پوسٹ تلاش کریں

دلچسپ اور عجیب غور کروتوسہی!

دلچسپ اور عجیب غور کروتوسہی! اخبار: نوشتہ دیوار

لاہور میں رنجیت سنگھ کی مسلمان بیوی گل بیگم کا مزار تاریخی یادگار موجود ہے ، مذہبی طبقہ دلال طبقہ غریب پر فتویٰ لگاتا ہے طاقتور امیر پر نہیں۔ مفتی تقی عثمانی نے جنرل رحیم الدین قادیانی مبلغ کی بیٹی کا نکاح جنرل ضیاء الحق کے بیٹے سے پڑھایا۔ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ نے اپنے فتاویٰ کفایت المفتی میں قادیانیوں کو اہل کتاب کے حکم میں قرار دیا لیکن دوسری طرف دیوبندی قادیانیوں کو زندیق قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر توبہ کرلیں تو بھی واجب القتل ہیں۔ اور پھر اتنے نالائق ہیں کہ جب شیخ عبدالقادر جیلانی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، علامہ سید یوسف بنوری اور شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کے حوالہ دئیے بغیر کتابوں سے فتویٰ طلب کیا تو حاجی عثمان کی بات سمجھ کر کفر، گمراہی، زندقہ اور قادیانیت کا فتویٰ لگادیا۔ حقیقت کا پتہ چلا تو پیشکش کردی کہ حاجی عثمان کے خلاف فتویٰ واپس لیں گے۔ مولانا فضل الرحمن قائد جمعیت علماء اسلام نے کہا تھا کہ ”چھرا ہاتھ میں ہے اور بکرے کو لٹایا ہوا ہے ۔ ذبح کر و، ٹانگیں ہلائیں گے تو ہم پکڑ لیں گے”۔ اس فتوے پر دارالعلوم کراچی نے دستخط نہیں کئے اسلئے ایک عبارت مولانا سبحان محمود کے ترجمہ کردہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی کتاب اخبار الاخیارسے تھی لکھاہے کہ ” جب سیدنا عبدالقادر جیلانی منبر پر واعظ فرماتے تھے تو تمام انبیاء کرام و اولیاء عظام موجود ہوتے تھے اور سرکار دوعالم ۖ آپ کی تربیت کیلئے جلوہ افروز ہوتے تھے”۔

مولانا سبحان محمود نے سعودی عرب کے خوف سے اپنا نام بدل کر سحبان محمود رکھ دیا تھا کہ سبحان محمود شریعت کے خلاف ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے وکیل کو جواب میں لکھا کہ ”ہم نے حاجی عثمان کے خلاف نام سے کوئی فتویٰ نہیں دیا”۔ حاجی عثمان نے انکے خلاف کیس بھی واپس لیا اور فتویٰ چھاپنے کی اجازت بھی نہیں دی تو کسی نے حاجی عثمان کے معتقد سے نکاح سے متعلق جامعہ بنوری ٹاؤن ، دارالعلوم کراچی اور جامعة الرشید کے سابقہ دارالافتاء والارشاد جس کو مولانا فضل الرحمن نے کھوٹہ قرار دیا ہے سے فتویٰ لیا اور تینوں کا جواب مختلف تھا۔ بنوری ٹاؤن نے لکھاکہ حاجی عثمان پر فتوے بھی نہیں لگتے اور نکاح تو بہر حال جائز ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے لکھا کہ ”نکاح منعقد ہوجائے گا اور بہتر ہے کہ ان کے احوال سے آگاہ کیا جائے”۔ کھوٹے نے لکھا کہ ”نکاح جائز نہیں ہے”۔

پھر مفتی عبدالرحیم نے اپنی طرف سے سوال جواب مرتب کئے اور آخر میں لکھا کہ ”اس نکاح کا انجام کیا ہوگا عمر بھر کی حرام کاری اور اولاد الزنا”۔ جس پر مفتی ولی حسن نے بھی دستخط کئے جو مفتی سے زیادہ مجذوب تھے۔ دارالعلوم کراچی نے بھی اپنا مؤقف تبدیل کرکے لکھا ”جائز نہیں گو منعقد ہوجائے” ۔ میں نے دارالعلوم کراچی اور جامعہ بنوری ٹاؤن کو انکی مساجد میں اعلان کرکے چیلنج کیا ۔ مفتی تقی عثمانی وغیر ہ مسجد سے بھاگے اور کھوٹے والے مفتی عبدالرحیم ،مفتی رشیداحمد لدھیانوی کو تحریری چیلنج دیا تو چیلنج قبول نہیں کیا ہمارے ساتھیوں کو پکڑ کر پٹائی لگائی اورایک موقع پر ہمارے ساتھی عبدالقدوس بلوچ وغیرہ کیساتھ حوالات میں لشکر جھنگوی کے دہشتگرد مفتی رشید احمد لدھیانوی اور مفتی عبدالرحیم کی طرف سے ساتھ بند تھے۔ ملک اسحاق نے ڈرانے کیلئے اداکاری کی تو غازی عبدالقدوس بلوچ نے اپنا مکا دکھایا کہ ”پنچ بنانا تو پہلے سیکھو” جس سے وہ دبک کر بیٹھ گیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی فتوے اور لڑائی کا معاملہ پیش آیا جس کی تفصیل سے عوام دنگ رہ جائیں گے۔ پھرمجھ پر2006ء میں قاتلانہ حملہ ہوا اور2007ء میں کرایہ کے دہشت گردوں نے گھر پر حملہ کرکے13افراد شہید کئے تو اس کے بعد مفتی تقی عثمانی نے ”فتاویٰ عثمانی جلد دوم ” میں حاجی عثمان کے کسی معتقد سے نکاح کا انجام عمر بھر کی حرامکاری اور اولاد الزنا کے الفاظ والا فتویٰ2007ء میں پہلے چھاپا اور پھر2022ء میں لیکن میں نے اخبار میں پوچھا کہ ” فتوے کے بعد مولانا اشفاق احمد فاضل دیوبند حاجی عثمان کے مرید کو دارالعلوم کراچی میں کیوں رکھا تھا؟۔ جس کی بیوی فوت ہوگئی تھی تو کیا خود حلالہ کی لعنت کے فتوے دیکر اپنی بیگمات کو وقت دینے کی فرصت نہیں تھی اور حاجی عثمان کے مریدکو ان کیلئے رکھا ہوا تھا؟۔ جس کی بیوی فوت ہوچکی تھی؟۔ مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ مفتی تقی عثمانی کے دوبیٹے اور ایک بیٹی7،7سال کے وقفے سے پیدا ہوئے۔

مردے نہلانے اور حاجی بدل پر کمانے والے مفتی تقی عثمانی کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی کہ بال بچوں سمیت دنیا میں جہاز پر سفر کئے؟۔ جب جہاز میں مفتی شفیع کا فتویٰ ہے کہ نماز نہیں ہوتی تو اس میں گھوم کر نمازوں کا جان بوجھ کر قضا کرنا جائز ہے؟ اور شرم بھی نہیں آئی کہ دنیا میرے آگے کتاب لکھی؟۔ مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی میں آیت کا حوالہ دیکر کہا کہ” چیخ وپکار کو اللہ پسند نہیں کرتا مگرمظلوم کی چیخ وپکار کو اللہ پسند کرتاہے”۔ علماء پر کس نے ظلم کیا ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن شہر ڈلیوری وارڈ کا منظر پیش کرتا ہے؟۔

جب1857ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریز نے سرکاری تعلیم میں عربی اور سنکسرت زبانوں کا سلسلہ ختم کیا تو دیوبند کے سید عابد حسین نے ایک مقامی مسجد میں اسلامی تعلیم کیلئے مدرسہ کھولا ۔ اپنی طرف سے بھی چندہ دیا اور بلامعاوضہ خدمت کرتے تھے۔ مقامی ملا محمود کو15روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھا۔ مولانا محمود الحسن نے وہاں درمیانہ درجے کی کتابیں پڑھیں۔ مولانا قاسم نانوتوی اس وقت میرٹھ میں ملازم تھے۔ مولانا محمود الحسن نے میرٹھ میں ان سے احادیث کی کتابیں پڑھیں اور پھر دارالعلوم دیوبند میں مدرس ہوگئے۔ حاجی عابد حسین بانی ومہتمم جو بلامعاضہ خدمت کرتے تھے۔ رفیع الدین کو اہتمام کی ذمہ داری سونپتے تھے۔ جب انہوں نے مکہ میں مستقل قیام کیا تو شروع میں دو مقامی علماء کو باری باری اس خدمت پر مأمور کیا۔1880ء میں مولانا قاسم ناناتوی کا انتقال ہواتھا اور1885میں ان کا بیٹا حافظ محمد احمد دارالعلوم کا مدرس مقرر ہوا اور1895ء میں مہتمم بن گیا تو اسکے بعد یہ خاندان کیسے چپک گیا اور جب1980ء میں بیٹے کو مہتمم نامزد نہیں کرنے دیا تو پھر دارالعلوم دیوبند ہی اپنے لئے وقف کے نام سے الگ بنالیا۔

کھلا جھوٹ:

1928ء سے1930ء ویب سائٹ کو دیکھو۔ حافظ محمد احمد1930تک مہتمم ۔1928ء سے قاری طیب1980ء اور1928ء سے1929ء تک حبیب الرحمن عثمانی ہیں۔ تاریخ کی بنیاد جھوٹ پرہے جو آپس کے اختلافات کے سبب کچھ معلوم کتابوں میں اور کچھ نیٹ پر دستیاب ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کے استاذ شیخ الہند تھے جن کی اولاد لا پتہ ہے۔ بانی مہتمم سید عابد حسین کا نام اور اولاد غائب کرنے کی کوشش کی گئی۔ دارالعلوم دیوبند کے پہلے مہتمم حاجی رفیع الدین نے مرنے سے پہلے کعبہ کے والی کو مہدی کیلئے خط اور تحائف رکھوا دئیے تھے۔خطبات حکیم الاسلام قاری محمد طیب مہتمم دیوبند۔

1980ء میں سوانح قاسمی میں پڑھا تھا کہ نانوتوی کی بیوہ کو قبر سے مٹھائی کا ڈبہ گھر میں ملتا تھا لیکن پھر شکوک و شبہات کو ہوامل گئی تو مٹھائی کا ڈبہ جو مسلسل آتا تھا پھر آنا بند ہوگیا تھا۔

علی کی بیوہ بھابھی سے ابوبکر نے نکاح کیا اور ابوبکر کی وفات کے بعد علی نے اس بیوہ سے دوبارہ شادی کی ۔ مولانا قاسم ناتوتوی کا اعزاز یہ تھا کہ اپنی بوڑھی بیوہ بہن کا نکاح اسلئے منت سماجت کرکے قائل کروایا کہ وعظ میں تاثیر ہوگی لیکن ان کا ایمانی جذبہ بیوہ کیساتھ نہیں رہا؟۔پھر مٹھائی ملنے لگی تھی؟۔

پرنسپل بنوری ٹاؤن ڈاکٹر حبیب اللہ مختارشہید کی بیوہ کوشادی پر بدمعاش طبقہ نے تمام مالی حقوق سے دستبردار کرانے پر مجبور کیاتھا اور پھر وہ بے دردی سے قتل اور غائب کردی گئی تھی۔ سید محمد بنوری کو شہید اور خودکشی کے بہتان سے شرم بھی نہیں آئی۔

والذین یتوفون منکم ویذرون ازوجًا وصیة لازواجھم متا عًا الی الحول غیر اخراجٍ فان خرجن فلا جناح علیکم فی ما فعلن فی انفسھن من معروف واللہ عزیز حکیمO

آیت میں بیوہ کیلئے وراثت کے علاوہ ایک سال کا خرچہ ہے۔ جب تک وہ گھر سے نہیں نکلے تو نکالنا جائز نہیں ۔ غیر اخراج کا تعلق سال سے نہیں ہے جیسے

فلیس جناح علیھن ان یضعن ثیابھن غیر متبر جٰت بزینةٍ

آیت میںغیر متبرجات سے سنگار کو مستقل ڈھکنے کا حکم ہے۔اسی طرح بیوہ جب تک خود نہیں نکلے تو اس کو نہیں نکال سکتے۔ مفتی شفیع اور مفتی تقی عثمانی کی بیوہ کیلئے مدرسہ کے وقف زمین میں قبر ہو لیکن دوسروں کی بیوہ کو قرآن کا غلط ترجمہ کرکے گھروں سے نکلوائیں؟۔

