پوسٹ تلاش کریں

سجدہ جائز ہوتا توخلافت کا حق ادا کرنے والی یہ ہندو عزت کی دیوی بنتی

سجدہ جائز ہوتا توخلافت کا حق ادا کرنے والی یہ ہندو عزت کی دیوی بنتی اخبار: نوشتہ دیوار

سومیا نے انسانیت کیلئے جو کیا اگر یہی چیز مسلمانوں اور انسانوں میں آگئی توپھر زمین پر خدا کا کلام ،خدا کا نظام ہوگا

سومیا ہندو نے ایک مسلمان عورت کی عزت بچائی

ہنگامہ پھرBBCانٹرویو

سومیا چلاتے ہوئے:رات گھڑ اور یہاں پہ لوگ پڑھے لکھے رہتے ہیں اور یہ بندہ شراب پی کے سوال پوچھ رہا ہے، ان سے کیونکہ یہ برقعے میں ہے۔
I m just asking who’re you to ask buddy you have no right.

سومیا:نہیں!تم پوچھنے والے کون ہوتے ہو؟ یہاں آس پاس لڑکے لڑکیاں ہیں تم ان سے تو نہیں پوچھ رہے؟۔یہ لڑکا سوال پوچھ رہا ہے ان سے کیونکہ یہ مسلم ہے اور انکو جاننا ہے اس کی شناخت۔یہ یہاں کھڑے ہو کر بیئر پی رہا ہے۔ تم دیکھ رہے ہو بیئر؟ اور یہ یہاں کھڑا ہے۔
شرابی آدمی:مجھے میرے حال پر رہنے دو۔ تمہیں مطلب کیا ہے؟ بات یہ ہے کہ جب وہ برقعے میں ہے ناں…

سومیا:تمہارا کوئی حق نہیں!گور سٹی 2میں سب کر رہے ہیں یہ لوگ۔ ذات پات، مذہب ، یہ سب کر رہے ہیں یہاں پہ۔ پڑھے لکھے لوگ رہتے ہیں یہاں اور یہ بندہ شراب پیتے ہوئے سوال پوچھ رہا ہے ان سے کیونکہ یہ برقعے میں ہیں اور اس کی جسارت دیکھو، بولا رہا ہے کہ ”میں تو بس پوچھ رہا ہوں”۔ تم پوچھنے والے کون ہوتے ہو؟، ہاں، تم ایک مرد ہو۔ ٹھیک ہے۔ تمہارا کوئی حق نہیں ہے۔

سومیا مسلم جوڑے سے:دونوں پرسکون رہو۔
سومیا شرابی سے:تمہیں سوال پوچھنے کا حق کس نے دیا؟ تمہیں حق کس نے دیا؟ کون سی حکومت، کون سا پولیس اسٹیشن تمہیں حق دے رہا ہے؟،تمہاری جپسی (پولیس گاڑی) کہاں ہے جو دو منٹ میں آ رہی تھی؟ کہاں ہے تمہاری جپسی؟ مجھے اپنی جپسی یہیں دکھا۔ کب آئے گی؟ جب کوئی حادثہ ہو جائے گا؟

سومیا جوڑے سے:آپ لوگ جاؤ۔ ان کو ان کی اوقات دکھاتے ہیں، ہم دکھائیں گے۔
شرابی آدمی سومیا سے:میں تو پوچھوں گا نا میڈم، آپ کیوں پریشان ہو رہی ہو؟
سومیا:تم باقی لڑکیوں اور لڑکوں سے کیوں نہیں پوچھ رہے؟ میری بیوی وہاں کھڑی ہے… ارے بیوی بولو، گرل فرینڈ بولو، اس سے کیا مطلب ؟ اس سے اس شخص کوکیا مطلب ہے؟

