گھر سے بھاگ کر شادی
مئی 14, 2026
بھاگ کر شادی کرنے والی بیٹی سامنے آئی تو باپ نے کیا کیا؟۔
پاکستان کایہ کلچر مذہبی طبقات کا قرآن وحدیث اور اصول فقہ میں تضادات کا نتیجہ اور فطرت سے انحرافات کا آئینہ ہے۔ معاشرے سے خرابی کو دور کرنے کیلئے درس نظامی کی تعلیمات کو درست کرناہوگا ورنہ تو یہ سانحات پھر اسی طرح جاری رہیں گے بلکہ بڑے پیمانے پر بڑھ سکتے ہیں۔
جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کا طالب علم تھا ۔استاذ العلماء حضرت مولانا بدیع الزمان اصول فقہ پڑھارہے تھے۔
حتی تنکح زوجًا غیرہ
آیت میں عورت اپنے نکاح کیلئے خود مختار ہے جبکہ حدیث ہے کہ ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے باطل ہے”۔ حنفی اصول فقہ میں ضعیف حدیث کی بھی تطبیق ہوسکے تو قابل عمل ہے۔ حدیث ہے جس نے نمازکے آخری قاعدے میں ریح خارج کردی تو اس کی نماز مکمل ہوگئی۔ احناف نے اس وجہ سے سلام کیساتھ نماز سے نکلنے کو واجب اور اپنے ارادے کیساتھ نماز سے نکلنے کو فرض قرار دیا ہے۔
ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کو حدیث میں باطل قرار دیا تو قرآن کی آیت سے ٹکرانے کی وجہ سے ناقابل عمل ہے ۔ جب میں نے مولانا بدیع الزمان سے عرض کیا کہ قرآن میں طلاق کی صورتحال کے بعد کا ذکر ہے اور حدیث کو کنواری کیساتھ خاص کردیں تو حنفی مسلک کا یہی تقاضا ہے۔ جس پر استاذ کا نورانی چہرہ خوشی سے دمک اٹھا اور فرمایا کہ تمہاری بات میں بڑاوزن ہے اور دوسری کتابیں پڑھ کر اس کا حل ڈھونڈ نکالوگے۔
اصل حنفی مسلک یہ ہے کہ اس آیت میں فان طلقہا کا تعلق متصل فدیہ سے ہے اور حتی تنکح زوجًا غیرہ کا تعلق حلالہ سے نہیںبلکہ فدیہ کی صورت کی وجہ سے سابقہ شوہر سے آزادی کیلئے ہے۔امام ابوحنیفہ کی جیل میں المناک شہادت کا سانحہ ہوا تو شاگرد اور حکمرانوں نے امام ابوحنیفہ کے فقہ سے بھی کھلواڑ کیا جیسے قرآن اور احادیث صحیحہ سے کیا ہے۔
اصول فقہ کی کتابوں میں دیگر چیزوں پراعتراض کیا۔ مولانا بدیع الزمان بیمار اور ضعیف العمر تھے اسلئے زحمت نہیں دی لیکن قاری مفتاح اللہ سے جب باتیں ہوئیں تو انہوں نے ملاجیون کی سادگی سے متعلق بہت سارے لطیفے سنائے۔ اور بڑا حوصلہ دیا کہ ان سارے مسائل کو آپ خود ہی حل کرلیں گے۔
BBC رپورٹ سے امریکن بچی کا واقعہ لکھاجو مختلف ریاستوں میں بچیوں کیلئے الگ قوانین تھے۔ زیادہ بھیانک جبری جنسی زیادتی کا شکار بچی محافظ سے حاملہ ہوگئی لیکن اس سے زیادہ مدارس کاغلط نصاب ماحول میں وہ بگاڑ پیدا کر رہا ہے کہ اس سے زیادہ بدترین مثال دنیا کے کسی ملک ومذہب میں بھی نہیں ملتی ہے۔ مولانا بدیع الزمان و اساتذہ نے تائید کی تھی اورآج اللہ مجھ سے دین کا کام لے رہاہے۔ مجھے مدارس سے محبت ہے مگرمدارس میں بیٹھے لوگ ناسمجھ یا مفاد پرست ہیں ۔
