الفاظ واختیار میں عورت کا تحفظ ہے قرآن میں عہد الست کانمونہ
مارچ 16, 2026
عورتوں کا ترانہ : حبیب جالب
جہاں ہیں محبوس اب بھی ہم وہ حرم سرائیں نہیں رہیں گی
لرزتے ہونٹوں پر اب ہمارے فقط دعائیں نہیں رہیں گی
غصب شدہ حق پر چپ نہ رہنا ہمارا منشور ہوگیا ہے
اٹھے گا اب شور ہر ستم پر دبی صدائیں نہیں رہیں گی
ہمارے عزم جواں کے آگے ہمارے سیل رواں کے آگے
پرانے ظالم نہیں ٹکیں گے نئی بلائیں نہیں رہیں گی
ہیں قتل گاہیں یہ عدل گاہیں بھلا کس طرح سراہیں
غلام عادل نہیں رہیں گے غلط سزائیں نہیں رہیں گی
بنے ہیں جو خادمانِ ملت وہ کرنا سیکھیں ہماری عزت
وگرنہ ان کے تنوں پہ سجی قبائیں نہیں رہیں گی
اعزاز سید نے اپنے چینل پرڈاکٹر فوزیہ سعید کی کتاب
WORKING WITH SHARK
شارک (خونخوار مچھلی کے درمیان کام کرنا) کی مصنفہ سے انٹرویو لیا ہے۔
قارئین ! یو ٹیوب پر اس کو ضرور دیکھ لیں۔مذہبی طبقات سے توقعات کے باوجود جس خوفناک منظر کا آئینہ دکھایا گیا ہے تو اندازہ لگاسکتے ہیں کہ کتنی افسوسناک بات ہے ؟۔ یہ ڈاکٹر فوزیہ واقعی حبیب جالب کے خواب کا ایک مصداق ہیں۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور حضرت حواء عالم انسانیت کے ماں باپ کو ایک درخت کے قریب جانے سے روکا تھا اور پھر دونوں نے اپنی مرضی سے خلاف وزی کی تھی اور اسکے نتیجے میں جنت سے نکل گئے۔ پچھلے شمارے میںBBCکی رپوٹ کے مطابق ایک امریکن58سالہ خاتون کی بچپن کا واقعہ تفصیل سے ذکر کیا تھا۔ جو اپنے چھوٹے بھائی کیساتھ بچپن میں جنسی زیادتیوں کا شکار ہوئی اور گھر والوں نے بھی داد رسی کی آواز پر کان نہیں دھرے۔ پھر ایک مشہور تنظیم کو فون کرکے مدد طلب کی لیکن وہ مسیحا ہونے کے بجائے رپیسٹ ثابت ہوا تھا۔12سال کی عمر میں حمل ہوا اور پھر والدین کی اجازت سے اس کو بچہ جننے کی عدالت نے اجازت دی لیکن18سال سے قبل اس کو پھر طلاق نہیں مل سکتی تھی اور وہ اس کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن بچہ جنوانے کی وجہ سے مجبوراً یہ کرنا پڑگیا۔
امریکہ اور مغرب میں سینکڑوں تنظیمیں حقوق نسواں چھوٹے بچیوں کی شادی کے خلاف کام کررہی ہیں لیکن انکے پاس کوئی حقیقی حل نہیں ہے۔ اسلام کا وہ تصور جو شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے فتاوی عثمانی جلددوم میں پیش کیا ہے انتہائی گھناؤنا ہے اور وہ اسلام بالکل بھی نہیں ہے۔ چوہے، بلی اور کتیا کے ہاں بھی یہ مسئلے مسائل کو قانون یا شریعت کا نعوذ باللہ درجہ دیا جائے تو اس کے بارے میں قرآن نے واضح کیا ہے کہ ”وہ جانوربلکہ ان سے بھی بدتر ہیں”۔ امریکہ میں سیتاوائٹ نے عمران خان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا اور پھر جب ٹیرن وائٹ کے پیٹ میں ہونے کی خبر ملی تو عمران خان نے اس کو بیٹی کے طور پر قبول کرنا اپنی تذلیل سمجھا۔ سیتاوائٹ نے کہا کہ مجھے اس کا خرچہ نہیں مگر شناخت چاہیے لیکن عمران خان نے اپنی جان چھڑانے کی ٹھان لی اور آخر کار امریکہ کی عدالت میں کیس مثبت ثابت ہوگیا۔