سومیا:یہ پاگل آدمی بیئر پی رہا ہے اور دنگا کر رہا ہے، پڑھے لکھے لوگ رہتے ہیں یہاں پہ۔ پوچھ رہا ہے نام…ان کا نام مسکان ہے۔ اس نے بولا تمہارا نام تمہاری شکل سے لگ نہیں رہا۔شوہر کہتا ہے میں میاں بیوی ہونے کا ثبوت دوں گا۔

سومیا:میں سمجھ گئی۔ سمجھ میں آ رہا ہے۔ ثبوت کیوں دو گے؟ آپ ثبوت دے کر کمزور مت بنو۔ آپ کوئی بھی ہو، بھائی بہن یا کوئی بھی، اس سے نہیں ڈرنا ہے۔ ڈرنا نہیں ہے بالکل۔ ایسے لوگوں سے نہیں ڈرنا ہے۔ یہ ملک میں دنگا کراتے ہیں۔

سومیا شرابی آدمی سے:15منٹ ہو گئے…
شرابی آدمی:میں انہیں تب تک نہیں جانے دوں گا جب تک جپسی نہیں آ جاتی۔ سومیا: تم کون ہو؟ یہ ابھی میری آنکھوں کے سامنے جائیں گے میں دیکھتی ہوں کہ تم انکا کیا کر سکتے ہو۔

سومیا جوڑے سے:آپ لوگ جاؤ۔ یہ دھمکی دے رہا ہے کہ آپ نہیں جا سکتے۔ آپ جاؤ۔ جاؤ۔ جاؤ۔ گاڑی نکالو اپنی۔ گاڑی نکالو اپنی۔ جاؤ اب گاڑی نکالو۔ چلو۔ اس کی مرمت کرتے ہیں۔ اس کو دھوئیں گے آج تو۔
سومیا:پیچھے ہٹو! پیچھے ہٹو!پیچھے ہٹو!تم کسی لڑکی کو ہاتھ نہیں لگا سکتے! پیچھے ہٹو!پیچھے ہٹو!۔

سومیا:ذات پات، دھرم اور یہ سب کر رہے ہیں یہاں پر، لوگ پڑھے لکھے رہتے ہیں اور یہ بندہ بیئر پیتے ہوئے کویسچن (سوال)پوچھ رہا ہے ان سے کیونکہ یہ برقعہ میں ہے۔ اور اس کی آڈیسٹی (جسارت)دیکھو! میں بس یہ پوچھ رہی ہوں کہ تم ہوتے کون ہو پوچھنے والے؟ تمہارا کوئی حق نہیں۔تمہارا کوئی حق نہیں ، پیچھے ہٹو! پیچھے ہٹو!تمہیں سوال پوچھنے کا حق کس نے دیا؟ تمہیں کس نے حق دیا؟ کونسی گورنمنٹ نے رائٹ دیا ہے؟ کون سے کانسٹی ٹیوشن (آئین)نے رائٹ دیا ہے؟۔

BBCنے ہنگامے کی یہ ویڈیو چلانے کے بعد انٹرویو کیا

رپورٹر:بتائیں اصل میں16اپریل کی رات کو کیا ہوا تھا؟
سومیا:میں رات کے ساڑھے دس بجے کھانا کھانے نکلی تھی ۔ اپنے گھر کے سامنے مارکیٹ میں۔ مجھے دور سے ہی دکھا کہ کافی لوگ بھیڑ لگا کر کھڑے ہیں اور کچھ لڑائی سا ہو رکھا ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ ایک لڑکی بھی تھی اور وہ چلا رہی تھی، تو میں نے چیکنگ کیلئے لوگوں سے پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ ایک لیڈیزنے بتایا کہ اس لڑکی سے سوال کیا جا رہا ہے اس کی شناخت کا، اور اس نے وہ جو کپڑے پہن رکھے ہیں وہ کیوں پہن رکھے ہیں۔ پھر مجھے تھوڑی گڑبڑ تو لگی کہ کچھ تو ہے۔

