3باتین یاد رکھو!
ستمبر 5, 2026
1:بنوامیہ کاکردارایک سا نہیں
الف:سیدنا عثمان غنی خلیفہ راشد سوم ذوالنورین۔
ب:ابوسفیان ، امیر معاویہ ، یزیداور معایہ بن یزید۔ ج: مروان بن حکم ،عبدالملک بن مروان اینڈ کمپنی!
بدتمیز ضحاک نے کہا:حج و عمرہ کا احرام باندھنے والا جاہل ہے۔سعد بن ابی وقاص نے کہا : ”یہ نہ کہو نبیۖ کو میں نے باندھتے دیکھا ہے”۔
عمران بن حصین نے52ھ میں بصرہ کے اندر انتقال فرمایا، صحیح مسلم کی احادیث دیکھ لیں۔ بعض نبیۖ کی حرمت ، صحابہ کی عظمت ، احادیث کی کا احساس نہیں رکھتے ۔ حلالہ کی لعنت سے پھڑکتی رگوں کی پیدوارہیں لیکن ہم انشاء اللہ ان کی دکانیں بند کریں گے ۔ صحابہ کرام ہادی فاتح عالم تھے ۔
بنو زرقاء بنومروان نے حجاج جیسوں کو مسلط کیا، جبراً حلالہ عمر کے سر پر ڈالا اور علی کے جہنمی کہنے کی سعید بن جبیر جیسے پر کوشش کی اور شہید کردیا۔ مگر حضرت عمربن عبدالعزیز نے عمدہ کردار ادا کیا تھا۔
2:ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے
امام ابوحنیفہ نے حلالہ کی لعنت کو ختم کرنے کیلئے اصول وضع کیا تھا کہ خبر واحد کی حدیث کو قرآن کے واضح حکم کے خلاف رد کرو مگر ملا جیون جیسے علماء نے میرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پر برس گئیں نزلہ ولی کی بغیر اجازت والی احادیث پر گرا دیا ہے۔
ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے
مجنون نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے
3:حرمت مصاہرت کے مسائل
من نساء کم الٰتی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم
”اورتمہا ری بیویوں سے جن میں تم نے ڈالا ہے اور اگر نہیں ڈالا ہے تو تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں ”۔
حرمت مصاہرت کیلئے منکوحہ میں دخول کی شرط سے غلیظ ترین مسائل کوچھڑا ؤ۔ بچہ پیدا ہونے پر بھی میاں بیوی کو ایک دوسرے کیلئے اصولی طور پر حرام اور ضرورتاً جائز قرار دیا ۔ساس کی شرمگاہ کے بیرونی حصے کو عذر اور اندورونی پر نظر پڑگئی توبیوی پھر حرام ہوگئی۔بیٹی ، بہو، ماں ، بہن اور بھانجی بھتیجی کسی محرم کو ہاتھ لگا اور شہوت آگئی تو پھر اگر خارج کردیا تو حرمت مصاہرت نہیں ہوگی اور نہیں کیا تو ہوگی؟۔
بدل کے بھیس پھر آتے ہیں ہر زمانے میں
اگرچہ پیر ہے آدم جواں ہیں لات و منات
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
ــــــــــ
قتل کا ذمہ دارکون؟ الٹی گنگا بہانے سےمسائل حل ہونگے؟
کراچی دعا زہرا کیس پہلے بڑا مشہورہواتھا اور پاکستان کی سطح پر ہلچل تھی۔ سندھی فاطمہ زہرا قتل اور اکبر علی انصاری کورٹ میرج واقعہ گلشن حدید کراچی میں پیش آیا۔ قتل قبائلی معاملہ ہے تو قرآن کی تفسیر ، حدیث کی تشریح کا بھی عمل دخل ہے اوراگرعوام کو معقول طریقے سے آگاہی مل جائے تو مسائل کا زبردست حل نکلے گا۔
