پوسٹ تلاش کریں

مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی کو جواب نمبر2

مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی کو جواب نمبر2 اخبار: نوشتہ دیوار

مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی اور حلالہ کیلئے قرآن کی بوٹی کرنے اور فطرت کو بگاڑنے والو!یہ انقلاب آرہاہے

مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برتکاتی نے فتویٰ میں اعتماد سے لکھاکہ

قرآن و حدیث ، صحابہ کرام، ائمہ اربعہ امام اعظم ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین اور اجماع اہل سنت سے یہ ثابت ہے کہ تین طلاقیں تین ہی واقع ہوتی ہیںچاہے ایک مجلس میں دی جائیں یا الگ الگ دی جائیں،اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ سوائے ابن تیمیہ اور اسکے ماننے والے غیر مقلدین اور روافض کے پوری امت میں صرف وہی لوگ ایسے ہیں کہ جو تین کو ایک قرار دیتے ہیں اور ان کا یہ اختلاف بھی قابل اعتبار نہیں ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ

یعنی پھر اگر اس نے تیسری طلاق دی تو اب وہ عورت اس کیلئے حلال نہ ہوگی جب تک کہ دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔ البقرہ:230

جواب: ہاشمی برکاتی صاحب!

تم نے قرآن کی بوٹی بناڈالی اور اس آیت کو آگے پیچھے کی آیات سے الگ تھلگ کردیاجبکہ امام ابوحنیفہ کا یہ مسلک دیوبندی بریلوی مدارس کے نصاب تعلیم میں پڑھایا جاتا ہے کہ آیت230البقرہ کی طلاق کا تعلق اس سے قبل متصل آیت229البقرہ میں فدیہ سے ہے جس کی وجہ سے امام ابوحنیفہ اہلحدیث اور شیعہ کے علاوہ انسانی فطرت کے بھی قرآن کی صحیح تعلیم سے امام اعظم بنتے ہیں۔اللہ نے فرمایا:

قل اللٰھم فاطر السماوات والارض عالم الغیب و الشھادةانت تحکم بین عبادک فی ماکانوا فیہ یختلفونO……سورہ الزمرآیت:46سے آخر تک

