پوسٹ تلاش کریں

گدی نشینوں کو انگریزیوں نے جاگیریں کیوں دیں؟۔

گدی نشینوں کو انگریزیوں نے جاگیریں کیوں دیں؟۔ اخبار: نوشتہ دیوار

مزاحمتی تحریکوں کو دبانے میں گدی نشینوں کا بھیانک کردار!
ڈاکٹر اکمل سومرو

پنجاب598مزارات کے64دربار کے گدی نشین متولی اور پیر براہِ راست سیاسی اقتدار کا حصہ ہیں۔ یہ محض روحانی مراکز نہیں بلکہ سیاسی جاگیریں ہیں جو برطانوی سامراج کے عہد سے طاقت، عقیدت اور اقتدار کیساتھ بندھی ہوئی ہیں۔

ان گدی نشینوں کی اندھی وفاداری کے ماتھے صرف خدا کے حضور نہیں جھکتے تھے، گورنر کے دفتر، ڈپٹی کمشنر کی کرسی اور تحصیل دار کے دروازے پر بھی سجدہ ریز ہوتے تھے۔ پیری مریدی کو مذہبی رشتے سے نکال کر سیاسی ہتھیار بنایا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کے دربار میں پیر کی کرسی روحانیت نہیں، وفاداری کی قیمت پر رکھی جاتی۔ مریدوں کی تعداد جتنی زیادہ، کرسی اتنی بڑی۔ انگریز کے ہاتھوں شاباش نامے دراصل عوام کی محکومی کے سر ٹیفیکیٹ تھے۔

السلام علیکم! میں ہوں اکمل سومرو۔یہ موضوع پاکستان کی سیاست، سماج اور تاریخ سے متعلق ہے جو صدیوں پرانی ہے۔ پاکستان1947کو بنا لیکن یہ تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے کیونکہ ہڑپہ، موہنجوداڑو ۔ بین الاقوامی سطح پر یہ تسلیم شدہ ہے کہ یہ دونوں تہذیبیں کم و بیش پانچ ہزار سال پرانی ہیں، بات کروں گا اس خطے کے اندر نوآبادیاتی تسلسل اور پنجاب کی سیاست۔ برطانوی عہد محض تاریخی باب نہیں، یہ آج بھی پنجاب کے سماجی، مذہبی اور سیاسی ڈھانچے میں بطورِ روحِ استحصال زندہ ہے۔طاقت کے فلسفے جو برطانوی سامراج نے1857کے بعد رائج کیے، آج سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ہمارے اقتدار کے خیموں میں سانس لے رہے ہیں انگریز نے محض حکومت نہیں کی۔ ذہنوں کو منظم انداز میں غلام، وفاداری کو معراج اور استحصال کو تقدیر بنا یا، پیری مریدی اور جاگیرداری کو سیاسی طاقت ٹھہرا کر ایسے طبقات تخلیق کیے جو ظاہرا ًمقامی تھے مگر فکراً برطانوی استعمار کے نمائندے تھے۔

یہ قومی قیادت کے نام پر مسلط ہوئے۔ نوآبادیاتی حکمتِ عملی تھی کہ مذہبی شناخت کو سیاسی وفاداری سے جوڑا جائے، پیر کو روحانی سے زیادہ سیاسی ایجنٹ بنادیا جس کے مزار پر چراغ جلتے تھے، اس کے محل میں وائسرائے کے حکم نامے پہنچتے تھے۔1876کا انکمبرڈ اسٹیٹ ایکٹ ہو اور1905کا کورٹ آف وارڈز جیسے قوانین اسی طبقاتی استحکام کے آلہ کار تھے۔ زمین، جاگیر اور اقتدار ایک ہی زنجیر کے حلقے بن گئے۔

