پوسٹ تلاش کریں

سورةالاعراف میں اسلامی انقلاب

سورةالاعراف میں اسلامی انقلاب اخبار: نوشتہ دیوار

مفتی تقی عثمانی سے سوال:قریبًا4-1|2سال قبل میں (محمود شوکت) ایک بیٹی عمر6ماہ کے ہمراہ سسرال میں تھا۔ گھر پنجاب میں ہے۔ کراچی میں اکثر مجھے گیس ٹریبل کی تکلیف ہوتی۔ معمولی بات پر چھوٹی سالی سے تکرار اور شدید غصے کے عالم میں اپنے مرض کی تکلیف میں مبتلا ہوتے ہوئے نادانی میں تحریراً طلاق لکھ دی۔ یہ صرف سسر پر دباؤ ڈالنے کیلئے تھا۔ اسلئے طلاق کی تعداد کا کامل یقین نہیں کہ کتنی دفعہ دی۔ پھربیوی سے معافی مانگی اور اس نے معاف کردیا۔ بیوی اور بچی کو لیکر بھائی کے گھر گیا اور لیٹر (طلاق نامہ ) پھاڑ دیا۔واقعہ کے چوتھے روز میں خود مفتی شفیع صاحب مرحوم کی قیام گاہ پہنچا ، انہوں نے تعداد کے یقین کے بارے میں پوچھا ۔ میں خود بھی تعداد کے بارے میں یقین نہیں رکھتاتھا اور اسی دن اپنی بیوی اور بچی کو لیکر پنجاب چلا گیا۔

آج واقعے کو گزرے ساڑھے چار سال گرز چکے ہیں لیکن میرے سسر مطمئن نہیں ہورہے ہیں…
جواب: محمود شوکت و فرحت دونوں کو پوری احتیاط سے یاد کرنا چاہیے کہ کتنی طلاقیں تھیں؟…

مذکورہ صورت میں اگرچہ محمود اشرف کو اپنی بیوی کو رکھنے کا اختیار ہے مگر چونکہ حلال و حرام کا معاملہ نازک ہے ۔ بعض فقہاء ایسی صورت میں بھی تین طلاقوں کے وقوع کا فتویٰ دیتے ہیںلہٰذا احتیاط اسی میں ہے کہ وہ بہر صورت بیوی سے علیحدگی اختیار کرلے،اسکی عدت گزار کر بیوی کسی اور جگہ نکاح کرلے۔پھر دوسرا شوہر خود طلاق دیدے تو عدت کے بعد محمود اشرف بھی نکاح کرسکے گا۔

1: فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی…

2:عن علی:سمع النبیۖرجلا طلق البتة فغضب وقال:تتخذون اٰیات اللہ ھزوًااو دین اللہ ھزوًا اولعبًا؟ من طلق البتة الزمناہ ثلاثًا لا تحل لہ حتی تنکح زوجًا غیرہ .وفی حدیث ابن عمرقال :قلت: یارسول اللہ ارأیت لو طلقتھا ثلاثًا :قال: اذا عصیت و بانت منک امرأتک (المغنی لابن قدامة )وقد اخرجہ البیھقی قصة طلاق حسن بن علی امرأتہ ثلثًا وفیہ حدیث مرفوع الی النبیۖ

3:قال ابن نجیم: شک انہ طلق واحدة او اکثر بنی علی الاقل کما ذکرہ اسیجابی الا ان یستیقن بالأکثراو یکون اکثر ظنہ علی خلافہ وان قال الزوج عزمت علی انہ ثلاث یترکہا(الاشباہ ولنظائرمجتابی،….)
4:و عن الامام الثانی اذا کان لایدری أثلاث ام اقل یحری وان استویا عمل بأشدذلک علیہ اشباہ عن البزاریة قال ط وعلی قول الثانی اقتصر قاضی خان ولعلہ لانہ یعمل بالاحتیاط خصوصًا فی باب الفروج اھ۔ قلت ویمکن حمل الاول علی القضاء والثانی علی الدیانة (شامی ج:2ص454)

ضروری وضاحت مفتی کو علم غیب نہیں…چونکہ معاملہ حلال و حرام کا ہے ۔اگر ذرا بھی گمان غالب تین طلاقوں کا ہو تو دونوں کا ساتھ رہنا ہرگز جائز نہیںہے۔ اللہ سبحانہ اعلم ٨ا\٧|١٣٩٨ھ(فتویٰ نمبر ٨٠٥|٢٩ ب)فتاویٰ عثمانی جلددوم ص346

فتویٰ غلط اورجواب یہ کہ
یہ فتویٰ نہیں بدترین نوسربازی ہے۔گنجائش پر ”بہرصورت”حلالہ کا فتویٰ دیا۔فتویٰ فرضی نام پر دینا فرض ہے ۔فتویٰ اور فیصلہ میں یہ فرق ہوتا ہے۔

محمود اشرف اور اس کی بیوی فرحت کا نام سوال وجواب میں خود ہی دیا۔ساڑے چار سال میں اس کی اولاد ہوئی تو اس کا کیا بنے گا؟۔ مفتی تقی عثمانی کی ماں، بیوی اور بیٹی کا نام درج کرکے ایک عرصہ تک حرام کاری سے اولاد پیدا کرنے کا انکشاف کیا جائے تو اس پرکیا اثرات پڑ جائیں گے؟۔

البقرہ آیت228میں ہے کہ عدت میں باہمی رضا سے شوہر بیوی کو لوٹانے کا زیادہ حقدار ہے۔ درست رجوع تھا۔ پاکستانی قانون قرآن وسنت، مسلک حنفی کے مطابق ہے۔ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر پرنسپل جامعہ بنوری ٹاؤن صدروفاق المدارس نے جنگ اخبارمیںلکھا کہ غصہ میں طلاق نہیں ہوتی اور اعراف آیت28میں حلالہ کے حوالہ سے آباء اور اللہ کے نام پر فحاشی کا عمل اور فتویٰ بالکل ناجائز ہے پھراحادیث و فقہ سے بالکل غلط استدلال لیا ہے۔

قل ھل عندکم من علمٍ فتخرجوہ لنا ان تتبعون الا الظن وان انتم الا تخرصونOقل فللہ الحجة البالغة فلوشاء لھدٰی کم اجمعینOقل ھلم شہداء کم الذین یشھدون ان اللہ حرم ھذا فان شہدوا فلا تشھد معھم ولا تتبع اھواء الذین کذبوا باٰیٰتنا والذین لایؤمنون بالاخرة وھم بربھم یعدلوںOقل تعالوا اتل ماحرم ربکم علیکم الا تشرکوا بہ شیئًا(الانعام:148تا151)

”(اور عنقریب کہیں گے جنہوں نے شریک کیا کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شریک نہ کرتے اور نہ ہمارے آباء کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کہتے ۔اسی طرح ان سے پہلوں نے بھی جھٹلایا یہاں تک ہمارا عذاب چکھ لیا) کہہ دو کہ کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے تو ہمارے لئے نکال لاؤ۔ تم نہیں پیروی کرتے مگر گمان کی اور تم نہیں ہو مگر تخمینہ سے جھوٹ گھڑتے ہو۔ کہہ دو کہ اللہ کیلئے(لٹکانے والی نہیں) پہنچی ہوئی حجت ہے۔اور اگر اللہ چاہے تو تم سب کو ہدایت دیدے۔ کہہ دو کہ اپنے گواہوں کو بھی یہاںکھینچ کر لاؤ۔پس اگروہ (ان جیسے جھوٹے) گواہی دیں تو ان کے ساتھ تم گواہی مت دو۔اور ان کی خواہشات کی پیروی مت کروجو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں۔اور جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور اپنے رب سے انحراف کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ آؤ میں تلاوت کرتا ہوں جو اللہ نے تم پر حرام کیا ہے۔مگر یہ جو تم اسکے ساتھ کسی چیز کو شریک کرو”۔

وبالوالدین احسنانًا ولاتقتلوا اولادکم من املاق ولا تقربوا الفواحش ما ظھر منھا ومابطن ولاتقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق ذٰلکم وصٰکم بہ لعلکم تعقلونOولا تقربوا مال الیتیم الا بالتی ھی احسن حتٰی یبلغ اشدہ واوفوالکیل و المیزان بالقسط لا نکلف نفسًا الا وسعھا واذا قلتم فاعدلوا ولوکان ذا قربٰی و بعہد اللہ اوفوا ذٰلکم وصٰکم بہ لعلکم تذکرونO
”اور والدین کے ساتھ احسان کرو۔اور اپنی اولاد کو قتل مت کرو مفلسی کے ڈرسے۔ ہم تم کو اور ان کو بھی روزی دیتے ہیں۔ اور فحاشی کے قریب مت جاؤ جو ظاہر میں یا باطن میں۔ اور کسی جان کو قتل مت کرو جس کو اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ۔ یہی ہے جس کی تمہیں تاکید کرتے ہیں شاید تم عقل سے کام لو اور یتیم کے مال کے قریب مت جاؤ مگر اچھائی کیلئے یہاں تک کہ وہ سمجھداری میں پختہ ہوجائے۔ اور ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ہم کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ ذمہ دار نہیں ٹھہراتے۔پس جب تم بات کرو تو عدل کرو، اگرچہ تمہارا قرابت دار ہو اور اللہ کے عہد پر پورا اترو۔ یہ تمہارے لئے تاکید ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو”۔ الانعام:151،152

