سورہ یٰسین قرآن کا دل ہے
اکتوبر 7, 2026
یٰسینOوالقراٰن الحکیمOانک لمن المرسلینOعلی صراطٍ مستقیمٍOلتنذرقومًا ما انذراٰباؤھم فھم غافلونO(سورہ یٰسین آیت1سے6)
رسول اللہ ۖ اصل سید سردار ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اے سید! قسم ہے حکمت والے قرآن کی بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں سیدھی راہ پر ، نازل کیا گیاہے زبردست غلبہ والے رحم والے کا۔تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جن کے آباء نہیں ڈرائے گئے اور وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں”۔
سورہ جمعہ میں صحابہ کرام اور اس دور کے عوام کیلئے بھی یہی الفاظ ہیں اسلئے کہ ان کے آباء واجداد غفلت ہی میں پڑے تھے اور
واٰخرین منھم لما یلحقوا بھم
کا بھی ذکر ہے۔ جنہوں نے موجودہ دور میں پیدا ہونا تھااور آخر میں تھوڑے سے لوگوں نے
السابقون السابقون
سورہ واقعہ کے مطابق
قلیل من الاخرین
کی خبر کا مصداق بننا تھا۔ سورہ انعام میں ان جانوروں کا بھی ذکر ہے جو صحابہ کرام واہل بیت عظام سے نفرت رکھتے ہوں کہ اگر ان کی جگہ پر یہ دلے ہوتے تو بڑے تیر مارتے بہت ہی بے شرم اور بے ضمیر مخلوق ہیں۔
لقد حق القول علی اکثرھم فھم لایؤمنونOانا جعلنا فی اعناقھم اغلالًا فھی الی الاذقان فھم مقمحونO
” تحقیق ان میں سے اکثر پر قرآن کا حق قول ثابت ہوچکا ہے لیکن وہ ایمان نہیں لاتے ہیں۔ بیشک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے ہیں پس وہ ٹھوڑیوں تک ہیں سو اوپر کو سر اٹھائے ہوئے ہیں”۔( یٰسین:7،8)
جب ابوجہل اور ابولہب وغیرہ کی یہ حالت تھی تو کبھی لالچ دیتے تھے کہ نبیۖ کو شہید کردیا جائے اور کبھی میٹنگ کرتے اور کبھی سارے ایک دم حملہ آور ہونے کی ترکیبیں لڑاتے لیکن اصل مقصد ٹھوڑیوںتک طوق کے مطلب کی وضاحت ہے اور مفتی تقی عثمانی نے1970ء میں جمعیت علماء اسلام پر بھی فتویٰ لگایا ۔1987ء میں حاجی عثمان کے خلاف سازش کی لیکن اب وہ قرآن کے حلالہ کے خلاف دلائل سے طوق کے اندر کہاں تک پہنچے ہیں؟۔ سودی نظام کو حلال کرنے میں سونے سے دلہن کی طرح لد گیا لیکن ہماری تحریک سے کیا حال ہوا ہے؟۔
وجعلنا من بین ایدیھم سدًا ومن خلفھم سدًا فاغشیناھم فھم لایبصرونO(سورہ یٰسین:9)
اس آیت کا بامحاورہ عام فہم ترجمہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو ہم نے بند گلی میں کھڑا کردیا ہے، شیعوں پر قادیانیوں سے بدتر کافر کا فتویٰ لگادیا مگر پھر پتہ چلا کہ تحریف قرآن کی تعلیم تو خود اپنے درس نظامی میں دے رہے ہیں۔ صحابہ پر اکسایا تو خود ہی اپنے دام میں صیاد آگیا ہے۔ لیکن انہوں نے سودی نظام کو حلال کرنا بھی گوارا کیا اور اس کے خلاف فتوے بھی متفقہ دئیے ہیں۔
وسواء علیھم ء ا انذرتھم ام لم تنذرھم لایؤمونO
”اور ان پر برابر ہے کہ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ایمان نہیں لائیں گے ”۔ (سورہ یٰسین:10)
لوگوں کی عزتیں لٹ رہی ہیں۔ عقیدت مندوں کی طرف سے راز کھلنے پر خدشات ہیں لیکن ڈھیٹ بنے ہوئے ہیں اور یہ صورتحال پہلے بھی ضمیر سے عاری لوگوں کی رہی ہے۔
