سورہ بقرہ کی آیت228میں بڑی بڑی وضاحتیں
مارچ 16, 2026
نمبر1:عورت کو حیض آتا ہو تو طلاق کے بعد عدت تین ادوار۔
نمبر2:حمل ہو اس کا چھپانا جائز نہیں ۔
نمبر3:عدت میں باہمی اصلاح کی شرط پر شوہر رجوع کا زیادہ حقدار ہے۔
نمبر4:عورت کے شوہر پر وہی معروف حقوق ہیں جو ان پرہیں۔
نمبر5:اورمردوں کا عورتوں پر ایک درجہ ہے۔
نمبر5:عورت پر مرد کا درجہ
سورہ بقرہ کے اس رکوع کا آغاز آیت222سے ہوا ہے۔ جس میں حیض کا سوال ہے۔ عورتوں کا اس پر اعتراض ہو گا کہ مرد کا ایک درجہ کیوں ہے؟۔ تو رکوع کے شروع میں حیض اس کا جواب ہے اسلئے کہ مرد کو حیض نہیں آتا ہے اورعورت کو آتا ہے۔ لیکن یہ فضل صرف صنف کے اعتبار سے ہے۔ فرعون کی بیوی افضل تھی۔ جس عورت میں کردار اور صلاحیت ہو تو حضرت مریم علیہ السلام اور پاک خواتین کے مقابلے میں بیکار مرد کچھ نہیں۔
ہندوستان کے پنجاب میں مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور یہ بھی کہا کہ اس کو حیض آتا ہے۔ وہ مریم تھی اور خدا نے اسکے ساتھ مباشرت کی اور پھر وہ خود سے پیدا ہوا۔ یوں وہ مسیح موعود کے درجے پر فائز ہوگیا۔ اس سے بہت زیادہ گھناؤنا کردار اس کے موجودہ کم عقل جانشین کا ہے جس میں وہ سورہ تحریم میں دو مؤمن عورتوں اور دو کافر عورتوں کی مثال دیتا ہے کہ ہر مؤمن مرد کیلئے عورت ہونا اور اس کو حیض آنا ضروری ہے۔ جس پر ہوسکتا ہے کہ قادیانی عورتیں بہت خوش ہوں کہ اس دجال نے برابری کا بالکل حق ادا کردیا ہے۔
لیکن سورہ تحریم میں دو کافر عورتوں کا ذکر بھی ہے۔ یہ تو ایک واقعہ کی طرف رہنمائی ہے کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کیلئے تنبیہ تھی کہ دونوں طرح کی مثالیں موجود ہیں۔ جن کو بھی مشعل راہ بناؤ ،یہ تمہاری مرضی ہے اور ایک خاص واقعہ پر تنبیہ تھی جس کی وجہ سے رسول اللہ ۖ نے اپنے اوپر حضرت ماریہ قبطیہ کے حرام ہونے کا فرمایا۔ اللہ نے ”حرام ” کے لفظ پر دورِ جاہلیت کی حرمت کو ختم کرنے کیلئے ایک وسیلہ یہ واقعہ بنادیا تھا جس طرح سورہ مجادلہ میں ظہار کے مسئلے کو اللہ نے حل کردیا۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے محمدی بیگم کو رشتہ کیلئے انتہائی غلط پیغام بھیجا اور غلط عربی کے الہام کا شیطانی ڈھونگ بھی رچایا۔ یہ چنگیز کی نسل تھا اور اپنے خون کےDNAکا تشدد اس میں بھی واضح کیا۔ جاوید غامدی اس نسل کو حضرت نوح کے بیٹے یافث کی اولاد اور امریکہ واسرائیل ، یورپ و روس کو قیامت تک اقتدار میں رہنے کی بکوا س کرتا ہے۔ نبیۖ نے نسل کی بنیاد پر تفریق کو ختم کیا لیکن قرآن منصب امامت و خلافت کیلئے حضرت ابراہیم کی نسل کو اس شرط پر بشارت دیتا ہے کہ جب وہ ظالم نہیں ہوں۔ پاکستان و افغانستان میں بنی اسرائیل و دیگر سام کی نسل ہیں اور سندھ وہند حام کی نسل کے نام پرہیں۔
نمبر4:برابری کا معروف حق
عورت اور مرد کے ایک دوسرے پر مساوی معروف حقوق کیا ہے؟۔ ایک ایک حق کی اللہ تعالیٰ نے بھر پور وضاحت کی ہے لیکن کم عقل مذہبی طبقات نے حقائق کو نظر انداز کردیا ہے۔
لایکلف اللہ نفسًا الا وسعھا لھا ماکسبت و علیھا ما اکستبت ربنا لا تؤاخذنا ان نسینا او اخطأنا ربنا و لا تحمل علینا اصرًا کما حملتہ علی الذین من قبلنا ربنا ولاتحملنا مالا طاقتة لنا…
