سورہ سجدہ کا انقلاب اور ابوصالح جنگی دوست
ستمبر 21, 2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم
المOتنزیل الکتاب لاریب فیہ من رب العالمینOام یقولون افتراہ بل ھو الحقمن ربک لتنذر قومًا ما اتاھم من نذیرٍ من قبلک لعلھم یھتدون۔
ال م۔بلاشبہ کتاب جہانوں کے رب کی طرف سے نازل ہوئی۔ کیا وہ کہتے ہیں اس نے خود گھڑی ہے بلکہ وہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے تاکہ اس قوم کو ڈرائے جن میں آپ سے پہلے ڈرانے والانہیں تاکہ ہدایت پائیں۔ سجدہ:1تا3
یدبر الامر من السماء الی الارض ثم یعرج الیہ فی یومٍ کان مقدارہ الف سنةٍ مما تعدونO
”وہ ایک انقلاب کی تدبیر کرتا ہے آسمان سے زمین تک پھر اس کی طرف سے عروج کو پہنچتا ہے اس دن جس کی مقدار ہزار سال ہے جو تم گنتے ہو”۔(السجدة:5)
سید عبدالقادر جیلانی کے والدابو صالح موسیٰ جنگی دوست ولادت400ھ کوہزار سال ہوگئے اور بہت اچھی شہرت ہے۔
فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرة اعین جزائً بما کانوا یعملونOافمن کان مؤمنًا کمن کان فاسقًا لایستونO
” پس کوئی شخص نہیں جانتاکہ ان کیلئے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک رکھی ہے ان کے اعمال کے بدلے میں۔تو کیا مومن فاسق جیسا ہے، برابر نہیںہیں۔”۔سجدہ:17،18
تمام فرقوں و مذاہب میں اچھے برے ہیں بروں کو دنیا میں انقلاب کے بعد بلاتفریق و تعصب عذاب ملنے کا وعدہ ہے۔
اما الذین اٰمنوا و عملوا الصالحات فلھم جنٰت المأوی نزلًا بما کانوں یعملونO
”پس جو ایمان اور درست اعمال والے ہیں تو باغات ان کا ٹھکانہ ہے۔ اس میں ان کو اتارا جائے گا بسبب جو وہ عمل کرتے تھے”۔سجدہ:19
واما الذین فسقوا فمأواھم النار کلما ارادوا ان یخرجوا منھا اعیدوا فیھا و قیل لھم ذوقوا عذاب النار الذی کنتم بہ تکذبونO
” اور جنہوں نے فسق کیا تو ان کا ٹھکانہ آگ ہے۔ جب وہ وہاں سے نکلنا چاہیں گے توان کو اس میں واپس لوٹایا جائے گااور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اس آگ کا عذاب جسے تم جھٹلایا کرتے تھے”۔ سجدہ:20
ولنذیقنھم من العذاب الادنٰی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعونOومن اظلم ممن ذکر باٰیات ربہ ثم اعرض عنھا انا من المجرمین منتقمونO…سورہ السجدہ آیت21سے آخر30تک
” اور ہم ان کوضروربضرور چکھائیں گے ادنیٰ عذاب کا مزہ بڑے عذاب سے پہلے شاید کہ وہ رجوع کرلیںاور اس سے بڑا ظالم کون ہے جس کو اسکے رب کی آیات سے سمجھایا جائے پھروہ ان سے منہ موڑے۔بیشک ہم نے مجرموں سے انتقام لینا ہے اور ہم نے موسٰی کو کتاب دی تو آپ اس کی ملاقات میں شک نہیں کریںاور ہم نے بنی اسرائیل کیلئے ہدایت بنائی۔ اور ان میں ہم نے ائمہ بنائے جو ہمارے امر سے ہدایت دیتے تھے جب انہوں نے صبر کیااوروہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے۔ بیشک تیرا رب ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا،جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ کیا انہیں اس سے ہدایت نہ ملی کہ کتنوں کو ہم نے ہلاک کیا ان سے پہلے ادوار میں وہ چلتے تھے اپنی سکونت کی جگہوں میں بیشک یہ بڑی نشانیاں ہیں۔ تو کیا یہ لوگ سنتے نہیں ہیں۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم پانی کو خشک زمین کی طرف ہنکا دیتے ہیں تو اس سے کھیتی نکالتے ہیںجس سے ان کے جانور بھی کھاتے ہیں اور وہ خود بھی۔ کیا وہ دیکھتے نہیں۔ اور کہتے ہیں کہ کب ہوگی یہ فتح ، اگر تم سچوں میں سے ہو۔ کہہ دو کہ فتح کے دن کافروں کا ایمان کام نہیں آئے گااور نہ انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔ پس آپ ان سے اعراض کریں اور آپ بھی انتظار کریں اور وہ بھی انتظار کررہے ہیں”۔ (السجدہ)
اس سے فتح مکہ والا انقلاب مراد نہیں۔ قرآن نے فتح کے بعد والوں کا ایمان قبول کیا مگر یہاں بالکل واضح ہے کہ فتح کے بعدتردید کرنے والوں کاایمان قبول نہ ہوگا ۔ کانیگرم وزیرستان میں ہمارے آبائی مسجد کے امام دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے جس کی مولانا الیاس بانی تبلیغی جماعت سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ پاکستان بننے سے پہلے میرے دادا سید محمد امیر شاہ فوت ہوگئے تھے ۔پردادا سیدمحمدحسن شاہ ،سید محمد اسماعیل شاہ ، سید محمد ابراہیم خلیل ، سیدمحمد یوسف شاہ،سید محمد رضا شاہ، سید محمد جمال شاہ،سید محمد نظام الدین شاہ ،سید شاہ محمود حسن دیداری ، سید محمد ابوبکر ذاکر،سیدشاہ محمد کبیرالاولیاء تک قبریں کانیگرم میں ہیں ۔ہمارا شجرہ سید محمد ہاشم ، سیدمحمد عبداللہ ،سید فخر الدین ، سید نور الدین ،سید علاء الدین سید محمد علی شاہ،سید میر شرف الدین،سید عبداللہ طاہر،سیدمحمد طاہرالدین ،سید میر محمد شاہ ،قطب الزمان سید محمد عبداللہ ، قطب الالیاء سید عبدالرزاق، قطب الاقطاب سید محی الدین محمد عبدالقادر جیلانی بن ابوصالح موسیٰ جنگی دوست بن عبداللہ الجیلی بن سید یحییٰ الزاہدبن سید محمد بن سید داؤدبن سید موسٰی بن سید عبداللہ بن سید موسی الجون بن سید عبداللہ محض بن سید حسن مثنیٰ بن امیر المؤمنین حسن مجتبیٰ بن امیرالمؤمین سیدنا علی المرتضیٰ بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم …اسماعیل بن حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ ا لسلام
اللہ نے فرمایا کہ ”میں نے تمام انسانوں ایک جان سے پیدا کیا ہے”۔ عربی میں ”زوج” ایک جوڑا،ایک کپل کوکہتے ہیں اورشوہر و بیوی جوڑا ہے۔ جوتے کا جوڑا، کپڑے کا جوڑا ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ جوڑا نرومادہ میں ایک طاقتور اور دوسرا نسبتاً کمزور ہوتاہے جس سے بیلنس برابر ہوتاہے۔ جس طرح جہاز میں دوران سفر ہنگامی صورتحال کیلئے ہدایات ملتی ہیں تو اسی طرح طلاق کیلئے قرآن میں ہدایات ہیں لیکن جیسے کوئی ہنگامی حالت میں جہاز سے چھلانگ لگانی پڑجائے تو سہارا دینے کے بجائے نوسربازوں سے واسطہ پڑجائے ۔یہی نوسربازی کا سلسلہ بنوامیہ اور بنوعباس دور سے چل رہاہے۔
نکاح سے زیادہ وضاحتیں قرآن میں طلاق کی ہیں۔میری تائید بریلوی،دیوبندی، اہلحدیث اور شیعہ سبھی کرتے ہیں۔
اگر جوتے یا کپڑے کا استعمال شدہ جوڑا ایک دوسرے سے جدا کرکے کسی اور کیساتھ میچ کرنے کا پروگرام تشکیل پائے تو یہ کس قدر مشکل ہوسکتا ہے؟۔ کچھ ضروری مقدمات سمجھ لیجئے۔