عمران خان جب وزیراعظم تھا تو بھی اس کے بچے ملنے نہ آئے اور عمران خان جیل سے آزاد ہو یا نہیں؟۔ لیکن ٹیرن اس کے جرم کی قید میں پتہ نہیں کب تک سزا کاٹتی رہے گی؟۔ غلطی جب انسانوں سے ہوتی ہے تو اس کا تدارک کیاہے؟۔ حضرت آدم و حضرت حواء کے حوالے سے اللہ نے بنی آدم کو خبردار کردیا کہ شیطان تمہیں ننگا نہیں کردے جیسے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوادیا تھا۔ قرآن کی تعلیمات کا یہ کمال ہے کہ حضرت آدم اللہ کے جلیل القدر نبی تھے اور لوگ حضرت حواء کے پیچھے برائی کا ٹوکرا اپنے سر پر رکھ کر اپنی مغلظات بکتے رہتے ہیں لیکن اللہ نے ان دونوں میں زیادہ تر ذمہ داری عورت پر نہیں مرد پر ڈالی:
عصیٰ اٰدم ربہ فغوی
” آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راستے ہٹ گیا”۔ (القرآن)جب بھی ایک بہت بڑی شخصیت کا کسی عام لڑکی یا خاتون سے غلط جنسی تعلق ہوگا تو اصل قصور وار عورت نہیں مرد کو ہی ٹھہرایا جائے گا۔ جانوروں میں بھی جنسی درندگی کا مظاہرہ مادہ کی طرف سے نہیں نر کی طرف سے ہی ہوتا ہے۔ قانون قدرت میں جب حضرت یوسف سوفیصد بے گناہ اور عورت گناہگار ہوتی ہے تب بھی سزا حضرت یوسف ہی نے کھائی اور بڑے مزے کیساتھ کھائی اور بڑی شان سے ایک دن اپنے مقام تک بھی پہنچ گئے۔ لیکن حضرت یوسف نے بوجوہ اس کی طرف انتہائی رغبت کے باوجود بھی اپنا دامن برائی سے بچائے رکھا ۔ ایک شادی شدہ تھی اور دوسرا جس کا گھر میں رہائش اور اس کے احسان کا معاملہ تھا تو کنارہ کشی اختیار کی تھی لیکن اس کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت فرمائی۔
ولقد ہمت بہ و ہما بہا لولاان راء برہان رب
” اور تحقیق کہ اس عورت نے بھی اپنی نفسانی جذبے کی تکمیل کا عزم کیا اور وہی یوسف نے بھی کیا اگر رب کا برہان نہیں ہوتا”۔
ایک غیر نبی عام انسان خود کو بالکل بری الذمہ قرار دینے میں ہچکچاہت تک محسوس نہیں کرتا جو انتہائی بکواس ہے لیکن اللہ کانبی حضرت یوسف فرماتاہے وما ابری نفسی ” اور میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتا ہوں”لیکن اللہ نے بچالیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا:
الذین یجتنبون کبار من الاثم و الفواحش الا المم فلا تزکوا نفسکم
” اور جو لوگ بڑے گناہوں اور فحاشی سے اجنتاب کرتے ہیں مگر اللمم پس اپنی جانوں کی پاکبازی کا اظہار مت کرو”۔عربی لغات میںاللمم کا کوئی خاص ترجمہ نہیں ہے۔لیکن اللہ نے یہ کیوں کہا ہے کہ اپنی پاکبازی بیان مت کرو؟۔ تو عربی میں لم لم کیوں کیوں کو کہتے ہیںاور ہر آدمی اپنی جان سے واقف ہے۔
معاشرے میں ایک عورت کے بگڑنے کی دیر ہوتی ہے کہ مردوں کا بے شرم معاشرہ فلڈ کے کچرے کی ڈھیر کی طرح اُمنڈ آتا ہے جس سے دوسری خواتین کے گھر برباد ہوجاتے ہیں۔ چین و سکون کی جگہ بے اطمینانی،خلفشار اور لڑائی جھگڑوں کے علاوہ طلاق اور بسے بسائے گھروں کی بربادی ہوجاتی ہے۔
