وترٰی کُل اُمةٍ جاثیةٍ کُل اُمةٍ تُدعٰی الٰی کتابھا الیوم تُجزون ماکنتم تعملون( الجاثیةآیت:28)
اکتوبر 7, 2026
وترٰی کُل اُمةٍ جاثیةٍ کُل اُمةٍ تُدعٰی الٰی کتابھا الیوم تُجزون ماکنتم تعملون( الجاثیةآیت:28)
اس دن ہر جماعت کو گھٹنے کے بل دیکھوگے ،ہر جماعت اپنے اعمال نامے کی طرف بلائی جائے گی آج بدلہ ملے گا جوتم نے کیا!
قرآن فقط آخرت نہیں دنیامیں بھی قیامت کی خبر دیتاہے۔آؤمماتیو! قرآن سے رہنمائی لو
حٰمoتنزیل الکتاب من اللہ العزیز الحکیمOان فی السماوات والارض لاٰیاتٍ للمؤمنینOوفی خلقکم ومایبث من دابةٍ آیات لقوم یوقنون O
آیت1سورہ جاثیہ میںح م کے اندرکیا راز ہے ؟۔یہ اللہ جانتا ہے۔ درس نظامی کی آخری تفسیر بیضاوی میں الم کا بالکل متضاد اور حماقت پر مبنی مفہوم لیا جاتاہے۔ زمانہ طالب علمی میں جب میں نے مستر د کیا تو استاذ جی نے تائید فرمائی تھی۔
آیت2یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جو بہت زبردست حکمت والا ہے۔ (اس کو سنی ان سنی مت کردینا)
آیت3میں آسمانوں اور زمین میں مؤمنوں کیلئے نشانیاں آج کی معلومات میں کھربوں کہکشاں اور ایک کہکشاں میں کھربوں ستارے، ہرایک کا مدار میں تیرنا اور بلیک ہول سے ایٹم کے گرد الیکٹران کاتیرنا قرآن کی صداقت کو واضح کرتا ہے جن میں
ولایحیطون بشی ء من علمہ الا بماشاء ، انہ لقسم لو تعلمون عظیم ،فی فلک یسبحون
اور جدید دور کی معلومات اور اس میں ترقی سب شامل ہے۔
آیت4:اور تمہاری تخلیق میں اور جانورکے بڑھنے میں نشانیاں ہیں اس قوم کیلئے جو یقین رکھتے ہیں۔
موجودہ دور میںDNAکے کمالات اور میڈیکل کی ترقی میں خدا کی تخلیق کا علمی کمال واضح ہے؟۔ فارمی مرغی اور جانوروں کی بہتات سے انسان کو اس آیت میں متوجہ کیا گیا ہے۔
واختلاف الّیل والنھار واما انزل اللہ من السماء من رزقٍ فا حیا بہ الارض بعد موتھا و تصریف الریاح اٰیات لقوم یعقلونOجاثیہ:5
”اور رات اور دن کا اختلاف اور جو اللہ نے آسمان سے رزق اتارا ،تو اسکے ذریعے زمین کو زندہ کردیا اس کی موت کے بعداور ہواؤں کی تبدیلی میں عقل مند قوم کیلئے نشانیاںہیں”۔
مردہ زمین کی طرح مردہ انسانوں کو بھی اللہ تعالیٰ سرسبز و شاداب کرتا ہے۔ سردیوں میں گندم بونا،تبدیل ہواؤں کے آغوش میں کونپل اور پکنے کٹنے کی عمر تک پہنچتا ہے۔ رات کے سناٹے میں خراٹے یا سکون سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور پھر دن کے اندر اس کو عملی جامہ پہنانے کا مشن بڑی نشانی ہے۔ جہاں دن بھر کا ہارا تھکا انسان بھرپور صلاحیتوں سے ایک نئی صبح کے آ غاز کے ساتھ ترقی کی طرف گامزن ہوتاہے۔
تلک اٰیات اللہ نتلوھا علیک بالحق فبای حدیثٍ بعد اللہ واٰیاتہ یؤمنونO(الجاثیہ:6)
”یہ اللہ کی آیات ہم حق سے تلاوت کرتے ہیں ۔پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد کس بات پر وہ ایمان لائیں گے”۔
قرآن کی یہ دعوت دائمی جاری ہے جس کا اطلاق ہر زمانے کے ہر ماحول پر ہوتا ہے لیکن ہر ایک اپنے اپنے ماحول کا عکس اس میں دیکھ سکتاہے۔AIسے زیادہ یہ سچا آئینہ دکھا رہاہے۔
ویل لکل افاکٍ اثیمٍO(سورہ جاثیہ آیت:7)
” ہر بہتان طراز جھوٹے کے لئے تباہی ہے”۔
