اسکن انت وزوجک ولاتقربا ھذہ الشجرة ”رہو تم اور تمہاری زوجہ مگر اس شجرہ کے قریب مت جاؤ!”
اگست 3, 2026
اسکن انت وزوجک ولاتقربا ھذہ الشجرة ”رہو تم اور تمہاری زوجہ مگر اس شجرہ کے قریب مت جاؤ!”
قرآن میں یہ شجرہ کیا ہے؟
والشجرة ملعونة فی القراٰن ”اور قرآن میں ملعونہ درخت”
زوج منگیتراور جس کیساتھ نکاح ہو اس کو بھی کہتے ہیں اور ”بعل” ازدواجی تعلقات والا شوہر ہے
وہ سمجھتے ہیں علی خلیفہ نہیں؟،بنی مروان کی گانڈ نے جھوٹ مارا، سفینہ رضی اللہ عنہ ابوداؤد4646
و یا اٰدم اسکن انت وزوجک الجنة فکلا من حیث شئتما و لا تقربا ھذہ الشجرة…… الم انھکما عن تلکما الشجرة واقل لکما ان الشیطٰن لکما عدو مبینO(الاعراف:19تا22)
” اور اے آدم رہوتم اور تمہاری بیوی اس جنت میں اور کھاؤ جیسے چاہو اور قریب مت جاؤ اس شجرہ کے تو ظالم ٹھہرجاؤ گے ۔ پھر شیطان نے دونوں کو وسوسہ ڈالا تاکہ دکھادے دونوں کو جس کو ان سے چھپایا گیا دونوں کی شرم گاہوں میں سے اور کہا کہ تمہارے رب نے نہیں روکا مگر اسلئے کہ تم دونوں فرشتے نہ بن جاؤ یا تم دوام پانے والے نہ ہوجاؤ۔اور دونوں کو قسم کھائی کہ میں تمہیں نصیحت کررہاہوں۔ تو دھوکہ سے دونوں کونشاندہی کردی جب دونوں نے اس شجرہ کا ذائقہ چکھا دونوں کی شرم گاہیں کھل گئیںاور وہ جنت کے پتوں سے خود کو ڈھانکنے لگے اور دونوں کو ان کے رب نے پکارا کہ کیا میں نے تمہیں تمہارے دونوں کے شجرہ(اعضائے مخصوصہ) سے منع نہیں کیا تھا؟اور تمہیں کہا تھا کہ شیطان تم دونوں کا دشمن ہے”۔
عربی الفاظ ”الم انھکما عن تلکما الشجرة” واضح ہیں کہ دونوں کے شجرہ سے شرمگاہ مراد ہے خارجی درخت نہیں۔ یہ شجرہ نسب جو ہمیشہ کی بقاء نسل اور نہ ختم ہونے والی بادشاہت ہے۔ نظریہ ارتقاء ہوتوتب بھی عورت کی پردہ بکارت کی طرح یہ پہلے جوڑے کا قدرتی لباس ہے جس کی چھیڑ خانی سے دونوں کا بے لباس ہونا اور پتے سے شرمگاہ کو چھپانا بالکل واضح ہے۔
یا بنی اٰدم قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواٰتکم وریشاولباس التقویٰ ذٰلک خیر ذٰلک من اٰیٰت اللہ …… انا جعلنا الشیا طین اولیاء للذین لا یؤمنونO (سورة الاعراف:آیت26،27)
”اے بنی آدم !ہم نے تم پر لباس اتارا ، تاکہ تمہاری شر م گاہوں کو چھپائے اور خوبصورتی سردی گرمی کیلئے۔ اور تقوی کا لباس بہتر ہے۔یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے ہوسکتا ہے تم نصیحت حاصل کرو۔اے بنی آدم! تمہیں شیطان فتنے میں نہیں ڈالے جیسا کہ اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوادیا ان سے ان کے کپڑے اتروائے بیشک وہ تمہیں دیکھتا ہے اور اس کا قبیلہ بھی اس طرح کہ تم انہیں نہیں دیکھتے۔ بیشک ہم نے شیاطین کو متولی بنادیا ان لوگوں کیلئے جو ایمان نہیں لاتے”۔
قرآن میں حضرت آدم و حواء کا قصہ حفظ ما تقدم کے طور پر مذہبی حلالہ کی لعنت کو روکنے کیلئے بھی ایک بڑا ہتھیار ہے۔
مروان ، عبدالملک بن مروان اور اسکے بیٹوں نے حلالہ کی لعنت کوبدترین جھوٹ اور حجاج بن یوسف نے جبراًمسلط کیا۔
واذا فعلوا فاحشة ً قالوا وجدنا علیھا اٰبآء نا واللہ امرنا بھا قل ان اللہ لایأمر بالفحشاء اتقولون علی اللہ مالا تعلمونO( سورہ الاعراف:آیت:28)
”اور جب وہ فحاشی (حلالہ ) کریںتو کہتے ہیں کہ ہم نے اس پر اپنے اجداد کو پایا اور اللہ نے ہمیںاس کا حکم دیا کہہ دو کہ اللہ فحاشی کا حکم نہیں دیتا ، کیا اللہ پر کہتے ہو جو تم نہیں جانتے ”۔
اس آیت سے بنی آدم میں حلالہ کی لعنت مراد ہے ۔ فحاشی حلالہ مشرکین مکہ و یہود میں اللہ کا حکم بتاکرنسل در نسل چالورہا۔ یہود پرحضرت داؤد اور عیسٰی کی زبان سے قرآن میںلعنت ہے اور امت میں حلالہ کی لعنت جاری کرنے والے مروان بن حکم اور حلالہ کی لعنت چالو کرنے والی اس کی اولاد پر نبی کریمۖ کی زبان سے اللہ کی لعنت کی گئی ۔ تفصیلات بھی سمجھ لیجئے گا۔
مروان کی دادی زرقاء (نیلی آنکھوں والی) بدچلن تھی ۔ مروان نے منبر نبوی ۖ پر کہا :یزید کی نامزدگی ابوبکر و عمر کی سنت ہے تو عبدالرحمن بن ابی بکر نے کہا : بلکہ قیصرو کسریٰ کی۔ مروان : عبدالرحمن کے خلاف آیت اتری،اماں عائشہ نے فرمایا: ”کذب مروان واللہ مانزلت فیہ” مروان نے جھوٹ بولا ،میرے بھائی کے متعلق یہ نازل نہیں ہوئی۔ ہماری شان میں صرف آیت برأت آئی لیکن نبی ۖ نے مروان کے ابا پر لعنت کی جس میں مروان تھا۔ (صحیح بخاری ) ۔ مروان اور اس کی اولاد نے حلالہ کو حضرت عمراور قرآن کے نام پرمسلط کیاتھا:
حدثنا احمد بن حنبل حدثنا سفیان بن عیینة عن سعید بن جمھان عن سفینة قال :قال رسول اللہ ۖ خلافة النبوة ثلاثون سنة ثم یوتی اللہ الملک او ملکہ من یشاء قال سعید:قال لی سفینة: امسک : خلافة ابی بکر سنتین ،و عمر عشر سنین و عثماناثنی عشرة سنة و علی کذا۔ قال سعید: قلت لسفینة : ان ھو لاء یزعمون ان علیا علیہ السلام لم یکن بخلیفة: قال :کذبت استاہ بنی الزرقاء ،یعنی بنومروان ۔ (حدیث نمبر4646ابوداؤد)
30خلافت نبوت ہے نبیۖ۔ سعید نے حضرت سفینہ سے کہا کہ یہ لوگ گمان رکھتے ہیں کہ علی خلیفہ نہ تھے تو سفینہ نے کہا: بنی زرقاء یعنی بنو مروان کی گانڈ نے جھوٹ مارا ۔ ابوداؤد نے علی کی خلافت ثابت کی ۔علی حلالہ کیخلاف تھے ۔ بنی مروان نے حلالہ کو مسلط کیا۔ حلالہ کیلئے علی کی خلافت کا انکار کیا۔ کبھی جاویداحمد غامدی کی بیوی یا بیٹی حلالہ کیلئے ملتی تو میں بھی لعنت جماع کرلیتا ۔
الذین یجتنبوں کبٰئرالاثم والفواحش الا اللمم ان ربک واسع المغفرة…… فلا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقٰی
”جو بڑے گناہ اور فحاشی سے بچتے ہیں مگر…. اللہ کی مغفرت وسیع ہے۔.. اپنی جان کو پاک نہ بناؤ ،اللہ جانتا ہے کون متقی؟”(سورہ نجم آیت32)۔
فقلنا یآ دم ان ھذا عدولک ولزوجک فلا یخرجنکما من الجنة …..فاکلا منھافبدت لھما سواٰتھما……و من اعرض عن ذکری فان لہ معیشةً ضنکًا و نحشرہ یوم القیا مة اعمٰی O
”پس ہم نے کہا کہ اے آدم ! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے تو تمہیں جنت سے نہ نکلوادے تو مشکل میں پڑیگا۔ تجھے اس میں بھوک لگے گی، نہ ننگا ہوگااور نہ پیاس لگے گی اور نہ دھوپ۔ پس شیطان نے وسوسہ ڈالا کہاکہ اے آدم میں تجھے ہمیشہ رہنے والا شجرہ اور دائمی بادشاہی بتاؤں۔ پس دونوں نے کنگھی کی اور انکی شرمگاہیں ان کو دکھ گئیںاور جن پرجنت کے پتے چپکائے اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور پھر بھٹکا۔ (سورہ طہ117تا121)
اللہ نے یہاں آدم کو مخاطب کیا اور تھوڑا سخت لفظ کنگھا کرنا استعمال کیا۔ لامستم النساء چھونا جماع ۔ اکل کنگھا کرنا،کیل ٹھونکنا، جماع۔ یونیورسٹی یا جامعہ کو عربی میں”کلیہ” کہتے ہیں۔ کل جمع ۔1جمع1کا کل:2ہے۔
جیسا نکاح کے بعد رخصتی سے قبل لڑکا لڑکی کو کنگھاکرلے ۔ نبیۖ نے فرمایا: بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا، حوا نہ ہوتی تو عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی ۔( بخاری)