اگر قرآن کا قانون دنیا کے سامنے رکھا جائے تو سب اس پر اتفاق کرلیںگے کہ جب اس پر اپنے خاندان کی طرف سے اور عزیز واقارب اور پڑوسیوں کی طرف سے چار گواہ آجائیں تو اس کو اس وقت تک اپنے گھر میں نظر بند رکھا جائے جب تک کہ اس کی موت واقع نہیں ہوتی یا اللہ اس کیلئے کو ئی راستہ نہیں نکال دیتا ہے جو ایک شوہر اور جائز طریقے سے اس کی خواہش پوری کرنے کیلئے کافی ہو۔ اللہ نے واضح الفاظ میں فرمایا:
والٰتی یاتین الفاحشة من نساء کم فاستشہدوا علیھن اربعة منکم فان شہدوا فامسکوھن فی البیوت حتی یتوفھن الموت او یجعل لھن سبیلًاOوالذٰن یاتینھا منکم فاٰذوھما فان تابا واصلحا فاعرضوعنھما ان اللہ کان توبًا رحیمًاO
ایک تو عورتوں کو بغیر قصور کے گھروں میں نظر بندکرنے کی اجازت نہیں ہے۔ایک عورت پر اس کے شوہر سے زیادہ کون غیرت کھا سکتا ہے؟۔ لیکن اللہ کا حکم ہے کہ اگر شوہر رنگے ہاتھ پکڑلے تو بھی اس کیلئے دو صورتیں ہیں۔ ایک گھر سے نکالے اور اگر سزا دینی ہو تو عدت میں لعان کرے گا۔ پھر اگر عورت ہی جھوٹی ہو اور جھوٹ بولے اور مرد سچا ہو اور سچ بولے پھر بھی اس سے سزا اٹھائی جائے گی۔ چودہ سو سال پہلے قرآن میں اللہ نے وہ قانون اتارا ہے جس کو مشرق اور مغرب کے ماحول سے کوئی بھی متاثر نہیں کہہ سکتا ہے۔ اگر عورت جرم کا اعتراف کرتی ہے تو اس کو سنگسار نہیں کیا جائے گا بلکہ قرآن میں100کوڑوں کی سزا واضح ہے۔ اگر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی کی طرف سے ”سنگساری کیلئے کتاب میں چھپے ہوئے دلائل اور سورہ النساء کی آیت15کا حوالہ دیکھا جائے ”تو معلوم ہوگا کہ کس قدر جاہل لوگ تھے ؟۔
قرآن پرجھوٹ الشیخ والشیخة اذا زنیا فرجموھما
” جب بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت زنا کریں تو ان دونوں کو ہی سنگسار کردو”باندھا گیا ہے۔ اب قرآن میں بکواس کہاں فٹ ہوسکتا ہے؟۔ اس کے جواب کیلئے مزید بکواس کی گئی ہے کہ سورہ احزاب میں یہ آیت تھی اور آدھی سورہ احزاب غائب ہے جس کا حجم سورہ بقرہ جتنا تھا لیکن آدھی غائب کردی گئی ہے۔
جاوید غامدی تو سورہ النساء اور دوسری سورتوں میں بھی بڑی کٹوتی کے چکر میں ہے کہ اصل یہاں تک ہے ،باقی فالتو ہیں۔ اورجو اصل احکام ہیں ان میں بھی بڑا نقص سمجھتا ہے۔ قرآن کو اپنے خود ساختہ7ابواب میں تقسیم کرکے ماضی کا قصہ بنادیا ہے جس کی حیثیت عالم انسانیت کیلئے ہدایت کی نہیں رہی ہے۔
عربی میں ایک مادہ سے بہت سارے معانی نکلتے ہیں۔اور سورہ فاتحہ کو ہر نماز کی ہر رکعت میں دہرا یا جاتا ہے جس کی سات آیات ہیں۔ثانیہ لمحے کو بھی کہتے ہیں اور نماز کی مقررہ اوقات میں جس طرح سورہ فاتحہ کی سات آیات کا حلف نامہ دوہرایاجاتا ہے اگر اس پر درست توجہ دی جائے تو نماز کے ذریعے مسلمان ترقی وعروج کی معراج تک پہنچ جائیں۔اسلئے اللہ نے فرمایا: ”بیشک نماز فحاشی اور منکرات سے روکتی ہے”۔ (القرآن)اگر دو مردآپس میں فحاشی کا ارتکاب کریں تو ان کو اذیت دینے کا حکم ہے اور اگر وہ توبہ کرلیں تو پھر ان سے اعراض کا حکم ہے۔