مذہبی فرقے اور جماعتیں قرآن کے مقابلے میںبہت ہی ڈھٹائی کیساتھ حلالہ کی لعنت اور خواتین کے حقوق کو اپنے جھوٹے فقہی مکاتب کی وجہ سے مسترد کررہے ہیں۔
یسمع اٰیات اللہ تتلٰی علیہ ثم یصرُّ مستکبرًا کان لم سمعھا فبشرھ بعذابٍ الیمٍO(الجاثیہ:8)
”جو اللہ کی آیات کو سنتا ہے جو اس پر تلاوت کی جاتی ہیں پھر ناحق تکبر کی وجہ سے اصرار کرتا ہے کہ گویا اس نے وہ سنی نہیں ہیں تو درد ناک عذاب کی خبر دو”۔
تسلسل سے حلالہ کے ذریعے عزتوں کا لنڈا بازار لگانے والوں کو مطلع کیا جاتا ہے لیکن یہ سنی ان سنی کردیتے ہیں۔
واذا علم من اٰیاتنا شیئًانِ اتخذھا ھزوًا اولئک لھم عذاب مھینO(سورہ جاثیہ:9)
”اور جب ہماری آیات میں کسی چیز کا علم ہوتا ہے تو اس کو مذاق بنادیتا ہے،انہی کیلئے ذلت کا عذاب ہے”۔
حلالہ کی لعنت سے چھٹکارا یا کسی آیت کا علم آنے پر مذاق اڑاتے ہیں۔ انہوں نے دنیا میں ذلت کا عذاب چکھ لینا ہے۔
من ورائھم جھنم ولا یغنی عنھم ما کسبوا شیئًا ولا ما اتخذوا من دون اللہ اولیاء ولھم عذاب عظیمO(سورہ جاثیہ :10)
” اسکے پیچھے جہنم ہے اور جوچیز انہوں نے کمائی ہے تو وہ ان کو بچا نہیں سکے گی اور نہ انہوں نے جو اللہ کے علاوہ مولانا پکڑ رکھے ہیںاور ان کیلئے برا عذاب ہے”۔
یہ جہنم برزخ کے علاوہ دنیا کے اندر لپیٹ میں لے گی۔
1990ء کی دہائی میں عارف بھوجانی نے رنچھوڑ لائن کا کیس بتایا اور منتیں کیں کہ حلالہ کی لعنت کا فتویٰ دوں تو میں نے سختی سے انکار کیا۔ وہ پھر جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے رئیس دار الافتاء مفتی عبدالسلام چاٹگامی کا فتویٰ لایا جس میں طلاق کا اختیار عورت کے پاس رہنے کا حلالہ کے حوالہ سے فتویٰ تھا۔
مجھے پتہ چلا کہ مدارس نے کاروبار بنادیا اور حلالہ کیلئے پہلے عورت کو پاس بلاتے ہیں پھر اس کا فیکٹری ، ملوں کے مالکان اور تاجروں سے سودا کرتے ہیں۔ جو چند دنوں کیلئے حلالہ کے نام پر عورتوں کو استعمال کرتے ہیں۔ کچھ عورتوں کے شوہروں کو پھر طلاق کیلئے بلیک میل کیا جاتا ہے۔ مدارس اور سرمایہ داروں کا حلالہ کی انڈسٹری میں بہت بڑا اشتراک ہے۔
ھٰذا ھدًی والذین کفروا باٰیات ربھم لھم عذاب من رجزٍ الیمO(سورہ الجاثیہ آیت:11)
”یہ ہی ہدایت ہے جو لوگ اپنے رب کی آیات کا انکار کرتے ہیں تو ان کیلئے زبانی دشنام کا دردناک عذاب ہے”۔
اللہ الذی سخر لکم البحر لتجری الفلک فیہ بامرہ ولتبتغوا من فضلہ ولعلمکم تشکرونO
” اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے سمندر کو مسخر کیا تاکہ اس میں اسکے حکم سے کشتی چلے اور تاکہ تم اسکے فضل کو تلاش کرو اور ہوسکتا ہے کہ تم شکر گزار بن جاؤ ”۔ (سورہ جاثیہ:12)
ایک آدمی کہے گا کہ میں نے زندگی بھر سمندر دیکھا نہیں اور نہ میں مچھیروں کی اولاد ہوں تو میرا سمندر سے کیا کام ہے؟۔
حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی وجہ سے بنی نوع انسان کو اللہ نے بچایا اور آیت میں کشتی نوح سے تو انکار ممکن نہیں ہے۔
وسخر لکم ما فی السماوات و مافی الارض جمیعًا منہ ان فی ذٰلک لاٰیاتٍ لقومٍ یتفکرونO
”اور تمہارے لئے مسخر کردیا ہے جو آسمانوں اور زمین کے اندر ہے سب میں سے۔بیشک اس میں نشانیاں ہیں اس قوم کیلئے جو لوگ فکر کرتے ہیں”۔ (سورہ جاثیہ آیت:13)
موجودہ دور میں تسخیرکائنات کا بہت بڑا نمونہ موجود ہے۔
