وجعلواالقرآن عضین اور قرآن کو بوٹی بوٹی کیاانّ قومی اتخذوا ھٰذا قراٰن مھجورا بیشک میری قوم نے یہ قرآن کو چھوڑ رکھاہے۔ (القرآن)
جولائی 23, 2026
وفدیناہ بذبحٍ عظیمٍO
اورہم نے اس پر قربان کیا ذبح عظیم کو(الصافات:107)
غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل
دین قائم حمزہ کے کلیجے ہند کی معافی سے
صحابہ کی استقامت ہے رسول کا صبر جمیل
قرآن کو اقتدار، تجارت، اثر ورسوخ ، مفادات کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا۔ خلفاء راشدین کے بعد بنوامیہ وبنوعباس نے قرآن کواپنے مفادات کیلئے ذبح کیا۔ امام حسین کی شہادت نہ ہوتی تو حلالہ کی لعنت کا امت میں لنڈا بازار نہیں لگ سکتا تھا۔
رسول اللہ ۖ نے حضرت عمر کے بعد طوفان سمندر کی مانند موجزن فتنے کا بتایا اور بند دروازہ توڑنے کی وضاحت کی
علامہ عبدالحی لکھنوی حنفی پیدائش1848وفات1888نے تین طلاق کو ایک قرار دینے کا فتویٰ دیا اور مولانا رشیداحمد گنگوہی وفات1905نے فتاوی رشیدیہ میں نقل کیا اور مفتی کفایت اللہ نے غیرتمندوں کیلئے یہی موزوں قرار دے دیا۔
2004ء میں جاندار کی تصویر کے جواز پر ”جوہری دھماکہ” کتاب کوقبول عام کا درجہ ملا، پھر آتش فشاں بھی مقبول ہوئی ۔2007ء میں حلالہ کی لعنت کے خلاف دلائل شائع کئے تو ہم پر دہشت گردانہ حملہ کروایا گیا جس میں13افراد شہید ہوگئے اور اس وقت اس ذبح عظیم کی قربانی کے بعد حلالہ کی لعنت سے ہم مسلک لوگوں کی جان چھڑائی جاتی تو بھی بہتر تھا مگر دجال سے بدتر علماء سوء نے ہٹ دھرمی اور علماء حق نے حمایت کی۔ عائلی قوانین1964ء پر بھی جسٹس عائشہ ملک کا فیصلہ آیا۔الحمدللہ
1982تا1988تک کراچی کی مقدس گائیوں مفتی اکابر کی ہلال احمر سے بدرتک زوال ،عروج اور گٹھیا پن دیکھ لیا۔ مولانا محمد بنوری شہید حاجی عثمان کے ہاں مولانا عبدالمجید ندیم و دیگر علماء کو لاتاتھا جو1998ء میں انتہائی بے شرمی، بے غیرتی سے قتل ہوا ۔ پروفیسر علی محمد ماہی نے1947سے قرآن کی47نمبر سورہ محمد کو جوڑا تھا ۔1987تا1991ء سورہ اعلیٰ تا الفجر کی مناسبت ۔ یوم الفصل عظیم انقلاب کیلئے1999اور99ویں سورة زلزال کا بتا یا کہ خیر وشر کا ذرہ ذرہ دنیا دیکھے گی۔
قرآن کے ذبح عظیم کا منظر
المنزل علی الرسول المکتوب فی المصاحف المنقول عنہ نقلا متواترا بلاشبة (قرآن کی تعریف)
” جو رسول ۖ پر نازل ہوا، مصاحف میں لکھا ہواہے جو ان سے نقل ہوا ہے تواتر کیساتھ بغیر کسی شبہ کے”۔ مصاحف میں لکھے ہوئے سے مراد لکھا ہوا نہیں ، مصحف پر حلف نہیں ہوتا۔ علاج کیلئے ضرورت پڑنے پر سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا بھی جائز ہے۔نقل متواتر سے غیر متواتر آیات نکل گئی ہیں مگر شافعی کا یہ مسلک ہے حنفی کے نزدیک غیر متواتر بھی قرآن ہے اور حنفی کے نزدیک جوحدیث صحیحہ ناقابل قبول ہیں وہ شافعی کے ہاں قابل قبول ہیں۔ یعنی قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ پر اتفاق نہیں ہے۔ بلاشبہ کی قید سے بسم اللہ نکل گئی اور صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن ہے اور کسی آیت کا منکر کافر ہے لیکن بسم اللہ میں شبہ زیادہ قوی ہے اسلئے اس کے انکار سے کافر نہیں بنتا۔