وانکحوا الایامٰی منکم والصالحین من عبادکم وامائکم ان یکونوا فقراء یغنہم اللہ من فضلہ واللہ واسع علیمO
”اور جو تم میں طلاق شدہ وبیوہ ہوں ان کے نکاح کراؤ اور اپنے درست غلاموں کے اور اپنی لونڈیوں کے اگر وہ غریب ہیں تو اللہ ان کو اپنے فضل سے امیر کردے گا اور بہت وسعت والا علم والا ہے”۔ (سورہ نور:آیت32)
عربی میں ایامٰی بیوہ وطلاق شدہ کو کہتے ہیںاور حدیث میںآیا ہے کہ بیوہ وطلاق شدہ سے اجازت کا باقاعدہ اظہار کرنے کے بعد اس کا نکاح کراؤ۔ کنواری کی خاموشی لیکن رضامندی ضروری ہے ۔
من نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحھا باطل باطل باطل
”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے”۔(حدیث :اصول فقہ)
جمہور کے ہاں عورت کنواری ہو یا طلاق شدہ و بیوہ نکاح ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا ہے۔ حنفی مسلک میں عورت آزاد ہے اور قرآن نے اس کواپنے نکاح میں خود مختار بنایا ہے۔
آیت حتی تنکح زوجًا غیرہ ” یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرے”۔ (البقرہ:230) میں عورت کو نکاح میں خود مختار قرار دیا گیا ہے۔ مسلک حنفی میں جو حدیث خبرواحد قرآن سے ٹکرائے تو وہ ناقابل عمل ہے۔
قرآن و حدیث کی تطبیق ہے۔ آیت سے مراد طلاق شدہ ہے ۔ جبکہ حدیث سے کنواری ہے۔
ولاتکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنًا لتبتغوا عرض الحیاة الدنیا و من یکرھھن فان اللہ بعد اکراھھن غفور رحیمO
”اور اپنی لڑکیوں کو بغاوت پر مجبور مت کرواگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں۔تاکہ تم اس کے ذریعے اپنی دنیاوی زندگی کی وجاہت چاہو۔ اور جو لڑکی مجبور کی گئی تو اللہ اس کی مجبوری کے بعد غفور رحیم ہے”۔ (النور:33)
اس آیت سے لونڈی مراد لی گئی کہ جبراً بدکاری پر مجبور مت کروجب وہ پاک دامن رہنا چاہتی ہو۔
حالانکہ کنواری لڑکیوں کے حوالے سے رہنمائی ہے جومستقبل اور سب کچھ بالکل داؤ پر لگاتی ہیں۔
مولانا احمد رضا خان بریلوی، مولانا رشیداحمد گنگوہی ، شیخ الہند مولانا محمود الحسن ، مفتی عزیزالرحمن عثمانی ، مولانا برساتی کا غلط فتویٰ اور اس پر گرفت۔
فتاویٰ رشیدیہ: اختلافی مسئلہ
غیر کفو میں نکاح ہو تو فسخ کا مسئلہ
سوال:زید ایک شخص اجنبی کے مکان پر رہتا تھا عمرو نے وارثانِ ہندہ کو بہکا کر اور دھوکہ دیکر زید کو نسب سید بتلایا اور نکاح کرا دیا بعد چند مدت کے معلوم ہوا کہ زید سید نہیں ہے نورباف ہے اب وارثانِ ہندہ کو شرم و حیا معلوم ہوتی ہے کہ بہت اہانت ہے کیونکہ سید اور نورباف کا نکاح نہایت عار کی بات ہے لہٰذا شرع کے مطابق وارثانِ ہندہ کو فسخ کرنا فی زمانہ جائز ہے یا نہیں دیگر زید بعدِ ظاہر ہونے کفو کے وہاں سے چلا گیا وقتِ رخصت زوجہ سے کہا کہ میں اس گھر میں ونیز قریہ میں تا حیات نہیں آؤں گا اور قسم بھی کھائی اور بعد کو ایک خط بھی اسی مضمون سے لکھا اب اس کا کیا حکم ہے۔
