پوسٹ تلاش کریں

فتنہ الدھیماء اور جامعہ بنوری ٹاؤن اور اس کے آخر میں جامعہ العلوم الاسلامیہ کے بارے میںعربی خواب اور اس کی تعبیر

فتنہ الدھیماء اور جامعہ بنوری ٹاؤن اور اس کے آخر میں جامعہ العلوم الاسلامیہ کے بارے میںعربی خواب اور اس کی تعبیر اخبار: نوشتہ دیوار

جامعہ العلوم السلاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کا فتویٰ :

سوال:فتنہ الدھیماء سے کیا مراد ہے ؟کیا حدیث میں ایسے فتنے کے مصداق کا ذکر ہے؟۔
جواب:رسول اللہ ۖ نے جن چند بڑے فتنوں کی پیشین گوئی فرمائی ہے ان سے ایک فتنہ ”الدھیمائ” بھی ہے۔ اس کی تفصیل ایک طویل حدیث میں مذکور ہے۔ وہ یہ ہے۔

” عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی کریم ۖ کی مبارک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ۖ نے آخرزمانہ میں ظاہر ہونے والے فتنوں کا ذکر شروع فرمایا، بہت سارے فتنوں کو بیان فرمایا یہاں تک کہ فتنہ احلاس کا ذکر فرمایا ۔ ایک شخص نے پوچھا کہ فتنہ احلاس کا فتنہ کیا ہے؟۔( اس فتنے کی نوعیت کیا ہوگی اور وہ کس صورتحا ل میں ظاہر ہوگا؟) آپ ۖ نے فرمایا: وہ بھاگنا اور مال کا ناحق لیناہے۔ (یعنی اس فتنے کی صورت یہ ہوگی کہ لوگ آپس میں سخت بغض و عداوت رکھنے اورباہمی نفرت ودشمنی کی وجہ سے ایک دوسرے سے بھاگیں گے، کوئی کسی کی صورت دیکھنے اور کسی کیساتھ نباہ کرنے کا روادار نہیں ہوگا۔ایک دوسرے کے مال کو چھین لینے اور ایک دوسر ے کو ہڑپ کرلینے کا بازار گرم ہوگا)۔

پھر ”فتنہ سراء ”ہے۔اس فتنہ کی تاریکی اور تباہی اس شخص کے قدموں کے نیچے سے نکلے گی (یعنی اس فتنے کا بانی وہ شخص ہوگا ) جو میرے اہل بیت سے ہوگا ،اس شخص کا گمان تو یہ ہوگا کہ وہ فعل وکردار کے اعتبار سے میرے اہل بیت میں سے ہے لیکن حقیقت یہ ہوگی کہ وہ خواہ نسب کے اعتبار سے بھلے میرے اہل بیت ہی ہو مگر فعل وکردار کے اعتبار سے میرے اپنوں میں سے ہرگز نہیں ہوگا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میرے دوست اور میرے اپنے تو وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو پرہیز گا ر ہوں۔

پھر اس فتنہ کے بعد ایسے شخص کی بیعت پر اتفاق کریں گے جو پسلی کے اوپر کولہے کے مانند ہوگا۔پھر دھیماء کا فتنہ ظاہر ہوگا اور وہ فتنہ امت میں ایسے شخص کو نہیں چھوڑے گا جس پر اس کا طمانچہ ، طمانچے کے طور پر نہ لگے۔(یعنی وہ فتنہ اتنا وسیع اور ہمہ گیر ہوگا کہ امت کے ہر شخص تک اس کے برے اثرات پہنچیں گے اور ہر مسلمان اس کے ضرر اور نقصان میں مبتلا ہوگا) اور جب کہا جائے کہ یہ فتنہ ختم ہوگیا ہے تو اس کی مدت کچھ اور بڑھ جائے گی۔ یعنی لوگ یہ گمان کریں گے کہ فتنہ ختم ہوگیا ہے مگر حقیقت میں وہ ختم کی حدتک پہنچاہوا ہی نہیں ہوگا بلکہ کچھ اور طویل ہوگیا ہوگایہ اور بات ہے کہ کسی وقت اس کا اثر کچھ کم ہوجائے، جس سے لوگ اس کے ختم ہونے کا گمان کرنے لگیں لیکن بعد میں پھر بڑھ جائے گا۔اس وقت صبح کو آدمی ایمان کی حالت میں اٹھے گا اور شام کو کافر ہوجائے گا۔ (یعنی فتنہ کے اثرات لوگوں کے دل ودماغ کی حالت کیفیت اس قدر تیزی سے تبدیلی پیدا ہوتی رہے گی کہ مثلاً ایک شخص صبح کو اٹھے گا تو اس کا ایمان وعقیدہ صحیح ہوگا اور اس پختہ اعتقاد کا حامل ہوگا کہ کسی مسلمان بھائی کا خون بہانا یا اس کی آبروریزی کرنا اور یا اس کے مال واسباب کو ہڑپ کرنا و نقصان پہنچانا مطلقاً حلال نہیں ہے مگر شام ہوتے ہوتے اس کے ایمان وعقیدے میں تبدیلی آجائے گی اور وہ اپنے قول وفعل سے یہ ثابت کرنے لگے گا کہ گویا اس کے نزدیک کسی مسلمان بھائی کا خون بہانا اس کی آبروریزی کرنا اور اسکے مال وجائیداد کو ہڑپ کرنا نقصان پہنچانا جائز وحلال ہے) اس طرح جو صبح کو مؤمن تھا تو اس عقیدے کی تبدیلی کی وجہ سے کافر ہوجائے گا۔ اوریہ صورتحال جاری رہے گی یہاں تک کہ لوگ دو خیموں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ ایک خیمہ ایمان کا ہوگا اور اس میں کوئی نفاق نہیں ہوگا اور ایک خیمہ نفاق کا ہوگا کہ اس میں کوئی ایمان نہیں ہوگا۔ جب یہ بات ظہور میں آجائے تو پھر اس دن یا اس کے اگلے دن دجال کے ظاہر ہونے کا انتظار کرو۔ (ابوداؤد)