جاویداحمد غامد ی کا ترجمہ:” یہ حقیقت ہے کہ اللہ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔(اس کا قانون ہے کہ ) اسی کو ملے گا جو اس نے کمایا ہے اور وہی بھرے گا جو اس نے کیا ہے۔ پروردگار ، ہم بھول جائیں یا غلطی کر جائیں تو اس پر ہماری گرفت نہ کر۔ اور پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلوں پر ڈالا تھااور پروردگار ، کوئی ایسا بوجھ جس کو ہم اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے تو ہم سے نہ اٹھوا”۔ البقرہ:286
جب اللہ طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالتا نہیں تو پھرکیا مطلب ہے کہ ”ہم پر ہماری طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈال؟”۔
جس کو بھینس نظر نہیں آتی ہے اس سے امید کرتے ہیں کہ ہلال کا چاند دیکھے گا۔ جاویدغامدی کو اتنا بڑا تضاد نظر نہیں آتا اور دین کی بنیادوں کو بلڈوز کرنے پر مسلسل لگاہوا ہے۔
عربی میں تکلیف کا معنی مصیبت نہیں بلکہ اختیارات ہیں۔
لایکلف اللہ نفسًا الا وسعھا
” اللہ تعالیٰ کسی مکلف نہیں بناتا مگر اس کی وسعت کے مطابق”۔ یعنی اختیارات کی بنیاد پر پوچھ گچھ ہوگی۔ وزیراعظم ، آرمی چیف اور چوکیدار سے ان کی اپنی اپنی وسعت کے مطابق ذمہ داری کا پوچھا جائے گا۔ اللہ نے انسان کو مکلف بنایا ہے اور آسمانوں ،زمین اور پہاڑوں نے مکلف ہونے کا بوجھ اٹھانے سے انکار کیا تھا۔ رنگروٹ بھی آرمی چیف بننے کیلئے تیار رہتا ہے اور موالی بھی وزیراعظم سے زیادہ اپنی اہلیت کی بات کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو انکے اپنے دائرہ کار کے مطابق مکلف بنایاہے۔
عورت اور مردوں کے ایک دوسرے پر معروف حقوق ہیں اور پورے قرآن میں اور خاص طور پر آیت228کے اندر اور اس سے گزشتہ کی چار آیات224،225،226اور227میں اور اس کے بعد کی چار آیات229،230،231اور232میں بہت واضح تفصیل ہے لیکن کم عقل نہیں سمجھتے۔
نمبر3:صلح کی شرط پر رجوع
طالب خفا اور مولوی خانہ خراب کو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کردیا کہ ”عدت میں صلح کی شرط پر شوہر رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے اور دونوں کے حقوق ایک دوسرے پر برابر ہیں”۔
لیکن آیت229میں چوہے کی طرح حافظہ رکھنے والا یہ بھول جاتا ہے کہ جب عدت میں رجوع کا حق اور برابری کے حقوق ہیں تو اللہ کیسے اپنی آیات میں تضادات ڈال سکتاہے؟۔ ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ دارالافتاء پر ایک بورڈ لگادیتا کہ عدت میں باہمی صلح کی بنیاد پر اللہ نے شوہر کو رجوع کا حق دیا ہے اور اس کی بیوی کی عزت حلالہ کے نام پر نہیں لوٹی جائے اور بس۔
لیکن آیت229البقرہ عورت کا اختیار ختم کردیا ۔ شوہر کی طرف سے کہہ دیا گیا کہ تین طلاق تو بس حرمت مغلظ ہوگئی اور بیگم صاحبہ کو حلالہ کرانے کے بغیر اب کوئی چارہ نہیں ہے۔ بھائی صاحب جب آیت228میں بول دیا کہ عدت میں شوہر ہی زیادہ رجوع کا حق دار ہے لیکن مفتی بیٹھ گیا کہ یہ میرا حق ہے۔
