پوسٹ تلاش کریں

بل نقذف بالحق علی الباطل فیدمغہ فاذاھواھق

بل نقذف بالحق علی الباطل فیدمغہ فاذاھواھق اخبار: نوشتہ دیوار

بل نقذف بالحق علی الباطل فیدمغہ فاذاھواھق
بلکہ ہم حق کو باطل پر مارتے ہیںجو اس کاسر کچلے تومٹ گیا

حضرت آدم و حواء کا قصہ ادب کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اس درخت کے قریب دونوں نہ جاؤ۔ تو دونوں نے کھایا۔ جس سے وہ ننگے ہوکر جنت کے پتوں سے خود کو چھپانے لگے۔اللہ نے فرمایا کہ” اے بنی آدم شیطان تمہیں ننگا نہ کردے جیسے تمہارے والدین کو ننگا کیا تو ان کو جنت سے نکلوادیا”۔ شیطان نے شجرہ خلد کی لالچ سے ورغلایا۔ شجرہ خلد شجرہ نسب ہے۔ عربی وسیع زبان ہے۔ اکل کھانے کو بھی کہتے ہیں اور کھجانے کو بھی۔ جماع ،مباشرت جمع اور براہ راست لیکن جنسی تعلق ادب کیلئے آتاہے ۔ لامستم النساء چھونے سے جنسی استعارہ لیا ۔ اکل سے کھجانا، کلیہ ، جامعہ یونیورسٹی بھی ہے۔

قرآن ادب کاشاہکارہے

” وہ وہی ہے جس نے تمہیں ایک جنس سے پیدا کیا اور اس میں سے اس کاجوڑا بنایا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے ۔ پس جب اس نے اس کو ڈھانپ لیا اور اس کو ہلکا سا حمل ٹھہرگیا اور پھر وہ اسے لئے پھرتی رہی ، پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تب دونوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ آپ ہمیں بالکل تندرست بچہ عطا فرما۔ تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے۔ پھر جب اللہ نے تندرست اولاد دی تو اللہ کے دیے ہوئے میں دوسروں کو شریک بنانے لگے ،اللہ بلند ہے جن کو شریک کرتے ہیں”۔ (سورہ الاعراف:آیت189،190)

بے مثال کمال ادب سے جنسی تعلق اور بچے کی پیدائش کو بیان کیا ۔ سورہ النساء آیت25میں اللہ نے فرمایا:
”اور جس کو بیگمات نکاح کیلئے میسر نہیں تو متعہ والی مومنات لڑکیوں سے نکاح کرو ۔

اللہ اعلم بایمانکم بعضکم من بعض

ٍ” اللہ تمہارے ایمان کو جانتا ہے اور تم بعض میں بعض ایک جنس سے ہو”۔ (شادی کے بعد کمتر نہ سمجھو اور تمہارا دل اللہ جانتاہے)

سورہ النساء آیت23:

وربائکم الاتی فی حجورکم من نساء کم الاتی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم

محرمات کو واضح کرتے ہوئے فرمایاکہ ”اور تمہاری وہ لے پالک بیٹیاں جو تمہارے حجروں میں ہیں تمہاری ان بیویوں سے جن کے اندر تم نے ڈال دیا ہے اور اگر تم نے ان میں نہیں ڈالا ہے تو پھر تمہارے لئے کوئی گناہ نہیں ہے”۔یہاں برہنہ الفاظ میں جنسی تعلقات کو جس انداز میں دہرایا گیا ہے تو ایسا ڈائجسٹ اور عشقیہ کہانیوں کی کتابوں میں بھی نہیں ہوتا لیکن اس کی وجہ کیا ہے؟۔

جب ضرورت پڑتی ہے تو الفاظ سے زیادہ اس کام سے منع کرنے کا اہتمام ضروری بن جاتا ہے جس میں لوگوں کے مبتلاء ہونے کا اندیشہ ہو۔ سوتیلی بیٹی جوان بن جائے اور اس پر دل آجائے تو شادی کیلئے مختلف حیلے بہانے تراشے جاسکتے تھے مگر اللہ نے بہت زور دار الفاظ میں حقیقت انسان کے دل و دماغ میں ایسی اتار دی کہ اگر وہ کوئی ضمیر رکھتا ہے تو اس غلطی کا پھر سوچے گا بھی نہیں ۔ دوسرا یہ بھی ہے کہ اللہ علام الغیوب ہے اور اس کو پتہ تھا کہ حنفی شافعی اختلافات کی بنیاد پر فقہاء کمینہ پن کی انتہاء کو کہاں تک پار کریں گے؟۔

مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ علی کے پاس ایک شخص آیا کہ میری بیوی مر گئی ہے ۔ علی نے کہا کہ تمہاری بیوی سے کوئی بیٹی ہے؟۔ اس نے کہا کہ ہاں۔ پوچھا کہ تیری اپنی بیٹی ہے یا سوتیلی؟۔اس نے کہا کہ سوتیلی۔ پوچھا کہ تیرے حجرے میں پلی ہے یا باہر؟۔ اس نے کہا کہ باہر۔ علی نے کہا کہ اس سے شادی کرلو۔ بخاری میں ہے کہ ام حبیبہ نے نبیۖ کو اپنی بیٹیوں کی پیشکش کردی اور نبیۖ نے فرمایا کہ یہ مجھ پر حرام ہیں۔ ابوداؤد میں ہے کہ ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ نے اپنی بہن کی پیشکش کردی ۔ گویا قرآن کی واضح آیت میں امہات المؤمنین کو بھی محرمات کا پتہ نہیں تھا؟۔ پھر علامہ ابن خلدون اپنے مقدمہ میں لکھتا ہے کہ امام ابوحنیفہ17احادیث کو مانتے تھے۔ ابواؤد نے5لاکھ میں48سو احادیث کو قابل اعتماد سمجھا ہے اور پھر ان میں بھی ضعیف ہونیکی نشاندہی کردی تو امام ابوحنیفہنے اپنی توجہ قرآن پر مرکوز کرنے کو ترجیح دی ۔ مصنف عبدالرزاق بھی تضاد کا شکار ہے۔

