے بعدمولانا فضل الرحمن نے غنڈوں اور پولیس کی مدد سے ہمارے ساتھیوں پر تشدد کروایا اور فتویٰ بازی میں بھی رنگ سازی سے کام لیا۔ ٹانک میں بھی ہمارے خلاف مجاہدین کو استعمال کرنے کیلئے جمعیت کا ایک دلال استعمال ہوا تھا۔
اولئک الذین حبطت اعمالھم فی الدنیا و الاٰخرة و ما لھم من ناصرینO
” یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہیں اور ان کے کوئی بھی مدد کرنے والے نہیں ہوں گے”۔ (آل عمران:22)
الم ترالی الذین اوتوانصیبًا من الکتاب یدعون الی کتاب اللہ لیحکم بینھم ثم یتولیٰ فریق منھم و ھم معرضونO
”کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو قسمت سے کتاب میں کچھ مل گیا وہ کتاب کی طرف دعوت دیتے ہیں تاکہ اسکے ذریعے سے فیصلے ہوں ان کے درمیان پھر ایک فریق نے منہ موڑ لیا ان میں سے اور وہ حق سے اعراض کرر ہے تھے”۔ (ال عمران:23)
اللہ تعالیٰ نے حلالہ کی لعنت کو ختم کرنے کا معاملہ ہم پر کھول دیا اور بہت سارے علماء نے تائید کی۔ لیکن مفتی تقی عثمانی نے اس سے اعراض کردیا اور حلالہ کی سزا لوگ بھگت رہے ہیں۔
ذٰلک بانھم قالوا لن تمسنا النار الا ایامًا معدوداتٍ و غرتھم فی دینھم ما کانوا یفترونO
” یہ اسلئے ہے کہ بیشک انہوں نے سمجھا ہے اور کہا کہ ہمیں آگ نہیں چھوئے گی مگر گنتی کے چند دن۔ اور ان کودھوکہ دیا ان کے دین میں جو افتراء کرتے رہتے تھے ”۔
حلالہ، سود، اللہ والوں اور علماء کے خلاف فتویٰ فروشی نے ان کو دھوکہ میں ڈالا تھا کہ ہم مجتہد ہیں اور خطاء پر بھی نیکی ملے گی اور زیادہ سے زیادہ چند دنوں کا عذاب سہہ لیں گے۔
فکیف اذا جمعناھم لیوم لاریب فیہ و وفیت کل نفسٍ ما کسبت و ھم لا یظلمون O
” پس اس وقت کیا ہوگا کہ جب ہم ان سب کو جمع کریں گے اس دن جس میں کوئی شک نہیں ہے۔اور پورا دیا جائے گا ہر شخص کو جو اس نے کمایا اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا”۔ (آل عمران: 25 )
قرآن و احادیث نے انقلاب کی خبر دی ہے اور حلالہ سے لذت اٹھانے والے سودخوروں کا اس دن پھرکیا حال ہوگا؟۔
تولج اللیل فی النھار و تولج النھار فی اللیل و تخرج الحی من المیت و تخرج المیت من الحی و ترزق من تشاء بغیر حسابٍO
” تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالتا ہے اور جس کو چاہے بغیر حساب کے رزق دیتاہے”۔(ال عمران:27)
یہ انقلاب کیلئے بہت پکی خبر ہے لیکن کوئی سمجھے تو سہی!۔
لایتخذ المؤمنین الکافرین اولیاء من دون المؤمنین ومن یفعل ذٰلک فلیس من اللہ فی شی ئٍ الا ان تتقوا منھم تقاة و یحذّرکم اللہ نفسہ والی اللہ المصیرO
”مسلمان مسلمان کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو کوئی ایسا کرے تو اللہ کے پاس اس کی کوئی حیثیت نہیںمگر اس صورت میں کہ ان کا بچاؤ کرنا ہو۔ اور اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور اللہ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے”۔ (سورہ آل عمران:28)
