پوسٹ تلاش کریں

پاکستان کے کون کونسے گدی نشین اور چوہدری انگریزوں کے مخبر تھے؟

پاکستان کے کون کونسے گدی نشین اور چوہدری انگریزوں کے مخبر تھے؟ اخبار: نوشتہ دیوار

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ السلام علیکم!(خاتون کی آواز ہے)
پارلیمنٹ میں بیٹھے بہت سے افراد پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک جن کے آبا اجداد ملک و ملت اور مذہب سے غداری اور برطانیہ سے وفاداری کے صلے میں اس مقام تک پہنچے ۔

سب سے پہلے بھٹو خاندان کا شجرہِ نسب یہ ہے: غلام مرتضی بھٹو، ان کا بیٹا شاہنواز بھٹو اور ان کا بیٹا پھر ذوالفقار علی بھٹو۔ ذوالفقار علی بھٹو کی نصرت اصفہانی ایرانی لڑکی دوسری بیوی تھی جن سے بے نظیر بھٹو، مرتضی بھٹو، شاہنواز بھٹو اور صنم بھٹو ہیں۔ خاندان کی کہانی یہ ہے کہ1843میں چارلس نیپئیر کی قیادت میں انگریز نے سندھ پر قبضہ کیا اور دولت کی لوٹ مار کیلئے انگریز نے خاص طبقہ پیدا کیا جسکے ذمے عوام سے لگان یعنی ٹیکس کی وصولی تھی۔ برصغیر کی غریب عوام سے ٹیکس وصولی کا وہ طبقہ پیدا ہوا جسے آج وڈیرا، سردار اور جاگیردار کہا جاتا ہے۔ انگریز کی مہربانیوں سے بھٹو برصغیر کے امیر ترین خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ برصغیر کے غدار خاندانوں کی مدد سے انگریز نوے سال میں برصغیر کی ایک ہزار ملین اسٹرلنگ پاؤنڈ دولت اور بے پناہ وسائل لوٹ کر برطانیہ منتقل کرنے میں کامیاب ہوا جس سے پاکستان اور ہندوستان میں غربت کی وہ فضا پیدا ہوئی جو آج بھی قائم ہے۔

بہر حال خدابخش خان اور اسکے بیٹے میر مرتضی خان بھٹو نے انگریزوں اور انکے حامی سندھی وڈیروں کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن یہ باری باری وفات پا گئے۔ مگر انہی میر مرتضی خان کے بیٹے شاہنواز بھٹو نے انگریزوں سے صلح کر لی اور سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا اور اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلنا گوارا نہ کیا اور یہاں سے بھٹو خاندان کی سیاسی زندگی کا آغاز ہوا۔ انگریز نے شاہنواز بھٹو کو بہت نوازا اور یہ کئی اعلی عہدوں پر فائز رہا۔ شاہنواز بھٹو1888میں پیدا ہوا اور1957میں فوت ہوا۔ یہ ممبئی حکومت میں مشیرِ اعلی، جونا گڑھ کی مسلم ریاست میں دیوان اور انگریز کی بمبئی پریذیڈنسی کا وزیر بھی رہا۔ اس کو برطانیہ سے وفاداری اور ملک و قوم سے غداری کی وجہ سے پہلےCIEاور بعد میں برطانیہ نے”سر” کا خطاب دیا۔ خاندان کے ابتدائی افراد، جیسا کہ محمد بخش بھٹو نے انگریز کے خلاف مزاحمت کی بعد کی نسلیں غدار ثابت ہوئیں اور خاندان کے کئی افراد کو برطانیہ نے ”سر”، ”نواب” اور ”بہادر”کے خطابات دئیے۔ خاندان کو ملک و قوم سے غداری کے سلسلے میں بے شمار زمینیں دی گئیں جو سندھ کے غریب ہاریوں سے لوٹی گئی تھیں۔ ایک وقت تھا کہ یہ خاندان ڈھائی لاکھ ایکڑ رقبے کا مالک تھا جو انگریز دور اور اس کے بعد پیپلز پارٹی دور حکومت میں ملک و قوم کا استحصال کرتا رہا اور دولت کا اندازہ کئی ملین ڈالرز میں ہے۔ سکھر اور جیکب آباد عملاً ان کی ریاست شمار ہوتے ہیں۔ خود انگریز مصنف ڈیوڈ چیزمین (David Cheesman) نے اپنی کتاب
Landlord Power and Rural Indebtedness in Colonial Sind
کے مطابق سندھ میں یہ وڈیرے سیاہ و سفید کے مالک تھے اور ان کو برطانیہ کی طرف سے بینچ مجسٹریٹ کی حیثیت حاصل تھی کہ وہ جیسے چاہیں غریب عوام کو ظلم کی چکی میں پیس کر رکھیں مگر برطانیہ کے وفادار رہیں۔ سندھ میں بھٹو خاندان کے علاوہ انگریز کے وفادار میں وڈیرو غلام قدیر درخان، میر عبدالحسین خان تالپور موجودہ سیاستدان فریال تالپور کے اجداد ہیں، اس کے علاوہ غلام رسول جتوئی اور جتوئی خاندان انگریز کی مہربانی سے آج بھی سندھ میں اعلی حیثیت رکھتا ہے، شامل تھے۔