انما تنذر من اتبع الذکر و خشی الرحمن بالغیب فبشرہ بمغفرةٍ و اجرٍ کریمٍO (یٰسین:11)
”بیشک آپ اس کو ڈراسکتے ہیں جو قرآن کے پیچھے چلے اور رحمان سے غیب کے اندر ڈرے تو اس کو بشارت دو مغفرت کی اور عزت والے بدلے کی ”۔
نبیۖ نے ایسے لوگوں کی خبر دی ہے جن کا ایمان عجیب ہوگا اور انہوں نے نبی ۖ کی صحبت بھی نہیں اٹھائی ہوگی اور فرشتے بھی نہیں دیکھے ہوں گے ۔قرآن بھی ان کے سامنے نازل نہیں ہوگا لیکن صحابہ کی طرح قرآن پر ایمان رکھتے ہوں گے اور ایک کو50افراد کا بدلہ ملے گا۔صحابہ نے پوچھا کہ ان میں سے؟۔ فرمایا کہ تم میں سے50کا ۔
اہل تشیع مہدی غائب پر یقین رکھیں لیکن جب صحابہ کے بارے میں بدظن ہوں گے تو50کا بدلہ تو خطرناک ہوگا؟۔
انا نحن نحی الموتٰی و نکتب ما قدموا و اٰثارھم و کل شی ئٍ احصیناہ فی امامٍ مبینٍO(یٰسین:12)
” بیشک ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیںجو وہ آگے بھیجتے ہیں اور جو پیچھے چھوڑتے ہیںاور ہم نے ہر چیز کا محاصرہ کررکھا ہے کھلے امام کے اندر ”۔
شیعہ سمجھتے ہیں کہ بارویں آیت بارواں امام ؟لیکن امام کو تو ایسا ہونا چاہیے کہ کم ازکم لوگوں کے کرتوت تو سامنے لائے؟۔
واضرب لھم مثلًا اصحاب القریة اذ جاء ھا المرسلونOاذ ارسلنا الیھم اثنین فکذبوھما فعززنا بثالثٍ فقالوا انا الیکم مرسلونO(یسین:13،14)
”اور انکو مثال دو اس بستی والوں کی جب ان کے پاس رسولوں کا سلسلہ آتا رہا ۔پھر جب انکے پاس دو رسول آئے اور انہوں نے دونوں کو جھٹلادیا ۔پھر ہم نے تیسرے کو مضبوط کردیا اور انہوں نے کہا کہ بیشک ہم سب آپ کی طرف بھیجے گئے ”۔
آج دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے۔ ابراہم ایکارڈ سے یہودونصاریٰ اور مسلمانوں کو ایک کرنے کی بات ہورہی ہے۔ اللہ نے پہلے بہت سارے رسول بھیجے۔پھر موسیٰ و عیسیٰ کے بعد تیسر ے حضرت محمد ۖ سے دنیا کی سپر طاقتوں کو شکست دے کر انسانیت کے عروج کا راستہ ہموار کیا لیکن نتیجہ کیا ہے؟۔
قالوا ما انتم الا بشر مثلنا و ماانزل الرحمن من شی ئٍ ان انتم الا تکذبوںO(یٰسین:15)
آج ابراہم اکارڈ اور مذاہب ماننے والے بزبان حال کہہ رہے ہیں کہ وہ ہماری طرح بشر تھے اور رحمن نے کچھ نہیں اتارا مگر سب جھوٹ بولتے ہو۔ لیکن ان کی صدائیں آرہی ہیں کہ
قالوا ربنا یعلم انا الیکم لمرسلونOوماعلینا الا البلاغ المبینO
” کہا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے۔ہمارا کام کھلا پہنچانا” ۔ (یٰسین16،17)
قالوا انا تطیرنا بکم لئن لم تنتھوا لنرجمنکم ولیمسنکم منا عذاب الیمO
بکنا شروع ہوگئے کہ ہم تو تمہیں اڑن طشتریوں کی طرح سمجھتے ہیں اور اگر تمہاری دعوت کا سلسلہ نہیں رکا تو میزائل مارکر گرادیں گے اورہماری طرف سے سخت عذاب تمہیں پہنچے گا۔
قالوا طائرکم معکم ائن ذکرتم بل انتم قوم مسرفونO
جواب بزبان حال آیا کہ تمہارے خلائی شٹل اور ہوائی جہاز تمہارے پاس رہیں ۔ کیا تم نصیحت پکڑو گے بلکہ اسراف کرنے والے ہو۔ (یٰسین18،19)
وجاء من اقصا المدینة رجل یسعٰی قال یاقوم اتبعوا المرسلونOاتبعوا من لایسألکم اجرًا و ھم مھتدونOومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعونOء اتخذمن دونہ الٰھة ان یردن الرحمن بضرٍ لاتغن عنی شفاعتھم شیئًاولاینقذونOانی اذًا لفی ضلالٍ مبینٍOانی امنت بربکم فسمعونO
