پوسٹ تلاش کریں

سیدمحمدامیر شاہ اورسیداحمد شاہ نمایاںکرادر۔ سید سبحان شاہ اورسیداکبرشاہ نمایاں کردار

سیدمحمدامیر شاہ اورسیداحمد شاہ نمایاںکرادر۔ سید سبحان شاہ اورسیداکبرشاہ نمایاں کردار اخبار: نوشتہ دیوار

سیدمحمدامیر شاہ اورسیداحمد شاہ نمایاںکرادر۔ سید سبحان شاہ اورسیداکبرشاہ نمایاں کردار

سیدمحمدامیر شاہ اورسیداحمد شاہ نمایاںکرادر:

تاہم، دوسرے لوگ راضی نہیں ہوئے اور مارچ 1877ء میں انہوں نے امیر شاہ (کانیگرم کے سید) اور دو علی زئیوں کو کابل میں امیر شیر علی خان کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان کو حمایت پیش کریں، اس امید پر کہ وہ ان کے بدلے میں کچھ کر سکیں۔ (انگریز کیخلاف باہمی تعاون :انٹیلی جنس رپورٹ )
اگست میں جنڈولہ کے چار بیٹنی کانیگرم کے سید احمد شاہ کیساتھ گئے اور ستمبر میں ایک اور محسودوں کا گروہ بھی گیا۔( انگریز انٹیلی جنسیہ نے نظر رکھی تھی)
امیر نے ان کا انتہائی مہمان نوازانہ استقبال کیا۔قبائلی لوگ ان کو پسند کرتے تھے کیونکہ وہ انہیں ذاتی توجہ دیتا تھا اور انہیں اعزازی پوشاک اور نقد تحائف دیتا تھا۔(انگریز کے دل کی یہ دھڑکنیں)

Others, however, remained
unreconciled, and in March 1877 they sent Amir Shah (one of the Kaniguram Sayyids) and
two Alizais to offer their support to Amir Sher Ali Khan in Kabul, hoping that he might be
able to do something for them in return.118
In August four Bhittanis from Jandola followed with the Kaniguram Sayyid, Ahmed Shah, as
did another party of Mahsuds in September.120
The Amir treated them extremely
hospitably; the tribesmen were reported to like him because he paid them personal attention
and gave them dresses of honour and cash gifts.

سید سبحان شاہ اورسیداکبرشاہ نمایاں کردار:

میکالے نے سوچا کہ کانیگرم کے سیدخاص کر سبحان شاہ ، اسکا بیٹااکبر شاہ جو محاصرے کے دوران کم از کم دو مواقع پر محسودوں کے جاسوس نمائندے کے طور پر کام کر چکے تھے۔ میکالے کے 1870ء وسط دہائی کے سبحان شاہ کیساتھ اچھے تعلقات تھے۔ 1874ء میں جیسا کہ ہم نے پچھلے باب میں دیکھا اس نے بہلو ل زئی کیساتھ معاہدہ کرنے میں انکا کردار تسلیم کیا اور انہیں ایک یا دو سال بعد قبائلی پولیس میں 2 نوکری دی۔ تاہم، بعد میں،میکالے نے فیصلہ کیا کہ سبحان شاہ اور اکبر شاہ کابل حکومت سے سازش میںسر گرم تھے، جن سے رابطہ قریب کے لوگر وادی کے اُرمرڑوں کے ذریعے تھا۔ مجموعی طور میکالے نے کہا: یہ سید ”بڑے سازشی و دغاباز” تھے۔( جس نے رپوٹ کیااسی کی خانی چھن گئی؟)

Macaulay thought, the Sayyids ofKaniguram, in particular Subhan Shah and his son Akbar Shah, who had acted as theMahsuds’ representative on at least two occasions during the blockade. Macaulay had beenon good terms with Subhan Shah in the mid-1870s; in 1874, as we saw in the previouschapter, he acknowledged his role in helping him to reach agreement with the Bahlolzais,and gave him two sowars in the tribal police set up a year or two later. Subsequently,however, he decided that Subhan Shah and Akbar Shah were actively intriguing with theKabul government, with which they were in communication through the Urmars settled inthe nearby Logar Valley.103 In general, he said, these Sayyids were “great intriguers and schemers”.