ان آیات کے آئینہ میں مفتی تقی عثمانی اپنے فتوے اور اپنے کردار کو ذرا ملاحظہ کرے؟۔ قرآن کا فتویٰ ٹھوس ہوتا ہے اور خواتین کے بارے میں مذہبی طبقات بگاڑ کی جڑ رہے ہیں۔ خلفاء راشدین حضرت عمر اور حضرت علی نے خواتین کو حلالہ کے فتوے نہیں دئیے ہیں بلکہ حقوق کیلئے فیصلے دئیے ہیں۔

ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیھن وما یتلٰی علیکم فی الکتٰب فی یتٰمی النساء الٰتی لا تؤتؤنھن ما کتب لھن وترغبون ان تنکحوھن والمستضعفین من الولدان وان تقوموا للیتٰمٰی بالقسط وما تفعلوا من خیرٍ فان اللہ بہ علیمO

” اور آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں کہہ دو کہ اللہ انکے بارے میں فتویٰ دیتا ہے اور جو تم پر تلاوت کی جائے کتاب میں سے یتیم عورتوں کے بارے میں جن کو تم حق مہر نہیں دیتے ہو جو اللہ نے ان کیلئے لکھ دیا ہے اور تم رغبت رکھتے ہو کہ ان سے نکاح کرو اور جو کمزور ہیں بچوں میں سے۔ اور یہ کہ تم یتیموں کیلئے انصاف کیساتھ کھڑے ہوجاؤ۔ اور تم جو بھلائی کروتو بیشک اللہ اس کو جانتا ہے”۔ (سورہ النسائ:127)

ایک تو اللہ نے واضح کیا ہے کہ عورتوں کے بارے میں کوئی فتویٰ علماء و مفتیان کی صوابدید پر نہیں ہے بلکہ اللہ نے رجوع کی کافی وضاحتیں کردی ہیں۔ سورہ مجادلہ اور سورہ تحریم کے علاوہ صرف عورت معروف طریقے سے راضی ہو تو حلالہ کی ضرورت نہیں۔ نبیۖ نے ام رکانہ کیلئے ابورکانہ کے ہاں سورہ طلاق کی آیت کی تلاوت سے رجوع کا فتویٰ دیا۔ ایک طویل عرصہ سے حلالہ کی شروعات یتیم عورتوں اور ان کے غریب بچوں سے ہوئی جن کو حق مہر بھی نہیں دیا جاتا تھا اور حلالہ سے پار کردیتے تھے۔ جب لوگ یتیم عورتوں کیلئے انصاف کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے تو پھر اس عذاب کو اشرافیہ پر بھی مسلط کردیا ہے۔ کاش مساجد اور مدارس میں قرآن کی درست تعلیم عام ہو۔

جب31مئی2007ء کو کرایہ کے دہشت گردوں نے ہم پر حملہ کرکے13افراد کو شہید کیا تو اسکے بعد مفتی تقی عثمانی نے ”حاجی عثمان کے پیروکار سے نکاح کا حکم فتاوی عثمانی جلد دوم صفحہ262پر کہ ”یہ دریافت کرنا کہ کرلیا جائے تو ہوجائے گا تو کیا ہوجائے گا یا نہیں؟۔سخت گناہ ہے۔بلکہ اس پر کفر کا اندیشہ ہے اسلئے کہ نفس پرستی کیلئے ارتکاب حرام میں شریعت کی تخفیف و توہین ہے ۔ … اس کے مریدین ومعقتدین کا کسی وقت بھی کفر تک پہنچ جانا کوئی بعید نہیں۔العیاذ باللہ ۔اسی حالت میں اس نکاح کا انجام کیا ہوگا؟۔ عمر بھر کی حرامکاری اولاد ولد الزنا۔ اللہ تعالیٰ اعلم عبدالرحیم الجواب صحیح رشیداحمدالجواب صحیح ولی حسن

جواب :۔ از مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ

1:ہمیں اس بات سے اتفاق ہے کہ حاجی عثمان صاحب کے عقائد سے متعلق جو امور جواب میں بیان کئے گئے ہیں وہ گمرانہ عقائد ہیں۔ایسے گمراہانہ عقائد کے حامل کسی شخص سے یا اس کے کسی پیروکار سے نکاح جائز نہیں ہے۔

2:اگر نکاح کرہی لیا ہے تو خواہ وہ منعقد ہوجائے مگر سخت گناہ کا ہوگا۔ احقر محمد تقی عثمانی الجواب صحیح محمدرفیع عثمانی

یہ سوال جواب مفتی عبدالرحیم نے مرتب کئے۔
حال میں کہا کہ ”اگر میںوفاق المدارس کے نصاب کیخلاف کام کروں تو میں حرام کی اولاد ہوں ”۔ اس نصاب میں کفریہ چیزیں ہیں تو اس کے خلاف کام کرنا فرض بن جائے تو پھر یہ فتویٰ لگے گا؟۔ پھر سائل بھی خود ہے اور سوال کرنے والے پر فتویٰ لگادیاہے۔

شیعوں کو قادیانیوں سے زیادہ بڑا کافر3وجوہات کی بنیاد پر قرار دیا لیکن پھر وضاحت کردی کہ پہلے ہم نادان تھے۔

حاجی عثمان کے مرید مولانا اشفاق احمد فاضل دیوبند مقیم دارالعلوم کراچی نے بتایا کہ بیٹے نے کہا کہ پٹھان نے چیلنج کیا تو سبھی بھاگ گئے۔ مولانا عبدالحق فاضل دیوبند حاجی عثمان کے مرید خلیفہ مفتی تقی عثمانی ومفتی رفیع عثمانی کے استاذ بھی تھے لیکن وہ فتوؤں کے بعد آئے بھی نہیں اور پھر بھی مفتی تقی عثمانی نے ان کو نکلنے کا حکم دیا تو انہوں نے مفتی شفیع کی لکھی ہوئی تحریر دکھائی کہ تاحیات تمہیں گھر سے کوئی نکال نہیں سکتا۔

مفتی تقی عثمانی کے تین بچے7،7سال کے وقفہ سے ہیں جس میں کوئی برائی نہیں لیکن کہیں ایسا تو نہیں کہ حلالہ کا کاروبار موقع نہیں دیتا ہو؟۔ دوسروں پر حرام کاری اور بیگمات کا حلالہ کرنے کے فتوے دینے والے نے مولانا اشفاق احمد کو بیوی کو تسکین پہنچانے کیلئے تو نہیں رکھا؟ اسلئے کہ وہ خودرنڈوا تھے۔

خالدبن ولید کے والد ولید بن مغیرہ نے نبیۖ کیخلاف زعماء قریش کی نمائندگی میں تیزی دکھائی تو اللہ نے سورہ القلم میں تفصیل سے ذکرکیا اور اسکو ثم بعد ذٰلک زنیم ”پھر اسکے بعدوہ بد نسب ہے”۔ زنا کی اولاد کہنا غلط مگر حلالہ کی نسل ہوگا۔قریش و بنی اسرائیل کی نسبت ہے، زید بن ابیہ کا معروف والد تھا لیکن ماں نے ابوسفیان سے حلالہ کیا تھا تو اس نے بیٹے کی حیثیت سے اپنا نام نہیں دیا اسلئے46ھ میں امیر معاویہ نے اس کو اپنا بھائی زید بن ابی سفیان باقاعدہ طور پر قرار دیا۔

مفتی شفیع دیوبندی تھے مگر عثمانی نہیں تھے۔ اگر مفتی تقی عثمانی خود کو علامہ شبیراحمد عثمانی کی ناجائز اولاد قرار دیں تو مولانا ولی رازی مفتی شفیع کے مدرسہ سے بے دخل کرسکتے ہیںاور پھر اس کو اپنے باپ کی قبر پر مجاور بننا ہوگا لیکن یہ فائدہ ملے گا کہ نسلوں میں لڑکیاں بھاگ جائیں توولی کی اجازت کے بغیر شادی نہیں ہوسکے گی۔اس کی اکلوتی بیٹی کی ٹویٹر سے معاشقے کی خبر ذرائع نے دی تھی جس کا بتاؤں بھی تو مسئلہ نہیں کہ زبردستی روکا گیا تھا لیکن یہ حق عثمانی نسل کو پہنچتا ہے عجم ہندوستانی مولانا درخواستی، مولانا فضل الرحمن اور کسی عجم کے نسل کیلئے یہ سہولت نہیں ہے۔ دورجاہلیت کا حلالہ اور نسل کی اونچ نیچ کو اسلام نے ختم کیا لیکن حلالہ کے علاوہ نسلی تبدیلی کا جاہلیت سے بھی بڑا فائدہ ہے۔

