طلاق کے بعد صلح کی شرط پر رجوع قرآن میں واضح ہے
مارچ 16, 2026
اصل معاملہ عورت کے حقوق کا تحفظ ہے
ــــــــــ
اللہ نے واضح فرمایا کہ ”طلاق والی عورتیں تین ادوار تک خود کو انتظار میں رکھیں اور ان کیلئے حلال نہیں کہ جو اگراللہ نے انکے پیٹ میں جو پیدا کیا کہ اس کو چھپائیں اور اس میں انکے شوہر ان کو اصلاح کی شرط پر لوٹانے کے زیادہ حقدارہیں اور ان کیلئے بھی وہی حقوق ہیں جو ان پر ان کے شوہروں کے ہیں معروف طریقے سے اور مردوں کیلئے ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے”۔(سورہ البقرہ آیت:228)
ــــــــــ
آیت228البقرہ کے واضح احکامات
1:حیض آتا ہو تو عدت تین ادوار اور حمل ہو تو وضع حمل۔
2:عدت میں صلح کی شرط پر شوہر کارجوع اور معروف حق
ــــــــــ
آیت229البقرہ میں:1:معروف کی شرط پر رجوع کیا جاسکتا ہے۔
2:تیسری طلاق کے بعد فدیہ تک پہنچے تو عورت رجوع پر راضی نہیں ہے
ــــــــــ
آیت230البقرہ کے اندر واضح حکم کی وضاحت:
فدیہ کے معاملے تک پہنچنے کے بعدطلاق دی توپھر وہ حلال نہیں ہے یہاں تک کسی اور سے نکاح کرلے۔
ــــــــــ
آیت231البقرہ میں:معروف رجوع عدت کی تکمیل کے بعدجائز ہے۔
آیت232البقرہ میں:
باہمی رضامندی سے کافی عرصہ بعد بھی نکاح جائز۔
ــــــــــ
یہود اور نصاریٰ حلالہ و طلاق میں بدترین افراط اور تفریط کے شکار تھے۔یہود کے ہاں طلاق کے بعد حلالہ اور طلاق کے حوالے سے بہت گھمبیر مسائل تھے اور یہی حال مشرک عرب کا بھی تھا۔ دوسری طرف نصاریٰ کے ہاں طلاق کا کوئی تصور بھی نہیں تھا لیکن ان تضادات میں اصل معاملہ عورت کے حقوق اور معاشرے کی اصلاحات کا تھا۔ آج پوری دنیا پر اسلام اتنا اثر انداز ہوگیاہے کہ تین سو سال پہلے عیسائیوں کے ہاں مذہبی طلاق کا معاملہ شروع ہوا اور دنیا میں طلاق کے بعد رجوع کیلئے حلالہ کا کوئی تصور نہیں۔ پھر جدید ترقی یافتہ دنیا میں عورت کو مردوں کے مساوی حقوق بھی مل گئے۔ لیکن بدقسمت مسلمان عورت چراغ تلے اندھیرے میں رہتی ہے۔ قرآن نے عورت کو جتنے حقوق دئیے ہیں اتنے مغرب کے اندر آج بھی موجود نہیں ہیں۔ جیسے دائیںہاتھ یا پاؤں میں عام طور سے بائیں ہاتھ اور پاؤں کے مقابلے میں طاقت زیادہ ہوتی ہے پر حقوق دونوں کے برابر ہوتے ہیں لیکن ذمہ داریوں کا بھی ایک درجہ طاقتور پر زیادہ ہوتا ہے۔ وزن اٹھانا ہو، مکایا ہاتھ مارنے کیلئے چلانا ہو تو پھر طاقت کے استعمال کیلئے ایک پر زیادہ ذمہ داری قدرتی طور پر ہوتی ہے جس سے توازن برابر ہوتاہے۔
سورہ النساء آیت19میں پہلے عورت کو خلع کا حق دیا پھر اس کے بعد آیت20میں مرد کو طلاق کا حق دیا اور دونوں میں عورت وہ مالی تحفظ دیا ہے جس کو قانون بنایا جائے تو عورت مارچ کا تصور بھی دنیا میں نہیں رہے گا۔ مرد کی استطاعت کے مطابق حق مہر کا تعین اور ہاتھ لگانے سے پہلے بھی نصف حق مہردینا فرض ہے۔