قل للذین اٰمنوا یغفروا للذین لایرجون ایام اللہ لیجزی قومًا بما کانوا یکسبونO(الجاثیہ:14)
”کہہ دو ان لوگوں سے جوایمان لائے ہیں کہ معاف کردو ان لوگوں کو جو اللہ کے دنوں (انقلاب ) کی امید نہیں رکھتے تاکہ اس قوم کو بدلہ مل جائے جو انہوں نے کمایا ہے”۔
جب تک انتقام کا جذبہ اور کوسنے کا سلسلہ جاری رہے گا تو انقلاب نہیں آسکے گا اسلئے ان کو معاف کرنے کا حکم ہے تاکہ جو اچھے یا برے عمل کرنے والے ہیں وہ اپنااپنا بدلہ پاسکیں۔
من عمل صالحًا فلنفسہ و من اساء فعلیھا ثم الی ربکم ترجعونO(سورہ الجاثیہ آیت:15)
”جس نے اچھا عمل کیا تو اپنے لئے کیا اور جس نے برا عمل کیا تو اپنے سر لیا پھر تم کو سب اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے ”۔
ولقد اتینا بنی اسرائیل الکتاب والحکم والنبوة و رزقناھم من الطیبات و فضلناھم علی العالمینOواٰتیناھم بیناتٍ من الامر فما اختلفوا الا من بعد ماجاء ھم العلم بغیًا بینھم ان ربک یقضی بینھم یوم القیامة فیما کانوا فیہ یختلفونOجاثیہ:16،17
”اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب، حکم اور نبوت دی اور پاکیزہ چیزوں کی روزی اور ان کو جہانوں پر فضیلت دی ۔اور انہیں کھلے احکام دئیے۔پھر انہوں نے علم آنے کے بعد باہمی ضد سے اختلاف کیا ۔بیشک ان کے درمیان اللہ انقلاب کے دن فیصلہ کرے گا جس کے اندروہ اختلاف کرتے تھے ”۔
بنی اسرائیل کو فضیلت اپنے دور کے لحاظ سے دی تھی ۔ سورہ بنی اسرائیل میں شیطان کیساتھ قیامت کے دن تک وعدہ ہے لیکن جب شیطان نے یوم البعث تک استدعا کی تو اللہ نے کہا کہ یوم وقت معلوم تک وعدہ ہے۔ اسلئے کہ قیامت دنیا میں بھی برپا ہوگی اور انشاء اللہ عالمی انقلاب سے ابلیس مرجائے گا۔
ثم جعلناک علی شریعةٍ من الامر فاتبعھا ولا تتبع اھواء الذین لایعلمونOانھم لن یغنوا عنک من اللہ شیئًا وان الظالمین بعضھم اولیاء بعضٍ وللہ ولی المتقینO(سورہ الجاثیہ آیات:18،19)
”پھر ہم نے آپ کو شریعت کے احکام کا وارث بنادیا ہے تو اس کی اتباع کریںاور اتباع نہ کریں جو لوگ نہیں جانتے ہیں۔ بیشک وہ تمہیں اللہ سے نہیں بچاسکتے ہیں اور بیشک ظالم ایک دوسرے کے سرپرست ہیں اللہ پر ہیزگاروں کا ولی ہے”۔
ھٰذا بصائرللناس و ھدًی ورحمة لقوم یوقنون
” یہ لوگوں کیلئے بصیرت اور ہدایت اور رحمت ہے اس قوم کیلئے جو یقین رکھنے والے ہیں”۔ (الجاثیہ:20)
مولانا یوسف بنوری ماہنامہ کے اداریہ پر آیت کا ٹکڑا لکھتے تھے تو مولانا یوسف لدھیانوی کے کہنے پرلکھنا چھوڑ دیا۔
ام حسب الذین اجترحوا السئیاتِ ان نجعلھم کالذین اٰمنوا و عملوا الصالحات سوآئً محیاھم ومماتھم ساء مایحکمونO(الجاثیہ:21)
”کیا گمان رکھتے ہیں جنہوں نے گناہوں کا ارتکاب کیا ہے کہ ہم ان کو ایمان والوں اور عمل صالح والوں جیسے بنائیں گے ۔برابر ہوں گے انکے زندہ ومردہ یہ برا فیصلہ کرتے ہیں”۔
جامعہ دارالعلوم کراچی اور جامعہ بنوری ٹاؤن والے ایک دوسرے کے ساتھ زندہ اور مردے کیسے برابر ہوسکتے ہیں؟۔
و خلق اللہ السماوات والارض بالحق ولتجزٰی کل نفسٍ بما کسبت و ھم لا یظلمونO
”اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا حق کیساتھ تاکہ ہر نفس کو اسکے کئے کا بدلہ ملے اور ان پر ظلم نہ ہوگا”۔ جاثیہ:22