”کہہ دو اے اللہ ان کاآسمانوں اور زمین کوفطرت دینے والاغیب اور حاضر کا عالم آپ نے فیصلہ کرنا ہے اپنے بندوں میں جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ اور اگر ان لوگوں کے پاس جو ظلم کررہے ہیں سب کچھ ہو اور اتنا مزید بھی تو اس کے قربان کرنے سے دریغ نہ کریں قیامت(انقلاب) کے دن ۔ اور ان کے سامنے اللہ کی طرف سے ظاہر ہوں گی جس کا ان کو گمان بھی نہیں تھا۔ اور ان کے سامنے ظاہر ہوں گے ان کے سیاہ کرتوت جو انہوں نے کمائے اور وہ لوگ ان کو گھیر لیں گے جن کا یہ لوگ مذاق اڑاتے تھے۔ جس انسان کو نقصان پہنچے تو وہ ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اس کو نعمت دیتے ہیں اپنی طرف سے تو کہتا ہے کہ بیشک یہ میرے علم کی وجہ سے مجھے ملا ہے بلکہ وہ تو ایک آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ تحقیق یہی بات ان سے پہلے والے بھی کہتے تھے مگر پھر انکے کام نہیں آئی جو وہ کماتے تھے۔ پس انکی برائیاں جو انہوں نے کمائی تھیں ان تک پہنچ گئیں۔ اور ان لوگوں میں بھی جنہوں نے ظلم کیا تو ان کو عنقریب ان کی برائیاں پہنچیں گی۔ اور وہ شکست دینے والے نہیں ہیں۔ اور کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ جس کی چاہتا ہے روزی کشادہ کرتا ہے اور تنگ کرتا ہے ۔ بیشک ان میں نشانیاں ہیں اس قوم کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں۔کہہ دو اے میرے بندوں جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ( فرقہ پرستی، جہالت اور حلالوں کی لعنتیں) ہے اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو ، بیشک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دے گا ۔ بیشک وہ غفور رحیم ہے۔ اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کے آگے سر تسلیم خم ہوجاؤ اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آئے پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے۔ اور ان اچھی باتوں کی پیروی کرو جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہیںتمہارے رب سے اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آئے اور تمہیں شعور بھی نہ ہو۔ پھر کوئی نفس کہے کہ ہائے افسوس جو میں نے اللہ کے پہلو میں کیا اور میں تو خسارہ والوں میں سے تھا۔ یا کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔ یا کہے کہ جب عذاب کو دیکھے کہ اگر مجھے پھر لوٹنا نصیب ہو تو پھر میں اچھوں میں سے بن جاؤں گا۔ ہاں تمہارے پاس میر ی آیات آئیں پھر تو نے ان کو جھٹلایااور تکبر کیا اور تو کافروں میں تھا۔ اور قیامت (انقلاب)کے دن آپ دیکھوگے جنہوں اللہ پر جھوٹ باندھا ان کے چہرے سیاہ۔ کیا جہنم متکبر وں کا ٹھکانہ نہیں ہوگا۔ اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کو اللہ ان کی کامیابی کیساتھ نجات دے گااور وہ غمگیں نہیں ہوں گے۔ اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور ہر چیز پر وکیل ہے۔ اس کیلئے آسمانوں و زمین کا تقلیدی نظام فطرت ہے اور جو لوگ کفر کرتے ہیں تو وہی لوگ خسارے میں ہیں۔ کہہ دو کہ تم مجھے حکم دیتے ہو اللہ کے سوا عبادت کااے جاہلو!۔ اور تحقیق ہم نے آپ کی طرف اور جو لوگ آپ سے پہلے گزرے ہیں وحی کی ۔ اگر تم نے کسی کو شریک کیا تو تمہارا عمل برباد ہوگااور تم لوگ ضرور خسارہ پانے والوں میں ہوگے۔ بلکہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور شکر گزاروں میں بن جاؤ۔ اور انہوں اللہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کا حق تھا۔اور زمین پوری میری مٹھی میں ہوگی قیامت (انقلاب ) کے دن اور آسمان اس کے عہد سے لپٹے ہوئے ہوں گے ۔اللہ پاک ہے جس کیساتھ وہ شریک بناتے ہیں اور صور پھونکا جائے گا تو کرنٹ لے گا جو آسمانوں اور جو زمین میں ہے مگر جس سے اللہ چاہے۔ پھر دوبارہ اس میں پھونکا جائے گا۔پھر وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔ اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی اور کتاب رکھ دی جائے گی۔ اور انبیاء اور شہداء کو لایا جائے گا اور انکے درمیان فیصلہ ہوگا حق کیساتھ اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔اور ہر شخص کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور وہ خوب جانتا ہے کہ جو کچھ کررہے ہیں اور جو کافر ہیں وہ جہنم کی طرف گروہ در گروہ ہانکے جائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ آئیں گے تو ان کیلئے دروزے کھولے جائیں گے ۔ پھر ان کا داروغہ ان سے کہے گا کہ کیا تمہارے پاس رسول تم میں سے نہیں آئے جو تم پر تمہارے رب کی کتاب کی آیات پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن سے ڈراتے تھے۔ کہیں گے کہ کیوں نہیں لیکن عذاب کا کلمہ کافروں پر ثابت ہوچکا ہوگا۔کہاجائے گا کہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤہمیشہ کیلئے اس میں رہوگے پس برا ٹھکانہ ہے متکبر لوگوں کا۔ اور جن لوگوں نے اپنے رب کیلئے تقویٰ اختیار کیا ہوگا تو وہ جنت کی طرف گروہ در گروہ لے جائے جائیں گے اور ان کیلئے اس کے دروازے کھلیں گے اور اس کے داروغہ کہیں گے کہ تم پر سلام ہو خوش رہو اور اس میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ کیلئے۔(سورہ الزمر46سے73تک )

سورہ الزمر کی آخری آیات سے واضح ہے یہ دنیا کا انقلاب ہے اور قرآنی نظام سے دنیا میں چھوٹی قیامت برپا ہوگی۔

oوقال الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ وارثنا الارض نتبوا من الجنة حیث نشاء فنعم اجر العاملین

  oو تری الملائکة حافین من حول العرش یسبحون بحمد رنھم و قضی بینھم بالحق و قیل الحمد للہ رب العالمین

اور وہ کہیں گے کہ تعریف اللہ کیلئے ہے جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اور ہمیں زمین کا وارث بنایا ہم باغ میں اپنا ٹھکانہ جیسے ہم چاہیں بنائیں۔ پس خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا۔ اور آپ دیکھوگے کہ ملائکہ عرش کے گرد حلقہ بناکر اپنے رب کی تسبیح بیان کریں گے اس کی تعریف کیساتھ کہ ان کے درمیان حق کیساتھ فیصلہ کیا گیا۔ اور کہیں گے کہ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جو تمام جہانوں کا پرور دگار ہے”۔(سورہ الزمرآیت74،75)

جب دنیا میں ایسی خلافت قائم ہوگی کہ جس سے آسمان اور زمین والے دونوں خوش ہوں گے تو فرشتے اعتراف کریں گے کہ ہمارا اعتراض واقعی غلط تھا۔ ممکن ہے کہ ابلیس کا وقت معلوم بھی یہی ہو اور وہ اپنی ناکامی کے بعد خود کشی بھی کرلے۔

جب اس انقلاب کا نقارہ بجے گا۔ آواز خلق کو نقارہ خدا سمجھو تو فرشتوں کو بھی اپنے اعتراض کی بنیاد پر تھوڑا کرنٹ لگے گا۔

