پوسٹ تلاش کریں

سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے قرآن کی روح کو سمجھ لیا

سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے قرآن کی روح کو سمجھ لیا اخبار: نوشتہ دیوار

جاویداحمد غامدی نے کہا کہ”3طلاق کہہ دیا تو قرآن واضح نہیں۔نبی ہۖ نے اجتہاد سے رکانہ کی 3طلاق پر قسم اٹھوائی تو ایک قرار دی۔ ابوداؤد کی حدیث ضعیف مگرایسے معاملے میں ٹھیک ۔سیدنا عمر نے اجہتاد سے3قرار دیا، یہ بھی درست تھا۔جیسے ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کی تو فیصلہ خود نہیں کرسکتے ویسے ہی مفتی عذر قبول کرے یا سزا دے۔

مثلاً جاویداحمد غامدی کے والد نے3طلاق دی اور اسکے حلف پر ایک قرار دی مگر بیوی نے اعتبار نہ کیا اور چھپ کر حلالہ کیا اور جاوید غامدی کو جنم دیا ۔

جاوید غامدی کے داماد حسن الیاس نے3طلاق دی تو بیٹی کوحلالہ کی سزا دیدی۔ یہ کونسا اسلام اپنے نواسیوں اور مسلمانوں کیلئے پھیلا رہاہے دلا؟۔

ابوداؤد میں رکانہ کے والدین سے سورہ طلاق کی تفسیر دیکھتا اور سیدنا عمر و علی کا فیصلہ دیکھتا تو پھر گانڈ میںجماہوا ناصبی ڈانبر بلبلے کی طرح اُڑجاتا۔

حلالہ فحاشی کا لنڈابازارلگانے والے بنو زرقاء کو گالی وادی مہران کے اصحاب صفہ کے صحابی حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ نے تخلیق کی تھی جو جاوید غامدی کا کلچر تھا اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے پدو مارنے والی جاٹ قوم کاحدیث میں واضح تذکرہ کیاہے ۔

برصغیر پاک وہند اور ایران میں حلالہ ومتعہ کلچر نہیں تھا۔حلالہ بنوزقاء کا تحفہ ہے ۔ عبداللہ بن زبیر نے کہا کہ متعہ زنا ہے توحضرت علی نے کہا: ”تم بھی متعہ ہی کی پیدوار ہو”۔ جدید ایران کا بانی اسماعیل صفوی سنی تھا مگر اس کا پوتا اسماعیل صفوی شیعہ بن گیا کہ حلالہ کی دلاگیری سے مرضی کا متعہ اچھاہے۔

رسولۖ نے ماریہ قبطیہ اپنے اوپر حرام قرار دی توسورہ تحریم دنیا بھر کیلئے ہدایت کا سبب بن گئی

لقد فرض اللہ لکم تحلة ایمانکم

” بیشک اللہ نے تمہاری طلاق کی مغلظات کو حلال کردیا”۔

سورہ مجادلہ میں ظہار کی سخت ترین طلاق کابالکل جڑ سے خاتمہ کردیا کہ ”یہ قول منکر اور جھوٹ ہے”۔ سورہ تحریم میں نہ صرف یہ کہ لفظ حرام کو لغو اور بالکل بے معنی اور بے وقعت قرار دیا بلکہ جتنے بھی الفاظ وہ تھے جو میاں بیوی کے درمیان مذہبی رکاوٹ بننے کی کچھ بھی صلاحیت رکھتے تھے سب کا خاتمہ کردیا اور ہرقسم کی طلاق کے ایمان کو حلال قرار دینے کا اعلان کردیا۔ حجاج بن یوسف اگر جان بوجھ کر حرامی پن کا مظاہر ہ نہیں کرتا تھا تو علی کو جہنمی قرار دینے پر زور ڈال کر حضرت سعید بن جبیر کی شہادت پر بھی بہت بڑا اجر مل گیا ہوگا۔ اسلئے کہ حضرت عمر کی تین طلاق ہی کیا کم تھے کہ حرام کے لفظ پر حلالہ کی فحاشی کیلئے نیا میلہ بھی لگ جاتا۔ اور جن لوگوں نے حلالہ کروائے تھے اور انہوں نے اس کو شرعی مجبوری سمجھ لیا تھا تو ان کو بھی توبہ واصلاح کرنے پربہت بڑا اجر ملے گا۔

