غیرمتبرجٰتٍ بزینةٍ : تفسیربا تصویراورغامدی کی تقدیر
مئی 14, 2026
امریکہ نوازسمگلر اشرف پہلوی پر بلال غوری کا پروگرام۔2سو عاشقوں اور ذوالفقار علی بھٹو سے ناجائز تعلق۔3شادی میں ناکامی اور بیک وقت کئی افراد سے جنسی تعلق تھا ۔ جمائما کے بوائے فرینڈ زاور پھر شادی کا اشرف پہلوی کیساتھ موازنہ ہوتو فرق ہے ۔بیک وقت زیادہ افراد سے تعلق خطرناک ہے۔ قرآن ھدی للناس سبھی کیلئے ہدایت ہے اور ہدایت جبری نہیں ہے بلکہ آزادی کیساتھ دل ودماغ و کردار کی ہدایت ہے۔ اسلام ایکسپائرہوچکا ہے یا پھر تحریف کے بغیرچل سکتا ہے؟۔
شدت پسندی کو روکنے کیلئے اسامہ بن لادن کی بھتیجی وفا بن لادن کی تصاویر چھاپ دیں تو سینیٹر مولانا صالح شاہ قریشی نے کہا ”ٹانگوںمیں بڑی جاذبیت ہے”۔گاڑی کی لائٹ جیسے ڈم اور تیز ہوسکتی ہے۔اللہ نے نظریں ڈم رکھنے کا حکم فرمایا۔
4سوسال پہلے مغرب سیکولر ازم بنی آدم کو ننگا کرنے کا ابلیسی نظام لایا تھا تو عرب وعجم ، مشرق ومغرب محفوظ نہیں رہ سکے ۔
اوزاعی نے نکاح سے پہلے عورت کا پورا جسم شرم گاہ کو چھوڑ کر دیکھنا جائز قرار دیا۔ ابن حزم نے شرمگاہ کوبھی جائز قراردیا۔
یایھا النبی قل لازواجک و بنٰتک و نساء المؤمنین یدنین علیھن من جلابیبھن ذٰلک ادنٰی ان یعرفن فلا یؤذین
”اے نبی اپنی ازواج، اپنی بیٹیوں اور مؤمنوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی چادروں کا حصہ اپنے اوپر ڈالیں یہ معمولی ہے تاکہ پہنچانی جائیں اور ستایا نہ جائے”۔
تاکہ گاہک تلاش کرنے والیوں سے امتیازی پہچان رہے۔
وقل للمؤمنٰت یغضضن من ابصارھن و یحفظن فروجھن ولا یبدین زنیتھن الا ما ظھر منھا و لیضربن بخمرھن علی جیوبھن
” اور مؤمنات سے کہو کہ اپنی نگاہیں پست کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنے حسن النساء کو نہیں دکھائیں مگر جتنے دکھ جائیںاور اپنے سینوں پراپنے دوپٹوں کو لپیٹ لیں”۔
جاویدغامدی نے کہا کہ ”شرمگاہ کی حفاظت نیم برہنہ لباس ہے۔ پردہ کی احادیث من گھڑت اور ہندوستانی کلچر ہے” ۔دوپٹے کا حکم نہیں دکھتا شرمگاہ کی حفاظت سے برہنہ کرنے پرپٹہ لگانے کی ضرورت ہے۔
بیوہ و طلاق شدہ بیگمات ایگریمنٹ والی اوروقتی متعہ والی۔
والمحصنات من النساء الا ماملکت ایمانکم… فما استمتعتم بہ منھن
”اورعورتوں میں بیگمات مگر جن سے تمہارا معاہدہ ہو …جن سے تم فائدہ اٹھالو ”۔ ( النسائ)
بیواؤں اور بگڑی لڑکیوں کاجائز حل بگاڑ کا بڑھتا ہوا رحجان ختم کرسکتاہے۔ معاہدے کے بغیر چھپی یاری اور کھلی فحاشی کے بھیانک انجام کو سوشل میڈیا روز دکھارہاہے۔
مولانا انور شاہ کشمیری نے لکھا کہ ” قرآن معنوی تحریفات کا شکارہے”۔ ایرانی متعہ والی کنواریوں سے سعودیہ کی مسیار والی طلاق شدہ وبیوہ بیگمات نکاح کیلئے بہت زیادہ بہترہیں۔