ونفخ فی الصور فصعق من فی السماوات و من فی الارض الا من شاء اللہ ثم نفخ فیہ اُخرٰی فاذاھم قیام ینظرونO

اور صور پھونکا جائے گا تو کرنٹ لگے گا جو آسمان میں ہے اور جو زمین ہے مگر جس کو اللہ چاہے۔پھر دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو وہ یکایک قیام کئے دیکھ رہے ہوں گے۔ (سورہ الزمر:آیت68)

آسمانوں میں انبیاء اور صالحین بھی ہیں اور اچھے لوگوں کی روحیں اور فرشتے بھی۔امت محمدیہ کے عام گناہگار افراد کے ہاتھوں سے اتنا بڑا انقلاب برپا ہوگا تو جاویدغامدی کے اچھے رفتگان کو بھی کرنٹ لگے گا کہ ہم قیام سے روکتے رہ گئے لیکن یہ کیا ہوگیا؟۔ قرآن ہماری زندگی کیلئے ہے قصہ پارینہ نہیں۔

آدم علیہ السلام کو اللہ نے شجرہ کے قریب جانے سے روکا مگر گئے تو عرض کیا کہ ”اے ہمارے ربّ ! ہم نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا اور اگر آپ نے ہماری مغفرت نہیں فرمائی اور ہم پر رحم نہیں فرمایا تو ہم ضرورظالموں میں سے ہوجائیں گے”۔

گدھوں کی طرح ڈھینچو ڈھینچو کی بدترین آوازیں نکال کر کھلے عام گدھیوں کو اپنی ہوس کی تسکین کا نشانہ بناتے ہیں اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ” یہ قرآن وحدیث کی متفقہ تعلیم ہے”۔

ایمان کی دولت حلالہ پر لٹائی ہوگی تو جرم کیا ہوگا؟۔

.وقل انی انا النذیر المبین , کما انزلنا علی المقتسمین , الذین جعلوا القراٰن عضین , فوربک لنسالنھم اجمعین عما کانوا یعملون

”اور کہہ دو کہ میں کھلا ڈرانے والا ہوں۔جیسا ہم نے بٹوارہ کرنے والوں پر نازل کیا ہو۔ جنہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی بنادیا۔ پس تیرے رب کی قسم کہ ہم ان سب سے ضرور پوچھیں گے۔ جو یہ(قرآن کو بوٹی بوٹی بنانے کا)عمل کرتے تھے”۔(الحجر:89تا93)

اللہ تعالیٰ نے معروف رجوع کی عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد کھلی آیات میں اجازت دی اور حلالہ کی لعنت کو اس سے زیادہ سخت طریقے سے آگے پیچھے کی آیات سے باندھ دیا جتنا شلوار، تہبند اور پتلون سے شرمگاہ کی حفاظت ممکن ہے۔ لیکن مولوی نے سب چیزوں کو سبوتاژ کرکے عورتوں کی عزتوں کو حلالہ کی لعنت سے پامال کرکے عالم اسلام کو انسانوں کی قطار سے نکال کر جانوروں سے بدتر بنادیا ہے۔

یابنی اٰدم لایفتننکم الشیطان کما اخرج ابویکم من الجنة ینزع عنھما لباسھما لیریھما سواٰ تھما انہ یراکم ھو و قبیلہ من حیث لا ترونھم انا جعلنا الشییاطین اولیاء للذین لا یؤمنونO

”اے آدم کی اولاد! تمہیں شیطان فتنے میں نہیں ڈالے جیساکہ تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکال دیا ان سے انکے کپڑے اتروائے تاکہ ان دونوں کوان دونوں کی شرمگاہیں دکھا دے ۔وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں دیکھتا ہے اس طرح سے کہ تم ان کو نہیں دیکھتے۔بیشک ہم نے شیطان کو سرپرست بنادیا ہے ان لوگوں کیلئے جو ایمان نہیں لاتے ہیں”۔ (اعراف:27)