والذین لایدعون مع اللہ الھًا اٰخر ولایقتلون النفس التی حرم اللہ الا بالحق و یزنون ومن یفعل ذٰلک یلق اثامًاOیضاعف لہ العذاب یوم القیامة و یخلد فیہ مھانًاOالا من تاب واٰمن و عمل عملاً صالحًا فاولئک یبدل اللہ سیئاتھم حسنات وکان اللہ غفورًا رحیمًاO

”اور وہ لوگ جو اللہ کے علاوہ کسی او ر آقا کو نہیں پکارتے اور نہ قتل کرتے ہیں کوئی جان مگر حق کیساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو یہ کرے تو بڑے گناہ میں پڑگیا اور اس کیلئے قیامت کے دن ڈبل عذاب ہوگا اور اس میں ہمیشہ ذلیل رہے گا۔ مگر جس نے توبہ کی اور درست عمل کیا تو انکے گناہوں کو نیکیوں میں اللہ بدلے گااور اللہ غفور رحیم ہے”۔ فرقان:68تا70

اللہ کے بندوںکی صفات کو آگے پیچھے واضح کیا

والذین لایشھدون الزور واذا مروا با للغو مروا کرامًاOوالذین اذا ذکروا باٰیٰت ربھم لم یخروا علیھا صمًا و عمیانًاO وہ لوگ جو جھوٹ کی گواہی نہیں دیتے اور جب لغو سے گزرتے ہیں تو عزت سے گزرتے ہیں۔وہ لوگ جن کو اپنے رب کی آیتوں سے سمجھایا جائے تو ان پر اندھے بہرے نہیں گرپڑتے”۔ فرقان:72،73

یہ نہیں کہ آیت230البقرہ کا حوالہ دیا اور حلالہ کی لعنت سے لوگوں کی عزتیں خراب کرنے کیلئے وہ اندھے بہرے ہوکر نفسانی لذات کیلئے گر پڑیں۔

سورہ مجادلہ اور سورہ تحریم کی وضاحتوں کے بعد سورہ البقرہ224سے دیکھ لیں تو پتہ چلے کہ قرآن نے واضح کردیا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان صلح میں رکاوٹ تو چھوڑ دیں لوگوں کے درمیان بھی صلح میں رکاوٹ بننے کا تصور ہی اللہ نے بالکل ختم کردیا ہے۔ یہ طلاق کا مقدمہ ہے۔پھر البقرہ225میں واضح کردیاکہ لغو ایمان یعنی طلاق کے صریح و کنایہ کے لغویات پر اللہ نہیں پکڑتا ہے البتہ دل کے گناہ پر پکڑتا ہے۔ پھر آیت226میں ایلاء کی عدت4ماہ ہے۔ رسول اللہۖ نے ایلاء کیا اور29دن میں رجوع فرمایا تو اللہ نے منع کردیا کہ پہلے عورتوں پر واضح کردو کہ اب بال کی ان کی کورٹ میں ہے جس پرحضرت عمر کے کانوں سے سنسنی خیز دھواں نکلنا شروع ہوگیا کہ یہ ماجرا آخر کیا ہے؟۔ کیونکہ جب سورہ تحریم نازل ہوئی تھی تو امہات المؤمنین حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے بڑی ڈانٹ کھائی تھی۔ ماریہ قبطیہ سے حرام کا سخت ترین لفظ استعمال کیا لیکن اللہ نے واضح کردیا کہ یہ کچھ نہیں ہے ،اللہ نے اَیمان(طلاقوں) کو حلال کردیا ہے۔