ومن لم یستطع منکم طولًا ان ینکح المحصنات المؤمنات فمن ما ملکت ایمانکم من فتیاتکم المؤمنات واللہ اعلم بایمانکم بعضکم من بعضٍ فانکحوھن باذن اہلھن واٰتوھن اجورھن بالمعروف محصناتٍ غیر مسافحاتٍ ولا متخذات اخدان فاذااحصن فان اتین بفاحشةٍ فعلیھن نصف ما علی المحصنات من العذاب ذٰلک لمن خشی العنت منکم وان تصبرواخیرلکم واللہ غفور رحیمO
”اورجو بیگمات سے نکاح کو نہیں پہنچتا تومؤمنات معاہدہ والی لڑکیاں اور اللہ تمہارے ایمان کو جانتا ہے ۔تم آپس میں ایک ہو۔ پس نکاح کرو انکے سرپرستوں کی اجازت سے اور ان کو انکا حق مہر دو معروف طریقے سے نکاحی بندھن میں لاکر نہ شہوت رانی اور نہ چھپی یاری ۔پس جب نکاح میں لاؤ تو اگر وہ فحش کریں تو ان کی عام شادی شدہ کے مقابلے میں آدھی سزا ہے۔یہ اس کیلئے ہے جو تم میں مشکل سے ڈرے اور اگر صبر کرو تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اللہ غفور رحیم ہے ” ۔ سورہ النسائ:آیت:25)
متعہ والی دوشیزہ سے مجبوری میں نکاح مگر کمتر نہیں سمجھیں اور سزا عام عورت سے نصف اورمشکل نہ ہوتو معافی ہی بہترہے۔
ایرانی سعودی متعہ ومسیار سے افغانی بکنے والی بچیاں زیادہ خطرناک ہیں۔ پاکستانی جسم فروشی ، جبری اڈے بدترین ہیں۔ ہم جنس پرستی میں لڑکوں کو رکھنا لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ بدتر ہے۔ مردہ ضمیروں کی کثرت سے قومیں تباہ ہوجاتی ہیں۔
لڑکے کو لونڈابازی کی جگہ اس کی بہن کو رکھنا بہتر اسلئے تھا کہ مرد کو بدفعلی کی علت ہو تو معاشرہ ضمیر چھوڑ مشین بن جاتا ہے اور ضمیر نہیں رہتا تو ظلم کی ہرحد پارکرنے میں بیباک بنتاہے۔
قرآن،لغت، حدیث ،فقہ کی تطبیق نہیں آتی ۔ عورت کو سینے پر دوپٹے کاحکم آیا تو برصغیرعمل پیرا تھا مگر جاویدغامدی اسلام دشمنی میںپہلے جلتارہا، بھڑاس نکالی تو ننگا ہوا۔
ومنکم من یرد الی ارذل العمر لکی لایعلم بعد علمٍ شیئًا
”اور تم میں سے وہ بھی ہے جو رذیل ترین عمر کو پہنچا،تاکہ علم کے بعد کوئی چیز نہ سمجھ سکے”۔
This is Javed Ghamdiaa
عیسی بغیر والد معزز ، غامدیہ سنگسار۔ ثم بعد ذٰلک زنیم ”پھر وہ بے اصل ” ۔ولید بن مغیرہ بنی اسرائیل جعلی قریشی بنا۔
حرم میں حبشی گریبان سے بریسٹ نکالے دودھ پلاتی ہیں مگر دھیان نہیں جاتا تو بڈھی میں کیا؟۔ حسن نساء برہنہ کرنا منع، گھر میں قمیص اور اجنبی سے دوپٹہ لپیٹنا۔ غیر مسلم مخاطب نہیں ۔ مقامات الحریری میں دوسیب، عربی لٹریچر میں فتونھااسکے فتنے اور نبیۖ نے فتنہ النساء سے پناہ مانگی تو وہ یہی فتنہ ہے۔ باقی فتنوں میںمرد عورت برابرہیں۔
ان یضعن ثیابھن غیر متبرجٰتٍ بزینةٍ
واضح مگر ترجمہ معنوی تحریف ہوئی۔ لڑکے لڑکی کے درمیان یہی فرق ہے۔ لڑکے کیساتھ10شیطان اور لڑکی کیساتھ ایک شیطان کا ذکر ہے لیکن یہی چیز بڑا فتنہ ہے۔
عورت نے کہا:تمہیں چارشادی اورہمیں؟۔ مفتی محمود نے کہا:”تم20کرلو، حکم قرآن ماننے والوں کیلئے ہے ”۔ اجتہاد کے نام پر تحریف کفر ہے۔ قرآنی تعلیم مذہبی طبقے، عوام ، حکمران طبقہ اور دنیا تک پہنچانا فرض ہے۔ جامعہ العلوم الاسلامیہ کی بنیاد علامہ بنوری نے تقویٰ پر رکھی۔ حضرت ابراہیم واسماعیل نے بیت اللہ کی تعمیر پر دعارحمة للعالمینۖ کی بعثت کیلئے فرمائی۔