جواب: صورِ مذکورہ میں ہندہ کو اور اولیاء ہندہ کو اختیارِ فسخ ہے۔ کما فی العالمکیریة ولو انتسب الزوج لہا…
(٢)زید کا قسم کھانا مستلزمِ ایلاء نہیں ہے ۔ کمافی االدر…
(٣) اس زمانہ میں اگرچہ قاضی نہیں ہے جبھی شہر کے مفتی سے حکم لیکر فسخ کر سکتا ہے کیونکہ قائم مقامِ قاضی کا مفتی ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم کتبہ محمد عبد الرحمن برسانی تعقبہ بعضہم وہو مندرج فی الذیل
(٤)ایضا صورتِ مستفسرہ میں وہ سرے سے خود ہی نہ ہوا سائل مظہر کہ ہندہ بالغہ ہے اور روایت مفتی بہا پر ولی والی عورت کیلئے کفائت شرطِ نکاح ہے یا ولیِ اقرب پیش از عقد عدمِ کفائت پر اپنی رضا ظاہر کر دے بعدِ عقد راضی ہونا بھی نفع نہیں دیتا والمختار…
(١)یہاں جب کہ وہ کفو نہیں اور ولی کو دھوکا دیا گیا دونوں امر سے کچھ متحقق نہیں ہوا تو نکاح باطل محض رہا بعدِ ظہورِ حال زید کے قسم و تحریر سب مہمل ہے جس پر ہندہ کیلئے کوئی مرتب نہیں ہو سکتا واللہ تعالی اعلم۔ کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ محمدن المصطفے النبی الامی ۖ
فتنازعوا بینہم فرجعوا الی علمائنا خصوصا الی شیخنا الاجل امام الفقہا فی عصرہ المولانا رشید احمد سلمہ اللہ تعالیٰ فاجاب باحسن التفصیل وہو ہذا
(٢)صورتِ مندرجہ ذیل مسئلہ ہذا میں اولیا کو حقِ فسخِ نکاح ہے اور وہ کسی حاکم یا قاضی مسلمان سے رجوع کریں کہ وہ فسخ کرے مفتی کو حنفیہ کے نزدیک بغیر تحکیمِ طرفین اختیارِ فسخ نہیں ہے واللہ تعالی اعلم کتبہ الاحقر بندہ رشید احمد گنگوہی عفی عنہ الجواب صحیح۔الٰہی عاقبت محمود گرداء محمود عفی عنہ ۔ الجواب صحیح ۔محمد منفعت علی۔بندہ مدرسِ اول مدرسہ عالیہ عربیہ دیوبند و توکل علی العزیز الرحمن ،جوابِ مجیبِ اول صحیح ہے اولیا ء کو اختیارِ فسخِ نکاح ہے۔ فقط۔ واللہ تعالی اعلم۔ عزیز الرحمن عفی عنہ دیوبند
فتویٰ غلط اور جواب یہ کہ
البقرہ آیت226:ایلاء میں4ماہ کی عدت۔ نبیۖ کے29دن میں ایلاء سے رجوع پر اللہ نے ازواج پر علیحدگی کا اختیار واضح کرنے کافرمایا ۔ (صحیح بخاری) نکاح نہ ہو تو بدکاری ؟۔ نکاح ہوا ۔ ہاتھ لگایا تو پورا حق مہر قرآن واضح کرتا ہے۔ عورت بیچنے والا پٹھان اور عرب قرآن نہیں سمجھتااور نہ جہیز وصول کرنے والا ہندو نسل ،عوام کو ذہنی مریض بنادیا ہے ۔ مہربانی کرکے فیکٹریوں پراپنا رزق کمائیں۔
قرآن وسنت کیخلاف متضاد اور غلط فتوؤںنے مسلمان قوم کا ستیاناس کردیاہے ۔
نمبر1:سورہ النساء آیت19میں خلع کا حق عورت کو ملا اور مالی حقوق کا تحفظ بھی اورسورہ النساء آیت20میں مرد کو طلاق کا حق اور اس میں عورت کے خلع کے مقابلے میں زیادہ حقوق ۔
