قاضی شریح کا بڑاکردار؟10مئی ماؤں کادن عورت مارچ شیما کرمانی
مئی 14, 2026
شیما کرمانی کو پولیس نے گرفتار چند گھنٹے بعد رہا کیا۔ کراچی پریس کلب میںسندھ حکومت کوذمہ دار قرار دیا جومائیں بچوں سے محروم کی گئیں اگر خواجہ سراؤں کی جگہ ان کو بلایا جاتا تو یہ نمائش نہیں تحریک کو سندھ اور پاکستان سے زبردست پذیرائی ملتی۔اصل ذمہ دار قاضی شریح تھا
قاضی شریح نبیۖ کی حیات میں مشہور تھا مگر آیا نہیں پھر حضرت عمر کے دور سے عبدالملک بن مروان تک عدالت میں اپنی موت80ھ سے ایک سال پہلے تک قاضی القضاة رہا۔
ساس اور بہو کے درمیان قاضی شریح کا ایک فیصلہ یہ ہے:
پہلے ساس اپنا مقدمہ اشعار میں پیش کرکے کہتی ہے کہ
أبا امیة أتیناک وانت المرء نأتیہ
أتاک ابنی واماہ و کلتانا نفدیہ
ثم تزوجت فھاتیہ و لایذہب بک التیہ
فلو کنت تأیمت لما نازعتکم فیہ
الا ایھا القاضی فھذہ قصتی فیہ
ابوامیہ! ہم تیرے پا س لائے ،آپ آدمی ہو ہم لاتے ہیں میرا لڑکا(پوتا) اور اسکی ماں تیرے پاس آئے ۔ ہم دونوں اس پر فداء ہیں۔ (بہوسے ) پھر جب تم نے دوسری شادی کرلی تو لڑکا مجھے دیدو۔ زبردستی مت کرو بیوہ ہوجانے کے بعد ،تم اس کے بارے میں مجھ سے کیوں جھگڑا کرتی ہو۔(قاضی سے ) قاضی صاحب لڑکے کے بارے میں دونوں کا قصہ یہ ہے”۔
پھر بہو نے اپنا مقدمہ جواب میں یوں پیش کیا۔
یا ایھا القاضی قد قالت لک الجدہ
مقالًا فاستمع منی ولا تنظر فی ردہ
أعزی النفس عن ابنی وکبدی حملت کبدہ
فلما کان فی حجری یتیمًا ضائعًًا وحدہ
تزوجت رجاء الخیر من یکفینی فقدہ
ومن یکفل لی رفدہ ومن یظھر لی وحدہ
اے قاضی !دادی نے جو کہاوہ آپ نے سنا ،اب آپ مجھ سے سن لو،اسے ٹھکراؤ نہیں۔ میں تسلی دیتی ہوں دل کو اپنے بیٹے سے۔میں نے اسے ہمیشہ اپنے کلیجے سے لگائے رکھا پھر مجھے تنہائی کی وجہ سے یتیم کو ضائع ہونے کا خطرہ تھا۔اسلئے میں نے اس کی بھلائی اور نگہداشت کی خاطر ایسے شخص سے شادی کی جو اس کو ضائع نہیں ہونے دے اور اس کی کفالت کرسکے”۔
قاضی شریح نے بھی نظم میں اس کا فیصلہ دیا۔
قد فھم القاضی ما قلتما وقضا ثم فصل
بقضاء بین بینکما وعلی القاضی جھدًا ان عقل
قال للجدہ بینی بالصبی وخذ ی ابنک من ذات العلل
انھا لو صبت کان لہاقبل دعواھا تبغیھا البدل
ترجمہ:” تم دونوں نے جو کہا ،قاضی نے وہ سمجھا اور دونوں میں ایک واضح فیصلہ کر دیا، اگر قاضی سمجھدار ہے تو اس پر کوشش کرنا فرض ہے پھر دادی سے کہا کہ لڑکے کو اس حیلہ ساز سے لیکر الگ ہوجا،اگروہ نکاح نہ کرتی تو پھربچہ اسکے پاس رہتا” ۔
پھول بچے چھن کر کلی کھلنے سے پہلے ماؤں کے گود اجڑ تے ہیں۔ ممتا اور بچے کے درمیان برزخ کا جہنم کھڑا کردیا جاتا ہے ان ساری معاشرتی محرومیوں کا گناہ قاضی شریح کے سر ہے۔ خطبۂ جمعہ: تم پر میری سنت اور میرے خلفاء کی سنت لازم ہے۔ ابوبکر کی وفات پر علی نے بیوہ سے شادی کرلی اور چھوٹا بچہ محمد بن ابی بکر خاتون نے اپنے ساتھ رکھا اور علی نے پرورش کردی۔
قرآن نے غلام کا اسٹیٹس تبدیل کیا اور انسان کو اللہ کا عبد (غلام) قرار دیا، جانور کی سی ملکیت ختم کردی اور یہ واضح کیا:
والوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین لمن ارادان یتم الرضاعة وعلی المولودلہ رزقھن و کسوتھن بالمعروف لا تکلف نفس الا وسعھا لاتضار والدة بولدہا ولا مولود لہ بولدہ و علی الوارث مثل ذٰلک فان ارادافصالًا عن تراضٍ منھما و تشاورٍ فلا جناح علیھما و ان اردتم ان تسترضعوااولادکم فلا جناح علیکم اذا سلّمتم ما اتیتم بالمعروف واتقوااللہ واعلموا ان اللہ بما تعملون بصیرO (سورہ البقرة:آیت:233)
ترجمہ:” اور مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں۔یہ حکم اس کیلئے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے۔اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑے معروف طریقے سے بچے کے باپ پر فرض ہے۔ کسی پر اس کی وسعت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالی جاسکتی۔نہ ماں کو اسکے بچے کی بنیاد پر ضرر پہنچائی جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کے سبب۔ اور ان کے وارثوں پر بھی یہی حکم عائد ہوتا ہے۔ پھر اگر آپس کی مرضی سے دونوں اور مشاورت سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ پھر اگر تم اپنی اولاد کو کسی رضائت کا دودھ پلانا چاہتے ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں جب تم معروف طریقے سے جو معاوضہ دینا چاہو وہ طے کرلو۔ اور اللہ سے ڈرو اور بیشک جان لو کہ جو تم کرتے ہو ،اللہ تمہیں دیکھتا ہے”۔
ابوامیہ قاضی شریح نے معاشرتی، عدالتی اوراخلاقیات کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ امت کو سامری کے سازو سوز کے پیچھے لگادیا۔
والمطلقٰت یتربصن بانفسھم ثلاثة قروء ولایحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ والیوم الاٰخر و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا و لھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجة واللہ عزیز حکیمO(سورہ البقرہ:آیت:228)
” اورطلاق والی عورتیں تین ادوارتک اپنی جانوں کو انتظار میں رکھیں۔ اور ان کیلئے حلال نہیں کہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا ہے کہ اس کو چھپائیں۔ اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں۔ اور ان کے شوہر اس میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اگر وہ اصلاح چاہیں۔اور ان عورتوں کیلئے بھی وہی حقوق ہیں معروف طریقے سے جیسا کہ ان پر ان کے شوہروں کے ہیں۔ مردوں کیلئے ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ زبردست غلبے والا بہت حکمت والا ہے”۔
آج پاکستان ، امریکہ، روس، چین، بھارت اور دنیا بھر کی عدالتوں کا قانون ہے کہ میاں بیوی میں جدائی کیلئے ایک مدت تک صلح و صفائی کا موقع دینا ضروری ہے لیکن قاضی شریح نے یہودیت اور جاہلیت کی کوکھ سے طلاق مغلظ اور طلاق بائن کے مذہبی اصطلاحات نکال کر قرآن و سنت کے بالکل منافی صلح کی گنجائش ختم کردی اور آج تک یہودکی طرح ہمارا معاشرتی نظام تباہ اور عورتیں حلالہ کے نام پر چدھ رہی ہیں۔اللہ معذور بچہ اور ذہنی مریض نہیں کہ ایک آیت میں کچھ دوسری میں کچھ بکے!۔
الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ولایحل لکم ان تأخذوا مما اٰتیمتوھن شیئًا الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ تلک حدوداللہ فلا تعتدوھا و من یتعد حدود اللہ فاو لٰئک ھم الظالمونO(سورہ البقرہ:آیت:229)