پھر میں اس جوڑے کے پاس گئی کہ آپ کو کوئی دقت ہے؟ آپ ان کو جانتے ہو؟ یہ آپ کو کیا بول رہے ہیں؟ تو لڑکی نے بتایا کہ وہ میراIDکارڈ ، میرا ایڈریس مانگ رہا ہے اور پوچھ رہا ہے کہ یہ کپڑے کیوں پہن رکھے ہیں؟ اس نے حجاب پہن رکھا تھا پھر میں بنا سوچے سمجھے اس انسان کے پاس گئی اور بولا آپ کو کوئی پرابلم ہے؟ اس نے صاف صاف یہی بولا کہ مجھے کوئی پرابلم نہیں، مجھے بس جاننا ہے کہ یہ کپڑے کیوں پہن رکھے ہیں ۔ یہ یہاں پر مطلب کیوں ہے اور اس کا نام کیا ہے؟ ۔یہ مجھے بالکل صحیح نہیں لگا کیونکہ رات ساڑھے دس بجے کسی لڑکی کو کسی آدمی کے تھرو جاننا کہ وہ کیوں ہے وہاں پر۔

میں نے بولا آپ کون ہو؟ اس نے بتایا: پولیس والا۔ میں نے ان سے بیج ،آئی ڈی پروف مانگا، جو اس نے تھوڑی ایکٹنگ کی نکالنے کی ۔ انکے ہاتھ میں شراب کی بوتل تھی جو وہ پی رہے تھے پھر کال لگایا اور بولا کہ جپسی لیکر آ، بولا جپسی دو منٹ میں آ رہی ہے۔ پھر بھی میں نے بولا کہ یہ کوئی پروٹوکول نہیں ہے، اگر کسی کو رات کے دس بجے روک رہے ہو، اسپیشلی لڑکیوں کو، تو آپ کے پاس لیڈی کانسٹیبل ہونی چاہیے لاء کے مطابق حق ہے۔ پھر تھوڑی میں چلائی، چیخ و پکار ہوئی، بات چیت ہوئی بہت لمبی، اس نے بالکل جانے سے منع کردیا، بول رہا ہے میں جانے نہیں دوں گا جب تک یہ لڑکی مجھے دکھاتی نہیں یہ کون ہے۔ جیسے ہی اسکے پتی اپنی گاڑی پر چابی لگاتے، وہ آدمی پیچھے سے آ کر بالکل گندے طریقے سے لڑکی کو ٹچ کرتا ہے اور اسکے پتی سے چابی نکال لیتا ہے اور بولتا ہے کہ جب تک یہ بتاتی نہیں کہ یہ کیوں پہن رکھا ہے نہیں جانے دوں گا۔

رپورٹر:تو آپ وہاں سے نکل سکتی تھیں مگر فیصلہ کیا وہاں رک کر ان کیلئے آواز اٹھائی، آپ کو لگا کہ آپ کو بولنا چاہیے؟۔
سومیا:اگر نکل جاتی یا دوسروں کی طرح چپ ہو کر دیکھتی تو میں بھی اس پرابلم کا حصہ بن جاتی، کیونکہ نہ بولنا ہمیشہ جواب ہی ہوتا ہے کہ تم اس چیز کے خلاف ہو۔ بہت ساری ویڈیوز دیکھی ہیں جہاں پر لوگوں کو پریشان کر رہے ہیں، ہم بطور انسان سوچتے ہیں کہ کاش ہم ہوتے اس کی مدد کر پاتے۔ تو مجھے لگا کہ نہیں اگر کوئی نہیں کر رہا ہے تو میرا کرنا تو بنتا ہے، خاص کر کہ وہ ایک عورت تھی اور میں بطور عورت جانتی ہوں کہ کتنا حساس ہوتا ہے یہ ہمارے لیے یہ ماحول، رات کے ٹائم پہ اسپیشلی ہمارے دیش میں کہ ہم محفوظ نہیں ہیں۔ تو مجھے لگا ایک لڑکی کی مدد کرنا بہت ضروری تھا اور میں نے وہی کیا۔