قرآن چھوڑ کر عورت سے خلع کا حق چھینا۔ حدیث صحیح میں اسکی عدت ایک ماہ ہے تو انگریز دور میں ایک عورت عیسائی بن گئی کہ شوہر گم ہے اور80سال تک انتظار نہیں ہوسکتا تو پھر علماء مفتیان نے فقہ حنفی سے فقہی مالکی میں چھلانگ لگائی اور انتظار کی مدت4سال کردی۔ یہ کاکروچ80سے4سال کی کھائی میں ڈوب مرنے کے بجائے زندہ ہیں ،کمال کا پڑتال ہے؟۔
دیوبندی بریلوی دلے بغیر ولی کی اجازت احادیث صحیحہ کو قرآن سے متصام قرار دیکر نہیں مانتے ہیں تو کفوء کا مسئلہ ان کی پچھاڑیوں کی پھڑک کا نتیجہ ہے؟یاپھر کہاں سے برآمد ہوا؟۔ یہ طالب صابر شاہ ، حافظ حاشراور شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن کی طرح ضمیرنہیں رکھتے یا آخر بے ایمان سمجھتے کچھ نہیں ہیں ؟۔
ہندوستان میں ایک عورت عیسائی بن گئی تو مولانا اشرف علی تھانوی نے اس کو گالیاں دیکر حیلہ ناجزہ شرمناک کتاب لکھ ڈالی اور موجودہ دور میں بہت بڑے پیمانے پر جوان طبقے کا بھی ارتداد جاری ہے اور یہ خود کو بدلنے کے بجائے قرآن کو بدلنے میں لگے ہوئے ہیں جن کی بہت کھل کر ترید کی ضرورت ہے۔
پھر لکھ دیا کہ شوہر نے تین طلاق دی اور پھر مکر گیا تو عورت خلع لے اور نہیں ملے تو حرام کاری پر مجبور ہے لیکن لذت نہیں لے ورنہ گناہ گار ہوگی؟۔ یہ اپنی ماؤں نے دلوں کو بتایا ہوگا کہ تین طلاق ہوگئی ہے لیکن باپ کی لذتیں نہیں اٹھارہی ہیں؟۔ حدیث میں آتا ہے کہ اپنی ماں کو گالی مت دو۔ عرض ہوا کہ اپنی ماں کو کون گالی دے گا یارسول اللہ (ۖ) فرمایا : دوسروں کی ماں کو گالی دوگے تو تمہاری ماں کو گالیاں پڑیںگی۔ علماء فتویٰ اور کتابوں میں حرام کاری اور اولادلزنا کے شرعی فتوے لگارہے ہیں؟۔ رسول اللہۖ نے حضرت علی کی بہن ام ہانی کے اپنے مشرک شوہر کیساتھ رہنے پر حرام کاری اور اولاد الزنا کا فتویٰ نہیں لگایا ۔ کن چوڑوں چماروں نے دین پر قبضہ جما دیا؟۔
اگر طاقتور کمزور سے بیوی چھین لے تو امام ابوحنیفہ کا فتویٰ ہے کہ حلال ہے لیکن جب عورت سے خلع کا حق چھین لیا جائے تو اس کا بھاگ جانا کیوں حرام ہے؟۔ جب ولی خاندانی تفوق کی وجہ سے لڑکی کو اپنی مرضی سے بغاوت پر مجبور کرتا ہے اور اس کو اپنی جائز خواہش کو پورا کرنے کیلئے نکاح کی اجازت نہیں دیتا تو اس پر حرامکاری کے فتوے کیوں؟۔ حال ہی میں کھوکھر برادری کی19سالہ مہوش نے شادی میں رکاوٹ پر55سالہ عاشق خالد چوہاں کیساتھ مل کر ٹارگٹ کلر سے اپنے والد کو قتل کروادیا ہے۔ مذہبی طبقات قرآن کو سمجھتے نہیں تو تبلیغ کیسے پھر مؤثر ہوگی؟۔ قرآن کا درس کوئی صوفیانہ ریاضت نہیں بلکہ دنیا کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن ایک سکھ سندھی مسلمان ہوتا ہے تو اس کو بھی انقلابی بننے پر فتوؤں کا نشانہ بنادیتے ہیں۔
ہمارے ہاں مزارع جٹ خاندان کے عبداللہ جان کیساتھ ایک مولوی کی بچے دار بیوی کمترہ (کبوتری)بھاگ کر آئی تھی، مولوی شاید اس سے قتل کی دھمکی پر پیسہ وصول کرنا چاہتا ہوگا۔
