ان مع العسر یسرًا قرآن کا معاشرتی نظام ظلم کے خاتمہ کیلئے بڑی بنیاد بن سکتا ہے
مارچ 16, 2026
مولانا فضل الرحمن جب ٹانک کی جامع مسجد سفید میں عوام سے ووٹ مانگنے کیلئے خطاب کرتا ہے تو لوگوں سے کہتا ہے کہ ”اسلام کا نظام بہت نرم ہے اور لوگوں نے سخت مشہور کیا ہے۔ ایک آدمی کسی عورت اور مرد کو بدکاری کرتے ہوئے دیکھ لے تو اگر اس نے عدالت میں اس کے خلاف گواہی دی اور چارگواہ نہیں لاسکا تو اس کو80کوڑوں کی سزا ہوگی۔ اگر دو افراد نے دیکھا تو بھی ان کو سزا ہوگی اور تین افراد نے دیکھاتو بھی گواہی پر ان کو سزا ہوگی ۔ اس سے زیادہ نرمی کیا ہوسکتی ہے؟۔یہ کہاں ہوسکتا ہے کہ چار افراد بیک وقت فقہ کے شرائط کے مطابق کسی کو بدکاری کرتے ہوئے دیکھ سکیں؟،تو اسلام نرم ہے ناں”۔
جہاں بچہ بازی میں لوگ ملوث ہوں تو مغرب سے بڑھ کر فحاشی پھیلاتے ہیں لیکن سورہ نور میں واضح ہے کہ بیوی کو شوہر رنگے ہاتھوں پکڑلے تو قتل نہیں کرسکتااور لعان میں بیوی جھوٹ بولے اور شوہر سچا ہو تب بھی عورت کو سزا نہیں ملے گی۔ یہ اسلامی حکم مولانا فضل الرحمن اس وقت عوام کو بتائے گا کہ جب لوگوں میں مارنے کی غیرت نہیں ہوگی۔ طالبان کے جبری داڑھی رکھوانے کو اسلام قرار دیالیکن جب اپنی اسمبلی علماء سے بھری تھی تو داڑھی منڈے اکرم درانی کو وزیراعلیٰ بنوادیا۔
قرآن میں ابراہیم و موسٰی کے صحائف اور حدیث میں جٹ کا ذکر ہے اور جٹ دانشور کا دعویٰ ہے کہ ابراہیم جٹ تھے۔ عربی میں جٹ ” زط ”۔بنی اسرائیل کے انبیاء اور بادشاہ ابراہیم کی نسل تھے ۔ ووھبنا لہ اسحق ویعقوب نافلة ”اور ہم نے اسحق اور یعقوب کو عطا کردیا انعام کے طور پر”۔
جٹ ، راجپوت ،بلوچ اور کرد کاشجرہ ابراہیم سے ملتاہے۔ سندھ ، پنجاب ، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ و افغانستان میں بنی اسرائیل اور دوسری قوموں کا شجرہ نسب ابراہیم سے ملتا ہے۔ بھٹو کا تعلق راجپوت سے ہے اور نصرت بھٹو کا تعلق کردصلاح الدین ایوبی کے شجرہ نسب سے ملتا تھا۔ علامہ اقبال نے ابراہیم کی اولاد سے امیدپر شاعری کی ہے۔مولانا سندھی نے یہاں کی تمام قوموں کو عجم کا مرکز اور اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے بنیاد قرار دیا۔ جاویداحمد غامدی فضول بکواس کرتا ہے کہ قیامت تک اولادِ ابراہیم کو حکومت نہیں ملے گی اسلئے کہ حضرت نوح کے بیٹے یافث کی اولاد سے قرآن میں اللہ نے وعدہ کررکھا ہے۔
سندھ اور ہند حضرت نوح کے بیٹے حام کے بیٹے تھے جبکہ حضرت ابراہیم حضرت نوح کے بیٹے سام کی اولاد سے تھے۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
جب میں پہلی مرتبہ چیچہ وطنی کیلئے ٹانک سے ملتان کی بس میں1978ء میں تونسہ شریف کے اسٹاپ کھانے ، نماز وغیرہ کیلئے پنجاب کی سرزمین پر اترا تو ہوٹل سے باہر نکلتے ہی لوگوں نے پیچھے سے قمیص اٹھائی ہوئی تھی اور قریب قریب رفع حاجت کیلئے عریاں بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے یہ کلچر بہت عجیب لگااور پھر چیچہ وطنی میں سرعام پدو مارنے کی رسم وریت دیکھی۔ جب ہم لیہ میں آئے تو میرا بھتیجا ارشد حسین شہید نیا نیا آیا اورٹیوشن کے وقت جب تک پدو کی آوازپر اس کی ہنسی نہیں چھوٹ جاتی تھی تو اس کی وجہ سے طلبہ نے بمباری کا سا سماں باندھ دیا تھا۔
