دورحاضر اور گزشتہ ادوار کے علماء حق کے نام جنہوں حق کوببانگ دہل تسلیم کیا
جولائی 23, 2026
حضرت مولانا اکرم سعیدی روڈ ایکسیڈنٹ میں مرتبہ شہادت کو پہنچ گئے۔ ڈاکٹر فداء خلیفہ مولانا اشرف سلیمانی نے اپنے ایک ڈاکٹر کا حادثے میں شہادت کا لکھا ہے۔
علماء حق کے قلم کی سیاہی کو شہداء کے خون سے اسلئے ہی افضل قرار دیا ہے کہ ان کا درجہ مصدقین اور صدیقین کا ہوتا ہے۔ مکذبین حق کی تکذیب کرنے والے کافر ہوتے ہیں اور مصدقین حق کی تصدیق کرنے والے صدیقین ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ۖ کو اجنبی اسلام ملا تھا اسلئے سورہ مجادلہ نازل ہوئی۔ جاہلیت کی طلاقیں عورتوں کیلئے اذیت تھیں۔ ظہار کے بعد ناممکن تھا۔حرام پر مغلظہ، اکٹھی تین طلاق پر حلالہ اور طلاق بائن سے تعلق ختم ، رجعی میں عورت کی رضا مندی کے بغیر رجوع ہوتا تھا لیکن افسوس کہ پھر قرآن چھوڑ کر جاہلیت مسلط کی گئی۔ قرآن کو بوٹی بوٹی کردیااور چھوڑ دیا۔ علماء حق کا تعلق صرف مسلمان فرقوں یا جماعتوں سے نہیں بلکہ دوسرے مذاہب سے بھی ہے اور علماء سو کا کوئی فرقہ نہیں ہوتا بلکہ ہرفرقے اور مذہب میں علماء سو ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے تمام علماء حق اور عیسائی یہودی پادری اور ہندو پنڈتوں سے بھی حق سمجھنے کی ایک اپیل کرتا ہوں۔
قرآن میں علماء سو کی مثال گدھوں اور کتے سے دی گئی۔
پنجابی کہتے ہیں کہ ”جتھے دی کھوتی اوتے ان کھلوتی”۔ علامہ محمد اسد یہودی سے مسلمان بن گیاتھا۔ پاکستان کا پہلا پاسپورٹ نمبر000001پندرہ ستمبر1947ء کو جاری ہوا تھااور اس نے اسلام اسلئے قبول کیا تھا کہ قدیم یہودی اور مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں ،قرآن و احادیث میں حلالہ کی لعنت بھی ایک تھی۔ اس بیچارے کویہ پتہ نہیں تھا کہ یہود کے نقش قدم پر ہم مسلمان بھی اپنے دین میں معنوی تحریف کا ارتکاب کرچکے۔ جس کا علامہ انورشاہ کشمیری نے کھل کر تحریری اور زبانی اقرار کیا تھا لیکن حالات کو سدھانے کیلئے موقع نہیں ملا کیونکہ آخری دور1920میں شیخ الہند اور33ء مولانا کشمیری سے کیا ہونا تھا؟۔
سوشل میڈیا اور مواصلات کے ذرائع، لکھنے اور چھاپنے کی آسانی اور پہنچانے میں عدم دشواری اور پڑھے لکھے لوگوں کی بھی اکثریت لیکن19سال ہوگئے اور بہت ساروں کی تائید کے باوجود بھی تاحال تک کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی لیکن جب آئے گی تو
واذالسماء شقت واذنت لربھا و حقت
چھت پھاڑ کر آئے گی ، انشاء اللہ العزیز الرحمن الرحیم المتعال
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ طلاق بہت حساس موضوع ہے
اور نایاب اور حساس کی طرف اکثر لوگ توجہ نہیں دیتے اور میں بھی نہ دیتا لیکن کئی بار پھنس گیا تو پھرآخر میں قرآن سے دماغ کھل گیا اوراحادیث بھی قرآن کے خلاف نہیں تھیں ۔ علم کی درست بنیادوں پر اچھے علماء کی حوصلہ افزائی بھی دیکھی تھی۔
قرآن میں طلاق کا پہلا ذکر آیت227البقرہ میں ہے۔ جبکہ اس سے پہلے 222،223،224،225،226کی5آیات میں طلاق کے مقدمات بیان ہوئے ہیں۔ اس کے بعد228،229،230،231اور232کی5آیات میں پھر طلاق کی تمام تفصیلات بیان ہوئی ہیں جن میں کوئی ابہام نہیں ۔ لیکن قرآن کے سادہ متن کو سمجھنے کے بجائے اس کی بوٹی بوٹی کرکے سمجھنے کی کوشش کریں گے اور کٹے ہوئے بکرے یا بکری کو سمجھنے کیلئے بوٹی بوٹی اور عضو سے سمجھیں گے تو مشکل ہوگی؟۔
علماء حق اور قارئین کے سامنے گر کی بات رکھ دیتا ہوں کہ
وان عزم الطلاق فان اللہ سمیع علیمO البقرہ:227
”اور اگر اس کا عزم تھا طلاق کا تو اللہ سننے جاننے والا ہے”۔
عزم دل میں ہوتا ہے اور اللہ وہ بھی سنتا اور جانتا ہے لیکن یہ کیوں فرمایاہے؟۔ سیاق وسباق آگے پیچھے کو کہتے ہیں۔ اس سے پہلے آیت226میں
تربص اربعة اشھر
کا ذکر ہے۔ چار مہینے کا انتظار ہے۔ آیت228میں
یتربصن بانفسھن ثلاثة قروء
کا ذکر ہے۔تین ادوار یا تین مہینے کا انتظارہے۔
اگر طلاق کا اظہار کیا تو عدت تین ماہ اور اگر طلاق کا اظہار نہیں کیا تو چار مہینے کا انتظار ہے۔
دونوں عدتوں میں ایک ماہ کا فرق ہے۔ اگر طلاق کا عزم تھا اور اظہار نہیں کیا تو یہ دل کا گناہ ہے اور اس پر اللہ کی پکڑہے۔ کیونکہ ایک مہینے عورت کاعدت کو بڑھانا خوامخواہ میں یہ بہت بڑا جرم ہے۔ طلاق دینے کا عزم نہیںتھاتو ایک مہینے زیادہ انتظار کا موقع بھی مل جائے گا لیکن اگر عورت راضی نہیں ہوئی تو چار ماہ کے بعد عدت پوری ہے اور وہ عورت جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔جب رسول اللہۖ نے ایلاء کیا تو ایک ماہ میں رجوع فرمایا ۔اللہ نے حکم دیا کہ ان پر علیحدگی کا اختیار واضح کردیں تاکہ قیامت تک عورتیں مسائل کا شکار نہیں ہوں۔ عورت سے اس کا اختیار چھین لینا بہت بڑی زیادتی ہے ۔ جاہلیت میں عورتیں انہی اذیتوں کا شکار تھیںاور سوچنے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایک ماہ عدت بڑھانا دل کا گناہ تھا تو زیادہ عدت بڑھانے کاسوال پیدا ہوتا ہے؟۔ جاہلیت میں شوہر طلاق کا اظہار نہ کرتاتھا تو بیوی بڑی رلتی تھی۔