اگر قرآن کی ایسی تعبیر اور تفسیر ہو کہ کٹر سے کٹر رافضی شیعہ کو اعتراف کرنا پڑجائے کہ حضرت عمر فاروق اعظم اور سنیوں کے چاروں ائمہ امام ابوحنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا فیصلہ قرآن کے مطابق تھا اور فقہ جعفریہ انتہائی غلط اور گمراہی پر مبنی قرآن وحدیث اور علی و ائمہ اہلیبت سے بہت دور ہیں تو فرقہ واریت میں کتنی زبردست اور مثالی کمی آئے گی؟۔
پھر اہل سنت اعتراف کرلیں کہ اہل تشیع کے ائمہ اہل بیت کی بات اس وقت مان لیتے تو ہم آپس میں بھی منتشر نہ ہوتے تو شیعہ کے ہاں ماتم کی جگہ محرم الحرام میں ڈھول کی تھاپ پر وہ خوشیوں کے شادیانے بج جائیں گے کہ سنی علماء ومفتیان ناچنا شروع ہوجائیں گے۔ صرف امت مسلمہ کے سنجیدہ طبقات کی توجہ چاہیے پھر اسی محرام الحرام میں یہ مناظر دیکھنے کو مل جائیں گے اور انقلاب کا سفر شروع ہوجائے گا۔ انشاء اللہ العزیز
ایران ، عراق ، پاکستان اور دنیا بھر میں بدلتے ہوئے منظر کی خوشیوں پر دشمن اور شیطان کی تمام سازشیں ناکام ہوں گی ۔
مشہور ہے کہ ”پیر نہیں اڑتا ہے مرید اس کو اڑاتے ہیں”۔ امام ابوحنیفہ و امام شافعی میں کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن بعد کے لوگوں نے اختلاف رائے کو انتہائی بھیانک شکل دیکر کفر سے بھی آگے بدفطرتی کے طوفان میں عجیب و غریب رنگ دیدیا۔
ائمہ اہل حق نے اپنی جانیں اسلام پر نچھاور کر رکھی تھیں۔
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ تھا کہ حق ادا نہ ہوا
لیکن بعد کے لوگوں نے پیٹ پوجا کیلئے دین کو بگاڑ دیا ۔
سچ تو یہ ہے کہ بات کچھ بھی نہ تھی
بیڑہ غرق پھر بھی پیٹ پوجا نہ ہوا
کہاں امام ابوحنیفہ جو جیل میں زہر دیکر شہید کئے گئے اور کہاں قاضی القضاة (چیف جسٹس) امام ابویوسف نے بادشاہ کیلئے اس کے باپ کی لونڈی معاوضہ لیکر حلال قرار دیدی؟۔
تصویر کے معاملہ میں ابوالکلام آزاد اور علامہ سلیمان ندوی نے ایک منشی مفتی محمدشفیع کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے مگرجب میں نے کتاب ”جوہری دھماکہ ” میں جاندار کی تصویر کو جواز بخشا تو چڑیا گھر سے تمام بند جانور کھل کر میدان میں آگئے۔
شبلی نعمانی وکالت میں ناکام ہوگئے تو علی گڑھ میں فارسی کے ٹیچر لگے۔ الفاروق کتاب لکھی تو علماء سے کہا کہ ”حدیث قرطاس کا انکار کردیتے ہیں لیکن علماء نے حدیث کے انکار اور جھوٹ کو منع کردیا”۔ پھر اسکے ہاتھ حمیدالدین فراہی لگا جس کو خلافت عثمانیہ سے عربوں کو نسل پرستی کی بنیاد پر الگ کرنے کیلئے انگریز اور عربوں میں ترجمان کا کام سونپ دیا تاکہ کچھ معاوضہ مل جائے۔ انگریز نے ایڈوکیٹ شبلی نعمانی کو شمس العلماء کا خطاب دیا۔ اسی سلسلے سے جاویداحمد غامدی بھی وابستہ ہے۔
عن ابن ابی سعید الخدری قال: صلی بنا رسول اللہ ۖ صلاة العصر نھارًا ثم خطب ان غابت الشمس فلم یدع شیئًا ھو کائن الی یوم القیامة الا حدثنا بہ حفظہ من حفظہ ع نسیہ من نسیہ ۔ عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ ۖ ان اللہ رفع لی الدنیا فانا انظر الیھا و ما ھو کائن فیھا الی یوم القیامة کما انظر الی کفی ھذہ جیلان من اللہ جلاہ لنبیہ کما جلاہ للنبین قبلہ ۔ ( الفتن : نعیم بن حماد استاذ مصنف صحیح البخاری)
