پوسٹ تلاش کریں

شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی، حنفی اہلحدیث، پاکستانی، افغانی، ایرانی قرآن کی طرف توجہ کریں توانقلاب آئے گا۔

شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی، حنفی اہلحدیث، پاکستانی، افغانی، ایرانی قرآن کی طرف توجہ کریں توانقلاب آئے گا۔ اخبار: نوشتہ دیوار

شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی، حنفی اہلحدیث، پاکستانی، افغانی، ایرانی قرآن کی طرف توجہ کریں توانقلاب آئے گا۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن میں اللہ نے طلاق کے مقدمہ میں خواتین کے حقوق کی وضاحت کو ترجیحات میں شامل کرکے جاہلیت کی تمام رسوم کو ملیامیٹ کردیا ہے لیکن جہاں سے چلے تھے آج پھر وہیں کھڑے ہیں ۔ جتھے دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی۔
آیت222البقرہ میں دو چیزیں واضح ہیں۔ اذیت اور گند۔ حیض عورت کیلئے اذیت ہے اور گند بھی۔ اللہ نے اذیت سے توبہ اور گند سے پرہیز والوں کو پسندیدہ قرار دیا۔ آیت222سے228تک قرآن کا ایک رکوع ہے اور پھر آیت229سے231تک دوسرا رکوع ہے ، پھر232سے تیسرا رکوع شروع ہوتا ہے۔ آیت222میں اذیت کا ذکر ہے جس کا تسلسل بھی سورۂ بقرہ کے تینوں رکوع میں جاری ہے۔ آیت نمبر232میں اللہ نے فرمایا کہ ” طلاق شدہ عورتوں سے رجوع میں تمہارے لئے زیادہ تزکیہ اور زیادہ طہارت ہے”۔ اذیت سے دور ی معاشرے کیلئے تزکیہ اور گند سے دوری طہارت ہے۔
اذیت سے توبہ کی بات سمجھ میں آتی تو عمل آسان ہوتا ۔ اللہ نے سچ فرمایا: وماجعل علیکم فی الدین من حرج ”اور تمہارے لئے دین پر چلنے میں کوئی مشکل نہیں رکھی ہے” ۔ ملاؤں کی نا سمجھی نے دین پر عمل مشکل ترین بنادیا۔
کسی عربی چینل میں شیعہ عالم نے سنیوں کے اعتراض کا جواب دیا کہ ”شیعہ عورت کیساتھ پیچھے کی طرف سے مباشرت کو مکروہ سمجھتے ہیں تو یہ تمہاری احادیث کی کتب میں ہے کہ عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ بیوی سے پیچھے کی طرف سے مباشرت کے جواز کیلئے آیت223نازل ہوئی کہ جہاں سے چاہو آگے پیچھے سے مباشرت کرسکتے ہو،جس کا ذکرصحیح بخاری میں ہے اور فقہ کی کتابوں میں امام مالک کی طرف بھی اس کی نسبت ہے جو مکروہ بھی نہیں سمجھتے تھے”۔
شیعہ ایرانی نژاد امریکن خاتون نے کتاب لکھی جس میں یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام میں عورت کے کوئی حقوق نہیں ۔ لونڈی ہو تو نکاح کی ضرورت نہیں۔ نکاح میں ہو تو اس کی جسم پر مرضی نہیں۔ شوہر چاہے تو اس کی مرضی کے بغیر پیچھے سے مباشرت کرے۔ متعہ میں استعمال ہونے والی عورتوں کی حیثیت بدکار عورتوں کی ہے۔ یہ واقعہ بھی لکھا ہے کہ ایک شخص نے 40ہزار تمن میں ایک عورت سے نکاح کیا تھا۔ اس کو پیچھے سے جماع کی علت تھی اور اس کی بیوی کی جنسی تسکین کا حق ادا نہیں کرتا تھا۔ بیوی نے خلع کا مطالبہ کیا اور وہ خلع دینے کیلئے تیار نہیں تھا۔ پھر بیوی نے 50ہزار تمن دینے کی پیشکش کردی تو اس نے طلاق دے دی ۔