”الا ان تتقوا منھم تقاة” میں پاکستان کی قوم اور فوج کے وہ افراد شامل ہیں جنہوں نے امریکہ کا طالبان کے خلاف بڑا ساتھ دیا لیکن اصل میں ان کا بچاؤ کیا اور اپنے فوجیوں کو شہید کرواکر بھی امریکہ اور نیٹو کی افواج کو افغانستان میں قدم نہیں جمنے دئیے۔ یہ ایک جنگ کی حکمت عملی ہوتی ہے کہ خود نقصان اٹھاکر بڑے نقصان سے مسلمانوں کو بچالیتا ہے۔ شروع میں ایران نے شمالی اتحاد کا ساتھ دیالیکن بعد میں اس نے پاکستان کی پالیسی اپنائی اور امریکہ کے خلاف طالبان کا ساتھ دیا۔
”تتقوا منھم تقاة” میں مفتی تقی عثمانی کا حرام خوری سودی نظام شامل نہیں ہے بلکہ یہ تو عام سودی نظام سے بھی بدتر ہے جو لین دین میں عام سودی نظام سے زیادہ بڑا سودی نظام ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ
”دنیا میں مغربی نظام ہے اور یہاں آمریت، مغربی جمہوریت اور جو کچھ بھی ہے وہ وہاں ہی سے ہے اور ہم نے اس میں اپنی سیاست کو زندہ رکھنا ہے”۔
یہ بھی ”تتقوا منھم تقاة” کا دعویٰ ہے لیکن بالکل فراڈ لگتا ہے۔
قل ان تخفوا ما فی صدورکم او تبدوہ یعلمہ اللہ و یعلم ما فی السماوات وما فی الارض واللہ علی کل شی ء قدیرO
” کہہ دو کہ اگر تم لوگ چھپا ؤ جو تمہارے سینوں میں ہے یا ظاہر کرو اللہ اس کو جانتا ہے ،وہ جانتا ہے کہ جو آسمانوں میں چل رہاہے اور زمین میں چل رہاہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے”۔ (سورہ آل عمران:29)
مولانا فضل الرحمن نے مولانا عصام الدین محسود سے کہا کہ ہمارے پروگرام میں علماء اکٹھے نہ ہوں اور پھر میں مولانا کے پاس گیا اور اس نے لیت لعل کے بعد مولانا عطاء اللہ شاہ سے کہا کہ ہمارے پروگرام میں آئے۔ لیکن ڈیرہ اسماعیل خان سے دوسرے علماء بھی ٹانک نہیں آئے اور ٹانک کے پروگرام میں ایک مولوی شرف الدین کے علاوہ سارے علماء نے میری بڑی حمایت کی اور پھر میں نے مولانا فضل الرحمن کا خالی شیڈول معلوم کرنے کے بعد سکول کا پروگرام رکھا اور مولانا صاحب سے کراچی میں مولانا شیر محمد کے پاس فون پر رابطہ ہوا اور میں نے جلسہ کیلئے کہا تو اس نے کہا کہ میرا آنا یقینی نہیں ہے لیکن اشتہار میں نام دے دینا۔ میں نے کہا کہ پھر نام نہیں دیتا ہوں اور جب یقینی آنا ہوگا تو دیکھ لیں گے۔ مولانا فتح خان نے کہا تھا کہ شکر ہے کہ نہیں آئے ورنہ اتنا کھل کر ہم نہیں بول سکتے تھے۔
یوم تجد کل نفسٍ ماعملت من خیرٍ مخضرًا و ما عملت من سوءٍ تودّ لو ان بینھا و بینہ امدًا بعیدًا و یحذرکم اللہ نفسہ اللہ رؤف بالعبادO
”اس دن ہر شخص پائے گا جو اس نے اچھا عمل کیا اور جو اس نے برا عمل کیا تو چاہے گا کہ اسکے اور اس کی برائی کے درمیان وقت کا بہت دور کا فاصلہ ہوتا اور اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور اللہ اپنے بندوں پر شفقت والا ہے”۔( آل عمران:30 )
