پوسٹ تلاش کریں

بنوری ٹاؤن کا فتویٰ مفتی شفیع کے احکام القرآن کا حوالہ:ام المؤمنین عائشہ صدیقہ ، مسلمان خواتین، اورمفتی تقی عثمانی کا گھرانہ زد میں۔دوسرے فتوے کی زد میں مدارس کے بے ریش طلبہ بھی آتے ہیں

بنوری ٹاؤن کا فتویٰ مفتی شفیع کے احکام القرآن کا حوالہ:ام المؤمنین عائشہ صدیقہ ، مسلمان خواتین، اورمفتی تقی عثمانی کا گھرانہ زد میں۔دوسرے فتوے کی زد میں مدارس کے بے ریش طلبہ بھی آتے ہیں اخبار: نوشتہ دیوار

پردہ اور مسئلہ طلاق غلط پیش کرنے سے اسلام اور مسلمانوں کو مذہبی طبقہ مجروح کردیتا ہے

بنوری ٹاؤن کراچی کافتویٰ

کیا فلسطین میں ظلم کے خلاف نکالی جانے والی احتجاجی ریلیوں،جلوسوں میں خواتین کی شرکت جائز ہے؟
سوال : فلسطین کیلئے جو احتجاجی جلوس ہورہے ہیں ،ان میں عورتوں کا جانا جائز ہے اگر پردے کی پابندی کیساتھ جائیں تو؟
جواب : فلسطین کے مسلمانوں پر جو مظالم ہورہے ہیں ،اس پر یقینا ہر مسلمان کا دل غمگین اور افسردہ ہے …
تاہم اس مقصد کیلئے جو احتجاجی جلوس اور ریلیاں نکالی جاتی ہیں ، وہ خواتین کیلئے شرعی یا طبعی ضروریات میں سے نہیں، اسلئے ان میں مسلمان خواتین کا شریک ہونا (خواہ پردے کیساتھ ہی کیوں نہ ہو ) جائز نہیں ہے، خواتین کو چاہیے کہ وہ گھر …

قرآن کریم میں ہے:وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاہلیة الاولی واقمن الصلاة واتین الزکاة واطعن اللہ و رسولہ (الاحزاب:33)
ترجمہ:اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہواور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو اور تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکوة دیا کرو اوراللہ اور اسکے رسول (علیہ السلام) کا کہنا مانو۔بیان القرآن

احکام القرآن للفقیہ المفسرالعلامہ محمد شفیع میں ہے:

”:قولہ تعالی: }وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاہلیة الاولی{۔ فدلت لآیة علی ان الاصل فی حقھن الحجاب بالبیوت و القرار بھا ولکن یستثنی منہ مواضع الضرورة فیکتفی فیھا الحجاب بالبراقع …فعلم أن الحکم الآیة قرارھن فی البیوت الا لمواضع الضرورة الدینیة کا لحج والعمرة بالنص أو الدنیویة… فلا یجوز لھن الخروج من بیوتھن الا عند الضرورة بقدر ضرورة مع اہتمام التستر والاحتجاب کا لاھتمام ۔ وما سوی ذلک فمحظور ممنوع ”

حدیث شریف میں ہے:

” النبی ، قال: المرأة عورة ، فاذا خرجت استتشرفھا الشیطان ۔ھذا حدیث صحیح غریب ۔”

فتاوی شامی میں ہے:

و أبحنا لھا الخروج فبشرط عدم الزینة فی الکل و تغیر الھئة الی ما لا یکون داعیة الی نظر الرجال استمالتھم ( کتاب النکاح ، باب المھر ) فقط واللہ اعلم فتویٰ نمبر:144504100616
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن

تبصرہ : سید عتیق گیلانی

اس فتویٰ میں عورت کو گھر سے نہ نکلنے کیلئے جو دلائل دئیے ہیں تو اس سے زیادہ دلائل جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے بے ریش لڑکوں کیلئے دئیے ہیں:

” ابوہرہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ۖ نے ارشاد فرمایا: کسی امرد پر نظر مت جماؤ۔ حضرت عمر نے فرمایا ”میں کسی عالم پر درندے سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا امرد سے ڈرتاہوں”۔ حضرت ابوسہل نے فرمایا : عنقریب امت میں ایسے لوگ ہوں گے جن کو (بدفعلی کی وجہ سے) لوطی کہا جائے گا اور وہ تین قسم کے ہوں گے۔ ایک جو صرف امرد کو دیکھیںگے۔ دوسری :جو باقاعدہ ہاتھ ملائیںگے۔اور تیسری: جو (العیاذ باللہ)اس کام کو کریں گے۔ اور علامہ شامی فرماتے ہیں کہ عورت کی طرف بد نظری شدید گناہ ہے لیکن امرد کی طرف نظر شہوت اشد گناہ ہے اور ملاعلی قاری فرماتے ہیں کہ امرد کی طرف دیکھنا حرام ہے ، خواہ فتنے سے مامون اور محفوظ ہی کیوں نہ ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

الغلام اذا بلغ الرجال و لم یکن صبیحا فحکمہ حکم الرجال وان کان صبیحا فحکمہ حکم النساء و ھو عورة من فوقہ الی قدمہ .. أقول:وھذا شامل لم من نبت عذارہ،بل بعض الفسقة یفضلہ علی الأمرد خالی العذار…أ حرمة النظر الیہ بشہوة أعظم اثما لأن خشیة الفتنة بہ أعظم منھا ولأنہ لایحل بحال ،بخلاف المرأة کما قالوا فی الزنی و اللواطة ، و لذا بالغ السلف فی الننفیر منھم و سموھم الأنتان لاستقدارھم شرعا

فتویٰ:144501101254دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ سید محمد یوسف بنوری ٹاؤن

ڈاکٹر فیض احمد چشتی بریلوی مکتب نے بہت لکھا:

کسی نوجوان لڑکی یا بے ریش لڑکے کو شہوت کیساتھ دیکھنا یا ہاتھ ملانا ناجائز و حرام ہے بلکہ اگر شہوت کا گمان یا شک ہو تو بھی دیکھنا جائز نہیں اور احتیاط یہ ہے کہ ان کی طرف بالکل نہ دیکھا جائے۔ ہاتھ ملانا اور چھونا تو بہر حال نا جائز ہے۔ وہ حضرات جو بے ریش خوبصورت بچوں کے نام پر تکتے اور نوٹ نچاور کرتے ہیں یا پھر کسی کا گدی نشین بناکر بٹھاتے اور چوما چاٹی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے : ترجمہ ” مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں ”۔( النور:30)

عبداللہ بن مبارک نے فرمایا : ایک دفعہ سفیان ثوری حمام میںداخل ہوئے تو ساتھ میں خوبصورت لڑکا داخل ہوا حضرت سفیان نے فرمایا : اسے نکالو! میں ہر عورت کیساتھ ایک شیطان اورہر لڑکے کیساتھ10سے زیادہ شیاطین کودیکھتا ہوں۔ (شعب الایمان:5014ذم الہویٰ لابن جوزی)

بہت واقعات اور احکام نقل کئے مگر یہ بھی نقل کیا کہ … الا من اجنبیة فلایحل مس وجہا و کفہا وان امن الشہوة لانہ اغلظ و لذا ثبت بہ حرمة المصاہرة وھذا فی شابة…اھ۔
”مگر یہ اجنبی عورت سے تو حلال نہیں اس کا چہرہ چھونا اور ہاتھ چھونا ،اگر چہ شہوت سے مامون ہو بیشک وہ زیادہ سخت ہے اسلئے کہ اس سے حرمة مصاہرت ہوتی ہے مگر جوان لڑکی ہو”۔(چشتی)