نکاح سے عورت بلیک میل ہو تو کتنا براہوگا؟۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے فقہی مسئلہ لکھا اورحنفی مدارس آج فتویٰ دیتے ہیں کہ ” اگر شوہر نے بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دی اور اس کا کوئی گواہ نہیں تھا تو بیوی اس پر حرام ہوگی اوربیوی کو جان چھڑانے کیلئے دو گواہ پیش کرنے ہونگے۔ اگر دو گواہ نہ تھے اور اگر شوہر قسم کھائے تو عورت حرام ہوگی لیکن بیوی رہے گی اور عورت پر فرض ہوگا کہ وہ ہر قیمت پر خلع لے اور اگر شوہر خلع پر راضی نہ ہو تو عورت حرامکاری پر مجبور ہوگی۔ جب شوہر اسکے ساتھ مباشرت کرے تو وہ لذت نہ اٹھائے ورنہ گناہگار ہو گی”۔ یہ بکواس، یہ اذیت اور گند مولوی نے خود گھڑا ہے، اسلام سے اس کا تعلق نہیں۔
عربی ، اردو اور انگلش میں اثاثہ کے دو معانی ہیں۔ ایک مال، مویشی، کھیتی اور دوسرا زندگی کا نچوڑ اور انسان سے جدا نہ ہونے والا رشتہ۔ اللہ نے فرمایاکہ ”تمہاری بیویاں تمہارے لئے اثاثہ ہیں”۔ مولوی نے اس کا ترجمہ کھیتی کردیا۔ جب عورت کے گدھی کی طرح حقوق بھی نہ ہوں تو مولوی نے اس کا ترجمہ کھیتی کرکے درست کیا ۔ کھیتی پاؤں تلے روند ی جائے تو یہ عربی میں وطی کہلاتا ہے۔ قرآن وسنت اور عربی میں عورت سے مباشرت کیلئے کہیں بھی وطی کا لفظ نہیں مگر فقاء نے مباشرت کو وطی قرار دیا۔ جب عورت کھیتی ہو تو اس میں وطی پر اختلاف بھی ہوگا کہ حل کہاں چلایا جائے اور کہاںنہیں ۔ فقہ میں یہی اختلاف ہے۔
اگر آیت222البقرہ میں اذیت اور اس سے توبہ کی درست تفسیر ہو تو پھر آیت223البقرہ میں پیچھے کی مباشرت پر اختلاف اور بکواس بھی نہ ہوتی۔ اس اختلاف کو قرآن نے بغےًا بینھم آپس کی بہت فحش غلطی کا نام دیا ہے ۔
آیت224میں اللہ نے جوہری بات طلاق کے مقدمے میں فرمائی کہ ”اللہ کو اپنے عہدکیلئے ڈھال نہ بناؤ کہ تم نیکی کرو، تقویٰ اختیار کرواور لوگوں کے درمیان صلح کراؤ”۔ آیت میں یمین سے مراد قسم نہیں بلکہ طلاق کے جملہ الفاظ صریح وکنایہ مراد ہیں اسلئے کہ یہ آیت طلاق کامقدمہ ہے ۔ یمین عربی میں عہد وپیمان کو کہتے ہیں۔ بیگم کو چھوڑنا بھی یمین ہے۔ فتاویٰ قاضی خان میں ہے کہ ”اگر شوہر نے بیوی سے کہا کہ اگر میری شرمگاہ تیری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو تو تجھے طلاق اور بیوی نے کہا کہ اگر میری شرمگاہ تیری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو تو میری لونڈی آزاد۔ اگر دونوں بیٹھے ہوں تو لونڈی آزاد اور دونوں کھڑے ہوں تو عورت کو طلاق ہوگی کیونکہ کھڑے ہونے کی صورت میں عورت کی شرمگاہ خوبصورت اور بیٹھنے کی صورت میں مرد کی شرمگاہ خوبصورت ہے۔ اور اگر مرد کھڑا ہو اور عورت بیٹھی ہو تومجھے پتہ نہیں لیکن امام ابوبکرالفضل نے کہا ہے کہ مناسب ہے کہ دونوں کے یمین نافذ ہوں اسلئے کہ اس صورت میں دونوں کے حسن کی زیادتی ثابت نہیں ہوگی”۔فتاویٰ تاتار خانیہ۔اشاعت کوئٹہ بلوچستان