رپورٹر:رات کا وقت تھا۔ وہ نشے میں تھا، تو آپ کو اس سب کے باوجود، عورت ہونے کے باوجود اپنی سیفٹی کیلئے ڈر نہیں لگا؟ اور آپ کو ایسا کچھ محسوس نہیں ہوا کہ اگر کچھ ہو جائے گا تو؟۔
سومیا:بالکل ڈر تو لگا، اس ماحول میں اس کیلئے بھی ڈر لگا جتنا اپنے لیے لگا۔ لیکن جیسے ہی میں نے آواز اٹھائی کیونکہ میرا گھر آس پاس تھا تو میرے لیے زیادہ آسان تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوتا بھی ہے تو میں اپنے گھر والوں کو بلا سکوں گی، اپنے دوستوں کو بلا سکوں گی۔ لیکن وہ تھوڑی باہر کی تھی، وہ میرے علاقہ کی نہیں تھی، اس کیلئے مجھے زیادہ لگا کہ میں اس کی مدد کروں، اس کو اس ماحول سے نکال سکوں اور اس پرابلم سے نکال سکوں۔ ڈر تو ہر چیز میں لگتا ہے لیکن مددکرنا وہ بڑی چیز ہے جو کرنی چاہیے۔

رپورٹر:آپ کے آس پاس جو لوگ وہاں پہلے سے موجود تھے جب وہاں اتنا ہنگامہ ہو رہا تھا، انہوں نے کیا کیا؟۔
سومیا:سچ کہوں توپہلے جب میں نہیں گئی تھی تب تک مجھے کچھ ایسا پکچر دکھ رہا تھا کہ ایک آدمی کھڑا ہے، ایک جوڑا کھڑا ہے اور لوگ ایسے گول بنا کر کھڑے ہیں، کوئی پوچھ نہیں رہا تھا، بالکل اس طرح جیسے شو دیکھ رہے تھے لوگ کھڑے ہو کر۔ میرے پوچھنے پہ بھی جس سے میں نے پوچھا اس نے مجھے بہت ہنس کر بہت عام سا جواب دیا کہ ”اس نے حجاب پہن رکھا ہے اس لیے اس کو پریشان”… بہت عام سا جواب تھا، مجھے لگا بھی کہ یہ ہنس کیوں رہی ہے؟ تو لوگ بس تماشہ دیکھ رہے تھے جو زیادہ تر لوگ کرتے ہیں، تماشہ دیکھتے ہیں۔

رپورٹر:انہوں نے کہا کہ اس نے حجاب پہنا ہے اسلئے یہ سب ہو رہا ہے، وہ سن کر آپ کو کیسا محسوس ہوا؟۔
سومیا:بہت بیکار لگا کہ کوئی، مطلب ہیومن رائٹ ہے، آپ کچھ بھی پہن سکتے ہو، کہیں بھی جا سکتے ہو، کسی کیساتھ بھی جا سکتے ہو اور کسی کے کپڑے پہ اعتراض کرنا میرے خیال میںیہ شو کرتا ہے کہ وہ بندہ ڈیپلی کتنا پریشان ہے کسی چیز سے یا کسی کے کپڑے سے کتنا پریشان ہو رہا ہے۔ تو یہ تو بہت برا لگا اور سب سے بڑا پرابلم یہی تھا آئی گیس، اس کے کپڑے اس کیلئے پرابلم تھے کہ وہ ٹرگر ہو گیا کہ اسے سوال پوچھنا پڑ گیا۔