مصرنے اہرام تک ریکارڈ ترقی کی ،بنی اسرائیل کی تباہی کا نتیجہ تھا کہ دنیا ترقی نہ کرسکی ورنہ گوشت نہ سڑتا۔ عورت کا چھپ کر حلالہ کرنا خیانت تھی۔زلیخاکویوسف سے حلالہ کرناتھا۔ اگر اللہ نہ بچاتا تو دونوں ھم کرچکے تھے ۔یہی تو اللمم… ہے۔
واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس وما جعلنا الرویا التی اریناک الا فتنةً للناس و الشجرة الملعونة فی القراٰن ونخوفھم فما یزیدھم الا طغیانًا کبیرًاO (سورہ بنی اسرائیل:آیت:60)
”اور جب تیرے رب نے آپ سے کہا کہ بیشک تیرے رب نے لوگوں کو گھیر رکھا ہے اور ہم نے نہیں بنایا اس خواب کو جو تجھے دکھایا مگر لوگوں کیلئے آزمائش اور قرآن میں ملعونہ شجرہ کو اور ہم انہیں ڈراتے ہیں مگر یہ نہیں بڑھتے مگربڑی سرکشی میں”۔
یہ عالمی اسلامی غلبے کاوہ خواب ہے جو نبیۖ کو دکھایا گیا اور شجرہ ملعونہ حلالہ میں مسلمان اور یہودی مبتلا ہیں۔قرآن سابقہ کتابوں کیلئے درست تعبیر ” مہیمن ” ہے۔
اسرائیلیات میں زلیخا کا شوہر عزیز مصر نامرد؟ مگر3طلاق اور حلالہ کیلئے یوسف علیہ السلام کے پیچھے پڑی ہوگی پھر حضرت یوسف سے عقد ہوگا۔ اوریا کی3طلاق حضرت داؤد پر زبور کے احکام اور99دنبیاں اور ایک دنبی پر تنبیہ مسئلہ حلالہ ہوگا۔ حضرت زید کی3طلاق پرنبیۖ نے چاہا ہو کہ وہ آپس میں جدا نہ ہوں بھلے حلالہ کا معاملہ کرنا پڑے۔
عن انس بن مالک قال: زید بن حارثة یشکوفجعل النبی ۖ یقول ”اتق اللہ وامسک علیک زوجک” قال انس لو کان رسول اللہ ۖ کاتمًا شیئًا لکتم ھذہ ،قال کانت زینب تفخر علی ازواج النبیۖ تقول زوجوکن اھلیکن وزوجنی اللہ تعالی من فوق سبع السموات و عن ثابت۔ ”وتخفی فی نفسک ماللہ مبدیہ و تخشی الناس” سورہ الاحزاب37(صحیح بخاری7420)
انس بن مالک نے کہا کہ زید بن حارثہ شکایت کرنے لگے تو نبیۖ نے فرمایا کہ ”اللہ سے ڈرو ، اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو۔حضرت انس نے کہا کہ اگر رسول اللہ ۖ کسی چیز کو چھپانا چاہتے تو اس آیت کو چھپاتے۔ حضرت زینب جبکہ تمام ازواج مطہرات پر فخر کرتی تھیں تم لوگوں کی تمہارے گھر والوں نے شادی کرائی اور میری اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر سے شادی کی اور ثابت سے مروی ہے کہ آیت ” اور آپ جس چیز کو چھپار ہے تھے جس سے اللہ نے ظاہر کرنا ہے ، آپ لوگوں سے ڈرتے ہیں”۔ حضرت عائشہ سے بھی یہ مروی ہے کہ ”اگرنبی ۖ کسی چیز کو چھپانا چاہتے تو اس کو ہی چھپاتے”۔ ازواج مطہرات میں سوکناہٹ تھی اور آیت کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں کہ یعنی تمہارے لئے کوئی فخر کی بات نہیں۔
ڈاکٹر شبیرا حمد کی کتاب” اسلام کے مجرم ” میں داتا گنج بخش عثمان علی ہجویری سے مولانا اشرف علی تھانوی تک کا اس واقعہ کے حوالے سے اور داؤد علیہ السلام کے واقعہ کے حوالہ سے بڑا خطرناک مواد ہے اورعلامہ سید کمال حیدری نے شیعہ حدیث کو بھی شرمناک قرار دیا ہے۔ اصل میں حرمت مصاہرت کا من گھڑت مسئلہ فرقوں کے درمیان روایات گھڑنے سے بھی کسی حدتک تمام متضاد اقسام کی حدود پھلانگ چکا ہے۔
یا ایھا النبی انا ارسلناک شاھدًا و مبشرًا و نذیرًاOوداعیًا الی اللہ باذنہ و سراجًا منیرًاOو بشر المؤمنین بان لھم من اللہ فضلًا کبیرًاOولا تطع الکافرین والمنافقین ودع اذاھم و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلًاOیا ایھا الذین اٰمنوا اذانکحتم المؤمنات ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فما لکم علیھن من عدةٍ تعتدونھا فمتّعوھن و سرحوھن سراحًا جمیلًاO
”اے پیارے نبی! بیشک ہم نے آپ کو بھیجا ہے گواہ بناکر اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا۔ اللہ کی طرف بلانے والا اس کی اجازت سے اور چراغ روشن۔اور مؤمنوں کو بشارت دو کہ اللہ کا ان پر بڑافضل ہے اور تم کافروں اورمنافقوں کا کہنا نہ مانو۔ اور ان کی اذیت کو چھوڑ دیںاور اللہ پر توکل کریںاوراللہ کی وکالت کافی ہے۔ اے ایمان والو! جب تم مؤمن عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں طلاق دو ،اس سے پہلے کہ تم نے انہیں چھولیا ہو تو تمہارے لئے ان پر کوئی عدت نہیں جس کو تم شمار کرو پس ان کو خرچہ دو اور انہیں اچھے انداز میں رخصت کرو”۔
سورہ الاحزاب کی یہ آیات:45تا49کیا بتاتی ہیں کہ کوئی جاہلیت کا مارا ہوا شکار پھنس جائے تو اس کو حلالہ کی بیڈ نیوز سے آگاہ کریں؟۔ رسول اللہ ۖ نے حلالہ کرنے والے اور جس کیلئے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ جب صرف نکاح ہو تب عربی میں شوہر کو زوج کہا جاتا ہے لیکن بعل نہیں کہا جاتا ہے اور قرآن کہتا ہے کہ صرف نکاح میں عورت پر تمہاری کوئی عدت نہیں ہے اور تمہیں انہیں خرچہ دینا پڑے گا اور چھوڑنا بھی خوبصورتی کیساتھ اچھے انداز میںتاکہ دنیا اسلام کو مانے۔
ایک حلالہ کا گند کیا جائے اور دوسرا اس پر معاوضہ بھی لینے سے بدبخت شرم نہ کریں۔ یہاں پریہ کیسی الٹی گنگا بہتی ہے؟۔
فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ
” پس اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔ (البقرہ:230)
اگر چہ اس آیت کا سیاق وسباق بالکل واضح ہے کہ شروع کی دو آیات228،229البقرہ میں عدت کے اندر معروف یعنی باہمی صلح کی شرط پر شوہر ہی کو رجوع کا حق ہے اور اس کے بعد کی دو آیات231اور232البقرہ میں معروف اور باہمی رضامندی کی شرط پر عدت کی تکمیل کے فوراً بعدبھی اور عدت کی تکمیل کے بہت عرصہ گزرنے کے بعد بھی میاں بیوی میں کوئی حلالہ و غیر ہ کی رکاوٹ اللہ نے کھڑی کرنے سے منع کیا ہے۔
اور ان تمام آیات میں رجوع کیلئے بیوی کی رضامندی شرط ہے اور کچھ نہیں اور آیت230سے پہلے آیت229میں تین مرتبہ طلاق کے بعد ایک مکمل سرگزشت بیان کی گئی ہے جس کی بنیاد عورت کے مالی حق کا تحفظ ہے کہ شوہر کی طرف دی گئی کوئی چیز واپس لینا قطعی حرام ہے جیسے خنزیر کا گوشت حرام ہے ۔لیکن اگر کوئی ایسی چیز شوہر نے دی ہو جو طلاق کے بعد رابطے اور اللہ کی حدود توڑنے یعنی جنسی تعلق کا خدشہ ہو تو پھر عورت کی عزت بچانے کیلئے عورت کی طرف سے اس چیز کو فدیہ یعنی قربان کرنا غلط نہیں ہے اور جب عورت فدیہ دے تو یہ اس کا ثبوت ہے کہ وہ رجوع نہیں چاہتی اور اس کیساتھ آیت230کا حکم منسلک ہے اسلئے کہ عورت راضی نہ ہو تو پھر یہ حکم آیت228میں بھی سرایت کرجاتا ہے اور آیت229میں بھی اورآیات231اور232میں بھی اور قرآنی آیات کی علت رجوع کیلئے عورت کی رضامندی ہے اور یہ اتنی واضح ہے کہ خردماغ لوگ بھی سمجھ سکتے ہیں بشرط یہ کہ اس پر تھوڑاتدبر کریں۔لیکن بالفرض تمام آیات کو سیاق وسباق سے ہٹا بھی دیں تو بھی آیت230میں صرف نکاح کا ذکر ہے جماع کا نہیں ہے۔ یعنی اگر کوئی آگے پیچھے بھی نہیں دیکھتا ہے اور اس آیت پر اس کی سوئی اٹک جاتی ہے تو بھی ”بعل” بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ نکاح سے صرف زوج بنانا کافی ہے۔ یہ اللہ نے بہت خاص پرو ٹیکشن رکھی ہے۔