جب1987اور1988ء میں مفتی تقی عثمانی نے غلطیاں کی تھیں تو بھی ”جوہری دھماکہ” لکھتے وقت2004ء میں جو خط لکھا تھا اور پھر سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے معاملہ پر بھی بریلوی مکتبہ فکر سے بچایا تھا لیکن اس کے باوجود واقعہ کے بعد2007ء میں حلالہ اور حرام کی اولاد نے شرمناک فتویٰ شائع کیا تھا اور یہ بھی شرم نہیں آئی کہ مولانا اشفا ق احمد قاسمی فاضل دیوبند کو تو پھر بھی اپنے ہاں رکھا تھا اور کس لئے رکھا تھا؟۔ البتہ مولانا فضل الرحمن کی طرف اس کے بعد کوئی شر نہیں دیکھا ۔
ہمارا کام ذاتیات نہیں بلکہ اصل میں دین کی خدمت ہے۔ مولانا عبدالرؤف کو بھی مولانا فضل الرحمن کے خلاف اقدام سے روکنے کی پوری اور کامیاب کوشش کی تھی لیکن ہم ندی کے طوفانی سیلاب میں بہہ کر نہیں آئے اپنا بیک گراؤنڈ ہے۔
قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ و یغفر لکم ذنوبکم واللہ غفور رحیمO
” کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تمہیں اپنا حبیب بنادے گا اور تمہارے لئے گناہوں کو بھی معاف کردے گا اور اللہ معافی دینے والا رحم کرنے والا ہے”۔ (آل عمران:31)
قل اطیعوا اللہ والرسول فان تولوا فان اللہ لایحب الکافرینO
”کہہ دو کہ اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی پس اگر وہ منہ موڑ لیں تو بیشک اللہ کافروں سے محبت نہیں رکھتا ہے”۔ (آل عمران:32)
اسلام اور کفر کی بنیاد اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت ہے جس پر صحابہ واہل بیت پورے اترے،یہ ڈھونگ نہیں۔
ان اللہ اصطفی اٰدم و نوحًا واٰل ابراھیم واٰل عمران علی العالمینOذریةً بعضھا من بعضٍ واللہ سمیع علیمO
” بیشک اللہ نے آدم ، نوح اور آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام جہانوں والوں پرچن لیا ہے ۔بعض بعض کی اولاد ہیں اور اللہ سننے والا اور جاننے ولا ہے ”۔ (آل عمران:33،34)
ایک دور تھا کہ عیسائی رومن امپائر کا دنیا میں چرچا تھا پھر وہ مسلمانوں سے شکست کھاگئے اور قریش ابراہیم کی اولاد تھے۔ حضرت آدم و حضرت نو ح کے چناؤ کاذکر اور پھر آل ابراہیم اور آل عمران کے چناؤ کاخاص طور پر اللہ نے ذکر کیاہے۔
آل عمران حضرت عیسٰی علیہ السلام کے پیروکارمراد ہیں اور آج پھر عیسائیوں کا دنیا بھر میں امامت کا ہولڈ ہے اور انہوں نے گزشتہ20ویں صدی میں دو جنگ عظیم اور اس کے علاوہ دنیا میں انسانوں کا بہت خون بہایا ہے اور سورة الحدید میں ان کی جگہ پھر مسلمانوں کو دنیا میں خلافت وامامت کا وعدہ ہے۔