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی وضاحت فرمائی ہے۔

فان تولوا فانما علیک البلاغ المبینO……

ترجمہ :” پس اگر وہ منہ موڑ لیں تو بیشک آپ پر کھلا پیغام پہنچانا ہے۔ وہ اللہ کی نعمت کو پہنچانتے ہیں پھر اس کے منکر بن جاتے ہیں اور اکثر ان میں کافر ہی ہیں۔اور اس دن ہم ہر گروہ میں سے ایک گواہ کھڑا کریںگے۔پھر انکار کرنے والوں کو اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ان کا عذر قبول کیا جائے گا ۔ اور جب ظالم عذاب کو دیکھیں گے تو ان سے ہلکا نہیں کیا جائے گا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔ اور جب اللہ سے اشتراک کا کھاتہ کھولنے والے اپنے اشتراکی رہنماؤں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ اے ہمارے رب یہ ہمارا اشتراکی ٹولہ ہے جن کو تمہارے بغیر ہم پکارتے تھے۔پھر وہ اشتراکی ٹولہ ان کے قول کے جواب میں کہیں گے کہ تم سراسر جھوٹے ہو۔ اور اس دن اللہ کے سامنے سر جھکادیں گے۔ اور بھٹک جائیں گے اپنی ان افتراء بازی سے جو وہ بناتے تھے۔ جن لوگوں نے انکار کیا اور اللہ کی راہ سے روکا تو ہم ان کا عذاب بڑھادیں گے اس عذاب پر جو وہ فساد کرتے تھے۔ اور اس دن ہم ہر گروہ میں سے ایک گواہ کو کھڑا کریں گے جو انہی میں سے ہوگا اور آپ کو ان سب پر گواہ بنادیںگے اور ہم نے نازل کی ہے آپ پر کتاب ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کیلئے ۔ بیشک اللہ حکم دیتا ہے انصاف کرنے کا ، احسان کرنے کا اور قرابتداروں کو دینے کا اور روکتا ہے فحاشی، منکر اور بغاوت سے۔ تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم سمجھو”۔ (النحل:82سے90)

روز قیامت سے پہلے دنیا میں بھی چھوٹی قیامت برپا ہوگی اور جب پاکستان سے عالمی انقلاب کا آغاز ہوگا تو ہر فرقہ میں سے ایک گواہ کھڑا ہوگا کہ دین حق کا درست پیغام ان تک پہنچ چکا تھا لیکن مجرموں نے قبول کرنے سے انکار کردیا لیکن سب کے حالات بھی واضح ہوں گے اور اپنی اپنی افتراعات کو بھول جائیں گے کہ کیا کیا بکواس نکالتے تھے۔ رسول اللہۖ کی دنیا میں یہی گواہی ہوگی کہ میری امت نے قرآن کو چھوڑ رکھا ہے۔ نماز کے ہر قاعدے میں ہم نبی اکرم ۖ کو سلام کرتے ہیںمگر قرآن سے غافل ہیں۔ قرآن اور بنی ۖ اور خلفاء راشدین نے حق کو واضح کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی مگر بعد کے لوگوں نے اپنی اپنی ڈنڈیاں مار کر قرآن کو بوٹی بوٹی کردیا۔

قرآن میں طلاق اور اس سے رجوع کے احکام بھی واضح ہیں۔ رسول اللہ ۖ نے بھی کوئی کمی نہیں چھوڑی ہے ۔ حضرت عمر فاروق اعظم اور حضرت علی المرتضی نے بھی معاملات کو واضح کیا تھا۔ قرآن تاریخ کو بھی بیان کرتا ہے کہ امت مسلمہ کیسے خلافت راشدہ سے امارت اور بادشاہت میں بدل گئی اور کس طرح قرآن و سنت کے احکام اور اسلام کے مشن سے انحراف کیا گیا اور کس طرح لوگ قرآن کا بٹوارہ کرنے والوں کو اپنے شرکاء بناکر گمراہی کا شکار ہوگئے؟ اور کس طرح جب انقلاب آئے گا تویہ شرکا ء حضرات اپنی برأت کا اعلان کریں گے؟۔

تین مرتبہ وزیراعظم بننے والے نوازشریف کو صوفی برکت علی لدھیانوی نے خوشخبری دی تھی اور نوازشریف نے ڈاکٹر طاہرالقادری گدھے کو غار حراء کے کوہ نور پر کاندھوں پر چڑھایا تھامگر نتیجہ کیا نکلا؟۔ زیرو بٹا زیرو۔ یا کچھ اورنکلا؟۔

اللہ تعالیٰ سورہ نحل میںآگے مزیدبات بڑھاتا ہے کہ

ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوةٍ انکاثًاتتخذون ایمانکم دخلًا بینکم ان تکون اُمة ھی اربی من امةٍ انما یبلوکم اللہ بہ و لیبین لکم یوم القیامة فیہ تختلفون O ………النحل 91سے109تک