حضرت عمر نے حلالہ کرنے ، کروانے پرسنگساری کا فرمایا۔
حجاج بن عتیک ثقفی نے ام جمیل کو تین طلاق دی تو زیاد بن ابیہ نے اپنا عیب چھپانے کیلئے حلالہ کرتے ہوئے مغیرہ ابن شعبہ کے ساتھ پکڑلیا اور ابوبکرہ، نافع اور شبل کو موقع پر کھڑا کردیا۔

سورہ القلم میں سرداران قریش کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ
ہم نے تمہیں باغ والوں کی طرح آزمائش میں ڈالا جو فصل نہیں لے سکے اور سورہ فتح میں ان کے مقابلے مسلمانوں کو کھیت سے تشبیہ دی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ” بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین دی ہے تاکہ آپ کا اگلا اور پچھلا بوجھ آپ سے اٹھادیں”۔

عربی میں ”وزر” گناہ اور بوجھ ۔سورہ الشرح میں علماء نے ترجمہ بوجھ کیا۔ سورہ فتح میں ذنب کا معنی گناہ اور دُم یعنی بوجھ ہے لیکن اس کا ترجمہ غلط ہے۔ سیاق وسباق میں گناہ نہیں بنتا۔

اللہ نے صلح حدیبیہ پرمسلمانوں کی کمزوری اور مجبوری کی نفی کی
ولولا رجال مؤمنون ونساء مؤمنٰت لم تعلموھم ان تطئوھم فتصیبکم منھم معرة بغیر علم
” اگر مؤمن مرد اور عورتیں وہاں موجود نہ ہوتے جن کا تمہیں علم نہیں کہ انکو تم کچلتے تو انکی طرف سے تمہیں بغیر علم کے داغ پہنچتا”۔

فقہ میں وطی جماع ۔ فتح مکہ ہواتو نبیۖ نے تین دن تک متعہ کی اجازت دی تھی۔ اگر مسلمانوں میں کوئی طلاق شدہ جوڑا حلالہ کی خواہش رکھتا اور بغیر علم کے ان کی طرف سے عورت کا حلالہ ہوجاتا تو اس کی وجہ سے مسلمانوں کو ”داغ ” پہنچتا۔ جیسے خالد بن ولید نے جب مالک بن نویرہ کو قتل کرنے کے بعد اس کی بیوی سے شادی کی تو خالد بن ولید کے بارے میں حضرت عمر کی رائے سنگسار کرنے کی تھی اور حضرت ابوبکر کی درگزر کی اور اس وجہ سے کردار پر ایک تاریخ کے لحاظ سے داغ لگ گیا۔

لیدخل اللہ فی رحمتہ من یشاء لو تزیلوا لعذبنا الذین کفروا منھم عذابًا الیمًا
” اللہ جس کو چاہے گا اپنی رحمت میں داخل کرے گا اگر حلالہ کی گندی زائل ہوجائے تو ہم کافروں کو دردناک عذاب دیں گے۔ (سورہ فتح آیت:25)

فتح مکہ کے بعد متعہ کی اجازت دی لیکن حلالہ کی لعنت سب سے زائل ہوگئی تھی۔جب عبداللہ زبیر نے کہا کہ متعہ زنا ہے تو علی نے کہا کہ ”تم خود بھی متعہ سے پیدا ہوئے ہو”۔

”اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہوا اور یہ عنقریب پھر اجنبی بن جائیگا پس خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے”(حدیث)

دورجاہلیت میں ایک عورت10یا10سے کم افراد کیساتھ نکاح کرسکتی تھی اور ادنیٰ خاندان والے اعلیٰ خاندان والے سے اپنی عورتوں کا حمل کرواتے تو نسل بدلتی تھی۔ جیسے مفتی محمد شفیع دیوبندی علامہ شبیراحمد عثمانی سے کچھ اولاد جنوادے کہ عثمانی نسل کہلائیں۔ایک قسم یہ تھی کہ عورت جھنڈا لگاتی اور لاتعداد لوگ جماع کرتے۔ قیافہ شناس جس کا بچہ قرار دیتے تو بن جاتا اور10یا کم افراد کو لائن میں کھڑا کرتے۔ عورت جس کا بولتی تو بچہ اس کا بنتا ۔ حلالہ کیلئے کمزور مردانہ قوت والے کو تلاش کیا جاتا تاکہ عورت خوشی سے پہلے شوہر کے پاس واپس جائے۔

بخاری نے آیت و حدیث کو غلط جگہ لکھ کر حلالہ مسلط کیا ۔ بخاری کو خرتنگ میں دفن کیا گیا۔ یہود ی قبیلہ بنوقریظہ کے رفاعة القرظی،عبدالرحمن بن زبیر القرظی کاحلالہ کے سوا کردار نہیں تھا ۔ ایک عورت کیلئے نامرد اور دوسری کیلئے وہ مردانہ قوت والااور راوی اپنا بیٹا۔علامہ عبدالحی لکھنوی حنفی نے حلالہ کیخلاف حنفی دلائل دئیے مگر فرقہ پرست بندری لڑائی کونوا قردةً خٰسئین ”بن جاؤ ذلیل بندر ” کے مصداق بن گئے۔تاریخ کا پہلا شیخ الحدیث مولانا زکریا اور تبلیغی کا حلالہ شیخ الحدیثوں کی بھرماربن گیا۔ ختم بخاری پریہ سہرے عورتوں کے حلالہ کیلئے سجتے ہیں ۔

مولانا فضل الرحمن نے پارلیمنٹ میں
لایحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم
تلاوت کرکے بتایا کہ”اللہ کسی کے چیخ کر بولنے کو پسند نہیں کرتا مگر جس کیساتھ ظلم ہواہو۔ تو اسکے چیخنے اور چلاکر بولنے کو پسند کرتا ہے”۔ اگرچہ ترجمہ غلط کیاہے ۔پالیمنٹ ریکارڈ درست کرے۔” اللہ کسی کا برائی سے تذکرہ پسند نہیں کرتا مگر جسکے ساتھ ظلم ہواہو”۔

ہمارا مقصد انتقام نہیں ہم صحابہ کی صفائی پیش کرتے ہیں۔ قرآن کی درست تفسیر، حدیث کی درست تشریح اور فقہ کے درست فتوے اور تاریخ کی درست تعبیر کرتے ہیں اور ہواؤں کا رخ مسلمانوں کی عزتوں کو بچانے کی طرف موڑتے ہیں۔

عن ابی سعید الخدری قال : سمعت رسول اللہ ۖ یقول ”ان منکم من یقاتل علیٰ تاویل القرآن کما قاتلت علی تنزیلہ قال ابوبکر : اناھو یا رسول اللہ؟ قال : لا، قال عمر: انا ھو یارسول اللہ؟ قال: لا، ولٰکن خاصف النعل، قال: وکان اعطیٰ علی نعلہ یخصفہ

رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ تم میں سے ایک ایسا شخص ہے جو قرآن کی تاویل کیلئے لڑے گا جس طرح میں نے اسکے نازل ہونے کی بنیاد پر لڑائی کی تھی۔حضرت ابوبکر نے کہا کہ میں ہوں وہ یا رسول اللہ؟۔ فرمایا: جی نہیں۔ حضرت عمر نے کہا میں ہوں وہ یا رسول اللہ؟۔ فرمایا:جی نہیں بلکہ وہ جوتے گانٹھنے والا ہوگا۔ پس نبی ۖ نے اپنا جوتا علی کو گانٹھنے کیلئے دیا۔
(حدیث نمبر6937۔ صحیح بخاری ، کتاب مناقب صحابہ)

حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب کی تاؤیل کا کھانے کی آمد سے پہلے کا وعدہ کرکے اپنے جیل کے ساتھیوں سے کہا: ”اور میں اپنے آباء ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کرتا ہوں۔ہمارے لئے جائز نہیں کہ کسی کو اللہ کیساتھ شریک کریں۔یہ ہمارے اوپر اللہ کا فضل ہے اور سب لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ اے میرے جیل کے ساتھیو کئی رب بہتر ہیں یا ایک واحد قہار ”۔ سورہ یوسف:38،39

کتاب ”امام ابوحنیفہ شہیداہل بیت” فاضل بنوری ٹاؤن۔ مفتی شفیع کو مفتی رفیع و مفتی تقی عثمانی نے نقصان پہنچایا ۔ بہنوئی جاہل یا شریک جرم ؟ ۔ شادی بیاہ کالفافہ سود اور70گناہ میں کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا اورسودی نظام کو جائز قرار دیا ۔