آل عمران آیت35سے60تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پس منظر کا ذکر ہے کہ ناناعمران کی بیوی نے خواہش کااظہار کیا کہ اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اللہ کی نذر کردیا ہے پس جب اسے جنا تو کہا کہ یہ تو لڑکی جنی ہے اور نر مادہ کی طرح نہیں ہوتا ہے۔ پھر مریم کی کفالت حضرت زکریا نے کی۔…
ذٰلک من انباء الغیب نوحیہ الیک وماکنت لدیھم اذ یلقون اقلامھم ایھم یکفل مریم وما کنت لدیھم اذ یختصمونO
”یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو آپ کو وحی کرتے ہیں اور آپ ان کے پاس نہیں تھے جب انکے قلموں نے معرکہ کیا کہ کون مریم کی کفالت کرے گا اور اس وقت نہیں تھے کہ جب وہ اس معاملے میں آپس میں ایک دوسرے سے لڑرہے تھے”۔(سورہ آل عمران:44)
اس آیت کی تفسیر کا پتہ نہ ہو تو دلچسپی کیا ہوگی؟۔ کوئی گدھے کا بچہ کہے کہ میں بھی اس کی مثل بناؤں گا لیکن جب آیت کے معانی نہیں سمجھتا ہے تو اس کی مثل بنانے کا دعویٰ بھی لغو ہے اور یہ بات یاد رکھیں کہ قرآن ہر چیز کی وضاحت کرتا ہے۔ آج اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ پہلے رائٹر کہانی لکھتے ہیں اور اس پر فلم بنتی ہے۔حضرت عمران کو خدا نے مریم دی اور حضرت زکریا کو یحییٰ دیا۔ دنیا میں آج حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کی شہرت ہے۔ جب عالم ارواح میں اقلام رائٹر کہانی لکھ رہے تھے کہ حضرت مریم علیہا السلام کی پیدائش پر حضرت عمران نے مایوسی کا اظہار کیا تو اسلئے ایک باپ ہونے کے ناطے اس کی کفالت پر اقلام میں معرکہ آرائی ہوئی کہ باپ ہونے کے ناطے کفالت عمران کرے یا استاذ ہونے کے ناطے حضرت زکریا ؟۔ یوسف علیہ السلام کی کفالت عزیز مصر کے ہاں ٹھہری۔ مجھے کانیگرم میںاگر اجداد کی جگہ قرآن کا درس دینا پڑتا تو یہ فائدہ نہیں تھا کہ جتنا میرا تعلیمی سلسلہ حضرت بنوری کے مدرسہ سے لینے میں تھا۔ حلالہ کی لعنت کا میں شروع سے منکر ہوتا تو دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کے علاوہ شیعہ حضرات بھی ہماری تائیدات نہ کرتے۔
فلما احس عیسٰی منھم الکفر قال من انصاری الی اللہ قال الحواریوں نحن انصار اللہ اٰمنا باللہ واشھد بانا مسلمونO
(آل عمران:آیت52)
نبی ۖ نے فرمایا کہ ”ہر مولود اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کو والدین یہودی اور نصرانی بنادیتے ہیں”۔ مسلمان بھی فرقہ میں بٹ کر اپنے فطری کمالات کھو چکے ہیں۔ قرآن کے احکام میں حلالہ کی لعنت نہیں اور نہ عورت پر کوئی زیادتی ہے اور دنیا نے بھی اس بدفطری کو انسانی بنیاد پر آج ختم کیا ہے جس کو چودہ سو سال پہلے قرآن وسنت نے ختم کیا اور خلافت راشدہ کے بعد پھر مسلمانوں کو اس بدفطری کا شکار بنایا گیا۔ دیوبندی علماء کے مدار س اور خانقاہ میں میری تعلیم وتربیت ہوئی ہے اور امیر معاویہ کے اجہتادی غلطی اور حضرت فاطمہ پر دجال کی بیوی کے الزام میں ایک دوسرے پر رافضی اور ناصبی بڑے ہی سرگرم ہیں لیکن ان کی عورتیں حلالہ میں چدھ رہی ہیں، اور قرآن کی تحریف کو درس نظامی کا حصہ بنایا گیا ہے، اور حرمت مصاہرت کے مسائل میں گند کی انتہا کی گئی ہے اور سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے پر سیخ پا نہیں ہوئے اور دوسروں کا بھی یہی حال ہے۔