ترجمہ :” اور تم اس عورت کی طرح مت بنو جس نے اپنا سوت محنت کے بعد اس کی قوت کو توڑ ڈالا۔ تم اپنے اٹھائے ہوئے حلفوں کو آپس میں مداخلت کا ذریعہ بناتے ہو تاکہ ایک طبقہ دوسرے طبقے سے زیادہ طاقتور اور منافع ہتھیانے والا بن جائے۔بیشک اللہ تمہیں اس کے ذریعے سے آزمائش میں ڈالتا ہے اور اسلئے تاکہ جس دن قیامت برپا ہو تو تم پر واضح ہوجائے کہ کس چیز پر تمہارا اختلاف تھا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ایک گروہ بناتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور تم سے ضرور بضرور پوچھا جائے گا اس بارے میں جو تم کرتے تھے۔ اور تم عہدوپیمان کو آپس میں مداخلت کا ذریعہ مت بناؤ۔تاکہ تمہارا قدم جمنے کے بعد پھسل نہ جائے ۔اور پھر تم برائی کا مزہ چکھو جو تم نے اللہ کی راہ سے روکااور تمہارے لئے بڑا عذب ہو۔اور اللہ کے عہد کو مت بیچو تھوڑی قیمت کے بدلے ۔بیشک جو اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔جو تمہارے پاس ہے ختم ہوجائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔ اور ہم ضرور بضرور صبر کرنے والوں کو ان کا بدلہ دیں اس سے بہتر جو وہ کرتے تھے۔ اور جو درست عمل کرے کوئی مرد ہو یا عورت۔اور ایمان والا ہو تو ہم ضرور بضرور اس کو زندگی دیں گے پاک زندگی۔ اور ان کو ضرور بضرور بدل دیں گے اس سے زیادہ جو وہ عمل کرتے تھے۔ جب آپ قرآن کو پڑھو تو پناہ مانگو شیطان مردود سے۔ بیشک ایمان والوں پر اس کا زور نہیں چلتا جو اللہ پر توکل کرتے ہیں۔بیشک ان پر اس کا زور چلتا ہے جو اس کو اپنا سرپرست بناتے ہیں۔ اور جو اس کی بنیاد پر شریک بناتے ہیں۔ اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدلتے ہیں اور اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے جو وہ نازل کرتا ہے ۔تو یہ کہتے ہیں کہ آپ افتراء پرداز ہو۔ لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ کہہ دو کہ روح القدس نے اس کو نازل کیا ہے تیرے رب کی طرف سے حق کیساتھ تاکہ ثابت قدم رہیں اس کے ذریعے ایمان والے اور ہدایت کیلئے اور بشارت ہے مسلمانوں کیلئے۔اور تحقیق ہم جانتے ہیں کہ بیشک وہ کہتے ہیں کہ اسکو کوئی بشر سکھاتا ہے ۔جس انسان کی طرف یہ سازش سکھانے کی نسبت کرتے ہیں وہ عجمی ہے اور یہ کھلی عربی زبان میں ہے۔ بیشک جو لوگ اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے ان کو ہدایت نہیں دے گا اللہ اور ان کیلئے دردناک عذاب ہے۔ بیشک جھوٹی افتراء وہ کرتے ہیں جو ایمان نہیں لاتے اللہ کی آیات پر اور وہی لوگ ہی جھوٹے ہیں۔ جس اللہ کیساتھ کفر کیا ایمان کے بعد مگر جس کو مجبور کیا گیا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن تھا لیکن جس کا کفر پر سینہ کھل گیا تو اس پر اللہ کی طرف سے غضب ہوگا اور ان کیلئے بڑا عذاب ہے ۔یہ اسلئے ہے کہ انہوں نے دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیدی اور بیشک اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا ہے۔ یہ لوگ ہیں جن کے دلوں اور کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے ۔اور یہی لوگ غافل ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ یہی آخرت میں خسارہ میں ہوں گے”۔

ان آیات میں تمام فرقے، حکومتی طبقات، سیاسی گروہ اور کارکن سے لیکر ایک ایک شخص اپنا آئینہ دیکھ کر خود کو سدھار سکتا ہے۔ صرف دوسرے پر تنقید کی نظر سب سے آسان کام ہے لیکن اپنے نفس کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کو نبھایا اصل معاملہ ہے۔ مذہبی طبقات، سیاسی لوگ، صحافی حضرات اور معاشرے میں گھروں ، محلوں اور خطے کے اندر اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اچھے اور برے کردار ادا کرنا اور اپنے آپ کو قرآن کے آئینہ میں دیکھ کر اپنی اصلاح ضروری ہے۔
اللہ تعالی سورہ نحل میں مزید وضاحت فرماتا ہے:

oثم ان ربک للذین ھاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاہدوا و صبروا ان ربک من بعدھا لغفور رحیم