”عن عمیر بن ہانی العنسی ،قال : سمعت عبداللہ بن عمر یقول: کنا قعودًا عند رسول اللہ فذکر الفتن فاکثر ذکرہا حتی ذکر فتنہ الاحلاس۔ فقال قائل یا رسول اللہ ومافتنہ الاحلاس؟۔قال: ھی ھرب و حرب ثم فتنة السراء دخنھا من تحت قدمی رجل من اھل بیتی یزعم انہ منی و لیس منی وانما اولیائی المتقون ثم یصطلح الناس علی رجلٍ کورکٍ علی ضلعٍ ثم فتنة الدھیماء لا تدع احد من ھذہ الامة الا لطمتہ لعطمةً فاذا انقضت تمادت یصبح الر جل فیھا مؤمنًا و یمسی کافرًا حتی یسیر الناس الی فسطاطین فساط ایمانٍ لا نفاق فیہ و فسطان نفاقٍ لا ایمان فیہ فاذا کان ذاکم فانتظروا الدجال من یومہ او من غدہ ”۔

” فتنہ الدھیماء کے مصداق سے متعلق حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں : اس سے چھٹی صدی ہجری میں بغداد پر تاتا ریوں کے حملہ اور عام خونریزی کا فتنہ مراد ہے ، جنہوں نے مسلمانوں کا قتل عام کیا اور یہ انتہائی سخت فتنہ تھا۔جس کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے، حجة اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ نے لکھا:

والفتنة الدھیماء تغلب الجنکیزیة علی المسلمین و نھبھم بلاد الاسلام …..الفتن العظیمة التی اخبر ھا النبی ۖ اربع:الأولی: فتنہ امارة علی أقذاء ، وذلک بمشاجرات الصحابة بعد مقتل عثمان رضی اللہ عنہ الی ان استقرت خلافة معاویة، وھی أشیر الییھا بقولہ ”ھدنة علی دخن” و ھو الذی یعرف أمرہ وینکر لانہ کان علی سیرة ملوک لا علی سیرة الخلفاء قبلہ الثانیة : فتنة الاحلاس وفتنة الدعاة الی ابواب جھنم و ذلک صادق باختلاف الناس و خروجھم طالبین الخلافة بعد موت معاویة الی ان استقرت خلافة عبدالملک الثالة: فنتہ السراء والجبریة والعتو وذلک صادق بخروج بنی العباسیة علی بنوامیة الی ان استقرت خلافة العباسیة و مھدھا علی رسوم الاکاسرة وأخذوا بجبریة و عتو الرابعة: فتنة تلطم جمیع الناس اذا قیل : انقضت تمادت حتی رجع الناس الی فسطاطتین و ذلک صادق بخروج الاتراک الجنکیزیة وابطالھم خلافة بنی العباس ومزقھم علی وجھھا الفتن ”

” حضرت سہارنپوری فرماتے ہیں کہ : ” یہ فتنہ امام مہدی کے ظہور سے کچھ پہلے پایا جائے گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول تک چلتا رہے گا۔ حدیث کے آخری لفظ سے بھی اسی کی طرف شارہ مل رہاہے۔ بذل المجھود فی حل سنن ابی داؤد فتویٰ نمبر:144110201255