اسی اثنا میں مغربی اور مشرقی ثقافتوں سے آشنا امام مہدی میدان میں اترتا ہے
اور کہتا ہے کہ اے قوم اپنے اپنے رسولوں کی اتباع کرو۔ان کی اتباع کرو جو انتہائی شاندار نظام کا بھی تعارف کراتے ہیں اور چارج بھی نہیں کرتے مفت کی سکیم اور منصوبہ بندی بتاتے ہیں اور وہ ہدایت پر بھی ہیں۔ اور مجھے کیا ہے کہ اس کی عبادت نہ کروں جس نے انسانی فطرت سے مجھ کو نواز دیا اور تم سب نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ کیا میں اس کے علاوہ کسی کو معبود بناؤں اگر رحمن میرے لئے نقصان کا ارادہ کرے تو تمہاری سفارش مجھے کام نہیں آئے گی اور نہ مجھے اس مشکل سے نکالنے والے ہیں۔ پھر تو میں کھلی ہوئی گمراہی میں ہوں ۔ بیشک میں ایمان لایا اس پر جو تم سب کا مشترکہ رب ہے پس میری بات سن لو۔ (یٰسین:20سے25)
قیل ادخل الجنة قال یالیت قومی یعلمونOبما غفرلی ربی و جعلنی من المکرمینO (یٰسین26،27)
اس سے کہا جائے گا کہ اس خیالی پلاؤ کے جنت میں تم خود داخل ہوجاؤ۔ کہے گا کہ کاش میری قوم سمجھ لیتی۔جو کہ میرے رب نے مجھے معاف کردیا ہے اور عزتداروں میں بنادیا”۔
یہ امام معصوم کا کام نہیں ہے بلکہ گناہگار کا کام ہوسکتا ہے۔
وما انزلنا علٰی قومہ من بعدہ من جندٍ من السماء و ماکنا منزلینOان کانت الا صیحةً واحدةً فاذاھم خامدونO
” اور ہم نے اسکے بعد اسکی قوم پر کوئی لشکر نازل نہیں کیا آسمان سے اور نہ ہم نے نازل کرنا تھا یہ تو بس ایک کڑک ہے تو وہ اس سے بجھ گئے”۔(یٰسین28،29۔ )
یا حسرةً علی العباد مایأتیھم من رسولٍ الا کانوا بہ یستھزئوںOالم یروا کم اھلکنا قبلھم من القرون انھم الیہم لایرجعونO
اے افسوس بندوں پر۔ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا مگر انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے ان سے پہلے ادوار میں کتنے ہلاک کردئیے جو انکے پاس نہیں لوٹتے۔(یٰسین30،31)
وان کل لما جمیع لدینا محضرونO(یٰسین32)
”اور سب نے ہمارے ہاں حاضر ہونا ہے” اس آیت میں عالمی اسلامی انقلاب کی زبردست خبر ہے جو پوری ہونی ہے۔
وایة لھم الارض المیتة احییناھا واخرجنا منھا حبًا فمنہ یأکلونOو جعلنا فیھا جناتٍ من نخیلٍ واعنابٍ و فجرنا فیھا من العیونOلیأکلوا من ثمرہ وما عملتہ ایدیھم افلا یشکرونOسبحان الذی خلق الازواج کلھا مما تنبت الارض و من انفسھم و مما لایعلمونO
ان کیلئے خاص نشانی مردہ زمین کی ہے جس کو پھر اللہ نے زندہ کیا ۔جس میںاناج پیدا کیا جس سے وہ کھاتے ہیںاور کھجور اور انگور کے باغات پیدا کئے اور اس میں چشمے اگائے تاکہ اسکے پھل کھائیں اور یہ انکے ہاتھوں نے نہیں کیا تو کیا شکر ادا نہیں کرتے۔ اللہ کی پاک ذات ہے جس نے تمام جوڑے پیدا کئے جن میں زمین سے اُگتی ہیں اور ان کی جانوں میں سے اور وہ جو یہ نہیں جانتے ہیں۔ (یٰسین33تا35)
کانیگرم وزیرستان پہلے خشک سالی سے مرگیا تھا۔ قبرستان کی قدیم نشانیاں واضح ہیں اور یہی حال گومل ٹانک کا بھی تھا لیکن پھر اللہ نے اس مردہ زمین کو قدرتی نشو نما سے پانی اور بارشوں کے سبب آباد کیا۔ ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان کے لوگ ان حقائق کو اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں۔
وآیة لھم اللیل نسلخ منہ النھار فاذاھم مظلمونOوالشمس تجری لمستقرٍ لھا ذٰلک تقدیر العزیز العلیمOوالقمر قدرناہ منازل حتی عاد کالعرجون القدیمOلا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمر ولا اللیل سابق النھار وکل فی فلکٍ یسبحونO(سورہ یٰسین37سے40)
یہاں پر عجیب منظر بیان کیا گیا ہے کہ ان کی نشانی رات ہے جس سے دن لفٹ کرگیا ہے۔ مہدی کے اصلاح کی رات مراد ہے۔ جیسے سورہ الفجر میں واللیل اذا یسر ہے رات کی قسم جب وہ آسان ہوجائے۔ ان مع العسر یسرًا مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔مشکلات کی وجہ سے رات کے طویل قسم کے اندھیرے سے طلوع صبح پھوٹ پڑتی ہے اسلئے کہ سورج کو اپنی منزل کی طرف بہر صورت پہنچنا ہوتا ہے۔ مہدی کی مثال بھی سورج کی طرح ہے۔ ستارے اور افق کے چانداپنی ساکھ کھود یتے ہیں ۔ علماء دیوبند نہیں آتے تو مولانا احمد رضا خان کا مخلص مگر جاہل طبقہ سورج اور چاند گرہن کا وقت سے پہلے پتہ چلنے کے باوجود اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتا ۔ حالانکہ جب سائنس کو پتہ نہیں تھا تب بھی قرآن نے گردشوں کا بتایا تھا۔
وایة لھم انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحونOوما خلقنا لھم من مثلہ مایرکبونOوان نشاء نغرقھم فلا صریخ لھم ولاھم ینقذونOالا رحمةً منا ومتاعاً الی حینٍOواذا قیل لھم اتقوا مابین ایدیکم وما خلفکم لعلکم ترحمونOوما تأتیھم من ایةٍ من اٰیات ربھم الا کانوا عنھا معرضینO(سورہ یٰسین41سے46)
عالمی اسلامی انقلاب کی نشانی ان کیلئے کشتی نوح ہے۔جس میں ان کی ذریات کو اللہ نے طوفان کے وقت بچایا تھا اور اب ترکی میں اس کشتی پر ماہرین نے کام شروع کردیا ہے لیکن اللہ کہتا ہے کہ اس جیسی سواری تو اب بہت تمہارے پاس موجود ہیں اور وہ چاہے تو ایکسیڈنٹ میں غرق کرسکتا ہے لیکن ایک وقت تک تمہیں موقع ہے۔ ہماری رحمت کے سبب ۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تمہار ے ہاتھوں میں حلالہ اور سود کی لعنت سے بچاؤ کی اتھارٹی ہے اور آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی اس سے وابستہ ہے تو یہ ہر آیت سے اعتراض برتتے ہیں۔
واذا قیل لھم انفقوا مما رزقکم اللہ قال الذین کفروا للذین اٰمنوا انطعم من لو یشاء اللہ اطعمہ ان انتم الا فی ضلالٍ مبینٍO(یٰسین47)
جب ان سے کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر کی دولت سے خدا نے تمہیں نوازا، سیر سپاٹے کرلئے،دلے اور دلالوں کو بھی گھمایا تو غریبوں اور مسکینوں کا بھی خیال کرو تو جب ان سے کہا جاتا ہے کہ کچھ خرچہ کرو۔ تو کافر کہتے ہیں ایمان والوں کو کہ ان غریبوں کو کھلائیں جن کو اللہ چاہتا تو کھلاتا تم تو کھلی گمراہی میں ہو۔
ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صادقینOماینظرون الا صیحةً واحدةً تأخذھم و ھم یخصمونOفلا یستطیعون توصیة ًو لا الی اھلھم یرجعونOیٰسین48تا50 … تاآخر قارئین دیکھ لیں!