پھر حنفی مسلک والے نے جس طرح غلو کی حد کردی ہے تو اس سے بچنے کیلئے سورہ النساء آیت23کے یہ الفاظ بالکل ہی سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جس میں حرمت مصاہرت کیلئے دو چیزیں واضح ہیں ۔ ایک نکاح اور دوسرا عورت کیساتھ جماع ۔

من نساء کم الاتی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم

” تمہاری عورتیں جن کے اندر تم نے ڈال دیا ہے اور اگر تم نے نہیں ڈالا ہے توپھر تم پر اس کی بیٹیوں سے نکاح کرنے میں کوئی گناہ نہیںہے”۔

شرعی حکم بالکل واضح ہے کہ مسئلہ بیوی کے رشتے کا ہے اور اس میں ڈال دیا ہے یا نہیں ڈالا ہے؟۔ آسمان پھاڑ کر فرشتوں نے دلے کے بچوں کو نہیں سمجھانا ہے۔ سود کو ماں کیساتھ زنا بھی قرار دیا اور جواز بھی بخشا تو یہ دجال اکبر سے بڑے نہیںہیں؟۔

جھلسادینے والے جملے بھرپور طریقے سے نشاندہی کرتے ہیں کہ ایک دور ایسا بھی آئے گا کہ مسلک حنفی کے نام پر گدھے کا بچہ فتویٰ دے رہاہوگا کہ اگر جوان بیٹی، بہو اور ساس پر ہاتھ لگ گیا تو اگر شہوت کا احساس ہوگیا تو پکڑ کے رکھو جب تک خارج نہیں ہو ، چھوڑ مت اور اگر چھوڑی تو تمہاری بیوی پر تمہاری بیٹی کا حکم لگے گا اور تمہاری بہو بھی تمہارے بیٹے کیلئے حرام ہوجائے گی۔ اتنے بکواسات ہیں کہ خدا کی پناہ۔

قرآن کا یہ بہت بڑا اعجاز ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کہ14سو سال قبل ایسے جملے استعمال کردئیے کہ جیسا بعد کے دور کا پہلے سے مشاہدہ ہو۔ اور یہ بھی اصول فقہ کی کتاب ”نورلانوار” میں پڑھاتے ہیں کہ اگر ساس کی شرم گاہ کو باہر سے دیکھا اور شہوت آگئی تو عذر کی وجہ سے معاف ہے اور اگر اندور نی حصہ پر شہوت کی نظر پڑگئی تو یہ نکاح ہے اور اس کی وجہ سے ساس بیوی بن جائے گی اور بیوی حرام ہوجائے گی۔ بریلوی مکتب والے فقہ حنفی کے مطابق نکاح کا بہت وسیع معنی لیتے تھے کہ حرام کاری اور حلال طریقے سے جماع نکاح ہے تو حلالہ کیلئے صرف ہمبستری کافی ہے۔

دیوبندی مکتب نے جب اسلام کی نشاة ثانیہ کرنی تھی تو فقہ حنفی کے خلاف حلالہ میں سب کچھ لازم کردیا۔ نکاح ، گواہ اور عدت جس کی و جہ سے لوگوں کو حلالہ کی لعنت کا پتہ چل گیا ۔ پھر تبلیغی جماعت نے اس کھیل کو بہت زندہ کردیا۔ حلالہ کیساتھ ساتھ مونچھ منڈوانے کا ماحول بھی پیدا کردیا اور ایک جذبہ پھر مونچھ والوں نے ہی یہ بھی پیدا کردیا کہ ” جان پر آئے تو مال کو قربان کردو، عزت پر آئے تو جان کو قربان کردو اور اگرایمان پر آئے تو عزت کو قربان کردو”۔ پھر حلالہ پریکٹس میں آگیا ۔

یہ بہت بڑا اتفاق تھا کہ مجھے مدارس میں یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ عوام میں علماء جو دین پھیلاتے ہیں وہ اس سے بالکل الگ ہے جو پڑھاتے ہیں لیکن پڑھانے والے زیادہ تر خود بھی نہیں جانتے کہ کیا پڑھا رہے ہیں۔ چنانچہ قرآن کی تعریف ہی علماء مدارس میں وہ پڑھاتے ہیں جن کا للو کو پتہ نہیں ہوتا ہے کہ اس کے مطالب اور نتائج کیا ہیں؟۔جس قرآن کو بے و ضو ہاتھ لگانا جائز نہیں سمجھتے تووہی لوگ سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیتے ہیں۔ الحمدللہ ہم نے اس پر ایک عرصہ سے علماء کرام کے سامنے یہ باتیں رکھی ہیں اور وہ سمجھ بھی گئے لیکن آزاد نہیں ہیں ۔ مذہبی طبقات کے ماحول نے بری طرح جکڑ رکھا ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

ولاتبرجن تبرج الجاہلیة الاولیٰ سورہ الحجر ان یضعن ثیابھن غیر متبرجات بزینة سورہ
قال ھٰولآء بناتی ان کنتم فاعلین سورہ الحجر71
رحمت کے دو حصوں پر ایمان