سامراج نے مزاحمتی تحریکوں کے دباؤ میں جمہوریت کے نام پر کنٹرولڈ سیاست کا ناٹک رچایا تو ووٹ عوام کے نہیں بلکہ وفاداری کے بیلٹ باکس میں ڈالے گئے۔ اسمبلیاں بنیں مگر اقتدار انہی خاندانوں کا جن کے آبا اجداد نے سلطنتِ برطانیہ کے جھنڈے کو اپنی پیشانی کا تمغہ سمجھا تھا۔ سر چارلس نیپیئر نے سندھ پر قبضے کے بعد جاگیرداروں کو ‘قومی اشرافیہ’ کا لقب عطا کیا۔ گویا غلامی کو وقار اور استحصال کا وراثت بنا دیا گیا۔

انگریز نے صرف زمین نہیں دی بلکہ انسانی روحوں پر اختیار کا پروانہ بھی جاری کیا۔ پیری مریدی کو سیاسی ہتھیار بنایا گیا۔ سونے کے حروف میں لکھے گئے وہ اسناد اس غلامی کی یادگاریں تھیں جن پر آج بھی پنجاب کی سیاست فخر کرتی ہے۔

بندوق آزادی کی علامت پیروں کیلئے انعامِ وفاداری بن گئی۔یہی لمحہ تھا جب روحانیت نے سیاستی دربار میں گردن جھکا دی۔ انگریز سامراج نے جب اپنی سلطنت کی جڑیں مضبوط کرنے کیلئے مذہب کو ہتھیار بنایا تو پیر اس کی بہترین ایجاد بن گئے۔ روحانی پیشوا نہیں، سیاسی مجسٹریٹ۔ برطانوی سرکار نے ان پیروں کو اعزازی مجسٹریٹ کے عہدے دے کر تختِ عدالت کو مصلے میں بدل دیا۔ اب مریدوں کے فیصلے روحانیت سے نہیں، انگریز کی خوشنودی سے صادر ہوتے۔

جب عرب میں خلافت کے خلاف نئی مملکتوں کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں، ہندوستان میں تحریکِ خلافت کے نام پر عوام بیدار ہو رہے تھے مگر1922میں سندھ کے پیروں نے استعمار کے حق میں فتوے جاری کیے اوران فتووں میں بغاوت کو خطرہ اور غلامی کو امن قرار دیا گیا۔ انعام میں سکھر بیراج کے کنارے سینکڑوں ایکڑ جاگیریں، گولڈن خطابات دئیے ۔ انگریز دربار میں مخصوص نشستیں دیں۔ گویا وفاداری کی فصل خوب کاٹی گئی۔

یہی تھا برٹش پیر الائنس، ایک ایسا سیاسی اور روحانی معاہدہ جس نے برطانوی راج کو عوام کی رگوں تک سرایت کر دیا۔1849میں پنجاب پر قبضے کے بعد انگریز نے پنجابی پیروں کی ایک نئی نسل تیار کی، جو زمین کیساتھ ساتھ ایمان کی منڈی بھی سنبھالے۔ پنجاب میں شہری سیاست کو دیہی سیاست سے کاٹنے کا منصوبہ انہی درباروں کے ذریعے پورا ہوا۔ پیر صرف مزار کے متولی نہیں رہے، طاقت کے ایجنٹ بن گئے۔ سرکاری مشینری نے مریدوں کے ذہنوں میں یہ بیج بو دیا کہ ہمارا پیر ڈپٹی کمشنر تک رسائی رکھتا ہے اور یوں وہ عقیدت جو کبھی ایمان کی علامت تھی اب خوف اور محکومی کا ہتھیار بن گئی۔

برطانوی سامراج نے پنجاب میں امپیریل لیجسلیٹو کونسل (Imperial Legislative Counsil)تشکیل دی تو جمہور کی نہیں، جاگیرداروں کی نمائندگی یقینی بنائی گئی۔ اقتدار کے ایوانوں میں وہی پیر، وڈیرے اور سجادہ نشین داخل کیے گئے جن کے درباروں سے انگریز کے حق میں دعائیں بلند ہوتی تھیں۔ جمہوریت کا یہ ڈھانچہ دراصل غلامی کا نیا چہرہ تھا جہاں تاجِ برطانیہ کے وفاداروں کو عوامی نمائندہ قرار دے کر عوام کو ان کے قدموں میں جھکنے پر مجبور کیا گیا۔