عورتوں کا طواف کعبہ، مروہ وصفا کی دوڑ،باجماعت پنج وقتہ نماز اورمعاشرے کے اندر مختلف معاملات میں اختلاط ہوتا ہے اور جہاں غلط لوگوں کی بالادستی ہو تو پھر عورت خود بھی احتیاط ہی کرتی ہے۔ حضرت عمر نے حالات کی نزاکت کو دیکھ کر بیوی کو رات کی تاریکی میں نمازباجماعت کیلئے نکلنے سے منع کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ اس کو چھیڑنے کی تدبیر سے منع فرمادیا۔ چنانچہ جب اس کی بیوی نے ایک آدمی کی چھیڑ خانی کا سامنا کیا تو کہا کہ اب نماز کیلئے رات کی تاریکی میں مسجد جانے کا زمانہ نہیں۔ جبکہ حضرت عائشہ58ھ تک حیات تھیں اور اس وقت حالات یہاں تک پہنچ چکے تھے کہ فرمایا:” اگر نبیۖ یہ حالات دیکھتے تو عورتوں کو نماز کیلئے مساجد جانے سے منع فرماتے”۔ وجہ یہ تھی کہ رسول اللہۖ نے حکم دیا کہ عورتوں کو نماز سے منع نہ کرو۔
اللہ نے فرمایا:” اے نبی ! قل کہہ دو اپنی ازواج کو اور اپنی بیٹیوں کو اور مؤمنوں کی عورتوں کو اپنے جلباب کو اپنے اوپر لپیٹیں اور احتیاط ہے تاکہ وہ پہنچانی جائیں تو اذیت نہیں دی جائے اور اللہ مغفرت والا رحم والا ہے۔ اگر منافق نہیں رکے اور جن کے دلوں میں مرض ہے وہ اور مدینہ میں افواہیں اڑانے والے توہم ان کے پیچھے آپ کو لگادیں گے پھر یہ تمہارے پڑوسی اس میں نہیں رہیںگے مگر کم عرصہ۔ یہ لعنتی لوگ ہیں جہاں کہیں ثقافت قائم ہوگی تو ان کو پکڑا جائے گا اور قتل کیا جائے گا۔ اللہ کی سنت ہے ان لوگوں میں جو پہلے گزر چکے اور اللہ کی سنت کو تبدیل نہیں پاؤگے۔ آپ سے انقلاب کا پوچھتے ہیں تو کہہ دو کہ اس کا علم اللہ کے پاس ہے اور تمہیں کیا خبر کے انقلاب قریب آگیا ہو۔ بیشک اللہ کافروں پر لعنت بھیجتا ہے اور ان کیلئے دنیا میں سختی تیار کر رکھی ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اپنا سرپرست اور مدد گار نہیں پائیں گے۔ اس دن آگ میں انکے چہرے گھما ئے جائیں گے اور کہیں گے کہ کاش ہم اللہ کی اطاعت کرتے اور رسول کی اطاعت کرتے ۔ اور کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی تو انہوں نے ہمیں گمراہ کیا۔اے ہمارے رب ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر لعنت کر بہت بڑی لعنت۔ اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح مت ہوجاؤ جنہوں نے موسیٰ کو اذیت دی پھر اللہ نے اسے اس سے بری کردیا جو وہ کہتے تھے۔ بیشک وہ اللہ کے نزدیک مقام رکھنے والا تھا۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کرو تو تمہارے اعمال کی اصلاح کی جائے گی اور گناہوں کو معاف کیا جائیگا۔جس نے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کی تو اس نے بہت عظیم کامیابی حاصل کرلی۔ ہم نے امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے اسکے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسکو اٹھایا اور بیشک وہ بہت بڑا ظالم اوربڑا جاہل تھا۔(سورہ احزاب:59تا72)
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