”اللہ تمہیں لغوایمان پر نہیں پکڑتا مگر جو تمہارے دلوں نے کمایا” ۔البقرہ آیت225۔شیاطین نے ہر جانب سے اللہ کا حکم بوٹی بوٹی بنانے میں کردار ادا کیا تھا۔ ایک طرف عدت کی مدت بڑھانا، دوسری طرف لغو طلاقیں حرام، مغلظ ، بتہ وغیرہ کی جعل ساز شریعت جس میں الفاظ منہ سے نکلتے تو بیوی سے جدا ہونا پڑتا تھا۔ اللہ نے واضح کردیا کہ ان لغویات سے خدا تمہیں نہیںپکڑتا ہے مگر دل کے گناہ پر پکڑتا ہے۔
قرآن کی آیات کو عربی اور اپنی اپنی زبانوں میں دل نشین کرلو اور پھر احادیث صحیحہ کا درست تجزیہ کرکے خلفاء راشدین کے فیصلوں کو بھی اچھی طرح سے سمجھ لو اور پھر ائمہ مجتہدین کے مسالک کو سمجھ لو تو اسلام روح، ذہن اور دل کی غذا بن جائے گا مگر قرآن وحدیث کو سمجھے بغیر فقہاء بھی سمجھ میں نہیں آسکتے ۔
میں اسلئے نہیں کہتا ہوں کہ امام ابوحنیفہ کے مسلک سے مجھے تربیت ملی ہے کہ امام ابوحنیفہ امام اعظم کہلانے کے مستحق تھے بلکہ قرآن و حدیث کو سمجھنے کے بعد امام ابوحنیفہ کے مسلک حق کو سمجھنے میں زبردست مدد ملی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ شافعی، مالکی، حنبلی، اہلحدیث اور شیعہ بھی امام ابوحنیفہ کے مسلک کو اپنے دل اور دماغ کیساتھ قبول کر کے اسلام کا پرچم بلند کریں گے۔
للذین یؤلون من نسائھم تربص اربعة اشھرٍ فان فائوا فان اللہ غفور رحیمO (سورہ بقرہ آیت226)
”ان لوگوں کیلئے جنہوں نے اپنی عورتوں سے ایلاء کیا ہے چار مہینے کا انتظار ہے پس اگر وہ مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے”۔
باقی لوگ علامہ ابن قیم شاگرد امام ابن تیمیہ وغیرہ اور سب جمہور کے نزدیک یہ آیت طلاق سے کوئی تعلق نہیں رکھتی ہے ۔ امام اعظم ابوحنیفہ واحد فقیہ ہیں جو اس کو طلاق قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ طلاق کا ذکر اگلی آیت227میں پہلی بار ہواہے لیکن یہ بالکل واضح ہے کہ آیت227کا تعلق آیت226اور225سے بھی ہے ۔224،223،222تک اس کی جڑیں بہت مضبوطی سے پھیلی ہوئی ہیں۔قرآن کی مثال اس پاک درخت کی طرح ہے جس کی جڑیں مضبوط اور شاخیں آسمان تک پھیلی ہوئی ہیں جو اپنے ہر وقت پر اپنا پھل دینے کا سلسلہ رکھتا ہے۔
آیت227البقرہ میں طلاق کے ساتھ گناہ کو باندھ دیا۔ اسلئے کہ آیت226کے ایلاء میں4مہینے کا انتظار ہے اور پھر228میں تین مہینے کا انتظار ہے اور طلاق دونوں میں ہے جبکہ عربی میں طلاق صرف الفاظ کا نام نہیں ہے بلکہ عورت چھوڑنے اور اس سے علیحدگی اختیار کرنے کو ہی طلاق کہتے ہیں۔
قرآن میں طلاق کے ترازو میں اگرآیت227سے پہلے اور بعد کی آیات کو انصاف کیساتھ وزن کیا جائے تو نتیجہ کیا نکلتا ہے؟۔ آیت226میں چار ماہ کی عدت اور228میں طلاق کا اظہار کرنے کے بعد تین ماہ کی عدت واضح ہے۔
مثلاً زاہد نے اپنی بیوی سلمہ سے ایلاء کیا اور طلاق کا اظہار نہیں کیا۔ سلمہ نے4مہینے تک انتظار کیا اور پھر کسی اور شوہر سے نکاح کرلیا۔ سلمہ کو 4مہینے کی عدت میں کتنی اذیت ہوگی؟۔
یاپھر زاہد نے اپنی بیوی سے کہا کہ تجھے طلاق اور سلمہ نے تین مہینے تک اس کا انتظار کیا تو سلمہ کو کتنی اذیت ہوگی؟۔
دونوں صورتوں میں سلمہ کی ذہنی اذیت کا اندازہ لگا یاجائے تو پہلی صورت میں رجوع کی زیادہ توقع ہوگی اور دوسری میں رجوع کی کم توقع ہوگی اسلئے اذیت میں کچھ زیادہ فرق نہ ہوگا۔
جمہورشیعہ، شافعی، مالکی، حنبلی، اہل حدیث، ابن قیم ، ابن تیمیہ اور داؤد ظاہر ی وغیرہ کے ہاں تو قرآن میں چار ماہ کے بیان کی کوئی اوقات ہی نہیں ہے۔ ساری زندگی ہی عورت نے اپنے شوہر کا انتظار کرنا ہے جب تک کہ وہ زبان سے طلاق کا اظہار نہیں کرتا ہے۔ قرآن کے واضح الفاظ چار مہینے کے انتظار کو ہی ان لوگوں نے شیطانی دماغ سے بالکل لغو بنادیا ہے۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے کہا تھا کہ مسلک حنفی میں15فیصد امام ابوحنیفہ کے مسلک پر عمل ہوتا ہے لیکن باقی85فیصد شاگردوں کے مسلک پر عمل ہورہاہے۔
یعنی امام ابوحنیفہ سے امام ابویوسف وغیرہ سب منحرف ہوگئے تھے۔