قرآن مشرقی نہ مغربی اور نہ تہذیبوں کا تصادم بلکہ اعلیٰ و ادنیٰ معیارات کے ذریعے دنیا میں مثالی توازن کو یقینی بناتا ہے۔پھر سب سے بڑھ کراصلاح معاشرہ کیلئے ہمہ وقت رو بہ عمل ہے۔ تہذبوں کے درمیان نفرت نہیں بلکہ بڑا اعتدال و توازن ہے۔
ــــــــــ
وزیرستانی مورچے اور آیات کی زبردست تفسیر
کانیگرم میں ہمارے گھر کے بالا خانے کی چھت پر دوپکے مورچے اس کابڑا حسن بھی تھے۔
تبارک الذی جعل فی السماء بروجًا
”برکت والا جس نے آسمان میں بروج بنائے” مجاہد نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ”مورچے جس میں حفاظت کرنے والے رہتے ہیں”۔
اینما تکونوا یدرککم اللہ الموت ولوکنتم فی بروج مشیدة
ٍ ”جہاں بھی تم ہو،موت تمہیں پالے گی ،اگرچہ تم بلند وبالا پختہ مورچوں میں ہو”۔ (سورہ النساء آیت78)
دوبئی میں برج العرب ہوٹل ہے۔ عورت کے برج ”حسن النساء ” ہیں۔ جاہلیت میں زیادہ تعداد میں شوہروں کی تلاش میں عورت اپنے حسن النساء کو کھلا رکھتی تھی۔ جس کی جاذبیت میں اس کے گاہک بڑھ جاتے تھے۔ قرآن کایہ حکم صدرٹرمپ وغیرہ کو آج بھی بالکل قابل قبول ہوگا۔
ولا تبرجن تبرج الجاہلیة الاولٰی
”اور حسن النساء کی نمائش نہ کروپہلی جاہلیت کی نمائش ”
اسلام میں عورتوں کیلئے دو طرح کا لباس ہے۔ ایک میں مکمل کپڑے اور سینے پر اجنبیوں کے سامنے دوپٹہ لپیٹنا اور دوسرا لونڈی ، متعہ اور مسیار والی عورت کا لباس ہے جو نکاح کی امید نہ رکھتی ہوں ،وہ مردوں کی طرح ٹانگیں ،کاندھے، پیٹھ ، پیٹ ننگے لیکن حسن النساء کو برہنہ کئے بغیر ۔
والقواعد من النساء الّٰتی لایرجون نکاحًا فلیس علیھن جناح ان یضعن ثیابھن غیر متبرجٰتٍ بزینةٍ وان یستعففن خیر لھن واللہ سمیع علیمO
”اور قواعدعورتوں کے حوالہ سے جو نکاح کی امید نہ رکھیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے کپڑے اتاریں اپنے حسن النساء کو برہنہ کئے بغیر اور اگروہ پاکدامن رہیں تو ان کیلئے زیادہ بہتر ہے اور اللہ سنتا جانتاہے”۔
1948ء میں اقوام متحدہ نے غلامی کو ختم کیا۔ غلامی کی فیکٹری جاگیرداری اورمارکیٹنگ سود کو اسلام نے ناجائز قرار دیا ۔متعہ ومسیار کا اسٹیٹس لونڈی و غلام والا نہیں معاہدے والا بنایامگر نکاحی حقوق نہیں۔ ام ہانی سمیت بدر الدین عینی نے نبیۖ کی28ازواج کا ذکر کیا، متعہ ومسیار والی امہات المؤمنین نہیں۔ ” ہدایہ” میں مالکی و حنفی مسلک میں وقتی نکاح کا اختلاف ہے ۔ قرآن نے نکاح اور معاہدے کے قوانین کو واضح کیا۔تین افرادکی گرل فرینڈماہ نور کا ایک کوقتل کرنا المیہ ہے۔ حملہ آورشیطانی تہذیب کا مداوا اسلام ہے۔جاویداحمد غامدی نے قرآن سے من گھڑت طاغوت کا حکم اخذ کیا ۔تحریف کفر ہے ۔ احکام کی وضاحت سے مسلکی اختلافات کا خاتمہ ہوجائے گا اور پوری دنیا اسلام کے معاشرتی نظام کوجبر کے بغیر دل وجان سے قبول کرے گی۔ انشاء اللہ العزیز
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