ترجمہ: ” طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ واپس لے لوجو کچھ بھی ان کو دیا ہے مگر جب دونوں کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔پس اگر تمہیں ڈر ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو پھر دونوں پر کوئی گناہ نہیںہے عورت کی طرف سے وہ چیز فدا کرنے میں۔ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں”۔
آیت228البقرہ عدت کے تین ادوار اور معروف کی شرط پر صلح واضح ہے۔ اس آیت میں دونوں صورتوں کی تفصیل ہے۔ دومرتبہ طلاق کے بعد تیسری میں معروف کی شرط یعنی دونوں کی رضامندی سے صلح کا فیصلہ ہوگا تو بھی ٹھیک ہے اور اگر جدائی کا فیصلہ کیا تو اس کی پوری تفصیل ہے ۔ جس میں عورت کے مالی حقوق کا تحفظ ہے ۔اور شوہر کی طرف دی ہوئی چیز واپس کرنے کا جواز اس وقت ہے کہ جب وہ دونوں اور فیصلہ کرنے والے سمجھیں کہ دونوں حدود کو توڑ سکتے ہیں تو پھر وہ چیز عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں ان دونوں پر کوئی حرج نہیں۔ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو آیت230کا حکم ہے جس کا اطلاق بہر صورت ہوتا ہے جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو لیکن اگر عورت رجوع پر راضی ہو تو معروف رجوع کی اجازت تو آیت231اور232البقرہ اور سورہ طلاق میں بھی بالکل واضح ہے۔
قاضح شریح نے عورت کے حقوق کابیڑہ غرق کیا۔ پاکستان میں عائلی عدالت ایکٹ1964ء نافذ ہے۔ مگر پہلی بار جسٹس عائشہ ملک نے تاریخ ساز فیصلہ دیااور حلالہ کی لعنت کو خلاف قانون و خلاف شریعت قرار دیا۔ ہندوستان احمد آباد میں مفتی عتیق الرحمن عثمانی کی زیر صدارت1972ء میں آل انڈیامسلم مجلس مشاروت کے زیر اہتمام سیمنار میں دیوبندی ، جماعت اسلامی ، بریلوی اور اہل حدیث کے علماء نے حلالہ کی لعنت ختم کرنے کیلئے مقالے پیش کئے۔ جو لاہور سے کتابی صورت میں شائع بھی ہے اور اس میں پیر کرم شاہ الازہری کا رسالہ دعوت فکر بھی شامل کیا گیا ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے بندہ قتل کیا۔ شادی کی، وحی ، معجزہ، خضر اورفرعون کا معاملہ دیکھا اور اعتدال آیا۔ غزالی علم کے بعد صوفی بنا اوراعتدال کھوبیٹھا۔ ابن تیمیہ فاطر العقل تھا۔شیخ الہندگنگوہی سے علم اور ناناتوی سے تصوف میں بیعت ہوتا تو یہ احساس نہ ہوتا کہ فرقہ پرستی اور قرآن سے دوری ہے۔ میں نے جوانی صحیح کھپائی ہے قرآن ، حدیث، فقہ ، اصول فقہ ، تصوف ، عربی میں:
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
یا ایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن وا حصوا العدة و اتقواللہ ربکم لاتخرجوھن من بیوتھن ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشةٍ مبینةٍ و تلک حدود اللہ ومن یتعد حدوداللہ فقد ظلم نفسہ لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذٰلک امرًاOفاذابلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او فارقوھن بعروفٍ واشھدوا ذوی عدلٍ منکم واقیموا الشہادة للہ ذٰلکم یوعظ بہ من کان یؤمن باللہ و الیوم الاٰخر ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجًاO
ترجمہ ” اے نبی! جب تم لوگ عورت کو طلاق دو تو پھر ان کی عدت تک کیلئے طلاق دو۔ اور عدت کو شمار کرکے پورا کرو۔ ان کو ان کے گھروں سے مت نکالو اور نہ وہ خود نکلیں۔ مگر یہ کہ وہ کھلی ہوئی فحاشی کا ارتکاب کریں۔ اور یہ اللہ کی حدود ہیں اور ان سے تجاوز مت کرو اور جس نے اس کی حدود سے تجاوز کیا تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا ۔ آپ کو خبر نہیں کہ اللہ ان میں کوئی نئی بات پیدا کردے۔ پس جب وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو معروف طریقے سے روک لو یا معروف طریقے سے الگ کردو اور اپنے میں سے دو عادل گواہ بھی بنادو اور گواہی اللہ کیلئے قائم کرو۔یہ تمہیں اس کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔اور جو اللہ سے ڈرا تو اللہ اس کیلئے نکلنے کی راہ بنادے گا”۔ (سورہ الطلاق )
رکانہ کے والد نے رکانہ کی ماں کو سورہ طلاق کے مطابق مرحلہ وار تین طلاقیں دیں۔ عدت کے اختتام پر رجوع کے بجائے معروف کیساتھ الگ کردیا ۔ دو عادل گواہ بھی بنادئیے۔ پھر دوسری عورت سے شادی کرلی۔ دوسری نے کہا کہ نامرد ہے جس پر نبیۖ نے فرمایا کہ اس کے بچے کس قدر اسکے مشابہ ہیں؟۔ اور اس عورت کیلئے طلاق کا فیصلہ کیا۔پھر فرمایا کہ ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرلیتا؟۔ انہوں نے کہاکہ وہ تین طلاق دے چکا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے اورسورہ طلاق کی یہ آیات تلاوت فرمائیں۔ (ابوداؤد شریف)
ابوداؤد کی اس حدیث میں سورہ طلاق کی ان آیات کی بہت بہترین تفسیر ہے۔ ابوداؤد اور بخاری دونوں امام احمد بن حنبل کے شاگرد تھے۔ ابوداؤد نے امام احمد بن حنبل کے مسلک کو بھی قبول کیا تھا اور امام احمد بن حنبل پر کوڑے برسانے والاحکمران معتزلی تھا۔ پھر اس کے بعد والا بنوعباس کا حکمران معتزلی کے خلاف ہوا اور امام شافعی کے مسلک کو سرکاری سطح پر نافذ کردیا۔
اسماعیل بخاری نے اپنی کتاب میں باب من اجاز الطلاق الثلاث میں اکٹھی تین طلاق کے مسئلے میں نہ صرف یہ کہ امام شافعی کے مسلک کو سپورٹ کیا ہے بلکہ مدعی سست گواہ چست اور شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہونے کا ثبوت بھی دیا ہے اور قرآن کی آیت بھی ایک معذور بچے اور عقل سے پیدل شخص کی طرح سیاق وسباق کے بالکل منافی نقل کردیا ہے۔
امام شافعی کے نزدیک اکٹھی تین طلاق کے جواز کیلئے ایک ہی حدیث ہے کہ لعان کے بعد عویمر عجلانی نے تین طلاق دی اور اس کے علاوہ نہ کوئی آیت ہے اور نہ ہی کوئی حدیث ہے۔ محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان کی کشف الباری اور مفسر العصر علامہ غلام رسول سعیدی کی نعم الباری میں بالکل واضح ہے۔
سورہ الطلاق میں فحاشی کی صورت میں لعان کے بعد عویمر عجلانی کا تین طلاق دینا متوقع تھا اور اس کی وجہ سے اکٹھی تین طلاق کو مباح، جائز اور سنت قرار دینا حنفی اور شافعی مسلک میں بنتا نہیں لیکن رافضیت کے فتویٰ سے بچنے کیلئے شاید امام شافعی نے بطور ہتھیار استعمال کیا۔ کشمیری نے فیض الباری میں لکھا کہ شاید یہ طلاق بھی الگ الگ مرتبہ میں دی ہو ۔