یہ امام ابوحنیفہ سے انحراف کا نتیجہ ہے کہ قرآن کی درست تعلیمات سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک ایلاء کی عدت چار ماہ ہے اسلئے کہ قرآن بالکل واضح ہے مگر شاگردوں نے جمہوری کی طرف جھکاؤ کا مظاہرہ کرتے ہوئے قرار دیا کہ چار ماہ کے بعد طلاق ہوگی اور پھر عورت کی عدت شروع ہوگی اور یوں چار مہینے کیساتھ تین مہینے مزید ملائے جائیں تو عورت کو جعل ساز حنفی مسلک میں7مہینے کی عدت گزارنی ہوگی۔
اس کے بعد پھر ایک بہت بڑا معرکہ شروع ہوگیا۔ مسلک حنفی والوں نے کہا کہ چار مہینے کے بعد نکاح ختم ہوگیا اور باقی کہتے ہیں کہ نکاح برقرار ہے۔ دیکھو یہ دلے کیسے ظالم قصائی بن گئے ہیں۔ قرآن کی آیات کے احکام کو کتوں کی طرح اپنی اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔جمہور کہتے ہیں کہ پہلے شوہر کا نکاح باقی ہے اور وہ عورت بدستور پہلے شوہر کے نکاح میں ہے لیکن حنفی کہتے ہیں کہ عورت پہلے شوہر کے نکاح سے نکل چکی ہے اور عدت کے دن گزار رہی ہے۔ عورت کو چار مہینے پہلے سے شوہر نے ہاتھ نہیں لگایا اور تین مہینے ابھی مزید انتظار کی عدت ہے۔
علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا ہے کہ ” مرد کو چار بیویوں کی اجازت اسلئے ہے کہ اگر ہوسکتا ہے کہ دو اور تین عورتوں کے حیض کا وقت ایک ہو اور پھر شوہر کی شہوت کیلئے چوتھی بھی ہونی چاہیے کیونکہ یہ مشکل ہے کہ چار کو ایک ساتھ حیض آجائے”۔
خدا مرد پر اتنا مہربان ہے اور عورت کا اتنا دشمن ہے کہ چار ماہ تک انتظار کیا اور اب تین ماہ مزید عدت گزارنی پڑے گی؟۔ یہ تو حنفی مسلک والے ہیں جن کے ہاں7مہینے بعد تو عدت ختم ہوجائے گی لیکن جمہور کے نزدیک تو7سال میں بھی عدت ختم نہیں ہوگی۔ علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے لکھ دیا ہے کہ ” جمہور کا مسلک درست ہے ، احناف کا غلط ہے اسلئے کہ آیت226کے بعد227میں فان عزموا الطلاقہے ۔ ف کو متصل لانے سے واضح ہوتا ہے کہ ابھی عزم کی گنجائش بھی باقی ہے تو طلاق کہاں ہوئی ہے؟۔ ف تعقیب بلا مہلت ہے۔
ایک آدمی یہ نہیں سمجھتا ہے کہ آخر ف تعقیب بلامہلت میں کونسی گیدڑ سنگی ہے؟۔ بریلوی مکتبہ فکر کے بہت قابل عالم دین علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا کہ ” آیت230میں
فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ
(اور اگر اس کے بعد اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے ) میں اگر ”ف” تعقیب بلا مہلت کا مسئلہ نہیں ہوتا تو پھر قرآن و احادیث بالکل تقاضہ یہی تھا کہ الگ الگ تین طلاقیں دی جاتیں”۔
جس کا مطلب یہی ہے کہ آیت229میں الطلاق مرتان کو کھینچ کر لانے اور تیسری طلاق سے متصل کرکے یکجا کرنے میں ف تعقیب بلا مہلت کا ہی زبردست کردار ہے۔
حالانکہ نور الانوار میں ملا جیون نے اسکے بالکل برعکس لکھ دیا ہے کہ امام شافعی کے نزدیک دو مرتبہ کی طلاق کے بعد فدیہ کو جملہ معترضہ مانا جائے اسلئے کہ دو مرتبہ کی طلاق کے بعد خلع کو متصل مان لیا تو پھر آیت230کی تیسری طلاق چوتھی طلاق بن جائے گی اور چوتھی طلاق کی گنجائش نہیں ہے جبکہ حنفی کہتے ہیں کہ ف تعقیب بلا مہلت کیلئے آتا ہے اسلئے آیت230کی طلاق کا تعلق اپنے سے متصل فدیہ کی صورت سے ہے۔ اور جہاں تک یہ بات ہے کہ وہ چوتھی طلاق بن جائے گی تو فدیہ کو مقدمہ بناکر شامل کرتے ہیں اور اس کی بنیاد پر تیسری طلاق واقع ہوگی۔ پاکستان کے ایک نام حنفی عالم علامہ تمنا عمادی نے اس کو بنیاد بناکر کتاب لکھی جس کا نام ”الطلاق مرتان” رکھ دیا اور خلع والی طلاق سے ہی حلالہ کو منسلک کردیا ۔ اور کہا کہ قرآن میں صرف دو طلاق ہیں اور تیسری طلا ق کا وجود قرآن میں اللہ نے ختم کردیا اور حلالہ کو عورت کے خلع کیساتھ جوڑ دیا ہے۔ کوئی عورت خلع لے گی تو پھر سزا کی بھی مستحق ہوگی ۔ مرد کی وجہ سے عورت کو سزا کا تصور اللہ تعالیٰ نے بالکل ختم کردیا ہے۔
امام ابوحنیفہ کے مسلک کا اصل ہدف قرآن چھوڑ دیا گیا تو علامہ تمنا عمادی اور علامہ غلام رسول سعیدی نے آپس میں کتنا بڑا اختلاف کیا اور دونوں حنفی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں؟۔
