پوسٹ تلاش کریں

والمحصنات من النساء الا ماملکت ایمانکم کتاب اللہ علیکم واحل لکم ماوراء ذٰلکم

والمحصنات من النساء الا ماملکت ایمانکم کتاب اللہ علیکم واحل لکم ماوراء ذٰلکم اخبار: نوشتہ دیوار

اورعورتوں میں بیگمات مگر جن سے تمہارا معاہدہ ہو ۔اللہ کی کتاب کی پیروی تم پر لازم ہے اور انکے علاوہ تمہارے لئے حلال ہیں( النساء)

سورہ النساء آیات22اور23میں محرمات کا ذکر ہے ، پھر آیت24میں اللہ نے فرمایا:

والمحصنات من النساء الا ما ملکت ایمانکم کتاب اللہ علیکم واحل لکم ماوراء ذٰلکم ان تبتغوا باموالکم محصنین غیر مسافحین فما استمتعتم بہ منھن فاٰتوھن اجورھن فریضةً ولا جناح علیکم فیما تراضیتم بہ من بعد الفریضة ان اللہ کان علیمًا حکیمًاO

”اور عورتوں میں بیگمات مگر جن سے تمہارا معاہدہ ہوجائے ، تمہارے اوپر اللہ کی کتاب کی پیروی لازم ہے اورحلال ہیں جو ان کے علاوہ ہیں تمہارے لئے کہ تم اپنے اموال کے بدلے ان کو ڈھونڈو ان سے معاہدے کی پابندی کیساتھ نہ کہ بدکاری کرتے ہوئے پس جو تم ان سے فائدہ اٹھاؤ تو جو معاوضہ طے کیا ہو فرض تو وہ انہیں دیدو۔ اور تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں ہے کہ معاوضہ طے کرنے کے بعد کمی بیشی پر راضی ہوجاؤ۔ بیشک اللہ بہت جاننے والا بہت زیادہ حکمت والا ہے”۔ النساء:24

گوجرانولہ کے ڈاکٹر پروفیسر اورنگزیب صاحب پاکستان کی ایک معروف شخصیت اور سائنسدان ہیں۔ وہ ایک بہت اچھے عالم دین، تفسیر، حدیث، اصول فقہ اور اسلامی تاریخ کے بہت ماہر شخصیت ہیں۔ ایک دفعہ گفتگو کے دوران انہوں نے فرمایا کہ ”آیت کی تفسیر کا فیصلہ آیت کے آخر کی بنیاد پر ہوتا ہے”۔

اب سوال یہ ہے کہ

والمحصنات من النساء الا ما ملکت ایمانکم کتاب اللہ علیکم ……النساء :24

میں اگر ہم آیت کے آخری حصہ کو دیکھ لیں تو کیا نظرآتاہے؟۔

آیت کے آخری حصہ پر تفاسیر میں اختلاف ہے کہ متعہ مراد ہے یا نکاح ؟۔ عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں الی اجل مسمی کے الفاظ بھی ہیں۔جس کا مطلب متعہ اور مقررہ وقت ہے۔ اصول فقہ میں امام ابوحنیفہ کا یہ مسلک بیان ہوا ہے کہ ”خبر واحد کی آیات خبر واحد کی احادیث سے زیادہ معتبر ہیں”۔

امام شافعی خبر واحد کی آیات کو قرآن میں تحریف سمجھتے ہیں۔ امام شافعی اور امام ابوحنیفہ میں عقیدے کا کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن مدارس کے درس نظامی میں امام ابوحنیفہ کے نام پر بکواس کی تعلیم دی جاتی ہے۔ امام ابوحنیفہ کے شاگرد قاضی القضاہ امام ابویوسف نے امام ابوحنیفہ کے مسلک سے انحراف کیا تھا۔

عبداللہ بن مسعود سے بخاری ومسلم میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے رسول اللہ ۖ سے عرض کیا کہ ہم خصی نہ ہوں؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ نہیں!، ایک دو چادر کے بدلے میں کسی عورت سے متعہ کرلو۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ

یا ایھا الذین اٰمنوا لاتحرموا طیبٰت ماحل اللہ لکم ولا تعتدوا ان اللہ لایحب المعتدینO

”اے ایمان والو! تم پاک چیزوں کو حرام مت کروجو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں۔اور حد سے نہ بڑھو اور بیشک اللہ حدسے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے ”۔ المائدہ:87

صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور صحیح مسلم میں ہے کہ ابن مسعود نے حوالہ دیا۔

رسول اللہ ۖ کے صحابہ کرام فیضانِ صحبت کی وجہ سے صحابہ کہلاتے ہیں۔ مدارس اور خانقاہوں کی صحبت کا اپنا ایک بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے مدارس اور خانقاہوں کی کوئی ہوا نہیں کھائی ہے تو ان کی گمراہی کا اندازہ بہت جلد لگ سکتا ہے۔

کسی حکم کی علت نکالنا جاویداحمد غامدی جیسے لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے جو مدارس اور خانقاہ کی صحبت کے جھوٹے اور بے بنیاد قصے سناتے ہیں۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں متعہ کی علت بیان کرتے ہوئے آیت کا حوالہ دیا گیا ہے کہ اللہ نے یہ حلال کیا ہے تو اس کو حرام نہیں قرار دے سکتے ۔ ابن مسعود کے خلاف یہ بہتان ہے کہ وہ آخری دو سورتوں کو نہیں مانتے تھے ۔ جاویدغامدی نے یہ سلسلہ قرآن کی دوسری سورتوں میں بھی کمی کرنے کی بات کی ہے کہ سورہ النساء اور فلاں سورة اصل میں اتنی ہے اور باقی قرآن نہیں ہے۔ قادیانیت سے بڑی دجالیت غامدیت ہے۔ جس کو اغیارکی وجہ سے مسلط کیا جارہاہے۔

عبداللہ بن عباس کی طرف ایسی روایات بھی منسوب ہیں کہ الی اجل مسمٰی کے بارے میں کہتے تھے کہ ایسی ہی نازل ہوئی تھی مگر صحیح بات یہی ہے کہ عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس اور کچھ دیگر صحابہ بطور تفسیر اس طرح پڑھتے تھے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کتاب اللہ میں ملکت ایمانکم کا تصور کیا ہے؟۔ اگر آیت کے آخر سے متعہ مراد لیا جائے تو پھر یہ بھی متعہ ہے۔ سعودی عرب میں مسیار کا قانون رائج ہے اور اس پر متعہ اور ماملکت ایمانکم ہی کا اطلاق ہوتا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ محصنات سے کون مراد ہیں؟۔
اس کی تفسیر پر بھی صحابہ میں اختلاف تھا کہ کیا کون مراد ہیں؟ لیکن اللہ نے ”کتاب کی پیروی کو لازم قرار دے دیا”۔

ھو الذی انزل علیک الکتٰب منہ اٰیٰت محکمٰت ھن ام الکتٰب و اُخر متشٰبھٰت فاما الذین فی قلوبھم زیع فیتبعون ما تشابہ منہ ابتغاء الفتنة وابتغاء تاویلہ ومایعلم تأویلہ الا اللہ والرّا سخون فی العلم یقولون اٰمنا بہ کل من عندربنا و مایذکرالا اولوا البابO(سورة آل عمران آیت:7)

متشابہات کا معنی یہ ہے کہ جس کی نظیریں یا مشابہ معاملات ہوں۔ احمق لوگوں نے ان کو مشتبہ سمجھ لیا ہے جس میں شک اور اشتباہ ہو۔ حالانکہ یہ لاریب فیہ کے بالکل خلاف ہے۔

جیسے سورہ رحمان میں سمندر میں پہاڑوں جیسے جہاز کا ذکر ہے تو اگر14سو سال پہلے اس کی نظیریں یا مشابہ چیزیں نہیں تھیں تو اس کے پیچھے فتنے اور تاویل کی غرض سے پڑنے والوں کو اللہ نے کنفرم کردیا ہے کہ انکے دلوں میں کجی ٹیڑھا پن ہے۔