تبصرہ:سید عتیق الرحمن گیلانی

الائنس موٹرز کیلئے اطلاعی مدت ایک ماہ کی جگہ3ماہ اور پھر6ماہ کا فتویٰ مفتی عبدالرحیم نے دیا اور لوگوں کا مال ہڑپ کیا۔ مولانا سیدمحمد بنوری کی شہادت وغیرہ درست آئینہ دکھایا ہے۔
ھرب و حرب کا معنی غلط لکھا ۔ ھرب بھاگنا ۔ حرب جنگ ۔

ترجمہ حدیث: ”عبداللہ بن عمر نے کہا: ہم رسول اللہۖ کے پاس بیٹھے تھے۔ آپ ۖ نے فتنوں کاذکر کیا تو کثرت سے کیا اور فرمایا: پھر فتنہ احلاس ہوگا۔ کسی نے کہا: وہ کیا ہے؟۔ فرمایا: یہ بھاگنا اور جنگ کرنا ہے۔ پھر فتنہ السراء ہے جس کا دھواں میرے قدموں کے نیچے سے ہوگا جو میرا اہل بیت سے ہوگا اور سمجھتا ہوگا کہ مجھ سے ہے لیکن وہ مجھ سے نہیں اور بیشک میرے اولیاء پرہیز گار ہیں۔ پھرلوگ ایک شخص پر اصطلاح کریں گے جو پسلی پر چوتڑ جیسا ہوگا پھر فتنہ الدھیماء ہوگا ۔اس امت میں کسی کو نہیں چھوڑے گا مگر کوئی تھپڑ تو لگائے گا۔ جب کہا جائے کہ ختم ہواتو بڑھے گا ، صبح آدمی مؤمن ہوگا اور شام کوکا فر ،یہاں تک کہ لوگ دو خیموں میں تقسیم ہونگے۔ایک میں ایمان ہوگا نفاق نہیںاور ایک میں نفاق ہوگا ایمان نہیں ۔ جب یہ ہو تو دجال کا انتظار کرو ۔ اس دن یا کل”۔

مولانا یوسف لدھیانوی نے ایک حدیث بیان کی ہے کہ حضرت حذیفہ نے کہا کہ لوگ نبیۖ سے خیر کا پوچھتے تھے اور میں شر کا معلوم کرتا تھا کہ مبادا مجھے شر نہیں پہنچ جائے۔

حذیفہ یارسول اللہ!ہمیں یہ خیر (اسلام) پہنچنے کے بعد کوئی شر پہنچے گا؟۔ فرمایا:ہاں!۔ حذیفہ : کیا اس شرکے بعد خیر پہنچے گی؟ فرمایا: ہاں لیکن اس میں دھواں ہوگا۔ اچھے لوگ ہوں گے اور برے بھی۔ حذیفہ : پھرکوئی شر ہو گا؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا: ہاں ! جہنم کے دروازے پر بلانے والے ہوں گے جو ہماری زبان میں بات کریں گے اور لبادے میں ہوں گے جو ان کی دعوت کو قبول کرے گا اس کو جہنم میں جھونک دیں گے۔اگر مسلمانوں کی جماعت اور ان کا امام ہو تو اس کیساتھ مل جاؤ ورنہ ان تمام فرقوں سے الگ ہوجاؤ چاہے درخت کی جڑیں چوس کر بھی گزارہ کرنا پڑے۔ (عصر حاضر)

اس حدیث سے فرقہ ”جماعت المسلمین ” نے جنم لیا ۔اس فرقے کے امام رسول اللہۖ ہیںاور خود سرکٹی لاش ہے۔

شاہ ولی اللہ نے دھوئیں کا آغاز معاویہ کی ملوکیت سے کیا ہے اور ہم نے نقش انقلاب میں امارت، بادشاہت اور جبری حکومتوں کے ادوار میں دھوئیں کو تسلسل کیساتھ گہرا کرکے دکھایا ہے۔ الدھیماء کا فتنہ اصولی طور پر جبری حکومتوں کے آخری دور پر ہونا چاہیے۔ لیکن اس بات کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ روایات میں70سے زیادہ دجالوں کا ذکر ہے جس میں30نبوت کا دعویٰ بھی کریںگے۔ دجالوں کی طرح مہدیوں کا بھی ایک سلسلہ ہے۔ اہل سنت کے نزدیک خلفاء راشدین سب مہدی تھے اور عمر بن عبدالعزیز نے دین کی تجدد کی تھی وہ بھی مہدی تھے۔

جاویداحمد غامدی اور اس کے شاگرد ڈاکٹر عرفان شہزاد کے سامنے شاہ ولی اللہ کی بات آئے گی تو اس نے کہنا ہے کہ فتنہ السراء میں حضرت علی کا ذکر ہے جس کی وجہ سے حضرت عثمان شہید ہوگئے اورفتنہ کے طور پر ایک گروہ کی قیادت کی اور اس کا زعم بھی غلط تھا۔ اقذاء ابوبکر و عمر اور عثمان ہیں جن کی اس طرح خاندانی حیثیت نہیں تھی جو ابوسفیان اور اس کے خاندان اور مران بن حکم کی شخصیت اور ان کے بیٹوں کی تھی۔ اس نے واضح کیا کہ حضرت ابوبکر وعمر اور عثمان ، معاویہ سے زیادہ یزید کی خلافت شرعی تھی اور حضرت علی کو وہ خلیفہ مانتا نہیں ہے۔ پھر پسلی پر چوتڑ کے فتنہ کا مصداق حضرت حسن ہے جس نے300طلاقیں دیں،لالچ کی خاطر صلح کی اور ایک بڑا حصہ مال کا ذاتی اغراض کیلئے حکومت سے طے کیا۔ ڈاکٹر عرفان شہزاد عبداللہ بن زبیر پربھی اس کا اطلاق کرسکتا ہے جس کو پھر الدھیماء اور مختار ثقفی کو ایک دجال قرار دے۔ جبکہ مروان بن حکم ، عبدالملک بن مروان اور اسکے بیٹوں تک کوہی وہ اسلام کا نظام مانتا ہے۔

دوسری طرف بیانیہ یہ ہوسکتا ہے کہ امیرمعاویہ کے بعد یزید سے فتنہ احلاس شروع کیا جائے۔ جس میں ھرب و حرب اسلئے تھا کہ یزید کے خلاف امام حسین نے کربلا کا سفر کوفہ والوں کے خطوط پر کیا اور پھر وہ جنگ سے بھی بھاگ گئے اور واقعہ کربلا سے پہلے امام حسین نے تین مطالبات پیش کئے۔ مدینہ واپسی، سرحد کی طرف جانا اور یزید سے براہ راست بات ۔لیکن تینوں باتیں نہیں مانیں اور واقعہ کربلا کی جنگ مسلط کردی۔ مدینہ پر چڑھائی کردی اور سانحہ حرہ پیش آیا جس میں اہل مدینہ کیساتھ بہت زیادتی ہوئی۔ پھر مکہ کے محاصرے کے دوران یزید مرگیا اورلشکر کے نمائندے نے عبداللہ بن زبیر کے سامنے بیعت کی تجویز رکھی۔ معاویہ بن یزید نے امام زین العابدین کو خلیفہ بننے کی پیشکش کی اور مروان بن حکم نے عبداللہ بن زبیر سے کہا تھا کہ میں تمہارے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔ لیکن انہوں نے نہیں مانا اور پھر مران بن حکم نے اپنے بیٹے عبدالملک کیساتھ شام کی طرف بھاگنے کے بعد جنگ شروع کردی۔ یہی فتنہ احلاس تھا۔ احلاس چٹائی کو کہتے ہیں۔ فقیہ مدینہ سعید بن المسیب نے کسی کی بھی بیعت نہیں کی اورگھر میں بیٹھ گئے۔ اہل فارس نے امام زین العابدین کو امام بننے کی خفیہ پیشکش کردی جو انہوں نے مسترد کردی۔ پھر محمد بن حنفیہ کی خفیہ بیعت کی گئی اور یہی اصل فتنہ السراء تھا۔ جو اہل بیت کے نام پر چھپ کر کھڑا ہوا اور اس میں نبیۖ کی سنت قائم نہیں کی بلکہ امت کا بیڑاغرق کیا۔

مروان بن حکم پسلی پر چوتڑ اور عبدالملک بن مروان کے دور پر فتنہ الدھیماء اور حجاج بن یوسف پر دجال کا اطلاق ہوتا ہے۔ پھر عمر بن عبدالعزیز نے دین کی تجدید کرکے مجدد کا کام کیا۔

شاہ ولی اللہ نے منہاج النبوة کی خلافت کے بعد معاویہ کی بادشاہت کو د ھواں قرار دیا تو دھوئیں کا سبب امام حسن تھے۔ حضرت علی کے فضائل پر مستند احادیث ہیں اور حضرت حسین کیلئے فرمایا کہ ” حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں”۔ تو حسین کی مزاحمت کو دنیا مانتی ہے۔ حضرت حسن کی صلح نے خلافت سے معاملہ ملوکیت میں بدل دیا تو پھر حضرت علی کی جگہ امام حسن پر فتنہ السراء کی حدیث کو فٹ کرنا چاہیے؟۔

