پوسٹ تلاش کریں

شمس الدین شگری:فراز صدیقی-قرآن کی سائنسی تفسیر اور الحاد

شمس الدین شگری:فراز صدیقی-قرآن کی سائنسی تفسیر اور الحاد اخبار: نوشتہ دیوار

ڈاکٹر فراز صدیقی کہتا ہے کہ قرآن عرب کے دیہات کے ماحول کے مطابق تھا موجودہ سائنسی دور میں اس کی تعلیمات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جبکہ ڈاکٹر صاحب نالائق لگتاہے۔

قرآن کہتا ہے کہ ”مستقبل میں ہم تمہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور تمہاری جانوں میں بھی ”۔امریکہ بعد میں دریافت ہوا ہے جہاں دو سمندوں کے ملنے کا دنیا میں سب بڑا مظاہرہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی جان میں دو بحروں کے ملنے کا کیا مظاہرہ ہے؟۔ ڈاکٹر کو جنم دینے کیلئے اس کے والدین نے کشتی شروع کردی تو یہ مرج البحرین کا مظاہرہ تھا۔قابل ڈاکٹر سمجھ سکتا ہے کہ لاتعداد سپرم کے درمیان یلتقیان جو جھگڑا ہوتا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں سب زندگی کے سمندر میں اپنی بقاء کی جدوجہد کرتے ہیں اور آخرکار ڈاکٹر کی جان والدین کے نطفہ امشاج میں آگئی۔

بینھما برزخ لایبغیان

اس میں برزخ کی ایسی پروٹکشن ہوتی ہے جو ایک دوسرے پر تجاوز نہیں کرسکتے۔ نہ عر ب نے دنیا کے بڑے سمندردیکھے تھے اور نہ ان کو اپنے اندر نطفہ امشاج کے اس طوفافی بحروں کا پتہ تھا۔

قرآن نے واضح کیا : خلق الانسان من علق

”انسان کو لٹکی ہوئی چیز سے پیدا کیا”۔ ایک بالکل جاہل کہہ سکتا ہے کہ والد کے عضو تناسل کی پیداوار ہے۔ جرمن کا ایک ڈاکٹر صرف اسلئے مسلمان ہوا کہ عربی میں جونک کو علق کہتے ہیں کہ انسان کو رحم مادر سے جونک کی طرح چمٹا دیا جاتا ہے کہ اتنے عرصہ پہلے قرآن کو اس کا کیسے پتہ چلا؟۔ جبکہ یہ تو بالکل جدید تحقیق ہے۔

ڈاکٹر صاحب اپنے فن میں کوئی کمال دکھا کر شہرت حاصل کریں، اگر شلوار سرپر باندھ کر بھرے بازار میں پوٹی کرنے کا شوق شہرت کیلئے پورا کرنا ہے تو پچھاڑی میں سیٹی بھی لگائیں جو خوب بجے گی اور زبردست تشہیر کا ذریعہ بن جائے گی۔ اسلام کی افادیت کو نہیں سمجھ سکتے تو پہلے اپنے فن میں کمال حاصل کرو اور پھر اپنے فن میں کمال حاصل کرنے والوں کی رائے قرآن کی کسی آیات اور معلومات کے بارے میں پہلے دیکھ لو پھر اس کے بعد تنقید کرنے کا کوئی معیار بھی بن جائے گا۔

سورہ فرقان میں بشر کو پانی سے پیدا کرنے اور نسب اور صہر دونوں رشتوں کی بات ہے۔ اگر اپنے فن میں کمال حاصل ہوگا اور پھر قرآن کی طرف آؤگے تو اپنا فن بھی زیادہ سمجھ میں آئے گا اور قرآن بھی۔ لیہ پنجاب میں ہمارے بیالوجی کے استاذ حضور بخش تھے۔ بیالوجی میں زندگی شروع ہونے کا تضاد تھا اور میں نے اعتراض کیا تو بعد میں نصاب سے وہ سبق ہی نکال دیا تھا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

حاجی ترنگ زئی مجاہد کا تعارف
میئر اپر وزیرستان شاہ فیصل غازی کے غیر مقامی بھرتیوں پر شدید تحفظات
”دو ندیاں” جہاں امام مہدی کی جگہ ہے