رسول اللہ ۖ نے ہمیں دن کو عصر کی نماز پڑھائی ،غروب آفتاب تک خطاب فرمایا۔ تو کوئی چیز نہیں چھوڑی قیامت تک پیش آنے والی مگرہمارے لئے بیان فرمایا ، جس نے یاد رکھا تو اس نے یاد رکھا اور جو بھول کیا تو وہ بھول گیا۔ فرمایا: بیشک اللہ نے میرے لئے دنیا کو اٹھایا تو میںنے اس کو دیکھا اور اس میں قیامت تک پیش آنے والی ہر چیز کو دیکھا جیسا کہ اپنی اس ہتھیلی میں ادوار کو دیکھتا ہوں۔ اپنے نبی کیلئے جیسے پہلے انبیاء کیلئے اللہ نے روشن کرد دیا تھا۔ ( حدیث نمبر1اور حدیث نمبر2)
قرآن میں لوگوں نے اپنا کردار خود منتخب کیا۔عہد الست کو واضح کیا۔ وقت کا الگ پیمانہ ثابت ہوا۔ نبی ۖ نے جٹ قوم کا بتایا کہ مجھے پوری رات اذیت دی مگر خوش تھے اسلئے کہ اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے جٹ قوم نے کردار ادا کرنا تھا۔ نبیۖ نے نسل کا تعارف تبدیل کرنا غلط قرار دیا۔ اسلام سے پہلے اعلیٰ نسل کے پاس ادنیٰ نسل والے نسل کی تبدیلی کیلئے غلیظ کام کرواتے تھے۔ بدکاری کی سزا ، رخ قبلہ اور جو احکام قرآن میں نازل نہیں تھے تو اہل کتاب کے مطابق عمل ہوتا تھا۔ جٹ کے ہاں نسل و تعارف تبدیل نہ تھی ،پدو مارتے۔ عرب نسل کی تبدیلی کو بے غیرتی نہیں سمجھتے تھے مگر پدو مارنے پر شرم کھاتے تھے۔
قرآن نے غلط چیزوں کو بدلا۔نبیۖنے غامدی،فراہی اور عثمانی کو دیکھا کہ نسل اور دین کو بدل دیا؟ اور نبیۖ نے ذوالخویصرہ کو دیکھا تو فرمایا کہ اس کی طرح خوارج مختلف ادوار میں پیدا ہوتے رہیںگے۔ قرآن آئینہ ہے جس میں بڑا کچھ ہے لیکن اس پر تدبر کرنے کی بجائے امت نے چھوڑ دیا۔
قرآن کا آئینہ :غامدی اور سومیا
اللہ نے فرمایا :فذرھم فی غمرتھم حتی حین …
ترجمہ :” اور انہیں چھوڑ دو یہاں تک کہ وقت آئے۔ کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ انہیں ہم نے مال اور بچوں کیساتھ کھینچا(امریکہ پہنچا دیا،75سالہ سالگرہ داماد اور بچوں کیساتھ منارہاہے)ہم لگے ہیں ان کو خیر پہنچانے میں؟ لیکن وہ شعور نہیں رکھتے۔ بیشک جو لوگ اپنے رب کے خشوع سے شفقت کرتے ہیںاور جو اپنے رب پر ایمان لاتے ہیں اور جو اپنے رب کیساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔ اور جو دیتے ہیں جو ان کودیا گیا۔ اور ان کے دل کانپتے ہیںکہ اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ لوگ اچھائی میں جلدی کرتے ہیں اور اس کیلئے سبقت لے چکے۔ ہم کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ مکلف نہیں بناتے۔ اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کیساتھ بولتی ہے اور ان پر ظلم نہ ہوگا بلکہ انکے دل اس (کتاب) سے غفلت میں ہیں اور ان کے اعمال ہیں اسکے علاوہ جس کیلئے (بیرونی آقا) یہ عمل کرتے ہیں۔ یہاں تک جب ہم انکے خوشحال لوگوں کو پکڑیں گے تویہ حق کو جاری کرینگے۔ آج اجراء نہ کرو بیشک تم نے ہماری مدد نہ کی۔ جب تمہارے سامنے میری آیات پڑھی جاتیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاتے تھے۔ (المؤمنوں:آیت54تا66)