امام ابوحنیفہ کے مسلک کی صحیح ترجمانی کرنے کیلئے آیت230فان طلقہا کی طلاق کو آیت229میں متصل فدیہ کی صورت سے جوڑ دیا ہے۔ پھر اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟۔ اگر عام شخص قرآن کی آیت کو دیکھے گا تو کیا نتیجہ نکالے گا؟۔ احادیث کے آئینہ میں اس کا کیا نتیجہ اخذ کیا جاسکتاہے؟۔ اگر یہ سب ہی بات میل کھاتے ہوں تو پھر قرآن کو بھی مانیں۔ احادیث کو بھی مانیں اور انسانی فطرت میں رکھی ہوئی انسانی عقل کو بھی مانیں اور یہ نتائج اخذ کرنے سے پہلے ایک دوسرے سورس سے بھی اس مسلک کو زبردست تقویت پہنچتی ہے۔ چنانچہ علامہ ابن قیم امام ابن تمیہ کے شاگرد نے بھی زاد المعاد میں حضرت عبداللہ بن عباس کے حوالہ سے اسی مسلک حنفی کی تائید کردی ہے۔ وہ خلع کے باب میں لکھتے ہیں کہ ”عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ جس کو رسول اللہ ۖ نے قرآن فہمی کی دعا دی تھی اور یہ دعا ان کے حق میں قبول ہوگئی ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ حلالہ کی طلاق آیت230کا حکم سیاق وسباق کے بغیر نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ آیت229میں جتنے مرحلے بیان کئے گئے ہیں ، ایک یہ کہ الگ الگ مرتبہ طلاقیں اور دوسرا یہ کہ فدیہ کی صورت حال ان سب کا ہونا بہت ضروری ہے اس کے بغیر حلالہ کا حکم لگانا اور تیسری طلاق کو جاری کرنے کا فتویٰ دینا غلط ہے۔
اس کا مطلب یہی ہوا کہ علامہ ابن قیم کے نزدیک عبداللہ ابن عباس نے بھی وہی موقف اختیار کیا تھا جس کو حنفی کتابوں میں مسلک حنفی قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ مختلف ہے۔
جب تک قرآن کا متن اور احادیث کی شرح نہیں دیکھیں گے تو یہی رٹ لگائیں گے کہ دونوں اجتہادی مسالک ہیں اور کوئی بھی صحیح ہوسکتاہے۔ اجتہاد تو اس وقت آئے گا کہ جب یہ مسئلہ قرآن نے حل نہ کیا ہو۔ حدیث میں واضح نہ ہوا ہو۔
آیت230کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ آیت229اور231کو سمجھ لیںاور آیت229کو سمجھنے کیلئے آیت228اور230کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ کسی بھی آیت کو سیاق و سباق سے الگ قصائی کی طرح بوٹی بوٹی کرکے سمجھنا ممکن نہیں ہے۔
المطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثة قروء ٍ ولایحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ والیوم الاٰخر و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجة اللہ عزیز حکیم(228)
اور طلاق دی ہوئی عورتیں تین ادوار (تین ماہ) تک اپنے آپ کو روکیں۔اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو اللہ نے انکے ارحام میں پیدا کیا ہے اگر وہ اللہ اور یوم آخرپر یقین رکھتی ہیں اور ان کے شوہر اس میں اصلاح کی شرط پران کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیںاور ان کیلئے وہی حقوق ہیں جو شوہر وں کے ان پر ہیں معروف کیساتھ اور آدمیوں کیلئے ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ زبردست غالب اور بہت حکمت رکھنے والا ہے”۔
مردوں کا ایک درجہ کیا ہے؟۔
عورتوں کو حیض آتا ہے لیکن مردوں کو نہیں آتا ہے یہ ہوا ایک درجہ اور حقوق دونوں کے برابر ہیں معروف کیساتھ۔ایلاء میں عدت چار مہینے یہاں تین ادوار یا تین مہینے اور بچہ ہو تو اس کو چھپایا حلال نہیں اور عدت میں ان کے شوہر اصلاح کی شرط پر زیادہ حقدار ہیں اور عورت عدت کی پابند ہے رجوع کی نہیں اسلئے وہی معروف حق اس کا بھی ہے۔
سب بڑا المیہ یہ ہے کہ مذہبی طبقہ رجوع میں صلح کی شرط اور عورت کے معروف حق رجوع سے انکار کا حق اپنی پچھاڑی کے اندر چھپاتے ہیں۔ عورت کیلئے جیسے رحم مادر میں بچے کا چھپانا حلال نہیں اس طرح مذہبی طبقے کو صلح اور معروف کی واضح شرط کو چھپانا جائز نہیں ہے۔ علماء اور عوام خاص طورپر نوٹ کرلیں۔
الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان و لا یحل لکم ان تاخذوا مما اٰتیتموھن شیئًا الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدوداللہ فلا جناح علیھما فیماافتدت بہ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا و من یتعد حدود اللہ فاولیٰئک ھم الظالمونO (سورہ البقرہ آیت229)
”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روک لینا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں کچھ بھی واپس لومگر یہ کہ دونوں کو ڈر ہوکہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اور اگر تمہیں ڈر ہو کہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے تو پھر عورت کی طرف سے وہ دی ہوئی چیزقربان کرنے میں دونوں پر حرج نہیں ہے۔ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرواور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو پھر وہی لوگ ہی ظلم کرنے والے ہیں”۔
یہ آیت228کی مزید وضاحت ہے۔ عدت کے تیسرے مرحلے میں دو مرتبہ طلاق کے معروف کی شرط پر صلح یا احسان کے ساتھ چھوڑنا ہے۔ عدی بن حاتم نے پوچھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟۔ نبیۖ نے فرمایا تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے آیت229میں ۔دیوبندی وفاق المدارس کے صدر مفتی تقی عثمانی کے استاذ مولانا سلیم اللہ خان اور بریلوی تنظیم المدارس کے صدر مفتی منیب الرحمن کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی اپنی بخاری کی شرح میں حدیث لکھ دی۔