بنوری ٹاؤن نے فتاویٰ شامی سے لڑکے کو لڑکی سے زیادہ خطرناک قرار دیا مگر چشتی نے جوان لڑکی کو حرمت مصاہرت کی وجہ سے زیادہ خطرناک قرار دیاکیونکہ بچی کیساتھ شہوت پر حرمت مصاہرت قائم نہیں اور نہ حد جاری ہوتی مگر نکاح ہوجاتا ہے۔ مصاہرت کے مسائل سے ہوش اڑ جائیں مگر علماء ومفتیان کو فرق نہیں پڑتا ۔ جب لڑکوں کا حکم عورتوں کا ہے تو پھر ان کے درمیان فرق کیوں ہے؟۔ اللہ نے عورتوں کو حکم دیا ہے اور لڑکوں کو نہیں تو اس کی کیا وجوہات ہیں؟۔مولانا احمد رضا خان1856ء کو پید ا،1869ء کو13سال کی عمر میںعالم بن گئے اور والد نے فتویٰ نویسی کا کام سپرد کیا۔ انکے ابتداء شباب میں والد کا انتقال ہوگیا ۔ فتاویٰ کی کتب میں لڑکے کی عمر بلوغت کیلئے کم ازکم12سال ہے جس میں عورتوں سے پردہ نہیں اور مولانا احمد رضا خان بریلوی کے بچپن کا مشہور واقعہ ہے کہ عورتیں نظر آئیں تو شلوار نہیں پہنی ہوئی تھی اور قمیص سے اپنا منہ چھپالیا جس سے نیچے کے اوزار دکھ گئے اور عورتیں یہ دیکھ بہت ہنسیں تھیں۔

مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی کے سارے گھر کی خواتین نے دنیا بھر کی سیر کی ہے تو مفتی شفیع کے احکام القرآن کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا ؟۔ دین کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دینا ہے؟۔

وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاھلیة الاولی و اقمن الصلوٰة و اٰتین الزکوٰة…الاحزاب33

”اورگھروں میں سکون سے رہو اور اپنے سینے کی نمائش نہ کرو پہلی جاہلیت کی طرح۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰة دو”۔

رسول اللہ ۖ ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے ادوار میں اور بعد میں بھی اس وقت خواتین مسجدوں میں نماز باجماعت ادا کرتی تھیں۔ آج بھی مسلمانوں کے سب سے بڑے مرکز مکہ میں خواتین پنج وقتہ نماز ، طواف اور صفا و مروہ کی سعی ایک ساتھ مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ ادا کرتے ہیں۔ جس سے یہ مراد لینا کہ عورتیں گھروں میں رہیں ایک بڑی جہالت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جبکہ دوسری آیت میں مخصوص عورتوں کیلئے کپڑے اتارنے کے ساتھ غیر متبرجات بزینة سے کوئی ابہام بھی نہیں رہتا کہ جاہلیت کے تبرج سے قرآن میں کیا مراد ہے۔

مدارس میں بے ریش طلبہ کی کثرت ہے۔ ابن جوزی نے اسلاف کے حوالے سے جو لکھا ہے اس کو نیٹ پر ڈاکٹر فیض احمد چشتی کی تحریر میں مکمل طور پر دیکھ لیں۔ لڑکوں کے زیادہ خطرناک ہونے کے باوجود مدارس میں کیوں رکھتے ہیں؟۔

فتاوی شامی میں ہے:

” و أبحنا لھا الخروج فبشرط عدم الزینة ” اور نے عورت کو اجازت دی ہے عدم زینت کے اظہار کی شرط پر”۔ حالانکہ مفتی محمد شفیع نے تو اسکے برعکس لکھا: فدلت الآیة علی ان الاصل فی حقھن الحجاب بالبیوت والقرار بھا ” پس آیت دلالت کرتی ہے عورتوں کے حق میں کہ اصل گھر کے اندر حجاب اورقرار پکڑنا ہے”۔

جس آیت سے علامہ شامی نے استدلال لیا ہے تو اس میں عدم زینت کی قید

فلیس علھین جناح ان یضعن ثیابھن غیر متبرجاتٍ بزینةٍ

” توان پر کوئی گناہ نہیں کہ کپڑے اتاریں زینت کی نمائش کے بغیر”۔ جس سے حسن النساء مراد ہیں۔ اور جس سے مفتی شفیع نے استدلال لیا ہے تو اس میں تو واضح طورپر حسن النساء کی نمائش کو منع کیا گیا ہے۔

قال شامی ابحنالہا و قلت لقد نبحتم

” شامی کہتا ہے کہ ہم نے اس کیلئے مباح کردیا ہے اور میں کہتاہوں کہ بیشک تم نے بھونکا ہے”۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں واضح طور پر واضح کرتا ہے کہ عدت کے اندر بھی معروف کی شرط پر طلاق سے رجوع کی اجازت ہے اور عدت کی تکمیل کے بعد بھی اور اسلام کا ستیاناس کرکے یہ بکواس کرتے ہیں کہ اگر آدھے سے زیادہ بچے مولوی کی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی پھدی سے نکل گیا تو پھررجوع جائز نہیں اور آدھے سے کم نکلا ہو تو پھر جائز ہے اور آدھے آدھ ہو تو پھر ایک اور علامہ شامی اور قاضی خان بناؤ جو مسئلہ حل کردے۔ فتاویٰ تاتار خانیہ میں ہے کہ

٧٩١٢:و فی الخانیة قال رجل لامرتہ : ان لم یکن فرجی احسن من فرجک فانت طالق ، وقالت المرأة: وان لم یکن فرج احسن من فرجک فجاریتی حرة ، قال الشیخ الامام ابوبکر محمد بن فضل: ان کانا قائمین عندالمقالة برت المرأة و حنث الزوج ، ولون کان قائدین برالزوج و حنث المرأة لان فرجھا احسن من فرج زوج ، والامر علیالعکس فی حالة القعود ، وان کان رجل قائما والمرأة قاعدة قال الفقیہ ابوجعفر : لا اعلم ماھذا…

فتاویٰ خانیہ میں ہے کہ۔۔۔۔

ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تیری شرمگاہ میری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو تو تجھے طلاق ہے۔اور عورت نے کہا کہ اگر میری شرمگاہ تیری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو تو میری لونڈی آزاد ہے۔شیخ امام ابوبکر محمد بن فضل نے کہا کہ اگر دونوں بات کرتے وقت کھڑے ہوں تو پھر مرد حانث ہوگیا اور طلاق پڑگئی۔ اور اگر دونوں بیٹھے ہوں تو مرد بری ہوا طلاق نہیں پڑی اور عورت حانث ہوگئی اس کی لونڈی آزاد ہوگئی۔ اسلئے کہ کھڑے ہونے کی صورت میں عورت کی دہلی زیادہ خوبصورت ہے مرد کے کابل خان سے۔ اور بیٹھنے کی صورت میں مرد کا الٹا بانس بریلوی زیادہ خوبصورت ہے عورت کی دیوبند سے۔ اور اگر مرد کھڑا ہو اور عورت بیٹھی ہوئی ہو تو فقیہ ابوجعفر نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں کہ پھر کیا ہوگا؟۔