حضرت سعید بن جبیر نے جب دیکھا کہ بنو زرقاء بنو مروان حلالہ کی لعنت پر زور ڈال رہے ہیں تو قرآن سے استدلال کیا کہ آیت230البقرہ میں صرف نکاح کی بات ہے جماع کی نہیں ہے۔ حجاج بن یوسف نے شہید کرنے سے پہلے مکالمہ کیا۔ حضرت علی پر جہنمی کا فتویٰ لگانے کیلئے حجاج بن یوسف زور ڈال رہاتھا۔ جلاد سر کو تن سے جدا کرنے کیلئے تیار کھڑا رکھا ہوا تھا۔ اصل معاملہ حلالہ کی لعنت کو مسلط کرنا تھا۔ عربی میں بھی بعل اور زوج کا فرق واضح ہے اور قرآن میں بھی اور دونوں کا حکم بھی بالکل مختلف ہے اور احکام میں بھی بہت فرق ہے۔
سلام علی موسی و ہارونOانا کذٰلک نجزی المحسنینOانھما من عبادنا المؤمنینOوان الیاس لمن المرسلینOاذقال لقومہ الا تتقونOاتدعون بعلًا و تذرون احسن الخالقینOاللہ ربکم و رب اٰبائکم الاولینOفکذبوہ فانھم لمحضرونOالا عباد اللہ المخلصینO
سلام ہو موسیٰ و ہارون پر ،بیشک ہم محسنوں کو ایساہی بدلا دیتے ہیں، بیشک وہ ہمارے مؤمن بندوں میں تھے اور بیشک الیاس رسولوں میں سے تھا جب اس نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم بعل کو بلاتے ہو اور احسن خالق کو چھوڑ تے ہو، اللہ تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے آبا کا پس انہوں نے اسے جھٹلایا بیشک وہ حاضر کئے جائیں گے مگر اللہ کے مخلص بندے۔(سورہ الصافات:120تا128)
یہود عرصہ دراز سے اللہ کے احکام کو چھوڑ کر حلالے کا بعل بلاتے ہیں ۔
لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داؤد و عیسی ابن مریم ذٰلک بما عصوا و کانوا یعتدونOکانوا لا یتنا ھون عن منکرٍ فعلوہ لبئس ما کانوا یفعلون O
”لعن کی گئی ہے کفار میں سے بنی اسرائیل میں سے (یہود) پر داؤد اور عیسی ابن مریم کی زبان سے ۔ یہ اسلئے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے گزر گئے۔ وہ منکر (حلالہ ) سے نہیں رکتے تھے جس سے منع کیا گیا تھا اور وہ کرتے تھے۔ بہت ہی برا ہے جو وہ کرتے ہیں” ۔(سور المائدہ آیت78،79)
لتجدن اشد الناس عداوة للذین اٰمنوا الیھود والذین اشرکوا و لتجدن اقربھم مودةً للذین امنوا الذین قالوا انا نصارٰی ذٰلک بان منھم قسّیسین و رھبانًا و انھم لا یستکبرونO
”آپ سب لوگوں سے زیادہ دشمنی میں یہود اور مشرکوں کو پاؤگے۔اور محبت میں سب سے زیادہ قریب نصاری کو پاؤگے اسلئے کہ ان میں علماء اور صوفی ہیں اوروہ تکبر نہیں کرتے ”۔ (سورہ المائدہ آیت:82)
یہود اور مشرکین مکہ میں حلالہ کی لعنت بھی تھی اور جب کسی اور کی بیوی کے ممنوعہ ”بعل” بنتے ہوں توپھر تکبر بھی آئے گا۔
یہود حضرت موسیٰ وہارون کو مانتے ہیں اور قرآن نے ان پر سلام بھیجا ہے۔ حضرت علی اور ائمہ اہل بیت اطہار کے ساتھ صحیح بخاری اور پرانی ادب کی کتب میں علیہ السلام اور علیہا السلام لکھاہے اوریہ کشتی نوح کی طرح حلالہ کے گند سے بچے تھے۔ مسجد نبویۖ پر بارہ ائمہ اہل بیت کے نام آج لکھے ہیں اور مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہنے ان کو تصوف کیلئے اصل قرار دیا۔
ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان نے بڑی قربانی دی تھی والدہ ہند کے والد، چچااور بھائی کو غزوہ بدر میں امیرحمزہ اور علی نے قتل کیا تو ہند نے غزوہ احد میں حمزہ کا کلیجہ چبایا۔ ام حبیبہ کی قربانی سے خاندان کو ہدایت ملی۔ امام حسن امیر معاویہ کے حق میں دستبردار ہوگئے۔ امیر معاویہ نے مروان کو معزول اور اپنے بھتیجے ولید کو گورنر بنادیا۔ امام حسین سے جبری بیعت نہیں لی تو مروان بن حکم نے کہا کہ اس کو قتل کردیتے ۔ جس پر امام حسین نے کہا کہ ”زرقاء کے بیٹے تمہاری یہ اوقات نہیں ہے”۔ مروان بن حکم کو پہلے امام حسن نے بدتمیزی پر زرقاء کا بیٹا کہا تھا۔
شیعہ نے امام حسین سے دغا کیا اور لشکر یزید نے شہید لیکن یزیدی لشکر کے سپاہ سالار حرنے امام حسین کا ساتھ دیا۔یزید کے بیٹے معاویہ نے امام زین العابدین کومستند خلافت پیش کی جبکہ عبداللہ بن زبیر نے مروان کی بیعت کو بھی قبول نہ کیا اور اس کو بیٹے عبدالملک سمیت مدینہ چھوڑنے کا حکم دیا۔
بنوامیہ میں حضرت عثمان اور ابوسفیان اور مروان تینوں کے کردار کو ایک کھاتے میں ڈالنا غلط ہے۔ مروان اور عبدالملک بن مروان اور اس کے بیٹوں سے بھی ذاتی مسئلہ نہیں ہے ۔
اصل معاملہ یہ ہے کہ قرآن سے دوری کے نتیجے میں حلالہ کی لعنت نے امت مسلمہ کو کہیں کا نہیں چھوڑا ۔ ایران کے شیعہ بادشاہ اسماعیل صفوی کے دادا کا نام بھی اسماعیل صفوی تھا جو جدید ایران کا بانی سنی تھا، حلالہ سے بچنے کیلئے پوتا شیعہ بن گیا۔ اسلئے ایرانی اور ہندوستانی شیعوں میں بڑا فرق ہے۔ علامہ عارف واحدی کا جامعة الرشید میں خطاب خوش آئند ہے۔
جاویداحمد غامدی نرا بکواسی ہے۔اس کا یہ کہنا کہ قرآن میں طلاق کی وضاحت نہیں ہوئی ۔ نبی ۖ نے اجتہاد کیا تھا ۔ رکانہ نے اپنی بیوی کو 3 طلاق دی تو نبیۖ نے ان کو پوچھا کہ نیت کیا تھی؟۔اس نے کہا کہ ایک طلاق کی ۔ نبیۖ نے فرمایا کہ حلف اٹھاؤ۔ اس نے قسم اٹھائی تو ایک قرار دی۔ (ابوداؤد )
جاویدغامدی نے کہا کہ اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے مگر ایسے معاملے میں قابل قبول ہے۔ اور یہ نبیۖ کا اجتہاد تھا ۔ جس سے اختلاف کی گنجائش تھی ۔حضرت عمر نے اسکے برعکس اجتہاد کیا اور تین کو تین قرار دیا اور ایک کا اعتبار ختم کیا۔ امت نے حضرت عمر کے اجتہاد کو قبولیت بخش دی۔ گنجائش دونوں پر عمل کرنے کی ہے لیکن نبیۖ کی طرف لوٹانا زیادہ بہتر ہے۔
جاوید احمد غامدی نے کہا کہ عبداللہ بن عمر ایک عالم دین بھی تھے لیکن اپنی طلاق کا مسئلہ خود حل نہیں کیا بلکہ رسول اللہۖ کی خدمت میں پیش کردیا اور آپ نے سمجھادیا کہ عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق اور عدت کا معاملہ ہے۔ علماء کے پاس اپنا معاملہ لیکر جانا چاہیے اور وہ جو بھی فتویٰ دید یں۔
جاویدغامدی نے ایک طرف میڈیا پر عوام کو شعور دینے کا ٹھیکہ اٹھایا ہوا ہے اور دوسری طرف اپنا ٹھیہ بھی لگایا ہواہے تاکہ لوگ سب کو مان کر اس کا ٹھیہ منافع بخش کاروبار بنائے۔
” کل حزب بما لدیھم فرحون” ہر گروہ اپنی کمائی پرخوش ہے ۔یہ جتھے اور جماعتیں منافع بخش کاروبار ہیں۔
ولاتکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوة انکاثًا تتخذون ایمانکم دخلًا بینکم ان تکون امة ھی اربٰی من امةٍ انما یبلوکم اللہ بہ و لیبینن لکم یوم القیامة ماکنتم فیہ تختلفونO
” اس جماعت کی طرح مت بن جاؤ ، جو اپنا سوت قوت کے بعد توڑ ڈالے۔ تم آپس میں عہد منشور کو بناتے ہو تا کہ ایک جماعت دوسری سے زیادہ منافع بخش بن جائے بیشک اللہ تمہیں اس سے آزماتا ہے تاکہ قیامت کے دن تمہیں پتہ چل جائے کہ تم کس بات پر آپس میں اختلاف کررہے تھے”۔ (سورہ نحل :92)
