پوسٹ تلاش کریں

رآن، حدیث، خلفاء راشدین ، ائمہ مجتہدین اور درس نظامی کے نصاب ” اصول فقہ” کے مطابق مسلک حنفی میں بھی حلالہ کی ضرورت ہے اور نہ کوئی گنجائش لیکن اسلام کو اجنبیت کا شکار بنادیا گیا ہے

رآن، حدیث، خلفاء راشدین ، ائمہ مجتہدین اور درس نظامی کے نصاب ” اصول فقہ” کے مطابق مسلک حنفی میں بھی حلالہ کی ضرورت ہے اور نہ کوئی گنجائش لیکن اسلام کو اجنبیت کا شکار بنادیا گیا ہے اخبار: نوشتہ دیوار

حلالہ کے خاتمے کیلئے ٹھوس دلائل جسکے بعد اس لعنت کا باب بند ہوگا۔انشاء اللہ العزیز

قرآن میں سورہ الطلاق کی پہلی دو آیات میں طلاق کے حوالے بھرپور رہنمائی ہے۔ عدت کے تین مراحل میں تین بار طلاق واضح ہے۔ عورتوں کو اس کے گھر سے نکلنے اور نکالنے کی اجازت نہیںہے مگر جب وہ کھلی فحاشی کا ارتکاب کریں۔کیونکہ یہ اللہ کی حدود ہیں اور اللہ کی حدود کو پار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اسلئے کہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دونوں کے درمیان عدت میں موافقت کی کوئی راہ نکال دیں۔پھر جب عدت مکمل ہو تو پھر معروف طریقے سے روکنے یا معروف طریقے سے عورت کو چھوڑنے کا حکم ہے۔ جس پراپنے میں سے دو عادل گواہ بنانے کی بھی ہدایت ہے جو اللہ کیلئے گواہی کو قائم کریں۔ پھر جو اللہ سے ڈرا تو اس کیلئے اس مشکل سے نکلنے کی راہ نکال دے گا۔

سورہ طلاق کا یہ بنیادی نصاب ہے جس نے جاہلیت کے سارے دروازے بند کردئیے۔ امام احمد بن حنبل امام شافعی کے شاگرد تھے ۔امام شافعی امام مالک کے شاگرد تھے اور امام ابوحنیفہ کے شاگرد کے بھی امام شافعی شاگرد تھے۔

امام بخاری اورامام ابوداؤد دونوں امام احمد بن حنبل کے شاگرد تھے۔ امام احمد بن حنبل کے دور میں عباسی خلفاء بہت متعصب قسم کے معتزلہ بن چکے تھے۔مامون الرشید، معتصم باللہ ، واثق باللہ نے امام احمد بن حنبل پر بہت تشدد کیا اور قید و بند میں رکھا۔ پھر جعفر متوکل علی اللہ نے232ھ میں خلافت عباسیہ کے99سال بعد خلافت سنبھالی تو اس نے امام شافعی کے مسلک کو اختیار کیا۔ اور معتزلہ کا جڑ سے خاتمہ کردیا۔99ھ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خلافت راشدہ کو لوٹا دیا تھا۔

مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا ہے کہ ” عمر بن عبدالعزیز نے احادیث کو رائج کیا مگر امت مسلمہ کا رحجان قرآن کی طرف کمزور اور احادیث کی طرف بڑھ گیا۔ امام ابوحنیفہ امام باقر، جعفر صادق اور امام زید کے بھی شاگرد تھے اور امام ابوحنیفہ نے اپنے رحجان میں قرآن کو ہی مقدم رکھا تھا۔اگر امام ابوحنیفہ کی طرف امت مسلمہ کارخ موڑ دیا گیا تو ایران بھی اس انقلاب کو قبول کرلے گا”۔ (مقام محمود تفسیر پارہ عم۔ سورہ القدر )