بخاری میں متعدد مرتبہ عبداللہ بن عمر کا واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ۖ نے عدت کے تین مراحل تین مرتبہ طلاق کا مسئلہ سمجھایا اور فرمایا قرآن میں یہی عدت و طلاق واضح ہے۔
عورت کی مرضی اور معروف طریقے کے بغیر طلاق رجعی کا حق منکر ہے ۔ شافعی مسلک میں نیت نہ ہو تو جماع جاری رکھنے سے بھی رجوع نہ ہوگا اورحنفی مسلک میںنیت نہ ہو تو شہوت کی نظر پڑنے سے بھی رجوع ہوجائے گا۔ دونوں صورت میں مرد کو اختیار دیکر عورت کو اذیت پہنچانے کا سامان کیا گیا ہے اور عبداللہ بن عمر اور امام مالک کے نزدیک بیوی کی گانڈ مارنے کا بھی حق ہے حالانکہ قرآن نے حیض اور اذیت کو واضح کیا تھا۔
عورت کا اختیار ختم کرنے سے اس کی مدت آیت228کی واضح ہدایت تین ماہ کے خلاف جتنی مرضی بڑھاسکتے ہیں۔ پھر آیت229میں احسان کیساتھ تیسری مرتبہ میں طلاق نے واضح کیا ہے کہ عورت کو اسکے حق سے زیادہ مالی حقوق دیدو۔ اور پھر پابند کیا ہے کہ ”جو کچھ بھی دیا ہے اس میں سے کچھ واپس لینا حلال نہیں ہے”۔ یہ حقوق کیلئے واضح عنوان ہونا چاہیے تھا جس کا ذکر سورہ النساء آیت20میں بھی ہے۔ سورہ النسائ:35میں جدائی کے خدشہ پر دو نوں کے خاندان سے حکم مقرر کرنے کا حکم ہے ،اگر وہ معروف صلح و اصلاح پر راضی ہوں تو اللہ موافقت پیدا کردے گا لیکن اہل سنت نے خوارج سے متاثر ہوکر حکم کے قرآنی تصور کو ختم کردیا ہے۔ حالانکہ آیت229میں بھی حکم کی وضاحت ہے۔ دونوں کو خوف ہو کہ اگر شوہر نے کوئی ایسی چیز دی جو اگر واپس نہیں کی گئی تو دونوں اور حکموں کو ڈر ہو کہ دونوں گتھم گتھا ہوکر جنسی اسکینڈل کا شکار ہوں گے تو پھر عورت کی عزت کے تحفظ کی خاطر شوہر کی طرف سے دی گئی وہ چیز واپس کی جائے جس پر دونوں کیلئے کوئی حرج نہیں ہے اسلئے کہ عورت کی عزت کا تحفظ دئیے ہوئے مال سے زیادہ ضروری ہے۔ جو دیا ہوا مال واپس لینا حلال نہیں تھا تو اس کو بھی عزت بچانے اور اللہ کے حدود توڑنے سے بچنے کیلئے سب کی مشترکہ صلاح سے واپس کرنے میں دونوں پر حرج نہیں ہے۔ اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو اور جو ان سے تجاوز کرے تو پھر وہ لوگ ظالم ہیں۔
مذہبی طبقات بشمول کالیا جاویداحمد غامدی نے اللہ کی بیان کردہ ساری حدود کو توڑ دیاہے۔ اللہ نے تیسری مرتبہ طلاق کی وضاحت کرنے کے بعد عورت کے مالی تحفظ کو یقینی بنانے کا حکم دیا ہے اور یہ دلے اور بے غیرت شرم و حیا سے عاری انسانیت اور قرآن وسنت کے بدترین دشمن الٹی گنگا بہاتے ہیں ۔ عورت کے مالی حق کا تحفظ کرنے کے بجائے خلع مراد لیکر عورت کے استحصال کیلئے قانون سازی کرتے ہیں۔یہ اللہ کے حدود سے تجاوز اور عورت کے حقوق کو پامال کرنے والے یہی ظالم ہیں۔
تیسری طلاق کے بعد دونوںاور حکموں کے کردار کو واضح کیا اور اس میں مجبوری کی حالت میں شوہر کی طرف سے دی ہوئی چیز فدیہ کرنا جس کا اصل کے اعتبار سے واپس لینا غلط تھا لیکن عورت کی عزت اور اللہ کے حدود کا تحفظ ضروری تھا۔ ایسا کہ جیسے خنزیر کا گوشت حرام ہے لیکن بقدر مجبوری جائز ہے اور اس صورتحال سے عزیز حکیم خدا نے قیامت تک مخلوق خدا کے پاس پیغمبر نہیں بھیجناتھا اسلئے بھرپور طریقے سے وضاحت کردی کہ یہ وہ شکل ہے جس میں آیت229کے مطابق معروف طریقے سے رجوع کیلئے راضی نہیں ہے اور جب یہ کنفرم ہو پھر بھیڑئیے سے زیادہ بڑے ظالم معاشرے سے بچانے کیلئے پھر آیت230البقرہ کی زبردست وضاحت ہے کیونکہ ہمارے معاشرے کو تو چھوڑ دیں قبائلی معاشرہ ہے۔ سندھی، پنجابی، بلوچ اور پختون معاشرے میں اقدار کا مسئلہ ہے لیکن برطانیہ میں تو اقدار کا مسئلہ نہیں ہے لیکن طلاق کے بعد پھر بھی لیڈی ڈیانا کسی اور سے جنسی تعلق قائم کرنے پر قتل کردی جاتی ہے۔
فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ فان طلقھا فلا جناح علیھما ان یتراجعا ان ظنا ان یقیما حدود اللہ و تلک حدود اللہ یبنھا لقومٍ یعلمون O
”پس اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے وہ حلال نہیں ہے یہاں تک کہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔پھر اگر وہ طلاق دے تو دونوں پر رجوع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر وہ دونوں گمان رکھتے ہوں کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم کر سکیں گے اور یہ اللہ کی حدود ہیں جو اللہ واضح کرتا ہے اس قوم کیلئے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں”۔ (سورہ البقرہ آیت230)