یا ایھا الذین اٰمنوااذا لقیتم فئةً فاثبتوا واذکروا اللہ کثیرًا لعلکم تفلحونOواطیعوا اللہ ورسولہ ولا تنازعوا فتفشلوا وتذھب ریحکم واصبروا ان اللہ مع الصابرینO (سورہ انفال آیات:45،46)
”اے ایمان والو!جب تم کسی گروہ سے لڑو ہو تو ثابت قدم رہو۔ اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرو۔ ہوسکتا ہے کہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ اوراللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرواور آپس میں تنازعہ نہ کروتو تمہاری ہوا نکل جائے گی اور صبر کرو بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے”۔

مولانا عبیداللہ سندھی سے مولانا انور شاہ کشمیری نے معافی مانگی اور اب دنیا مولانا سندھی کی بعض درست تفسیر کو قبول کرتی ہے لیکن مفتی تقی عثمانی نے اپنا دھندہ چلانے کیلئے اعتراف کرنا نہیں ہے اسلئے ہماری وضاحتیں بہت کارگر ہوں گی۔ انشاء اللہ

فوسوس لھما الشیطان لیبدی لھما ماوری عنھما من سواٰتھما و قال مانھٰکما ربکما عن ھذہ الشجرة الا ان تکونا ملکین او تکون من الخٰلدینOوقاسمھما انی لکما لمن النٰصحینO
” توشیطان نے دونوںکو وسوسہ ڈال دیا تاکہ ایکدوسرے کے سامنے ان کی شرمگاہیں کھولے اور کہا کہ تمہیں تمہارے رب نے منع نہیں کیا اس شجرہ سے مگر یہ کہ تم دونوں فرشتے نہ بن جاؤ اور ہمیشہ کیلئے ہوجاؤ اور دونوں کو قسم کھائی کہ میں تمہارے لئے نصیحت والوں میں ہوں”۔(اعراف:20،21)

اس آیت کا مفہوم اور قرآن و حدیث اور فقہ کی تفہیم کیلئے ہم نے فرض کیا کہ مفتی شفیع دیوبندی منشی نے سید سلیمان ندوی اور مولانا ابوالکلام آزاد کو تصویر کے جواز سے سرینڈر پر مجبور کیا۔ مفتی شفیع کے بچے زکی کیفی اور ولی رازی پیدا ہوگئے تو غصہ میں بیوی کو طلاق دی۔ علامہ شبیراحمد عثمانی کی اولاد نہیں تھی اور حلالہ عام تھا۔ آیت کے تناظر میں شیطانی وسوسہ آیاکہ ہم فرشتے نہیں ۔اولاد سے ہمیشہ زندہ میرا حق ہے۔ حلالہ کیا توغڑم مفتی محمد رفیع عثمانی کو جنم دیا پھر علامہ شبیراحمد عثمانی نے طلاق دی ۔ اپنی کوئی اولاد تھی نہیں جمع پونجی بیٹے کیلئے اس کی ماں کو حوالہ کی اور ملنا جلنا بھی رکھا اور چند سالوں بعد پھر شیطان نے دونوں پر حملہ کیا اور میل ملاپ سے اللہ کی حدود کو توڑ دیا اور مفتی تقی عثمانی نے جنم لیا۔ البقرہ آیت229کا آخری حصہ تیسری طلاق کے بعد مفتی تقی عثمانی نے لکھا کہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

بہت سمجھایا اور دنیا کو سمجھ میں آگیا لیکن مفتی تقی عثمانی سمجھنا نہیں چاہتا تھا لیکن اب اللہ نے اس کے دماغ کا بھیجا نکالنے کیلئے سورہ انبیاء کی آیت کو سمجھنا بھی آسان کردیا اور ولید بن مغیرہ کو سونڈ پر داغنے کی آیت بھی عوام کو سمجھنے کیلئے آسان اور بالکل تازہ ہوگئی ہے۔ ہم اپنے ساتھیوں سے کہتے ہیں کہ فکر مت کرو جس نے تم پر تمہاری بیگمات اور اولاد پر حرامکاری ، ناجائز اور اولاد الزنا کے فتوے کتاب میں شائع کئے ہیں جب لوگوں کو پتہ چلے گاکہ ہم سے تو غلط حلالہ کروائے ہیں اور فتویٰ کی کتاب میں حلالہ اور حرام کی اولاد بنادیا ہے توبڑے بھائی مفتی رفیع عثمانی حلالہ اور چھوٹے میاں مفتی تقی عثمانی سبحان اللہ بالکل حرام کی اولاد لگتاہے لیکن حلال کا ہو توDNAاور شجرہ نسب کا ثبوت دینا ہوگا۔ مولانا ولی رازی واقعی بڑے تھے تو پھر سچ یہ ہے کہ مفتی رفیع کا جنازہ پڑھانا ان کا حق بنتا تھا ۔

اسلام دین فطرت میں حلالہ کی لعنت کا تصور نہیں ہوسکتا ۔ لیکن شیعہ اور سنی فرقوں کی بھینٹ چڑھ گیا اور آج تک سب اس کی سزا بھگت رہے ہیں۔ لیکن اب اس کا خاتمہ ہوا چاہتا ہے۔ حلالہ بالکل ختم ہوگا اور یہود ونصاریٰ اور ملحد بھی اسلام کامعاشرتی نظام مانیں گے۔ انشاء اللہ العزیز

مولانا انور شاہ کشمیری نے کہا کہ ”میں نے ساری زندگی ضائع کردی اور قرآن و حدیث کی کوئی خدمت نہیں کی”۔اس قول کو مفتی شفیع نے1970سے پہلے اپنی تقاریراور البلاغ کے اندر اسلئے شائع کیا کہ سید مودودی نے قادیانیت کے خلاف کتاب لکھی تھی اور اس پر پھانسی کی سزا کا حکم سنایا گیا تھا اور مفتی شفیع نے قادیانیوں کیلئے مولانا انورشاہ کشمیری کے قول سے رعایت دینے کی کوشش کی تھی۔ ان کے خلاف ایسے دلائل لکھے تھے جس سے قادیانیت کو فائدہ بھی پہنچ رہاتھا ۔

1970ء میں جنرل یحییٰ نے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر شفاف الیکشن کروایا تو جاگیرداری نظام کو خطرہ ہوا۔ جمعیت علماء اسلام پرکفر کا فتویٰ مفتی شفیع ، مفتی تقی ، مفتی رفیع دارالعلوم کراچی کے چوکیدارتک کے دستخط تھے توجمعیت علماء اسلام نے حلالہ کا معاملہ اٹھایا ۔ مولانا شبیراحمد عثمانی کے بھتیجے مفتی عتیق الرحمن عثمانی نے1972ء میں احمد آباد ہندوستان میں حلالہ ختم کرنے کیلئے سیمینار منعقد کیا جو کتابی شکل میں لاہور سے شائع ہوا ۔ زکی کیفی کا1975ء لاہور میں انتقال ہوا۔پہلے ہجرت نہیں کی اور پھر لاہور میں رہائش اختیار کی۔ مفتی تقی عثمانی کو رات گئے بلایا تھا ماں شریک بھائی جو تھا ۔مولانا اعظم طارق کو ماں شریک بھائی کبھی عیب نہیں لگا۔ یہ کیس الگ تھلگ ہے۔ علامہ شبیراحمد عثمانی نے جو زیورات دئیے تھے تو مفتی تقی عثمانی کے بیٹے نے شاید اسی کا تذکرہ میڈیا پر پہلی مرتبہ کیا جو بھارت کی سرحد پر آتے ہوئے چھن گیا تھا۔ قرآن میں اللہ کہتا ہے کہ

یایھا الذین اٰمنوا ان من ازواجکم واولادکم عدوًا لکم فاحذروھم وان تعفوا و تصفحوا و تغفروا فان اللہ غفور رحیمO(سورة التغابن آیت:14)
”اے ایمان والو! بیشک تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیںپس ان سے بچو۔ اور اگر معاف کرو اور درگزر کرو اوربخش دو تو بیشک اللہ مغفرت والا رحم والا ہے”۔

مفتی شفیع کو مفتی تقی و مفتی رفیع عثمانی اور ان کی ماںنے کہا کہ کل علامہ شبیراحمد عثمانی کے ان دونوں بچوں کو دارالعلوم سے نکال باہر کرو گے اسلئے ذاتی مکان خرید کردئیے۔ مولانا رشید احمد لدھیانوی نے ناجائز قرار دیا تو سخت ترین پٹائی لگائی تھی۔