1:اللہ نے سورہ النساء میں عورت کو خلع کا حق پہلے دیا ہے آیت19اور شوہر کو طلاق کا حق بعد میں دیا آیت20۔ پھر دونوں صورت میں شوہر کی دی ہوئی چیزوں میں کچھ بھی واپس لینے کی اجازت نہیں۔ البتہ خلع میں منقولہ اشیاء اور طلاق میں منقولہ وغیر منقولہ تمام دی ہوئی اشیاء کو واپس نہیں لے سکتے۔ خلع عورت لیتی ہے تو مالی حقوق کم ہیں۔ گھر اور جائیداد سے پھر دستبردار ہونا پڑے گا اور طلاق میں شوہر کی طرف سے اقدام ہوتا ہے اسلئے گھر اور جائیداد کوئی دی چیز واپس نہیں لے سکتا۔
خلع کی عدت حیض یا ایک ماہ ہے ۔ طلاق کی عدت تیسرے حیض یا تین ماہ ہے۔ شوہر کی دی ہوئی چیزوں سے مراد حق مہر نہیں کیونکہ حق مہر تو آدھا ہاتھ لگانے سے پہلے فرض بنتا ہے اور ہاتھ لگانے کے بعد تو پھر سوال پیدا نہیں ہوتا۔ مفتی تقی عثمانی کے گھر کا معاملہ ہے کہ عورت کو فارغ کرکے سب کچھ چھین لیا اور مسائل بھی لکھ دئیے کہ دی ہوئی چیزیں عطیہ ہوتی ہیں اور وہ واپس لے سکتے ہیں اور حق مہر بھی اعزازیہ ہوتا ہے۔وقف شدہ مدرسہ میں مفتی تقی ورفیع عثمانی کیلئے ذاتی گھر خردیدے گئے اور مخالفت میں فتویٰ دینے پر مفتی رشید کی بدترین پٹائی لگادی۔
فقہاء نے لکھا کہ شوہر پر بیوی کا علاج نہیں ۔مفتی تقی عثمانی نے اپنے والدین میں نہ جانے کیا دیکھا؟ مگر مسئلہ سے انحراف کردیا کہ بیوی کا علاج شوہر پر نہیں۔ سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے معاملے پر الحمدللہ ہم نے مجبور کردیا ،اسی طرح تصویر کے مسئلے پر لیکن شادی بیاہ میں لفافہ کو سود قرار دینے نبیۖ پر سود کا بہتان لگانے ولاتمنن تستکثر کی غلط تفسیرسے حاجی عثمان کے پیروکار سے نکاح کو ناجائز اور انجام عمر بھر کی حرامکاری اور ولد اولادالزنا کا فتوے شائع کرنے تک لگتا ہے کہ گٹر میں خوب ڈبکیاں لگائی ہوئی ہیں۔
قرآن کے برعکس عورت سے خلع کا حق چھین لیا تو نتائج بھی کیا نکلے؟۔ حنفی فقہاء عورت کوخاوند کی گمشدگی پر80سال کے انتظار کا حکم دیتے تھے تو اگر بچی کا ماں کے پیٹ میں نکاح ہوا تو80سال بعد وہ ازداوجی تعلقات کے قابل رہے گی؟۔
انگریز دور میں ایک عورت عیسائی بن گئی تو80سال سے چھلانگ لگاکر4سال کے انتظار پر آگئے۔ اتنی بڑی چھلانگ کا تصور بھی کوئی کرسکتا ہے؟۔ شادی بیاہ میں لفافے کی لین دین پر سود اور73گناہوں میں سے کم ازکم گناہ اپنی سگی ماں کیساتھ زنا کے برابر قرار دینے والے نے سودی نظام کو جائز کردیا۔
ستم ظریفی کو دیکھئے کہ ایک شوہر اپنی بیوی کو تین طلاق دے اور پھر مکر جائے۔خلع بھی نہ دے تو عورت شوہر کے نکاح میں حرام کاری پر مجبور ہے لیکن لذت نہ اٹھائے ورنہ گناہگار ہوگی۔ ایک طرف اتنامضبوط رشتہ کہ حرام کاری پر مجبور لیکن ٹوٹتا نہیں؟ اور دوسری طرف تین طلاق غصہ میں بول دیا اور دونوں رجوع پر آمادہ ہیں لیکن حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا؟۔ یہ قرآن و سنت کا دین اسلام نہیں بلکہ ہوا کی جگہ مولوی کی پچھاڑی سے نکلنے والا کوئی خاص الخاص قسم کا شیطانی ڈانبر یا میجک ہے۔