نبیۖ نے فرمایا کہ ” میں وحی کیلئے قوم سے لڑا ہوں اور علی وحی کی تاویل کیلئے مسلمانوں سے لڑے گا”۔ علی کے خلاف پہلے اماں عائشہ اور عشرہ مبشرہ کے صحابہ نے قتال کیا اور علی نے شکست دینے کے بعد احترام کیا۔ پھر خلافت کے باغیوں کے خلاف قتال کیا تو یہ فطری شریعت ہے ۔ پھر خوارج کے خلاف جہاد کیا جو قرآن کی غلط تاویل کرتے تھے۔ شاہ ولی اللہ نے لکھا ہے کہ” خلافت کا وعدہ ابوبکر وعمر اور عثمان کیساتھ پورا ہوا مگر علی کیساتھ پورا نہ ہوا کیونکہ خلافت غیر منتظمہ تھی لیکن پھر قیامت تک کیلئے حضرت علی کی خلافت انقلاب کا ذریعہ ہے ۔ قرآن میں خلافت کا وعدہ جمع کے صیغہ کیساتھ ہے جس کا کم ازکم تین افراد پر اطلاق ہوتا ہے وہ اللہ نے تین خلفاء سے پورا کردیا”۔

لاکھ سے زیادہ صحابہ سے وعدہ اور تین سے پورا ہوا؟۔ یہ تو وعدہ خلافی ہے؟۔ خلافت کا وعدہ مسلمانوں سے تھا۔ خلافت راشدہ ،بنوامیہ، بنوعباس اور خلافت عثمانیہ کیساتھ1924ء تک سب پر اطلاق ہوتاہے۔ امریکہ سپر طاقت چاہے پاگل ٹرمپ کو اپنا حکمران بنائیں یا بارک حسین اوبامہ اور کلنٹن کو۔ یہ انتظامی معاملہ ہے۔ فتنہ اقذاء ممالیک خاندان غلاماں پھر فتنہ السراء کا مصداق شریف مکہ ، پسلی پر چوتڑ غلام احمد قادیانی کی نئی اصطلاح بروزی نبوت ومھدویت اورفتنہ الدھیماء بلیک واٹر۔

جاویداحمد غامدی کو ایک طرف بنوامیہ سے محبت اور بنوہاشم سے جلن ہے تو دوسری طرف شیعہ مخالف ہمدردیاں سمیٹنے کیلئے گھناؤنی ذہنیت ہے۔ کالعدم سپاہ صحابہ نے ایران پر امریکہ و اسرائیل کی جارحیت کے خلاف بیان دیا۔ لیکن غامدی کے بغل بچے حسن الیاس کی تو حالت ایسے تھی کہ جس طرح بشری بی بی کے بچے عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد ماں کی شادی پر خوش تھے۔ حسن الیاس کا گویاخون بھی بہت بڑھ گیا تھا۔

فتنہ اقذاء کسے کہتے ہیں؟۔ عرب میں ایک قسم کا نکاح یہ تھا کہ10یا10سے کم افراد ایک عورت سے نکاح کرلیتے ۔ دوسرا یہ کہ عورت جھنڈا لگاتی اور بیشمار لوگ اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے۔ تیسرا یہ تھا کہ ادنیٰ نسل والااعلیٰ نسل والے کو بیوی حمل کیلئے سپر د کردیتا تھا۔ فتنہ اقذاء کی آخری قسم غامدیہ نے ایک شخص سے ناجائز مراسم کے ذریعے ایک بچہ جنم دیا تھا۔