ربنا اٰمنا بما انزلت واتبعنا الرسول فاکتبنا مع الشاہدینOومکروا ومکراللہ واللہ خیر الماکرینOو اذ قال اللہ یا عیسٰی انی متوفیک و رافعک الی و مطھرک من الذین کفروا و جاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامة ثم الی مرجعکم فاحکم بینکم فیما کنتم فیہ تختلفون
(آل عمران53تا55)
ان آیات میں حواریوں کو مسلمان قرار دیا اسلام میں تسلیم کا نام ہے، انہوں نے اپنے رب سے کہا کہ جو تو نے نازل کیاہم اس پر ایمان لائے اور رسول کی پیروی کی پس ہمیں گواہوں میں سے لکھنا پھر انہوں نے چال چلی اور اللہ نے بھی چال چلی اور اللہ بہتر چال چلنے والا ہے۔ جب عیسائی رومن امپائر نے مذہب کا کباڑہ کردیا تو اللہ نے بھی مسلمانوں کو ان پر مسلط کردیا ۔ پھر مسلمان عورت کے حقوق اور حلالہ کی لعنت میں مبتلا ہوگئے اور عیسائی طلاق کے قائل اور عورت کے حقوق کے قائل ہوگئے تو پھر اللہ نے ان کو برتری دیدی۔
اب پھر مسلمان فطری احکام کی طرف آئیں گے تو عیسائی کے کفر سے اللہ اسے پاک کرے گا۔ متوفیک کا معنی وفات نہیں بلکہ حجت کے اتمام کو پورا کرنا مقصود ہے۔قرآن کی بالکل واضح آیات میں عیسٰی کی پیدائش کا بھی ذکر ہے۔ غلام احمد پرویز اور قادیانی اور معتزلی بے ایمان ان چیزوں کا انکار کریںگے۔
فاماالذین کفروا فاعذبھم عذابًا شدیدًا فی الدنیا و الاخرة وما لھم من ناصرینOواما الذین اٰمنوا و عملوا ا الصٰلحات فیوفیھم اجورھم واللہ لایحب الظالمین
"پس جو لوگ انکار کرینگے تو میں انکو دنیا میں سخت ترین عذاب دوں گا اور آخرت میں اور ان کا کوئی مدد گار نہیں ہوگااور جو لوگ ایمان لائیں اور درست اعمال کریں تو ان کو پورا پورا بدلہ ملے گا اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا”۔ (آل عمران 56،57)
لوگوں کیلئے اجر پورا ہے ۔ عیسیٰ بھی پوری حجت ہیں ادھوری نہیں ۔ قادیانی، پرویزی اور غامدی کی گمراہیاں نہیں چلیں گی۔
ذٰلک نتلوہ علیک من الاٰیات و الذکر الحکیمOان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل اٰدم خلقہ من ترابٍ ثم قال لہ کن فیکونOالحق من ربک فلا تکن من الممترینO
”یہ ہم آپ پرآیات اور حکمت والی نصیحت کی پڑھتے ہیں بیشک عیسیٰ کی مثال آدم کی ہے ہم نے مٹی سے پیدا کیا اور پھر اسے کہا کہ ہوجا تو وہ ہوگیا۔پس حق تیرے رب کی طرف سے ،تو شک کرنے والوں سے مت ہو ”۔(58تا60)