Oیوم تأتی کل نفسٍ تجادل عنہ نفسھا و توفیٰ کل نفسٍ ماعملت و ھم لایظلمون

ترجمہ :”پھر بے شک تیرا رب جنہوں نے ہجرت کی آزمائش میں پڑ جانے کے بعد پھر جدوجہد کی اور صبر کیا تو بیشک تیرا رب اس کے بعد ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔ جس دن ہر شخص اپنے لئے ہی جھگڑتا ہوا آئے گااور ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ اللہ بیان فرماتا ہے ایک ایسی بستی کی مثال جہاں ہر طرح کا امن اور سکون تھا اور اس کی روزی ہرجگہ سے کشادگی کیساتھ آتی تھی ۔پھر اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی ۔ پھر اللہ نے ان کو بھوک اور خوف کے لباس کا مزہ چکھادیا بسبب انکے کرتوتوں کے۔ اور انکے درمیان ان میں سے ایک رسول آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلادیا تو اللہ نے ان کو عذاب سے پکڑا اور وہ ظالم تھے۔ پس تم کھاؤ اپنی روزی جو اللہ نے تمہیں دی ہے حلال پاک اور اس کا شکر کرو جو اللہ نے نعمت دی ہے اگر تم اسی کی غلامی کرتے ہو۔ بیشک تم پر حرام کیا گیا ہے مردار کو اور خون کو اور خنزیر کے گوشت کو اور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔ پس جس کو اضطراری حالت پیش آجائے تو اس کو چاہت نہ رکھنے اور حد سے نہ گزرنے پر درگزر ہے۔ بیشک اللہ غفور رحیم ہے۔ اور اپنی زبانوں سے جھوٹ بناکر مت کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے تاکہ تم اللہ پر جھوٹ سے افتراء باندھو۔بیشک جو اللہ پر جھوٹ کا افتراء کرتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے تھوڑ ا فائدہ اور ان کیلئے دردناک عذاب ہے اور یہود پر ہم نے حرام کیا جو ہم پہلے آپ کو قصہ سناچکے ۔اور ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا مگر انہوں نے خود پر خود ہی ظلم کیا ۔ پھر بیشک جو لوگ بھی عمل کرتے ہیں جہالت سے برائی کا اور پھر توبہ کرتے ہیں اسکے بعد اور اصلاح کرتے ہیں تو اس کے بعد اللہ غفور رحیم ہے۔ بیشک ابراہیم پوری امت تھا اللہ کیلئے خالص فرمان بردار۔ اور مشرکوں میں سے نہ تھا۔اسکی نعمتوں کا شکر کرنے والا۔ ہم نے اس کو منتخب کیا اور ہدایت دی اس کو سیدھے راستے کی طرف۔ اور ہم نے دنیا میں بھی اس کو اچھائی دی اور وہ آخرت میں بھی صالحین سے ہوگا۔ پھر ہم نے آپ کی طرف وحی کی تمام راہوں سے ہٹنے والے ابراہیم کے دین پر چل اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ بیشک ہم نے ہفتے کا دن ان لوگوں پر مقرر کیا تھا جو اس میں اختلاف کرتے تھے اور بیشک تمہارا رب ان کے درمیان فیصلہ کرے گا قیامت کے دن جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ دعوت دو اپنے رب کی طرف حکمت اور اچھے مواعظ کیساتھ اور ان سے اچھے انداز میں لڑو ۔ بیشک تیرا رب جانتا ہے کہ کون اپنے راستے سے ہٹا ہوا ہے اور ہدایت یافتہ لوگوں کو جانتا ہے۔ اور اگر تم بدلہ لو تو اتنا بدلہ لو جتنی انہوں نے تکلیف پہنچائی ہے اور اگر تم صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کیلئے زیادہ بہتر ہے۔ اور صبر کرو اور تمہارا صبر بھی نہیں ہے مگر اللہ کی توفیق سے ۔اور ان پر غم نہیں کھانا اور خود کو تنگی میں مٹ ڈالو جو وہ سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ بیشک اللہ ان لوگوں کیساتھ ہے جو پرہیزگار ہیںاور لوگ ہی نیکی کرتے ہیں”۔(النحل110سے آخرتک)

یہاں14واں پارہ ختم ہوتا ہے۔ قرآن ہمارے لئے بڑا آئینہ ہے جس میں اپنی دل ودماغ اور آس پا س کے ماحول سے پوری دنیا کا ماحول اس کے سکرین پر دیکھ سکتے ہیں۔

اللہ نے سورہ الحجر میں فرمایا:
” الرٰ یہ کتاب کی آیات ہیں اور واضح قرآن کی۔ کبھی کافر چاہیں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔ انہیں چھوڑ دو ۔کھائیں اور فائدہ اٹھالیںاور انہیں امید غفلت میں رکھے پس عنقریب وہ جان لیں گے ۔ اور ہم نے کسی گاؤں کو ہلاک نہیں کیا مگر اس کیلئے ایک مقررہ وقت تھا۔ کوئی قوم اپنے مقررہ وقت سے پہلے ہلاک ہوئی ہے اور نہ وہ پیچھے رہے ہیں۔اور انہوں نے کہا کہ اے وہ شخص جس پر قرآن کا نزول ہوا ہے بیشک آپ تو مجنون ہیں۔ اگر آپ سچوں میں سے ہیں تو ملائکہ کو ہمارے پاس کیوں نہیں لاتے۔ ہم فرشتے نہیں بھیجتے لیکن حق کیساتھ اور پھر وہ دیکھتے نہیں رہ جائیں گے۔ بیشک ہم نے قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اور ہم نے آپ سے پہلے بہت شیعہ (گروہوں) میں رسول بھیجے اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا تھا مگر وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ اس طرح ہم مذاق مجرموں کے دلوں میں پیوست کردیتے ہیں۔ نہیں اس پر ایمان لائیں گے اور پہلوں سے یہی سنت چلی آئی ہے۔ اور اگر ہم ان پر آسمان سے دروازہ کھول دیں پھر وہ اس میں چڑھ بھی جائیں تو یہ ضرور کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کی گئی ہے اور ہم وہ قوم ہیں جن پر جادو ہوچکا ہے۔ (سورہ حجر:1سے16تک)