خلع اور طلاق میں فرق مالی حقوق کا ہوتا ہے اسلئے اگر عورت طلاق کا دعویٰ کرے تو گواہ پیش کرے یا خلع کا حق ملے گا۔
2:ایک عورت کو مجبوری میں پیسہ دیکر حلالہ کروانا پڑے جس کا اندازہ ایک کال سے بھی نہیں لگاسکتے جب تک خود صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے لیکن یہ خدا کی شریعت ہرگز نہیں ہے ۔
حلالہ کی لعنت تو ایک بہانہ ہے اور اصل تو حقوق نسواں کاوہ بیش بہا خزانہ ہے کہ ہر عورت پکار اٹھے گی کہ کوئی شوہر، ماں، بھائی ، بہن اور حکومت عورت کو اس تحفظ کا سوچ بھی نہیں سکتی جو قرآن وسنت میںبہت ہی واضح انداز میں دئیے گئے ہیں۔
حتی الامکان عورت اکثر اپنے شوہر سے جدا نہیں ہونا چاہتی ہے اور اکثر وبیشتر شوہر بھی پسند نہیں کرتا کہ اس کی بیوی کسی اور سے نکاح کرے۔ یہ دونوں کی فطرت ہے لیکن جب شوہر طلاق دے تو عورت کے حقوق کو بھی مکمل تحفظ دیا ہے۔
سورہ البقرہ آیت226میں ایلاء کے اندر4ماہ کی عدت کا ذکر ہے اور یہ وہ صورتحال ہے کہ جب شوہر طلاق کا اظہار نہیں کرے۔ رسول اللہۖ نے ایلاء کے29دن بعد ازواج مطہرات سے رجوع فرمایا کہ سب خوش ہوں گی لیکن اللہ نے حکم دیا کہ عورتوں پر واضح کردو کہ بال ان کی کورٹ میں ہے۔
یہ ہے عورت کے اختیارکا معاملہ۔ پھر اسکے ساتھ والی آیات میں یہ بھی واضح ہے کہ اللہ کی طرف سے رجوع پر کوئی پابندی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اگر شوہر کی نیت طلاق کی تھی تو اس کا دل گناہ گار ہے اسلئے کہ طلاق کے اظہار کو چھپانے سے ہی عورت کی عدت ایک ماہ بڑھ گئی تو اس پر شوہر کی پکڑہے۔
مولوی کا ایک ٹولہ کہتا ہے کہ 4ماہ کے بعد بھی نکاح قائم اور دوسرا ٹولہ کہتا ہے کہ نکاح ختم؟۔ حالانکہ دونوں شیطان بکواس کرتے ہیں۔ بیوہ کی عدت4ماہ10دن ہے اور اس کی مرضی ہے کہ مردہ شوہر کے نکاح میں قبرو حشر تک رہے یا پھر عدت کی تکمیل کے بعد کسی اور سے نکاح کرکے اپنا سفر شروع کرے۔
مولوی دلا کہتا ہے کہ ایک کی روح نکل گئی تو آپس میں اجنبی بن گئے لیکن اپنی ماؤں پر اجنبیوں کی تختیاں لگاتے ہیں کہ زوجہ مفتی محمود ، زوجہ مفتی محمد شفیع اور وہ ان کے شوہر نہیں ہوتے۔
البقرہ آیت228میں اللہ نے واضح کردیا کہ طلاق والی عورتوں کی عدت تین ادوار یاتین ماہ ہے اور اس میں اصلاح کی شرط پر انکے شوہر ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اور ان عورتوں کیلئے بھی وہی معروف حقوق ہیں جیسے ان پر ہیں۔
معروف حقوق و اصلاح کی شرط پر رجوع کامطلب واضح ہے کہ باہمی صلح سے عدت میں رجوع ہے حلالہ کی لعنت نہیں۔ آیت229میں پوری تفصیل ہے۔ عدت کے دومراحل میں دوبار طلاق کے بعد عدت کے تیسرے مرحلے میں تیسری بار معروف کی شرط پر رجوع یا پھر تیسری طلاق ۔ اور تیسری طلاق کے بعد معاملہ منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے تفصیل ہے کہ جب کنفرم ہوجائے کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تو ایسے الفاظ میں آزادی ہے کہ اس کی مثال دنیا لانے سے قاصر ہے۔
