پوسٹ تلاش کریں

قابل تعریف فیصلہ

قابل تعریف فیصلہ اخبار: نوشتہ دیوار

ایک غیر مسلم جج نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور کی یاد تازہ کرا دی اور اسلام کا اصل انصاف کر دکھایا اور ہمارے ”اسلامی”ججوں نے آج تک صرف ہتھوڑا مارنا سیکھا ہے۔ یہ کہانی پڑھ کے آپکو احساس ہوگا اصل انصاف کیا ہوتا ہے ۔

امریکہ میںCheckFraudیعنی جعلی چیک لکھنا ایک سنگین وفاقی جرم ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص ایسا چیک لکھے جس کے پیچھے اکانٹ میں رقم نہ ہو، یا دستخط جعلی ہوں، یا چیک کسی اور کے نام پر ہو۔ اس نوجوان نے بھی یہی کیا اس نے ایک جعلی چیک لکھا۔ مگر یہ چیک کسی لالچ کیلئے نہ تھا۔ اس کی ماں بیمار تھی، دوا مہنگی تھی، انشورنس کمپنی نے انکار کر دیا تھا، اور اس کے پاس کوئی راستہ نہ تھا۔ اس نے فارمیسی کے کاونٹر پر وہ چیک دیا جو کبھی پورا نہیں ہو سکتا تھا صرف اسلئے کہ اس کی ماں زندہ رہے۔امریکہ میں جب چیک بینک میں جمع ہوتا ہے اور رقم دستیاب نہ ہو تو بینک فوری طور پر

Non-Sufficient Funds (NSF)

کا نوٹس جاری کرتا ہے۔ فارمیسی کو جب پتہ چلا کہ چیک باونس ہو گیا تو انہوں نے مقامی پولیس کو رپورٹ کی۔ امریکہ میں چیک فراڈ کی تحقیقات بہت تیز ہوتی ہیں بینک ریکارڈ، سی سی ٹی وی فوٹیج، اور چیک پر لکھے نام سے چند ہی دنوں میں اس نوجوان تک پہنچ گئے۔ پولیس نے اسے گرفتار کیا، ہتھکڑی لگائی، اور نارنجی جیل یونیفارم پہنا دیا۔ وہ لمحہ جب اسے گھر سے لے جایا گیا اس کی بیمار ماں نے دیکھا ہوگا۔ عدالت میں کیا ہوا؟

جب وہ جج کارلا جے اولڈز کی عدالت میں پیش ہوا تو اس پرجعلی چیک کے الزامات تھے جس کی سزا امریکہ میں ایک سے پانچ سال قید تک ہو سکتی ہے۔ وہ کٹہرے میں کھڑا تھا ،سر جھکا ہوا، آنکھوں میں آنسو، اور دل میں صرف ایک فکر کہ اگر جیل گیا تو ماں کا کیا ہوگا۔ جج نے جب اس کی پوری کہانی سنی جرم کی وجہ، ماں کی بیماری، معاشی مجبوری تو انہوں نے وہ کیا جو بہت کم جج کرتے ہیں۔ وہ اپنی اونچی کرسی سے اٹھیں، آگے جھکیں، اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا مانگی۔ پورا کمرہ عدالت خاموش ہو گیا۔

