مولانا فضل الرحمن کا وحدت کانفرنس سے خطاب اور عتیق گیلانی کا تبصرہ
مئی 25, 2026
الحمد لِلہِ نحمدہ ونستعِینہ ونستغفِرہ
وعد اللہ الذِین اٰمنوا مِنکم وعمِلوا الصالِحاتِ لیستخلِفنہم فِی الارضِ کما استخلف الذِین مِن قبلِہِم ولیمکِنن لہم دِینہم الذِی ارتضی لہم ولیبدِلنہم مِن بعدِ خوفِہِم امنا یعبدوننِی لا یشرِکون بِی شیئا ومن کفر بعد ذلکِ فاولئکِ ہم الفاسِقون صدق اللہ العظِیم۔
جنابِ صدر ، اکابر علماء کرام، مشائخ… کراچی یہ فقید المثال اجتماع آپ کی بیداری، جمعیت کے نصب العین سے گہری وابستگی اور پاکستان کی ترقی کیلئے پرعزم ہونے کی دلیل ہے۔
محترم دوستو! اُمت مسلمہ کئی دہائیوں سے عالمی بربریت اور ظلم کا شکار ہے۔ امریکہ ہو یا مغربی دنیا انکے بارود کی بارش امت مسلمہ پہ ہو رہی ہے۔ اپنی طاقت افغانستان ، عراق، لیبیا میں آزمائی ۔فلسطین اور غزہ پر جو بیتی ساری دنیایہ منظر دیکھتی رہی اور مجھے افسوس ہے کہ امت مسلمہ بھی تماشائی بن کر رہی، ان کا ضمیر سویا رہا، وہ اس احساس سے محروم نظر آئے کہ ہمارے بھائیوں پہ صیہونیوں کے ہاتھوں کیا بیت رہی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مثل المومنین فی توادہم وتعاطفہم وتراحمہم کمثل جسد واحد اذا اشتکی عینہ اشتکی کلہ واذا اشتکی راسہ اشتکی کلہ واذا اشتکی عضو تداع لہ سائر الجسد بالسہر والحم
”تمام ایمان والوں کے آپس کے بھائی چارے، دوستی اور باہم مہربان ہونے میں ایسی ہے جیسے ایک جسم کہ اگر اسکے سر میں درد ہے تو پورا جسم بیقرار رہتا ہے، اگر اس کی آنکھ میں درد ہے تو پورا جسم بیقرار رہتا ہے، جسم کے کسی حصے میں اگر درد مچل رہا ہو تو ساری رات جاگ کر گزرتی ہے، بخار کی حالت میں گزرتی ہے”۔ آج میں امت مسلمہ کے ضمیر کو جھنجھوڑنا چاہتا ہوں اور پوچھنا چاہتا ہوں کہ اپنے دلوں کو ٹٹولیے، کیا اپنے مسلمان بھائی پر جب ظلم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے تھے آپ کو کچھ بھی تکلیف کا احساس ہوا؟
ذراسوچنا پڑے گا۔ جمعیت علمائے اسلام ایک آواز، ایک نظریہ ، ایک تاریخ ہے ،جس کی پشت پر200سال فرنگی کیخلاف جہاد، آزادی کیلئے قربانیوں کی تاریخ ہو۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو بھی کہنا چاہتا ہوں، بیوروکریسی، سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو بھی کہ جمعیت کو سیاست مت سکھا ؤ!جمعیت سے سیاست سیکھو!۔( اللہ اکبر! جمعیت علماء اسلام زندہ باد!جمعیت سے ٹکراؤ گے، پاش پاش ہو جاؤ گے)۔