رپورٹر:آپ نے ویڈیو بنائی، وہ بنانے کے بعد کیا ہوا؟۔
سومیا:ویڈیومیں نے پوسٹ کیلئے تو نہیں بنایا تھا جیسا لوگ کمنٹ میں بول رہے ہیں۔ ویڈیو بنایا پولیس کیلئے کہ فور سیفٹی، تاکہ پولیس جان سکے اصل میں کیا ہوا تھا، جو لاسٹ میں ہوا۔ جب پولیس آئی تو جو بندہ پی رہا تھا اس نے پولیس کو بتایا کہ یہ پبلکلی کچھ غلط کام کر رہے تھے دونوں کپل، جو کہ نہیں تھا۔ ویڈیوز میں صاف صاف دکھ رہا تھا کہ کچھ ایسا نہیں تھا، اس کو آئی ڈی جاننی تھی۔

ویڈیو میں نے پوسٹ کی، شروع میں تو مجھے کافی زیادہ لوگوں نے بولا، تعریف کی کہ آپ نے اچھا کام کیا، مدد کی کسی کی۔ پھر تھوڑا ویڈیو وائرل ہو گیا، پھر مجھے ایک طرح کے لوگ ملے جو مجھے گالیاںدے رہے تھے، جنسی طور پر ہراساںکر رہے تھے آن لائن۔ میرے باڈی شیم کرنا، ایک عورت کیلئے یہ ہوتا ہے،عام ہے ہمارے دیش میں۔ گالی دینا، میرے مذہب پر سوال کرنا کہ کنورٹڈ ہے یا غلط الفاظ استعمال کرنا، گالی تو بہت پڑی۔ دھمکیاں بھی ملیں کہ میرے گھر تک آئیں گے، مجھے ریپ تھریٹس ملے ہیں، میرے دوستوں کو میسج گئے کہ سومیا کا ایڈریس دیدے تجھے پیسے ملیں گے۔ تو یہ بہت بڑا ہو گیا ہے یہ پرابلم اور جتنی تعریف ملی تھی وہ نیگیٹو کافی زیادہ بڑھ گیا کیونکہ لوگوں نے بہت گندے کام کیے۔ میری فیملی پکچرز پہ بھدے بھدے کمنٹس، میری ممی کے، میرے خود کے کریکٹر پہ سوال کرنا۔ مجھے لگاکسی کی ہیلپ میں نے کی، کسی کو ہراس ہونے سے بچایا تاکہ میں آگے چل کر خود ہراس ہوسکوں، مجھے ایسا لگ رہا ہے، ایسا محسوس ہو رہا ہے۔

رپورٹر:آپ کو دھمکیاں اور ٹرولنگ بھی بہت زیادہ ہوئی ہے جو آپ نے مینشن کیا، پر اس کے ساتھ ساتھ سپورٹ ملا؟۔
سومیا:سپورٹ تو بہت اچھا ملا، کوئی شک نہیں مجھے90%سپورٹ ہی ہے نو ڈاؤٹ۔ لوگوں نے میسجز کر کے، کمنٹس کر کے، میرے اوپر ویڈیوز بنائے ہیں۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ جب تمہیں ایسے گندی دھمکیاں آتی ہیں ریپ تھریٹس، مارنے کے، مرڈر کے، تو وہ ساری چیزیں پھیکی پڑ جاتی ہیں، سائیڈ پر ہوجاتی ہیں اور یہ ڈر لگنے لگتا ہے کہ اچانک سے ایسا کیا ہو گیا کہ لوگوں کو غلط لگ رہا ہے کہ میں نے کسی کی مدد کر دی۔

رپورٹر:اب جب ایسے حادثات بار بار سامنے آ رہے ہیں، کیا آپ کو لگتا ہے کہ معاشرے میں کچھ امید باقی ہے یا پھر ایسے دھیرے دھیرے عام ہوتے جا رہے ہیں یہ حادثات؟۔
سومیا:جواب دینا مشکل ہے لیکن ہاں، اگر یہ انسیڈنٹ ہوا ہے، میں نے مدد کی تو میرے جیسے اور بھی لاکھ انسان ہوں گے جو آگے بڑھ کر مدد کریں گے۔ لیکن آپ کہہ سکتے ہیں کہ امید بہت کم ہے اور جیسے یہ لوگ ایک دوسرے کے خلاف ہوتے جا رہے ہیں، ڈویژن چل رہے ہیں لوگوں کے بیچ میں، بہت کم امید ہے کہ ایسے ماحول میں لوگ آگے آ کر مدد کرتے ہیں، سو میں سے ایک ہی آتے ہیں مجھے لگتا ہے جہاں تک۔