سامراج نے وفاداری کو زمین سے جوڑااور زمین کو قانون سے محفوظ کر دیا۔1900کا قانونِ انتقالِ اراضی اس غلامی کا سب سے مکروہ پہلو تھا، دیہی علاقوں میں انہیں زمین خریدنے کا حق دیا گیا جو پیری مریدی سے وابستہ تھے، یعنی زمین پر قبضہ روحانی وفاداری کی سند پر۔ جنوبی پنجاب کے سید، قریشی اور سجادہ نشین زراعت پیشہ قرار دیے گئے تاکہ ان کی جاگیریں قانونی تحفظ کے خول میں ہمیشہ کیلئے محفوظ رہیں۔ اس قانون نے کسان کو مزدور اور پیر کو مالک بنا دیا۔ یہ وہ طبقہ تھا جو دیہی شعور، تعلیم اور بیداری کو اپنی تباہی سمجھتا تھا کیونکہ علم بیدار ہوتا ہے تو اقتدار لرزتا ہے، یہی وجہ تھی کہ پیر اور جاگیردار دونوں دیہات کو جہالت کے اندھیرے میں رکھنے کے ضامن بنے۔

1901میں پنجاب سیٹلمنٹ کمشنر جے ولسن نے لکھا کہ پیروں کی جاگیروں کو سیاسی وجوہات کی بنا پر محفوظ رکھا جائے، اور جلیانوالہ باغ کے خون میں ہاتھ رنگنے والا لیفٹیننٹ گورنر سر مائیکل ڈائر خود ان سجادہ نشینوں کا سب سے بڑا محافظ تھا۔ انگریز کو معلوم تھا کہ توپوں سے بغاوت دبائی جا سکتی ہے مگر پیروں کے منبر سے ذہنوں کو غلام بنایا جا سکتا ہے۔ برطانوی راج نے ان پیروں کو صرف زمین نہیں دی، فوجی وردیاں بھی دیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں یہی پیر ریکروٹمنٹ آفیسر بنے، اپنی مریدی فوج سے جوانوں کو برطانوی جنگی مقصد کیلئے بھرتی کرنے اور بدلے میں اعزازی کیپٹن کے تمغے پاتے۔

1920کی مونٹیگو چیمسفورڈ اصلاحات (Montagu Chelmsford Reforms) کے صوبائی انتخابات ہوئے تو پنجاب کے27دیہی مسلم نمائندوں میں سے پانچ پیر خاندانوں سے تھے، یعنی مذہبی دربار قانون ساز اداروں میں بیٹھ چکے تھے۔1923میں میاں فضل حسین نے یونینسٹ پارٹی قائم کی تو یہی پیر، یہی جاگیردار اسکے ستون بنے۔ جمہور کا کوئی حصہ نہ تھا، صرف وہی لوگ اقتدار کے قریب پہنچے جنہیں سامراج نے اپنے سیاسی سپاہی کے طور پر تیار کیا تھا۔ میاں فضل حسین بظاہر شہری پس منظر رکھتے تھے مگر ان کی سیاست انہی جاگیردارانہ حلقوں سے پروان چڑھی جہاں عوام کی رائے بے قیمت اور پیر کا اشارہ حکمِ مطلق تھا۔ پنجاب میں جمہوریت کا بیج بویا مگر زمین اور قانون انگریز کا تھا اور نمائندے وہی جاگیردار پیر جو سامراج کی روحانی وردی پہنے بیٹھے تھے۔