جمعیت علمائے اسلام کا منشور ہے کہ اسلامی بلاک وجود میں آئے۔ مشترکہ سیاسی حکمت عملی، اقتصادی نظام، دفاعی معاہدہ امت کو ایک جسم بنا سکتی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا ہم نے حکمرانوں سے اختلاف کو بھلا دیا اور اس کی حمایت کی۔ آگے بڑھانے کی تمنا کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف اب بیت المقدس ،قبلہ اول، فلسطین تک محدود نہیں ،یہ عرب دنیا سے آگے بڑھتے ہوئے ایران تک پہنچ گیا، اگر ہم نے سمجھا کہ یہ صرف ایران کا معاملہ ہے، ایران جانے اور مسئلہ جانے تومیں اپنے حکمرانوں اور عوام کو بیدار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ایران کو اسرائیل سر کر لیتا ہے تو اسرائیل پاکستان کے دروازے پر کھڑا ہے۔ذرا سمجھو اس بات کو۔ بین الاقوامی قوتیں کس منافقت، کن ناجائز حربوں کے ساتھ امت مسلمہ کا خاتمہ ، بیت المقدس پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں، حرمینِ شریفین نشانے پر ہے اور میں عرب دنیا سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ آپس کے جھگڑوں کا نہیں، امت کی وحدت کا وقت ہے۔ اپنا دفاع ایک کرو، اپنا اقتصاد ایک کرو، اپنی سیاست ایک کرو، ہم آہنگی پیدا کرو، کوئی تمہارا دفاع نہیں کرے گا۔ آئیں! ایک دفاعی قوت بن کرہم اسلامی دنیا کو مضبوط بلاک بنائیں اور اکٹھے ہو کر امت مسلمہ کے مفادات کا دفاع کریں۔
محترم دوستو! لیکن کون کرے؟ پاکستان کے یہ حکمران؟ کس کس بات کو روؤں؟ ”اے پختونہ ورورہ، پڑدوگ دے سوڑے سوڑے را وڑو، چہ سو ڑے گنڈم ماتہ جڑا رازی ”۔
(ترجمہ: اے پختون بھائی ! تم اپنی شلوار سوراخ سوراخ لائے ہو، جب میں اس کو سیتا ہوں تو مجھے رونا آتا ہے)
سنجیدہ ہو جائیں ذرا ۔ پاکستان قومی یکجہتی سے محروم ہے۔ جمعیت علمائے اسلام قومی یکجہتی کی علمبردار جماعت ہے۔ ہم مسلمان ایک عقیدہ ہے، تعصب اور نفرتوں کے قائل نہیں۔ آئیں ہم اپنے اختلاف پہ بات کریں لیکن سلیقے ، شائستگی کے ساتھ۔ نفرتوں کی سیاست ہم اٹھاتے نہیں ہیں بلکہ دفن کرتے ہیں۔ ہم پاکستان میں شدت کی سیاست نہیں کر رہے، ہم پاکستان میں اصولوں کی اور محبت کی سیاست کرتے ہیں۔
پاکستان آئین، قانون رکھتا ہے۔ ہم نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر آئین پر حلف اٹھایا۔ ہم اس کے وفادار ہیں لیکن جو لوگ ملک، سرحدات، ملکی سیاست، معیشت کے محافظ ہیں، اگر وہی آئین کو سبوتاژ کرتے ہیں، قانون کو موم کی ناک بنا کر جدھر چاہیں جیسے چاہیں موڑ دیں تو پھر ملک کو تباہی کے کنارے پر پہنچانے کے ذمہ دار آپ ہیں۔ میں دفاعی اداروں کا احترام کرتا ہوں، نظم و نسق چلانے والے اداروں اور اصولی سیاست کا احترام کرتا ہوں لیکن اپنے حدود سے تجاوز کرو گے تو ہم سامنے کھڑے ہوں گے، مقابلہ بھی ہم کریں گے اور انشااللہ
تم مجرموں کیساتھ مقابلہ کر رہے ہو ،جو مقابلہ نہیں کر سکتے، جمعیت علمائے اسلام پاک، صاف، شفاف اور عقیدے پر پختہ اور پرعزم جماعت اگر اس کو تم نے مد مقابل میں لانے کی کوشش کی تو اپنی ہلاکت کا اعلان کرو گے اور کوئی راستہ تمہارے پاس نہیں۔ (نعرے:اللہ اکبر!یہ آواز، یہ قوت، جمعیت جمعیت! امت کی وحدت، ملت کی وحدت، ملکوں کی وحدت، انسانوں کی وحدت، تیری قوت میری قوت، جمعیت جمعیت)
میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ جمعیت موثر قوت ہے، اگر آج پاکستان باقی ہے تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اسکے فضل و کرم کو گواہ بناتے ہوئے کہتا ہوں کہ جمعیت کی برکت سے پاکستان باقی ہے۔ ہم خون کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ گزشتہ دو تین دہائیوں میں ہمارے کتنے کارکن، کتنے عہدیدار، جید علماء کرام نشانہ بنے کس گناہ پر؟ کونسا گناہ کیا تھا ؟ اگر کسی دوسری جماعت کیساتھ ظلم ہوتا ہے ہم وہاں بھی ظلم کیخلاف آواز اٹھاتے ہیں لیکن جمعیت علماء کا گناہ بتائیے، ان کے علماء کو کیوں شہید کیا جا رہا ہے؟ اسلئے کہ جو ہمیں قتل کر رہے ہیں ان کو پتہ ہے کہ جس ملک کو ہم توڑنا چاہتے ہیں جمعیت توڑنے نہیں دے رہی۔ ہم تو پگڈنڈی پہ سفر کر رہے ہیں ایک طرف سے دباؤ آتا ہے، کبھی دوسری طرف سے دباؤ آتا ہے۔ ہم الیکشن لڑتے ہیں، ہم پاکستان کے جمہوری نظام کے ساتھ وابستہ ہیں اور اسٹیبلشمنٹ دھاندلیاں کر کے ہمیں پارلیمنٹ سے باہر رکھتی ہے۔ ایک طرف کچھ جاہل قوتیں ہم پر کفر کے فتوے لگاتی ہیں اور ایک طرف پاکستان کے وفادار ہمیں پارلیمنٹ سے باہر رکھنے کیلئے انتخابات میں دھاندلیاں کرتے ہیں، تو ہم کدھر جائیں؟۔
زاہدِ تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں
اس پگڈنڈی پر ایک طرف بھی ہم پر گولیاں برس رہی ہیں اور باجوڑ سے کراچی تک ہم نے لاشیں اٹھائی ہیں۔ باجوڑ میں80جنازے ایک ہی اجتماع سے اٹھائے۔ وزیرستان کے تمام اضلاع کے امراء دہشتگردوں کی گولی کا نشانہ بنے ہیں۔ مہمند، کرم ، وزیرستان جائیں، علماء ہی نشانے پہ کیوں؟ لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ان حربوں سے جمعیت علماء اسلام کے پایہ استقامت کو متزلزل کر سکیں گے، یاد رکھیں ہم نے اپنی تاریخ سے سر اٹھا کے چلنا سیکھا، کسی کے سامنے جھکنا نہیں سیکھا ہے۔
(نعرے: نعرہ تکبیر، اللہ اکبر! زندہ ہے جمعیت، زندہ ہے جمعیت! یہ تیری جمعیت، قائد کی صورت میں جمعیت)
لیکن میری جان، مال ،عزت و آبرو کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔ میں ریاست کو اس اجتماع کی وساطت و تائید کیساتھ واضح پیغام دینا چاہتا ہوںکہ مجھے جو بھی قتل کرے میں اس کا بدلہ نہیں لوں گا میں اسٹیٹ کو اپنے قتل کا ذمہ دار سمجھوں گا۔ اطلاع بھیجتے ہیں تھریٹ لیٹر، فون آتا ہے آپ فلاں علاقے میں نہ جائیں، یہاں بھی روک رہے تھے میں نے کہا جاؤں گا! (نعرہ تکبیر، اللہ اکبر!قائد تیری جرأت کو سلام!پھر یہ بھی بتا دیں کہ قائد کے اگر ایک بال کو بھی کسی نے بیکا کیا، خدا کی قسم یہ دھرتی آگ کا بگولہ بنا دیں گے، یہ دھرتی آگ کا بگولہ بنا دیں گے، قائدِ محترم کے جانثار ہم یہاں موجود ہیں، کسی مائی کے لال کو قائد کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دیں گے انشااللہ! قائد تیرے جانثار، بے شمار بے شمار!)
پہلے ہمارے حکمران خارجہ پالیسی ٹھیک کریں۔ پاکستان کی دو سرحد ہیں۔ مشرقی سرحد پر ہندوستان وہ سرحد بھی بند، مغربی سرحد پر ڈھائی ہزار کلومیٹر تک افغانستان ہے یہ سرحد بھی بند۔ چین پاکستان پر اعتماد کھو رہا ہے، وہاں سے بڑی خیر کی توقع نہیں ۔ ایران کے حالات کہ اب نہ وہ اچھے کا ہے نہ برے کا، تو ملک محصور ہو گیا۔ پاکستان تمہاری وجہ سے یرغمال ہے اور کہتے ہو ہم پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں، تم خود بھی پھنس چکے ہو، قوم بھی محصور ہے اور پاکستان کے عوام آج رل رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز بند ہوا ہمارے حکمرانوں کے آبنائے ہرمز بند ہو گئے۔ انڈیا میں ایک روپے پٹرولیم مصنوعات مہنگی نہیں ہوئیں، بنگلہ دیش میں صرف16فیصد قیمتیں بڑھی ہیں اور ہم ہیں کہ یہاں61فیصد ہم نے قیمتیں بڑھا دیں۔ جبکہ ایران کا تیل اسی مقدار سے آ رہا ہے جتنا آبنائے ہرمز بند ہونے سے پہلے آ رہا تھا، تو سیدھی بات ہے ایران کیساتھ معاہدہ کرو جائز طریقے سے تیل برآمد کرو ۔IMFامریکہ ناراض ہو گا اور کمیشنیں نہیں ملیں گی پھر۔ پورے سمگلنگ کی نگرانی یہ لوگ خود کرتے ہیں۔
خیبر پختونخوا ہ میں45سال سے خون بہہ رہا ہے آج کی بات نہیں۔1979سے ابھی طالب علم تھا، یہاں جنگ شروع ہوئی ہمارے سرحد پر اور آج میں73سال میں داخل ہو گیا۔ مسلسل دیکھ رہا ہوں کہ کیا ہو رہا ہے جی۔ بلوچستان خون میں نہا رہا ہے۔ سندھ تو ویسے ڈاکوؤں کے ہاتھ میں ہے۔ (کچھ ڈاکو کچے کے کچھ پکے کے) یار سمجھا کرو نا خدا را۔ سارے اختیارات کہتے ہیں ہم مستثنیٰ ہیں۔ صدر مستثنیٰ ، زندگی بھر اسکے خلاف مقدمہ درج نہیں ہو سکے گا۔ ایسا پاک صاف شفاف، یہ تو اسٹیبلشمنٹ بڑی بیوقوف اور احمق ہے جس کو پتہ نہیں کس کس جرم میں آٹھ دس سال جیل میں رکھا۔ کبھی اتنا بڑا مجرم کہ جیل میں اور کبھی اتنا پاک ، شفاف شخصیت کہ کوئی کیس نہیں ہو سکے گا اور تاحیات؟ یہ میرا موضوع نہیں۔ جناب رسول ۖنے خود کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔ دعوت دی کوئی ہے کہ جس کا میرے اوپر حق ہو تو وصول کر لے۔ ایک صحابی کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ میرا آپ کے اوپر ایک حق ہے، میں وصول کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کیا حق ہے آپ کا ہمارے اوپر؟ کہا: آپ نے مجھے ایک چھڑی ماری تھی، میں اس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا آؤ۔ کہا: نہیں آپ نے مجھے پیٹھ پہ مارا تھا، میں نے بھی آپ کو پیٹھ پہ مارنا ہے۔ آپ نے پیٹھ کر دی، کہا میری پیٹھ ننگی تھی، مجھے بدلہ لینا ہے۔ رسول ۖ نے پیٹھ ننگی کر دی۔ وہ صحابی تھا بہانہ ڈھونڈ رہا تھا، لپٹ گیا اور آپ کی پیٹھ مبارک کو چومتا رہایہاں تک کہ مہر نبوت کو چوما۔ آپ نے یہ تو نہیں کہا کہ میں پیغمبر مستثنیٰ ہوں۔
حضرت عمر خود قاضی شریح کی عدالت میں پیش ہوئے، یہ تو نہیں کہا کہ میں امیر المومنین ہوں اور مدعی کو حق نہیں کہ میرے خلاف کیس درج کر سکے۔ حضرت علی کی عدالت میں تو کوئی مستثنیٰ نہیں تھا وہ خود بھی مستثنیٰ نہیں تھے۔ یہ کیا قانون سازیاں ہو رہی ہیں۔18سال سے کم عمر شادی نہیں کر سکتے اور اگر شادی کر لی تو اس کو زنا بالجبر کہا جائے گا لیکن اگر بچہ پیدا ہو گیا تو بچہ حلالی ہو گا۔ یہ ہماری قانون سازی ہے۔
ملک ان سے نہیں چل رہا۔ بینک ،PIA، تمام سرکاری ادارے یہاں تک کہ کالج اور یونیورسٹیاں ، سکول تک بیچے جا رہے ہیں پرائیویٹ سیکٹر میں لیکن دینی مدرسہ پرائیویٹ سیکٹر پر قبضہ ہو رہا ہے۔ یہ عقل ہے؟ اس عقل والوں سے ہماری جنگ ہے۔ مجھے پتہ ہے امریکہ کا مدرسے کیساتھ دشمنی کون کر رہا ہے، کس کی کس کیلئے وہ مشکل بنا ہوا ہے۔ قانون پاس ہو چکا ہے، جس طرح ہم نے کہا تھا اسی طرح پاس ہوا۔ اب عملدرآمد نہیں ہو رہا، صوبوں میں قانون سازیاں نہیں ہو رہی اور ان کا خیال یہ ہے کہ ہم اس طرح مدرسوں کو غیر موثر بنا دیں گے، تمہارا باپ بھی دینی مدرسے کو ختم نہیں کر سکے گا انشا اللہ العزیز۔
یہ جنگ ہم نے لڑنی ہے، تحریک اٹھانی ہے، ملک میں ہمیں امن چاہیے، انسانی حقوق کا تحفظ اور خوشحال معیشت چاہیے۔ ہم نے مہنگائی کیخلاف مظاہروں کا اعلان کیامگر انہی دنوں میں ایران امریکہ کے درمیان پاکستان نے ثالثی کا عمل شروع کیا۔ اسلام آباد میں بین الاقوامی قیادت اتر رہی تھی تو ہم نے سوچا کہ ہمیں ملک کیلئے مشکل پیدا نہیں کرنی چاہیے۔ ہم نے وہ مظاہرے موخر کیے، منسوخ نہیں کیے۔ اب انشا اللہ العزیز22مئی کو جمعے کے روز ملک بھر کے ہر ضلعی ہیڈکوارٹر میں مظاہرے کیے جائیں گے۔ ہم عوام کیساتھ دکھ درد میں کھڑے ہیں جہاں بدامنی ہے وہاں بھی عوام کیساتھ ہیں، اپنا خون دے رہے ہیں اور پارلیمنٹ میں بھی کہا کہ آج جب میں گفتگو کر رہا ہوں تو ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میں خون کی جھیل میں کھڑے ہو کر بات کر رہا ہوں۔
شیخ ادریس کو تم نے کیوں قتل کیا؟ جرم کیا تھا؟۔ روزانہ2800طلبا کو پڑھاتا تھا،1300طلبہ ایک مدرسے ،1500طلبہ دوسرے مدرسے میں۔ جمعیت کی مرکزی شوری کا رکن ، صوبائی اسمبلی میں ہمارا ممبر رہا ہے۔ امن کی بات کرتا تھا۔ اگر دنیا میں قیامِ امن کیلئے پاکستان حرکت میں آتا ہے تو سب سے پہلے ہم تائید کرتے ہیں۔ اگر انڈیا کیخلاف اپنی سرزمین کا کامیاب دفاع کرتے ہیں تو ہم شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں لیکن پارلیمنٹ کی سیاست میں اگر علماء کرام جاتے بھی ہیں تو ان کو دھاندلی کے ذریعے شکست سے دوچار کر کے پارلیمانی کردار سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ تم پارلیمنٹ کے کردار سے ہمیں محروم کر سکتے ہو لیکن میدان کے کردار سے محروم نہیں کر سکتے۔ اب فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے۔
ہم اس جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے۔ انشااللہ۔
محترم دوستو! ہمارا نصب العین بڑا واضح ہے، ہم پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیںجو معاشی دفاعی لحاظ سے طاقتور ہو، عام آدمی کے حقوق محفوظ ہوں۔ جدوجہد کو انشااللہ جاری و ساری رکھا جائے گا۔ آپ عزم کریں کہ انشااللہ یہ جدوجہد آگے بڑھتی رہے گی۔ ہم انشااللہ4جون کو بلوچستان میں جلسہ کریں گے اور بہت بڑا اجتماع ہو گا،4جون کو پشین میں انشااللہ اجتماعات ہوں گے انشااللہ۔ بہت شکر گزار ہوں آپ کا، اللہ تعالی آپ کے عزم کو اور مضبوط کرے اور انشااللہ جس طرح اس اجتماع میں آپ نے ایک صف ہو کر، ایک قوم ہو کر ثابت کرنے کی کوشش کی، انشاء اللہ آنے والے وقتوں میں بھی قوم ایک رہے گی اور اس وحدت کے ساتھ ہم کامیابیاں حاصل کریں گے۔ اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔
تبصرہ:سید عتیق الرحمن گیلانی
وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاہلیة الاولیٰ
”اور گھروں میں سکون حاصل کرو اور اپنی چھاتیاں پہلی والی جاہلیت کی طرح مت دکھاتی پھرو”۔ آیت کا ترجمہ و تفسیر ،شرعی حکم اور فتویٰ جو علماء وفقہاء نے اخذ کیاوہ ہو نہیں سکتا ۔آپ کے اجداد خانہ بدوش تھے۔ عورت مارچ کیخلاف جماعت اسلامی پشاور کی خواتین نے حیا مارچ کا اعلان کیا تو جمعیت علماء اسلام نے حمایت اور اپنی خواتین کو شامل ہونے کی ہدایت کی تھی۔ حضرت سعد بن عبادہ بڑے جلیل القدر صحابی نے نبیۖ کے بعد مسند خلافت پر بیٹھنے کو اپنا حق قرار دیا تھالیکن رسم اور سماجی اقدار کی آڑ میں کہا کہ ” لعان کے حکم پر میں عمل نہیں کروں گااور بیوی کو جس شخص کیساتھ رنگے ہاتھوں پکڑا تو قتل کروں گا”۔ نبیۖ نے انصار سے کہا کہ تمہارا صاحب کیا کہتا ہے؟۔ تو انہوں نے کہا کہ اس سے درگزر کیجئے۔اس نے کبھی طلاق شدہ یا بیوہ سے شادی نہیں کی اور جس کو طلاق دی ہے تو اس کو کسی اور سے شادی نہیں کرنے دی ہے بہت غیرت والا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا : میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہے۔ (صحیح بخاری)
نتیجہ کیا نکلا؟۔ مولانا یوسف کاندہلوی نے رائیونڈ میںوفات سے3دن پہلے اپنی آخری تقریر میں کہا کہ ” سعد بن عبادہ نے امت میں توڑ پیدا کی تو اس کو جنات کے ذریعے اللہ نے قتل کروایا”۔ مدینہ چھوڑ کر شام دمشق کے قریب گاؤں میں وہ آباد ہوئے۔ پتہ نہیں جنات نے قتل کیا؟ یا پھر ان بیگمات نے جن کو طلاق کے بعد شادی کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا؟۔ لیکن قرآن میں حلالہ کی لعنت کا حکم نہیں ہے اور اس غیرت کے خلاف حکم ہے کہ کوئی طلاق کے بعد بھی عورت کو شادی نہیں کرنے دیتا تھا اور اگر عوام کوپتہ چلا کہ مدارس نے حلالہ کے نام عزتوں کو لوٹا تو پھر؟…
اگرمولانا الیاس طلاق کا مسئلہ سمجھتے، تبلیغ والے حلالے نہ کرواتے تو بستی نظام الدین و رائیونڈ میں نہ بٹتے، امت کو بھی متحد کرتے مگر یہ مسلمان ہے جسے دیکھ کر شرمائے یہود؟ اور معاش سودی بیاج، حلالہ کی لعنت سماج، اسلام بھی تاراج ہوتو تمہارے سر پر کونسا تاج ہو؟ ۔کیا معلوم یہ ترقی استدراج ہو؟۔
20سال پہلےMMAحکومت میں ہم پر قاتلانہ حملہ ہوا، پولیس افسر عتیق اللہ کو کہا کہFIRنہیں درج کروں گا۔ذمہ دار تھانہ ہے۔آج مولانا فضل الرحمن نے یہی بات کی لیکن وہ حالات اور تھے اور آج اور۔ معروف صحافی حامدمیر اور انصار عباسی نے جیو نیوز کے پروگرام میں علامہ راشد محمود سومرو کے سامنےGHQسے مولانا فضل الرحمن پر زمینیں لینے کا ثبوت دکھایا اور صوبائی حکومت سے6ہزار کنال زمین لی لیکن کینسل کردی گئی۔ کیا راشد محمود سومرو صحابہ کرام کی سیرت سے یہ نمونہ دکھائے گا کہ مولانا فضل الرحمن سے جلسہ عام میں وضاحت ہی پوچھ لے؟۔ اگر ان زمینوں پر وزیرستان کے بے دخل ہونے والے غریب محسود کیلئے پلاٹننگ کی جاتی اور جھونپڑیاں بنادیتے اور بجلی اور واش روم کی سہولت دیتے تو آج پختونخواہ اس آگ میں نہیں جل رہا ہوتا؟۔ جمعیت علماء اسلام کے علماء کا قصور میں بتاتا ہوں کہ باخبر دلے ہیں۔ مفاد کی وجہ قائد کو پوچھ نہیں سکتے۔
میں اعتراف جرم کرتاہوں، دوست نے فلیٹ دیامگر وہ خود قابل رحم تھا کچھ خرچہ کرکے کہا کہ کرایہ پر دو یا اپنے لئے بیچ دو۔ پھر محسود کے کچھ لوگوں پر برے حالات آئے جس پر لکھا بھی مگر دوست نے پیسے بھیجے تو میں نے گھر کی کنسٹریکشن پر لگادئیے۔ وہ چندلاکھ متاثرین کو دیتا تو دہشتگردی کا شکار نہیں بنتا۔ ٹانک جاتے ہوئے بوڑھے باباکو گاڑی میں اٹھایا تو پوچھنے پر اس نے بتایا کہ پہلے آٹا لینے ڈبرہ گیا مگر رشتہ دار نہیں ملے۔ کچھ دئیے تو رونے لگا اور فوج اور طالبان دونوں کو بدعائیں دیں کہ ہمیں بھکاری بنادیا۔اگرصوبائی حکومت متاثرین کا معقول بندوبست کردیتی تو لوگ دربدر نہیں ہوتے۔
دوسری اشرافیہ کو غربت کی مشکلات کا پتہ نہیں لیکن مولانا لینڈ لارڈ تو نہیں تھے۔ بھوک ختم نہیں ہورہی ہے۔ دربدر لوگ کس سے انتقام لیںگے؟۔آج مولانا پھر مفادات کے تحفظ کا جھانسہ دے رہاہے۔ مفادات تو جنس فروش عورتیں، خواجہ سرا اور لونڈے بھی جانتے ہیں۔ تمہارا یہ کام نہیں کہ سودی حیلہ و حلالہ کی لعنت سے معیشت اور سماج کا بیڑہ غرق کرو ۔ اسلام مضبوط نظام کھڑا کرتا ہے۔ وارثین انبیاء کا کام حق بتاناہے۔ عروج کے دور میں بھی مذہبی طبقات نے جھوٹے اجماع اور حلالہ کی لعنت سے امت کا بیڑہ غرق کردیا۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