علی شاطئی الوادی نظرت حمامة
اطالت علیّ حسرتی و تندمی
”میں نے وادی کے کنارے پر ایک کبوتری دیکھی جس نے مجھ پر میری حسرت اور ندامت کی زندگی طویل کردی ”۔
یہ عربی اشعار یزید بن معاویہ کے مشہور قصیدہ کے ہیں جس نے عراق کے گورنر عبداللہ بن سلام کی بیوی ارینب بنت اسحاق کو دیکھا اور اس کے شوہر سے طلاق دلوائی لیکن اس نے امام حسین سے شادی کی اور امام حسین نے پھر دونوں کی آپس میں محبت دیکھ کر طلاق دی اور عبداللہ بن سلام نے پھر شادی کی اور یزید کی حسرت اس کے دل میں رہ گئی اوریہ قصیدہ مشہورہے۔
اصابک عشق ام رمیت باسھم
فما ھذہ الاسجیة مغرم
خذوا بدمی منھافانی قتیلھا
ولا مقصدی لا تجود و تنعمی
ولا تقتلوھا ان ظفرتم بقتلھا
ولکن سلوھا کیف حل لھا دمی
وقولولھا یامنیة النفس اننی
قتیل الھوٰی والعشق ولو کنت تعلمی
ولا تحسبوا انی قتلت بصارم
ولکن رمتنی من رباھا باسھم
لھا حکم لقمان و صورة یوسفٍ
ونغمة داؤد ٍ و عفت مریم
ولی حزن یعقوبٍ و وحشة یونسٍ
و الاٰم أیوبٍ و حسرة آدم
”تجھے عشق کی تکلیف پہنچی یا تیر کا شکار ہوگیا؟یہ اسکے علاوہ کچھ نہیں کہ محبت کے دلدادہ کو پہنچتا ہے۔ اس کو پکڑو میرے خون سے میں اس کا مقتول ہوں۔ میرا مقصد نہ ہی کوئی جواب ہے اور نعمتیں حاصل کرنا اور نہ آسائش پانا ہے بلکہ محبوبہ کی ذات حاصل کرنا مقصدہے۔ اور اس کو قتل مت کرو اگر تم اسکے قتل کی کوشش میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن یہ اس سے پوچھ لو کہ میرا خون کیسے اس کیلئے حلال ہوگیا؟۔ اور تم سب اسے کہو کہ اے میری جان تمنا، میں تو محبت وعشق کا مارا ہوا ہوں اگر توسمجھے تو۔ اور یہ مت سمجھو کہ اس نے مجھے تلوار سے قتل کیا ہے بلکہ اپنی بلندی سے نظروں کے تیر چلاکر مجھے قتل کیا ہے۔ اس کے پاس لقمان کی حکمت، یوسف کی صورت ہے اور داؤد کا نغمہ ہے اور مریم کی پاکدامنی ہے۔ اور میرے لئے یعقوب کا غم ہے اور یونس کی( مچھلی کے پیٹ میں) وحشت ہے۔ایوب کے درد ہیں اور آدم کی حسرت ہے”۔
یزید بن معاویہ نے اقتدار کیلئے امام حسین کی شہادت میں کامیابی حاصل کرلی مگر اپنے ماتحت گورنر کی بیوی سے طلاق لینے کے باوجود بھی اسکے ساتھ اپنی شادی کرنے کی حسرت پوری کرنے کی تمنا دل میں رہ گئی ۔
یزید کیلئے عبداللہ بن سلام کی بیوی سے طلاق اور امام حسین سے اس کا نکاح اور اس کو طلاق ایک اتفاق تھامگر شیطان نے اس کے پیچھے ایک بہت بڑا جال بچھادیا اور کسی نہ کسی صورت کو آیت سے حلالہ قرار دینے کا جواز فراہم کیا ۔ حالانکہ اللہ نے تو حلالہ کی کسی صورت کا بالکل بھی کوئی جواز نہیں رکھا تھا اور نہ اس کی کوئی ضرورت تھی۔ عربی لڑکی کی عجم سے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا معاملہ تاریخ کے ایک جبر نے پیدا کیاتو پھر؟