جبکہ بخاری میں اکٹھی تین طلاق کے ضمن میں رفاعة القرظی کی بیوی والی روایت بخاری کی اپنی روایات کے خلاف ہے۔ اور اس میں اتنی جان نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے فتویٰ دیا جائے کہ قرآن میں بار بار عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف کی شرط پر جو گنجائش ہے وہ سب ختم ہوجاتی ہیں۔ بلکہ یہ شافعی مسلک کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتی ہے اور جو عویمر عجلانی کے لعان والی روایت پوری اترتی ہے تو اس سے قرآن کی آیات پر بلڈوزر پھیرنا بہت بڑی حماقت ہے۔
جہاں تک حضرت عمر کی طرف تین طلاق پر عورت کے حق میں فیصلہ دینے کی بات ہے یا پھر حضرت علی کی طرف سے لفظ حرام پر عورت کے حق میں فیصلہ دینے کی بات ہے تو وہ قرآن کے عین مطابق ہے اسلئے کہ عورت طلاق یا طلاق کے کسی لفظ کے بعد رجوع پر راضی نہ ہو تو قرآن نے معروف کی شرط پر ہی شوہر کو رجوع کا حق دیا ہے۔ عورت راضی نہ ہو تو رجوع کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا ہے۔ حضرت عمر کے فیصلے کو طلاق مغلظ قرار دینا اور حضرت علی کے فیصلے کو طلاق بائن قرار دینا یہودیت کے نقش قدم پر چلنا ہے جو قاضی شریح جیسے لوگوں نے کردار ادا کیا اور آج تک امت مسلمہ اس کی سخت ترین سزا بھگت رہی ہے۔
جب رسول اللہۖ نے ایلاء کیا اور ایک ماہ کے اندر ایلاء سے رجوع کیا تو اللہ نے فرمایا کہ تمام ازواج مطہرات پر واضح کردو کہ اگر وہ ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہیں تو ان کی مرضی ہے۔ یہ سارا واقعہ صحیح بخاری اور قرآن کی آیت میں موجود ہے تاکہ عورت کا ناراضگی کے بعد اختیار واضح ہوجائے۔ افسوس یہ ہے کہ طلاق کی آیات میں معروف اور اصلاح کی شرط کے باوجود بھی مذہبی طبقات نے قاضی شریح جیسے یہودیت کے پروردہ لوگوں کے بہکاوے میں عورت کا اختیار چھین لیا ہے جس سے قرآن کی ساری آیات کی بوٹیاں بن جاتی ہیں اور تضادات کا مجموعہ بن جاتا ہے۔ مروان بن حکم ، عبدالملک بن مروان اور اسکے بیٹوں نے حضرت عمر اور حضرت علی میں طلاق مغلظ اور طلاق بائن کی تفریق ڈال کر بڑی باریک واردات کی ہے۔
قاضی شریح جیسے لوگوں نے اپنی شیطانی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرکے حضرت عمر کے نام پر حضرت علی کے خلاف ایک محاذ کھڑا کیا کہ حضرت عمر کے موقف کو نہیں مانتا۔ حدیث کو بھی نہیں مانتا اور قرآن کو بھی نہیں مانتا ہے۔ حالانکہ حضر ت عمر اور حضرت علی کے موقف میں کوئی فرق نہیں تھا۔ شیعہ اس بنیاد پر قرآن سے ہٹ گئے کہ عورت کا اختیار بہت وضاحتوں پر بھی قبول نہیں کیا کہ یہ حضرت عمر کا مؤقف ہے اور سنی اسلئے قرآن سے دور ہوگئے کہ صلح کے باوجود بھی صلح کے منکر بن گئے ہیں۔
حجاج بن یوسف دجال نے سعید بن جبیر کی شہادت سے پہلے جو مکالمہ کیا ہے وہ دیکھ لیں۔95ھ میں شہید کردیا۔ جب99ھ سے101ھ تک عمر بن عبدالعزیز نے ممنوعہ احادیث سے پابندی ہٹادی تو حضرت علی کے شاگرد حسن بصری نے سچ بول دیا کہ عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی ، جو مسائل کا حل تھا۔ لیکن پھر یزید اور ہشام اقتدار میں آگئے تو معاملہ بگڑ گیا۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