کہتے ہیں کہ یہ انقلاب کب آئے گا اگر تم سچے ہو۔ وہ نہیں انتظار کرتے مگر ایک کڑک کا۔ وہ دھر لئے جائیں گے اور وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے۔ پس ان کو وصیت کا موقع بھی نہیں ملے گا اور نہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے……
صور پھونکا جائے گا تو وہ اپنے فارم ہاؤسوں سے دوڑے چلے آئیں گے۔کہیں گے کہ ہائے ہم پر افسوس کس نے ہمیں اپنی آرام گاہوں سے اٹھادیا ہے ۔یہ وہ ہے جو رحمن کا وعدہ ہے اور رسولوں نے سچی خبر دی تھی۔ یہ تو بس ایک کڑک ہوگی تو وہ سب ہمارے پاس حاضر ہوجائیں گے۔ تو آج کے دن کسی بھی جان پر کچھ بھی ظلم نہ ہوگا اور نہ تمہیں بدلہ ملے گا مگر جو تم نے کیا ہے ۔ بیشک جنتی لوگ شغل میں دل بہلا رہے ہوں گے ، وہ اور ان کی بڈھیاں سائیوں میں تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ ان کیلئے پھل ہوں گے اور جو مانگیںگے ملے گا۔ رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کا قول ۔ آج کے دن اے مجرمو تم الگ ہوجاؤ۔ اے بنی آدم کیا میں نے تم سے عہد الست نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت مت کرو۔بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ میری غلامی کرو۔یہ سیدھا راستہ ہے۔ اور تم سے بہت سوں کو ان کی جبلت نے گمراہ کیا کیا تم نہیں سمجھتے۔ یہ ہے وہ جہنم جس کا تم سے وعدہ تھا۔ آج اس میں پہنچ جاؤ جو تم کفر کرتے تھے آج ان کے مونہوں پر ہم سیل لگادیتے ہیں اور ہم سے ان کے ہاتھ بات کریں گے اور پاؤں گواہی دیں گے جو انہوں نے کمایا ہے۔ انٹرنیٹ سے سارا ریکارڈ نکلے گا۔ اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں مٹا دیتے کہ اب راستہ ڈھونڈو تو کیسے دیکھتے اور ہم چاہتے تو ان کو مسخ کردیتے ان کی جگہوں پر ۔پھر نہ وہ آگے نکل سکتے اور نہ لوٹ سکتے۔ جس کو ہم زیادہ عمر کا کردیتے ہیں تو اس کی تخلیق میں کمزوری کردیتے ہیں۔کیا یہ نہیں سمجھتے؟۔ اور ہم نے اسکو شعر نہیں سکھایا اور نہ اس کیلئے یہ مناسب تھا مگر وہ تو ذکر اور کھلا قرآن ہے۔تاکہ اس کو ڈرائے جو زندہ ہے اور کافروں پر حجت قائم ہوجائے۔…انہوں اللہ کے علاوہ معبود بنائے کہ شاید ان کی مدد کریں۔انکی مدد نہیں کرسکتے۔ وہ ان کیلئے ایک لشکر ہے جو ان کی حاضری کا سبب بنیں گے۔ پس آپ کو ان کی بات غمزدہ نہ کرے ہم ان کے چھپے اور اعلانیہ کو جانتے ہیں۔ …جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔اسکے ہاتھ ہر چیز کا ختیار ہے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اکتوبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