آج مسلمان عیسائی کے مد مقابل نہیںبلکہ الحاد کے دور میں مذہبی عقائد کے حقائق ہیں۔پھر آیت61آل عمران میں آیت مباہلہ ہے اور آج کی دنیا میں مسلمانوں اور عیسائیوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو ان کا خاندانی اور گھریلو نظام تباہ ہے اور وہ پوری دنیا میں اچھے لوگوں کو جنت نظیر جگہ آباد کرکے خاندانی نظام کی بحالی کیلئے اپنی مرضی سے بھی آمادہ ہوجائیں گے لیکن اسلامی انقلاب نے تو آنا ہی ہے البتہ آسمان و زمین والے سبھی اس سے خوش ہوں گے۔ سورہ الانعام میں بھی انقلاب ہے۔
ــــــــــ
محترم ڈاکٹر محمد خالد صاحب
کیا خبر تھی ایک دن یہ حادثہ ہوجائے گا
عمر بھر چاہا جسے وہ بے وفا ہوجائے گا
ہو اگر عزمِ مصمم خواہش منزل کے ساتھ
راہ کا پتھر بھی رہ نما ہو جائے گا
اس قدر بڑھنے لگی ہے ہر طرف آلودگی
سانس لینا آدمی کا مسئلہ ہو جائے گا
زندگی بھر ساتھ چلنے کی جو کھاتا ہے قسم
دیکھنا وہ راستے ہی میں جدا ہوجائے گا
اب تمہارا کوئی خط کوئی خبر ملتی نہیں
ایسے عالم میں تو جینا بھی سزا ہوجائے گا
سر اٹھاتے ہیں یہاں بھی عصر حاضر کے یزید
کل یہ خطہ بھی محاذ کربلا ہوجائے گا
کچھ نہ کچھ اعجاز نغمے لکھ وطن کے نام پر
اس طرح سے شاعری کا حق ادا ہو جائے گا
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی1950میں فاضل دیوبند تو مفتی تقی عثمانی پیدائش1943گود میں گھمایا ؟۔ دیوبندی یزید ی اور علی کے دشمن بن گئے،مماتیوں کے بانی سید عنایت اللہ شاہ گجراتی ناصبی نہ تھے۔ ( مولانا اللہ وسایااور احتساب ناصبیت تحقیقاتی کمیٹی کے فیصلہ کا علمی جائزہ قسط :1ڈاکٹر محمد خالد )۔
اصل معاملہ حیاتی مماتی، رافضی ناصبی ، حسینی یزیدی کا نہیں بلکہ پیٹ کا گرنیٹ ہے۔مذہب تجارت ، سیاست کاروبار اور عوام کا معاشی ، معاشرتی ، نظریاتی ، مذہبی استحصال ہے۔ قرآن اور موٹے حقائق کی طرف توجہ دو۔ حلالہ پر جان، مال، عزتیں، قرآن، سنت، صحابہ و اہل بیت اور علماء حق سب قربان ہیں؟۔
ــــــــــ
عاشقِ یزید مولانا عتیق الرحمن سنبھلی
طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے
عکس پہ نہ اتراؤ آئینہ ہمارا ہے
آپ کی غلامی کا بوجھ ہم نہ ڈھوئیں گے
آبرو سے مرنے کا فیصلہ ہمارا ہے
عمر بھر تو کوئی بھی جنگ لڑ نہیں سکتا
تم بھی ٹوٹ جاؤ گے تجربہ ہمارا ہے
اپنی رہنمائی پر اب غرور مت کرنا
آپ سے بہت آگے نقش پا ہمارا ہے
غیرتِ جہاد اپنی زخم کھاکے جاگے گی
پہلا وار تم کرلو دوسرا ہمارا ہے
1959میں محمود عباسی نے ”خلافت معاویہ ویزید”لکھ دی تو عراق کا پیسہ تھا ،علماء یزیدی و حسینی بن گئے پھر عراق کا پیسہ آیا سواد اعظم نے شیعہ کو قادیانیوں سے بدتر کافر قرار دیا لیکن پیسہ ہضم فتویٰ ختم مسلمان بنادیا۔ لین دین پر شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن اور صابر شاہ بن جاؤمگرکم ازکم حلالہ کی لعنت تو چھوڑدو! ۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اکتوبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