رپورٹر:ان لوگوں کیلئے جو ایسے انسیڈنٹس سے گزرتے ہیں جن کیساتھ یہ ہوتا ہے، اور ایسے لوگوں کیلئے جو وہاں رہ کے اس کیخلاف آواز نہیں اٹھاتے، آپ کا کیا پیغام رہے گا ان کیلئے؟
سومیا:میرا یہی مؤقف ہے کہ ہمیں بطور انسان ہمیشہ انسانیت کا انتخاب کرنا چاہیے۔ کسی کی مدد یہ سوچ کر نہیں ہوکہ اسکی ذات اوردھرم کیا ہے، جس کو ضرورت ہے اس کی مدد کرنی چاہیے۔ انسانیت بہت اہم ہے جو ہمیں ہر حال میں باقی رکھنا ہے اور جو لوگ کھڑے ہوتے ہیں ان کیلئے یہی میسج ہے کہ مدد ، کیونکہ آج ہم کسی کی مدد کریں کل ہمارا کوئی مدد کرے گا ضرور، یہ تو لکھا ہے۔ تو بس یہی بولنا چاہوں گی کہ یہ سوچ کے مدد کر لو کہ کل تم پرابلم میں ہو گے تو تمہیں کوئی مدد کرنے آئے گا۔

تبصرہ:سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلام کی پہلا شہیدہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا۔ دورِ حاضر میں ہندو کی پہلی شہیدہ حضرت سومیا ،اللہ ان سے راضی ہو۔ یہ یاد رکھیں کہ اللہ کے راضی ہونے کی دعا جائز ہے اور شہید صرف مقتول نہیں بلکہ گواہ بھی شہید ۔مولانا فضل الرحمن غریدہ فاروقی اور عاصمہ شیرازی کو بھی حضرت کہتے ہیں تو سومیا نے کمال کیا۔

مکافات عمل کا دنیا میں سامنا کرنا پڑے یا موت کے بعد۔ عیسیٰ علیہ السلام سے یہ سوال ہوگا کہ آپ نے لوگوں سے کہا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بناؤ۔ جو اب کا آخر

وانت علی کل شی ئٍ شہیدOان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیمO

”اور آپ ہر چیز پر گواہ ہو۔اگر انہیں عذاب دے تو تیرے بندے ہیں اور انہیں معاف کردے تو بیشک آپ زبردست حکمت والے ہو”۔

سورہ مائدہ کی یہ آیات شہید اور اللہ کے راضی ہونے کی دعا کا ثبوت ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام مشرکوں کیلئے نرم گوشہ رکھیں۔ وما کنا معذبین حتی نبعث رسولًا ” اور ہم عذاب نہیں دیتے جب تک رسول مبعوث نہ کردیں”۔ ہندو کے ہاں رسول کی بعثت نہیں ہوئی۔ اسلام بھی مسخ صورت میں پہنچا ہے۔

علماء کہتے ہیں کہ عورت جبری جنسی زیادتی کا نشانہ بنے تو تین گواہ عدالت میں گواہی نہیں دے سکتے۔ حضرت آدم و یوسف کے سامنے فرشتوں اور انسانوں کے سجدہ ریز ہونے کا ذکر قرآن میں ہے۔ اسلام نے ممنوع قرار دیا تو مسلمانوں کیلئے منع ہے۔ اکبر بادشاہ کیلئے تو علماء سو نے جائز قرار دیا تھا۔ خداکی خلافت نہیں عبادت تو جن اور فرشتے بھی کرتے ہیں ۔