قرآن میں محصنات کے کئی معانی ہیں۔ کنواری کے مقابلے میں بیوہ و طلاق شدہ پر بھی محصنات کا اطلاق ہوتا ہے اور جب اللہ نے حکم فرمایا کہ ”اپنوں میں بیوہ وطلاق شدہ کا نکاح کراؤ ” تو پھر محصنات سے بیگمات کیسے مراد لے سکتے تھے؟۔ پھر آج وہ دور بھی آیا ہے کہ بیگمات میں سے سرکاری افسران کی مراعات ہوتی ہیں اور وہ اپنی مراعات کو بھی نہیں چھوڑ سکتی ہیں۔

اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے
مجبور ہیں اُف اللہ چپ رہ بھی نہیں سکتے
امت پہ عجب وقت امتحاں کا آپڑا ہے
اس طوفاں میں مزید بہہ بھی نہیں سکتے

اگر ایک جوان لڑکی کے جوان شوہر کو شہادت کے بعد نشانِ حیدر مل جاتا ہے تو اس کی بیوہ کیلئے ایک طرف زندگی بھر خواہش کی قربانی یا مراعات میں سے ایک چیز کی قربانی دینی پڑے گی اور اگر وہ بیگم لیاقت علی خان رعنا لیاقت علی خان کی طرح پیرس فرانس میں سفیر تعینات ہو اور ایک جوان ملاز م سے کہے کہ یہی تمہاری ڈیوٹی ہے کہ میرے ساتھ شراب پی کر میرا دل بہلاؤ تو ریاست مدینہ کے طرز پر ریاست پاکستان کا کیا امیج بنے گا؟۔

دوسری طرف دیکھیں تو ایران اور سعودی عرب حکومت میں متعہ و مسیار کو کس کھاتے میں ڈالا جائے گا؟۔ جب افغانستان پر نیٹو کی افواج نے قبضہ کیا تو افغانستان میں امریکی فوجیوں کی گود میں افغان لڑکیوں کی کھیلتی ہوئی ویڈیوز ریلز کی گئی تھیں۔ یہ اچھا ہے کہ علماء ومفتیان نے احتجاج نہیں کیا کہ یہ تم ناجائز کرتے ہو ،ان کو زبردستی سے لونڈیاں بناؤ تاکہ تمہارے لئے جائز بن جائیں۔بڑے بڑے علماء ومشائخ کے بارے میں یہ کہانیاں لکھی ہیں کہ ”میں بادشاہ کے دربار میں حاضر نہیں ہوسکتا ہوں، مجھے گرفتار کرکے لے جاؤ تو ٹھیک ہے”۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی کہے کہ میں لیٹ نہیں سکتا مگر مجھے لٹاکر میری مارو۔

بخاری ومسلم اور دیگر کتابوں میں دو چیزوں کے اندر بہت واضح بگاڑ نظر آئے گا ایک حلالہ اور دوسرا متعہ۔ حلالہ کو جواز بخشنے کیلئے بے غیرت مذہبی طبقات نے ساری رسیاں توڑ دی ہیں۔ متعہ کو حرام قرار دینے کیلئے بھی بہت ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے لیکن اگر عدل وانصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو معاملات روزِ روشن کی طرح ایسے واضح ہوجاتے ہیں کہ کوئی بھی انکار کی جرأت نہیں کرسکتا ہے۔ بشرط یہ کہ اللہ اور آخرت پر ایمان ہو۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں کیا گیا؟۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عمر اور حضرت علی کے دو جعلی و بے بنیاد مؤقف تشکیل دئیے گئے۔ بنوامیہ نے شیعہ سنی تفریق کی بنیاد رکھ دی اور بنوعباس نے اس پر ایک بلڈنگ کھڑی کی۔

وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامٰی فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنٰی وثلاث و رباع فان خفتم الا تعدلوا فواحدةً او مالکت ایمانکم ذٰلک ادنٰی الا تعولواO (سورہ النساء:آیت3)