تقی جان نے اپنی بیوی کو آیت229کے مطابق مرحلہ وار تین طلاقیں دیں، اس کی بیوی مرجانہ نے اس خوف سے کہ آئندہ سابقہ پڑے گا تو اس کے دئیے ہوئے ایک کمرہ کو بھی واپس کردیا اسلئے کہ فیصلہ کرنیوالوں نے کہا کہ تقی مرجان یہ کمرہ خریدنے کی استعداد نہیں رکھتا ہے۔ اور کمرے میں آنا جانا رہا تو سابقہ شوہر ہونے کے ناطے حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا ڈر ہے۔
پھر مرجانہ نے اس کے بھائی رفیع سے شادی کرلی اور کچھ عرصہ کے بعد رفیع نے بھی طلاق دی۔ اب تقی اور رفیع دونوں آپس میں سگے بھائی بھی ہیں اور پڑوسی بھی ہیں لیکن معاملہ یہ بھی ہے کہ رفیع کے پاس مضبوط جنسی طاقت ہے اور تقی مردانہ کمزوری کا بدترین شکار ہے۔ اگر تقی اس کی سابقہ بیگم مرجانہ کو دوبارہ آپس میں رجوع کرنا ہے تو اس وقت کرسکتے ہیں کہ ان دونوں کو یہ گمان ہو کہ اللہ کی حدود پر دونوں قائم رہ سکیں گے مگر یہ یقین نہیں ہو بلکہ مرجانہ کا اس طلاق کے بعد رفیع کیساتھ پھر بھی ناجائز جنسی تعلقات میں ملوث ہونے کا خدشہ ہو تو دونوں کو رجوع نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ کی حدود کو ڈبر ڈوس کرتے رہے ہیں گے اور یہ حالات دیکھ کر آیت229اور230میں فیصلہ کرنے والے فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کس وقت دونوں میں یہ خوف ہوگا کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیںگے۔ رہایہ کہ آیات میں تو واضح ہے کہ تقی اور مرجانہ جنسی تعلق سے اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے لیکن دوسری آیات میں تو رجوع پر تقی اور مرجانہ کے اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا خوف ہے؟۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب مرجانہ اور رفیع جنسی تعلق استوار کریںگے تو تقی مرجان دونوں کو قتل بھی کرسکتا ہے اور سورہ نور میں لعان کا حکم ہے قتل کی اجازت نہیں ہے۔مرجانہ جنسی لذت میں اسکینڈل کا شکار ہوگی اور تقی مرجان قتل بھی کرسکتا ہے۔
اب امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک کو سمجھنے میں آسانی ہے کہ نورالانوارمیں ملاجیون نے آیت230کی طلاق کو فدیہ سے آیت229کے عین مطابق کیوں منسلک کردیا ہے؟۔
جواب بالکل واضح ہے کہ میاں بیوی اورفیصلہ کرنے والے تیسری طلاق کے بعد ایک متفقہ فیصلہ کردیتے ہیں کہ حلال نہ ہونے کے باوجود عورت کی طرف سے خنزیر کے گوشت کی طرح شوہر کی طرف سے دی ہوئی چیز کو قربان کرنے کا مطلب واضح ہے کہ عورت اب رجو ع کیلئے راضی نہیں اور جب عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہو تو شوہر کیلئے رجوع کرنا حلال نہیں اور یہ بات پہلے بھی تمام آیات میں واضح ہے لیکن مذہبی طبقات کو سمجھ میں نہیں آرہی تھی اسلئے آیت230میں زبردست قسم کی وضاحت کردی کہ جب تک کسی اور کیساتھ نکاح نہ کرلے تو وہ پہلے شوہر کیلئے حلال قطعی طور پر بالکل بھی نہیں ہے۔
جب عورت راضی نہ ہو تو آیت226کے مطابق ایلاء کی صورت میں بھی رجوع جائز نہیں ہے جس میں طلاق کا سرے سے اظہار بھی نہیں ہے۔ آیت تتخیر اور بخاری کی روایات میں یہ بالکل واضح ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے ازواج مطہرات سے ایلاء کیا تو اللہ عورتوں کو علیحدگی کے اختیار کو واضح کرنے کا فرمایا اور یہ کوئی تنگ کرنے اور تفریح لینے کیلئے نہیں تھا بلکہ عورت کے حق کو واضح کرنے کیلئے تھا۔ اگر یہ واضح نہیں ہو تو شوہر بیوی کو چار ماہ کیلئے ناراض ہوکر چھوڑ دے گا اور وقت سے پہلے رجوع کرلے گا اور شوہر کو طاقتور ہونے کے باوجود ایک غلط بالادستی کا شرعی قانون ہاتھ میں آئے گا لیکن یہ ظلم خدا نے نہیں کیا ہے بلکہ اللہ کی حدود کو عبور کرنے والے ظالم مذہبی طبقات کا یہ کام ہے۔
امام ابوحنیفہ نے زبردست کمال کردیا کہ اللہ کی حدود کو قائم رکھنے کیلئے علت نکال لی کہ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہوگی تو آیت230کے مطابق حلال نہ ہونے کا حکم لاگو ہوگا۔ جو صرف آیت230میں ہی واضح نہیں ہے بلکہ آیت228میں بھی واضح ہے اور آیت229میں بھی معروف کی شرط پر واضح ہے اور آیت230کے بعد آیات231اور232میں بھی معروف اور باہمی رضامندی کی شرط پر واضح ہے۔
لیکن جب عورت راضی ہوگی تو آیات228،229میں عدت کے اندر اور آیات231،232البقرہ میں عدت مکمل ہونے کے بعد بھی اللہ نے رجوع کو بالکل حلال قرار دیاہے۔ اور ان سب کا خلاصہ سورہ طلاق کی پہلی دوآیات میں ہے۔