بنوامیہ و بنوعباس کے ادوار میں نہ صرف عورت کے حقوق بلکہ قرآن وسنت کے عنایت کردہ انتہائی روشن مذہبی مسائل بھی تمام کے تمام بحق سرکار اور بحق رجال کار غصب ہوگئے۔ حقوق تو اپنی جگہ بالکل غصب ہیں کہیں عورت کو حق مہر کے نام پر بیچا جاتا ہے اور کہیں جہیز طلب کیا جاتا ہے تو کہاں سے حقوق کا تصور ہوگا۔ حق مہر جو عورت کا انشورنس تھا مفتی تقی عثمانی نے14سو سال بعد مفتی عتیق الرحمن سنبھلی کو بتایا کہ” اعزازیہ ہے” ۔حالانکہ سنبھلی زیادہ بڑاعالم تھا۔ اعزازیہ استطاعت کے مطابق نہیں کھرب پتی کیلئے بھی5سوروپیہ بہت ہے۔ قرآن واضح ہے کہ جو کچھ بھی دیا طلاق میں واپس لینا حلال نہیںمگر مفتی تقی عثمانی نے لکھا:” ہم بیوی کو تحفہ دیتے ہیں اسلئے واپس ہو گا”۔قرآن کے مسائل پرجوبہت گند کیا اس پر مٹی ڈالنے کیلئے مسلسل لگے ہوئے ہیں۔
قرآن کریم کے درست ترجمہ ہی کو انسان سمجھ لے تو اس کا دل ودماغ اور اس کی روح ایمان سے جگمگا اٹھے اور دنیا کیلئے بہترین نظام قرار دیدے اور اس میں مسلمان و کافر، مذہبی و ملحد، احمق و ذہین، مفادپرست و مخلص میں بھی کوئی تفریق ہے۔
ناراضگی اور طلاق کی عدت
اگر طلاق کا اظہار نہیں کیا تو عورت ساری زندگی بیٹھی رہے گی؟۔نہیں؟، آیت226البقرہ میں واضح ہے کہ4ماہ انتظار کی عدت ہے۔ اس میں بھی اگر طلاق کی نیت تھی تو اس کا دل گناہ گار ہے اسلئے کہ پھر طلاق کا اظہار ضروری تھا تاکہ3ماہ انتظار کی عدت گزار کر فارغ ہوجاتی۔ ایک ماہ اضافی انتظار پر اس کا دل گناہ گار ہے۔ آیات225،226،227میں واضح ہے۔ ایک لفظ کی کمی وبیشی بھی قرآن کی معنوی تحریف ہے۔
سوال : کیا علماء کو پتہ نہیں ہے ؟۔جواب تو وہ خود ہی دیں۔ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا انور شاہ کشمیری نے فیض الباری شرح بخاری میں لکھا کہ ”قرآن میں معنوی تحریفات تو بہت ہوئی ،لفظی بھی ہوئی انہوں نے مغالطے سے کی یا جان بوجھ کر کی ”۔ (مفتی محمدفرید، حقانیہ فتاویٰ دیوبند پاکستان)
1960ء میں پاکستان کے سیکریٹری کی تنخواہ150روپیہ مولانا انور شاہ کشمیری کی1920میں300روپیہ ماہانہ تنخواہ۔1928ء کا تنازعہ مولانا کشمیری نے دارالعلوم دیوبند چھوڑ دیا۔ ڈابھیل گئے۔ پھر بیمار ہوکر واپس دیوبند آگئے ۔1933ء میں انتقال سے پہلے فرمایا :” ساری زندگی فقہ کی وکالت میں ضائع کردی۔ قرآن اور حدیث کی خدمت نہیں کی ”۔1866میں پہلے دن بانی دارالعلوم دیوبند سید عابد حسین نے300روپیہ کا چندہ کیا۔1893ء میں مہتم کے عہدے کو چھوڑ دیا اور پہلے بھی اس نے کئی مرتبہ حاجی رفیع الدین کو یہ منصب سونپ دیا تھا۔
پھر مولانا گنگوہی نے مولانا نانوتوی کے بیٹے حافظ محمد احمد کو مستقل مہتمم بنادیااور سالانہ آمدن لاکھوں تک پہنچ گئی۔
ہماری مسجد کے امام مولانا اشرف خان فاضل دیوبند تھے۔ مولاناالیاس سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔1944ء کے قریب دادا سیدمحمد امیر شاہ امام مسجد کانیگرم کا انتقال ہوا۔ والد نے کہا: مولانا اشرف نے زندگی بھرایک لفظ کسی کو نہیں سکھایا۔ استاذ مولانا ناظم فاضل دیوبندنے گفتگو نہیں کی۔ جامعہ بنوری بنوری ٹاؤن کراچی کے مولانا یوسف لدھیانوی سے سنا کہ قرآن تحریر میں اللہ کا کلام نہیں۔ پھر پتہ چلا کہ اساتذہ بغیر سمجھے نصاب کے نام پر بکواس پڑھارہے ہیں اور انہوں نے مجھ سے امید رکھی۔ پھر مفتی تقی عثمانی کو سورہ فاتحہ پیشاب سے لکھنے پر تائب کرادیا۔
کیا قرآن میں تضادات ہیں؟