اس تاریخ نے پنجاب کی سیاست کو روحانیت کے لبادے میں جاگیرداری کا وہ طلسم عطا کیا جو آج تک ٹوٹ نہیں سکا۔ پنجاب598مزارات کے64دربار کے گدی نشین، متولی اور پیر براہِ راست سیاسی اقتدار کا حصہ ہیں۔ روحانی مراکز سیاسی جاگیریں برطانوی سامراج سے طاقت، عقیدت اور اقتدار کیساتھ بندھی ہوئی ہیں۔ سرگودھا، جھنگ، پاکپتن، ساہیوال، وہاڑی، اوکاڑہ، ملتان، چشتیاں، خیرپور ٹامیوالی، وہ خطے ہیں جہاں گدی نشینی نے عوامی نمائندگی کو غلامی میں بدلا۔

پیروں نے1857کی جنگِ آزادی میں انگریز سامراج کا ساتھ دیا، مجاہدینِ حریت کو باغی قرار دیا اور انعام کے طور پر زمینیں، خطابات اور اقتدار کے پرچم پائے۔ مذہب کے نام پر وفاداری کا فتوی دیا۔ آزادی کی جنگ کو بغاوت کا گناہ ٹھہرایا۔ انگریز نے ان گدی نشینوں کو نوآبادیاتی پاور اسٹرکچر کا ستون بنایا۔ کورٹ آف وارڈ سسٹم کے تحت پیروں اور سجادہ نشینوں کو زمینیں عطا کی گئیں تاکہ وہ مریدوں کے ذریعے اقتدار کے دیہی ڈھانچے کو قابو میں رکھیں۔ اس نظام نے مذہبی اختیار کو معاشی طاقت اور سیاسی اقتدار کیساتھ جوڑ دیا ۔ پنجاب کی سماجی و سیاسی شناخت کو ایک مستقل تابعداری میں بدل دیا۔

1930کی برطانوی فہرستوں میں یہ مناظر کس وضاحت سے ثبت ہیں۔ شاہ پور کے غلام محمد شاہ اور ریاض حسین شاہ کو6,423ایکڑ جاگیر ملی اسی وفاداری کے تحت۔ اٹک سردار شیر محمد خان کو25,185ایکڑ جاگیر ۔ جھنگ شاہ جیونا خاندان کو9,564ایکڑ اراضی ۔ ملتان گیلانی و گردیزی سادات کو مجموعی طور پر18,500ایکڑ سے زائد زمین تحفے میں انگریز نے دی جلالپور پیر والا سید غلام عباس اور سید محمد غوث کو34,144ایکڑ زمین دی گئی۔ لڈھن دولتانہ خاندان کو21,680ایکڑ اراضی برطانوی استعمار کی جانب سے عطا کی گئی۔

مظفر گڑھ سے دیوان محمد غوث، سید باندے شاہ، مخدوم محمد حسن، تراب علی شاہ، عامر احمد شاہ، سید غلام سرور شاہ، سید جند وڈا شاہ، میانوالی سے سید قائم حسین شاہ، غلام قاسم شاہ، شاہ پور سے پیر چند ، نجف شاہ، فیروز دین شاہ، سلطان علی شاہ، علی حیدر شاہ اور جھنگ سے محمد شاہ، اللہ یار شاہ، محمد غوث، بہادر شاہ، یہ سب سامراج کے درباری ذیلدار بنائے گئے تاکہ طاقت مزار کی چوکھٹ سے نکل کر گورے حاکم کے دربار پر جھک جائے ۔

برطانیہ نے180سال کی غلامی کے بعد1937میں محدود انتخابات کرائے تو وہی پیر، جاگیردار، ذیلدار یونینسٹ (Unionnist Party) پارٹی کے نام پر ووٹوں کی زکوٰة وصول کرنے لگے۔1946میں بھی قریشی، گیلانی، شاہ جیونا، مخدوم اور پیر لال بادشاہ کے خاندان اقتدار کے ایوانوں میں تھے، وفاداری کے پرانے خریدار نئے جھنڈے کے نیچے یکجا تھے۔ جب فضاء میں پاکستان کا نعرہ گونجا تو انہوں نے فوراً اپنا رخ بدل لیا، انگریز کے دربار سے نکل کر مسلم لیگ کے کیمپ میں پناہ لے لی۔ ان کے لیے نظریہ نہیں، مفاد ہی ایمان تھا۔