مفتی شفیع کو علامہ شبیراحمد عثمانی کی قبر کے پاس اسلامیہ کالج کی جگہ مدرسہ کیلئے مل رہی تھی لیکن ان کی بیوہ محترمہ پھول ماں نے وہاں مفتی شفیع کو مدرسہ نہیں بنانے دیا۔ حالانکہ ان کی اولاد یا کوئی رشتہ دار بھی نہیں تھے۔ شوہر کی قبر کے پاس مدرسہ بننے کی اجازت نہیں دینا بہت سارے حقائق کی بڑی غمازی کرتاہے۔ یہ لوگ1972ء تک پھول اماں کی وفات تک عثمانی لکھنے کی شایدجرأت بھی نہیں کرسکتے تھے۔ باپ کا نام تو وفات کے بعد عثمانی کردیا۔ چالاک پرندہ پھنستا نہیں جب پھنستا ہے تو دونوں پیروں سے پھنس جاتا ہے۔ اپنی حرکتیں چھوڑتے نہیں ہیں۔

مولانا رفیع عثمانی نے ایک پرواگرم میں کہا کہ میں نے نام کے ساتھ دیوبندی لکھا تو والد ماجد بہت غصہ ہوگئے کہ آئندہ یہ نہیں لکھنا۔ ایک دیوبندی عالم نے کہا کہ معارف القرآن جلد اول ابھی شائع ہوئی ہے۔ اس پر دیوبندی لکھا ہوا ہے لیکن اس نے جواب گول کردیا اسلئے کہ مفتی شفیع نے قرآن کا حکم دیکھا تھا کہ اپنے باپ کی طرف نسبت کرو۔ علامہ شبیراحمد عثمانی کی بقاء کا سامان ہوگا ۔ حضرت زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے تو یہ بھی زیادہ دین کے خدمت گار اور معزز نہیں ہیں اور بیٹیاں بھی عجم کیساتھ بھاگیں گی یا کوئی جبری نکاح کرے گا تو پھر ولی کی اجازت کے بغیر یہ نہیں ہوسکے گا۔ مشرکین مکہ سے زیادہ فوائد ہیں اور اسلام کے نام پر ایک غلیظ شکل دیدی گئی ہے۔

یا بنی اٰدم خذوا زینتکم عند کل مسجدٍ و کلوا و اشربوا ولا تسرفوا انہ لایحب المسرفینO
”اے بنی آدم ! اپنی زینت کا ہر مسجد کے سامنے مظاہرہ کرو اور کھاؤ ، پیئو اور اسراف مت کرو۔ بیشک وہ اصراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے”۔ (سورہ الااعراف:31)

عالمی خلافت کے قیام کیلئے پیش قدمی ہوگی توپھر اللہ تعالیٰ آداب سکھا رہاہے کہ خوبصورت کپڑے اور گاڑیاں، موبائل اور گھڑیاں وغیرہ کوئی چیز منع نہیں ہے حلالہ کی لعنت والے منحوس مساجد چھوڑ جائیں گے۔ انقلاب کی آمد آمد ہوگی تو خصوصی احکامات خوشی میں ہوتے ہیں۔

قل من حرم زینة اللہ التی اخرج لعبادہ و الطیبات من الرزق قل ھی للذین اٰمنوا فی الحیاة الدنیا خالصة ً یوم القیامة کذٰلک نفصل الاٰیات لقوم یعلمونO
”کہہ دو کہ اللہ کی زینت کو کس نے حرام کیا ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے استقبال کیلئے نکالی ہے اور پاک چیزیں رزق میں سے۔ کہہ دو کہ یہ ایمان والوں کیلئے ہیں اس دنیا کی زندگی میں خالص قیام (انقلاب) کے دن ۔ اسی طرح ہم آیتوں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں سمجھدار قوم کیلئے”۔ (سورہ اعراف:32)

دنیا کی زندگی میں قیامت کیلئے خاص سے کیا مراد ہے؟۔ اس میں تضاد ثابت ہوگا کہ دنیا کی زندگی بھی ہے اور یہی پھر قیامت کے ساتھ بھی خاص ہے؟۔ اس سے دنیا کی قیامت ایک انقلاب کا دن مراد ہے جس کی قرآنی آیات اور احادیث میں بہت ساری پیش گوئیاں ہیں۔ اللہ ہمیں نصیب فرمائے۔

آیت کے اندر بالکل واضح ہے کہ انقلابیوں کا ہاروں کے ساتھ استقبال ہوگا۔ انعام واکرام ہوگا اور پاکیزہ چیزیں کھلائی جائیں گی۔ اور خاص طور پر فرمایا کہ
قل ھی للذین اٰمنوا فی الحیاة الدنیا خالصة ً یوم القیامة
‘ ‘ کہہ دو کہ یہ دنیا کی زندگی میں مؤمنوں کیلئے خالص اقامت کے دن ہے”۔

دنیا میں قیامت سے پہلے قیامت کی اس آیت میں بہت زبردست وضاحت ہے۔ ان اقامتوں کے قیام کا ذکر پہلے بھی سورہ کی آیات میں اور آخر میں پھر حضرت نو ح کے یوم عظیم کا انقلاب اور دیگر انبیاء اور انقلابات کا ذکر ہے۔

قل انما حرم ربی الفواحش ما ظھر منھا و ما بطن والاثم والبغی بغیر الحق وان تشرکوا باللہ ما لم ینزل بہ سلطانًا وان تقولوا علی اللہ ما لاتعلمونO
”کہہ دو کہ بیشک میرے رب نے فواحش حلالہ کو حرام کیا جو اس میں کھلم کھلا ہو یا چھپ چھپاکر اور گناہ اور بغیر حق کے بغاوت کو اور یہ کہ تم شرک کرو اللہ کیساتھ جس کی کوئی دلیل نہیں اتری ہو اور اللہ پر وہ بات کرو جس کا تمہیں علم نہیں ہے”۔(اعراف:33)

اس آیت میں پھر حلالہ کی فحاشی سمیت سارے فواحش کے حوالے سے خاص تنبیہ کی گئی ہے لیکن دوسرے فواحش سے توبہ کی توفیق ملتی ہے اور حلالہ کی فحاشی کو مذہب سمجھا جاتا ہے۔

ولکل امةٍ اجل فاذا جاء اجلھم لا یستأخرون ساعةً و لا یستقدمونO
” اور ہر امت کیلئے ایک معیاد ہے پھر جب ان کا میعاد آجاتا ہے تو ایک لمحہ پیچھے ہٹیں گے اور نہ آگے بڑھیںگے”۔ (سورہ اعراف:آیت34)

یہ اجل انفرادی اموات سے متعلق نہیں ۔ جیساکہ اس کا غلط ترجمہ کیا گیاہے بلکہ دنیا میں یہ اجتماعی تقدیر کا ”اجل” ہے ۔

حذیفہ یقول : بینا نخن جلوس عند عمر اذ قال : ایکم یحفظ قول النبیۖ فی الفتنة؟۔ قال : فتنة الرجل فی اہلہ و مالہ والدہ وجارہ تکفر ھا الصلوٰة و الصدقة والامر بالمعروف و نہی عن المنکر، قال : لیس عن ھذا اسألک ولکن التی تموج کموج البحر ، قال: لیس علیک منھا بأس یا امیر المؤمنین ان بینک و بینھا بابًا مغلقًا قال عمر ایکسر الباب ام یفتح قال: یکسر قال عمر: اذًا لایغلق ابدًا قلت: اجل ، قلنا لحذیفة : اکان عمر یعلم الباب قال : نعم کما یعلم ان دون غدٍ لیلةً وذلک انی حدثتہ حدیثًا لیس بالاغالیط فھبنا ان نسألہ من الباب فامرنا مسروقًا فسالہ فقال : من الباب قال عمر (صحیح البخاری:حدیث نمبر:7096)

” حذیفہ نے کہا کہ ہم عمر کے پاس تھے۔ پوچھا کہ تم میں سے کس کو فتنہ کے بارے میں نبیۖ کی حدیث یاد ہے؟۔ حذیفہ: انسان کا فتنہ اس کی بیوی ، اسکے مال، اسکے بچے اور پڑوسی کا معاملہ ہے جس کا کفارہ نماز، صدقہ ،مر بالمعروف و نہی عن المنکر کردیتا ہے۔ عمر : میں نے یہ نہیں پوچھا بلکہ اس فتنے کا پوچھتا ہوں جو سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارے گا۔ حذیفہ: امیر المؤمنین آپ پر اس کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اسکے اور آپ کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ عمر :وہ بند دروازہ توڑ دیا جائے گا یا کھول دیا جائے گا؟۔ کہا: توڑ دیا جائے گا۔عمر: پھر وہ بند نہیں ہوسکے گا۔ حذیفہ : اجل تک۔ حذیفہ سے پوچھا کہ حضرت عمر اس دروازے کے بارے میں جانتے تھے؟ فرمایا : ہاں! جس طرح میں جانتاہوں کہ کل سے پہلے رات آئے گی کیونکہ میں نے کوئی اغلاط سے غلط بات بیان نہیں کی ۔ ہمیں حذیفہ سے پوچھتے ہوئے ڈرلگا اسلئے مسروق سے پوچھنے کا کہا تو مسروق نے پوچھا کہ یہ دوازہ کون تھا۔حذیفہ نے کہا: عمر!۔