جاوید غامدی نے جمع پونجی کی قوت طلاق اوربکواس کی نذر کردی۔ابوداؤد میں رکانہ کے والدین کا واقعہ دیکھتے تو مسئلہ طلاق پر بک بک نہ کرتے۔ رکانہ کے والد نے رکانہ کی ماں کو سورہ طلاق کے مطابق مرحلہ وار عدت میں تین طلاقیں دیں۔ تکمیل عدت پر معروف کی شرط یعنی رضامندی سے رجوع کی بجائے معروف طریقے سے الگ کیا اور اس پر دو عادل گواہ بھی بنالئے اور پھر کسی اور عورت سے نکاح کیا۔ اس نے بعد میں نامرد ہونے کی شکایت کی اور حضرت رکانہ کے والد عبد بن یزید نے اس کو طلاق دی ۔ پھر رسول اللہۖ نے فرمایا کہ وہ ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرتے؟۔ عرض کیا گیا کہ وہ تو تین طلاق دے چکا ہے۔ رسول اللہۖ نے فرمایا مجھے علم ہے اور پھر سورہ طلاق کی پہلی دو آیات تلاوت فرمائیں۔ ابوداؤد
ان دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ سورہ طلاق کی تفسیر اور تین طلاق سے حلالہ کے بغیر رجوع کیلئے ابوداؤد کی حدیث سے زیادہ بڑی بات نہیں ہوسکتی ہے۔ جہاں تک رکانہ سے قسم کھلانے کا تعلق ہے تو جس طرح عبداللہ بن عمر پر نبیۖ بہت غضبناک ہوگئے تھے تو والدین کے واقعہ کے بعد رکانہ کی ٹھیک طرح سے خبر لی جاتی کہ جان بوجھ کر خلاف ورزی کی ہے لیکن جب قسم کھائی تو یہ نبیۖ کے دربار میں طیش سے بچ نکلے۔
یہ تو انتہائی گھناؤنی بات ہے کہ عوام کی عزتوں کو مذہبی طبقہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے اور بیوی کے حسن و جمال کو دیکھ کر فیصلہ کریں کہ حلالہ کی ضرورت ہے یا نہیں؟۔ واہ غامدی واہ۔ تجھ سے عیسائی خنزیر بھی نہ چرائیں کہ کیا اٹکل پچھو کرلے گا؟۔
قرآن وسنت میں معاملہ اتنا واضح ہے کہ آج دنیا ساری کی ساری قرآنی انقلاب کا ثمرہ ہے۔ عیسائی طلاق نہیں مانتے اور آج قرآن وسنت کے مطابق طلاق بھی دنیا میں رائج ہے اور روس جیسے ملک کا بھی عدت اور اس میں باہمی رضامندی سے رجوع کا قانون ہے۔ حضرت عمر اورحضرت علی نے کوئی اجتہاد نہیں کیا تھا بلکہ اکٹھی تین طلاق اور حرام کے لفظ پر جب عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی تو عورت کے حق میں فیصلہ دے دیا۔
جیسے یہ کہنا غلط ہوگا کہ رکانہ کے والد نے کسی اور عورت سے نکاح کیا اور اس کو طلاق دینے کے بعد پہلی کیلئے حلال ہوگئے تو ویسے یہ غلط کہ حسین نے عبداللہ بن سلام کی بیوی سے طلاق کے بعد نکاح کرکے حلالہ کیا۔اس اتفاق سے شیعہ غلط فہمی میں پڑا۔ زید بن باقربن زین العابدین بن امام حسین نے اپنی کتاب ”المجموع” میں لکھا کہ ”عربی عورت کفو کے بغیر نکاح کرے تو ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں نصف حق مہر، ہاتھ لگانے کے بعد پورا حق مہر اور تین کے بعد تحلیل کے بغیر پہلے شوہر سے نکاح جائز ہوگایا نہیں ”۔ حالانکہ یہ تحلیل بکواس ہے۔ اس سے زیادہ مسلک حنفی قرآن کے عین مطابق تھا۔
عائلی قوانین1964ء پاکستان میں طلاق کی عدت اور آپس کی اصلاح سے رجوع کا قانون اور طلاق رجعی ومغلظ کا خاتمہ عالم اسلام ہی نہیں اسرائیل کے کٹر یہود کو بھی ہزاروں سال بعد پہلی مرتبہ حلالہ کی لعنت سے نکال دے گا اور وہ اسلام کی عالمی خلافت کو اپنی عورتوں کی عزت کے بچاؤ کیلئے بخوشی قبول کریں گے اور بیت المقدس بھی مسلمانوں کے حوالہ کردیں گے۔
گورنر بصرہ مغیرہ بن شعبہ کے خلاف تین افراد نے زناکی گواہی دی اور زیاد نے کہا : ورأیت استہ یضرب استہاو رجلاھا کاذنی الحمار ”میں نے دیکھا کہ مغیرہ کی سرین ام جمیل کی سرین سے ملی ہوئی ہے اورام جمیل کی دونوں ٹانگیں گویا گدھے کے کان کی طرح کھڑی ہیں”۔تین گواہ ابوبکرہ، نافع ، شبل کے نام صحیح بخاری میں ہیں۔حضرت عمر کی شہادت کے بعد آل مروان نے حلالہ کی لعنت کو تسکین کا ذریعہ بنایاتھا۔ نبیۖنے سمندر کی طغیانی کے مانند فتنے کا ذکر کیا تھا۔ قرآن کی سورہ بنی اسرائیل آیت60میں رسول اللہ ۖ کے خواب کا پوری دنیا پر غلبہ اور قرآن میں شجر ملعونہ کا ذکر ہے جس کی وجہ سے پہلے یہود خدا کے غضب کا شکار تھے اور آج ان کی اتباع میں مسلمان بھی بن گئے ہیں۔
ماحول میں مسئلے کا پتہ نہیں ہو تو یہ کوئی عیب نہیں ہے۔ جب رسول اللہ ۖ کے دور میں ظہار کا منکر قول اور جھوٹ رائج تھا تو ایک عورت کے مجادلہ پر سورہ مجالہ نازل ہوئی ۔ جب نبیۖ ماریہ قبطیہ سے حرمت کا مروجہ معاملہ کیا تو سورہ تحریم نازل ہوئی اور جب حضرت زید نے بیوی کو تین طلاق دی اور نبیۖ نے چاہا کہ وہ اپنے پاس روکے رکھے تو حضرت زینب پہلے بھی ایک شوہر سے نکاح کرچکی تھیں اور38سال عمر تھی پھر حضرت زید سے بھی شادی ہوئی اوراس کے ذریعے جاہلیت کا ایک مسئلہ حل کرنا تھا جو بے غیرت سوتیلی ماں سے شادی کرتے تھے لیکن منہ بولے بیٹے کی بیوی کو طلاق کے بعد حقیقی بہو سمجھتے تھے۔
حضرت زینب سے پہلے حضرت زید کی شادی حضرت ام ایمن سے ہوچکی تھی جس سے اسامہ بن زید پیدا ہوئے تھے اور اس کے علاوہ مکی دور میں ایک اور نکاح حضرت ابوبکر کی بہن حضرت شمامہ بنت قحافہ اور پھر مدینہ میں حضرت ہند بنت لبید انصاری خاتون سے ہواتھاپھر3یا4ھ میں حضرت زینب سے نکاح ہوا اور خود ان کی چاہت تھی کہ نہیں رکھے۔ ایک سال یا اس سے کچھ زیادہ شادی کا دروانیہ رہا ۔ حضرت زید بن حارثہ نے حضرت زینب کی طلاق کے بعد معزز قریشی خاتون ام کلثوم بنت عقبہ سے نکاح کیا جن سے زیداور رقیہ دو بچے پیدا ہوئے۔ دوسرا نکاح رسول اللہ ۖ کی چچازاد درہ بنت ابی لہب سے ہوا۔ پھر ہند بن عوام سے ہوا جو رسول اللہ ۖ کی پھوپھی حضرت صفیہ کی بیٹی اور زبیر بن عوام کی بہن تھیں۔
اللہ نے سورہ حج میں مذہبی تعصبات کا خاتمہ ، خلافت کے قیام اور مختلف انبیاء کرام اور اقوام میں اچھے بروں کی نشاندی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک ایک ہزار سال ایک دن کے برابر ہے۔ گویا اسلام کی نشاة اول کے بعد سے موجودہ دور تک ڈیڑھ دن بھی پورے نہیں ہوئے ہیں اور پھر خلافت کا راستہ پوری دنیا میں ہموار ہوجائے گا اور حق پر عمل کرنا پڑے گا۔
وما ارسلنا من قبلک من رسولٍ ولانبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ فینسخ اللہ ما یلقی الشیطان ثم یحکم اللہ اٰیٰتہ واللہ علیم حکیمO
”اور ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس کی تمنا میں القا کیا پس اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو مٹاتا ہے پھر اپنی آیات کو مستحکم کردیتا ہے اور اللہ علیم حکیم ہے ” ۔ (سورہ حج آیت52)
اگلی دوآیات53اور54میںاہل باطل اور اہل حق کا ذکر ہے اور پھر اگلی آیات میں انقلاب کی آمد تک اہل باطل کو قرآن سے شک میں پڑے رہنے کی اور انقلاب کی وضاحت ہے۔
صحابہ کرام اسلام سے قبل مردہ زمین کی طرح تھے لیکن پھر نبیۖ کی صحبت اور قرآن کے احکام سے نہ صرف خود زندہ ہوگئے بلکہ پورے عالم بھی زندگی کا زبردست غلغلہ مچادیا تھا۔