مولانا انور شاہ کشمیری نے لکھا ہے کہ ” قرآن میں معنوی تحریف تو بہت ہوئی ہے لفظی بھی ہوئی ہے ،یا تو مغالطہ سے یہ کیا یا جان بوجھ کر ۔ (فیض الباری شرح صحیح بخاری)
ناکام وکیل شمس العلماء شبلی نعمانی،خلافت عثمانیہ کے خلاف سازش میں ملوث حمیدالدین فراہی، امین حسن اصلاحی، جاوید غامدی کا شجرہ معلونہ دور جدید کا سازشی معتزلہ طبقہ ہے۔ قرآن کی تحریف لفظی و معنوی کیلئے دم اٹھائے گھومتا ہے۔ طلاق سے رجوع کیخلاف قرآن میں معنوی سازش کا ارتکاب بنومروان دور میں ہوا تھا جسکے بارے میں ابوداؤد کی روایت ہے کہ وہ جھوٹ بھی اپنے ہواخارج کرنے کی جگہ چوتڑ سے نکالتے ہیں اس کو جاویدغامدی پدو مار نے پھر تحفظ دینے کی کوشش کی ہے۔
بعل:
ازدواجی تعلق والا شوہرہے۔ البقرہ آیت228میں طلاق کا روڈ میپ یہ کہ عدت تک عورت انتظار کی پابند ہے اور بعل اصلاح و معروف کی شرط پر رجوع کا زیادہ حقدارہے۔ آیت229میں معروف کی شرط پر تین مراحل میں رجوع کی اجازت پر عمل ہو یا احسان کیساتھ چھوڑنے کا عمل ہو تو تفصیل کیساتھ عورت کی طرف سے فدیہ دینے تک بات پہنچے تو آیت230میں بعل نہیں بلکہ نکاح ہے۔ حجاج نے سعید بن جبیر فقیہ کو95ھ میں اسلئے شہید کردیا کہ وہ کہتاتھا بعل بنانے کی ضرورت نہیںہے۔قرآن میںبعل نہیں تومحلل و محلل لہ دونوں لعنتی ”بعل ”سے عزت خراب کرنا انتہائی بھیانک ہے ۔
علماء حق اور غامدی میں فرق
جاویداحمد غامدی قرآن کے لفظی تحریف کا بھی قائل ہے اور معنوی تحریف کیلئے تو اس کے شب و روز کا دھندہ لگاہوا ہے۔
جاویداحمد غامدی کہتا ہے کہ قرآن میں طلاق کی وضاحت نہیں ہے اور حدیث میں رسول اللہ ۖ نے اپنے اجتہاد سے طلاق کا مسئلہ حل کیا اور اجتہاد میں غلطی اور اختلاف کی گنجائش ہوتی ہے۔ رسول اللہ ۖ نے اجتہاد کیا کہ کوئی تین طلاق کہے تو اس کی نیت پوچھی جائے اور وہ ایک طلاق کا بتائے تو ایک پر فتویٰ دیا جائے لیکن حضرت عمر نے اس اجتہاد سے اختلاف کیا اور اس کی گنجائش تھی اور تین کو ایک قرار دیا جس کی طرف امت مسلمہ گئی اور میں سمجھتاہوں کہ نبیۖ کا اجتہاد درست تھا۔
علماء حق اور جاوید غامدی میں الٹی گنگا بہانے کا ہی فرق ہے جس کی آسان مثال یہ ہے کہ علماء حق منہ سے کھاتے ہیں، پھر گلے سے معدہ اور آخر میں پچھاڑی سے فضلہ نکالتے ہیں جبکہ جاوید غامدی پچھاڑی سے معدہ اور حلق کی راہ منہ سے نکالتاہے کیونکہ بنیاد قرآن و حدیث کی جگہ عقل و قیاس کو بنارہاہے۔
فتاویٰ رشیدیہ میں مولانا رشیداحمد گنگوہی اور شیخ الہند نے شاگرد مفتی عزیز الرحمن عثمانی کا فتویٰ اپنے کے خلاف مان لیا۔ مفتی عزیز الرحمن کے بیٹے مفتی عتیق الرحمن عثمانی کو شرح صدر40سال پہلے ہوتا تو انکے والد حق کا اعلان کرتے۔ احمد آباد ہندوستان میں حلالہ پرسیمینار1972ء میں علماء دیوبند اور جماعت اسلامی نے مقالے پڑھے اور پیرکرم شاہ الازہری کے رسالے کو بھی اسکے ساتھ لاہور سے شائع کیا ہے۔
خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل
اگر ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل
عذاب دانش حاضر سے با خبر ہوں میں
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثل خلیل
نظر نہیں تو میرے حلقہ سخن میں نہ بیٹھ
کہ نکتہ ہائے خودی ہیں مثال تیغ اصیل
مجھے وہ درس فرنگ آج یاد آتے ہیں
کہاں حضور کی لذت کہاں حجاب دلیل
اندھیری شب ہے جدا اپنے قافلے سے ہے تو
تیر لیے ہے میرا شعلۂ نوا قندیل
آؤ میرے ساتھ میراث علم کی پاسبانی کیلئے
حملہ آور ہیں کمینے بے غیرت اوربڑے رذیل
حضرت داؤد کے نام لیوا یہود
یہودی حضرت داؤد موسٰی ،حضر ت الیاسانبیاء کے سلسلے کو مانتے ہیں اور حلالہ کی لعنت میں بھی مبتلا ہیں لیکن وہ حضرت عیسیٰ کو نہیں مانتے۔
لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داؤد و عیسی ابن مریم ذلک بما عصوا و کانوا یعتدونOکانوا لایتناھون عن منکرٍ فعلوہ لبئس ما کانوا یفعلونO(المائدہ78،79)
”بنی اسرائیل میں جو کافر ہوئے لعنت کی گئی داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے اسلئے کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے گزر گئے تھے۔ وہ منکر سے نہیں منع ہوتے تھے جو وہ کررہے تھے کیسا برا کام ہے اور جو وہ (شہوانی لذت کا چسکا تھا) کرتے تھے”۔
بنی اسرائیل کے کچھ لوگ حلالہ کی لعنت کی وجہ سے حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے لعنت کے مستحق ٹھہرے تھے اور یہودیوں کے نقش قدم پر چل کر حلالہ کی لعنت اور کرنے اور کروانے والے رسول اللہۖ کی زبان مبارک سے حلالہ کی لعنت کے مستحق ٹھہر گئے ہیں۔ لعنت حلالہ کے پیشواؤں نے ابھی سودی نظام کو بھی حیلے سے اسلامی قرار دیا ہے۔ عوام کے سامنے بالکل اب کھل کر آگئے ہیں۔ الحمدللہ
ترٰی کثیرًا منھم یتولون الذین کفروا لبئس ما قدمت لھم انفسھم ان سخط اللہ علیھم وفی العذاب ھم خالدونOلو کانوا یؤمنون باللہ والنبی و ما انزل الیہ مااتخذوھم اولیاء ولکن کثیرًا منھم فاسقونO( المائدہ:80،81)
” آپ دیکھتے ہو ان میں بہت جو متولی بنتے ہیں کافروں کے تو برا ہے جو انہوں نے اپنے لئے آگے بھیجا وہ یہ کہ ان پر اللہ کا غضب ہو اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہنے والے ہیں اور اگر وہ اللہ اور نبی پر ایمان لاتے اور جو اس کی طرف نازل ہوا، اس پر تو ان کافروں کو متولی نہیں بناتے۔ لیکن بہت سارے ان میں فاسق ہیں”۔
مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن ابھی یہودی نظام کے بینکوں کے متولی بن گئے ہیں۔ دیوبندی اور بریلوی مکتب کے علماء حق کو انہوں اپنے دباؤ میں رکھا ہواہے۔ ایک دن وہ آئے گا کہ جب عوام سمجھ جائیں گے کہ کوئی حلالہ شلالہ نہیں ہے بلکہ پہلے علماء حق کا دھیان اس طرف نہیں گیا لیکن اب جب سب طرح دلائل بالکل سامنے آگئے ہیںاور پھربھی ہت دھرمی پر قائم رہنے کا مطلب علماء حق نہیں بلکہ بدترین علماء سو بن گئے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