3:قرآن کی روح عورت کی مکمل آزادی ہے اور ایک ایک چیز میں اسکا اختیار اور مالی تحفظ کو یقینی بنانے کیساتھ ساتھ صرف دنیاوی تحفظ پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس کو مذہبی تحفظ بھی دیا ہے۔ جیسے مرد سے اپنی ماں، بیٹی، بہن ، خالہ، پھوپھی، بھانجی، بھتیجی، بہو، ساس اور سوتیلی بیٹی وغیرہ کو حرام قرار دے کر تحفظ دیا ہے تو اسی طرح سے جب اس کی بیوی اس کے ساتھ خوش نہیں ہو اور وہ رہنے کیلئے راضی نہ ہو تو پھر اس کے تحفظ کی خاطر فرمایا کہ ”پھر اگر اس نے طلاق دی تواس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے ”۔(البقرہ230)
عورت معروف طریقے سے رجوع کیلئے راضی ہو تو آیت231میں عدت کی تکمیل کے بعد بھی حلالہ کے بغیر رجوع کو واضح کیا۔صرف یہ فرمایا ہے کہ عورت رجوع پر معروف طریقے سے راضی ہو تو پھر ضرر پہنچانے کیلئے رجوع نہ کرو۔
مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن جیسے لوگوں نے جن فقہاء کو اپنا رب بنایا ہوا ہے تو انہوں نے آیات کی غلط تشریح کو بھی مذاق بنادیا کہ جب بچہ آدھے سے زیادہ ماں کے سرنگ سے نکل گیا تو لال جھنڈی کی ریڈلائٹ ہے اور پھر رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور اگر آدھے سے کم نکلا ہو تو پھر رجوع ہوسکتاہے۔ اور50%،50%ہو تو اس کو شیخ الاسلام مفتی اعظم بناؤ؟۔
امام ابوحنیفہ کے بڑے شاگرد امام ابویوسف نے پیسہ لیکر بادشاہ کی ماں یعنی باپ کی لونڈی کو اس کیلئے جائز قرار دیا تھا ۔
ہمارے اجداد نے بت والے”بعل ” سے بھی وزیرستان کے لوگوں کو بچایا تھا اور حلالہ والے ”بعل” سے بھی بچایاہے۔
نمبر4:سورہ طہ میں صرف حضرت آدم علیہ السلام مخاطب ہیںاور اگر عورتوں کو پتہ چل گیا کہ حلالہ نہیں تو زبردست ہوگا۔
فقلنا یٰااٰدم ان ھٰذا عدوّلک و لزوجک…
فوسوس الیہ الشیطٰن قال یٰاٰدم ھل ادلک علٰی شجرة الخلد و ملکٍ لایبلیٰoفاکلا منھا فبدت لھما سواٰتھما و طفقا یخصفٰن علیھما من ورق الجنة و عصٰی اٰدم ربہ فغویOثم اجتبٰہ ربہ فتاب علیہ و ھدٰیO (سورہ طہ آیت117تا122)
”ہم نے کہا کہ اے آدم یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے…
پس شیطان نے وسوسہ ڈالا کہ اے آدم کیا میں تمہیں ہمیشہ والا شجرہ بتاؤں اور نہ ختم ہونے والی بادشاہت۔پس دونوں نے اس میں کنگھاجماع کیا تو ان کے سامنے ظاہر ہوگئیں ان کی شرمگاہیں اور دونوں ان دونوں پر باغ کے پتے چکانے لگے اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بھٹک گئے۔ پھر انکے رب نے انہیں چن لیا اور ہدایت پاگئے”۔
ان آیات میں اللہ نے آدم کو مخاطب کیا اور مردوں کی فطرت بتائی ہے کہ وہ ناجائز کیلئے حیلہ تراشتے ہیں اور شیطان انواع واقسام کے لارے لپے اور اللے تللے سے ورغلاتا ہے۔
حسن مثنیٰ پیدائش29ھ نے11سال علی ،21حسن ،31سال کربلا تک حسین کے ساتھ گزارے۔ وفات97ھ ۔ پھر عبداللہ محض پیدائش70ھ ، شہادت145ھ ، موسی الجون کی پیدائش130ھ وفات180ھ اور عبداللہ پیدائش150ھ اور وفات250ھ کیا یہ طلاق کا مسئلہ نہیں جانتے تھے؟۔
فاضل جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے کتاب امام ابوحنیفہ شہید اہل بیت لکھ دی۔ پیدائش80ھ ،شہادت150 ھ۔