قذیٰ آنکھ میں پڑجانے والے تنکے اور گند کو کہتے ہیں۔اور بیکار نسل والوں کو اقذاء کہا جاتا تھا۔ ضرورت پڑنے پر یہ لوگ بھی ذمہ دار عہدوں پر آگئے۔ حضرت عمر نے حضرت سعد بن ابی وقاص ، ابوہریرہ ،مغیرہ بن شعبہ، خالد بن ولیدجیسے صحابہ کو بھی منصبوں سے سبکدوش کیا۔ نبیۖ نے مروان بن حکم اور اسکے باپ کو جلاوطن کردیا تھا۔ حضرت عمر کے بعد نبیۖ نے سمندر کے مانند طلاطم خیز موجوں والے فتنے کا ذکر فرمایا۔ یہ فتنہ اقذاء تھا۔ حضرت عمر نے اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر کیلئے بھی فرمایا کہ ”یہ منصب کیلئے نااہل ہے”۔ حضرت عثمان دور میں عہدوں پر فتنہ اقذاء کا طوفان آیا۔ حضرت علی نے حضرت عثمان کو آگاہ کیا لیکن فتنہ اقذاء نے شکار کیا۔ حضرت عثمان کے ہاتھ میں سب کچھ تھا لیکن عبیداللہ بن عمر سے قصاص نہیں لیا جس نے طیش میں چندا فراد کو قتل کیااور پھر اپنے اقتدار میں مسائل کے شکار ہوگئے تو حضرت علی پر ذمہ داری ڈالنا بالکل غلط ہے۔ حضرت علی سے اچھے بھلے لوگ لڑرہے تھے تو قصاص لینے کے بجائے خود بھی شہید کردئیے جاتے لیکن علی تو پھر علی تھا۔ جس نے کفار اور مسلمانوں سے کبھی شکست نہیں کھائی۔تینوں خلفاء راشدین کے ساتھ تعاون کیا اور مشکل ترین دور میں امت کی رہنمائی فرمائی۔ حضرت علی کے حامی اور مخالف کے کرداروں کا کما ل اور زوال حقائق کے آئینہ میں دیکھ سکیں گے۔ انشاء اللہ

حضرت عمر نے تین طلاق پر عورت کے حق میں ٹھیک فیصلہ دیا تھا لیکن عبداللہ بن عمر نے اس وجہ سے اختلاف کیا کہ جب اس نے تین طلاق دی تو نبیۖ نے رجوع کا حکم فرمایا اور اس پر مامور کردیا کہ مرحلہ وار اس طرح طلاق دینی ہے لیکن وہ اس بات کو نہیں سمجھتا تھا کہ اس کی بیوی طلاق پر راضی نہیں تھی جبکہ حضرت عمر نے اس عورت کا فیصلہ کیا جو رجوع نہیں چاہتی تھی۔

فتنہ اقذاء والوں نے حضرت عمر کے فیصلے کو طلاق مغلظہ اور حلالہ کی لعنت میں ملوث کرکے امت کی ناک کاٹ ڈالی لیکن ان کاDNAہی ایسا تھا کہ حلالہ کی لعنت اور عزتوں سے فرق نہیں پڑتا تھا۔ جب گورنر بصرہ مغیرہ ابن شعبہ کے خلاف چار افراد گواہی دینے آئے تو ایک زیاد نے ایسی گواہی دی کہ جس سے اسلامی تاریخ ، فقہ اور احادیث کی کتابوں کے علاوہ سب مسالک بھی شرمندہ ہیں لیکن خود سزا سے بچ گیا اور باقی تینوں کو80،80کوڑے لگوادئیے۔کون ابن زیاد؟۔ جس کو معاویہ نے کہا کہ جاہلیت میں تمہاری ماں مرجانہ کیساتھ میرے والد ابوسفیان نے ناجائز جنسی تعلقات رکھے تھے اسلئے تم میرے بھائی ہو۔ صدیقی، فاروقی، عثمانی، علوی، انصاری اور انواع واقسام کی نسبتیں ہیں مگر جاوید احمد غامدی کا ذوق دیکھو؟۔ کوئی اچھی فطرت والا غلط نسبت غامدی اسلئے نہیں رکھتا کہ غامدیہ کے ایک بچے نے احادیث کی کتابوں میں بڑی شہرت پائی ہے۔ چاروں ائمہ اہل سنت امام ابوحنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل بہت اچھے لوگ تھے لیکن ان کے متبعین نے طلاق مغلظ پر غلط اجماع کیا جس کی وجہ سے حلالہ کی لعنت پر امت کو مجبور کیا جارہاہے۔ یہ فتنہ اقذاء کا تحفہ تھا اور ان سےDNAکی ایک نسبت کی وجہ سے جاویداحمد غامدی بھی قرآن ، احادیث اور حضرت عمر کے فیصلے کو غلط رنگ دے رہاہے۔

ایک طرف غلام احمد پرویز کے مؤقف کو ٹھیک سمجھتا ہے اور دوسری طرف پھر ایک ضعیف حدیث کی بنیاد پر ایک غلط مسئلہ کھڑا کررہاہے اور پسلی پر چوتڑ اور دجال کا مظاہرہ کررہاہے۔

فتنہ ھرب و ضرب افغان جہاد میں امریکی سی آئی اے کے کردار کو فراموش نہ کرنا۔ افغانی تنظیموں، بھاگے ہوئے لوگوں نے حرب میں حصہ لیا۔ خمینی فتنہ السراء یا ابوبکر البغدادی ؟۔ اسامہ بن لادن پسلی پر چوتڑ تھا یا ملاعمر؟۔فتنہ الدھیماء امریکہ کا بلیک واٹر؟۔

