پوسٹ تلاش کریں

ہندوستان کے عالم کی تقریر

ہندوستان کے عالم کی تقریر اخبار: نوشتہ دیوار

اس ویڈیو میںہندوستان کا ایک عالم اپنی تقریر میں کہ رہا ہے کہ ابھی ایک مولانا صاحب کا میں واقعہ پڑھ رہا تھا،

مفتی تقی عثمانی صاحب یا کوئی اور بڑے عالم ہیں

انہوں نے شاید ”تراشے” یا کسی اور کتاب میں، مجھے نام یاد نہیں آ رہا، لکھتے ہیں کہ میں روز سوچتا تھا کہ میں صحابہ کے دور میں پیدا ہوتا۔ میں صحابہ کے دور میں پیدا ہوتا، کاش میں بھی نبی علیہ السلام کے ساتھ ہوتا، ہمیں بھی یہ موقع ملتا۔ کہتے ہیں میں روز یہی سوچتا رہتا تھا، دعا بھی کرتا تھا یا اللہ کاش ہم بھی اس دور میں پیدا ہوتے۔ ایک رات کو خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ نبی علیہ الصلو والسلام ایک گاڑی میں تشریف فرما ہیں اور تمام صحابہ ہیں۔ ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہ)چلا رہے ہیں، میں سب سے پیچھے بیٹھا ہوں، تو ایک چڑھائی چڑھ رہے ہیں تو اچانک کیا ہوا گاڑی خراب ہوئی تو بریک نہیں لگ رہے، گاڑی پیچھے کو جا رہی ہے۔ تو سب سے پچھلا دروازہ کھول کر کہتے ہیں کہ میں بھاگا، میں جوان آدمی تھا۔ میں نے سوچا کہ دس بیس کلو کا کوئی پتھر اٹھا کر لاتا ہوں، گاڑی کے ٹائر کے نیچے دوں گا تاکہ گاڑی رک جائے، نبی علیہ السلام کی حفاظت ہو۔

کہنے لگے میں گیا، جب پتھر اٹھایاخواب بتا رہا اپناکہ جب پتھر اٹھایا، دوڑ کے جب واپس پہنچا، دیکھا گاڑی تو پیچھے آ ہی نہیں رہی، گاڑی تو اپنی جگہ ہی کھڑی ہے۔ تو میں بڑا حیران ہوا کیا گاڑی کو بریک لگ گئے؟ تو جب میں نے دیکھا اندر بھی کوئی نہیں، تو کہتے ہیں جب میں نیچے دیکھتا ہوں، تو جتنے صحابہ گاڑی میں تھے انہوں نے اپنے سر گاڑی کے ٹائروں کے نیچے رکھے ہوئے تھے کہ مبادا یہ گاڑی پیچھے نہیں جانی چاہیے۔تو وہ مولانا فرماتے ہیں میں نے اٹھ کر دو نفل توبہ پڑھے، استغفار کی کہ عشق کے جس مقام پر جن کو رضی اللہ عنہم کا لقب دیا گیا، وہ جس مقام پر ہیں عشق کے، جس انداز سے عشق کرتے تھے، وہ جس انداز سے اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ چلتے تھے، سوچتے تھے، ہم تو ابھی اس کا ایک رتی کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتے۔

تبصرہ:امین اللہ کوئٹہ

سید عتیق الرحمن گیلانی نے بھی ایک خواب دیکھا تھا اور اس میں ایسی جدید قسم کی گاڑی تھی جو پہاڑوں میں چڑھ رہی تھی اور سڑک میں بہت بڑے بڑے گیپ تھے۔اللہ کی قدرت سے وہ گیپ بھی بھر رہی تھی،اس کو پریس بھی کررہی تھی ،اس پر سڑک کی تعمیر کے سارے کام یہاں تک کارپٹ بھی کررہی تھی۔

ہمارے ساتھیوں نے اللہ کے فضل وکرم سے اپنی جان اپنی ہتھیلی پر رکھ کر جس طرح کا کام کیا ہے تو اس پر اللہ کا شکرہے۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
اے شہید ملک و ملت میں ترے اوپر نثار
لے تری ہمت کا چرچا غیر کی محفل میں ہے
وائے قسمت پاؤں کی اے ضعف کچھ چلتی نہیں
کارواں اپنا ابھی تک پہلی ہی منزل میں ہے
رہرو راہ محبت رہ نہ جانا راہ میں
لذت صحرا نوردی دوریٔ منزل میں ہے
شوق سے راہِ محبت کی مصیبت جھیل لے
اک خوشی کا راز پنہاں جادۂ منزل میں ہے
آج پھر مقتل میں قاتل کہہ رہاہے بار بار
آئیں وہ شوق شہادت جن کے دل میں ہے
مرنے والو آؤ اب گردن کٹاؤ شوق سے
یہ غنیمت وقت ہے خنجر کف قاتل میں ہے
مانع اظہار تم کو ہے حیا ہم کو ادب
کچھ تمہارے دل کے اندر کچھ ہمارے دل میں ہے
مے کدہ سنسان خم الٹے پڑے ہیں جام چور
سرنگوں بیٹھا ہے ساقی جو تری محفل میں ہے
وقت آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں
ہم ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
اب نہ اگلے ولولے ہیں اور نہ ارماں کی بھیڑ
صرف مٹ جانے کی اک حسرت دل بسمل میں ہے

صحابہ کرام صدیقین کی جماعت تھے اور واقعی بڑی قربانیاں دی ہیں۔ علماء کرام کی یہ بھی مہربانی ہے کہ مکذبین نہیں ہیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کا وحدت کانفرنس سے خطاب اور عتیق گیلانی کا تبصرہ
ہندوستان کے عالم کی تقریر
ایڈیٹر نوشتہ دیوار کا مولانا فضل الرحمن سے سوال