امریکی قانون میں عدالتی صوابدیدکا اختیار ہوتا ہے جج کو حق ہے کہ وہ ملزم کے حالات، ارادہ اور پس منظر دیکھ کر سزا کم یا معاف کر سکے۔ جج کارلا جے اولڈز نے اسی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے تمام الزامات ختم کر دیے۔ مگر یہ صرف رحم نہیں تھا ۔یہ ذمہ داری بھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ”گھر جاؤ، ماں کی دیکھ بھال کرو، اور اس موقع کو ضائع مت کرو”۔قانون کہتا ہے جرم ہوا مگر جج نے دیکھا کہ اس جرم کے پیچھے ایک ٹوٹا ہوا انسان تھا، کوئی مجرم ذہنیت نہیں۔ یہی فرق ہے انصاف اور سزا میں۔یہ کہانی صرف عدالت کی نہیں یہ ہر اس معاشرے کا آئینہ ہے جہاں غریب کی مجبوری جرم بنتی ہے اور امیر کا جرم معافی پاتا ہے۔ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں آج بھی ہزاروں لوگ اسلئے جیلوں میں سڑ رہے ہیں کیونکہ انہوں نے بھوک، بیماری یا مجبوری میں کوئی چھوٹا جرم کیا اور ان کی پوری کہانی کسی نے نہ سنی۔ اسلام کا نظامِ عدل کہتا ہے الضرورات تبیح المحظورات ضرورت حرام کو بھی جائز بنا دیتی ہے۔ امریکی جج نے وہ کیا جو اسلامی عدل کا تقاضا تھا۔ سوال یہ ہے کیا ہم اپنے نظاموں میں کیوںپوچھنا سیکھیں گے، یا صرف "کیا” دیکھتے رہیں گے؟
ــــــــــ

ملیر انویسٹی گیشن پولیس کی بڑی کاروائی۔ خواتین کو نوکری کا جھانسہ دیکر زیادتی کرنے والا سیریل ریپسٹ گرفتار

پولیس کی بڑی کارروائی، خواتین کو نوکری کا جھانسہ دیکر زیادتی کرنے والا سیریل ریپسٹ3ساتھیوں سمیت گرفتارSSPانویسٹی گیشن ملیر ماجدہ پروین ہالیپوٹو کی سربراہی میں ملیر کینٹ پولیس نے کارروائی کرکے مرکزی ملزم عامر علی کو گرفتار کیا، جو سوشل میڈیا کے ذریعے لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر زیادتی کا نشانہ بناتا تھا۔پولیس کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش17سے18لڑکیوں کو نشانہ بنانے کا اعتراف کیا، جبکہ اس کے موبائل فون سے بھی اہم شواہد حاصل ہوئے۔ مزید کارروائی میں محمد زین، نعمان خان اور سعید کو بھی گرفتار کر لیا متاثرہ لڑکی نے شناخت پریڈ میں مرکزی ملزم کو شناخت کر لیا۔
ــــــــــ

قابل توجہ بڑا مسئلہ

تہمینہ شیخ نے سیالکوٹ کی رہنے والی اس پڑھی لکھی خاتون کا قصہ بتایا جو کسی ریٹائرڈ فوجی کی بیٹی تھی۔ بہن اور اکلوتا بھائی بھی تعلیم یافتہ تھے۔ ہوٹل منیجر کی نوکری میں ویٹر سے محبت کی شادی کرلی اور پھر دو بچے پیدا کرنے کے بعد مارپیٹ اور خرچہ مانگنے سے تنگ آکر علیحدگی اختیار کرلی۔ پھر کسی شادی شدہ سے ایک شادی کی لیکن اس نے بچے قبول نہیں کئے۔ پھر دونوں آئیس کا نشہ کرنے لگے۔ آخرکار شوہر نے قتل کرکے گھر میں دفن کردیا اور پھر والدین کی آمد اور پولیس کی دھمکی پر بتاکر بھاگ گیا۔

قرآنی آیات کا درست ترجمہ اور احادیث صحیحہ کی تعلیمات کو معاشرے میں عام کردیا جاتا تو پھر معاشرے کو مذہبی طبقے کی اس معاشرتی آفت کا سامنا روز روز دیکھنے کو نہیں ملتا۔ ہم بار بار ان باتوں کو دھراتے ہیں لیکن مذہبی طبقات کو مساجد اور مدارس میں درست تفسیر اور تشریح کی بہت سخت ضرور ت ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

نوشتہ دیوارشمارہ جون 2026
حاجی ترنگ زئی مجاہد کا تعارف
میئر اپر وزیرستان شاہ فیصل غازی کے غیر مقامی بھرتیوں پر شدید تحفظات