مسند احمد، صحیح مسلم ، تفسیر ابن کثیر، تاریخ دمشق،مجمع الزوائد، خصاص کبری ابی بکر سیوطی، طبرانی ، ابونعیم، جامع الاحادیث جلد20جلال الدین سیوطی اور اخبار مکہ للفاکھی جلد4وغیرہ میں ایک نادر اور عجیب حدیث قوم زط( جٹ قوم) کے حوالے سے عبداللہ بن مسعود سے ذکر کی گئی ہے جو صحیح اسناد بھی ہے۔
عبداللہ بن مسعود سے مسنداحمد، صحیح مسلم اور دیگرمیں ہے: ان قوم الزط رکبوا الرسول طوال اللیل حتی الصباح و خرج عند ھم متوجعا من کثرة الرکوب قال عبداللہ بن مسعود استبتعنی رسول اللہ ۖ فنطلقنا حتی اتیت مکان کذا وکذافخط لی خطة مکان یعنی یقف فیہ فقال لی کن بین الزھری ھذہ لا تخرج من الخط فان خرجت منہا ھلکت فمضی رسول اللہ ۖ ثم ذکر ھنیاً فأتوا الرجال کانھم الزط لیس علیھم ثیاب طوالا قلیلاً لحمھم فأتوا یرکبون رسول اللہ وقال جعلوا یأتون یدرووں حولی و یضرط یعنی یضرطون ای یخرجوا ریح یعنی ذورائحة فرعبت منھم رعبًا شدیدًافلم انشق عمود الصبح جعلوایذہبون قال ان رسول اللہ ۖ جاء ثقیلًاوجعًا مما رکبوا
حدیث کی مختلف روایات میں مختلف الفاظ میںوضاحت ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عبداللہ بن مسعود سے نبیۖ نے اپنے پیچھے چلنے کا فرمایا۔ پھر ایک جگہ پر لکیریں کھینچ کر فرمایا کہ اس کے درمیان سے مت نکلو،اگرنکل گئے تو ہلاک ہوگئے اور پھر نبیۖ نے کچھ خوش آمدیدی کلمات کا ذکر کیا تو کچھ لوگ آئے جیسا کہ وہ جٹ ہوں۔ان کے کپڑے مختصر اور گوشت کم تھا، وہ رسول اللہ ۖ کو اپنے ساتھ سواری پر لے گئے۔ پھر وہ میرے ارد گرد امنڈ آئے اور پدو ماررہے تھے اور ننگے تھے۔ پوری رات یہاں کہ علی الصبح رسول اللہ ۖ کوواپس لائے اور آپ کو درد محسوس ہورہاتھا زیادہ سوار ہونے کی وجہ سے۔ مسند احمد بن حنبل میں ان کو جنات قرار دیا ہے اور تاج العروس میں سندھ کی جٹ قوم کا ذکرہے جن میں کچھ بصرہ میں موجود ہیں۔ جاوید غامدی کے والد ساہیوال کے گاؤں میں مزارع تھے۔ غامدی نے بتایا کہ اس کی دھوتی بھی چھڈے کی طرح مختصر تھی۔
اعتراض اٹھا گیا کہ مسلمانوں کی تاریخ خاموش ہے اور اس پر اٹھنے والے سوالات کا کوئی جواب نہیں ۔ عبداللہ بن مسعود کی بات کا انکار بھی نہیں کرسکتے ۔صحیح بخاری میں عالم ارواح کا ذکر ہے کہ دنیا میں آمد سے پہلے وہاں جن کی دوستی یا دشمنی ہوتی ہے تو دنیا میں اس کا اثر پڑتا ہے۔ سورہ اعراف میں عہد الست ہے اورسورہ حدید میں دنیا کے اندر رونما ہونے سے پہلے کتاب میں سب لکھنا واضح ہے ۔ سانئس مزید ترقی کرے تو سورہ احزاب میں آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کا امانت اٹھانے سے انکار اور خوفزدہ ہونا اور ظالم جاہل انسان کو قبول کرناDNAسے ثابت ہوگا۔ بدھ مت کی نساء رحیم کا انٹرویو شمس الدین حسن شگری نے کیا تھا جس کے کچھ اقتباسات ہم نے دئیے تھے۔ جس کا کہنا تھا کہ وہ روحانی طور پر ماضی میں جھانک لیتی ہیں۔
علامہ اقبالنے ہندوستانی بچوں کا گیت لکھا ہے۔
چشتی نے جس زمیں میں پیغام حق سنایا
نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا
تاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایا
جس نے حجازیوں سے دشت عرب چھڑایا
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
یونانیوں کو جس نے حیران کردیا تھا
سارے جہاں کو جس نے علم وہنر دیا تھا
مٹی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھا
ترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا
میراوطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسمان سے