اللہ تعالیٰ نے قرآن کی سورہ طارق میں فرمایا ہے کہ

والسماء والطارق , و ما ادراک ما الطارق , النجم الثاقب

” اور آسمان کی قسم اور دستک دینے والے کی اور آپ کو کیا معلوم ہے کہ دستک دینے والا کیا ہے؟۔ وہ سوراخ کرنے والا ستارہ ہے۔ ایسی کوئی جان نہیں جس پر محافظ نہ ہو۔ پس انسان دیکھے کہ کس چیز سے اس کو پیدا کیاہے ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور چھاتیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔اور وہ اسکے لوٹانے پر قادر ہے۔ جس دن بھید ظاہر کئے جائیں گے۔ پس اس کیلئے کوئی قوت اور مدد گار نہیں ہوگا۔ اور لوٹانے والے آسمان کی قسم اور تصادم سے دوچار ہونے والی زمین کی قسم ، بیشک یہ قول فیصل ہے اور یہ کوئی مذاق نہیں ہے ۔ بیشک وہ اپنی تدبیریں کررہے ہیں اور میں اپنی تدبیر کررہاہوں ۔ پس کافروں کو تھوڑی اور مہلت دیدو”۔

ایسے اہل بیت کا ذکر ہے جو حق کی ضربیں لگائے گااور حق کی ضرب سے اللہ نے باطل کا دماغ نکالنے کو واضح فرمایاہے۔

سائنس میں ستارے کی دق دق کی آواز ہے۔ عربی میں طارق : دستک دینے والا ۔ صحابہ واہل بیت ہدایت کے نجوم ۔

والنجم و الشجر یسجدان (سورہ رحمن )

بیل و درخت۔ امام مہدی بیل اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام درخت؟۔

اللہ نے فرمایا:” اے اہل کتاب غلو مت کرو اپنے دین میں اور اللہ پر مت بولو مگر حق۔بیشک مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کا رسول ہے اور اس کا کلمہ ہے جو اس نے مریم کی طرف القا کیا اور اس کی طرف سے روح ہے۔پس اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ اورنہ کہو تین۔ بس کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ وہ پاک ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو،اس کیلئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ کی وکالت کافی ہے”۔( النسائ171)

اللہ نے فرمایا:

وعلاماتٍ وبالنجم ھم یھتدونO ……

”اور علامات ہیںاور ستارے سے وہ ہدایت پائیں گے۔ کیا جو پیدا کرتا ہے اس کی طرح ہے جو پیدا نہیں کرتا۔ کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو شمار نہیں کرسکتے۔ بیشک اللہ معاف کرنے والا رحم والا ہے۔ اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم اعلانیہ کرتے ہو۔ اور جو لوگ اللہ کے علاوہ کو پکارتے ہیں تو وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے اور خود پیدا کئے گئے ہیں۔ وہ تو مردہ ہیں زندہ بھی نہیں۔ اور وہ نہیں جانتے کہ کب ان کو اٹھایا جائے گا۔ تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے۔ پس جن لوگوں کا آخرت پر ایمان نہیں ہے تو ان کے دل برے ہیں اور وہ بڑائی چاہتے ہیں۔ کوئی شک نہیں ہے کہ بیشک اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو اعلانیہ کرتے ہیں بیشک وہ بڑائی چاہنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ جب ان سے کیا جائے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا تو کہتے ہیں کہ پہلوںکے قصے ہیں ۔تاکہ قیامت کے دن اپنے بوجھ کو پورا اٹھائیں۔ اور ان لوگوں کے بھی بوجھ اٹھائیں جن کو بغیر علم کے گمراہ کیا ہوا تھا۔ خبردار ! بہت برا بوجھ ہے جو وہ اٹھاتے ہیں۔ بیشک ان سے پہلے بھی لوگوں نے مکر کیا تھا پھر اللہ نے ان کی عمارتوں کو بنیادوں سے ڈھادیا پس ان کے اوپر سے چھت گرپڑی اور ان کو ایسا عذاب دیا کہ وہ اس کا شعور بھی نہیں رکھتے تھے۔ پھر قیامت کے دن ان کو ذلیل کرے گا کہ کہاں ہیں وہ تمہارے شرکاء جن میں تم پھٹتے چلے گئے۔ اور کہیں گے وہ لوگ جن کو علم دیا گیا کہ آج کے دن رسوائی ہے اور کافروں پر بہت برا ہے”۔ (سورہ النحل:16تا27)

مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی سورہ بقرہ کی آیت230کے بعد کی دو آیات اور پہلے کی دو آیات دیکھ لیں تو دل وماغ کھلے گا اور ایک ایک آیت میں زبردست ہدایت ہے بشرط یہ کہ اس پر اپنا دماغ نہ تھوپا جائے۔ آیت230البقرہ میں عورت کیلئے آزادی کا پروانہ جاری کیا گیا ہے اور اگر ایک طلاق کے بعد اور وہ بھی مذاق میں ہو لیکن عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو بھی شوہر کیلئے رجوع کرنا حرام ہے۔ صحابہ کرام کی زبان میں قرآن نازل ہوا تھا۔ اگر قرآن کے درست مفہوم کو کسی بھی زبان میں لوگوں کو سمجھاجایا جائے تو ان پڑھ لوگ بھی قرآن کی وضاحتوں سے گمراہ نہیں ہوسکتے ہیں۔ چوتھے صفحہ پر تفصیل سے دیکھ لیں۔

سورہ ہود میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

الرٰ کتاب احکمت اٰیاتہ ثم فصلت من لدن حکیمٍ خبیرٍO

” الر ۔ یہ کتاب ہے جس کی آیات کو فیصلہ کن بنایا گیا ہے پھر ان کی تفصیلات حکمت رکھنے والے خبر رکھنے والے کی طرف سے جدا جدا کرکے تفصیل سے واضح کی گئی ہیں”۔ (سورہ ہود آیت:1)

اللہ تعالیٰ سورہ ہود میں آگے فرماتا ہے ۔

” جو کوئی دنیا کی زندگی چاہتا ہے اور اس کی خوبصورتی تو ہم ان لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دنیا میں دیتے ہیں۔اور ان کا دنیا میں کوئی نقصان نہیں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کیلئے آخرت میں کچھ نہیں ہے مگر آگ۔اور برپا ہوگیا جو انہوں نے اس میں بنایا تھا اور باطل ہے وہ جو عمل کرتے تھے۔ کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہو اور اس کو پڑھتا ہو اس کی طرف سے گواہ بن کر۔ اور اس سے پہلے ہو کتاب موسیٰ کی امام اور رحمت۔ اور وہ لوگ اس پر ایمان لائیں۔ اور جو انکار کرے فرقوں میں سے تو آگ ہے اس کا ٹھکانہ۔ پس آپ اس سے شک میں نہ پڑیں بیشک یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے۔لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ اور کون ہے اس زیادہ ظالم جو اللہ پرجھوٹ کی افتراء باندھتا ہے۔یہی لوگ اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے۔ اور شواہد بول اٹھیں گے کہ یہی لوگ تھے جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔ خبردارلعنت ہو ظالموں پر۔ جو اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور ٹیڑھا پن تلاش کرتے تھے۔ اور یہی لوگ آخرت کے منکر ہیں۔ یہ لوگ زمین میں کسی کو شکست دینے والے نہیں ہیںاور ان کیلئے اللہ کے بغیر کوئی سرپرست نہیں ہے۔ ان کیلئے دگنا کیا جائے گا عذاب کو اور وہ سننے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ دیکھتے تھے یہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے خود اپنی جانوں کو خسارہ میں ڈال دیااور ان سے گم ہوا جو وہ افتراء کرتے تھے۔ بیشک یہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں۔ بیشک جوایمان اور درست عمل والے ہیں اور وہ اپنے رب کی طرف جھکنے والے ہیں وہی جنت والے ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ دونوں فریقوں کی مثال جیسا ایک اندھا بہرہ اوردوسرا بینا اور سننے والا ہے ۔کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔ کیا تم پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے ”۔ (سورہ ہود15سے24)

آیت228البقرہ میں عدت کے اندر صلح واصلاح اور کی شرط پر رجوع کی اجازت کو کوئی منسوخ نہیں کرسکتا۔ اگر عورت راضی نہیں تو پھر رجوع نہیں ہوسکتا۔ حضرت عمر نے کوئی فتویٰ نہیں دیا تھا بلکہ جب عورت راضی نہیں تھی تو عورت کے حق میں فیصلہ کیا تھا اور حضرت علی نے حرام کے لفظ پر یہی فیصلہ کیا تھا۔ جبکہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے حق بیان کیا تھا مگر اس کی تشریح کو سمجھا نہیں گیا یا حلالہ کی لعنت میں مبتلاء لوگوں نے نظر انداز کردیا ہے۔ اسلام کو اجنیت سے نکالنے کیلئے پاکستان سے زیادہ بہتر کردار ادا ہوسکتا ہے جو اسلام کے نام پر بن گیا ہے اور امام ابوحنیفہ کے نقش قدم پر چلیں نہ کے انکے شاگردوں کے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی کو جواب نمبر3
مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی کو جواب نمبر2
مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی کو جواب نمبر1