امام اعظم ابوحنیفہ نے یہ درست مؤقف ائمہ اہل بیت امام باقر اور امام جعفر صادق سے سیکھ کر اختیار کیا تھا۔ امام زید کا مسلک بھی اس سے ہٹ کر تھا۔ ان کی کتاب المجموع میں یہ ہے کہ الگ الگ تین مرتبہ طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ہے لیکن امام زید کا یہ مسلک عبداللہ بن عمر کے ہی مطابق تھا۔ جس کو بعد میں فاطمی خلافت نے فقہ جعفریہ کے طور پر پھیلادیا تھا ۔ علامہ شمس الدین حسن شگری نے درست کہا کہ شیعہ نے اہل سنت سے اصول فقہ اور دوسری تعلیمات حاصل کیں اور اہل سنت نے شیعہ سے حضرت عمر کا دن منانا سیکھا۔ یہ الگ بات ہے کہ علامہ شمس الدین شگری کا مقصد کسی طرح سے اپنے ہم مذہب کو اس بات سے فائدہ پہنچانا ہے اور سب کا یہ حق اور دل کی تمنا ہے کہ جو حق یا اپنے ماحول کے مطابق کوئی بات لگے تو اس کو تقویت دی جائے۔ آیوش ملک جب محمد علی بن گیا تو ایک ہندو پنڈت کی باتیں بہت عمدہ تھیں لیکن وہ ساتھ میں یہ بھی کہہ رہاہے کہ ایوش ملک گائے کو بچانے گیا ہے۔
امام ابوحنیفہ اور ائمہ اہل بیت کے مسلک کو بنوامیہ ،بنوعباس اور تمام فقہاء ، محدثین ، معتزلہ اور اہل ظواہر وغیرہ قبول کرتے تو قرآن سے امت دور نہیں ہوتی اور قرآن سے امت کے دور ہونے کا قرآن میں ذکر ہے جب عالمی اسلامی خلافت قائم ہو تو اس کیلئے اصل بنیاد یہی ہوگی کہ امت مسلمہ نے قرآن کو بڑا ذبح کردیا ہے۔پتہ نہیں کیا کیا بکواسات مسلسل بول رہی ہے اور نت نئے فتنے پیدا ہورہے ہیں ۔لیکن قرآن کا سادہ ترجمہ تک بھی نہیں آتا ہے ورنہ تو جو ترجمہ کیا جارہاہے ایک آیت کی دوسری آیت سے تردید ہورہی ہے معانی الٹ دئیے گئے ہیں اور کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں ہے جو قرآن کے منافی ہو۔
صحاح ستہ کے مصنفین ائمہ مجتہدین کے بعد کی پیدوار ہیں اور کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں ہے جس پر ائمہ کا تفاق ہو کہ اس میں اکٹھی تین طلاقیں ہیں اور اس حدیث پر سب کا اتفاق ہے لیکن صحاح ستہ میں جمہور کے عنوان سے احادیث کا مجموعہ نقل کیا گیا ہے جس میں اکٹھی تین طلاق کے واقع ہونے کے دلائل بتائے گئے ہیں۔ درس نظامی میں اسلئے پہلے فقہ میں پختہ کردیا جاتا ہے اور آخر میں دورہ احادیث پڑھاتے ہیں۔
مولانا سلیم اللہ خان فقیہ نہیں محدث العصر تھے اور ان کا بڑا کمال ہے کہ سمجھ میں غلطی کھانے کے باوجود اپنی بخاری کی شرح ”کشف الباری ” میں بہت سارا مواد بہت بہترین انداز میں جمع کیا ہے اور علامہ غلام رسول سعیدی نے تو بخاری ومسلم کی شرح کے علاوہ تبیان القرآن میں بڑا مواد جمع کردیاہے۔
امام ابوحنیفہ و امام مالک کے ہاں اکٹھی تین طلاق بدعت ہے ،دلیل محمود بن لبید کی روایت ہے کہ ”ایک شخص نے خبر دی کہ فلاں نے بیوی کو تین طلاق دی نبیۖ اس پر غضبناک ہوکر کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ میں تمہارے درمیان میں ہوں اور تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو؟”۔(سنن نسائی)
امام شافعی ان دونوں کے شاگرد اور شاگرد کے شاگرد تھے لیکن ان کا موقف تھا کہ اکٹھی تین طلاق دینا سنت ہیں اور اس کی دلیل عویمرعجلانی کی لعان والی روایت ہے۔ جبکہ امام احمد بن حنبل امام شافعی کے شاگرد تھے اور ان کے دونوں طرف پر ایک ایک قول ہے کہ سنت بھی ہے اور مباح بھی ہے اسلئے ان کو فقہاء کی فہر ست سے زیادہ محدثین میں شمار کیا جاتا ہے۔ جبکہ صحاح ستہ والے ان کے شاگرد اور شاگردوں کے شاگرد ہیں۔
اب قضیہ کھڑا ہے صرف دو احادیث پر اور دونوں پر اتفاق نہیں ہے اور امام احمد بن حنبل نے ڈھیر ساری احادیث لکھیں لیکن اپنا کوئی مضبوط قول یا یکطرفہ موقف پیش نہیں کرسکے۔
اما شافعی نے الگ دکان نہیں بنانی تھی بلکہ ان کو علم ہوا کہ یہ محمود بن لبید کی روایت میں اشخاص کا ذکر نہیں۔ وہ خود چھوٹے صحابی تھے۔ اور بعض روایات میں تصریح ہے کہ یہ عبداللہ بن عمر اور حضرت عمر کا واقعہ ہے تو اس کو اکٹھی تین طلاق کیلئے بدعت کی دلیل بنانا غلط ہے جبکہ نبیۖ نے عبداللہ بن عمر کو رجوع کا حکم بھی دیا تھا۔ جبکہ عمریمر عجلانی کی روایت مضبوط ہے جہاں نبی ۖ کی موجودگی میں لعان کے بعد تین طلاقیں دی تھیں۔
حنفیہ و مالکیہ کی طرف سے جواب یہ ہے کہ شافعی کے ہاں لعان خود طلاق ہے تو اس کے بعد تین طلاق سنت قرار دینا غلط ہے۔ جبکہ لعان کی صورت اور عام حالات میں طلاق دینے کا معاملہ مختلف ہے۔ جب نبیۖ نے عبداللہ بن عمر کے معاملہ پر غصہ فرمایا اور رجوع کا حکم دیا تو پھر اس عمل کی ترویج سنت نہیں بدعت ہے۔ یہ ہے فقہ و مجتہدین کے اختلاف کا پس منظر۔