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے
وحدت کی لے سنی تھی دنیا نے جس مکاں سے
میر عربۖ کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
بندے کلیم جس کے پربت جہاں کے سینا
نوح نبی کا آکر ٹھہرا جہاں سفینا
رفعت ہے جس زمیں کی بام فلک کا زینا
جنت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینا
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
عبداللہ بن مسعود سے امام مہدی کے حوالے سے بھی بہت سی روایات منقول ہیں۔ وزیرستان کے لوگ سرائیکیوں کو جٹ کہتے ہیں اور سرائیکی قوم کو پاکستان میں مرکزیت حاصل ہے۔ ممکن ہے کہ رسول اللہۖ نے عبداللہ بن مسعود کے سامنے وہ اسلام کی نشاة ثانیہ کا نقشہ پیش کیا ہو اور زمینی حقائق پر مستقبل کیلئے گواہ بنایا ہو اسلئے کہ عبداللہ بن مسعود نے حضرت عثمان کی شہادت کے آثار سے پہلے وفات پائی اور عدل وانصاف کیلئے امام مہدی کی نشاندہی فرمائی جو نہ نبی ہوگا اور نہ رسول اور معصوم لیکن دنیا کو نظام عدل سے ظلم و جور کے بعد بھر دے گا۔ ارواح کی تمثیل زمینی حقائق اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے اللہ نے دکھائے ہوں گے۔ جیسے واقعہ معراج میں آسمانی حقائق دکھائے تھے۔ ہم بزرگوں کی پیشگوئی مانتے ہیں قرآن وحدیث کی نہیں؟۔
اقم الصلوٰة لدلوک الشمس الی غسق اللیل و قراٰن الفجر ان قراٰن الفجر کان مشہودًا ومن اللیل فتہجد بہ نافلة لک عسٰی ان یبعثک ربک مقامًا محمودًاO
”اور نماز قائم کرسورج کے ڈھلنے سے رات کی تاریکی تک اور فجر کا قرآن ،بیشک فجر کا قرآن گواہی کیلئے سمجھنا اصل معاملہ ہے اور رات میں تہجد کی نماز تیرے لئے نفل ہے، ہوسکتا ہے کہ اللہ تجھے مقام محمودسے نواز ے”۔
فجر کودماغ تازہ،دل صاف اور طاقتوراعصاب کی بدولت فجر کاقرآن بیشک مشہودیعنی اس کا درست مفہوم سمجھ میں آتاہے جبکہ سارا دن کام کاج کی وجہ سے دماغ اور تھکے ہوئے اعضاء سے درست مفہوم تک کماحقہ رسائی نہیں مل سکتی ہے۔ مغرب و عشاء کی نماز فرض اور تہجد کی نماز نفل ہے لیکن نفل میں بھی بہت توقیر اور انعامات ہیں۔ البتہ فرض اور نفل میں واضح فرق ہے۔ ہاں اصل چیز فجرکے وقت قرآن کو سمجھنے کیلئے اپنا قیمتی وقت ہے اور اس سے فجر کی نماز یا اس کی لمبی تلاوت مراد لینا انتہائی درجہ حماقت ہے۔ فجر کے وقت تازہ دماغ کے ساتھ کوئی چیز سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اس وقت سمجھ کی اہمیت بالکل واضح ہے۔
علامہ اقبال نے ایک طرف یہ کہا تھاکہ
جب تک نہ ہو تیرے دل پہ نزول کتاب
نکتہ کشا ہے رازی نہ صاحب کشاف
اور پنجابی مسلمان کے بارے میں فرمایا تھا کہ
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کرلے کوئی منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
جس دن پنجاب کو ایک اچھا مرشد واقعی مل گیا تو پھر مولانا مودودی، غلام احمد پرویز، غلام احمد قادیانی، بریلوی، دیوبندی اور بھٹو، نواز شریف اور مرشد عمران خان کو چار چاند لگانے والی جٹ قوم کا نہ صرف اپنا مستقبل روشن ہوگا بلکہ اس خطے کی ساری اقوام سندھی، بلوچ، پختون، کشمیری اور افغانی کی بھی تقدیریں بدل جائیں گی۔ جب میں چیچہ وطنی میں پہلی بار گیا تھا تو مجھے بریلوی دیوبندی کی تمیز نہیں تھی۔ کافی وقت کے بعد جب میری اقبال آرائیں کلاس فیلو ”آرائیں بوٹ ہاؤس”سے شناسائی ہوگئی تو اس نے مسلک پوچھا۔مجھے مسلک کا پتہ نہیں تھا۔ پھر اس نے کہا کہ تم لوگ قبروں کو پوجتے ہو؟۔میں نے کہا کہ نہیں، ہم وہ والے نہیںتو اس نے کہا کہ پھر تم دیوبندی ہو اور بتایا کہ ”یہ پیر جی کی مسجد ہے۔ مولانا عبداللہ درخواستی اور مفتی محمود یہاں آتے ہیں۔ میں نے بھائی جان امیرالدین کے سامنے مولانا نورانی کو مشرک کہا تو بڑے ناراض ہوگئے۔ نورانی نے قبروں پرسجدہ ، پوجا پاٹ نہیں صرف فاتحہ کو جائز قرار دیاتھا لیکن فرقہ پرستی پاکستان کی بہت بڑی بیماری ہے۔
مولانا عبیداللہ سندھی نے اپنی تفسیر المقام المحمود میں لکھ دہا ہے کہ اسلام کی نشاة ثانیہ امام ابوحنیفہ کے اصل مسلک کے مطابق ہی ہوگی جس میں قرآن کو ترجیح دی جائے گی اور ایران بھی اس کو قبول کرلے گا کیونکہ امام ابوحنیفہ ائمہ اہل بیت امام باقر، جعفر صادق اور زید کے شاگرد تھے۔ ایرانی انقلاب کو موقع ملالیکن اپنی عوام تک کو بھی خوش نہ کرسکے۔ عراق اور برصغیر پاک و ہند کے شیعہ کو ولایت فقیہ پر متحد نہ کرسکے۔ بارہ امام پر تیرواں امام خمینی تھا تو یہ اہل سنت کا مسلک تھا اسلئے کہ شیعہ خدا کی طرف سے امام کے تقرر کے قائل ہیں لیکن خوش آئند کہ ایرانی شیعہ سنی بن گئے اور برصغیر پاک وہند کے سنی اور دنیا بھر کے سنی شیعہ بن گئے اسلئے کہ خلافت قائم کرنے کے بجائے امام مہدی کی امید پر بیٹھ گئے۔ یہ عقیدہ نہ تھا لیکن نو مسلم عیسائیوں اور دودھ پیتے مجنونوں کی طرح لیلائے مفادات کیلئے حقائق کو مسخ کردیا۔
شیعہ کو امام مہدی غائب کے ظہور کے بعد بھی مشکل سے یقین آئے اسلئے کہ گیارہ اماموں نے اگرچہ کامیابی حاصل کی لیکن یہ لوگ ناکامی کاوایلا کرتے ہیں۔امام علینے ابوبکر وعمر اور عثمان کی حمایت کا حق ادا کیا اور لوگ گالی گلوچ اور مسخ شدہ وہ تاریخ ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں جس کی نالائقی قرآن کے تحفظ پر مطمئن نہیں۔نوجوانان جنت کے سردار حسن و حسین کا صلح اور اپوزیشن میں نمایاں کردار میں یہ تضادات کے قائل ہیں لیکن عقیدہ یہ رکھتے ہیںکہ معصومین قرآن کی طرح متضاد نہیں ہیں۔
وجاھدوا فی اللہ حق جہادہ ھو اجتبٰکم وماجعل علیکم فی الدین من حرج ملة ابیکم ابراہیم ھو سماکم المسلمین من قبل و فی ھٰذا لیکون الرسول شہیدًا علیکم و تکونوا شہداء علی الناس فا قیموا الصلوٰة واٰتوالزکوٰةواعتصموا باللہ ھو مولٰکم فنعم المولی ونعم النصیرO
اور اللہ کے احکام میں جدوجہد کا حق اداکرو،اس نے تمہیں چن لیا اور تمہارے لئے دین میں کوئی مشکل نہیں رکھی ۔تم اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر ہو ،اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اس میں بھی اور اس سے پہلے بھی۔ تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ بنو۔ پس نماز قائم کرو اور زکوٰة دو اور اللہ کو مضبوط تھام لو۔وہ تمہارا مولیٰ ہے بہترین مولیٰ بہترین مددگار۔
سورہ حج کی اس آخری آیت سے مراد اہل تشیع اپنے ائمہ لیتے ہیں کہ اللہ نے ان کو منتخب کیا ہے اور سنی کیا مراد لیتے ہیں ؟ تو ان کو اپنے آپ ہی مراد لینا چاہیے تھا لیکن طالب اور مولوی سوچتا ہے کہ ہم اگر حکمران بھی بن جائیں تو تب بھی زکوٰة لیںگے لیکن دیں گے کبھی نہیں۔ پھر کیسے خود کو مراد لیںگے؟۔
اللہ تعالیٰ شیعہ سنی کیلئے قرآن کو ہدایت کا ذریعہ جلد بنائے اور ان کو فرقہ پرستی اور جنگوں کی موت کے کنویں سے نکالے۔ اب اس مشکل دور میں اتحاد واتفاق اور وحدت کی راہ لیں۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