پوسٹ تلاش کریں

جانشین راجہ رنجیت سنگھ مہاراجا دلیپ سنگھ اور مولانا سندھی کے امام راجہ مہندرا پرتاب سنگھ

جانشین راجہ رنجیت سنگھ مہاراجا دلیپ سنگھ اور مولانا سندھی کے امام راجہ مہندرا پرتاب سنگھ اخبار: نوشتہ دیوار

رنجیت سنگھ کی مسلم بیوی کا محل سرکاری ورثہ بنا مگر جانشین دلیب سنگھ کو وطن نہیں آنے دیاتھا۔ راجہ مہندر پرناب سنگھ(1886تا1972) جنگ1914 میں آزادی کیلئے سوئیزرلینڈ، جرمنی ،ترکی1915کابل پہنچا، مولانا عبیداللہ سندھی کو آزاد کیا، عبوری حکومت کا تاحیات صدر،مولانا سندھی وزیر داخلہ۔1918میں ترکی وجرمنی شکست کھاگئے ۔1919میں افغان بادشاہ امیر حبیب اللہ قتل ہوا۔ امیر امان اللہ خان کی انگریز کیخلاف جنگ ،راولپنڈی معاہدہ اورافغانستان کی آزاد حیثیت تسلیم مگرپھر انگریزنے سازش سے1929میں امان اللہ خان کو بھگایا۔ سکندر مرزا نے1930میں میرے نانا سید سلطان اکبر سے جٹہ قلعہ افغان پیر کیلئے کرائے پر مانگا توکہا: ” افغان بھائی کاخون گرانے کیلئے نہیں دیتا”۔ پھر انگریز دوسروں کو زمینیں دیں تو نانا نے کہا کہ مجھے بھی توپنجاب دائرہ دین پناہ کوٹ ادو میں زمین دیدی۔ میرجعفر کا پڑپوتاسکندر مرزا پہلا صدر پاکستان بنا جو جنرل ایواب نے ہٹادیا۔ جنرل یحییٰ نے پہلی مرتبہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر1970کا الیکشن کرایاتو جمعیت علماء اسلام پر مفتی شفیع نے کفر کا فتویٰ لگایا۔ ”خطرے میں اسلام نہیں” سے جالب مشہوراہوا۔1977میں ڈالری نظام مصطفی تحریک چلائی گئی۔1877میں میرے دادا سیدامیر شاہ کے ہمراہ محسود اور انکے بھائی سیداحمد شاہ کے ہمراہ بیٹنی وفد امیر شیرعلی سے ملنے کابل گیا۔1878میں انگریز نے افغانستان پر حملہ کیا، شیر علی کا بیٹا یعقوب بیٹھادیا۔ پھر1880میں اسکے چچا زاد امیر عبدالرحمن کو کابل تخت پر بٹھا یا۔ امیر حبیب اللہ انقلابیوں کا سپورٹر مگر خود انگریز کا پالتو ۔1920میں فتویٰ پر مولانا احمد علی لاہوری ،باچا خان50ہزارافراد افغانستان گئے۔
ــــــــــ

حکیم عبد الرحمن جعفر، فیس بک
مولانا عبید اللہ سندھی کی ریسرچ علماء مان لیتے، تو ہندوستان نہیں اسکے اثرات دنیا میں ہوتے۔ آج کل یونیورسٹیاں اپنے بڑے سینئر پروفیسر کو بھیجتی ہیں، این جی اوز اور گورنمنٹ پیسے دیتے ہیں کہ فلاں مسئلہ ہے، کوئی تھیسس لکھو۔تو شیخ الہند مولانا محمود الحسن اسیرِ مالٹا، انکے یہ شاگرد مولانا سندھی، مولانا تھانوی کو تصوف سونپا۔ مولانا الیاسنے تبلیغی جماعت بنائی۔ مولانا حسین احمد مدنی کے ذمے سیاست لگائی۔ مدرسہ بھی ذمے لگایا، مفتی کفایت اللہ بانی جمعیت علما ہند تھے، جبکہ مولانا عبید اللہ سندھی کو انہوں نے باہر سروے کیلئے تحریکِ ریشمی رومال شروع کرائی تھی کہ جا ؤ افغانستان، روس، جرمنی۔ اس وقت مولانا سندھی کی بات پہ عمل ہو جاتا تو آج دنیا کا اور مسلمانوں کا نقشہ بھی اور ہوتا۔ آج پاکستان میں مولانا سندھی کی سیاست کی تعریف صرف حضرت مولانا مسعود گدی نشین دین پور کرتے ہیں ۔باقی علما ء کو تو پتہ نہیں کہ شاہ ولی اللہ کی تحریک کیا تھی، مولانا عبید اللہ سندھی کیا تھا، وہ اکابر کیا تھے، وہ بیچارے آج بس صرف جو ریڈیو ٹی وی یا جس کا انبوہ بڑا دیکھتے ہیں، جس کا جلسہ بڑا دیکھتے ہیں وہ اس طرف جاتے ہیں، اپنے اکابر کی تاریخ اور قربانیوں کا ان کو پتہ ہی نہیں۔
ــــــــــ

تاریخ کومسخ مت کرو
مولانا سندھی کی قبرپر انقلاب کی دعا1987میں مانگی۔ان کی عظمت انکی تعلیم لیکن جھوٹی کہانیاں مت گھڑو۔شاہ ولی اللہ سے دیوبند تک مقصد اسلام کی نشاة ثانیہ مگر حلالہ کے علاوہ کچھ نہیں ہوسکاہے۔
بھارتی وزیراعظم مرار جی دیسائی کو ڈاکٹر قدیر کی طرح” نشان پاکستان ”بڑی مثالی انسانیت ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

جانشین راجہ رنجیت سنگھ مہاراجا دلیپ سنگھ اور مولانا سندھی کے امام راجہ مہندرا پرتاب سنگھ
قرآن کی یہود ونصاریٰ کیلئے ہدایت
سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے قرآن کی روح کو سمجھ لیا