اب نبی اکرم ۖ نے ایک لفظ حرام، طلاق اور کچھ بھی منہ مبارک سے ادا نہیں کیا ہے تو ساری ازواج مطہرات کو اختیار دینے کا اللہ تعالیٰ نے حکم نازل کردیا؟۔ یہ ساتوں آسمانوں کی حدود میں رہنے والی مخلوقات کا آرڈر قطعاً نہیں ہوسکتا ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ نے صدیق اکبر کی بیٹی کا ثبوت فراہم کردیا کہ مجھے کسی طرح والدین سے مشاورت نہیں کرنی ہے۔ مجھے نبیۖ کیساتھ ہی رہنا ہے۔ حضرت حفصہ فاروق اعظم کی بیٹی سے خدا نے کچھ اور کام لینا تھا۔ ورنہ بات وضاحتوں کے ساتھ پھر سامنے نہیں آسکتی تھی۔ حضرت عمرفاروق اعظم کی روح میں قرآنی آیات کی تاثیر مسیحائی کچھ اس طرح سے اتر گئی کہ رہتی دنیا کیلئے فاروق اعظم بین الحق و الباطل ایک امتیاز بن گئے۔ ایک طرف قرآن نے طلاق کے الفاظ سے رکاوٹوں کی دھجیاں بکھیر دیں تو دوسری جانب ایلاء میں بھی عورت کے اس اختیار کا ایک اعلیٰ ترین اسوۂ حسنہ کا قانون بنادیا کہ طلاق کے اظہار کے بغیر بھی عورت سے کوئی شوہر ناراض ہوجائے تو پھر بال عورت کی کورٹ میں جاتی ہے اور شوہر کو رجوع کرنے کا کوئی حق نہیں رہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو شوہر ناراضگی کا فائدہ اٹھاتے ، انتقام لیتے اور اس کو تکلیف پہنچاکر مزے کرتے؟۔

یہی وہ چیز تھی جس نے حضرت عمر کے ذریعے پہلی مرتبہ اللہ نے عورت کے حق کو زبردست تحفظ دے دیا۔

حضرت عمر کے دور میں بڑے پیمانے پر لوگوں نے اسلام کی آغوش میں پناہ لی اور قرآن کی آیات عرب پر زبان کی وجہ سے اور عجم پر سادہ سے مفہوم کی وجہ سے بالکل واضح تھیں۔ ایک شخص نے تین طلاق دی اور اس کی بیوی نے رجوع سے انکار کردیا۔ آیات میں کوئی ابہام نہیں تھا کہ عورت راضی نہیں تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے لیکن حضرت عمر فاروق اعظم کی روح کا تو معاملہ ہی بالکل جدا تھا۔ چنانچہ قرآن وسنت کے عین مطابق عورت کے حق میں فیصلہ دیا اور لوگوں نے اسلئے ٹھیک سمجھا کہ قرآن میں ابہام نہیں تھا۔

لیکن دراڑ عبداللہ بن عمر کے اختلاف نے ڈال دی کیونکہ وہ بھی فاروق اعظم ہی کا بیٹا تھا۔ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ یہ مرد کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ مجھے رسول اللہۖ نے رجوع کا حکم دیا تھا۔ حضرت عمر کے سامنے بیٹی حفصہ نے بھی اپنا قصہ رکھا تھا اور حضرت عمر کے سامنے بہو نے بھی اپنا قصہ رکھا تھا ۔ بیٹی کے قصہ سے عورت کے حق کی وضاحت تھی اور بہو نے اپنا رونا دھونا مچایا ہوا تھااسلئے کہ وہ رہنا چاہتی تھی۔حضرت عمر نے بہو کا قصہ نبی ۖ کو سنایا تو رجوع کا حکم فرمایا۔ لیکن بیٹی کا قصہ واضح کرتا تھا کہ عورت راضی نہیں ہو تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔

حضرت عمر نے طلاق میں عورت کا حق نہ سمجھنے کے پیش نظر عبداللہ بن عمر کے خلاف خلافت کی نااہلی کی ڈگری جاری کی۔

حضرت عبداللہ بن عمر نے باپ کی بات پر نبیۖ کی رہنمائی کو ترجیح دینے کا معاملہ زندگی کی آخری سانس تک برقرار رکھا تھا۔ کوئی کہتا کہ اپنے باپ کو نہیں مانتے؟ تو جواب دیتے تھے کہ میں نبیۖ کی نبوت پر ایمان لایا ہوں اپنے باپ پر نہیں !۔