خود نہ تھے جو راہ پر عالم کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مُردوں کو مسیحا کردیا
قرآن کا شجرہ ملعونہ حلالہ کی لعنت سے کسی غلط فہمی کے نتیجے میں حضرات انبیاء کرام کے بعد شیطانی القاؤں سے زندہ ہے اوراس کی تاریخ جنت سے نکالنے کیلئے شروع ہوئی ہے کیونکہ اللہ نے حضرت آدم کو حضرت حواء کا زوجہ بنادیا لیکن بعل بننے سے روک دیا تھا۔ قابیل نے بھی غلط بعل بننے کیلئے ہابیل کو قتل کردیا تھا۔ امت مسلمہ میں حضرت عبداللہ بن عمر کی نیک نیتی کا نتیجہ تھا کہ رسول اللہ ۖ کی تمنا میں شیطان نے اپنی کاروائی کی اور آج تک امت مسلمہ ایک بہت بڑے عذاب کا شکار ہے۔
عبداللہ بن عمر نے بیوی کو اکٹھی تین طلاق دی تو حضرت عمر نے رسول اللہ ۖ کو خبر دی کہ بہو نے گھر میں رونا دھونا مچا رکھا ہے جو ایک فطری بات تھی۔جس پر رسول اللہ ۖ غضبناک ہوگئے کہ میری موجودگی میں اللہ کی کتاب سے کھیل رہے ہو تو حضرت عمر نے پیشکش کردی کہ کیا میں اس کو قتل نہیں کردوں؟۔
نبیۖ نے عبداللہ بن عمر کو رجوع کا حکم دیا تو اسلئے تھا کہ عورت رجوع کیلئے راضی تھی لیکن عبداللہ نے اس سے طلاق رجعی کا غلط تصور لیا اور کہا: ”اگر میں دو مرتبہ کے بعد تیسری بار طلاق دیتا تو نبیۖ رجوع کا حکم نہ دیتے۔(بخاری) یوں بنی زرقاء کو موقع ملا کہ اکٹھی تین طلاق کو مغلظ قرار دیں اورحضرت عمر کا سہارا بنائیں ، حضرت علی نے عورت راضی نہ تھی تو عورت کے حق میں فیصلہ دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا۔ علی کو سورہ تحریم سے انکار اور کافر و جہنمی قرار دے دیا۔ بخاری ، مسلم ،ابوداؤد ، نسائی اور تاریخ میں سب واضح ہے لیکن ہٹ دھرم نہیں مانتے۔
لعنت حلالہ سے بچنے کیلئے قرآن میں ایک آیت بھی کافی تھی لیکن اللہ نے بہت ساری آیات کی ڈیفنس لائن لگادی ۔
1: حلالہ کیخلاف پہلی دفاعی دیوار
ویسالونک عن المحیض قل ھو اذًی فاعتزلوا النساء فی المحیض و لا تقربوھن حتی یطھرن فاذا تطھرن فاتوھن من حیث امرکم اللہ ان اللہ یحب التوابین و یحب المتطھرینO
”اور تجھ سے حیض کی حالت کا حکم پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ اذیت ہے ،پس حیض کی حالت میں عورتوں کو چھوڑ دو اور انکے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں۔جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس آؤ جیسا تمہیں اللہ نے امر کیا ، بیشک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی والوں کو پسند کرتا ہے”۔ (البقرہ آیت222 )
یہاں حیض کی حالت کو اذیت قرار دیا گیا۔اس میں عورتوں سے فاصلہ رکھنے کا حکم ہے اور جب پاک ہوجائیں تو اللہ نے جیسا حکم دیا ویسے آئیں اور اذیت سے توبہ اور ناپاکی سے پاکی اختیار کرنے والوں کو اللہ نے پسندیدہ قرار دیا ہے۔
”الا لہ الخلق والامر” خبردار اسی کیلئے تخلیق اور امر ہے۔ عورت کو حیض آتا ہے تو یہ اذیت اس کی تخلیق ہے اور مردوں کو اس میں دور رہنے اور جب پاک ہوجائیں تو امر کے مطابق ہی ان کے پا س آنے کا معاملہ بالکل واضح ہے ۔
حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے مردوں اور عورتوں پر اللہ نے تخلیق میں امر کی خلاف ورزی پر عذاب نازل کیا تھا۔ فرمایا:
ولوط اذقال لقومہ انکم لتاتون الفاحشة ما سبقکم بھا من احدٍ من العالمینOائنکم لتاتون الرجال و تقطعون السبیل و تاتون فی نادیکم المنکر فما کان جواب قومہ الا ان قالوا ائتنا بعذاب اللہ ان کنت من الصادقینOقال رب انصرنی علی القوم المفسدینO
”اورلوط نے اپنی قوم سے کہا کہ تم فحاشی کرتے ہو جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ تم آدمیوں کے پاس آتے ہو اور جائز راستہ منقع کرتے ہو اور پھر اعلانیہ معروف کی جگہ منکر کرتے ہو۔تو قوم کا جواب نہیں تھا مگر یہ کہ ہمارے اوپر اللہ کا عذاب لاؤ اگر تم سچے ہو۔ کہا کہ اے میرے رب میری مدد فرما قوم فساد کرنے والوں پر ” ۔(عنکبوت:28تا30)
قرآن میں واضح ہے کہ عورت کی تخلیق اور اس کے پاس امر کا حکم کیا ہے؟۔ دونوں راستوں میں سے کونسا راستہ ہے؟۔ جہاں سے حیض آتا ہے معروف راستہ ؟ یا جو مردوں عورتوں میں یکساں ہوتا ہے منکر اور فحاشی کا راستہ؟۔ غلط تو اگر مرد بھی بنتے ہیں تو ٹھنڈے نہیں ہوتے۔لیہ کے حافظ حاشر نے بدمعاش بدکار کیلئے اپنے باپ کا قتل کیا اسلئے کہ پیاس نہیں بجھ رہی تھی۔
علماء نے قوم لوط کی تفسیر کی وہ راستے میں ڈکیتی کرتے تھے لیکن اصل راستہ کو بھول گئے کہ جرم کیا تھا جو بالکل واضح ہے۔ عورت کی عدت میں اضافہ بھی اذیت ہے اور جس طہر میں اس کو طلاق دی جائے تو اس سے پہلے حیض بھی اس عدت کا حصہ خود بخود بن جاتا ہے۔ علماء غلط پڑھاتے ہیں کہ عدت کے تین ادوار سے مراد تین حیض ہیں۔ حیض میں تو ویسے بھی مقاربت منع ہے۔ حضرت عائشہ نے بھی تین اطہار قرار دیا۔ نبیۖ نے بھی عدت اور طلاق کو تین اطہار کے ساتھ واضح فرمایا لیکن حنفی مسلک میںریاضی کے فہم عقل اور قرآن وسنت سے عاری احمقوں نے اصول فقہ میں یہ شامل کیا کہ ”قرآن کے خاص پر عمل کرنا ضروری ہے۔ 3عدد خاص ہے جس طہر میں طلاق دی جائے تو اسکا کچھ حصہ شمار ہوگا تو تین کی جگہ ڈھائی بن جائیگا”۔ حالانکہ یہ غلط ہے اسلئے کہ پھر وہ طہر بھی شمار ہوگا اور تین کی جگہ ساڑھے تین بن جائیگا۔ روزہ میں کچھ کھائے بغیر سورج نکلنے کے بعد بھی روزہ رکھا جائے تو روزہ پورا ہے اور جس طہر میں مباشرت نہ کی ہو تو وہ طہر بھی پورا شمار ہوگا۔ علماء لکھتے ہیں کہ عدت الرجال طہر اور عدت النساء حیض ہے۔ مگر کرکٹ میں یہ ممکن ہے کہ دن میں بال کی جائے اور رات کو شارٹ مارا جائے؟ اور یہ بہت بڑی حماقت ہے۔ نبی ۖ نے عدت و طلاق کے متعلق تین طہروں کی وضاحت فرمائی ہے۔ اللہ نے فرمایا:
یا ایھا لنبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن
”اے نبی جب آپ لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کیلئے دو”۔ (سورہ الطلاق ) جس کامولویانہ ترجمہ یہ بنے گا کہ جب تم لوگ طلاق دو تو حیض کیلئے طلاق دو۔ حالانکہ حیض میں ویسے بھی مقاربت منع ہے اسلئے مولوی ترجمہ وتفسیر نہیں جانتا۔
ان ساری چیزوں کا خمیازہ عورت کو بھگتنا پڑتا ہے۔ عورت کیلئے سب سے بڑی اذیت حلالہ کی لعنت ہے جس کو علماء نے باقاعدہ سزا قرار دیا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ عورت کو ایسی اذیت اور سزا دے سکتا ہے جس میں حلالہ کی فحاشی والی لعنت ہو؟۔ جب چھوٹی چھوٹی اذیتوں کا بوجھ عورتوں پر ڈالنے کا عادی بنادیا جاتا ہے تو پھر وہ گدھی کی طرح حلالہ بھی گدھے سے کرواتی ہے۔
عربی کی کسی لغت میں اذًی کا معنی گند نہیں ہے لیکن علماء نے اس کو گند قرار دیا ہے۔ عربی میں گند کو ”قذر” کہتے ہیں۔ آیت کے آخرمیں توبہ اور طہارت کا ذکر ہے۔ توبہ اذیت سے ہوتی ہے اور طہارت گند سے دور رہنے کی وجہ سے ہے۔ آیت میں دونوں چیزوں کا ذکر ہے اسلئے کہ حیض کی حالت کو ”قذر” کہنا عورت کی توہین اور الفاظ کا چناؤ غلط ہوتا لیکن ساتھ میں اذیت سے مقصود عورت کو تخلیقی و شرعی امور میں اذیت سے بچانا ہے۔