خلافت اپنی وسعت کے مطابق ذمہ داری ہے۔ سومیا نے مسلمان لڑکی کو تحفظ دیا جس میں محمد بن قاسم کی طرح جھوٹ کا عنصر بھی نہیں۔ جہاں سجدے کی گنجائش ہو تو خدا کی یہ خلیفہ ہے جس کو سجدہ کیا جاتا تو قرآن کی روشنی میں لمبی تاریخ کے تناظر میں بنتا تھا۔ عقیدے کی آڑ میں شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن اور صابر شاہ جیسے لوگ کسی اور کو عزت و احترام کے قابل نہ سمجھیں تو یہ بدکردار لوگوں کی مجبوری ہے۔عمران خان پاکپتن کی راہداری پر مرغا بنا تو اس سے زیادہ مستحق باضمیر لوگوں کیلئے ہندوستان کی زر خیز مٹی سے اگنے والی انسانیت کیلئے سومیا کی ہستی ہے۔

اگر ہندوستان اور دنیا بھر کے حکمران خود ظالم جابر نہ ہوتے تو اس لڑکی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے بڑے اعزازسے نواز دیتے تاکہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے مظالم کی روک تھام میں انسانیت اور اس کی ذمہ داری خلافت الارض کو زندہ کرتے مگر مجبوری ہے۔ صدر تباہ کاری ٹرمپ کو نوبل انعام کیلئے نامز د کیا جائے لیکن ہندوستان کی عوام میں بڑھتے ہوئے مظالم کے سامنے انسانیت کی روح پھونکنے والی دیوی سومیا کیلئے دولفظ شاباش کے نہیں ہیں۔ سورہ فاتحہ ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھتے ہیں اور اس میں یوم الدین کے مالک کا معنی مکافات عمل ہے۔

بڑی قیامت تو ضرور آئے گی لیکن پہلے دنیا میں چھوٹی بڑی قیامتیں برپا ہوں گی۔ عیسیٰ قیامت سے پہلے نازل ہوں تو قرآن میں لکھے یہ الفاظ ضرور اللہ کے سامنے دھرائیں گے۔ یہودی پیش گوئی میں یہ ہے کہ ” آنے والا خلیفہ مسلم یہودی ” کہلائے گا ۔ قرآن کی محکم آیات سے مسلمان ویہودی کو حلالہ سے چھٹکارا ملے گا۔ عمران خان کا بیٹا خلیفہ بن گیا تو یہود ماں کو اہم سمجھتے ہیں، اسلئے اسماعیل سے اسحاق کو قابل سمجھتے ہیں۔ بنی اسرائیل ماؤں سے بہت پھیل گئے ہیں۔یہودی عیسیٰ و مریم سے تنگ دل نہ ہوں۔ ہماری نانی بھی محسود تھی جو بنی اسرائیل مشہور ہیں۔ایک بڑا پرامن انقلاب آئے گا۔ انشاء اللہ العزیز

سورہ الزمر میں روئے زمین پر قیامت سے پہلے جس بہت بڑے انقلاب اور چھوٹی قیامت برپا ہونے کا ذکر ہے اس کو ہندو اپنی روحانی استعداد کیمطابق اپنے حالات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ سورہ بنی اسرائیل میں یہود ونصاریٰ کیلئے بڑی خوشخبری ہے کہ تم نے دو مرتبہ تکبر کیا اور دوسری مرتبہ میں ہوسکتا ہے کہ تم پر رحم کیا جائے ،اسلئے کہ اصل جزا وسزا تو اللہ نے دینی ہے اور خوشحالی لانیوالا انقلاب فتح مکہ کی طرح انتقامی نہ ہوگا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

ولی رحمانی انسانیت کا ہیرو
سجدہ جائز ہوتا توخلافت کا حق ادا کرنے والی یہ ہندو عزت کی دیوی بنتی
نوشتہ دیوار اپریل اسپیشل ایڈیشن 2026