یہ اس دنیا میں انقلاب اور بدلہ دینے کی خبر بھی ہے۔
افرایت من اتخذالھہ ھواہ واضلہ اللہ علی علمٍ و ختم علی سمعہ وقلبہ وجعل علی بصرہ غشاوة فمن یھدیہ من بعداللہ افلا تذکرونO
” کیا تو نے اس کو دیکھا ہے جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا معبود بنادیا ہے اور اس کو اللہ نے علم کے باوجود گمراہ کیا اور اس کی قوت سماعت اور دل پر مہر لگادی اور اس کی قوت بصری پر پردہ ڈال دیا تو کون ہے جو اللہ کے بعداس کو ہدایت دے سکتا ہے۔ کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ”۔ (جاثیہ:23)
مفتی تقی عثمانی نہ تو سومنات کا پجاری ہے ،نہ قبر پرست ہے اور نہ تصاویر کو پوجتا ہے ۔البتہ اپنی نفسانی خواہش کوپوچتا ہے اور لگتا ایساہے کہ اس پر علم کے باجود گمراہی کا غلبہ آگیا ہے۔
وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت و نحیا ومایھلکنا الا الدّھر و ما لھم بذٰلک من علمٍ ان ھم الا یظنونO
”اور کہتے ہیںکہ اور کیا ہے مگر ہماری اس دنیا کی زندگی جس میں مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں نہیں مارتا ہے مگر زمانہ اور ان کو اس کا علم نہیں ہے اور وہ نہیں ہیں مگر صرف گمان پر چل رہے ہیں”۔ (سورہ جاثیہ:24)
1984ء میں قاری مفتاح اللہ سے پوچھا کہ تفسیر عزیزی میں عذاب قبر کا انکار ہے؟۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی سے پوچھنے کا حکم ملا تو انہوں نے کہا کہ آپ پنج پیری ہو؟۔
دارالعلوم کراچی کے مولانا زبیر اشرف عثمانی کے پاس اس کی فرصت نہیں تھی یا نالائق ہے؟۔لیکن تفسیر عزیزی کا جدید اور سلیس ترجمہ و تفسیر واضح کرکے شائع کیا ہے۔ جب عذاب قبر کا انکار ہو تو بعثت کی جواب دہی کا خوف بھی ختم ہوجاتا ہے۔
احتساب ناصبیت میں مماتی جذبات کا فائدہ اٹھاتے ہیں مگر ٹھوس حقائق سے فضابدلے گی ۔انشاء اللہ ۔
مفتی منیر شاکر شہید کا ایک انٹرویو دیکھا جس میں اس نے مفتی رشیداحمد لدھیانوی سے بہت کچھ سیکھنے کا کہتے ہوئے بتایاکہ ”فتاویٰ عالمگیریہ” کو حوالہ تسلیم کرنے سے انکار کیا اور یہ بہت بڑا بریک تھرو ہے۔ سورہ فاتحہ کو پیشاب سے ناجائز قرار دینے کیلئے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کو فتوؤں کی کتابوں میں کوئی حوالہ نہیں ملا تو ایام نوروز میں دروازوں پر تعویذ لٹکانے کوغیروں سے مشابہت کا حوالہ دیا۔ مفتی تقی عثمانی نے سرینڈر کیا۔جب ایک نومسلم نے بیوی کو کراچی میں تین طلاق دی تومولانا فتح خان نے مجھے فقہ اور فتوے کی کتابیں تھمادیں مگر اس میں کچھ نہیں مل رہا تھا تو مولوی شبیر صاحب نے کہا کہ بہشتی زیور میں دیکھوں۔ پہلے مجھے غصہ آیا کہ بڑے بڑوں نے کچھ نہیں لکھا تو پھر دلجوئی کیلئے بہشتی زیور دیکھی اس میں ان سے بھی زیادہ تضادمل گیا اسلئے کہ مسائل کا خلاصہ لکھا ہوا ہے۔ پھر جب2007میں قرآن کی طرف دیکھا تو دماغ کی شریانیں کھلیں اور مسئلے کے حل سے دل کھل گیا۔الحمدللہ بہت لوگ مان گئے۔
واذا تتلٰی علیھم اٰیاتنا بیناتٍ ماکان حجتھم الا ان قالوا ائتوا باٰبائنا ان کنتم صادقینO
”اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ ان کیلئے کوئی دلیل نہیں ہوتیں مگر یہ کہ کہتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا کو لے کر آجاؤ اگر تم سچے ہو”۔ (سورہ جاثیہ آیت:25)