کوئی تھپڑ سے محفوظ نہیں رہا۔2007ء میں مولانا فضل الرحمن نے دہشتگردوں کو ابن ماجہ کی حدیث سے خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا۔ سید احمد بریلوی، شاہ اسماعیل شہید، مرزاغلام احمد قادیانی،مولانا احمد رضا بریلوی، شریف مکہ ، حسن البنائ، سید مودودی،مولانا الیاس بانی تبلیغی جماعت، مولانا الیاس قادری،میرے مرشد حاجی عثمان اور مجھ سید عتیق الرحمن گیلانی جس پر بھی کوئی چاہے تو فتنہ السراء اور پسلی پر چوتڑ کا فتویٰ فٹ کرے۔ مفتی تقی عثمانی نے سودی زکوٰة پھر بینکاری کے سودی نظام کو اسلامی قرار دیا۔ پسلی پر چوتڑ کا مصداق مفتی تقی عثمانی کے مفتی اعظم پاکستان شیخ الاسلام کی اصطلاح پر لوگوں کا اتفاق ؟۔ جماعت پرستی کے داعی جہنم میں جھونکنے کے مصداق اور مسلمانوں کی جماعت اور امام ؟۔قرآنی احکام واضح ہوں تو کوئی رات اصلاح کی ہوگی اورتقدیر الٰہی سے دنیا بدلے گی۔

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمدۖ اس کے بدن سے نکال دو!

علامہ یوسف بنوری کے شاگرد نے ملاعمر کو خراسان کا مہدی قراردیا اور پاکستان میں ڈنڈے والی سرکار کا ذکر کیا۔ شیعہ عالم نے امام خمینی کو مہدی قرار دیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران، ہندوستان ،افغانستان سے جنگ اور ڈنڈے والی سرکار قائم کی۔ اسرائیل و امریکہ سے کہاکہ ہم اپنے ساتھ آدھی دنیا لے جائیں گے اور عالمی جنگ کو روکنے میں کردار ادا کیا۔ حافظ کو قرآن کا درست ترجمہ سمجھ میں آیا تو بہت بڑا انقلاب ہے۔
ــــــــــ
جامعہ العلوم الاسلامیہ کے بارے میںعربی خواب اور اس کی تعبیر

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللہ کے امین رسول، ہمارے سردار محمد ۖ اور ان کی تمام آل و اصحاب پر درود و سلام ہو۔ آج ہمارے پاس امام مہدی کے بارے میں نیاخواب ہے۔ دیکھنے والے کا گمان ہے کہ یہ خواب امام مہدی سے متعلق اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اصلاح کا وقت قریب ہے، وہ جان چکے کہ کون ہیں اور انہیں اپنے مہدیِ منتظرہونے کا پختہ یقین ہے۔

خواب کے الفاظ:

”میں جامعہ العلوم الاسلامیہ کے دروازے پر کھڑا تھا، مرد و خواتین علماء باہر نکل رہے تھے۔ امام مہدی جامعہ کے دروازے پر لگی ہوئی پودوں کی باڑھ سے سیب توڑ رہے تھے۔ کیاریوں سے جو سیب چن رہے تھے ان کا سائز تقریباً25سینٹی میٹر (کافی بڑا)تھا اور رنگ سرخ تھا میں نے ان کیساتھ سیب چکھے،وہ میری زندگی کے لذیذ ترین سیب تھے۔ پھر علم رکھنے والی خواتین میں ایک نے امام مہدی سے کہا کہ وہ اپنے خاص رویے (سلوک)کو تبدیل کر لیں کیونکہ وہ زمین پر اللہ کے خلیفہ ہیں۔ یہ سن کر وہ حیرت زدہ رہ گئے۔ وہ آخری سیب توڑ رہے تھے، انہوں نے وہ سیب اس عالمہ خاتون کو دیا۔خاتون نے چکھا تو اسکے شاندار ذائقے پر دنگ رہ گئی، خواب یہیں ختم ہو ا میں جو کہہ رہا ہوں اس پر اللہ گواہ ہے۔

تعبیر:

خواب دیکھنے والے نے سچ کہا اور یہ اللہ عزوجل کی طرف سے سچی نوید دلیل ہے کہ امام مہدی کو اپنی حقیقت کا پورا یقین ہو چکا ،انکے ارد گرد لوگوں کی بڑی تعداد جان چکی ہے کہ وہ کون ہیں؟ ثبوت یہ ہے کہ علم رکھنے والی خاتون نے ان سے کہا کہ اپنا رویہ بدلیں کیونکہ وہ زمین پر اللہ کے خلیفہ ہیں۔