امام شافعی کے نزدیک اکٹھی تین طلاق سنت، مباح ، جائز ہیں اور دلیل صرف ایک حدیث ہے۔عویمر عجلانی نے لعان کیا تو بیوی کو تین طلاق دی۔ قارئین غور کریں کہ کیا اس سے حلالہ کی لعنت کا کوئی جواز ثابت ہوتا ہے؟۔ امام شافعی کے نزدیک لعان طلاق بائن ہے جسکے بعد طلاق واقع بھی نہیں ہوسکتی ہے۔ یہ سورہ الطلاق میں فحاشی کی صورت میں عدت کا لحاظ رکھے بغیر چھوڑنے کی تفسیر ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری شافعی مسلک کے عباسی خلیفہ جعفر متوکل علی اللہ کے دور میں رائج ہوئی ہے۔ جس میں شافعی مسلک کو امام شافعی سے بھی زیادہ احادیث کے اندراج کا کمال انجام دیا ہے۔ علامہ اقبال نے لکھا ہے کہ
کمال جوش جنوں میں رہا گرم طواف
خدا کا شکر سلامت رہا حرم کا غلاف

ا قبال خانہ کعبہ نہیں گئے مگر شاعرانہ تخیل میں غلافِ کعبہ کی سلامتی پر خدا کا شکر ادا کردیا۔ امام بخاری نے فقہ سے نابلد ہونے کے سبب امام شافعی کی تائید اور امام ابوحنیفہ کی تردید میں وہ آیت اور حدیث درج کردی جس نے امت کے روشن دن کو رات کی تاریکی میں ڈبونے میں اہم کردار ادا کیا۔

باب: من اجاز الطلاق الثلاث کے تحت لکھا کہ
الطلاق مرتان فامساک بمعروف اوتسریح باحسان (سورہ بقرہ آیت229)

”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ نا ہے”۔

رفاعة القرظی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی پھر اس نے کسی اور شخص سے شادی کی اور نبیۖ کو اپنے دوپٹے کا پلو دکھایا کہ اسکے پاس ایسا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا: کیا رفاعہ کے پاس لوٹنا چاہتی ہو ، نہیں لوٹ سکتی یہاں تک کہ تم اس کا شہد نہ چکھو جیسا کہ پہلے کا چکھا اور وہ تمہارا شہد نہ چکھ لے”۔ (صحیح بخاری)

امام بخاری نے قرآن کی آیت کو بھی اپنی کج فہمی کی وجہ سے درج کیا اور حدیث کو بھی۔ یہ تو امام شافعی کا استدلال بھی نہیں تھا۔ ہمارا ایک دوست عبدالمنان کنڈی عرف بانٹی کہتا تھا کہ ”نابلد چوروں نے مسجد کو توڑ ا تھا”۔ پہلے مسجد کا تقدس ہوتا تھا اور اس میں چوری کرنے کیلئے بھی کچھ نہیں ہوتا تھا۔ دروازہ بھی کھلا رہتا تھا۔ ایک طرف سے چوروں نے مشکل سے سوراخ کیا ہوگا اور پھر پتہ چلا کہ یہ تو مسجدہے۔

قرآن کی جو آیت الگ الگ طلاق دینے کی دلیل تھی تو یہ بخاری میاں اس کو امام شافعی کی دلیل میں لائے۔ پھر حدیث بھی وہ لائے جو صحاح ستہ میں کسی اور نے یہ حرکت نہیں کی اور عقلاً و نقلاً کسی طرح کسی کیلئے قابل قبول نہیں ہوسکتی ہے ۔ جبکہ بخاری کی اپنی دیگر روایات میں بھی اس کی بالکل نفی ہے لیکن جو علماء ومفتیا ن اس کو نقل کرکے لوگوں کی عزتوں کو تار تار کرتے ہیں وہ شرم، حیا، ایمان، انسانیت اور غیرت سے عاری ہیں۔

بخاری کے استاذ احمد بن حنبل نے اپنے استاذ امام شافعی کا مسلک اختیار نہیںکیا اور اکٹھی تین طلاق کو سنت یا بدعت میں متذبذب تھے۔ان کا ایک قول سنت اور دوسرا بدعت کاہے۔

امام ابوداؤد اپنے استاذ امام احمد بن حنبل کے مسلک پر تھے اور اس نے وہ حدیث درج کی جس نے محدثین کرام پر اس افادیت کو واضح کیا ہے کہ امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ ”کسی ضعیف حدیث کو بھی مسترد مت کرو،اگر اس کی تطبیق ہوسکتی ہو اور قرآن کے خلاف کسی صحیح حدیث کو بھی مت مانو”۔ چنانچہ ابوداؤد نے حضرت رکانہ کے والدین کا واقعہ نقل کیا ہے جب ابورکانہ نے اپنی بیوی ام رکانہ سے سورہ طلاق کے مطابق علیحدگی اختیار کی اور اس پر گواہ بھی بنالئے۔ پھر کسی اور عورت سے شادی کی پھر اس نے نامرد کا الزام لگایا اور اس کو طلاق دی تو پھرنبیۖ نے فرمایا کہ ”ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرتا؟” انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو تین طلاق دے چکا۔ نبیۖ نے فرمایا : مجھے معلوم ہے اور سورہ طلاق کی پہلی دوآیات کی تلاوت فرمائی۔

ابوداؤد کی یہ روایت قرآنی تعلیمات کا زبردست آئینہ ہے لیکن امام بخاری اپنے دور کے عباسی خلیفہ متوکل کا ہم مسلک تھا اسلئے حکمران نے چار چاند لگادئیے۔ جیسے آج مفتی عبدالرحیم پاسدارانِ اقتدار کامنظور نظر ہے ۔ جاوید چوہدری ،سلیم صافی اور میڈیا نے مقبولیت و شہرت کے بڑے درجے پر پہنچایا ہے۔ حجاج بن یوسف کے ہاتھوں لاکھوں بے گناہ افراد کا قتل بھی شریعت قرار دیتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ کتا کچھ مالک کیلئے بھونکتا ہے اور کچھ اپنے لئے۔ حنفی علماء بھی کچھ صحیح بخاری کا تقدس سمجھتے ہیں اور کچھ حلالہ کے چکر کاہے۔پھر رفع الیدین کی احادیث کیوں نہیں مانتے ؟۔ میٹھا میٹھا ہپ ،کڑوا کڑوا تھوتھو؟۔

سورہ الطلاق اور سورہ بقرہ میں تضاد نہیں۔ سورہ طلاق میں حلالہ کی لعنت ختم تو سورہ بقرہ نے گنجائش نہیں چھوڑی۔ فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد آیت230البقرہ کا تعلق البقرہ229کے فدیہ اور حتی تنکح زوجًا غیرہ کا عورت کی آزادی سے ہے(اصول فقہ)۔ امام ابوحنیفہ کے پیشرو سعید بن جبیر سے محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان و شیخ التفسیر مولانا بدیع الزمان تک ایمان کی شمع جلانے کاایک تسلسل رہا۔ ایں سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ۔مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ والد کورسول اللہۖ کی قبرسے آواز آئی۔ ہم سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی قبر پر گئے تھے توسید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اپنی قبر سے بزبانِ حال شیخ سعدی کے اس شعر کو پڑھ کر اپنے تأثرات کا اظہار فرمایا تھا۔

سورہ الطلاق میں حکم تھا کہ ”اے نبی ! جب تم لوگ النساء کو طلاق دو تو عدت کیلئے دو اور عدت کو گن کر اس کا احاطہ کرو…”

دلے ودلال عالمی سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے کیلئے بھی حیلے تراش لیتے ہیں تو حلالہ کیلئے بھی حیلہ تراش سکتے تھے کہ اللہ نے سورہ الطلاق میں جس طرح کا حکم دیا ہے تو اس کی کوئی خلاف ورزی کرے تو ہوسکتی ہے اور اکٹھے تین طلاق بھی دینے کی صلاحیت موجود ہے۔ چوری اور زنا منع ہے لیکن کوئی کرے تو منع ہونے کے باوجود بھی چوری اور زنا کرسکتا ہے۔

امام مالک کے سوفٹ وئیر کو جب اپڈیٹ کردیا گیا تو موطأ امام مالک میں روایت درج کردی کہ عبداللہ بن عباس سے کسی نے اکٹھی تین طلاق پر فتویٰ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ پہلے تم طلاق دیتے ہو اور پھر فتویٰ پوچھتے ہو؟۔ تم نے اللہ کا خوف نہیں کھایا اور اللہ نے فرمایا ہے کہ ”جو اللہ سے ڈرا تو اس کیلئے راستہ کھول دے گا”۔ امام مالک کو ہشام بن عبدالملک نے موطا کو سرکاری طور پر رائج کرنے کی پیشکش کی لیکن انکار کردیاتھا۔

جب ایک عورت کو اس کا شوہر اکٹھی تین طلاق دے ۔پھر عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہو تو یہ بھی درست ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ وہ شخص اللہ سے نہیں ڈرا اور اگر وہ عدت کے مطابق مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق دیتا تو پھر یہ اللہ کا خوف بھی تھا اور عورت بھی رجوع کیلئے راضی ہوسکتی تھی۔ امام مالک نے اپنے طور پر یہ بالکل درست نقل کیا لیکن ان پر حکمرانوں کا بہت سخت دباؤ بھی تھا۔ اہل علم سے یہ بات مخفی نہیں تھی کہ عبداللہ بن عباس کے فیصلے اور فتوے میں فرق تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ فیصلہ تنازعہ کی صورت میں ہوتا ہے لیکن فتویٰ تنازعہ کی صورت میں نہیں ہوتا ہے۔ مثلاً ایک شخص نے یہ استفتاء لیا کہ فلاں نے اپنی بیوی کو تین طلاق دئیے تو فتویٰ کیا ہونا چاہیے۔ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

نمبر1:رجوع ہوسکتا ہے۔ اس پر قرآن کی کئی آیات کی وضاحت موجود ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس سمجھتے تھے۔
نمبر2:رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ جب عورت راضی نہ ہو۔

فیصلہ تنازع کی صورت میں ہوتا ہے اور تنازع میں عورت راضی نہیں ہوتی ہے اور جب عورت راضی نہیں ہو تو رجوع بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ عبداللہ بن عباس کے قول اور عمل میں تضاد کے اندر عمل کو ترجیح دینے والے جاہل یا حلالہ کے رسیا ہیں۔

حضرت عمر کے دور میں تنازعہ کا معاملہ تھا اسلئے تین طلاق پر عورت کے حق میں فتویٰ دے دیا گیا۔ امام شافعی نے اور بہت سارے معاملات کی طرح اس میں بھی حضرت عمر کے حق میں مہم جوئی کی ہے کہ تین طلاق نہ صرف واقع ہوتی ہیں بلکہ سنت بھی ہیں اسلئے کہ انہوں نے روافض کا داغ بھی مٹانا تھا اور اس میں کوئی برائی نہیں تھی۔ اس حدیث سے زیادہ فاطمہ بن قیس کی طلاق کا عمل تھا جس میں ان کو عدت عبداللہ بن مکتوم کے گھر میں گزارنے کا حکم دیا گیا ۔حالانکہ ان کے شوہر نے مرحلہ وار تین طلاق کا نصاب بھی پورا کیا جو امام شافعی کیلئے دلیل نہیں مگر لعان کی روایت سے طلاق کا یہ عمل زیادہ حضرت عمر کے فیصلے کو تقویت بخشتا ہے۔ جبکہ حضرت علی کا حرام کے لفظ پر عورت کے حق میں فیصلہ دینا مزید اس موقف کی تائید ہے کہ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہو تو رجوع کی گنجائش بالکل نہیں ہوتی۔

رسول اللہ ۖ کیلئے ایلاء کے موقع پر تمام ازاوج مطہرات کو طلاق کا اختیار دینے کے حکم سے حضرت عمر ، حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن عباس کے فیصلوں کی زبردست توثیق ہے۔

اصل مسئلہ اس وقت بگڑ گیا کہ جب عبدالملک بن مروان نے اپنی بیوی ام بنین کو طلاق دی اور وہ طلاق پر خوش تھی۔ ام بنین حضرت عمر بن عبدالعزیز کی بہن اور عبدالملک بن مروان کے چچا عبدالعزیز کی صاحبزادی تھی۔ عبدالملک بن مروان کو خادم کے ذریعے پتہ چلا کہ ام بنین نے عدت میں بھی معذرت کرنے کا یامعافی مانگنے کا کوئی پروگرام نہیں بنایا ہے۔ پھر اس کے بعد عبدالملک بن مروان نے خود رجوع کرلیا ،جس پر اس کا درباری مذہبی طبقہ اس بات پر متفق ہوا کہ طلاق رجعی شوہروں کا حق ہے۔ اس سے پہلے ہشام بن عبدالملک نے چوتھی بیوی کو طلاق دی اور اس کی عدت پوری ہونے سے پہلے پانچویں عورت سے شادی کی تو حضرت سعید بن مسیب نے فتویٰ دیا کہ یہ غلط ہے۔ جس طرح شوہر کو عدت میں رجوع کا حق ہے تو عورت جس کیلئے عدت گزارنے پر مجبور ہے تو مرد کا نکاح باقی ہے اور جب تک عدت پوری نہیں ہوتی تو پانچوں نکاح جائز نہیں ہے۔ اس پر سعید بن مسیب پر تشدد کے پہاڑ توڑدئیے گئے لیکن وہ ڈٹ گئے۔ یہاں تک کہ پھانسی کے پھندے تک پہنچایا اور اس نے ستر کھلنے کے خوف سے چھڈہ بھی پہن لیا۔

امام ابوحنیفہ نے سعید بن مسیب کے مسلک کو اپنایا تھا کہ عدت میں نکاح باقی رہتا ہے۔ جب دوسری طرف ایک مزید درباری مؤقف سامنے آیا کہ طلاق بائن سے نکاح ختم ہوجاتا ہے اسلئے عدت عورت پر باقی رہتی ہے لیکن مرد پر نہیں رہتی ہے اور اس سے ایک اور مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ بیوی مرنے کے بعد طلاق ہوجاتی ہے تو اس کو دیکھنا جائز ہے کہ نہیں۔ مفتی زر ولی خان نے کہا کہ ” علامہ شامی نے جزیہ لکھا ہے کہ ولہ ان یری وجھا ”اور شوہر کیلئے اجازت ہے کہ اس کا چہرہ دیکھے”۔

حضرت ابوبکر صدیق کی بیوی نے ان کی میت کو غسل دیا اور حضرت فاطمہ کی میت کو حضرت علی نے غسل دیا۔ حضرت عائشہ سے نبیۖ نے فرمایا کہ آپ پہلے فوت ہوگئیں تو میں خود غسل دوں گا۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ”میں غم میں بھول گئی تھی ورنہ نبیۖ کو میں نے غسل دینا تھا”۔ فقہاء نے میت کے غسل کو ایک کمائی کا شعبہ بھی بنارکھا تھا اور حکمرانوں کیساتھ انہوں نے فقہی مسائل کی ترتیب بھی مختلف مرتب کی تھی۔

عراق کے ایک گورنر عبداللہ بن سلام کی بیوی بہت زیادہ خوبصورت تھی۔

امیر معاویہ کے بھائی یا یزید کو پسند آگئی اور اس کے ساتھ عشق ہوگیا۔ امیرمعاویہ نے اس کو بلایا اور کہا کہ میری بیٹی آپ سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ گورنر کو امیرالمؤمنین امیر معاویہ کی دامادی کا شرف مل جاتا تھا تو اور کیا تھا۔ جب ہاں کردی تو امیر معاویہ نے کہا کہ تم شادی شدہ ہو اوربیٹی شادی نہیں کرسکتی کیونکہ اسے سوکن برداشت نہیں۔ اس کا علاج بھی یہ دریافت کیا کہ وہ اکٹھی تین طلاق دے ۔جب اس نے تین طلاق دی تو کچھ لوگ بھی گواہ بنادئیے۔ بیٹی کو بلایا تو اس نے کہا کہ ہائے، ہائے یہ تم نے کیا کیا؟۔ تمہاری اتنی اچھی بیوی ہے اور تم نے لالچ میں طلاق دے دی۔ میں تمہارے اوپر بھروسہ نہیں کرسکتی۔ میرا اس شادی سے صاف انکار ہے۔

پھر جب یزید نے اس عورت کیلئے رشتہ بھیج دیا۔ جو رشتہ لیکر جا رہا تھا تو اس نے امام حسن یا امام حسین سے بات کی۔ جس پر اس نے کہا کہ میری طرف سے بھی رشتہ کی پیشکش کردو۔ اس عورت نے نواسہ رسول کا رشتہ قبول کیا تو یہ بڑی رنجش بن گئی۔ ایک دن عبداللہ بن سلام پہنچا تو اس نے کہا کہ میں بہت غریب ہوگیا ہوں ۔ میری کچھ امانت میری سابقہ بیوی کے پاس پڑی ہے تو اگر مجھے وہ مل جائے تو بہتر ہوگا۔ انہوں نے دونوں کا آمنا سامنا کروایا تو دونوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ پھر اس سے کہا کہ میں طلاق دیتا ہوں اور وہ دونوں میاں بیوی آپس میں خوش ہوکر مل گئے۔ امام حسن کا کہتے ہیں کہ 3سو عورتوں کو طلاق دی تھی تو شاید یہ ایک طلاق بھی300کے برابر ہی شمار کی ہوگی۔ اور اگر یہ حضرت امام حسین نے کیا تھا تو ممکن ہے کہ اس کا بدلہ اتارنے کیلئے یزید نے کوفیوں سے خط لکھوائے ہوں۔

حکمرانوں کی چال چلن سے واقعات مسخ کردئیے جاتے ہیں لیکن واقعات سے زیادہ مسائل کی اہمیت ہوتی ہے۔ جب کوئی اس واقعہ سے ثبوت پکڑے گا کہ حلالہ کروایا ہے تو بھی برا ہے لیکن اس سے زیادہ بری بات یہ ہے کہ تین طلاق کو سیاسی و مذہبی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہاتھا۔ لوگوں سے حکومت کے ساتھ وفاداری قائم کرنے کیلئے بھی اکٹھی تین طلاق کو ہی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اور جب حجاج بن یوسف نے لاکھوں افراد کو بے گناہ شہید کیا تو جبری طلاق اور جبری طور پر بیویاں چھین لینے کے واقعات کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتے۔

دوسروں نے تو اپنے شرم وحیا کے مارے اپنی عزتوں کی یہ داستانیں نہیں سنائی ہیں لیکن حجاج بن یوسف نے جب ایک لڑکی ہند بنت نعمان سے جبری شادی رچائی اور ایک دن چھپ کر اس نے کان لگاکر سنا تو یہ شعر گارہی تھی کہ میں اصل عربی گھوڑی ہوں ۔جس پر خچر چڑھتا ہے۔ اگر اچھا بچہ جن لیا تو یہ میری وجہ سے مناسب ہے اور اگر خچر بچے کو جنم دیا تو خچر سے خچر ہی پیدا ہوتا ہے۔ پھر مروان بن عبدالملک نے نہ صرف اس کی یہ بیوی چھین لی بلکہ اس کو حکم دیا کہ خود ہی اونٹ کی رسی پکڑ کر ہی میرے پاس پہنچاؤ۔ ہند بن نعمان راستے میں اس کو ذلیل اور خوب رسوا کرنے کیلئے جملے کستے ہوئے محظوظ ہوتی رہی اور جب عبدالملک بن مروان کے حوالے کیا تو پھر ہند بن نعمان نے اس کو ذلیل کرنے کیلئے کہا کہ ایک ہیرے جیسی عورت کو یہ بہت کم قیمت میں ہی تیرے حوالے کررہاہے۔

رسول اللہۖ کے دور میں ایک عربی خاتون ہند بن نعمان سے فارس کا بادشاہ زبردستی سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ ۔ ۔
لیکن اس کا باپ قید ہوکر قتل کردیا گیا۔ اس کی بادشاہت تہس نہس ہوگئی اور دوسرے قبائل نے ہند بن نعمان کو پناہ دی اور عربوں نے مل کر معرکہ ذی قار لڑا اور جیت گئے۔ پھر اسلام نے قرآن وسنت کے ذریعے زبردست انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے قوانین دنیا کو دئیے لیکن یہی سفر پھراس ہند بنت نعمان تک پہنچ گیا جس کی زندگی کو پہلے حجاج بن یوسف اور پھر عبدالملک بن مروان نے کھلواڑ بنادیا تھا۔ دونوں ناموں میں ہند بنت نعمان بن بشیر اور ہند بنت نعمان بن منذر کا فرق تھا۔ رسول اللہۖ نے فرمایا کہ ”اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہوا اور عنقریب یہ پھر اجنبیت کی طرف لوٹ جائے گا پس خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے ”۔ دور آمریت میں سارا کھیل جاہلیت کا بنادیا گیا۔

امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک اکٹھی تین طلاق بدعت ہیں اور اس کیلئے دلیل محمود بن لبید کی روایت ہے جس میں ایک شخص نے خبر دی کہ فلاں نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اور اس پر نبی ۖ غضبناک ہوکر اٹھے اور فرمایا کہ میں تمہارے درمیان میں ہوں اور تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو؟ ۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟”۔ (نسائی)

محمود بن لبید ایک صحابی تھے اور97ھ میں فوت ہوگئے اور ممکن ہے بلکہ لازم ہے کہ امام ابوحنیفہ و امام مالک سے ملاقات بھی رہی ہو۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان اشخاص کے نام پھر کیوں نہیں لئے؟۔ اس کا سید ھا جواب یہ ہے کہ حضرت عمران بن حصین کی وفات بصرہ میں52ھ کو ہوئی اور صحیح مسلم میں ان کی احادیث ہیں کہ جب تک میں زندہ ہوں مجھ سے روایت بیان مت کرو۔ اللہ کی نازل کردہ آیات کے احکام اور رسول اللہ ۖ کی سنت کو اپنی رائے سے بدل کر جبراً مسلط کردیا گیا ہے۔حضرت ابوہریرہ کا وصال59ھ کو ہوا۔ انہوں نے کہا جو بعض باتیں رسول اللہ ۖ سے محفوظ کی ہیں اگر میں نے بیان کیں تو میری گردن کاٹ دی جائے گی۔ (صحیح بخاری )

حضرت سعد بن ابی وقاص کے سامنے ایک جاہل دمشق کا گورنر بکتا ہے کہ جو حج اور عمرے کا ایک ساتھ احرام باندھے تو وہ جاہل ہے۔۔۔۔
حضرت سعدبن ابی وقاص نے فرمایا کہ یہ مت کہو! میں نے نبیۖ کو دونوں احرام ایک ساتھ باندھتے خود دیکھا ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص پھر آخر میں گوشہ نشین ہوگئے۔ یہ تو امیر معاویہ کے دور کی بات ہے۔ پھر بعد میں کیا ہوا کہ جب یزید مسلط ہوگیا پھر عبداللہ بن زبیر کے خلاف اس مروان بن حکم نے متوازی حکومت قائم کی جس کی بیعت بھی عبداللہ بن زبیر نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔پھر اس کے بعد عبدالملک بن مروان اور اس کے بیٹوں نے اقتدار پر قبضہ کیا۔ جب99ھ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز مسند خلافت پر بیٹھ گئے اور101ھ میں زہر سے شہید کردئیے گئے تواس دور کو خلافت راشدہ اور مہدی کا دور قرار دیا جانے لگا۔