حالانکہ آیت228میں اللہ نے دو صورتیں واضح کی ہیں۔ پہلی صورت اصلاح اور معروف کی شرط پر رجوع اور دوسری یہ کہ جب عورت رجوع نہیں کرنا چاہتی ہو۔ آیت229میں انہی دونوں صورتوں کی تفصیل ہے۔ پہلی صورت میں دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلے میں تیسری مرتبہ معروف رجوع یعنی صلح کی شرط پر رجوع اور اگر عورت صلح کیلئے راضی نہیں ہوتو پھر ایک مرتبہ طلاق کے بعد بھی رجوع نہیں کرسکتا ہے۔
لیکن مولوی دلّا ٹغ آیات228اور229میں معروف رجوع کے برابری کا حق نہیں سمجھتا ہے۔ اور اپنے لوگوں کیلئے وبال جان بنا ہوا ہے۔ ان کی عزتیں قرآن کی غلط تشریح کرکے لوٹتا ہے۔جب مولوی قرآن اور اپنے معقتدین کی عزت سے ٹام اینڈ جیری کا کھیل کھیلے گا تو چوہے کو بلی کھا جاتی ہے اسلئے کہ وہ گھر میں تباہی مچاتا ہے۔ جتنے بڑے بڑے سنی علماء کا قتل ہوا تو اس میں شیعہ کو ملوث قرار دیا گیا۔ جبکہ سنی شیعہ کے خلاف اس بنیاد پر نفرت پھیلاتے ہیں کہ وہ حلالہ کی لعنت کو نہیں مانتے ۔
عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو رجوع جائز نہیں ۔چاہے عدت کے اندر ہو یا ایک طلاق دی ہو اور آیت230کا اطلاق اس وقت ہوتا ہے کہ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو۔لیکن عورت رجوع کیلئے راضی ہو تو معروف رجوع عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل بعدآیات231اور232میں واضح ہے۔
نمبر2:حمل چھپانا حلال نہیں
جب عورت کیلئے حمل چھپانا حلال نہیں ہے تو کیا علماء کیلئے اتنی ساری آیات اور ان کے واضح احکام چھپانا جائز ہیں؟۔
جب رجوع کا تعلق عدت کیساتھ اللہ تعالیٰ نے جوڑ دیا ہے اور حمل کی عدت میں تین مرتبہ طلاق کے عمل کا تصور نہیں ہے تو پھر اس کو مزید زیر بحث قرآن میں نہیں لایا گیا ہے۔ اسلئے کہ جب تک بچہ پیدا نہیں ہوتا ہے تو عورت انتظار کی پابند ہے اور شوہر کیلئے باہمی رضامندی سے منانے کا راستہ کھلا ہوا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عدت گزرتے ہی رجوع کا حق ختم ہوجاتا ہے بلکہ اس دوران وہ کسی اور سے شادی نہیں کرسکتی ہے اور ظاہر ہے کہ صلح کی شرط پر شوہر ہی رجوع کا زیادہ حقدار ہے لیکن بچہ پیدا ہوجائے تو بھی اگر عورت رجوع کیلئے راضی ہو تو اللہ نے عدت کی تکمیل کے بعد بھی رجوع کا دروازہ بہت واضح الفاظ میں بالکل کھلا چھوڑ رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو پتہ تھا کہ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن فتاویٰ کی کتابوں سے مسائل نقل کریںگے کہ اگر بچہ آدھے سے زیادہ نکل آیا تو رجوع نہیں ہوسکتا اور کم نکلا تو ہوسکتا ہے۔
جب تک بچوں کو نرسری میں الف ب،1،2،3گنتی اورA،B،Cنہیں آئے گی تو اگلی کلاسوں میں وہ فیل ہوں گے اسلئے ہم فی الحال صرف طلاق اور اس سے رجوع کے مسائل پر امت مسلمہ کو آگاہ کررہے ہیں تاکہ ان کی عزتیں بچ جائیں۔ جن علماء ومفتیان کو اپنے مسلک کی خواتین کو حلالہ کی لعنت سے بچانے کی فکر نہیں تو وہ فلسطین کے مسلمانوں کیلئے بھی ڈھونگ ہی رچاتے ہیں۔ علامہ شبیراحمد عثمانی کے بھتیجے مفتی عتیق الرحمن عثمانی نے1972ء میں احمد آباد ہندوستان کے اندر ایک سمینار حلالہ سے جان چھڑانے کیلئے منعقد کیا تھا جس میں دیوبندی، جماعت اسلامی ، اہلحدیث اور بریلوی علماء نے شرکت کی تھی لیکن وہ مسئلے کے قریب پہنچنے کے باوجود اسلئے کامیاب نہیں ہوسکے کہ اس اقدام کو جراتمندانہ قرار دیا تھا۔ حالانکہ حلالہ کی لعنت سے امت مسلمہ کی جان چھڑانے میں کیا جرأت ہے؟۔