جامعہ العلوم الاسلامیہ کے دروازے پر امام مہدی کا کھڑا ہونا اور علما ء کاباہر نکلنا اللہ بہتر جانتا ہے لیکن یہ علامت ہے کہ ان کے پاس علوم جمع ہو چکے ہیں۔ تقوی اور صلاح کا ثمر انکے قلب پر جاری ہو چکا اور ان کا سینہ اللہ کی طرف سے ”علمِ ربانی”سے بھر چکا، بالخصوص اسلامی علوم کی تمام شاخوں جیسے فقہ، زبان، بلاغت اور ان سے جڑے دیگر علوم علمِ اصول، علمِ کلام، متکلمین کو جواب دینا، بحث و مباحثہ اور مکالمے کے فنون، اسلام کے قواعد و اصول، علمِ حدیث جڑے دیگر علوم ، تخریجِ حدیث وغیرہ میں انہیں مہارت حاصل ہو چکی ہے۔ ان علوم کا بڑا حصہ انہوں نے کتب اور شاید خطبات سے حاصل کیا لیکن ان کی انفرادی خصوصیت یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے انہیں اپنے ”علومِ لدنی” الہام کیے ہیں اور ان پر الٰہی مدد کا فیضان ہوا ہے، جس کی بدولت وہ ان علوم کو بالکل مختلف اور نئے انداز میں سمجھتے ہیں۔

جامعہ کے دروازے سے ان کا سیب توڑناشاید”ثمرِ علم” (علم کے پھل)کی طرف اشارہ ہے، انہوںنے اس علم کا جوہر حاصل کر لیا اور وہ عملی زندگی میں اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اللہ کی طرف سے ان پر فیوضات اور علم کا ثمر عام لوگوں سے مختلف ہے۔یعنی اگرچہ یہ علوم بظاہر روایتی معلوم ہوتے ہیںمگر امام مہدی کے پاس ان کی جو سمجھ بوجھ ہے وہ بالکل نئی اور ربانی ہے، جو موجودہ حالات اور وقت کی اصلاح کیلئے موزوں ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ سیب کا سائز بہت بڑا (25سینٹی میٹر)تھا، جو کہ ایک غیر معمولی بات ہے۔

علم رکھنے والی خاتون کا یہ کہنا کہ وہ اپنا رویہ بدلیں کیونکہ وہ اللہ کے خلیفہ ہیں اور پھر ان کا حیرت زدہ ہونا غالباً یہ اشارہ ہے کہ امام مہدی آس پاس کے کچھ لوگوں کیلئے معلوم ہو چکے ہیں اور وہ خود بھی اپنے معاملے میں یقین کامل رکھتے ہیں۔ دلیل یہ ہے کہ اس خاتون کو سیب دیا اور اس نے چکھا تو لاجواب ذائقے پر دنگ رہ گئی۔ یہ ثبوت ہے کہ اس مردِ مومن کے پاس وہ ذوق روحانی لذت و معرفت ہے جس سے خاتون واقف نہیں تھی۔ شاید وہ رویہ جو اس خاتون کو منصبِ خلافت اور ولی اللہ کے مقام کے لائق نہیں لگ رہا تھا، امام مہدی بتانا چاہتے تھے کہ یہ تقدیرِ الٰہی سے ہے اور کچھ معاملات وہ ہیں جنہیں وہ خود تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتے جب تک مقررہ وقت نہ آ جائے اور یہ کہ وہ خود ان علومِ ربانی کا ذائقہ چکھ چکے ہیں اور انہیں کامل یقین ہے۔ اسی لیے جب انہوں نے وہ سیب (علم و معرفت کا ثمر) اس خاتون کو دیا اور اس نے چکھا، تو وہ بھی حیران رہ گئی۔

اس خواب کی تعبیر کے بارے میں یہ ہمارا گمان ہے اور اصل علم اللہ ہی کے پاس ہے۔والسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔

المھدی وعلوم آخر زمان

امور لایغیرھا المھدی من نفسہ ولا یستطیع متیقن من ھذ.
المھدیوعلومآخرزمان@ABMONZER and
25اپریل2026ء کو یہ ویڈیو اپ لوڈ ہوئی ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

فتنہ الدھیماء اور جامعہ بنوری ٹاؤن اور اس کے آخر میں جامعہ العلوم الاسلامیہ کے بارے میںعربی خواب اور اس کی تعبیر
غیرمتبرجٰتٍ بزینةٍ : تفسیربا تصویراورغامدی کی تقدیر
ہندو کی آنکھ سے بڑے انقلاب کی تصویردیکھ!