ایڈیٹر نوشتہ دیوار کا مولانا فضل الرحمن سے سوال
مئی 25, 2026
کراچی پریس کلب:18مئی کو میٹ دا پریس پروگرام کے بعد چائے کی ٹیبل پر ایڈیٹر نوشتہ دیوار نے مولانا فضل الرحمن سے پوچھا کہ جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ نے یہ فیصلہ دیا کہ اکٹھی 3 طلاق واقع نہیں ہو تیں۔ آپ اس پرکیا کہتے ہیں؟۔ مولانا نے پہلے ٹالتے ہوئے کہا کہ یہی پاکستان میں چل رہا ہے اور خوب قہقہ لگایااور ساتھ میں بیٹھے ہوئے لوگ بھی ہنسں پڑے لیکن پیچھے سے ایک دو آدمیوں نے کہا کہ یہ سنجیدہ مسئلہ ہے اس پر بات کریں تو پھر مولانانے کہا کہ یہ ان کی شریعت سے ناواقفیت ہے۔کچھ لوگ اپنی ذات میںاہلحدیث ہوتے ہیں۔ مولانا نے ایک سابق چیف جسٹس کا قصہ سنایا کہ وہ کس طرح شریعت سے ناواقف تھاانہوںنے کہاکہ چیف جسٹس کو اس حوالے سے علما سے رابطہ کرنا چاہیے تھا۔ اسلامی نظریاتی کونسل یہ فیصلہ کر سکتی ہے۔ ایڈیٹر نوشتہ ٔدیوار نے کہا کہ سورہ طلاق کی آیات ہی دیکھیں تو وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی تصدیق کر رہی ہیں تو مولانا نے کہا کہ اس ملک میں اکثریت حنفیوں کی ہے لہٰذاآپ یہ دیکھیں کہ حنفی مسلک کیا کہتاہے اورآ پ احادیث کو دیکھیں۔
تبصرہ : نوشتۂ دیوار: فیروز علمدار
مولانا فضل الرحمن کے لگائے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کے3سالہ چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی اور6سالہ قبلہ ایاز صاحب نے بالمشافہہ ملاقاتوں میں حنفی مسلک کا مؤقف سمجھ لیا اور قبلہ ایاز صاحب نے تو لیٹر بھی لکھ دیا تھا اور ایک بڑی تعداد میں حنفی علماء کے تائیدی بیانات شائع ہوئے ہیں۔ جان بوجھ کر حق سے پہلو تہی برت رہے ہیں لیکن اللہ سب دیکھ رہاہے۔ عائلی قوانین1964ء مفتی محمود کی تائید سے آئین کا حصہ بن گئے ہیں۔ اوریا مقبول جان نے الزام لگایا ہے کہ مفتی محمود پہلا سیاستدان تھا جس نے ووٹ بیچ دیا تھا۔ حالانکہ عائلی قوانین میں قرآن وسنت کے مطابق عدت کے اندر باہمی اصلاح سے رجوع کا حق دیا گیا ہے۔ زکوٰة کو شراب کی بوتل پر آب زمزم کا لیبل قرار دینے والے نے سودی نظام کو ہی اسلامی قرار دیا ہے اور اس کے بعد مزید اسلام کیساتھ اور کیا ہوگا؟۔ حنفی مسلک تو قرآن و سنت کے مطابق ہے لیکن حنفی مسلک ہی بگاڑ دیا گیا ۔ یہی حال سودی نظام کیساتھ اب چند سالوں میں ہوا ہے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