ولونزلنا علیک کتابًا فی قرطاسٍ فلمسوہ بایدیھم لقال الذین کفروا ان ھذا الا سحر مبینO
”اور اگر ہم آپ پر کتاب کو کاغذ میںلکھا ہوا اتارتے تو اس کو چھوتے اپنے ہاتھوں سے تو ضرور کفر کرنے والے لوگ کہتے کہ بیشک یہ تو کھلا جادو ہے”۔ (سورہ الانعام آیت:7)
مولوی بنتے وقت اصول فقہ میں پڑھایا جاتا ہے کہ قرآن لکھائی میں اللہ کا کلام نہیں صحف تو نقش ہے۔ حالانکہ مکتوب فی المصاحف جو مصاحف میں لکھا ہوا ہے۔ یہ فقہی مسئلہ کہ قرآن کے مصحف پر حلف بھی نہیں ہوتا ہے۔زبانی قرآن کی قسم کھائی جائے تو حلف اور کفارہ بنتا ہے۔ ایک طرف دلا اور دلال کہتا ہے کہ بغیر وضو کے قرآن کو ہاتھ لگانا جائز نہیں اور دوسری طرف فتاویٰ قاضی خان سے فتاویٰ شامی اور مفتی تقی عثمانی، مفتی سعید خان نکاح خواں عمران خان اور مولانا الیاس گھمن تک کی بکواس کہ سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے عوام کے دباؤ سے توبہ کی اور مدارس میں وہی پڑھا رہاہے۔
اب سوال یہ ہے کہ حضرت آدم و حواء دونوں کو نیچے اترنے کا حکم دیا اور حواء کے پیٹ میں قابیل بھی تھا تو سب بعض بعض کے دشمن بننے کا کیا مطلب ہے؟۔ حضرت آدم و حواء نے توبہ کی اور قابیل کم بخت نے ہابیل کو قتل کرکے ہدایت پر عمل نہیں کیا ۔ امریکہ عرب ممالک وایران ، اسرائیل وفلسطین اور دنیا بھر میں ایکدوسرے سے دشمنی بالکل قرآن کی واضح تفسیر ہے۔
یا ایھا الذین اٰمنوا ان من ازواجکم و اولادکم عدوًا لکم فاحذرو ھم وان تعفوا وتصفحوا و تغفروا فان اللہ غفور رحیمOانما اموالکم و اولادکم فتنة واللہ عند ہ اجر عظیمOفاتقواللہ ما استطعتم واسمعوا وا طیعوا وا نفقوا خیرًا لانفسکم و من یوق شخ نفسہ فاولٰئک ھم المفلحونO
”اے ایمان والو! بے شک تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے لئے دشمن ہیں پس ان سے بچتے رہواور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو بیشک اللہ بھی بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔ بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ پس اللہ سے ڈرو جتنا تم سے ہوسکے اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو ، یہ تمہاری اپنی جانوں کیلئے بہتر ہے۔جس نے اپنی جان کو لالچ سے بچایا تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔(التغابن14تا16)
اللہ نے بتایا کہ شیطان نے کس طرح آدم کو اولاد اور ہمیشہ کی بادشاہت کا لالچ دیکر ورغلایا؟۔ حوا ء زوجہ تھیں مگر ازدواجی تعلق سے اللہ نے منع کیا تھا۔ بنوامیہ وبنو عباس نے اولاد کیلئے ہمیشہ کی بادشاہت کی لالچ میں حلالہ کی لعنت کو رواج دیا تھااور خلفاء راشدین نے خود کو اس لالچ اور فتنے سے محفوظ رکھا تھا۔
حضرت علی کی اولاد نے حلالہ کی لعنت نہیں قرآن کی طرف دعوت دی مگر ان پر سخت پابندیاں لگائی گئی تھیں۔امام ابوحنیفہ جیسے لوگوں کو جیل میں زہر دیکر شہید کیا گیا تھا۔ شیطان نے بھی حکمران اور مذہبی طبقات کو روغلانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔
2: حلالہ کیخلاف دوسری دفاعی لائن
نساء کم حرث لکم فاتوا حرثکم انیٰ شئتم و قدموا لانفسکم واتقوا اللہ واعلموا انکم ملاقوہ و بشرالمؤمنینO
تمہاری عورتیں تمہارا اثاثہ ہیں پس اپنے اثاثہ کے پاس جیسے چاہو آؤ اور نیکیاں اپنے لئے آگے بھیجو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بیشک تم نے اس سے ملنا ہے اور مؤمنوں کو بشارت دو”۔ (سورہ بقرہ آیت:223)
جیسا کہ انگریزی اور اردو میں بھی جو بیٹا یاشاگرد زیاہ اچھا لگتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ میرا اثاثہ ہے۔ قرآن میں اثاثہ کھیتی کیلئے بھی آتا ہے اور اثاثہ جات کیلئے بھی۔ جیسے جو دنیا کا اثاثہ چاہتا ہے اور جو آخرت کا اثاثہ چاہتا ہے۔ تو اس کیلئے بھی حرث استعمال ہوا ہے۔ کیمسٹری میں عناصر Properties اثاثہ جات۔ مالیکیول عناصر کا گچھا ۔عنصر آزاد حالت میں نہیں ہوتا ہے اور ان کو آپس میں جدا کرنے کیلئے جدید سائنس کا استعمال ہوتا ہے۔ اللہ نے فرمایا: ”میں نے انسان کو ایک جان سے پیدا کیا اور پھر بہت سارے مرد اور عورتیں پیدا کی ہیں”۔ نکاح کے خطبے میں یہ آیت بھی پڑھی جاتی ہے۔ عورت کو کھیتی قرار دینا عورت کی توہین ہے کھیتی سے بلی اور کتے کے زیادہ حقوق ہیں۔
اگر مولوی کھیتی کا حق دے تو بھی صحیح لیکن عورت کی حالت تو حلالہ کی لعنت پر کھیتی سے بھی بدتر بنتی ہے۔ اذیت اور تذلیل کی انتہا اور پھر اللہ کے نام پر؟۔ جیسا ایک قیمتی اثاثہ کوئی جدا نہیں کرسکتا ہے اس طرح شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان الفاظ کے گورکھ دھندے سے رکاوٹ کھڑی کرنا انتہائی غلط بات ہے جس کیلئے اللہ نے بڑی واضح آیات نازل کی ہیں جو بالکل محکمات ہیں اور ادھر سے ادھر نہیں ہوسکتی ہیں لیکن شیطان کھلا دشمن ہے اسلئے زیادہ مضبوط بند باندھ دیا۔
3: حلالہ کیخلاف تیسری دفاعی لائن
ولا تجعلواللہ عرضة لایمانکم ان تبروا و تتقوا و تصلحوا بین الناس و اللہ سمیع علیم
”اور اپنے عہدوں کو ڈھال مت بناؤ کہ نیکی کرو اورتقویٰ اختیار کرو اور لوگوں میں صلح کراؤاللہ سننے جاننے والا ہے”۔ (البقرہ224)
یہ حلالہ کی لعنت کے خلاف آہنی دیوار ہے۔میاں بیوی کے درمیان صلح میں رکاوٹ سے زیادہ بڑا غلط معاملہ کیا ہوسکتا ہے؟۔ یہی نیکی اور تقویٰ ہے کہ دونوں میں تفریق نہیں ہونے دی جائے اور حلالہ تو انتہائی درجہ جرم ہے۔ حکمران، شیطان اور آدم کی اولاد نے حلالہ کیلئے راستہ بنانا تھا لیکن وہ دفاعی دیوار تھی کہ خود کش حملوں اور ایٹم بم بھی اس پر اثر نہیں کرسکتا تھا۔
یہاں یمین سے مراد حلف نہیں ہے بلکہ جن الفاظ سے شوہر اور بیوی کو یہود اور یہود نما مذہبی طبقات نے آپس میں صلح سے روکنا تھا اور نیکی اور تقویٰ میں رکاوٹ ڈالنی تھی اس مسئلے کا حفظ ما تقدم کے طور پر حل ہے۔ اللہ کی کتاب میں کوئی ایسی بات ہی نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر میاں بیوی کے درمیان صلح کو ناممکن قرار دیا جائے اور حلالہ جیسی فحاشی کے حکم کا توکوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ یہاں اللہ نے فیصلہ کردیا کہ صلح میں رکاوٹ کھڑی کرنا اللہ کے نام پر فتویٰ نہیں بلکہ بالکل واضح فراڈ ہے۔
قرآن کی آیات ایک دوسرے سے فصل بھی ہیں اور مربوط اور ایک دوسرے کی تفسیر بھی۔ سورہ مائدہ میں واضح ہے کہ وہاں یمین سے مراد طلاق نہیں حلف ہے۔
ذٰلک کفارة ایمانکم اذا حلفتم
”یہ تمہارے یمین کا کفارہ ہے جب تم نے حلف اٹھایا ہو” ۔ (سورہ المائدہ آیت:89)