آیات کی بڑی زبردست تفسیر
قرآن میں ہر چیز کا ذکر ہے بلکہ اس کی وضاحت کردی ہے۔ سائنسی علوم کو سائنسدان قرآن کے آئینہ میں سمجھ سکتا ہے لیکن ابن تیمیہ سے متاثر ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں قرآن سے قرآن کی تفسیر کرنے کی جگہ اسرائیلیات کو درج کردیاہے۔
عبداللہ بن عباس نے فرمایا:” قرآن کی تفسیر زمانہ کرے گا” تو سائنسی ترقی کا تعلق بھی زمانے کیساتھ ہی ہے۔ قرآن کا ترجمہ غلط ہوگا تو تفسیر درست کیسے ہوسکے گی؟۔اللہ نے فرمایا : وانزلنا الحدید ” اور ہم نے لوہے کو اتارا”۔ ترجمہ کیا جائے کہ” ہم نے لوہے کے کان بنائے” اور پھر سائنس بتائے کہ لوہا مختلف اوقات میں زمین کے اندر باہر سے آیا ہے تو غلط ترجمے کا قصوربھی غلط ترجمہ کرنے والے کے کھاتے میں ڈالیں گے۔
سورہ مؤمنون کی آیت
لانکلف اللہ نفسًا الا وسعھا
”ہم کسی جان کو اس کی وسعت سے زیادہ مکلف نہیں بناتے”۔ کا ترجمہ جاویداحمد غامدی یہ کریگاکہ ” حقیقت یہ ہے کہ ہم کسی پر اسکی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے”۔ تو نتیجہ کا نکلے گا؟۔
جاویداحمد غامد کہتا ہے کہ اسرائیل کو خدا نے موقع دیا ہے اور غزہ والوں پر مظالم کی انتہا ان کی طاقت سے زیادہ نہیں۔ شہداء کربلا کیساتھ ٹھیک ہوا ، حسین کو سبق سکھانے کیلئے اللہ نے یزید کو مسلط کردیا تھا۔اللہ نہ کسی پر ظلم کرتا ہے اور نہ طاقت سے زیادہ کسی پر بوجھ ڈالتا ہے۔ خدا نے ابھی فیصلہ کیا ہے کہ نوح کے بیٹے یافث کے پاس قیامت تک اقتدار رہے گا۔ مسلمان اپنی باری گزار چکے ہیں”۔ جاوید غامدی نے جیسے گیس ویلڈر کی طرح زبان میں کٹر اٹھایا ہو اور سب چیزوں کو کاٹتا ہے لیکن جب حقائق سمجھ میں آجائیں گے تو بات سمجھ میں آئے گی کہ غلط جگہ پنگا لیا ہے۔ پھر اس کو بدبودار پھوسی اور گیس سلنڈر کے کلر کی آگ اپنے نیچے کی طرح سے دماغ میں اٹھتی نظر آئے گی۔
جب قرآن کے الفاظ کا ترجمہ غلط ہوگا تو تفسیر کہاں سے پھر درست ہوسکتی ہے۔ جب ترجمہ درست ہوگا تو سومیا ہندو کے کردار کو جاویداحمد غامدی کے مقابلے میں ساری دنیا سراہے گی کہ اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرنے سے انسانیت پکڑسے بچے گی۔ ملا جیون اپنی بیوی سے لڑا تو اورنگزیب بادشاہ سے مدد کیلئے ایک پلاٹون فوج طلب کرلی۔ جب اپنے گھر، اپنی جان کی دسترس اور اپنے عہدے کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پکڑ ہوگی۔ سومیا ہندو لڑکی نے قرآن کو نہیں پڑھا لیکن اس کی فطرت کو مذہبی طبقات نے مسخ نہیں کیا ہے جیسے رسول اللہ ۖ نے یہودونصاریٰ کے بارے میں فرمایا اور آج مسلمانوں کی اکثریت انکے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ ایمان کا تعلق کسی خاص مذہب سے نہیں ہے۔