قل اللہ یحییکم ثم یمیتکم ثم یجمکم الی یوم القیامة لاریب فیہ و لٰکن اکثر الناس لایعلمونOوللہ ملک السماوات والارض و یوم تقوم الساعة یومئذٍ یخسر المبطلونO(سورہ جاثیہ:26،27)
”کہہ دو کہ وہ تمہیں زندہ کرتا ہے پھر تمہیں موت دیتا ہے پھر تمہیں اکٹھا کرے گا قیامت کے دن کی طرف جس میں شبہ نہیں لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے اور اللہ کیلئے ہے جو کچھ آسمانوں و زمین میں ہے اور انقلاب کی گھڑی قائم ہوگی پھر اس دن وہ لوگ نقصان اٹھائیں گے جنہوں نے اس کو باطل قرار دیا ”۔
وتری کل امةٍ جاثیةً کل امةٍ تدعٰی الی کتابھا الیوم تجزون ما کنتم تعملون O(الجاثیہ:28)
”اور آپ اس دن ہر جماعت کو گھٹنوں کے بل دیکھیں گے ہر جماعت اپنے نامہ اعمال کی طرف بلائی جائے گی ۔آج کے دن تمہیں اس کا بدلہ مل جائے گا جو تم کرتے رہے ہو”۔
اردو میں اس کو مرغا بننا کہتے ہیں۔ یہ مجرموں کیلئے ہے۔
ھٰذا کتابنا ینطق علیکم بالحق انا کنا نستنسخ ماکنتم تعملونOفاماالذین اٰمنوا و عملوا الصٰلحٰت فیدخلھم ربھم فی رحمتہ ذٰلک ھو الفوز المبینOواما الذین کفروا افلم تکن اٰیاتی تتلٰی علیکم فاستکبرتم وکنتم قومًا مجرمینO(جاثیہ:29،30،31 )
”یہ ہماری کتاب تم پر حق کیساتھ بولتی ہے ،بیشک ہم نسخے لکھتے تھے جو تم عمل کرتے تھے پس جو ایمان اور عمل صالح والے ہیں تو ان کا رب انہیں رحمت میں داخل کرے گا ،یہ کھلی کامیابی ہے اور جو لوگ انکار والے ہیں تو کیا تم پر ہماری آیات نہیں پڑھی جاتی تھیں تو تم نے تکبر کیا اور مجرم قوم ہو”۔
واذا قیل ان وعداللہ حق والساعة لاریب فیھا قلتم ماندری ما الساعة ان نظن الا طنًا و ما نحن بمستیقنینO
”اور جب کہا جاتا کہ اللہ کا وعدہ حق ہے اور انقلاب کی گھڑی میں شک نہیں تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ انقلاب کیا گھڑی ہے ، ہم تو گمان رکھتے ہیں مگر گمان رکھنا اور ہمیں خلافت کے قیام کا یقین نہیں ہے”۔ (الجاثیہ:32)
یہ بے غیرت امام مہدی اور خلافت سے دھوکہ دیتے تھے۔
وبدالھم سیئات ماعملوا و حاق بھم ماکانوا بہ یستہزئونO
”پھر ان کے کرتوت انکے سامنے آگئے اور ان کو گھیرے میں لے لیا جس کا مذا ق اڑاتے تھے”۔ جاثیہ:33
وقیل الیوم ننساکم کما نسیتم لقاء یومکم ھٰذا وماواکم النار و مالکم من ناصرینO
”اور ان سے کہا جائے گا کہ آج ہم نے تمہیں بھلا دیا جیسا کہ آج کے دن کی ملاقات تم بھلا چکے تھے اور تمہارا ٹھکانہ آگ ہے۔اور تمہارے کوئی مدد گار نہیں ہیں ”۔ (جاثیہ:34)
عربی میں نار گولی کو بھی کہتے ہیں جن کی تم نے حلالہ سے حجامت کرائی ہے تو وہ گولی ماریںگے یا پھرمدد کریں گے؟۔
ذٰلکم بانکم اتخذتم اٰیات اللہ ھزوًا و غرتکم الحیاة الدنیا فالیوم لایخرجون منھا ولاھم یستعتبون
”یہ اسلئے کہ تم نے اللہ کی آیات کو مذاق بنادیا اورتمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکہ میں ڈالا۔توآج تمہیں نہ نکالا جائے گا اور نہ تم سے توبہ کرنے کا کوئی مطالبہ کیا جائے گا”۔ (جاثیہ:35)
البقرہ231میں اللہ نے طلاق کیلئے بڑا واضح کیا کہ اللہ کی آیات کو مذاق مت بناؤ کہ سادہ لوح کے حلالہ کروانے بیٹھو۔
فللہ الحمد رب السماوات ورب الارض رب العالمینOو لہ الکبریاء فی السماوات والارض و ھو العزیز الحکیمO
”اللہ کیلئے تمام تعریفیں جو آسمانوںکا رب ہے اور زمین کا رب ہے۔بڑائی اسی کیلئے آسمانوں میں و زمین میں وہ زبردست حکمت والا ہے”۔ (الجاثیہ:36،37)
ہمارے اساتذہ کرام مولانا بدیع الزمان ، مفتی عبدالمنان ناصردامت برکاتہم العالیہ ،شیخ الحدیث قاری مفتاح اللہ ، مولانا شبیراحمد وغیرہ نے زمانہ طالب علمی میں اصول فقہ، فقہ اور تفسیر کی کتابیں پڑھاتے ہوئے یہ سبق نہیں دیا کہ صاحب کتاب کو اہمیت دو بلکہ اللہ کی بات کو اور حق بات کو بڑا قرار دیا۔
آج مفتی اعظم پاکستان شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی اور قائد ملت اسلامیہ مولانا فضل الرحمن وغیرہ نے خود کو خداکے سامنے بڑا بنارکھا ہے۔ مفتی تقی عثمانی اور اسکے باپ نے جاندار کی تصویر پر مولانا ابوالکلام آزاد ، علامہ سید سلیمان ندوی سے توبہ کروایا اور بچوں کی بنائی تصویر اور مزدور کی بنائی عمارت کو بھی خدا کی خدائی میں مداخلت قرار دیا اور بچیوں کے کان چھیدنے کو بھی خدا کی تخلیق میں مداخلت اور اپنے دانت نکلوالئے۔
قرآن یہود ونصاریٰ کے اختلافات کو ختم کرتا ہے لیکن اس دور کا مسلمان خود ہی مختلف مفادات واختلافات میں پھنس گیا۔ رسول اللہ ۖ نے خبردی کہ ”وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کا اول میں ہوں ، اس کا درمیان مہدی اور آخر عیسیٰ”۔
شیعہ پنج تن پاک کا عقیدہ رکھتاہے اور سنی یک تن پاک کا عقیدہ ۔جو حضرت ابوبکر صدیق کی صحابیت کو قرآن سے ثابت کرتے ہیں اور ان کا منکر نص کا منکر اور کافر قرار دیتے ہیں۔
ومالاحدٍ عندہ من نعمةٍ تجزٰیOالا ابتغاء وجہ ربہ الاعلیٰOو لسوف یرضٰیO(سورہ لیل 19،21)
”اور کسی ایک کیلئے بھی ممکن نہیں ہے کہ اس کے پاس جو بھی نعمت ہے کہ اس کا بدلہ دے سکے مگر یہ اپنے رب کی رضا جوئی کی تلاش میں لگا رہے اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا”۔
آیت کا معنی تو بالکل واضح ہے کہ اللہ نے انسانوں کو بہت زیادہ نعمتوں سے نواز ہے اور کسی ایک کیلئے بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ اس کی ایک نعمت کان، آنکھ، زبان، دل ، دماغ، ہاتھ پیر اور جہاں سے وہ پوٹی اور پیشاب کا اخراج کرتا ہے کہ اس کا بدلہ دے سکے لیکن بس اپنے رب اعلیٰ کی رضاجوئی کیلئے لگا رہے یہ اس کا فرض ہے اور عنقریب اللہ اس کو خوش بھی کردے گا۔
پاکستان کے وزیراعلیٰ پنجاب، پختونخواہ، سندھ ، بلوچستان اور آرمی چیف اور وزیراعظم وغیرہ سے لیکر جماعتوں کے قائد ، رہنما اور مختلف سر پنچوں کی رضاجوئی کیلئے لوگ کیا نہیں کرتے؟ تو اللہ نے مخلوق خدا کو اپنی رضا جوئی کا حق ادا کرنے کا کہا ہے۔
آیت کی تفسیر میں اہل سنت کے مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سے مراد حضرت ابوبکر ہیں۔ جبکہ رسول اللہ ۖ کی حدیث ہے کہ میں بھی اللہ کی نعمتوں کا بدلہ نہیں دے سکتا اور اللہ کے فضل پر چلتا ہوں لیکن احمق طبقے کو پتہ نہیں کہ آیت میں کسی ایک فرد کا استثناء مراد نہیں ہے اگر کسی فرد کا استثناء مراد ہوتا تو پھر شخصیت مراد لی جاتی لیکن شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے تفسیر عزیزی میں لکھ دیا تو یہی ان کیلئے بس ہے۔
