حافظ ؟جنس پر ستی پر والد کا قتل :
جولائی 26, 2026
کروڑ لعل عیسن لیہ کا واقعہ الیکٹرانک سوشل میڈیا پر دیکھ لو۔
واللاتی یاتین الفاحشة من نساء کم فاستشھدوا علیھن اربعة منکم فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت حتی یتوفٰھن الموت او یجعل اللہ لھن سبیلًاOواللذٰن یاتیانھا منکم فاٰذوھما فان تابا و اصلحا فاعرضوا عنھما ان اللہ کان توابًا رحیمًاOسورہ النساء
”اگرتمہاری عورت فحاشی کرے تو اپنوں میں چار سے گواہی مانگو ،وہ گواہی دیں تو انہیں گھر میں بند رکھو یہاں تک کہ مرجائیں یا اللہ کوئی راستہ نکال دے۔ اور تم میں سے دو مرد بدکاری کریں تو دونوں کو اذیت دو اور اگر وہ توبہ کریں اور اصلاح کرلیں تو انہیں طعنے مت دو۔ بیشک توبہ قبول کرنے والا رحیم ہے”۔(15،16)
مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع اور مفتی ولی حسن ٹونکی نے انتہائی جہالت کا مظاہرہ کیا۔ آیت15کو سنگساری کی دلیل بنا دیا ۔کچھ نے سورہ نور کی آیت کو متبادل لکھا جہاں کوڑوں کی سزا ہے۔ محکم آیات کی غلط تفسیر تو متشابہات ؟۔ پرائی نہیں اپنی عورتوں کو فحاشی پر گھروں میں نظر بندکرنے کا حکم ہے تاکہ ماحول کو خراب نہ کریں اور مریں یا شادی ہوجائے۔ مردوں کیلئے اذیت ہے۔ تھپڑ ، لاٹھی اور سرمہ دانی جلانے کا معاملہ ہو تو بھی ٹھیک اذیت ہے اسلئے کہ عورت کا توعلاج شوہر مگر مرد تو ٹھنڈا نہیں ہوسکتا۔ جیسے حافظ حاشر کیلئے جنسی پیاس کیلئے واحد ذریعہ بدمعاش تھا جس کو پہلے بگاڑ دیا گیا اور بعد میں ایک ہی شخص ملتا ہوگا جس کیلئے باپ کو مار ڈالا۔ حضرت علی نے زندہ نہیں جلایا بلکہ سرمادانی جلادی۔ بے ضمیر مضر ہوتے ہیں اسلئے ان کا ہرممکن اذیت سے علاج ضروری تھا۔ مفتی عزیز الرحمن و شیخ الحدیث نذیر احمد کے علاوہ بے ضمیر لوگوں کو حلالہ سے چھٹکارا ملے تو بھی عزتیں بچانے کیلئے کوئی فکر نہیں کرتے ۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