حسنی وحسینی سادات
اکتوبر 28, 2026
حسنی وحسینی سادات
میری والدہ حسینی والد حسنی سید ، ننھیال پر سید نہ ہونے کا تاثر ۔ ۔ حاجی عثمان نے بتائے بغیر زائل کیا ۔
وہ تلوار، ہم مصلہ۔ رافضی ۔ ۔ ۔ صحابہ وحسنی کو بزدل وبدمذہب کہیں، ناصبی ۔ ۔ ۔ اہل بیت کو
کانیگرم میں بدمعاش کو گھر میں گھسنے پر قتل کیا تومیرا والد کمزور غیرتمند کا سپورٹر ۔ ۔ ۔
ننھیال طاقتور کا ہمدرد ۔ ۔ ۔
بھائی نے گھر میں گھسنے پر طالبان کو تھپڑ مارا تو۔ ۔ ۔ !
ماموں ناراض،،،،
ان کا اپنوں پر ظلم کاسلسلہ پرانا ہے اسلئے تاریخ کا پردہ اٹھاناہے۔
عربی چینل پر "حسنی سادات” الزام کی ضد میں لیکن !
تاریخ خود کو دوہراتی ہے اور ۔ ۔ !
ہماری "خاموشی” کوئی کمزوری نہیں بلکہ ۔ ۔ ۔
شرافت ہے ۔
اللہ کی نعمت کا اظہار شکر ہے۔
حال دل کا ہم نے سنایا تو برا مان گئے
اشک آنکھوں میں جو آیا تو برا مان گئے
وعدہ کرکے جو نہ آیا تو کوئی بات نہیں
بے وفا کہہ کے بلایا تو برا مان گئے
جس کے ہر لفظ میں ہر بند میں نام ان کا تھا
ہم نے وہ گیت سنایا تو برا مان گئے
وہ جو غیروں سے ہم آغوش ہوا کرتے ہیں
ان کو پہلو میں بٹھایا تو برا مان گئے
آپ نے جشن چراغوں کا منایا لیکن
اک دِیا ہم نے جلایا تو برا مان گئے
جام پہ جام اٹھاتے رہے پینے والے
ہم نے جو ہاتھ بڑھایا تو برا مان گئے
ناز پہ ناز اٹھایا تو بڑے اچھے تھے
نیند سے ان کو جگایا تو برا مان گئے
عیب ہر شخص میں جو ڈھونڈ رہے تھے انجم
آئنہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے
کربلا میں حسین کے بیٹے23سالہ زین العابدین اور3سالہ پوتے باقرکوآنچ نہ آئی، دمشق میں خطبہ جمعہ دیا۔
کربلا میں حسن کے بیٹے حسن مثنیٰ زخمی بیہوشی میں مردہ قراراور4سالہ بیٹا عبداللہ شہید۔
تندرستی پر بندھا ہوا بازار ِشام میں گھمایا گیا ، زین العابدین نے دعا بتائی اور سفارش کی ۔ ۔ ۔
اسلئے کہ والدہ "ایرانی” محمد بن ابی بکر اور عبداللہ بن عمر کی سالی ۔
سالم بن عبداللہ بن عمر اور قاسم بن محمد بن ابی ابکر سگے خالہ زاد تھے۔ ۔ ۔
معاویہ بن یزید نے مسندپیش کی۔ ایرانی خلیفہ بنانا چاہتے تھے مگر پھر ۔ ۔ !
محمد بن حنفیہ کو خفیہ خلیفہ بنایا ۔
زین العابدین کی سندھی بیگم سے زید پیدا ہوا تو !