جب مولانا طاہر پنج پیری ایک مرتبہ کراچی میں تقریر کرنے آئے تو مولانا مسعود الدین عثمانی کی کتاب توحید خالص کے بارے میں پوچھا لیکن اس کے شاگردوں نے نہیں چھوڑا تھا۔
قرآن کے بارے میں ایک عقیدہ یہ ہے کہ قرآن”نظم و معنی” کی جمع ہے جیسے درس نظامی ”نورالانوار” میں ہے ،دوسر ا یہ ہے کہ صرف ”معنی و مفہوم ” قرآن ہے ، الفاظ نہیں ۔ جیساکہ امام بخاری اور شاہ ولی اللہ کا عقیدہ امام احمد بن حنبل کے خلاف تھا۔ معتزلی کے نزدیک قرآن کے الفاظ حادث تھے ،امام احمد بن حنبل پر اسلئے کوڑے برسائے گئے کہ وہ قرآن کے الفاظ کو قدیم مانتے تھے۔ قرآن کے مخلوق کا فتنہ پیدا ہوا تھا وہ جوں کا توں ” سیرت قرآنیہ رسول عربی ۖمحمد اجمل خان” الفیصل ناشران و تاجران کتب غزنی سٹریٹ اردوبازار لاہور نے بھی دوبارہ جنوری2023ء میں شائع کردیا ہے ۔
مصنف کتاب کے مقدمہ کے آخر میں لکھتا ہے کہ اہل حق کا یہ بھی فرض ہے کہ جہاں تک ان کا بس چلے علم اور دولت پر جبراً اور مفلسوں کا قبضہ دلائیں ۔اسی کیساتھ ساتھ جملہ حق پرستوں یعنی اہل اللہ یا اہل کتاب کے ساتھ رواداری برتیں ۔وہ سب مسلم ہیں بشرط یہ کہ کل نبیوں کو مانیںاور صرف اپنے نبی کو دوسری قوموں کے رسولوں سے بڑا نہ سمجھیں۔یعنی مساوات قائم کریں اور محبت سے نسلی تفوق اور غلامی کا خاتمہ کریں۔
ہمیں امید ہے کہ سیرت کا یہ تاریخی مطالعہ عام انسانیت کو ترقی دینے میں مدد دے گااور جو لوگ اسلام کی ذہنی ومعاشی و روحانی ترقی تک پہنچنا چاہیں گے انہیں قرآن کی تاریخی ترتیب سے مکمل روشنی حاصل ہوجائے گی ۔
محمد اجمل خان (نئی دہلی) دوشنبہ۔20جون1955ئ
یوم الاثنین۔27شوال1374ھ
علامہ اقبال نے ابلیس کی مجلس شوریٰ میں لکھا کہ
توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسم شش جہات
ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات
مماتی دیوبندی اس وجہ سے اشاعت التوحید کے صوبائی امیر پنجاب کی طرف سے مولانا سر فراز خان صفدر کے ساتھ رحمة اللہ علیہ کہنے پر اپنے کارکنوں کے غیظ و غضب کا نشانہ بن گئے کہ ایک مشرک کیساتھ رحمة اللہ علیہ کہہ کر بڑا کفر کردیا۔
دوسری طرف شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان نے اپنے استاذ مولانا حسین علی کی تفسیر بلغة الحیران میں یہ لکھ دیاہے کہ ”میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ۖ گررہے تھے تو میں نے تھام لیا اور سہارا دیکر گرنے سے بچالیا”۔ تو مماتی اس پر شرک کا فتویٰ نہیں لگاتے اسلئے کہ یہ تھوڑی کہا کہ مجھے بچالیا ہے؟۔
عمران خان سے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے دورانِ تقریر کہا کہ ”مذہبی ٹچ بھی دو”۔ بس ٹچ ہونا چاہیے کہ بدعت کی بہت سخت مخالف ہے۔ مدد لی نہیں دی ہے ۔ دیوبند کی شاخوں اور ایک استاذ کے شاگردوں اور ایک پیر کے مریدوں کا یہ حال ہوگا تو جاویداحمدغامدی کے ہاں ڈاکٹر عمار خان ناصر پناہ نہیں لے توکیا کرے؟۔ مفتی تقی عثمانی علامہ زاہدالراشدی کو دارالعلوم کراچی میں دعوت دے گا تو کیوں آئے گا؟۔