جہاں تک طلاق سے متعلق حلف کی بات ہے تو نبیۖ کا حضرت ماریہ قبطیہ کے حوالے سے حرمت کی بات طلاق والی یمین تھی۔ علامہ فریدالدین دہلوی کی تالیف”فتاویٰ تاتار خنہ” پر مدرسہ شاہی مراد آباد ہندکے مفتی محدث شبیراحمد قاسمی نے بھی لکھا جس میں شوہر اور بیوی ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ اگر تمہاری شرمگاہ سے میری شرمگاہ خوبصورت نہ ہوئی تو تجھے طلاق ہے ۔میری لونڈی آزاد ہے ۔ کھڑے تھے تو مرد سے زیادہ عورت کی خوبصورت ہے اور بیٹھنے کی صورت میں مرد کی خوبصورت ہے اور ایک کھڑا اور دوسری بیٹھی ہو تو مجھے بھی پتہ نہیں شیخ امام ابوبکر محمد بن الفضل ۔فقیہ ابوجعفر نے کہا کہ دونوں کا یمین واقع ہونا چاہیے۔ (مکتبہ رشیدیہ سرکی روڈ کوئٹہ)
یا ایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیمOقد فرض اللہ لکم تحلة ایمانکم واللہ مولاکم و ھو العلیم الحکیمO
"اے نبی ! آپ کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کیلئے حلال کیا ہے اپنی بیویوں کی خوشنودی کیلئے اور اللہ غفور رحیم ہے۔ اللہ نے تمہاری حرمت کے ایمان کو حلال کرنا فرض کردیا ہے وہ تمہارا مولی ہے اور علیم حکیم ہے”۔ سورہ تحریم
صحیح بخاری میں بیوی کو حرام کہنے پر اختلافی ١قوال ہیں اور حسن بصری نے بعض علماء کا اجتہاد نقل کیا ہے کہ حرام کہہ دیا تو حلالہ کرنا ہوگا اور بعض نے حضرت علی اور دوسرے صحابہ کرام کی طرف منسوب کیا ہے کہ حرام تین طلاق ہیں۔ بے غیرت قرآن کو نہیں دیکھتے؟۔ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو ایلاء میں بھی رجوع نہیں ہوسکتا ۔ حضرت علی اور دیگر صحابہ کرام اس طرح کے جاہل نہیں تھے انہوں نے قرآن کے عین مطابق ہی فیصلہ کیا لیکن سبھی فرقے والے اپنے مذہب پر ڈرتے ہیں۔
یہ شہر سحر زدہ ہے صدا کسی کی نہیں
یہاں خود اپنے لئے بھی دعا کسی کی نہیں
خزاں میں چاک گریباں تھا میں بہار میں تو
مگر یہ فصل ستم آشنا کسی کی نہیں
سب اپنے اپنے فسانے سناتے جاتے ہیں
نگاہ یار مگر ہم نوا کسی کی نہیں
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
فراز اپنی جگر کاویوں پہ ناز نہ کر
کہ یہ متاع ہنر بھی صدا کسی کی نہیں
4: حلالہ کیخلاف چوتھی دفاعی لائن
لا یؤاخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم ولکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکم واللہ غفورحلیمO
”اللہ تمہیں تمہارے لغو یمین سے نہیں پکڑتا مگر تمہیں پکڑتا ہے جو تمہارے دلوں نے کمایا اور غفور حلیم ہے”۔ (البقرہ225)
لغو یمین سے یہاں مراد طلاق والی لغو یمین ہے اور وہ پھر کیا ہے؟۔ جو سورہ تحریم میں حرام کے لفظ میں واضح ہے۔ اسکے بھی علاوہ جتنے الفاظ طلاق صریح اور کنایہ کے نام پر مذہبی طبقے نے یہود کے نقش قدم پر رائج کئے ہیں وہ سبھی لغویات ہیںاسلئے کہ اس سے پیشتر آیت میں ملاؤں کو خدا نے تنبیہ کی ہے کہ یہود کی پیروی میں میاں بیوی کے درمیان صلح میں کوئی رکاوٹ اللہ کیلئے قابل قبول نہیں ہے۔ اس طرح تمام لوگوں صلح ہوسکتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ دل کا گناہ کیا ہے؟۔ اس کی اگلی آیات میں تفسیر ہے کہ طلاق کا اظہار کیا تو تین ماہ اور اظہار نہ کیا تو عدت چار ماہ لیکن اگر طلاق کا عزم تھا تو یہ دل کا گناہ اس پر پکڑ ہے۔
5: حلالہ کیخلاف پانچویں دفاعی لائن
للذین یؤلون من نسائھم تربص اربعة اشھرٍ فان فاء وا فان اللہ غفور رحیمOو ان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیمO
”جو لوگ اپنی عورتوں سے ایلاء کریں ان کیلئے چار ماہ ہیں پس اگر وہ آپس میں راضی ہوگئے تو اللہ غفور رحیم ہے اور اگر ان کا طلاق کا عزم تھا تو سمیع علیم ہے”۔ (البقرہ226،227)
رسول اللہ ۖ نے ایلاء کیا اور ایک ماہ کے اندر رجوع کیا تو اللہ نے حکم دیا کہ عورتوں پر علیحدگی کا اختیار واضح کردیں تاکہ قیامت تک عورت کو تکلیف نہیں دے سکیں۔ نبیۖ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ سے فرمایا کہ والدین سے خواب مشورہ کرکے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا۔ حضرت عائشہ نے کہا کہ یہ میرا کام ہے والدین کی ضرورت نہیں ، میں رہتا چاہتی ہوں ۔
ناراض ہونا مرد کا حق ہے لیکن راضی ہونا عورت کا حق ہے اور اگر عورت کا حق چھین کر مرد ناراض ہوتا رہے تو خدا بھی اس تکلیف میں ذمہ دار ہوتا جس کی وجہ سے عرب و عجم عورتوں میں الحاد کا بازار گرم ہے اور مذہبی طبقہ حقائق نہیں جانتا اور کانوں کو نیچے کرکے تماشائی بنا ہوا ہے۔ قرآن کو سمجھ کر جواب دیں۔
والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثة قروئٍ ولا یحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ والیوم الاخر و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجة واللہ عزیز حکیمO
”اور طلاق والی عورتیں تین ادوار تک انتظار کریں اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحم میں پیدا کیا اگر وہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہیں۔ اور ان کے شوہر اس میں ان کو اصلاح کی شرط پر لوٹانے کا حق رکھتے ہیں اور عورتوں کیلئے بھی وہی حقوق ہیں جو مردوں کے ان پر ہیں معروف طریقے سے اور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے۔ اللہ عزیز حکیم ہے”۔ (سورہ البقرہ آیت:228)
یہ آیت طلاق ، عدت ، رجوع اور بیوی و شوہر کے درمیان برابری کے حقوق کیلئے سنگ میل ہے۔ عائلی قوانین1964ء آئین پاکستان میں یہ آیت مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ طلاق اور اس سے رجوع کا تعلق باہمی رضامندی کیساتھ عدت کے ساتھ ہے۔ عدت میں شوہر کو رجوع اور بیوی کو انکار کا پورا پورا حق ہے۔ اس نے حلالہ کو دریا مردار میں غرق کردیا ہے۔ دنیا کی اسلام کی نشاة ثایہ کیلئے پہلی عظیم ریاست پاکستان ہے جس میں قرآن وسنت کے مطابق آئیں سازی کی گئی ہے۔ حضرت عمر نے تین طلاق اور حضرت علی نے حرام کے لفظ پر عورت کے حق میں فیصلہ حلالہ کیلئے نہیں دیا بلکہ قرآن نے انکار کا حق دیا اسلئے کہ خلع میں عورت کے کم حقوق اور طلاق میں زیادہ ہیں۔
سورہ النساء آیت19میں خلع اور آیت20میں طلاق کے حقوق بالکل واضح ہیں۔ بڑے علماء نجی مجالس میں مانتے ہیں لیکن عوامی سطح پر مفتی تقی عثمانی سے خوف کھاتے ہیں کہ مدرسہ کے بورڈ وفاق المدارس پاکستان سے نکلوا دیں گے۔ مفتی محمد نعیم جامعہ بنوریہ عالمیہ کی زندگی میں ان کا بیان شائع کیا تھا۔
قرآن کا مرکزی نقطہ تمام آیات میں باہمی رضامندی اور معروف کی شرط پر رجوع ہے لیکن فقہ کی کتابوں میں قرآن کی بنیادی شرط کو فقہاء نے کرائے کے بکروں کی طرح کھالیا ۔
6: حلالہ کیخلاف چھٹی دفاعی لائن
الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسانٍ ولایحل لکم ان تأخذوا مما اٰتیتموھن شیئًا الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدوداللہ فلا جناح علیھما فیماافتدت بہ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا ومن یتعد حدود اللہ فاولٰئک ھم الظالمونO