ترجمہ ”اوراگر تمہیں خوف ہو کہ یتیم عورتوں کیساتھ انصاف نہیں کرسکتے تو نکاح کرو ! دودو، تین تین اور چار چار عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں اور اگر تمہیں خوف ہو کہ عدل نہیں کرسکتے تو پھر ایک یا جن کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہوجائے اور یہ معمولی درجہ کی بات ہے تاکہ تم بغیر عیال کے نہیں رہو”۔

رسول اللہ ۖ نے فرمایا :”دنیا گزر اوقات کی چیز ہے اور بہترین گزر اوقات کی چیز عورت ہے۔ صالحہ عورت”۔ صحیح مسلم

رسول اللہ ۖ نے یہ بھی فرمایا:” جس نے شادی کرلی تو اس نے آدھا ایمان پورا کرلیا لہٰذا اس کو چاہیے کہ باقی آدھے میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرلے”۔ طبرانی ، مستدرک الحاکم

سورہ النساء کی اس آیت میں اللہ نے پہلی وضاحت یہ کردی کہ اگر تمہیں یتیم عورتوں کیساتھ انصاف نہ کرنے کا خوف ہو تو پھر ان سے نکاح مت کرو۔ باقی جہاں تمہیں پسند ہوں دودو، تین تین اور چار چار عورتوں سے نکاح کرو لیکن اگر تمہیں خوف ہو کہ عدل نہیں کرسکتے تو پھر ایک یا جن کے ساتھ معاہدہ ہو۔

انصاف نہ کرنے کی صورت میں ایک عورت کیساتھ نکاح یا پھر کسی کے ساتھ آخری درجہ میں معاہدے کی اجازت ہے۔

ایک عورت کا بھی ایک بوجھ ہوتا ہے ۔ گھر بار، خرچہ، اولاد، بیماری تعلیم وتربیت وغیرہ۔ جب یہ بھی نہ ہوسکے تو پھر کسی ایسی عورت سے ایگریمنٹ جو اپنا خرچہ خود اٹھا سکتی ہو۔ اسلئے کہ معاشرے میں عیالداری کے بغیر رہنے سے معاملہ خراب ہوگا۔

جس کوقرآن نے بالکل آخری درجہ میں رکھا ہے اس کی بنیاد پر عورتوں سے لونڈیاں مراد لی گئی ہیںجس میں تعداد کا کوئی بھی تصور نہیں ہے اسلئے حکمران ہزاروں کی تعداد میں لونڈیاں رکھ کر معاشرے، عورت اور انسانیت کیساتھ بے انصافی کرتے تھے لیکن مولوی اور مذہبی طبقہ لالچ، خوف اور کم عقلی یا بے علمی کی وجہ سے قرآن کا درست مفہوم نہیں بتاسکتا تھا۔12نواب آف بہالپور کی بیگمات اور لونڈیوں کے احوال گوگل پر دیکھو اور پھر قرآن وسنت کی تعلیمات کیساتھ مطابقت کرکے دکھاؤ۔

غزوہ بدر میں کس کو غلام اور لونڈی بنایا گیا؟۔ فتح مکہ ہوا تویہ کوئی بتاسکتا ہے کہ اگر ابوسفیان کو غلام اور حضرت ہند کو لونڈی بنادیا جاتا تو مشرکینِ عرب اسلام قبول کرتے؟۔

سبرہ بن معبد نے کہا کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہۖ نے عورتوں کیساتھ متعہ کی اجازت دی تو میں اور میرے چچازاد ہم تلاش میں بنی عامرگئے اور ایک عورت مل گئی جیسے وہ کنواری ہو اور خوبصورت پتلی گردن والی۔میرے پاس چادر پرانی تھی اور ساتھی کے پاس نئی خوبصورت۔ اس نے کہا کہ بدلے میں کیا دو گے؟تو اس نے میری اور اس کی چادر کی طرف دیکھا ، دونوں کی شکلیں بھی دیکھیں تو بدصورت تھا بھاری خون کے قریب اور میری شکل اچھی تھی تو اس نے میرا انتخاب کیا۔ اس نے پرانی چادر کو نئی چادر پر ترجیح دی۔