یہ اتفاق تھا لیکن اس کو حلالہ پر محمول کرنے کی غلطی فرقہ زیدیہ کے امام زیدبن باقر بن زین العابدین بن امام حسین نے پہلی مرتبہ کی تھی۔ ظالم عرب کو عجم اپنے کفوء نہیں لگے تو چمچہ گیروں نے فتویٰ دیا کہ عرب کی لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر شادی کرے تو یہ جائز نہیں ہے۔ امام زید نے اس پر سوالات اٹھائے کہ لڑکی سے نکاح کیا اور ہاتھ نہیں لگایا تو قرآن آدھے حق مہر کو فرض قرار دیتا ہے اور ہاتھ لگایا ہے تو پورا حق مہر فرض ؟ اوراگر اس نے تین طلاقیں دیں تو پھر حلالہ کے بغیر جائز ہوگایا نہیںہوگی؟۔ کتاب المجموع : امام زید ،زیدیہ کے امام ۔
زید کا استنباط تھاکہ تیسری طلاق کا تعلق حلالہ کی لعنت ہے۔ حالانکہ عدی بن حاتم نے پوچھاتھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟ تو رسول اللہۖ نے فرمایاکہ ”البقرہ229میں دومرتبہ طلاق کے بعد او تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے”۔ جبکہ اسی تیسری طلاق کے بعدہی تحکیم کا ہے۔
جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو توقرآن نے حلال نہ ہونے کا حکم لگاکر طاقتور کا ہاتھ روکا ہے مگر الو کے پٹھے ہیں۔
ہند میں حکمت دیں کوئی کہاں سے سیکھے
نہ کہیں لذت کردار نہ افکار عمیق
حلقۂ شوق میں وہ جرأت اندیشہ کہاں
آہ محکمومی و تقلید و زوالِ تحقیق
خودبدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مؤمن کو غلامی کے طریق
حدیث میں بھی توازن ہے کہ لڑکی اور اس کے ولی کو نکاح میں باہمی رضامندی ہے اور جبر کا خاتمہ ہے اور لڑکی جب کشتی جلادیتی ہے تو اپنے خاندان کی سپورٹ سے محروم ہوجاتی ہے اسلئے ولی کو راضی کرنے کی ترغیب ہے اور دوسری طرف جمہور نے بیوہ وطلاق شدہ کو بھی حدیث کی بنیاد پر ولی کی اجازت کا پابند قرار دیا ہے ۔قرآن و حدیث کی افہام وتفہیم کی جگہ مسالک کی جنگ میں عربی اور حقائق سے ناوقف ذہن بھٹکتا ہے۔
فاذا بلغن اجلھن فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن بالمعروف واللہ بما تعملون خبیرO
” پس جب وہ (بیوہ عورتیں) اپنی عدت کو پہنچ جائیںتو تم پر کوئی حرج نہیں جو بھی وہ اپنی جانوں کے بارے میں فیصلہ کریںمعروف طریقے سے۔ جو تم کرتے ہو اللہ کو خبر ہے”۔
البقرہ:آیت237میں بیوہ کو اجازت دی گئی لیکن فقہاء نے مسالک کے چکر میں قرآن دیکھنے کی زحمت نہیں کی بلکہ
الذین جعلوا القراٰن عضینOفوربک لنسألنھم اجمعینO
”وہ لوگ جنہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی کردیا تیرے رب کی قسم کہ ان سب سے ہم ضرور پوچھیں گے”۔ (سورہ الحجر:91،92)
قرآن کی طرف توجہ اور امام ابوحنیفہ کے مسلک کا تقاضہ پورا کریں تو بیڑہ پار ہوگا۔انشاء اللہ العزیز
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