قال عمر: اذًا لایغلق ابدًا قلت: اجل حضرت عمر نے کہا: پھر تواس فتنے کا دروازہ کبھی بند نہ ہوگا؟۔ حذیفہ : میں نے کہا کہ اجل ۔ یہ اجل میعاد سورہ اعراف آیت:34میں ہے۔

وما تفرقوا الا من بعد ما جاء ھم العلم بغیًا بینھم ولولا کلمة سبقت من ربک الٰی اجل مسمًی لقضی بینھم وان الذین اورثوا الکتاب من بعد ھم لفی شکٍ منہ مریبٍOفلذٰلک فادع واستقم کما امرت ولا تتبع اھواء ھم وقل اٰمنت بما انزل اللہ من کتابٍ و امرت لاعدل بینکم اللہ ربنا و ربکم لنا اعمالنا و لکم اعمالکم لا حجة بیننا و بینکم اللہ یجمع بیننا والیہ المصیرOوالذین یحآجون فی اللہ من بعد مااستجیب لہ حجتھم داحضة عند ربھم و علیھم غضب و لھم عذاب شدیدOاللہ الذی انزل الکتاب بالحق والمیزان وما یدریک لعل الساعة قریبOشوری14تا17

” اور مذہبی طبقات الگ الگ نہیں ہوئے مگر جب ان کے پاس علم آیا آپس کی بغاوت کی وجہ سے۔ اگر تیرے رب نے پہلے سے ایک مقرر میعاد نہیں رکھی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا۔ اور بیشک جن لوگوں کو کتاب کی وراثت دی گئی تو اس کے بعد وہ اس شک میں پڑگئے اس سے شبہ کی وجہ سے۔ تو اسلئے ان کو دعوت دیںاور سیدھے کھڑے رہیں جیسا آپ کو حکم دیا گیاہے۔کہہ دو کہ میں ایمان لایا ہوں جو اللہ نے نازل کیا ہے کتاب میں سے۔ (طلاق کے احکام نصاریٰ کے زعم سے مخالف اور حلالہ کی لعنت کے خلاف احکام مشرک و یہود کے زعم کے مخالف) اور مجھے حکم دیا گیا کہ تمہارے اندر انصاف کروں اللہ ہمارا بھی رب ہے تمہارا بھی۔ ہمارے لئے ہمارے اعمال اور تمہارے لئے تمہارے اعمال اور ہمارے اور تمہارے بیچ کوئی حجت بازی (مناظرہ سازی )نہیںہے ۔اللہ ہمیں جمع کرے گا اور اسی کی طرف ٹھکانہ ہے۔ اور جو اللہ کے حوالے سے جھگڑتے ہیں اس کے بعد کہ انہوں نے اس کی دعوت قبول کی ہے تو ان کی حجت ناقابل قبول ہے اپنے رب کے ہاں اور ان پر غضب ہے، ان کیلئے شدید عذاب ہے۔ اللہ نے کتاب نازل کی ہے حق کیساتھ اور میزان کو اور تجھے پتہ نہیں ہوسکتا کہ الساعة (یعنی دنیا میں میزان قائم کرنے کا) وقت قریب ہے”۔

مفتی تقی عثمانی نے سورہ شوریٰ آیت5کا لکھا کہ فرشتے اتنی کثرت سے عبادت کرتے ہیں کہ آسمان وزن سے پھٹ نہ جائے۔ حالانکہ اہل زمین پرکاروائی کی اجازت نہیں ملتی ہے۔

یا بنی اٰدم اما یأتینکم رسل منکم یقصون علیکم اٰیاتی فمن اتقٰی واصلح فلا خوف علیھم و لاھم یحزنونO
”اے آدم کی اولاد اگر تم میں سے تمہارے پاس رسول آئے ہوں اور تمہیں میری آیات کے قصے سنائے ہوں تو جس نے تقویٰ اختیار کیا اور اپنا عمل درست کیا تو اس پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غم کھائیں گے”۔ (اعراف:35)

یہ عالمی اسلامی انقلاب تاریخ کے سارے داغ دھولے گا۔ کسی پر مذہب کی زبردستی اور معمولی دباؤ کا بھی امکان نہ ہوگا۔ مسلمان حقیقی اسلام میں پورے پورے داخل ہوں گے، سبھی کو اپنے اپنے مذاہب کے حقیقی دین کو ان کے منہاج پر چلنے کے مواقع آئیںگے۔ یہود ونصاریٰ توراة و انجیل اور ہندو اپنے وید اور سکھ گرنتھ سب کو اپنے دین پر عمل کی مکمل آزادی ہوگی۔

والذین کذبوا باٰیاتنا و استکبروا عنھا اولٰئک اصحاب النار ھم فیھا خالدونO(اعراف:36)
”اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور اس سے تکبر کیا یہ لوگ اصحاب جہنم ہیں وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے”۔

جب اسلام نازل ہوا تھا تو یہود ونصاریٰ کے مذہبی طبقات نے ماننے سے انکار کیا تھا۔ نصاریٰ طلاق کو جائز نہیں سمجھتے تھے اور یہودی حلالہ کے پیچھے پڑے تھے۔ نصاریٰ نے طلاق کو عملی طور پر قبول کیا لیکن خلع وطلاق اور حلالہ کے مسائل میں اب مسلمان مذہبی طبقہ یہود ونصاریٰ کے نقش قدم پر چل رہاہے اور اہل حق میں ہر طبقہ نے حق کو قبول کیا ہے۔

فمن اظلم ممن افترٰی علی اللہ کذبًا او کذب باٰیاتہ اولٰئک ینالھم نصیبھم من الکتاب حتٰی اذا جاء تھم رسلنا یتوفونھم قالوا این ما کنتم تدعون من دون اللہ قالوا ضلوا عنا و شھدوا علی انفسھم انھم کانوا کافرینO(سورہ اعراف:37)
”پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ بولے۔ یا وہ اس کی آیات کو جھٹلائے۔ ان لوگوں کو لکھے ہوئے میں سے اپنا نصیب مل جائے گا یہاں تک کہ جب ہمارے فرشتے ان کے پاس آئیں ان کا معاملہ پورا کرنے کیلئے کہیں کہ تم اللہ کے علاوہ کیوں بلاتے تھے۔ تویہ مجرم کہیں گے کہ آیات ہم سے گم تھے اور اپنے اوپر گواہی دیں گے کہ وہ آیات کے کافر تھے ”۔

مفتی تقی عثمانی اور جاویداحمد غامدی سے پوچھا جائے گا کہ حلالہ کی اللہ کی طر ف نسبت اور سود کے جواز کی خباثت تم نے کس لئے کی؟ ،اللہ کے علاوہ تمہارا آقا کون تھا؟۔ تو یہ مان بھی جائیں گے کہ آیات ہم سے بھٹک گئی تھیں اور ہم کافر تھے۔

قال ادخلوا فی امم قد خلت من قبلکم من الجن والانس فی النارکما دخلت امة لعنت اختھا حتی اذا ادارکوا فیھا جمیعًا قالت اخراھم لاولٰھم ربنا ھٰؤلاء اضلونا فاٰتھم عذابًا ضعفًا من النار قال لکلٍ ضعف ولکن لا تعلمونO(سورہ اعراف:38)
کہا:سابقہ امتوں میں تم داخل ہوجاؤ جو تم سے پہلے گزری دنیا وی عذاب والی جن وانس میں سے آگ میں۔ جب بھی کوئی جماعت اس میں داخل ہوتی ہے تو اس کی بہن اس پر لعنت کرتی ہے ۔یہاں تک کہ ساری مجرم مذہبی جماعتیں جمع ہوں گی۔ پچھلی جماعت پہلے والی کیلئے کہے گی کہ اے ہمارے رب یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تو ان کو دگنا عذاب دے۔ کہے گا کہ ہرایک دگنا ہے لیکن تم سمجھ نہیں رہے ہو ”۔

جب عذاب آتا ہے تو انسانوں کیساتھ جنات شیاطین بھی شکار ہوتے ہیں۔ سورہ رحمان اور سورہ ق وغیرہ میں زبردست وضاحتیں ہیں ۔ہم عملی شکل کا تھوڑا آئینہ دکھارہے ہیں۔

وقالت اولاھم لاخراھم فما کان لکم علینا من فضل فذوقوا العذاب بماکنتم تکسبونO
اور پہلی جماعت پچھلی سے کہے گی کہ تمہاری ہم پر کوئی بھی فضلیت نہیں ہے تم عذاب چکھو جو تم نے کمایا ہے۔ آیت39