سعید بن جبیر نے کہا کہ قرآن میں حلالہ کیلئے نکاح کاذکر ہے جماع کی ضرورت نہیں ہے تو95ھ میں شہید کیا گیا۔ حسن بصری نے عمر بن عبدالعزیز کے دور میں آزادی کا سانس لیا تو واضح کردیا کہ عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی تھی اور یہ سب کو معلوم تھا کہ نبیۖ نے رجوع کا حکم فرمایا تھا اور محمود بن لبید کی روایت میں جن شخصیات کے نام نہیں ہیں تو وہ عبداللہ بن عمر اور حضرت عمر تھے۔لیکن پھر یزید بن عبدالملک اور ہشام بن عبدالملک اقتدار میں آگئے اور حسن بصری نے نہ صرف اس سے رجوع کیا جو صحیح مسلم میں واضح ہے بلکہ حرام کے لفظ پر بھی حلالہ کا فتویٰ تھوپ دیا جس کا ذکر بخاری میں ہے۔

امام ابو حنیفہ وامام مالک کے نزدیک رسول اللہۖ محمود بن لبید کی روایت میں غضبناک ہوگئے جس کا مطلب یہ ہوا کہ طلاق واقع ہوجاتی ہے لیکن چونکہ نبیۖ نے رجوع کا حکم دیا تھا اسلئے اس پر عمل نہیں ہوسکا تو اگر بعد میں کوئی عمل کرتا ہے تو یہ بدعت ہے لیکن جہاں تک رجوع کا تعلق ہے تو قرآن اور سنت اور فطرت سب میں رجوع کی گنجائش ہے۔ اگر پھر بھی کوئی خارش اور خار کھاتا ہے اسلئے کہ شیطان نے انگلی دی ہوتی ہے تو وہ مولوی کے پاس جاتا ہے اس نے بھی شیطان کی بنیاد پر حیلے تراش کر اپنا کام نکالنا ہوتا ہے اور قرآن چھوڑنے کی سزا مل جاتی ہے۔

امام بخارینے الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان غلط جگہ درج کی ہے
لیکن حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس سے بھی بڑی جہالت کی ہے کہ جب قرآن میں دو طلاق واقع ہوسکتی ہیں تو تین بھی واقع ہوسکتی ہیں۔ حالانکہ قرآن میں دو مرتبہ سے دو کی بھی نفی ہے لیکن جب عورت راضی نہ ہو تو پھر آیت228میں بھی واضح ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا اور229میں بھی معروف کی شرط پر ہی رجوع ہے اور معروف کی شرط پر تو عدت کی تکمیل کے بعد بھی آیات231اور232البقرہ میں واضح ہے۔ علامہ بدر الدین عینی نے اس سے بڑی حماقت کی ہے کہ دو تو ایک ساتھ واقع ہوسکتی ہیں مگر تیسری مغلظ ہے اسلئے نہیں واقع ہوسکتی ہے ۔ یہ وہ کم عقل فقہاء ہیں جنہوں نے دو طلاق جیب میں ہوں تب بھی تیسری طلاق کے واقع ہونے کا فتویٰ دیا ہے ۔ حالانکہ آیت230البقرہ میںتیسری طلاق نہیں بلکہ فدیہ کی صورت میں ہے کہ جب یہ کنفرم ہوجائے کہ عورت رجوع نہیں کرنا چاہتی اور جب اس بات کو کنفرم کیا جائے تو پھر ایلاء میں بھی رجوع نہیں ہوسکتا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

رآن، حدیث، خلفاء راشدین ، ائمہ مجتہدین اور درس نظامی کے نصاب ” اصول فقہ” کے مطابق مسلک حنفی میں بھی حلالہ کی ضرورت ہے اور نہ کوئی گنجائش لیکن اسلام کو اجنبیت کا شکار بنادیا گیا ہے
نوشتہ دیوارخصوصی شمارہ مئی 2026
ولاتبرجن تبرج الجاہلیة الاولیٰ سورہ الحجر ان یضعن ثیابھن غیر متبرجات بزینة سورہ