یہ عبارت اللہ کے احکام کامذاق اور فقہاء کاخبث باطن بغےًا بینھم ہے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یمین سے طلاق کے الفاظ مراد ہیں۔ اللہ نے مذہبی بنیاد پر عورت کو طلاق دینے کے الفاظ اور آپس کی صلح میں رکاوٹ کا تیاپانچہ کردیا ۔اور جب اللہ نے خود صلح کیلئے اللہ کو اپنے یمین کو ڈھال نہ بنانے کا حکم دیا ہے تو اس سے بڑی بات کیا ہوسکتی ہے؟۔ اگر علماء ومفتیان قرآن کو چھوڑنے کے بجائے اس کی طرف رجوع کرتے تو تمام گھمبیر مسائل سے ان کی جان چھوٹ جاتی۔
آیت225البقرہ میںجاہلیت کی رسم کا خاتمہ کردیا کہ اللہ طلاق میں الفاظ کے عہدوپیمان پر نہیں پکڑتا بلکہ دل کے گناہ پر پکڑتا ہے۔ یہ طلاق صریح وکنایہ کے جملے الفاظ اور گنتی کا توڑ ہے کہ اللہ نے صلح پر کوئی پابندی نہیں لگائی کہ جب میاں بیوی راضی ہوتو الفاظ سے صلح کا راستہ نہیں رُک سکتاہے۔
سوال ہے کہ پھر نبی ۖ نے کیوں فرمایا کہ طلاق ، رجوع اور لونڈی وغلام کی آزادی میں سنجیدگی اور مذاق دونوں معتبر ہیں؟۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان تینوں کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔ جب شوہر طلاق دے اور عورت اپنے حق کے حصول کیلئے اس پر ڈٹ جائے تو مذاق کی طلاق بھی طلاق ہے اسلئے کہ طلاق میں شوہر کو منقولہ وغیر منقولہ دی ہوئی جائیداد سے محروم ہونا پڑتاہے اور خلع میں عورت کی غیرمنقولہ دی ہوئی جائیداد گھر ، دکان اور باغ وغیرہ واپس کرنا پڑتا ہے۔ جب عورت طلاق کا دعویٰ کرے تو اس کو دو گواہ لانے پڑیں گے اگر دو گواہ نہیں لاسکے تو شوہر کو قسم اٹھانا پڑے گی اور جب شوہر قسم اٹھالے گا تو پھر جج کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ یہ خلع ہے اور عورت کو خلع کے حقوق ملیںگے۔ اسلام اندھا نہیں بلکہ اندھے فقہاء نے اس کو سمجھا نہیں اسلئے گمراہی پھیلا ئی ہے۔ اگر اسلام کی سمجھ ہوتی تو عورت کو حرامکاری پر مجبور کرنے کی گمراہی نہ پھیلتی۔قرآن نے ایک ایک رسم جاہلیت کی اصلاح کردی بلکہ گمراہی اور اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیلنے کا کوئی موقع بھی نہیں چھوڑا تھا۔ سب سے زیادہ سخت ترین طلاق یہ تھی کہ جب کوئی شوہر اپنی بیوی کی پیٹھ کو اپنی ماں کی پیٹھ سے تشبیہ دیتا تھا۔ سورۂ مجادلہ اور سورۂ احزاب میں اس کی نزاکت کو دیکھا اور سمجھا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ نے فرمایا: ” ان کی مائیں نہیں ہیں مگر وہی جنہوں نے ان کو جنا ہے”۔ اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ سوتیلی ماں جس نے اس کو جنا نہیں، ماں نہیں ۔ باپ کی منکوحہ کو جائز سمجھا جاتا تھا تو اللہ نے محرمات کی فہرست میں کہا : ولاتنکحوا مانکح آباء کم من النساء الاماقد سلف ”اور نکاح نہ کرو،جن عورتوںکیساتھ تمہارے آباء نے نکاح کیا مگر جو گزر چکا ”۔ غیبت کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا قرار دیا گیا اور اس کو زنا سے بدترقرار دیا گیا ہے لیکن غیبت کی سزا نہیں اور بہتان کی سزا80کوڑے اور زنا کی سزا 100کوڑے قرآن میںہے تو ظاہر بات ہے کہ زنا حقیقت میں غیبت سے کہیںزیادہ بڑا جرم ہے۔
جاہلیت کی ایک رسم یہ تھی کہ عورت کو طلاق کے بغیر زندگی بھر رکھا جاتا تھا۔ اللہ نے اس کی عدت چار ماہ رکھ دی اور اگر اسکا طلاق کا عزم تھا تو پھر اس کا دل گناہگار ہے اسلئے کہ عدت میں ایک ماہ کا اضافہ کردیا اور اگر طلاق کا اظہار کرتا تو عدت تین ماہ ہوتی۔ سورۂ بقرہ کی آیات 225، 226 اور 227میں دل کے گناہ کا مطلب واضح ہے اور یہ بھی کہ ناراضگی میں عورت چار ماہ تک کی عدت کی پابند ہے اسکے بعد وہ دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے اور اس کو طلاق کے مالی حقوق ملیںگے کیونکہ ناراضگی مرد کی طرف سے ہے۔ ناراضگی کے بعد عدت میں اور عدت ختم ہونے کے بعد باہمی رضامندی سے رجوع کرسکتے ہیں۔ فقہاء نے تو ان آیات کے واضح مفہوم میں بگاڑ ، اختلاف اور تضاد پیدا کرکے فطری اسلام کا بیڑہ غرق کردیا۔ احناف کے نزدیک چار ماہ کی مدت گزر جائے تو عورت کو طلاق ہوگی اور جمہور فقہاء کے نزدیک زندگی بھر بھی عورت کو طلاق نہیں ہوگی۔ یہ تضاد قرآن کے طالب علم کے ذہنوں کو قتل کرکے مفلوج کرکے رکھ دیتا ہے۔
عورت خلع لے تو صحیح حدیث کے مطابق اس کی عدت ایک حیض ہے اور اس پر سعودی عرب میں عمل ہے۔ شوہر کی ناراضگی کو عربی میں ایلاء کہتے ہیں۔ نبیۖ نے ایک ماہ ایلاء کے بعد رجوع کرلیا تو اللہ نے فرمایا کہ ” ان کو طلاق کا اختیار دیدو”۔ شرعی مسائل قرآن وسنت میں واضح ہیں۔ اگر ایلاء کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد عورت کو اختیار دیا جاتا تو تضادات پیدا نہ ہوتے ۔ اللہ نے عورت کو اذیت سے بچانے کیلئے یہ احکام بیان کئے لیکن فقہاء نے عورتوں کا سارا حق سلب کرکے رکھ دیا۔ جس طرح آیت228میں انتظار سے مراد عدت ہے ، اسی طرح آیت226البقرہ میں بھی انتظار سے مراد عدت ہے۔ سورہ بقرہ آیات225، 226، 227 میں عورت کو تحفظ تھا ۔ فقہاء نے عورت کے حقوق کو نظر انداز کردیا۔ جسکے نتیجہ میں عجیب و غریب تضادات کا شکار ہوگئے۔ کوئی کہتا تھا کہ چار ماہ بعد طلاق ہوگئی اور کوئی کہتا تھا کہ چارماہ بعد بھی طلاق نہیں ہوئی۔