مفتی زبیر رکن کی جماعت بولے کہ ہمیںبڑوں نے گمراہ کیا ان کو ڈبل عذاب دو تو مفتی تقی عثمانی کی جماعت کہے گی کہ ہم پر تمہاری کوئی فضیلت نہیں ہے تو نے جو کیاخود ہی بھگت لو۔

ان الذین کذبوا باٰیاتنا واستکبروا عنھا لا تفتح لھم ابواب السماء ولا یدخلون الجنة حتی یلج الجمل فی سم الخیاط وکذٰلک نجزی المجرمینO(سورہ اعراف آیت:40)
”بیشک جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور اس سے تکبر کیا تو ان کیلئے آسمانوں کے دروازے نہیں کھلیں گے اور ان باغ میں داخل نہیں ہونگے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں گھس جائے۔ اور ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں”۔

لھم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواشٍ وکذٰلک نجزی الظالمینO( اعراف آیت:41)
”ان کیلئے جہنم کا جھولا ہوگا اور ان کے سرپر سائبان ہوگا اور ہم ظالموں کی اسی طرح سے بدلہ دیتے ہیں”۔

انڈسٹریل ایریا میں گھروں اور فیکٹریوں کے درمیان انکے لانے لے جانے کی گاڑیاں ہوں گی اور دھوپ سے بچانے کی بنیاد پر چھتیں ہوں گی تاکہ دلے وقت سے پہلے مرنہ جائیں ۔

والذین اٰمنوا و عملوا الصٰلحات لانکلف نفسًا الا وسعھا اولٰئک اصحاب الجنة ھم فیھا خالدون
” اور جو لوگ ایمان اور درست اعمال والے ہیں ہم کسی انسان کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتے مگر اس کی وسعت کے مطابق یہی لوگ باغ والے ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے”۔ (42)

اچھے لوگوں کا تعلق جس کیساتھ بھی ہوگا اور ایمان سب کیلئے اپنے اپنے دین کے مطابق معتبر ہوگا۔صالح درست اعمال کو کہتے ہیں۔ تہجد گزار کا تعلق ایمان کیساتھ ہے اور رشوت نہیں لینے والے کا تعلق درست اعمال کیساتھ ہے۔

ونزعنا ما فی صدورھم من غلٍ تجری من تحتھم الانھٰر وقالوا الحمد للہ الذی ھدٰنا لھٰذاوما کنا لنھتدی لولا ان ھدٰنا اللہ لقد جاء ت رسل ربنا بالحق ونودوا ان تلکم الجنة اورثتموھا بما کنتم تعملونO(اعراف:43)
”اور ہم ان کے سینوں سے کدورت کو نکال دیں گے بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں اور کہیں گے کہ الحمدللہ کہ اللہ نے ہمیں اس کیلئے ہدایت دی اور ہم ہدایت نہیں پاسکتے تھے اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا۔ بیشک ہمارے رب کے رسول حق کیساتھ آئے اور انہیں آواز دی جائے گی کہ وہ ہے تمہارا باغ جس کے وارث بنائے گئے ،بسبب تم جو عمل کرتے تھے ”۔

صحابہ کرام نے رسول اللہۖ کی صحبت سے اسلام قبول کیا اور پھر لڑائیاں ہوئی تھیں مگر اعلیٰ ظرفی تھی لیکن موجودہ دور میں اللہ اپنے فضل سے لوگوں کے دلوں سے کدورت نکالیں گے۔

ونادٰی اصحاب الجنة اصحاب النار ان قد وجدنا ماوعدنا ربنا حقًا فھل وجدتم ماوعدربکم حقًا قالوا نعم فاذن مؤذن بینھم ان لعنة اللہ علی الظالمینO
باغ والے آگ والوں سے کہیں گے کہ بیشک ہم سے جو ہمارے رب نے وعدہ کیا تھا وہ ہم نے حق پایا تو کیا تم نے بھی پایا جو تمہارے رب نے تمہارے ساتھ وعدہ کیا۔ کہیں گے کہ ہاںجی۔پھر اعلان کرنے والا ان کے درمیان اعلان کردے گا کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہو”۔ (اعراف:44)

یہ لعنتی حلالہ والے ہی پہلے نمبر کے ظالم ہوں گے۔ مفتی تقی عثمانی وغیرہ علماء کو حلالہ کے خلاف بیانات سے روکتے تھے۔

الذین یصدون عن سبیل اللہ و یبغونھا عوجًا وھم بالاٰخرة کافرونO(سورہ اعراف:45)
”وہ لوگ جو اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور ٹیڑھا پن تلاش کرتے تھے اور وہ آخر ت کے بالکل کافر تھے”۔
”اصحاب اعراف ” حکومت کے ملازمین کو قرار دیا ہے۔

تڑپ رہا ہے فلاطوں میان غیب و حضور
ازل سے اہل خرد کا مقام ہے اعراف
تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف

وبینھما حجاب و علی الاعراف رجال یعرفون کلًا بسیما ھم و نادوا اصحاب الجنة ان سلام علیکم لم ید خلوھا و ھم یطمعونOاعراف:46
”پھر دونوں کے درمیان پردہ ہوگااور معرفت کی گیلری پر وہ آدمی بیٹھے ہوں گے جو ہر ایک کو نشانی سے پہچانتے ہوں گے وہ باغ والوں سے کہیں گے کہ السلام علیکم! لیکن وہ خود باغ میں داخل نہیں ہوں گے اور حسرت ہوگی کہ وہ اس جگہ پر ہوتے”۔

یہ حکومتی اہلکار انٹیلی جنس ایجنسی سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ اچھے اور برے دونوں طبقات کا ان کے پاس ریکارڈ ہوگا ۔

واذا صرفت ابصارھم تلقاء اصحاب النار قالوا ربنا لا تجعلنا مع القوم الظالمینOاعراف:47
”جب ان کی نگاہیں آگ والوں پر پڑیں گی تو کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں ظالم قوم کیساتھ مت بناؤ”۔

حکومتی کارندے کہیں گے کہ ہم بھی فرشتے نہیں ہیں لیکن دین کے نام پر جو عزتیں بچاتے تو ان کا جھوٹ سے فحاشی کو اللہ کا حکم قرار دینا اور سود میں اضافہ کرکے سود کو اسلام قرار دینا ۔

ونادٰی اصحاب الاعراف رجالًا یعرفونھم بسیماھم قالوا ما اغنٰی عنکم جمعکم وکنتم تستکبرونO(سورہ الاعراف:آیت:48)
”اور اصحاب اعراف (ایجنسی پہچان رکھنے والے) کچھ آدمیوں کو آواز دیں گے کہ تمہارا مال جمع کرنا تمہیں کام نہیں آیا؟ اور وہ جو تم تکبر کرتے تھے ؟”۔

مفتی محمود کوضدسے مفتی تقی عثمانی نے پان کھلادیا اور جب وہ بیہوش ہوکر نڈھال ہوگئے تو مفتی رفیع عثمانی نے حلق میں گولی ڈالی دی۔ نہ حکیم نہ ڈاکٹر اور نہ دل کا مریض تو گولی کہاں سے آئی؟۔ علامہ شبیراحمد عثمانی کو زہر کھلانے کا معاملہ مفتی تقی عثمانی نے فوج پر ڈالنے کی کوشش کی تو تحقیق کرنی چاہیے۔

اھٰؤلاء الذین اقسمتم لا ینالھم اللہ برحمةٍ ادخلوا الجنة لا خوف علیکم ولا انتم تحزنونO
”کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسم کھاتے تھے کہ اللہ ان سے رحمت کیساتھ نہیں ملے گا؟۔ داخل ہوجاؤ باغ میں تمہارے اوپر کوئی خوف ہوگا اور نہ تم غم کھاؤگے”۔ (49)

ایک طرف فوج، بیوروکریسی ، تاجروں، پڑھے لکھے طبقے ، مذہبی جماعتوں اور عوام الناس کی خواتین کی عزتیں حلالہ کے نام لوٹنے والے ہوں اور دوسری طرف بچانے والے۔ لوٹنے والے شیطان کے ساتھی بن کر جھوٹی قسمیں کھاچکے ہوں گے۔

ونادٰی اصحاب النار اصحاب الجنة ان افیضوا علینا من الماء او ممارزقکم اللہ قالوا ان اللہ حرمھما علی الکافرینO(سورہ الاعراف:50)
” اور آگ والے باغ والوں کو پکاریں گے کہ ہمیں جو اللہ نے تمہیں پانی اور کھانا دیا ہے اس کا فیض پہنچائیے۔ وہ کہیں گے کہ بیشک اللہ نے کافروں پر دونوں کو حرام کیا ہے”۔

کافر کے سینگ اور لمبی دم نہیں ہوتی ہے جو قرآن کے منکر ہیں وہی کافر ہیں ۔ حلالہ اور طلاق کوکھیل کود بنایا ہوا تھا۔