”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑنا ہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں سے ان تین مرتبہ مرحلہ وار طلاق والی عورتوں سے کچھ بھی واپس لو ۔ (احسان کیساتھ رخصت کا مطلب اپنے حق سے زیادہ دو ، جو نہیں دیا وہ بھی دو اور جو ان کو دیا ہے وہ واپس لینا خنزیر کے گوشت کی طرح حرام ہے) مگر جب دونوں کو یہ خوف ہو کہ اگر اس میں کوئی خاص چیز نہیں دی اوراے فیصلہ کرنے والو!تمہیں بھی یہ خوف ہو کہ واقعی دونوں اس دی ہوئی چیز کو واپس کئے بغیر اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو پھر وہ چیز عورت کی طرف سے عورت کی عزت بچانے سے زیادہ اہم نہیں اسلئے فدائی حملے کی طرح قربان کی جائے تو دونوں پر حرج نہیں اور یہ سب اللہ کی واضح حدود ہیں جو بھی ان سے تجاوز کرے تو حقیقت میں وہی لوگ ظالم ہیں”۔ (سورہ البقرہ آیت229)
تین طلاق کے بعد سورہ طلاق میں بھی عورت کی صلح لازمی ہے اور یہاں بھی معروف کی شرط پر رجوع ہے اور سورہ النساء آیت35میں بھی دونوں طرف سے حکم مقرر کرنے کی بات واضح ہے۔ سورہ النساء آیت20،21میں بھی طلاق کے مالی حقوق واضح ہیں لیکن یہاں ایک ااستثناء ہے کہ بعد میں رابطے کا ذریعہ کوئی چیز بنتی ہو جس سے دونوں میں جنسی تعلق کا خدشہ ہو تو پھر وہ چیز واپس کی جائے اور یہاں یہ کنفرم ہے کہ عورت فدیہ دینے کے بعد رجوع نہیں چاہتی تو اس کے بعد یہ حکم ہے:
فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ فان طلقھا فلا جناح علیھما ان یتراجعاان ظنا ان یقیما حدوداللہ وتلک حدود اللہ یبینھا لقومٍ یعلمونO
”پس اگر اس نے طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔پس اگر اس نے طلاق دیدی تو دونوں پر رجوع کرنے میں حرج نہیں اگر وہ گمان رکھیں کہ اللہ کی حدیں قائم رکھ سکیں گے اور یہ اللہ کی حدود ہیں جو سمجھ والوں کیلئے بیان کرتا ہے”۔ (البقرہ230)
یہ طلاق حلالہ کیلئے نہیں ہے بلکہ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو اس کی مکمل آزادی کیلئے ہے تاکہ شوہر اس پر کہیں بھی شادی کرنے میں کوئی قدغن نہ لگائے۔ اس کا تعلق فدیہ کی صورت سے ہے اسلئے کہ اگلی پچھلی آیات میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے رجوع کی بالکل واضح الفاظ میں وضاحت ہے اور جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کی درسگاہ میں مولانا بدیع الزمان صاحب نے نورلانوار ملا جیون میں یہی پڑھایا تھا اور اس کو احادیث کے خلاف لانے پر میری تائید کی فرمائی تھی۔ دوسری آیت نے پہلی کی توثیق کردی جیسا کہ دوبھائی ایک مدرسہ میں رہتے ہوں۔ تقی نے مرحلہ وار تین طلاقیں حکم کی موجودگی میںدیں۔ کوئی چیز گھر بار وغیرہ واپس نہیں لی مگر موبائل کی سم کا خطرہ ہے کہ اگر وہ نہیں دی تو یہ قریب میں دوسرے بھائی کے پاس رہتی ہے اور رابطہ ہوگا اور حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اسلئے وہ سم واپس کردی۔فیصلہ ہوگیا اور وہ عورت اس کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی۔ اس نے بالکل آزادی کیساتھ دوسرے بھائی رفیع سے نکاح کیا لیکن وقت گزرنے کیساتھ ان میں ناچاقی ہوگئی ،اس نے بھی طلاق دی اور اب اس شرط پرپہلے سے رجوع کی اجازت ہوگی کہ دونوں کو یقین ہو کہ اللہ کی حدود کو قائم رکھ سکیں گے۔ اگر تقی کو گمان ہو کہ وہ نامرد طرح کا ہے اور جنسی تسکین نہ کرسکے گا اور عورت کو بھی گمان ہو کہ رفیع کی مردانہ قوت زیادہ ہے اور تقی سے دوبارہ نکاح کیا تو رفیع کے ساتھ جنسی تعلق کا خدشہ رہے گا تو پھر رجوع جائز نہیں ہوگا۔ قرآن کے واضح الفاظ میں ابہام نہیں ہے۔ احادیث میں نامردوں کے ذریعے حلالہ کا کوئی تصور ممکن نہیں تھا لیکن بنادئیے گئے۔ صحابیات اور صحابہ کرام کے بارے میں نامرد کی باتیں تو وزیرستان کے محسود کہتے ہیں کہ ” شریعت میں شرم نہیں ہے”۔ لوگوں کو آیات واضح سمجھانا مقصد ہونا چاہیے۔
7: حلالہ کیخلاف ساتویں دفاعی لائن
واذاطلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروفٍ او سرحوھن بمعروف ولا تمسکوھن ضرارًا لتعتدوا ومن یفعل ذٰلک فقد ظلم نفسہ و لا تتخذوا اٰیات اللہ ھزوًا واذکروا نعمت اللہ علیکم و ماانزل علیکم من الکتاب والحکمة یعظکم بہ واتقوااللہ واعلموا ان اللہ بکل شی ئٍ علیمOواذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف ذٰلک یوعظ بہ من کان منکم یؤمن باللہ والیوم الاٰخر ذٰلک ازکٰی لکم واطھر و اللہ یعلم وانتم لاتعلمونO(سورہ البقرہ 231،232)
”اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکے اور وہ عدت پوری کرچکیں تو معروف طریقے سے روکو یا معروف طریقے سے چھوڑ دو اور ان کو ضرر کیلئے مت روکو تاکہ حدود کو پھلانگ جاؤ۔ اور جس نے ایسا کیا تو اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا۔ تم لوگ مت بناؤ اللہ کی آیات کو مذاق کا ذریعہ ۔ اللہ کی نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر کی ہے۔اور جو اللہ نے کتاب میں احکام کی آیات کی نعمت کو نازل کیا ہے اس کو یاد کرو اور جو تمہیں حکمت دی ہے اس سے کام لو جس کے ذریعے تمہیں وعظ کیا جاتا ہے۔ اور اللہ سے ڈرو وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دی اور وہ اپنی عدت کو پہنچ گئیں تو ان کو مت روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کریں جب وہ آپس میں معروف طریقے سے راضی ہوں۔ یہ نصیحت صرف ان کیلئے ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور اس میں تمہارے لئے زیادہ تزکیہ ہے اور زیادہ پاکیزگی ہے۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے”۔
ان آیات میں عدت کی تکمیل کے بعد اور تاحیات میاں بیوی جب بھی رجوع کرنا چاہیں تو حلالہ کی لعنت کو رکاوٹ بنانا تزکیہ اور طہارت کی جگہ بہت بڑا گند ا دھندہ ہے لیکن مفتی دلا خود بھی آیات نہیں سمجھتا اور جس کو اللہ نے سمجھ دی ہے اس کی بھی نہیں مانتا اسلئے کہ ان کا ریاستی ڈھانچہ ختم ہوگا۔ جب لوگ ان کے کہنے پر بیویاں حلالہ کے نام پر چدھوا سکتے ہیں تو خود کش اور جان کی بازی دینا کونسی بڑی بات ہے؟۔ پہلی کڑی اسلام کی میاں بیوی کے درمیان حکم کے بعد جدائی کا فیصلہ زرقاء کے بیٹے مروان بن حکم نے ختم کیا ۔جاوید غامدی اور مفتی تقی عثمانی کو اسلام نہیں زرقاء کے بیٹے کی پشت سے نکالا ہوا جھوٹ چاہیے حکم نہ ماننے کی وجہ سے خوارج پیدا ہوگئے ،یہ انکا دین ہے۔
دارالعلوم دیوبند کے ابتدائی ماحول میں بھی دورہ حدیث اور شیخ الحدیث کا تصور نہیں تھا۔ ختم بخاری کا دلہا حلالہ کیلئے تیار ہوتا ہے حالانکہ بخاری میں طلاق کے حوالے سے سبھی احادیث کو بے بنیاد جگہ جوڑ دیا گیاہے لیکن رفع الیدین کی حدیث نہیں مانتے اور حلالہ کی غلط روایت جس کا کوئی جواز نہیں مانتے ہیں۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