اب تو الحمد للہ ہماری مسلسل محنت کی بدولت علماء کرام کے دماغ بھی کھل گئے ہیں لیکن پھر بھی یہ عزیمت کا راستہ لگتاہے۔ جب پہاڑوں پر چڑھنے والوں کو لوگ دیکھتے ہیں تو مشکل سمجھ بیٹھتے ہیں لیکن پہاڑوں میں چلنے کے عادی لوگوں کیلئے وہ کوئی مشکل نہیں۔ امید ہے کہ اب علماء ومفتیان ہمت کریںگے۔
نمبر1:عدت کے تین ادوار
الٹی گنتی میں نے اسلئے شروع کردی کہ کسی طرح سے بھی یہ حقائق علماء اور عوام کے دماغ میں بیٹھ جائیں۔ مفتیوں نے یہ بھی شروع کردیا تھا کہ ” لیٹرین کے وقت مقعد سے پھول کی طرح آنت نکلتی ہے اور اس کو دھوکر سکھایا نہیں گیااور مقعد میں فطرت کے مطابق آنت کا پھول واپس گیا تو روزہ ٹوٹ گیا۔ اور علامہ شاہ تراب الحق قادری کے بعد دعوت اسلامی والوں نے عورتوں کو خاص طور پر اور مردوں کو استنجاء کرتے وقت اپنی سانس روکنے کا حکم بھی دیا تھا کہ اس سے بھی پانی معدے میں داخل ہوکر روزہ ٹوٹ جائے گا”۔ شکر ہے کہ اب نظر نہیں آتے مگر کھل کر عوام کو علمی حقائق نہیں بتانا بھی گونگے شیطان کی بڑی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت اور ہمت عطا فرمائے۔
آیت226میں طلاق کا اظہار نہ ہو تو چار ماہ کی عدت ہے اور آیت228میں تین ادوار یا تین ماہ کی عدت ہے۔ لیکن مسٹر چوہا بھول جاتا ہے اور آیت229میں عدت کے تین ادوار میں تین مرتبہ طلاق کا درست تصور دینے کے بجائے ایک بڑی غلطی کرتا ہے کہ شوہر کو دو مرتبہ طلاق رجعی کا غیر مشروط حق دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے شوہر ایک نہیں چار عدتوں کا مالک بن جاتا ہے۔ جب تک معاملہ نہیں سمجھ میں آتا تھا تو مسئلہ نہیں تھا۔ اب معاملہ سمجھ میں آگیا ہے تو بھی زبان نہیں کھولنی ہے اور اپنی خواتین کو حقوق سے محروم کرنا ہے اسلئے کہ حضرت عمر کا درست فیصلہ عوام کو سمجھ میں آئے گا اور طلاق بدعت کے نام پر گالیاں بھی نہیں پڑیں گی؟۔ پھر تو ایران اور شیعہ مار کھاتے رہیں گے اور اپنے لوگ بھی ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ شیعہ و سنی دونوں نے قرآن کے احکام کو اپنے مسلکوں اور فرقہ پرستی کے بھینٹ چڑھادیا ہے۔ جب لوگوں کو اسلام سمجھ میں آجائے گا تو جاوید احمد غامدی اور حسن الیاس بینگن اور آلو بیچنے کا کام شروع کریںگے اور مفتی تقی عثمانی کے بیٹے رکشہ یا گدھا گاڑی چلائیں گے۔ اہل لوگوں کو چندوں کے مال پر بننے والے تمام اثاثہ جات پر بٹھادیا جائے گا۔ انشاء اللہ العزیز بہت ہی جلد۔
پاکستان میں دیندار ، باصلاحیت اور مخلص لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن جس گدھے کے بچے اور مفاد پرست کو دیکھو تو وہ ذمہ دار عہدے پر بٹھادیا جاتا ہے جس کی وجہ سے نظام بالکل ہی کھوکھلا ہوچکا ہے اور اس کا ملبہ گرنے سے پہلے اس کا درست بندوبست کرنا سب کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