ہشام بن عبدالملک کیخلاف قیام کیا۔
امام جعفرکی والدہ قاسم بن محمد کی بیٹی تھی،
ایرانی خلیفہ بنانا چاہتے مگر نہ مانے اور۔ ۔ ۔
بنوامیہ و بنوعباس دور میں حسینی سید حضرت عمر و طلاق بدعت کے مخالف مگر ۔ ۔
"مراعات یافتہ” اسلئے کہ حکمران عمر وعلی میں تفرقہ چاہتے تھے اور
"حسنی سادات” اتحاد کے علمبردار مگر حق کے علمبردار۔
عبداللہ محض، محمد النفس الزکیہ، ابراہیم اور حسنی سادات شہید ہوئے اور حسینی معززتھے،،،
امام رضا اور مامون الرشید کا مزار ایک ہے۔
تفضیل خدا کا کام اور تفریق بے غیرت طرز کی مخلوق کا وظیفہ۔
ــــــــــ
ہاتف غیب کی آواز
حسن مثنیٰ کا وصال ہوا تو آپ کی زوجہ فاطمہ بنت حسین نے ایک سال تک خیمہ قبر پر لگایا۔ بخاری نے لکھا کہ ”خیمہ اٹھالیا تو پھر ہاتف غیب سے آواز آئی کہ مقصد پورا ہوا؟، جس کا جواب ہاتف غیب سے دوسرے فرشتے نے جواب دیا کہ نہیں پورا ہوا”۔
فقہاء نے بک بک کی ہے کہ خیمہ کیوں لگایا؟۔شرعاً ممنوع ہے یا جائز ہے۔مقصد کیا تھا جو حاصل نہیں ہوا۔ وغیرہ وغیرہ۔
البقرہ آیت234میں بیوہ کی عدت4ماہ10دن ہے اور پھرآیت240میں ہے کہ ایک سال تک بیوہ کیلئے وصیت اور اس کو نکالنا نہیں لیکن اگر وہ خود اپنے بارے میں نکاح کا فیصلہ کریں یعنی4ماہ10دن کے بعد تو ان کی مرضی ہے۔ فاطمہ بنت حسین زوجہ حسن مثنیٰ میری ماں نے دیکھا کہ” خود ساختہ مفسرین نے آیت کو منسوخ کرنے کی بکواس شروع کی ہے اور میاں بیوی میں سے ایک کے انتقال پر نکاح ٹوٹنے کا کہتے ہیں تاکہ میت کے غسل پر پیسہ کمائیں تو ایک سال تک خیمہ لگادیا۔ فرشتوں نے ہاتف غیب سے آواز دی کہ مقصد پورا نہ ہوا اسلئے مفسرین نے بیوہ کی دو عدتوں کا غلط ذکر کیا۔ ایک سال ، دوسری4ماہ10دن ۔ پہلی آیت سے آخری آیت منسوخ ہوگئی ۔
ہمارے اساتذہ نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں بتایا کہ خود ساختہ مسائل گھڑے تھے کہ میت کا بچا ہوا صابن اور کفن گھر والوں کیلئے جائز نہیں۔ نبیۖ نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ میں تیری میت کو غسل دوں گا اور اماں عائشہ حالت غم میں بھول گئی تھیں ورنہ نبیۖ کو خود غسل دینا تھا۔ حضرت ابوبکر کی میت کو آپ کی زوجہ نے غسل دیا اور حضرت علی نے اپنی زوجہ حضرت فاطمہ کی میت کو غسل دیا۔ قرآن میں تکمیل عدت کے بعد نکاح باقی رہاتھا لیکن عورت چاہے تو دوسرے سے بھی نکاح کرنے کا حق رکھتی ہے ۔ حکومت پاکستان اعلان کردے کہ اس کے بعد ملازم کی بیوہ کو ایک سال تک سرکاری گھر سے نہیں نکالا جائے گا اور خود نکلے تو مسئلہ نہیں تاکہ قرآن زندہ اور جاہل علماء و مفتیان کی روسیاہی سے عوام کو آگاہی ہو ،جاہل مسلط ہوگئے۔
میری والدہ کودادا نے بتایا:
27رمضان لیلة القدر کو3بار آواز آئی:
”و امتازوا الیوم ایھا المجرمون”
”اے مجرموں آج جدا ہوجاؤ”۔
پاکستان27رمضان کووجود میں آیا۔مولانا سندھی نے سورة القدر کی تفسیر میں اس خطہ سے انقلاب کا لکھا۔ لگتا ہے کہ علماء نے مذہبی حساسیت پر بیداری شروع کردی ہے ۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اکتوبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