مولانا محمد امیر بجلی گھر رحمان بابا کی کرامت بعدالموت کے واقعہ کا چشم دید گواہ بنے گا اور مماتی رحمان بابا کے مزار کو اڑانے کی کوشش کریںگے؟۔ مولانا بجلی گھر کہے گا کہ عراق کی پیٹھ پر صدام حسین نہیں شیخ عبدالقادر جیلانی کی روح لڑرہی ہے اور مجاہدین یزیدی مذہب کی عورتوں کو لونڈیاں بناکر بیچیں گے؟۔
اہل حدیث سے کہہ دو کہ ابن ماجہ میں ہے کہ قرآن کی کچھ آیات بکری کے کھا جانے سے ضائع ہوگئی ہیں تو قرآن کی بھی پرواہ نہیں کرتے اور حدیث کا دفاع کرتے ہیں۔ حنفی مسلک کو قرآن کے نام پر جعلی آیات بھی درست لگتی ہیں اور شافعی کے سامنے حدیث آجائے تو قرآن کی واضح آیت کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔ یہ وہ غلو ہے جس نے سابقہ اقوام کا بیڑہ غرق کیا ۔
مخدوم محمدہاشم ٹھٹوی پیدائش19نومبر1692ء وفات11فروری1761ء نے سندھی میں آخری پارہ عم کا ترجمہ و تفسیر لکھا ۔شاہ ولی اللہ پیدائش1703ء وفات1762ئ۔ شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی پیدائش1746وفات1823۔ ملا احمد جیون پیدائش12جنوری1637ء وفات1718ئ۔ شاہ عبدالرحیم محدث دہلویپیدائش1644وفات1718۔
ملا جیون نے نورالانور میں لکھا کہ ”امام ابوحنیفہ کے نزدیک نماز فارسی میں پڑھنا عربی زبان پر قدرت کے باوجود افضل تھی اور اس کی دو وجوہات ہیں ،ایک نبیۖ کافارسی پر تلفظ فرمانا اور دوسرا عربی کلام کی خوبصورتی خدا اور بندے میں رکاوٹ”۔
نورالانوار آج بھی درس نظامی کا حصہ ہے۔ شاہ عبدالرحیم محدث دہلوی کے ہم عمر نے فارسی میں امام ابوحنیفہ کے ہاں نماز کو عربی سے افضل قرار دیا لیکن جب شاہ ولی اللہ نے قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیا تو ان پر قتل کے فتوے جاری کئے گئے۔
سورہ النباء میں نباء العظیم سے قیامت پر اختلاف مراد نہیں بلکہ دنیا کے انقلاب پر اختلاف مراد ہے۔ جس کی ایک جھلک فتح مکہ اور سپر طاقتوں کی شکست کے بعد لوگ دیکھ چکے ہیں اسلئے کفریہ طاقتیں اسلام اور مسلمانوں سے خوفزدہ ہیں۔
ان یوم الفصل کان میقاتًاOیوم ینفخ فی الصور فتأتون افواجًاO(سوہ النبائ:آیات17،18)
”بیشک فیصلہ کن دن کی سرحد طے ہوچکی ہے جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم فوج درفوج آؤگے”۔
یدخلون فی دین اللہ افوجًاO
کے مناظر رسول اللہ ۖ کے دور میں بھی فتوحات کے بعد لوگ دیکھ چکے۔ جلوسوں سے تبدیلی آتی ہے۔
ان جھنم کانت مرصادًاOللطاغین ماٰبًاOلٰبثین فیہا احقابًاO
” بیشک جہنم گھات میں ہے۔سرکشوں کیلئے ٹھکانہ ہے۔ اس میں کئی80سال رہیںگے”۔ النبا21تا23
جیسے دہائی10سال کی ہوتی ہے ویسے حقب80سال کا ہوتا ہے۔ ابوجہل و ابولہب کو80کے حساب سے کتنا عرصہ ہوا ہے؟ اور ان کیلئے جہنم گھات میں تھی اور قرآن سچا ہے یانہیں؟۔
فمن یعمل مثقال ذرةٍ خیرًا یرہOومن یعمل مثقال ذرةٍ شرًا یرہO(سورہ الزالزال آیات7،8)
”جو ذرہ برابر بھلائی کرے تو دیکھے گا اور جو ذرہ برابر شرکرے گا تو دیکھے گا”۔ صحیح بخاری میں رسول اللہ ۖ کی عید میلاد کے موقع پر لونڈی آزاد کرنے کی وجہ سے ابولہب کو اسکے بدلے میں پیر کے دن راحت پہنچنے کی درست خبر نبیۖ نے دی ہے۔ اگر سود بھی جائز قرار دیا اور زکوٰة بھی معطل کردی اور عذاب قبر نہ ہونے کا عقیدہ بھی گھڑ ا تو دین کی خدمت نہ ہوگی۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اکتوبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