بادشاہ خان درانی انٹیلی جینس قومی جرنیل کی بہت عزت تھی مگر انگریز کی انٹیلی جنسیہ حقیر تھی

فریب وقت نے گہرا حجاب ڈالا ہے وہاں بھی شمعیں جلا دو جہاں اُجالا ہے
سید حسن شاہ عرف بابو میرا پردادا، سلطان اکبر ”خان” میرا نانا تھا۔بابو اور سبحان کے نام دو قبیلے۔
میرانانا میرے دادا کا بھانجا جسے حکمت سکھا ئی، تاکہ انگریزسے دور ہو۔ چچا انور شاہ کلینک کرتاتوبڑا دولتمند ہوتا،چچازاد کہتا تھا: ”ہم پر حرام نہیں لگتا” ۔ اگر سخاوت نہ کریں تو پھر ہمیں حلال بھی نہیں لگتا۔
پاکستان کاپہلا صدر سکندر مرزا افسر تھا تومیرے نانا سلطان اکبر شاہ سے جٹہ قلعہ افغانی پیر ”شیر آغا” کیلئے کرائے پر مانگا ۔ مگر نانا نے کہا کہ ”میں افغان بھائیوں کے قتل کیلئے نہیں دیتا” ۔ انگریز پولیٹیکل ایجنٹ سے نانا نے کہا کہ جو تمہیں قتل کرتے ہیں ان کو زمینیں دیتے ہو اورجوقتل نہیں کرتے تو ان کو کچھ نہیں دیتے؟۔ پھر دائر ہ دین پناہ کی زمین دی۔
گومل مٹی کا مکان سستاتھا۔ میرے والد کانیگرم مسجد کیلئے ملکہ کوہسار مری سے کاریگر لائے تھے۔
پہلی بار شامی پیر کانیگرم آیا توداڑھی نہ نکلی تھی علماء نے سمجھا کہ میم ہے۔ ڈھول بجاکر لشکر لایاتھا۔ دادا نے شامی پیر کیساتھ بٹھادیا توشرمندہ ہوگئے۔ شامی پیر انکے منہ پر سگریٹ کا دھواں چھوڑرہاتھا۔ مَرزا( بھائی کوکہتے ہیں) علی خان فقیراے پی کے خطوط سیدایوب شاہ لکھتا تھاجوBAتھا،افغانستان سے پہلا اخبار نکالا۔امیرامان اللہ خان کا بھائی پکڑا گیا جو نادر خان کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ سید ایوب شاہ پر حاسد نے غلط الزام لگایا۔ توپ سے اُڑانے کی سزا سنائی گئی پھر افغانستان سے جلاوطن کردیاگیاتھا۔
شامی پیردوسری بارآیاتو لشکر لیکر افغانستان میں رشتہ دارامیر امان اللہ خان کو اقتداردلانا چاہتا تھا۔ سیدایوب اسکا میزبان تھا پھر انگریز نے بمباری کی اور کانیگرم میں ہمارے گھرپر جہاز سے گولہ پھینکا ۔ ظفر علی خان نے 1937ء میں بمباری پر احتجاج کیا اور کانگریس کی خاموشی پر مذمتی اشعارلکھے۔ شامی پیر نے اپنا جانشین بنانا چاہا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کریں ۔دادا نے جواب دیا کہ ”میں اپنے گناہ اللہ سے معاف کرواؤں تو بہت ہیں ،تیری خلافت کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھاسکتا”۔
فاضل دیوبند پیر مبارک شاہ نے سکول بنالیا۔ دادا نے کہا کہ ” انگریز کیلئے تعلیم یافتہ غلام مت بناؤ ، اب توکچھ لوگ بندوق اٹھالیتے ہیں ”۔ نانا نے کہا: ”عوام کو ہمارے گدھے چلانے سے مت نکالو”۔

” خان” کون او رکیسے؟؟:

کانیگرم کا”خان” لاولد میانجی خیل تھا۔ ایک بیٹی سیداکبرشاہ اورایک دل بند میانجی خیل کی بیوی تھی۔ دل بند اپنی بیوی کے حق کیلئے لڑا تھا لیکن 8 ایجنسیوں کے MNA شمن خیل محسود نے سید اکبر کی بیوی کے حق میں فیصلہ کرایا ۔ سید اکبر لاولد تھا۔ ایک بیٹی سے سوتیلا ماموں”محمود” اورایک بیٹی سے خالوپیرعالم شاہ ”خان بابا” تھا۔جو شامی پیرکے خلیفہ پیر اللہ دادا شاہ میانجی خیل کے فرزند تھے۔
اپر کانیگرم کا چوروں کیخلاف لشکر بن گیا۔ سید اکبر شاہ کے دوبھائی مظفرشاہ ، منور شاہ قتل ہوگئے۔ تیسرے صنوبر شاہ کو الزام لگاکر قتل کیا گیا پھر محمودکو چورنے قتل کیا ،یہ اتفاق تھایا پیچھے کوئی سازش تھی؟۔
سبحان کے پوتوں نے تنگی بادینزئی کو خیر بادکہا۔ بابو نے رہائشی مکان،زمینیں دیں۔ نانا نے مکان بیچا۔ خریدار نے کہا: ” مبارکباد دو”۔ دادا نے رقم دی اورکہا کہ صبح سامان نظر آیاتو اچھا نہیں ہوگا پھر مسجد کی قریبی زمین دلجوئی کیلئے دی۔ پیر کرم شاہ نے اٹلی سے خط لکھا کہ ”یہ گولی کی زبان سمجھتے ہیں، خان بننا ہمارا حق تھا ”۔ جٹہ قلعہ بنگلے میں فاروق شاہ سبحان شاہ کا جانشین تھا۔ یوسف شاہ کو فکرہے۔ اگر حقائق کاپتہ چلے توعناد کی جگہ الفت وموودت پیدا ہوگی۔
77ء میں رفیق شاہ شہیدخان بابا اورپیر فاروق شاہ کو بٹھاکرمیرے والد نے پیپلزپارٹی کے منو خان کنڈی کو جتوایا ۔ماموں 70ء میں قیوم ”شیر” 77ء مفتی محمودسے پرامیدتھے۔ فاروق لغاری صدر بنا تو اسے کہاکہ ”یہ کرسی نہ چھوڑنا”۔جنرل نصیر اللہ بابر دوست کو جیل میں نہیں ملاکہ سرکارناراض ہوگی۔
8قبائلی ایجنسیوں کی تمام انگریز انٹیلی جنسیہ کو یکجا کیا جائے تو عزت و غیرت میں کانیگرم کی عوامی انٹیلی جنسیہ کے بادشاہ خان اور اسکے خاندان کو نہیں پہنچ سکتے ۔ یہ شخصیت اور خاندان قابل رشک ہے۔ جنگ میں لاش اٹھانے کی ہمت شادی خان نے کی تھی مشکل ترین لمحات میں بادشاہ خان نے ساتھ دیا تھا۔لوگ عوامی انٹیلی جنسیہ کوعزت سے جرنیل کہتے مگر سرکاری انٹیلی جنسیہ کو حقیر سمجھتے ۔ 00 13 ملکان ووٹ بیچ کر MNA بناتے ۔ حمزہ نے ابوجہل سے کہا :اے چوتڑ کو خوشبو لگانے والامیرے بھتیجے کو گالی دی ہے؟۔ (الرحیق المختوم)سیدبلال کی عزت، ابولہب اور اسکی بیوی کی ذلت کردار کا انقلاب تھا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

احمد شاہ ابدالی کی پہلی دُرّانی آزاد پشتون ریاست تاریخی حقائق کی روشنی میں
سیدمحمدامیر شاہ اورسیداحمد شاہ نمایاںکرادر۔ سید سبحان شاہ اورسیداکبرشاہ نمایاں کردار
لیلة القدر کی رات برصغیر پاک و ہند انگریز کے تسلط سے آزاد ہوگئے اور یہ بہت بڑا راز تھا