الذین اتخذوا دینھم لھوًا و لعبًا و غرتھم الحیاة الدنیا فالیوم ننساھم کما نسوا لقاء یومھم ھٰذا و ما کانواباٰیاتنا یجحدونO(سورہ اعراف:آیت51)
” جنہوں نے اپنے دین کو لغو بنادیا اور کھیل بنادیا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں رکھا۔پس آج ہم تمہیں بھلا دیتے ہیں جیسے آج کے دن کا جھگڑا تم نے بھلایا تھا۔ اور جو تم ہماری آیات کے بالکل آخری حد تک انکار کے مرتکب تھے”۔

ولقد جئناھم بکتاب فصلنٰہ علٰی علمٍ ھدًی و رحمةً لقومٍ یؤمنونO(سورہ اعراف آیت:52)
”اور تحقیق ہم انکے پاس کتاب لائے ہیں جس میں ہم نے ہدایت کے علم اور رحمت کو واضح کیا ہے مؤمن قوم کیلئے”۔

حلالہ کی لعنت سے تحفظ دینے کیلئے علوم ہدایت ابواب کے ابواب کھول دئیے ہیں اور اس کے آگے پیچھے اور خود اس آیت میں عزت کو تحفظ دینے کیلئے رحمت کا وہ بیانہ واضح کیا ہے۔

ھل ینظرون الا تأویلہ یوم یأتی تأویلہ یقول الذین نسوہ من قبل قدجاء ت رسل ربنا بالحق فھل لنا من شعفاء فیشفعوا لنا او نرد فنعمل غیرالذی کنا نعمل قد خسروا انفسھم وضل عنھم ما کانوا یفترونO(سورة الاعراف آیت:53)
” کیا یہ دیکھتے مگر صرف اس کی تاویل کو۔ اس دن اس کی تاویل آئے گی تو کہیں گے کہ ہم پہلے بھول گئے۔بیشک ہمارے رب کے رسول حق کے ساتھ آئے تو ہمارا کوئی سفارشی ہے جو ہماری سفارش کرے یا ہم واپس لوٹ جائیں تاکہ عمل کریں وہ جو نہیں کرتے تھے ۔بیشک انہوں نے اپنی جانوں کو خسارے میں ڈالا۔ اور جوا فتراء کرتے تھے وہ چھوٹ گئیں”۔

حضرت علی نے قرآن کی تاویل حلالہ کے خلاف لڑائی لڑی تھی اور آج علی کا بیٹا اسی مشن پر اللہ کے فضل سے گامزن ہے۔

سورہ رحمان اور سورہ واقعہ میں دنیاوی باغات، ڈبہ پیک اشیاء ، ہائی بریڈ پھلوں اور قد کے برابر گاڑیوں کا ذکر ہے جب وہ سمجھ جائیں گے کہ قرآن کی آیات کی یہ تاویل تھی تودیکھتے ہی رہ جائیںگے۔ وہ کہیں گے کہ ہم یہ سمجھنا بھول گئے تھے۔

ان ربکم اللہ الذی خلق السمٰوات والارض فی ستة ایامٍ ثم استویٰ علی العرش یغشی اللیل النھار یطلبہ حثیثًا والشمس والقمر و النجوم مسخراتٍ بامرہ الا لہ الخلق والامر تبارک اللہ رب العالمینO
”بیشک تمہارا رب اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر سیدھا ہوا۔ رات سے دن کو ڈھانپا ہے تیزگام اور سورج ، چاند اور ستاروں کو مسخرکیا اپنے امر سے بڑی برکت والا ہے تمام جہانوں کا رب”۔( اعراف:54)

ادعوا ربکم تضرعًا و خفیةً انہ لاحب المعتدینO
”اپنے رب کو عاجزی اور چپکے سے پکارو، بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے”۔(اعراف:55 )

ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا وادعوہ خوفًا و طمعًا ان رحمت اللہ قریب من المحسنینO
”اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت کرو اور اس کو پکارو خوف اور امید سے بیشک اللہ کی رحمت اچھائی کرنے والوں کے قریب ہے”۔ (سورہ اعراف:56)

پوری دنیا کے حکمرانوں کی پوٹی پچھاڑی میں پھنسی ہوئی ہے جو آزادنہ نقل و حرکت نہیں کرسکتے ۔ برسر اقتدار ہیں تو خوف کہ حملہ ہوگا اور چھوڑیں تب بھی خوف تو اس سے زیادہ بگاڑ تاریخ کے کس دور میں لوگوں نے دنیا میں دیکھا ہے؟۔ قرآن کی برکت سے کافروں کے دلوں سے وہ نفرت اور خوف ختم ہوگا۔

وھو الذی یرسل الریاح بشرًا بین یدی رحمتہ حتٰی اذا اقلت سحابًا ثقالًا سقناہ لبلدٍ میتٍ فانزلنا بہ الماء فاخرجنا بہ من کل الثمرات کذٰلک نخرج الموتٰی لعلکم تذکرونO(سورہ اعراف:57)
” اور وہ وہی ہے جو خوشخبری کی ہوائیں بھیج دیتا ہے جو اسکی دست قدرت سے اسکی رحمت ہے۔ یہاں تک کہ جب ہوا بھاری بادل کو اٹھالاتی ہے تو ہم اس بادل کو مردہ شہر کی طرف لے آتے ہیں ،پس اسکے ذریعے پانی نازل کرتے ہیں تو اسکے ذریعے ہر قسم کے پھل اگا تے ہیں۔ اس سے ہم مرد ہ ضمیروں کو بھی نکالتے ہیں شاید کہ تم اس سے کچھ نصیحت حاصل کرو”۔

مردہ زمین کی آبیاری کیلئے قدرت وہ کرتی ہے جو مردہ ضمیر چلتی پھرتی لاشوں میں ہدایت کی ہوائیں بھی چلاتی ہے۔

والبلد الطیب یخرج نباتہ باذن ربہ والذی خبث لا یخرج الا نکدًا کذٰلک نصرف الاٰیات لقوم یشکرونO(سورہ اعراف:58)
”اور جو شہر پاک ہے وہ اپنی پود نکالتا ہے اپنے رب کے حکم سے اور جو خبیث ہے وہ نہیں نکالتامگر منحوس ۔ اسی طرح ہم شکر گزار قوم کیلئے آیات کو مختلف انداز میں پھیرتے رہتے ہیں”۔

مکہ پاک شہر تھا ۔ بدرمیں70، غزوات میں جو مارے گئے اور ابولہب سے زمین کی پاکی پر اثر نہیں پڑا ۔ مدینہ میں منافقین ویہود تھے۔ پاک سر زمین شاد وباد کی فضائیں آزمائش سے آلودہ ہیں لیکن یہ انشاء اللہ جلد از جلد معاملہ بدلے گا اور ظلم وجبر اور خناس کے تمام فسادات کا جڑوں سے خاتمہ ہوجائے گا۔ انقلاب کی آیات کا بلد طیب پاک ملک پر اختتام معنی خیزہے۔ پنجابی مولانا عبیداللہ سندھی اور خلیفہ غلام محمد بلوچ خانپور کی مضافاتی بستی دین پور کا فیضان انقلابی زمین کابڑا مرکزہے ۔

لقد ارسلنا نوحًا الی قومہ فقال یاقوم اعبدواللہ مالکم من الٰہٍ غیرہ انی اخاف علیکم عذاب یومٍ عظیمٍO
”تحقیق ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجاتو کہا اے میری قوم!اللہ کی غلامی کرو تمیں کیا ہے کہ غیر کو معبود بنایا۔ بیشک میں تم پر عذاب عظیم کے دن سے ڈرتا ہوں”۔ (59)

سورہ اعراف میں پھر انبیاء کا ذکر ہے اور ان قوموں کا جن پر اچھے یا برے دنوں کا عذاب یا انعام آیا۔ مولوی اس کو قیامت پر ڈال دیتا ہے۔ خدا کا بندہ عذاب تو دنیا میں قوم نوح کو غرق کرگیا اور صرف کشتی والے بچ گئے۔ حلالہ والا بھی نہ بچا جو حقیقی بیٹا نہیں تھا اور حلالہ کا بیٹا ہونا اصل قصور نہیں تھا بلکہ اسکے کرتوت تھے۔

رسول اللہ ۖ نے اپنے اہل بیت کو کشتی نوح قرار دیا۔ سبھی ائمہ مجتہدین ائمہ اہل بیت کے قدردان تھے لیکن شاگردوں نے اپنے ائمہ کو چھوڑ دیا تو ائمہ اہل بیت کو کون پکڑتا؟۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

نوشتہ دیوار شمارہ ستمبر 2026
سورةالاعراف میں اسلامی انقلاب
قرآن و حدیث ترمذی و بخاری