قیامِ پاکستان کے بعد ان گدی نشینوں نے نئے وطن کی سیاست پر پرانی غلامی کی چادر اوڑھ لی۔ ایوب خان کے بنیادی جمہوریتوں کے تجربے سے لیکر ضیا الحق کے اسلامائزیشن کے نعرے تک اور پرویز مشرف کے روشن خیال اعتدال تک یہ پیر ہر اقتدار کے روحانی سرپرست رہے۔ جب آمریت کو تقدس درکار ہوتا تو دربار اپنی تسبیح پھیرتے، جمہوریت کو ووٹ درکار ہوتے تو یہ مریدوں کی قطاریں بنواتے۔ پنجاب کی سیاست میں آج بھی یہ درباری خاندانی اجارہ داری قائم ہے۔

ان حلقوں میں روحانیت کی چھاؤں تلے جہالت کی فصل لہلہاتی ہے۔ مزاروں کے مینار بلند مگر شرحِ خواندگی زمین بوس ان کے ووٹر، مرید آج بھی عقیدت کے نام پر غلامی کی مہر لگا بیٹھے ہیں۔ یہ پیری سیاست کے وارث جو قوم کی تقدیر پر فاتحہ پڑھ کر اقتدار کی دعا مانگتے ہیں۔ سر مائیکل ڈائر نے جلیانوالہ باغ میں خون بہایا، وہی جاگیرداروں اور پیروں کو تحفظ دینے کا داعی بنا تھا۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا، یہ طاقت کی منظم منصوبہ بندی تھی۔ پیروں کو جاگیریں، خطابات اور اعزازی عہدے دے کر نوآبادیاتی سیاست کو مذہبی لبادہ پہنایا گیا۔

یوں استعمار کا گدی نشین پیدا ہوا جو انگریزوں کے حق میں فتوی دیتا اور بغاوت کو کفر ٹھہراتا۔ آج انہی گدی نشینوں کے وارث قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں جمہوریت کے علمبردار بنے بیٹھے ہیں۔ محکمہ اوقاف کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پنجاب کے مزارات سے سالانہ ڈیڑھ ارب روپے کی آمدن ہوتی ہے مگر ان وسائل کا کوئی حصہ عوامی بہبود پر خرچ نہیں ہوتا۔ مزارات کے ساتھ منسلک جاگیریں آج بھی گدی نشینوں کے کنٹرول میں ہیں جیسے کبھی انگریز کے زمانے میں تھیں۔

یوں نیو کولونیل (Neo Colonialism)پاکستان میں طاقت کا چہرہ تو مقامی ہو گیا مگر روح سامراجی ہے۔ برطانوی حکمتِ عملی کا فارمولا آج کے پنجاب میں زندہ ہے۔ مزاروں سے منسلک سیاسی حلقے، وراثتی سیاست، جاگیرداری کی دستار اور مذہبی تقدس کا نقاب، یہ وہی مقدس طاقت ہے جو جمہوریت کے ایوانوں میں بیٹھ کر عوام کے حقِ اختیار کو مسلسل یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ پاکستان کی سیاست کا یہ نوآبادیاتی تسلسل بتاتا ہے کہ ملک آزاد ضرور ہوا مگر طاقت آزاد نہیں ہوئی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا، یہ جاننا ہوگا اور ہم اگر یہ سمجھ گئے، جان گئے اور شعور حاصل کر لیا تو یقینا پاکستان حقیقی جمہوریت کے سفر پر گامزن ہوگا۔ مجھے اکمل سومرو کو اجازت دیجیے، اللہ حافظ۔

ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

پیر طریقت ڈاکٹر فدا محمد خلیفہ مولانا اشرف ،
پاکستان کے کون کونسے گدی نشین اور چوہدری انگریزوں کے مخبر تھے؟
شوہر نے بیوی کا حلالہ دوست سے کروایا دوست طلاق کے بجائے ہنی مون پر چلاگیا۔