حضرت حسین کی ایرانی بیوہ حضرت زین العابدین کی والدہ ماجدہ حضرت عبداللہ بن عمر کی سالی تھیں۔ زین العابدین نے حضرت عمر کے خلاف انکے بیٹے عبداللہ بن عمر کی گواہی کو سچ جانا کہ قرآن وسنت کے خلاف ایک بدعت کو رائج کردیا۔ پھر حسینی سادات کی عقیدت ومحبت نے روافض کو جنم دیا ۔ حضرت عمر پر گولہ باری کرنے کو ایمان کا تقاضہ سمجھتے ہیں اور غلطی بھی نہیں کہ ایک بدعت جاری کرنے کی بدظنی دل میں بیٹھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے حلالہ کے نام پر بے حیائی اور گھر ٹوٹ رہے ہیں۔

لیکن حسن کے بیٹے حسن مثنی جانتے تھے کہ حضرت عمر نے تو بالکل ٹھیک کیا ہے

اور حضرت علی نے حرام کے الفاظ عورت کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔ ایک طرف حضرت عمر کے دشمن بن گئے اور دوسری طرف حضرت علی کے دشمن بن گئے لیکن حق یہ ہے کہ دونوں نے بالکل ہی اعتدال سے ہٹ کر کردار ادکیا۔ امام حسن مثنی کی کسی نے سنی نہیں۔ عبداللہ محض کو قید میں شہید کیا۔

وماارسلنا من قبلک من رسولٍ ولانبیٍ الا اذا تمنا القی الشیطٰن فی امنیتہ…

”اور ہم نے کسی رسول اور نبی کو آپ سے پہلے نہیں بھیجا مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس کی تمنا میں القا کردیا۔(سورہ حج:آیت52)

جب عبداللہ بن عمر نے بیوی کو طلاق دی اور نبیۖ اس پر غضبناک ہوگئے کہ قرآن کی وضاحتوں کے باوجود کیوں اس طرح کی حرکت کردی اور رجوع کا حکم فرمایا تو شیطان نے اس میں القا کردیا کہ غضبناک ہونے کا مطلب ہے کہ رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں ہوسکتاہے؟۔ حالانکہ معروف رجوع اور باہمی رضا مندی کی بنیاد پر رجوع بالکل واضح کیا ہے قرآن نے ۔

لیجعل ما یلقی الشیطٰن فتنة للذین فی…

”تاکہ شیطانی القا کو ہم آزمائش بنادیں جنکے دلوں میں مرض ہے اور جن کے دل بہت سخت ہیں”۔ (سورہ الحج آیت53)

جب مسجد کے امام کا پتہ چل جاتا ہے کہ بچیوں کیساتھ فحاشی کا مرتکب ہے توپھر برداشت نہیں کیا جاتا۔ جب عوام الناس کو پتہ چل جائے کہ حلالہ کے نام پر ان کی عزتیں مفت میں لوٹی جا رہی تھیں تو ایسے مذہبی پیشواؤں کے خلاف انقلاب آتا ہے۔

ولیعلم الذین اوتواالعلم انہ الحق من ربک فیؤمنوا بہ فتخبت لہ قلوبھم وان اللہ لھاد الذین اٰمنوا الی صراط مستقیمO(سورہ الحج:آیت54)

”اور تاکہ وہ لوگ جان لیں جن کو علم دیا گیا کہ حق تیرے رب کی طرف سے ہے۔ سو وہ اس پر ایمان لائیں۔ اور انکے دل اس حق کیلئے جھک جائیں۔بیشک اللہ ایمان والے لوگوں کو صراط مستقیم کی ہدایت فرمانے والا ہے”۔

جس دن شیعہ سنی فرقہ واریت سے ہٹ کر قرآن، ایمان، علم و حق کی طرف رجوع کرینگے تو دنیا میں بھی اسلامی انقلاب آجائے گا اور افغانستان ، ایران، پاکستان اور عرب کے علاوہ عالم انسانیت پر قرآن کے انسانی اخلاقیات کا بہت عظیم اثر ہوگا اور مجھے لگتا ہے کہ وقت بدلنے میں زیادہ دیر نہیں۔ انشاء اللہ
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

جانشین راجہ رنجیت سنگھ مہاراجا دلیپ سنگھ اور مولانا سندھی کے امام راجہ مہندرا پرتاب سنگھ
قرآن کی یہود ونصاریٰ کیلئے ہدایت
سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے قرآن کی روح کو سمجھ لیا