شاہ محمود قریشی جو مخدوم کہلواتا ہے سکھوں کے ابتدائی دور اسکے ہم نام لکڑ دادا مخدوم شاہ محمود، درگاہ کے گدی نشین تھے۔1819میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ملتان کو فتح کیا تو مخدوموں کو ساڑھے تین ہزار روپے مالیت کی جاگیر عطا کی جو بڑی رقم تھی۔1847میں سکھ کی قوت لڑکھڑانے لگی اور برطانیہ نے یونین جیک کا جھنڈا برصغیر پر گاڑ دیا تو مخدوم شاہ محمود نے انگریز کو جو خفیہ خبریں دیں، جو مخدوموں کے نئے آقا کیلئے انتہائی مفید اور مددگار ثابت ہوئیں۔ انگریزنے ایک ہزار مالیت کی مستقل جاگیر اور تاحیات1700روپے پنشن مقرر کرنے کے علاوہ ایک پورا گاؤں ان کے حوالے کر دیا۔1857کی جنگِ آزادی کے خونی ہنگاموں کے دوران اس یارِ وفادار نے سرکاری فوج میں20ہزار سوار اور کافی پیادے بھرتی کروائے اور25سواروں کی پلٹن بنا کر جب کرنل ہیملٹن، رائے احمد خان کھرل اور انکے مجاہدین کے خلاف خونی لڑائی لڑ رہا تھا تب مخدوم شاہ محمود نے خفیہ مخبر کے علاوہ انگریز کی قوت بڑھانے میں زبردست کردار ادا کیا۔

جب مسلمانوں نے دیکھا کہ ایک بڑا مذہبی رہنما انگریزوں کی امداد کر رہا ہے تو ان کے جذبات ٹھنڈے پڑ گئے، جس کا جدوجہدِ آزادی پر بہت برا اثر پڑا۔ اور مخدوم شاہ محمود کو30ہزار روپے نقد کے علاوہ1800روپے مالیت کی جاگیر اور آٹھ کنوؤں پر مشتمل زمین برطانیہ نے دی۔ شاہ محمود قریشی کی1859میں وفات کے بعد ان کا بیٹا بہاول بخش سجادہ نشین بنا۔ اس کی دستار بندی انگریز ڈپٹی کمشنر نے بڑی شان و شوکت سے اپنے ہاتھوں سے کی۔ انگریز اور افغان کے درمیان جنگ ہوئی تو انگریز کو عبرت ناک شکست ہوئی۔ جہاں مجاہدین پاکستان کے پہاڑوں میں انگریز کیخلاف لڑائی لڑ رہے تھے تو گدی نشین انگریز کا ساتھ دیکر امت سے غداری کے بدلے میں بھاری رقم وصول کر رہے تھے۔ شاہ محمود قریشی کے اجداد اور مرزا غلام احمد قادیانی خاندان کا انگریز کی ایجنٹی میں کردار کم و بیش ایک جیسا ہے۔ برصغیر میں انگریز کے خلاف مسلم مزاحمت کو کچلنے اور انگریز کا تسلط مضبوط کرنے میں ہر مدد فراہم کی۔ دوسرے خاندان سے کذاب نبی نے جنم لیا جس کی باقیات آج بھی ہم پر مرزائیوں کی صورت میں مسلط ہیں اور تفصیل سن لیں۔ وکیل انجم کی کتاب ”سیاست کے فرعون”

ویڈیو لنک درج ذیل ہے۔

ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

پیر طریقت ڈاکٹر فدا محمد خلیفہ مولانا اشرف ،
پاکستان کے کون کونسے گدی نشین اور چوہدری انگریزوں کے مخبر تھے؟
شوہر نے بیوی کا حلالہ دوست سے کروایا دوست طلاق کے بجائے ہنی مون پر چلاگیا۔