الفتاوی تاتارخانیہ : شائع کردہ : مکتبہ رشیدیہ سرکی روڈ کوئٹہ

دارالعلوم کراچی کے مفتی تقی عثمانی اورمفتی رفیع عثمانی نے کراچی اور حیدر آباد کے کوؤں کو حلال قرار دیا ۔ پنجاب میں کچھ دیوبندی علماء کو پتہ چلا کہ کوا حلال ہے تو سرعام کھانے لگے اور طالبان مجاہد بن گئے ۔اگر شادی بیاہ کی رسم میں لفافے کی لین دین کو سود قرار دیا تھا اور70سے زائد گناہوں میں سے کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زناکے برابر قرار دیا تھا اور پھر اس نے عالمی سودی بینکاری کو اسلامی قرار دیا۔ اگر اسی جذبہ ایمانی کے تحت آرمی چیف فیلڈمارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف مفتی تقی عثمانی اور اس کی بیگم سے کہیں کہ کھڑے ہونے اور بیٹھنے کی حالت میں اپنی ٹانگوں کے درمیان عالم برزخ کا نظارہ دکھائیں تو اس حقیقت کا پتہ چل جائے کہ فتاویٰ میں ان فقہاء نے بکواس لکھ دیا ہے یا واقعی خوبصورتی پر فرق پڑتا ہے؟۔

ایران ، امریکہ ، اسرائیل اور سعودی عرب جنگ میں بہت محنت کرنی پڑی اور کامیابی بھی مل گئی لیکن افغانستان سے جنگ بندی میں بہت صبر آزما مشکلات کے باوجود بھی کامیابی نہیں ملی اور اگر اس طرح کے مسائل کو اجاگر کیا گیا تو افغان طالبان کی ہوا بھی خارج ہوجائے گی اور قیامت تک افغانی قوم پاکستان کے بھی شکر گزار ہوں گے اور فتنہ ہندوستان بریلوی دیوبندی کو بھارت میں بھی ہدایت مل جائے گی اور فرقہ واریت سے باز آجائیں گے۔ جب عمران خان لاڈلہ تھا اور اس وقت اس کی بیوی ریحام خان تھی تو ہم نے کتاب میں دونوں کی تصویر کے ساتھ یہ مسئلہ واضح کیا تھا اور سوچا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ عمران خان جرأت کرکے اس کو ہائی لائٹ کرے لیکن یہ مفتی تقی عثمانی کے ذریعے دنیا تک پہنچے تو شاید امت مسلمہ کی جان چھوٹے۔

اگر مسلمان کو یہ پتہ چل جائے گا کہ قرآن میں آیات سے مراد یہ نہیں ہے جو سعودی عرب، ایران اور افغانستان نے لیا تھا تو پوری دنیا کے مسلمانوں ہی میں نہیں غیر مسلموں میں بھی بڑی خوشی کی لہر دوڑے گی۔
ــــــــــ

سعودیہ نار مع یمنی حار کلام یجعلک نفقد شعورک تانجو لایف موضہ
یوتیوب :(@DID4848RI)

سعودیہ، دوبئی عرب برقعہ پوش برہنہ چھاتی پھرتی ہیں، یوٹیوب پراپنیDNAکے مطابق تبرج الجاہلیة اولیٰ کی لت میںپڑیں۔ آیت سے کیا مرادہے ؟۔ جاہلیت میں10شوہر اور بیشمار سے جنسی تعلق والی تھیں اسلئے قیصر روم نے ابوسفیان سے نبیۖ کی خاندانی شرافت کا پوچھا۔ دشمن کافر نے جھوٹ نہیں بولا تو ہدایت ملی۔ جھوٹ اور حلالہ کا اسلام نے خاتمہ کیا۔ حنفی اصول فقہ میں حلالہ کا جواز نہیں ۔ میری وضاحتوں کے بعد حنفی مفتی مان گئے مگرکچھ مفاد پرست ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ”مفتی محمود کی خواہش پر عالم نہیں بن سکا”۔اسلام کو چھوڑ کر تبرج الجاہلیہ اور حلالہ کی لت کو پھر زندہ کردیا ۔العیاذ باللہ
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کا وحدت کانفرنس سے خطاب اور عتیق گیلانی کا تبصرہ
ہندوستان کے عالم کی تقریر
ایڈیٹر نوشتہ دیوار کا مولانا فضل الرحمن سے سوال