انبیاء درہم ودینار کی وراثت نہیں چھوڑتے اور انکے جعلی وارث چندوں کے وقف مال پرموروثی قبضہ کریں؟۔ اسلام کو یرغمال بناکر فتویٰ فروشی کا دھندہ کریںواہ واہ۔ شیخ الہندمولانا محمود الحسن نے مالٹا کی جیل سے1920ء میں آمد اور وفات سے پہلے فرمایا کہ” امت کے زوال کے دو سبب ہیں۔ قرآن سے دوری اور فرقہ پرستی” لیکن کسی نے توجہ نہیں دی۔1928ء میں دیوبند میں اختلافات کے سبب مولانا انورشاہ کشمیری وغیرہ الگ ہوکر ڈھابیل گئے۔ وفات1933ء سے پہلے فرمایا کہ ” قرآن و حدیث کی کوئی خدمت نہیں کی ، مسلک کی وکالت میں عمر ضائع کردی”۔ علامہ یوسف بنوری نے علماء کو عربی ، قرآن و حدیث اور فقہ سمجھانے کیلئے مدرسہ کھولا تھا مگرمفتی شفیع نے جب نانک واڑہ سے دارالعلوم کرچی کو شرافی گوٹھ منتقل کیا تو علماء وطلبہ کیلئے ابتدائی کتابوں تک توسیع کردی تھی لیکن سالانہ فنڈز کا تعین ہوتا اور باقاعدہ آخر میں آڈٹ کرایا جاتااور اپنی ضرورت سے زیادہ پیسہ نہیں لیتے تھے اسلئے علماء کے لشکرہی لشکر رمضان میں آتے تھے کہ وہاں پیسہ لینے کی گنجائش نہ ہوتی تھی۔

1983ء میں ایک طالب علم کا ماہنانہ خرچہ110روپیہ تھا اور10مہینے کے11سوروپیہ بنتا تھا۔ اسلئے کہ دو ماہ چھٹی ہوتی تھی۔ حافظ محمد احمد1962ء میں ناتوتہ میں پیدا ہوئے ، حفظ کے بعد کچھ ابتدائی کتابیں والد مولانا قاسم ناتوتوی سے پڑھیں، پھر بلندشہر میں تعلیم حاصل کی ، شیخ الہند سے دیوبند میں پڑھا اورگنگوہ میں مولانا گنگوہی سے دورہ حدیث کیا۔ دارالعلوم دیوبند کے اہتمام کی طرح تدریس سے بھی مولانا قاسم ناناتوی کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

حافظ محمد احمد سے پہلے دارالعلوم دیوبند کا سالانہ آمدن5،6ہزار تھا جوپھر انہوں نے90ہزار تک پہنچادیا۔ طلبہ کا اوسط آمدن دو ڈھائی سو تھا جو9سوتک پہنچ گیا۔ کتابوں کی تعداد5ہزار سے40ہزار تک پہنچ گئی۔ دارالعلوم کی عمارت کا تخمینہ36ہزار سے4لاکھ تک پہنچ گیا۔1922ء سے1925ء تک نواب حیدر آباد دکن کے ہاں ملازمت کی اور1928ء نواب کو جلسہ میں شرکت کرانے کیلئے حیدرآ باد دکن گئے اور وہیں انتقال ہوا اور مدفون ہوگئے۔

مولانا بنوری نے مدرسہ کو دنیاوی کاروبار بنانے سے بچایاتھا۔ ہم درجہ اولیٰ میں تھے تو پہلی بار طلبہ کو مدرسہ نے قربانی کی کھالیں جمع کرنے کیلئے رضا کارانہ طور پر بھیج دیا پھر اسی سال محرم میں مولانا سلیم اللہ خان اور مولانا اسفندیار خان جن پر سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق کے سوتیلے والد مولانا زکریا نے شیعہ کے خلاف پیسہ کھانے کا اخبارات میں الزام لگایا تھا تو ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے درسگاہ میں ان کو فتنہ قرار دیا۔ جب دوسرے سال عیدالاضحی کی چھٹیاں قربانی کی کھالیں جمع کرنے کی غرض سے ختم کرکے عید کے بعد دی گئیں تو میں احتجاجاً اپنے گھر کوٹ ادو پنجاب گیا۔ مفتی احمد الرحمن کی رحمانی ، ڈاکٹر حبیب اللہ مختار کے قہر سے احتجاجاً مدرسہ چھوڑ دیا ۔ اگلے سال دوبارہ آیا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کی یادگار لڑائیاں، امتیازی عزت ۔ پھر علمائ، خانقاہ پھر جمعیت علماء ، طالبان اور اقارب سے جھگڑا؟

ولقد صرفنا فی ھٰذا القراٰن من کل مثل و کان الانسان اکثر شی ئٍ جدلً

ا” اور بیشک ہم نے اس قرآن میں پھیر پھیرکرہر قسم کی مثال بیان کردی ہے اور انسان ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔(سورہ الکہف:آیت:54 )

ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

مسئلہ طلاق وحلالہ علت معلول
قابل غور دلائل ملاحظہ کریں :
دلچسپ اور عجیب غور کروتوسہی!