امام ابوحنیفہ کے شاگرداور امام شافعی کے استاذ محمد بن حسن شیبانی نے اپنی کتاب الآثار میں لکھ دیا کہ عبداللہ بن عمر نے 3 طلاق دی تھی جس پر نبی ۖ نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور رجوع کا حکم بھی فرمایا۔ جس کا مطلب اکٹھی تین طلاق کا واقع کرنا درست مگر گناہ ہے اور رجوع ہوسکتاہے۔ امام شافعی نے اکٹھی تین طلاق کو سنت قرار دینے کیلئے عویمر عجلانی کا لعان والا واقعہ دلیل بنایا ۔ حضرت عمر3طلاق پر اورحضرت علی نے حرام کے لفظ پر عورت کے حق میں فیصلہ دیا۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ یہ لوگ قرآن و سنت کو معطل کرنے کے قائل تھے۔ روافض اکٹھی تین طلاق کی وجہ سے حضرت عمر کے خلاف اور حضرت علی کی طرف فیصلے کی نسبت کو غلط سمجھتے تھے۔ امام شافعی کے شاگرد امام احمد بن حنبل نے قرآن کیلئے کوڑے کھائے ۔ امام احمد بن حنبل کے شاگرد امام ابوداؤدمسلک حنبلی نے رکانہ کے والدین کی سورہ طلاق کے مطابق مرحلہ وار3 طلاق پربھی رجوع کی روایت نقل کی تو قرآن وسنت کا حق ادا کیا۔ آخرمیں بغداد چھوڑ کر بصرہ جانا پڑا تھا۔ابوداؤد کے شاگرد امام نسائی نے محمود بن لبید کی روایت درج اور فضائل علی پر کتاب لکھ دی تو ان کو بنوامیہ کے پروردہ شامی ایجنٹوں نے شہید کردیا ۔ امام شافعی حضرت رکانہ کی نسل سے تھے۔ رافضی کا فتویٰ لگا۔ امام احمد بن حنبل نے مصائب جھیلے۔ عبدالقادر جیلانی مسلک حنبلی ،سندھ میںسادات کا مسلک حنفی تھا۔ فقہی خرافات و بیہودہ اختلافات کو مدارس میں الگ الگ سیاروں کا امام بھی قبول نہیں کرسکتا ۔ لیکن عبداللہ شاہ غازی سے محمد بنوری تک سبھی کو شہید کردیا۔
حسن بصری21ھ ،110ھ نے عمر بن عبدالعزیز کے دور میں حق بول دیا مگریزید اور ہشام بن عبدالملک نے مجبور کردیا۔ حاجی عثمان کی خلافت حسن بصری کی خلافت بلا فصل کو معتبر قرار دینے کی خدائی تدبیر تھی۔ بخاری کے شاگرد ترمذی نے لکھا کہ ”حسن بصری کی حضرت علی سے ملاقات ہی ثابت نہیں ہے”۔
جنرل ضیاء الحق کے دور میں”بے نمازی کیلئے حکم” میں سزا قتل، کوڑے اور قید وغیرہ لکھے تھے۔ میرے بھتیجے پیر سیف اللہ فوجی خود نماز نہیں پڑھتا تھا مگر اس نے کہا کہ ”بے نمازی کو دریا سندھ میں ڈال دو”۔ نبی ۖ نے اپنی چاچی فاطمہ بنت اسد اپنی ماں قرار دیدی ۔ قرآن میں اقارب کے گھروں میں اکٹھے اور انفرادی کھانے کی وضاحت ہیں ۔ جاہل بکیںگے کہ قرآن و حدیث میں شرعی پردے کی خلاف وزری ہے؟۔قرآن کے تراجم تک بھی بالکل غلط لکھ دئیے ہیں۔ فقہ، اصول فقہ اور تفسیر کے حوالے سے الحمدللہ میرے اساتذہ کرام طلبہ کے سامنے ہی کتابوں کی تردید اور میری تائید کرتے تھے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی اور قبلہ ایاز نے تائید کی، باطل پر واشگاف اندازمیں حق کی ضربیں ضروری ہیں۔ ”ہم حق کو باطل کے اوپر پھینک مارتے ہیں تو وہ اس کا بھیجا نکال دیتا ہے”۔ ( انبیائ:آیت18) ”میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کھڑا ہوگا جو لوگوں پر ضربیں لگائے گا یہاں تک کہ وہ حق کی طرف رجوع کرلیں”۔ (حدیث)حق اللہ حق اللہ
اے مجاہد نبی نعت گنگنائے جا نغمہ محمد ی جھوم کر سنائے جا
دو جہاں پہ چھائے جا ضرب حق لگائے جا
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