فرعون کی قوم کے مؤمن نے ایمان کو چھپا رکھا تھا۔ غامدی قرآن کی معنوی تحریف اور اپنی فطرت مسخ کر چکاہے۔
ان الذین اٰمنوا والذین ھادوا و النصارٰی و الصابئین من اٰمن باللہ والیوم الاٰخر و عمل صالحًا فلھم اجرھم عند ربھم ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون
” بیشک جو لوگ مسلمان ہیں ، جو یہودی اور عیسائی ہیں اور صابئین ہیں۔ جو اللہ پر ایمان لائے اور آخرت کے دن پر اور درست عمل کرے تو اس کیلئے اجر ہے انکے رب کے پاس اور ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غم کھائیں گے”۔ البقرہ62
مسلمان، یہودی اور عیسائی میں ابراہم اکارڈ کے طبقات کو شامل کیا گیا ہے۔ صابئین میں ہندو اور تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔ رسول اللہ ۖ پر مشرکین عرب نے صابی کا الزام لگایا اور وہ بد فطرت لوگ سلیم الفطرت ہندؤوں سے نفرت کے شکار تھے۔ غامدی عرب قبیلہ ہے اور جاوید غامدی جھوٹ سے غامدی ہے لیکن ہندو کو جزیرہ عرب سے نکال رہاہے۔ یہ یونہی نہیں ہے بلکہ ایک بڑے ایجنڈے میں ملوث لگ رہاہے۔ اور شیعہ وایران سے نفرت اور قادیانیوں سے محبت کرتا ہے۔ جس میں صرف مذہبی طبقات کے اندر اپنی کوئی جگہ بنانا ہے۔
وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقًا لما بین یدیہ من الکتاب و مھیمنًا علیہ فاحکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھواء ھم عما جاء ک من الحق لکلٍ جعلنا منکم شرعة و منھاجًا ولو شاء اللہ لجعلکم امةً واحدةً و لٰکن لیبلوکم فی مااٰتاکم فاستبقوا الخیرات الی اللہ مرجعکم جمیعًا فینبئکم بما کنتم فیہ تختلفونO(المائدہ:48)
”اورہم تیری طرف کتاب اتاری حق کیساتھ تصدیق کرتی ہے جو اسکے ہاتھ میں ہے کتاب میں سے اور اس پر نگہبان۔ پس فیصلہ کرو جو آپکے پاس حق آیا ۔ ہر ایک کیلئے الگ الگ شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک امت بنادیتا۔لیکن اللہ تمہیں آزماتا ہے جو تمہیں اللہ نے دیا ہے۔پس نیکیوںمیں ایکدوسرے سے سبقت لے جاؤ۔ تم سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے تو وہ تمہارے اختلاف تمہیں تنبیہ کرتا ہے” ۔
جب روس نے غریبوں کا خیال رکھا تو سپر طاقت بن گیا اور جب امریکہ نے غلامی پر پابندی لگائی تو امریکہ سپر طاقت بن گیا۔ قوم یا افراد کی حیثیت سے بلکہ تفریق مذاہب جو انسانیت کیلئے سبقت لے جائیگا تو امامت کے منصب پر فائز ہوگا۔
سبق پھر پڑھ شجاعت کا صداقت کا عدالت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
غامدی سمجھتا ہے کہ طاقتور کی گانڈ میں گھس جانا اللہ کا حکم ہے اور سومیا نے فطرت کی بہترین شاہکار کا کردار ادا کردیا ہے اور مسلمان ہر نیکی میں تعاون ، برائی میں عدم تعاون کریں۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