اسکے بعدیہ معاملہ کہ تمام فقہاء کا اس پراتفاق تھا کہ اکٹھی تین طلاق واقع ہوجاتی ہیں؟۔ اس کا ایک حکومتی پس منظر ہے کہ حضرت عمر نے تین طلاق اور حضرت علی نے حرام کے لفظ پر عورت کے حق میں فیصلہ دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ اگر پھر بھی کہا جائے کہ طلاق واقع نہیں ہوئی اور مرد کا حق رجوع بھی عورت کے راضی نہ ہونے کے باوجود بھی باقی ہے تو یہ قرآن کی جملہ آیات کے بالکل خلاف ہے۔ عورت راضی نہ ہو تو قرآن و حدیث میں واضح ہے کہ ایلاء میں بھی رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور اگر رجوع کا حق دیا جائے تو سال میں شوہر اپنی بیوی کے پاس تین مرتبہ جائے گا تو بھی یہ حق حاصل ہوگا؟۔ خدا نے ظلم نہیں کیالیکن یہود کے پیروکاروں نے خود پر یہ ظلم کیاہے۔
اسلئے اجماع کا یہ مؤقف درست ہے کہ طلاق واقع ہوجاتی ہے اور شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں ، حرام ، تین طلاق ، ایک طلاق اور ایلاء کسی صورت میں بھی عورت راضی نہیں تو شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں ہے۔ لیکن اگر میاں بیوی راضی ہوں تو پھر الگ الگ تین مرتبہ طلاق کے باوجود بھی رجوع ہوسکتا ہے اور قرآن سے بھی یہ ثابت ہے اور حدیث بھی ثابت ہے۔
قرآن کی تو ایک ایک آیت میں طلاق سے رجوع کو عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد سورہ بقرہ کی آیات اور سورہ طلاق کی پہلی دوآیات میں معروف کی شرط واضح ہے اور منکر رجوع کی ایک ہی جگہ آیت230البقرہ میں واضح ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے لیکن اس کا تعلق عورت کی طرف سے یہ کنفرم ہونے کے بعد ہے کہ وہ فدیہ سے رجوع نہیں چاہتی۔ اور یہی امام ابوحنیفہ ،ائمہ اہل بیت اور مجتہدین کا موقف تھا۔
امام بخاری اور امام ابوداؤد کے بارے میں لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ دونوں امام احمد بن حنبل کے شاگرد تھے اور ابوداؤد ان کے مسلک حنبلی پر بھی تھے۔ جس نے یہ واقعہ نقل کیا کہ جب رکانہ کے والد نے رکانہ کی ماں کو سورہ طلاق کے مطابق مرحلہ وار تین طلاقیں دیں۔پھر گواہ بنالئے اور خدا کا خوف کیا اور اسکو اسکے گھر سے قرآن کے مطابق نہیں نکالا۔ دوسری شادی کی اور دوسرا گھر بنایا تو جب اس کو طلاق دی تو نبیۖ نے سورہ طلاق کی تلاوت کرتے ہوئے ام رکانہ سے رجوع کا فرمایا اور ممکن ہے کہ ام رکانہ کیلئے یہ ایک طرح کی سفارش ہو تاکہ رضامند ہو اور پھر جب رکانہ نے خود تین طلاق اکٹھی دیں تو نبیۖ نے اسلئے قسم نہیں کھلائی کہ فیصلہ قسم پر کرنا تھا بلکہ غلط حرکت پر ڈانٹ سے بچنے کا یہ طریقہ تھا ورنہ تو حضرت عمر نے قتل کی پیشکش کی تھی اور نبیۖ کو علم تھا کہ پہلے جس طرح کی بے غیرتی کا ماحول تھا کہ ایک عورت10افراد سے بھی نکاح کرتی اور لاتعداد کیلئے بھی جھنڈا لگاتی اور کمزور خاندان والے اپنی بیگمات بھی طاقتور خاندان کو حاملہ بنانے کیلئے سپرد کریتے اور حجاج بن یوسف کی طرح کم ذات لوگوں نے اسلام کو پھر اجنبی بنانا تھا لیکن جاوید غامدی الٹی گنگامیں سرکے بل ننگا کھڑے ہوکر قرآن ، احادیث اور فقہاء ومجتہدین کے خلاف رکانہ کی اس روایت سے دلیل پکڑ رہاہے۔ عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی تھی اسلئے انہوں نے تین طلاق سے رجعی کا حضرت عمر کے خلاف غلط تصور پیش کیا تھااور باپ بیٹے کو پتہ ہوتا کہ بعد میں کیا معاملہ بن جائے گا تو اسی وقت اجتماعی دماغ کو بلاکر فیصلہ کیا جاتا کہ عبداللہ بن عمر کی بیگم نے غل غپاڑہ مچایا ہوا تھا کہ مجھے طلاق دی اسلئے رجوع کا حکم دیا گیا اگر وہ رجوع نہ کرنا چاہتی تو نبیۖ وہی فیصلہ بھی اس وقت دیتے جو حضرت عمر نے بہت بعد میں دیا۔ عبداللہ بن عمر کی طرف بہت کچھ منسوب ہے لیکن اصل بخاری میں ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ” اگر میں دو مرتبہ کے بعد تیسری طلاق دیتا تو نبیۖ رجوع کا حکم نہ فرماتے” ۔اور اسی سے طلاق رجعی کا غلط مفہوم بعد میں رائج کردیا گیا ہے۔ نبیۖ واقعی دو مرتبہ طلاق کے بعد رجوع کا حکم نہیں دیتے لیکن اگر تین مرتبہ طلاق بھی دیتے اور آپس کی رضامندی سے رجوع کرتے تو نبیۖ کبھی منع نہیں کرتے جیسے رکانہ کے والدین کا واقعہ ہے۔
عبداللہ بن عباس کے فتوے اور عمل میں تضاد نہیں تھا بلکہ جب تین طلاق کے بعد عورت راضی نہیں ہوتی تھی تو رجوع کا حکم نہیں دیتے تھے اور جب عورت راضی ہوتی تھی تو رجوع کا حکم دیتے تھے۔ احادیث میں تطبیق ہے لیکن کاروباری طبقات نے مدارس کو تجارت بنایا ہوا ہے۔ میرے استاذ مفتی محمد نعیم کو مفتی تقی عثمانی نے وفاق سے نکلوانے کی دھمکی دیکر روکا تھا اور اب بھی علماء حق پر گوپالوں کا قبضہ ہے اورجلد انشاء اللہ ختم ہوگا۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