اللہ نے قرآن ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے نازل کیا۔ طلاق و رجوع کا مسئلہ بھی واضح کیا ۔ فرمایا کہ ” اگریہ کسی غیراللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت سارا اختلاف پاتے”۔
اگر طلاق کے بعد میاں بیوی راضی تو رجوع ہوسکتا ہے۔
کفار نے کوئی تضادات تلاش نہیں کئے ہیں لیکن مسلمانوں کے حکمرانوں اور گمراہ علماء نے اس میں بہت سارے تضادات پیدا کردئیے ہیں بلکہ اتنے تضادات تو کسی احمق کی کتاب میں بھی نہیں ہوسکتے ہیں جتنے مولوی نے قرآن میں پیدا کئے۔
قرآن کہتا ہے کہ ”عدت میں باہمی اصلاح کی شرط پر شوہر رجوع کا زیادہ حقدار ہے ”۔ (آیت:228البقرہ) مولوی کا سارا مذہبی فقہ اور فرقہ وارنہ مسلک اس کی توڑ میں لگاہوا ہے۔
شیعہ کہتا ہے کہ صلح کی کوئی شرط نہیں ہے۔ جس سے عورت کا حق غصب ہوجاتا ہے اسلئے کہ طلاق کے بعد عورت رجوع پر راضی نہیں ہو تو اس کو طلاق کے حقوق ملیںگے ۔ شیعہ کہتا ہے کہ اگر عورت کو قرآن کے مطابق صلح کی شرط پر رجوع کا حق دیا تو حضرت عمر کے فیصلے کی توثیق ہوجائے گی۔ حالانکہ حضرت علی نے بھی یہی فیصلہ دیا تھا کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تو پھر حرام کے لفظ پر بھی رجوع کی گنجائش نہیں ہے لیکن حضرت عمر کے بغض میں شیعہ نہ قرآن کو مانتا ہے اور نہ علی کو مانتا ہے۔
دوسری طرف سنی حضرت عمر اور طلاق بدعت کے نام پر اپنی جنسی تسکین کیلئے باہمی رضامندی سے بھی رجوع کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اور دونوں آیت228البقرہ پر آیت229کے ذریعے خود کش حملہ کرکے اس کے پرخچے اڑادیتے ہیں۔
چنانچہ الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ”طلا ق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ رخصتی ہے”۔ (البقرہ:229)سے عدت کے اندر دو مرتبہ طلاق رجعی میں معروف کی شرط کو اپنی اپنی پچھاڑیوں میں چھپالیتے ہیں اور عورت کے حق کو مار دیتے ہیں۔ حالانکہ آیت228میں نہ صرف اصلاح کی شرط واضح ہے بلکہ عورت کے بھی معروف حق کی بھرپور وضاحت ہے۔
طلاق رجعی سے عورت کی صلح کیلئے معروف حق کو چھیننے کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آیت228اور229میں تضاد آتا ہے۔پھر شوہر کو رجوع کا غیر مشروط حق مل جاتا ہے۔ آیت228البقرہ میں3ادوار کی ایک عدت ہے اور آیت229میں9ادوار کی3عدتوں کا شوہر کو حق مل جاتا ہے۔ اور اکٹھی3طلاق میں سنی کے ہاں باہمی صلح اور معروف رجوع کا حق چھن جاتا ہے اور عورت کو حلالہ کی لعنت پر مجبور کر دیا جاتا ہے تو سب سے بڑھ کر قرآن تضادات کی تصویر پیش کرتا ہے۔ کیونکہ آیت228میں عدت کے اندر رجوع اور229میں رجوع کی اجازت ختم؟۔
شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی ، قائد ملت مولانا فضل الرحمن اور شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن اوردیگر نے مولانا انور شاہ کشمیری کی طرح آخرمیں توبہ کرنا ہے اور حدیث پر اپنی نظر جمائی ہے کہ وانما الاعمال بالواخواتیم ”بلاشبہ اعمال کااعتبار خاتمہ پر ہے”۔ ( صحیح بخاری : کتاب القدر:حدیث6607)
لوگ سود سے برباد ہوں۔ عورتوں کی عزتوں کے لوٹنے کا بازار گرم ہو اور قرآن تحریفات اور تضادات کا شکار ہو۔ لوگوں کا دین پر اعتماد اٹھ رہا ہو لیکن انکے اللے تللے پورے ہوں۔ جب تک گرم سریہ دکھاکر حق بولنے پر مجبور نہیں کیا جائے تو ان کا اپنا کوئی ضمیر ہی نہیں ہے کہ ٹس سے مس ہوجائیں۔
قرآن میں کوئی تضادنہیں ہے
سورہ بقرہ آیت228میں اللہ نے واضح کیا ہے کہ عدت میں صلح اور معروف کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے اور عدت لمحہ بھر کیلئے بھی نہیں بڑھ سکتی ہے۔ جب عورت کو حمل ہو اس کی عدت بچے کی پیدائش ہے۔ اس صورت میں عدت کے اندر رجوع کا دروازہ کھلا ہے اور شوہر ہی رجوع کا زیادہ حق دار ہے لیکن کسی طرح بھی عورت رجوع پر مجبور نہیں ،البتہ انتظار پر مجبور ہے۔
بچے کی پیدائش کے بعد بھی عورت راضی ہو تو رجوع کیلئے صرف گنجائش نہیں بلکہ ترغیب بھی واضح ہے۔ مولوی کہتا ہے کہ اس کی بیوی، ماں ، بہن اور بیٹی کے دیوبند یا بریلوی سے آدھا بچہ نکل گیا تو جواب مشکل ہوجائے گا لیکن اگر آدھے سے کچھ زیادہ نکل گیا تو پھر رجوع نہیں ہوسکتا اور آدھے سے کم نکلا تھا تو پھر رجوع ہوسکتا ہے۔ یہ ان دلوں کی فتاویٰ کی کتابیں ہیں۔
آیت229البقرہ میںآیت228کی بھرپور وضاحت ہے۔ عدت کے انتہائی دور تک دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلے میں بھی معروف کی شرط پر رجوع ہے یعنی صلح و اصلاح کی شرط پر۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ کنفرم ہوجائے کہ کسی طرح بھی تیسری طلاق کے بعد عورت رجوع کیلئے راضی نہیں اور اس صورت میں پھر آیت230البقرہ کا حکم ہے ۔ جس کا مقصد مرغی کی طرح ذبح کرنا نہیں کہ عورت کی عزت لوٹ لی جائے اور حلال ہوجائے بلکہ مقصد عورت کو آزادانہ کسی بھی اور شوہر سے نکاح کا حق دلانا ہے تاکہ شوہر کی غیرت آڑے نہیں آئے۔ لیکن عورت رجوع کیلئے معروف طریقے سے راضی ہو تو پھر آیت231اور232البقرہ میں عدت کی تکمیل کے بعد بھی نہ صرف حلالہ کے بغیر رجوع کی اجازت ہے بلکہ ترغیب ہے کہ معاشرے میں پاکدامنی و تزکیہ کیلئے یہی راستہ ہے۔
کوئی ایک حدیث صحیحہ بھی قرآن کیخلاف نہیں ۔ عبداللہ بن عمر نے 3طلاق دی تو رسول اللہۖاس پر غضبناک ہوئے۔ حضرت عمر نے کہا کہ اس کو قتل نہ کردوں؟۔ محمود بن لبید متوفی95ھ نام نہ بتاسکے۔ عمر بن عبدالعزیزنے99ھ تا101ھ آزادی دی تو حسن بصری متوفی110ھ نے کہاکہ مستند شخص نے کہا:ا بن عمر نے3طلاق دی پھرزیادہ مستند شخص نے20سال بعدبتایا کہ ایک طلاق دی ۔(صحیح مسلم) سعید بن جبیر نے کہا کہ حلالہ کیلئے قرآن میں نکاح کا حکم ہے جماع کا نہیں تو حجاج بن یوسف نے95ھ میں جو مکالمہ جلاد کے سامنے کیاوہ قابل غورہے۔ پھر انتہائی سفاکی سے شہید کردیا۔ ابوداؤد نے رکانہ کے والد ین کا3طلاق کے عرصہ بعد بھی نبیۖ نے سورہ طلاق کی پہلی دوآیات تلاوت فرماکر رجوع کو واضح کیا ہے ۔ بخاری نے اپنی کتاب میں درج احادیث، قرآن اورفطرت کے منافی آیت اور حدیث کو غلط جگہ درج کرکے حلالہ کا راستہ ہموار کیاتو اپنے شہر کے لوگوں نے اپنے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا تھا۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