آیت228میں جاہلیت کی دو اہم رسم کا خاتمہ ہے۔ اکٹھی تین طلاق پر حلالہ کی لعنت تھی اور شوہر جتنی مرتبہ چاہتا تو عورت کی رضا کے بغیر رجوع کرتا۔ اللہ نے واضح کیا کہ ” طلاق سے رجوع کا تعلق عدت سے ہے عدد سے نہیں۔ باہمی اصلاح سے ہے ،شوہر کے اختیار سے نہیں”۔ حضرت عمر نے اکٹھی تین طلاق کے نفاذ کا فیصلہ اسلئے کیا کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہ تھی اور یہی فیصلہ ایک طلاق کے بعد عورت کے رجوع کیلئے راضی نہ ہونے کی صورت میں ہوتا۔ قرآن نے باہمی رضاسے رجوع کی وضاحتوں کو سورہ بقرہ اور سورۂ طلاق میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد بہت اچھے انداز میں واضح فرمایا ۔
آیت229میں یہ واضح کیا کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق اس عدت سے ہے جسکے تین مراحل ہیں اور تیسری مرتبہ طلاق کے بعد شوہر نے جو کچھ بھی دیا بیوی سے کچھ واپس لینا جائز نہیں۔ جاہلیت کی یہ رسم تھی کہ عورت سے خلع کیلئے مال کا مطالبہ کیا جاتا اور طلاق میں عورت کو دئیے ہوئے اشیاء سے محروم کردیا جاتا تھا۔ سورۂ النساء آیت :19 میں خلع کی صورت میں عورت کو مالی تحفظ دیا گیا ہے اور آیات:21، 22 میں طلاق کی صورت میں عورت کو مالی تحفظ دیا گیا ہے۔
جاویداحمد غامدی نے آیت229البقرہ کا انتہائی گمراہ کن ترجمہ کیا۔ ایک طرف طلاق کے بعد عورت سے شوہر کے دئیے مال میں سے کچھ بھی واپس لینے کو ناجائز قرار دیاگیا اور دوسری طرف اسی آیت سے خلع بھی مراد لیا ہے جس میں عورت کو حق دینے کے بجائے الٹا بلیک میل کرنے کاحق شوہر کو دینا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے عورت کے جتنے حقوق بیان کئے ہیں وہ سب فقہاء ومفسرین نے اپنی طرف سے غصب کئے ہیں۔ اللہ نے ایک ،دواور تین مرتبہ طلاق کے بعد معروف ، اصلاح کی شرط اور باہمی رضامندی سے رجوع کی بار بار وضاحت کردی ہے لیکن شافعی وحنفی فقہاء اس بات پر تضادات کا شکار ہیں کہ طلاق سے رجوع کیلئے نیت شرط ہے یا نہیں؟۔ شافعیوں کے نزدیک نیت نہ ہوتو مباشرت سے رجوع نہیں ہوگا اور حنفیوں کے نزدیک غلطی سے شہوت کی نظر پڑجائے تو بلانیت رجوع ہے۔ معروف کی جگہ فقہ میں منکر رجوع نے لے لی۔ عورت کے حق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے اسلام کو اجنبیت کا شکار کیا گیاہے۔
اللہ نے آیت 229میںواضح کیا کہ 3مرتبہ طلاق کے بعد دی ہوئی چیزوں میں سے کچھ واپس لینا جائز نہیں مگر جب دونوں اور فیصلہ کرنیوالے بھی متفق ہوں کہ اگر کوئی خاص چیز واپس نہیں کی گئی تو دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو پھر اس خاص دی ہوئی چیز کو عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں حرج نہیں یہی وہ صورتحال ہے کہ میاں بیوی اور فیصلہ کرنیوالے نہ صرف جدائی پر متفق ہوں بلکہ رابطے کیلئے بھی کوئی چیز درمیان میںنہ چھوڑ یں۔ اس صورتحال کی وضاحت کے بعد سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ رجوع کرلیا جائے تو ہوجائیگا بلکہ ایک دوسری معاشرتی برائی کی اصلاح اللہ نے فرمائی کہ طلاق کے بعد عورت کو اس کی مرضی سے نکاح کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ اس جاہلیت کا خاتمہ کرنے کیلئے فرمایا کہ ” اگر اس نے طلاق دے دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ عورت اپنی مرضی سے کسی اور سے نکاح کرلے”۔ اس کا تعلق تین مرتبہ طلاق سے نہیں ہے بلکہ عورت کو اپنی رضامندی سے دوسرے شوہر سے نکاح کا حق دلانا ہے اور یہ رسم آج بھی معاشرے میں موجود ہے۔ لیڈی ڈیانا کو بھی اسلئے قتل کیا گیا۔
اگر اللہ نے باہمی رضا ، اصلاح اور معروف طریقے سے رجوع کا راستہ روکنا ہوتا تو پھر آیات231، 232میں عدت کی تکمیل کے فوری بعد اور عدت کی تکمیل کے عرصہ بعدباہمی رضامندی سے رجوع کی وضاحت کیوں کرتا؟۔ سورۂ طلاق میں بھی عدت میں ، تکمیل عدت کے بعداور تکمیل عدت کے کافی عرصہ بعد اللہ نے رجوع کا دروازہ باہمی صلح سے کھلا چھوڑ نے کی وضاحت فرمائی۔ اس مسئلے پراحادیث صحیحہ کا قرآن سے کوئی ذرا بھی تصادم نہیں ہے ۔
مغرب کو بڑا خطرہ خلافت سے یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی عورتوں کو انکے اسلامی حقوق نہیں دئیے تو اگر ان کی خواتین کو لونڈیاں بنایا گیا پھرکیا ہوگا؟۔ خلافت عثمانیہ کے سلطان عبدالحمید نے ساڑھے چار ہزار لونڈیا ں ہر رنگ ونسل کی رکھی تھیں۔ حالانکہ غلام و لونڈی پیدا کرنے کا ادارہ جاگیرداری نظام تھا جس کو نبی ۖ اور فقہ کے چاروں ائمہ نے سُود قرار دیا تھا۔ آج بھی مزارعین میں غلامی کی روح ویسے کی ویسی ہے۔ فقہاء نے حیلہ کرکے مزارعت کو حلال کردیا۔
قرآن نے جس طرح آزاد عورت کیساتھ نکاح کا تصور دیا ہے اسی طرح سے لونڈی سے بھی نکاح کا حکم دیا ہے۔ جس طرح آزاد عورت اور مرد میں ایک معاہدہ یا ایگریمنٹ ہوسکتا ہے جس کو ایرانی متعہ اور سعودیہ ومصر والے مسیار کے نام سے جواز بخشتے ہیں۔ نکاح میں عورت کی ذمہ داری اٹھانی پڑتی ہے ۔ دوسری صورت میں عورت کی پوری ذمہ داری مرد کے ذمہ نہیں ہوتی۔ اسلئے نکاح محدود عورتوں کیساتھ اس شرط پر ہوسکتا ہے کہ جب ان کو عدل فراہم کیا جاسکے ، نہیں تو پھر ایک ہی پر اکتفاء کرنے کا حکم ہے۔ جبکہ لونڈیاں لاتعداد ہونے کی وضاحت قرآن میں قطعی طور پر بھی نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ایگریمنٹ والیاں ہیں اور مغرب نے اس تصور کو کچھ زیادہ ہی فحاشی وآزادی کیساتھ رائج کردیا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

میں مدینہ چلی گاگاکراورباریش ہجڑہ ابوہریرہ ،دوپٹہ اوڑھے تلاش سید چمن علی شاہ تبلیغی جماعت نام نہاد سنت زندہ کرتے ہوئے اپنے انجام کی طرف رواں دواں
جھوٹ نے قوم کو اندھا کردیا؟
ہم تمہاری عزتیں ، تمہاری جانیں اور تمہارے مالوں کوبچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلو!