حاجی ترنگ زئی مجاہد کا تعارف
جون 4, 2026
برصغیر کی تحریکِ آزادی کے عظیم مجاہد، روحانی پیشوا اور دینی شخصیت سید فضل واحد المعروف حاجی صاحب ترنگزئی کی ولادت1846میں چارسدہ کے تاریخی گاؤں ترنگزئی میں ہوئی، جبکہ1937میں آپ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ آپ ایک معزز حسینی سید گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، جس کے بزرگ دینِ اسلام کی اشاعت، روحانی تربیت اور جہادِ آزادی میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے ۔
حاجی صاحب ترنگزئی نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں ترنگزئی میں اپنے وقت کے معروف عالم مولانا ابوبکر اخوندزادہ سے حاصل کی، بعد ازاں مزید دینی تعلیم کیلئے پشاور کے علاقہ تہکال میں قائم مدرسہ میں داخلہ لیا، جہاں تقریباً8سال تک دینی علوم، فارسی اور دیگر علوم میں مہارت حاصل کی۔ اسی دوران افغانستان، پختونخوا اور برصغیر کے ممتاز علماء سے ملاقاتوں نے ان کی شخصیت کو مزید نکھارا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ واپس اپنے آبائی گاں ترنگزئی آئے، جہاں لوگ آپ کو آپ کے بلند اخلاق، دینداری اور سید گھرانے سے تعلق کی وجہ سے احتراماً پیر صاحب اور بادشاہ صاحب کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ کے آباء و اجداد خصوصا پیر بہاوالدین المعروف نوموڑے بابا وقت کے بزرگ، ولی کامل اور مجاہد سمجھے جاتے تھے، جنہوں نے اس خطے میں دین کی اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔حاجی صاحب ترنگزئی نے روحانی تربیت اور اصلاحِ نفس کیلئے افغانستان کے مشہور بزرگ مولانا نجم الدین المعروف ہڈہ ملا صاحب سے بیعت کی، جنہوں نے آپ کو اپنا خلیفہ مقرر کیا۔
1877 میں آپ دینی علوم اور تحریکِ آزادی کے مرکز دارالعلوم دیوبند پہنچے، جہاں آپ کی ملاقات شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور دیگر جید علما سے ہوئی۔ آپ کی شخصیت، اخلاص اور پشتون طلبہ میں عزت و احترام نے علما دیوبند کو متاثر کیا۔ اسی سال آپ نے نامور علما کے ہمراہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی، جس میں برصغیر کی آزادی کے حوالے سے اہم مشاورت بھی ہوئی۔حاجی صاحب ترنگزئی نے زندگی دینِ اسلام، اصلاحِ معاشرہ، تعلیم، اور انگریز استعمار کے خلاف جدوجہد میں صرف کی۔ آپ کے خاندان نے بھی تحریکِ آزادی میں بے مثال قربانیاں دیں۔ آپ کے والد اور دادا بھی آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔
1896 میں آپ نے اپنے بھائی کے ہمراہ دوبارہ حج بیت اللہ کا سفر اختیار کیا، جو افغانستان، ایران اور عراق کے راستے پائے پیادہ طے کیا گیا۔ واپسی پر اہلِ بیت اطہار اور شہدائے کربلا کی زیارت کے دوران آپ کے بھائی جدا ہوگئے، جن کا بعد میں کوئی سراغ نہ مل سکا۔حاجی صاحب ترنگزئی نہ صرف ایک عظیم مجاہدِ آزادی تھے بلکہ ایک روحانی پیشوا، مصلح، معلم اور قوم کے حقیقی رہنما بھی تھے۔ ان کی زندگی قربانی، استقامت اور دین و ملت کی خدمت کی روشن مثال ہے۔حاجی صاحب کا مزار ضلع مہمند کی تحصیل صافی میں واقع ہے۔ جو گندھاب باجوڑ شاہراہ کے قریب، لکڑو بازار سے تقریبا ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر بتایا جاتا ہے۔ حاجی صاحب ترنگزئی سید فضل واحد انتقال1937میں ہوا تھا اور انہیں وہیں سپردِ خاک کیا گیا۔
ــــــــــ
قائد ملت کو کیوں قتل کیا تھا؟
قائد ملت لیاقت علی خان کے قاتل سید اکبر کے بیٹے نے نیا شوشا چھوڑ دیا:1951میں لیاقت باغ راولپنڈی میں وزیر اعظم لیاقت علی خان کو قتل کرنے والے افغان مہاجر سید اکبر کے بیٹے نے ایک یوٹیوب چینل کو انٹرویو میں متعدد دعوے کئے ہیں سید اکبر کے بیٹے پی ایچ ڈی ڈاکٹر فاروق ببرک جو امریکہ میں رہائش پذیر ہے اور عرصہ دراز تک درس و تدریس کے پیشے سے منسلک رہے ہیں انہوں نے دعوی کیا ہے کہ سید اکبر محمد بن قاسم اور جمال الدین افغانی کو اپنا ہیرو مانتا تھا علامہ اقبال کی شاعری سے متاثر تھا اور کشمیر کی آزادی کا خواہشمند یا متوالا تھا ، جب لیاقت علی خان نے فوج کو کشمیر میں سرنڈر کرنے پر مجبور کیا تو فوج کی اعلی صفوں میں انکے خلاف بغاوت کی ابتدا ہوئی ، کشمیر کی آزادی کیلئے متحرک میجر خورشید انور نے سید اکبر کو لیاقت علی خان کے قتل کیلئے آمادہ کیا اور بدلے میں انکی حفاظت اور مستقبل میں اہم عہدہ دینے کا لالچ دیا ، ایک ان پڑھ اور اجڈ شخص سید اکبر اس لالچ میں آگیا کہ وہ بھی بڑا لیڈر بنے گا ، چنانچہ اس نے یہ کام سرانجام دینے کا بیڑہ اٹھایا ، لیکن اس کام کا نتیجہ اس کے حق میں اچھا نہ نکلا اور لیاقت علی خان پر گولیاں چلانے کے بعد اسکو وہاں پکڑ لیا گیا اور ایک پولیس افسر نے اس کا کام تمام کردیا ۔۔۔ (نوٹ: یہ دعوی سید اکبر کے بیٹے فاروق ببرک کا ہے ، جو امریکہ میں قیام پذیر ہیں )۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