مکثت معھا ثلاثًا ثم ان رسول اللہ ۖ قال : من کان عندہ شی ء من ھذہ النساء التی یتمتع فلیخل سبیلھا

”میں اسکے ساتھ تین دن تک رہا ۔ پھر رسول اللہ ۖ نے فرمایا: جس کے پاس متعہ کی عورتوں میں سے کسی سے تعلق ہو تو اس کا راستہ چھوڑ دے”۔

حرام حلال کا تعلق اس سے نہیں ہوسکتا ہے کہ فتخ مکہ کے دن حلال کیا پھر حرام کیا، بخاری میں ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبیۖ نے پالتو گدھوں کا گوشت اور عورتوں سے متعہ حرام کیا لیکن احادیث کے نام پر بہت سارے معاملات میں ڈنڈیاں ماری گئی ہیں۔ مرد اور عورت دونوں کیلئے متعہ کوئی قابل تعریف چیز نہیں ہے لیکن لونڈی کا معاملہ تو اس بھی بہت زیادہ بدتر ہے۔

معاشرے میں ضرورت کے تحت ایک عورت کیلئے یہ جب ہوسکتا ہے کہ شوہر کو تمام حقوق سے دستبردار قرار دے لیکن اس کو اپنی زوجیت میں رکھے تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ باقی حقوق سے وہ عورت آزاد رکھے ، رہائش کھانا پینا اور خرچہ لیکن جنسی تسکین کی خاطر کچھ اوقات کے بعد ملاپ کا سلسلہ جاری رہے۔ یہی چیز ایگریمنٹ ہے۔ عربی سمجھنے کیلئے ترکیب کی ضرورت ہے۔

ماملکت ایمانکم ” حرف ”ما ” موصولہ بمعنی جو۔ ملکت :فعل۔ ایمان جمع یمین کی مضاف کم مضاف الیہ ۔ مضاف مضاف الیہ سے مل کر فاعل ۔ فعل فاعل سے مل کر صلہ ۔

عربی میں دائیں ہاتھ سے عہد لیا جاتا ہے اسلئے اس کو یمین کہتے ہیں۔ ہاتھ بھی عربی مؤنث ہے اور یمین بھی۔ یمین کی وجہ ملکت کا فعل مؤنث ہے۔ جملے کا ترجمہ یہ ہے” وہ عورتیں جن کے مالک تمہارے معاہدے ہیں”۔ ایک نکاح کا پکا معاہد ہ تو دوسرا نکاح کا کچامعاہدہ ہے۔ کوئی آزاد عورت ہو یا لونڈی ہو تو دونوں کے ساتھ پکا نکاح بھی ہوسکتا ہے جس میں بیوی کے وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو عورتوں کو دئیے گئے ہیں دوسری طرف عورتیں بیوی کے حقوق سے دستبردار ہوں تو پھر ان پر ہی ایگریمنٹ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اگر چہ یہ غلام اور لونڈی پر اس وجہ سے فٹ ہے کہ اس کو عبدیت اور ملکیت سے نکال کر گروی کا درجہ دیا گیا ہے لیکن غلام اور لونڈی کیساتھ جنسی تعلقات کی اجازت نہیں ہے ،وہ مالی معاملات کی وجہ سے معاہدے والے کہلاتے ہیں ورنہ پھر عورت بھی اپنے غلام سے جنسی تعلق قائم کرے گی۔ جس طرح عبد اور عبدیت کا جواز نہیں چھوڑا ہے تو اسی طرح لونڈی اور لونڈیت کے جاہلانہ احکام کو قرآن وسنت نے دنیا سے ختم کیا لیکن مفاد پرستوں نے پھر جواز بخش دیا تھا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

مسئلہ طلاق وحلالہ علت معلول
قابل غور دلائل ملاحظہ کریں :
دلچسپ اور عجیب غور کروتوسہی!